مجرم اور ظالموں کا سرغنہ
اس سے زیادہ ظالم، اس سے زیادہ مجرم، اسے زیادہ سرکش اور کون ہوگا ؟ جو اللہ پر جھوٹ باندھے اور اس کی طرف نسبت کر کے وہ کہے جو اس نے نہ فرمایا ہو۔ رسالت کا دعویٰ کر دے حالانکہ اللہ نے اسے نہ بھیجا ہو۔ ایسے جھوٹے لوگ تو عامیوں کے سامنے بھی چھپ نہیں سکتے چہ جائیکہ عاقلوں کے سامنے اس گناہ کا کبیرہ ترین ہونا تو کسی سے مخفی نہیں۔ پھر کیسے ہوسکتا ہے کہ نبی اس سے غافل رہیں ؟ یاد رکھو جو بھی منصب نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کی صداقت یا جھوٹ پر ایسے دلائل قائم کردیتی ہے کہ اس کا معاملہ بالکل ہی کھل جاتا ہے ایک طرف حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو لیجئے اور دوسری جانب مسلیمہ کذاب کو…
Read the full tafseer →سورة یُوْنُس 22
یعنی اگر یہ آیات خدا کی نہیں ہیں اور میں انہیں خود تصنیف کر کے آیات الہٰی کی حیثیت سے پیش کر رہا ہوں تو مجھ سے بڑا ظالم کوئی نہیں۔ اور اگر یہ واقعی اللہ کی آیات ہیں اور تم ان کو جھٹلا رہے ہو تو پھر تم سے بڑا بھی کوئی ظالم نہیں۔
سورة یُوْنُس 23
بعض نادان لوگ ”فلاح“ کو طویل عمر، یا دنیوی خوشحالی، یا دنیوی فروغ کے معنی میں لے لیتے ہیں، اور پھر اس آیت سے یہ نتیجہ نکالنا چاہتے ہیں کہ جو شخص نبوت کا دعویٰ کر کے جیتا رہے، یا دنیا میں پھلے پھولے، یا اس کی دعوت کو فروغ نصیب ہو، اسے نبی برحق مان لینا چاہیے کیونکہ اس نے فلاح پائی۔ اگر وہ نبی برحق نہ ہوتا تو جھوٹا دعویٰ کرتے ہی مار ڈالا…
Read the full tafseer →آٹھویں آیت میں اسی مضمون کی مزید تاکید وارد ہوئی ہے جس میں کسی کلام کو غلط طور پر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے کا عذاب شدید مذکور ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
16۔ 17۔ قُلْ لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلا أَدْرَاكُمْ بِهِ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلا تَعْقِلُونَ (16) فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ إِنَّهُ لا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَ
ادراکم، دری یدری، سے باب افعال اور غائب کا صیغہ ہے۔ فاعل اس کا اللہ ہے۔ بعض لوگوں نے اس کو " ماتلوتہ " سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اس کا ترجمہ متکلم کا کیا ہے لیکن یہ عربیت کے بالکل خلاف ہے۔
مسکت جواب : اب یہ پیغمبر ﷺ کی زبان سے کفار کے مطالبے کے پہلے ٹکڑے کا جواب دلوایا ہے۔ یعنی اس بات کا کہ اس قرآن کے بجائے کوئی اور قرآن لاؤ۔ فرمایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
16۔ 1 یعنی سارا معاملہ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے، وہ چاہتا تو میں نہ تمہیں پڑھ کر سناتا نہ تمہیں اس کی کوئی اطلاع دی جاتی، بعض نے ادراکم بہ کے معنی کیے ہیں اعلمکم بہ علی لسانی، کہ وہ تم کو میری زبانی اس قرآن کی بابت کچھ بھی نہ بتلاتا۔
16۔ 2 اور تم بھی جانتے ہو کہ دعوائے نبوت سے قبل چالیس سال میں نے تمہارے اندر گزارے کیا میں نے کسی استاذ سے کچھ سیکھا ہے ؟ اسی طرح تم میری امانت و صداقت کے بھی قائل رہے ہو۔ کیا اب یہ ممکن ہے کہ میں اللہ پر افترا باندھنا شروع کردوں ؟ مطلب ان دونوں باتوں کا یہ ہے کہ یہ قرآن اللہ ہی کا نازل کردہ ہے نہ میں نے کسی سے سن یا سیکھ کر اسے بیان کیا ہے اور نہ یوں ہی جھوٹ موٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
6: یعنی یہ قرآن میرا بنایا ہوا نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہے۔ اگر وہ نہ چاہتا تو نہ میں تمہارے سامنے پڑھ سکتا تھا، نہ تمہیں اس کا علم ہوسکتا تھا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل فرما کر مجھے حکم دیا کہ تمہیں سناؤں، اس لیے سنا رہا ہوں۔ لہذا اس میں کسی قسم کی تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
7: یعنی تمہارا یہ مطالبہ کہ میں اس قرآن کو بدل دوں۔ دراصل میری نبوت کا انکار اور مجھ پر (معاذ اللہ) جھوٹ کا الزام ہے، حالانکہ میں نے عمر کا بڑا حصہ تمہارے درمیان گزارا ہے، اور میری ساری زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح تمہارے سامنے رہی ہے۔ قرآن کریم کے نازل ہونے سے پہلے تم سب مجھے سچا اور امانت دار…
Read the full tafseer →فمن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذبًا پس اس سے بڑا کون ہے جس نے اللہ پر جھوٹی تہمت تراشی کی اور خیال کیا کہ اللہ کا کوئی ساجھی اور اولاد ہے۔
او کذب بٰایٰتہ یا اللہ کی آیتوں کو سچا نہ جانا اور ان (کی صداقت) کا انکار کردیا۔
انہ لا یفلح المجرمون۔ کوئی شبہ نہیں کہ مجرموں یعنی مشرکوں کو فلاح یعنی نجات نہیں ملے گی۔
Read the full tafseer →7 یعنی گنہگاروں اور مجرموں کو حقیقی کامیابی اور بھلائی حاصل نہیں ہوسکتی۔ اب تم خود فیصلہ کرلو کہ ظالم و مجرم کون ہے اگر (بفرض محال) میں جھوٹ بنا کر خدا کی طرف منسوب کرتا ہوں تو مجھ سا ظالم کوئی نہیں ہوسکتا۔ لیکن گذشتہ آیت میں جو دلیل بیان کی گئی اس سے ثابت ہوچکا کہ یہ احتمال بالکل باطل ہے۔ پس جب میرا سچا ہونا ثابت ہے اور تم جہل یا عناد سے خدا کے کلام کو جھٹلا رہے ہو تو اب زمین کے پردہ پر تم سے بڑا ظالم کوئی نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →آیت 17 فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ط ”تو اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جس نے اللہ کی طرف جھوٹ بات منسوب کی یا جھٹلایا اس کی آیات کو !“
یعنی یہ قرآن جو میں تم لوگوں کو سنا رہا ہوں ‘ اگر یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہے اور میں اسے اپنی طرف سے گھڑ کر پیش کر رہا ہوں تو مجھ سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں ‘ اور اگر یہ واقعتا اللہ کی آیات ہیں تو تم لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جو شخص اللہ کی آیات کو جھٹلا دے ‘ اس سے بڑھ کر ظالم اور گنہگار کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا۔ اب اس معیار حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے تم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنی سوچ اور اپنے عمل کا…
Read the full tafseer →26 سب سے بڑھ کر ظالم کون ؟:۔ اللہ پر جھوٹ باندھنے سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخض ایک بات تو خود گھڑے یا تصنیف کرے پھر اسے اللہ کی طرف منسوب کردے جیسا کہ مشرکین مکہ کا آپ کے متعلق خیال مذکور ہوا ہے ایسا شخص بھی سب سے بڑھ کر ظالم ہے اور اگر نبی اپنے قول میں سچا ہے تو اللہ کی آیات کا منکر بھی ویسا ہی سب سے بڑھ کر ظالم ہوگا اور دونوں کے ظلم میں کوئی فرق نہیں۔
27 نظریہ کی تبدیلی سے فلاح کے معیار میں تبدیلی :۔ فلاح سے مراد کامیابی سے ہم کنار ہونا ہے لیکن نظریہ کی تبدیلی سے کامیابی کا معیار بھی بدل جاتا ہے مثلاً ایک دنیادار اور آخرت کے منکر کے نزدیک انتہائی کامیابی یہ ہے کہ اسے امن وچین اور عیش و عشرت سے…
Read the full tafseer →31۔ یہاں یہ بتایا کہ اپنے دل کی گڑھی ہوئی چیزوں کو وحی الہی قرار دے دینا اور آئی ہوئی وحی الہی کی تکذیب دونوں یکساں اور شدید ترین جرائم ہیں اور فلاح ایسے مجرموں کے نصیب میں نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیت نمبر 11 تا 20
ترجمہ : اور (آئندہ) آیت اس وقت نازل ہوئی جبکہ مشرکین نے عذاب کے جلد آنیکا مطالبہ کیا، اور اگر اللہ لوگوں کیلئے شر کے معاملہ میں جلدی کرتا جیسا کہ یہ خیر کے معاملہ میں جلدی کرتے ہیں تو ان کا وعدہ پورا کردیا گیا ہوتا قُضِیَ مجھول اور معروف دونوں طرح پڑھا گیا ہے، (اَجَلُھُمْ ) رفع اور نصب کے ساتھ ہے بایں صورت کہ ان کو ہلاک کردیا گیا ہوتا، لیکن وہ ان کی مہلت دیتا ہے سو ہم ان کو جن کو ہمارے پاس آنے کی توقع نہیں ہے ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے رہتے ہیں، (یعنی) تردد کے ساتھ حیران رہتے ہیں، اور جب کافر انسان کو مرض اور فقر وغیرہ کی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارنے لگتا ہے، لیٹے…
Read the full tafseer →فمن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذبًا پس اس سے بڑا کون ہے جس نے اللہ پر جھوٹی تہمت تراشی کی اور خیال کیا کہ اللہ کا کوئی ساجھی اور اولاد ہے۔
او کذب بٰایٰتہ یا اللہ کی آیتوں کو سچا نہ جانا اور ان (کی صداقت) کا انکار کردیا۔
انہ لا یفلح المجرمون۔ کوئی شبہ نہیں کہ مجرموں یعنی مشرکوں کو فلاح یعنی نجات نہیں ملے گی۔
Read the full tafseer →(17) اس شخص سے بڑا ظالم اور دلیر کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم کو جھٹلائے یقیناً مشرکین عذاب الہی سے اصلا فلاح اور نجات پانے والے بالکل نہیں ہوں گے۔
Read the full tafseer →فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي۔۔ : یعنی اگر یہ قرآن میں نے خود تصنیف کرلیا ہے، جیسا کہ تم سمجھتے ہو تو میں نے اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھا، جس سے بڑا کوئی گناہ نہیں، مگر اس کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونا اوپر کے دلائل سے ثابت ہوچکا ہے، اس کے بعد بھی اگر تم نے اس کی آیات کو جھٹلایا تو تم سے بڑا ظالم اور گناہ گار کوئی نہیں اور ایسے گناہ گار اور مجرم کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 17۔
یہ استفہام بمعنی انکار ہے، یعنی اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹا افتراء باندھا اور اس کے کلام کو بدل دیا اور اس کی طرف ایسی شے کی نسبت کردی جو اس نے نازل نہیں کی، اور اسی طرح تم سے زیادہ کوئی ظلم کرنے والا نہیں جب تم نے قرآن کریم کا انکار کیا اور اللہ تعالیٰ پر جھوٹا افترا باندھا اور تم نے یہ کہا : یہ اس کا کلام نہیں، اور یہ اس میں سے ہے جس کے بارے رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا کہ آپ نہیں یہ کہیں، اور یہ بھی کہا گیا ہے : یہ ابتداء اللہ تعالیٰ کا قول ہے، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ افترا باندھنے والا مشرک ہے اور آیات کو جھٹلانے والا اہل کتاب میں سے ہے۔ (آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
1:۔ ابن ابی حاتم (رح) نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ نصر نے کہا جب قیامت کا دن ہوگا میرے لئے لات اور عزی سفارش کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیت) نازل فرمائی۔ (آیت) ” فمن اظلم ممن الفتری علی اللہ کذبا او کذب بایتہ، انہ لا یفلغ المجرمون (17) وعبدون من دون اللہ مالا یضرہم ولا ینفعہم ویقولون ھولآء شفعآ وناعنداللہ۔
Read the full tafseer →فَمَنْ [ پس کون ] اَظْلَمُ [ زیادہ ظالم ہے ] مِمَّنِ [ اس سے جس نے ] افْتَرٰي [گھڑا ] عَلَي اللّٰهِ [ اللہ پر ] كَذِبًا [ ایک جھوٹ ] اَوْ [ یا ] [ كَذَّبَ (جھٹلایا ) بِاٰيٰتِهٖ (اس کی آیتوں کو ) اِنَّهٗ (بیشک یہ حقیقت ہے) لَا (نہیں) يُفْلِحُ (فلاح پاتے ) الْمُجْرِمُوْنَ (سب جرم کرنے والے )
نوٹ۔ 2: آیت ۔ 17 جن ظالموں کا ذکر ہے ان میں مسلیمہ کذاب بھی شامل ہے ۔ اسے ہلاک کیا گیا تو اس کی جماعت پراگندہ ہوگئی ۔ حضرت ابوبکر ؓ کے پاس اس کے لوگ تو بہ کرتے ہوئے آئے اور اسلام قبول کیا ۔ حضرت ابوبکر ؓ نے ان سے کہا کہ مسلیمہ کا کوئی قرآن تو سناؤ ، انھوں نے معافی ۔ ابوبکر ؓ نے اصرار کیا کہ ضرور سنانا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
فائدہ : یہ جو فرمایا (فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ ) (کہ میں اپنی عمر کے بڑے حصہ تک تمہارے اندر رہا ہوں) اس میں تحدی ہے یعنی مخاطبین کو چیلنج ہے کہ میں نے عمر کا بہت بڑا حصہ تمہارے اندر گزارا ہے اس حصہ میں میں نے تم سے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور اس کے تم گواہ ہو تو پھر میں اللہ پر کیسے جھوٹ باندھ سکتا ہوں سوال جواب تو قرآن مجید کو بدلنے یا اپنے پاس سے بنانے سے متعلق تھا لیکن الفاظ کے عموم میں آنحضرت سرور عالم ﷺ کی حیات طیبہ کے اخلاق عالیہ اور افعال جمیلہ اور اعمال صالحہ کی طرف بھی اشارہ کردیا اور بتادیا کہ مجھے دیکھ چکے ہو ہر طرح سے پرکھ چکے ہو۔ ہمیشہ سے صادق اور امین کہتے آئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
کفار عرب کی ایک ہر زہ سرائی کا جواب باصواب
قال اللہ تعالیٰ واذا تتلی علیھم ایاتنا بینات۔۔ الی۔۔ لایفلح المجرمن۔
(ربط) اس آیت میں منکرین نبوت کے ایک تیسرے شبہ کو ذکر کر کے اس کا جواب دیتے ہیں وہ یہ کہ آپ جب کافروں کو آیات ِ قرآنی پڑھ کر سناتے تو اس کا اعجاز ان کے دل پر اثر کرتا اور اس کی پند ونصیحت کو پسند کرتے۔ لیکن جب شرک اور ان کی بت پرستی اور ان کی جاہلانہ رسمون کی مذمت کا ذکر آتا تو ناک منہ چڑھا کر رسول خدا سے درخواست کرتے کہ ان کو قرآن سے نکال دیجئے اور اس کے بدلے میں دوسرے مضامین بنا دیجئے جن میں بت پرستی کی مذمت اور شرک کی برائیں نہ ہوں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے تعنت اور عناد کی…
Read the full tafseer →30: یہ زجر ہے۔ فاء تفریعیہ ہے یعنی جب دلائل عقلیہ قاہرہ سے شرک کی نفی اور ممانعت ثابت ہوگئی تو اس کے بعد بھی جو شخص شرک نہ چھوڑے اس سے بڑا ظالم کون ہوسکتا ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ پر افترء کرتا ہے۔ یعنی ایک طرف تو شرک کرتا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ اللہ اس کے فعل سے خوش ہے اور اللہ نے اپنے برگزیدہ بندوں کو پکارنے کی اجازت دی ہے ایسا شخص یا وہ جو قرآن کے من جانب اللہ ہونے اور دلائل توحید کو جھٹلاتا ہے ان سے بڑھ کر دنیا میں کون ظالم ہوسکتا ہے۔ “ یعنی فزعم ان له شریکا و ولدا کذب بایاته یعن جحد بکون القراٰن من عندالله وانکر دلائل التوحید ” (معالم و خازن ج 3 ص 180) ۔ استفہام انکاری ہے۔ مطلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
ربط آیات۔
سورۃ یونس مکی دور کے آخر میں نازل ہوئی اس کا مرکزی مضمون قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت ہے۔ سورة کی ابتدائی آیت میں ہی اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حقانیت کا ذکر فرما دیا تھا۔ اس کے بعد دو مسئلے بیان ہوئے۔ ایک توحید کے عقلی دلائل کا اور دوسرا قیامت اور جزائے عمل کا اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی حقانیت بیان کی ہے اور اس کے ساتھ رسالت کی صداقت کو بھی عقلی دلیل سے ثابت کیا ہے۔
آیات بینات۔
چنانچہ قریش مکہ کے ساتھ مکالمے کا ذکر ہور ہا ہے (آیت) ” واذا تتلی علیھم ایتنا بینت “ جب ان پر ہماری واضح واضح آئیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔ یہ اس کتاب کی آیات کا ذکر ہے جس میں تمام بنیادی…
Read the full tafseer →فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللہِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰيٰتِہٖ 0 ۭ اِنَّہٗ لَا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ 17
ظلم
وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه،
قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ:
الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی،
وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13]
والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس،
وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
2 ؎ ہر قسم کی خوبیاں اللہ ہی کو سزا وار ہیں۔ جو تمام جہان کا پروردگار ہے۔
Read the full tafseer →فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْکَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ط اِنَّہٗ لاَ یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ ۔
(یونس : 17)
(اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو ایک جھوٹی بات گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرے یا اس کی آیات کو جھٹلائے۔ بیشک مجرم فلاح پانے والے نہیں بنیں گے۔ )
گزشتہ آیت کریمہ میں اللہ کے رسول کی صداقت اور قرآن کریم کے منزل من اللہ ہونے پر جو واقعی اور مشاہداتی دلائل دیئے گئے ہیں جو شخص ان دلائل کو بھی تسلیم نہیں کرتا یا ان دلائل سے لاجواب ہونیکے بعد اس کے نتیجے کو قبول نہیں کرتا تو اس سے دو ہی باتیں کہی جاسکتی ہیں۔ ایک یہ بات کہ اللہ کا نبی، نبی ہو کر بھی اللہ پر جھوٹ باندھتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
فہم القرآن
ربط کلام : مجر موں اور ہلاک ہونے والوں کا یہ بھی جرم تھا کہ وہ کتاب الٰہی کا انکار کرتے اور آخرت کے منکر تھے۔
پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح اہل مکہ کا کردار بھی یہی تھا کہ وہ قیامت کے دن کی جواب دہی کا تصور بھول چکے تھے۔ جس بنا پر اس قدر بےخوف اور دلیر ہوئے کہ جب بھی ان کے سامنے ٹھوس اور واضح آیات نازل ہوتیں یا نبی معظم ﷺ ان کے سامنے کوئی معجزہ پیش کرتے تو وہ سر تسلیم خم کرنے کی بجائے گردن اکڑا کر یہ کہتے کہ ہم اسے ہرگز نہیں مانیں گے۔ اگر ہمیں منوانا چاہتے ہو تو۔ اس قرآن کی جگہ کوئی دوسری کتاب لے آؤ اگر یہ ممکن نہیں تو کم از کم اس میں اتنی تبدیلی ضرور کرو۔ جس میں ہمارے اور تمہارے…
Read the full tafseer →17: فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا (اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹا بہتان باندھے) نمبر 1۔ افتراء سے یہاں اللہ تعالیٰ کا شریکوں والا اور اولاد والا ہونا مراد ہو۔ نمبر 2۔ آپ کی طرف افتراء کی جو نسبت انہوں نے کی اس سے بچنا مقصود ہو۔ اَوْ کَذَّبَ بِاٰ یٰتِہٖ (یا اسکی آیات کی تکذیب کرے) آیات سے قرآن مراد ہے۔
مسئلہ : اس میں وضاحت کردی کہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والا اور اسکی آیات کو جھٹلانیوالادونوں کفر میں برابر ہیں۔ اِنَّہٗ لَا یُفْلِحُ الْمُجْرِمُوْنَ (بلاشبہ ایسے مجرموں کو کبھی فلاح میسر نہیں آتی)
Read the full tafseer →(17)” فمن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذبا “ پس گمان کیا کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک یا اولاد ہے ۔ ” او کذب بآیاتہ “ محمد ﷺ اور قرآن کو ” انہ لایفلح المجرمون “ مشرکین نجات نہیں پائیں گے۔
Read the full tafseer →17۔ اس سے پہلے کی آیت میں بیان ہوچکا ہے کہ کافروں نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ اور قرآن آپ لائیں یا اس کو بدل ڈالیں جس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ کہہ دو مجھے زیبا نہیں ہے کہ میں اپنے جی سے اللہ کے کلام کو بدل ڈالوں کیونکہ یہ تو بڑا ظلم ہے اور خدا پر بہتان باندھنا ہے کہ جو بات خدا نے نہ بتلائی ہو میں اس کو اپنے جی سے کہوں آیت کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ مشرک اور کافر خدا کو اور اس کی آیتوں کو اور اس کے رسول کو جھٹلاتے ہیں بہت ظلم کرتے ہیں کبھی ان کو فلاحیت نہ ہوگی اور یہ مطلب اس لئے ہے کہ مسیلمہ کذاب ایک شخص حضرت کے زمانہ میں عرب میں تھا اس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا اور جی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
آیت : (15-17)
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکذٰب کرنے والے کفار کی ڈھٹائی اور تعصب کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب ان کے سامنے آیات قرآنی کی تلاوتی کی جاتی ہے جو حق کو بیان کرتی ہیں تو یہ ان سے منہ پھیر لیتے ہیں اور جب ان سے اس ڈھٹائی اور تعصب کی وجہ پوچھی جاتی ہے تو وہ ظلم اور جسارت کا ارتکاب کرتے ہوئے کہتے ہیں : (ائت بقران غیر ھذا اوبدلہ) ” اس قرآن کے علاوہ کوئی اور لا ‘ یا اس کو بدل دے۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کا برا کرے ! وہ اللہ تعالیٰ کی شان میں کتنی بڑی گستاخی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو ٹھکرا کر کتنا سخت ظلم کرتے ہیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے عظیم رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–58
سورة یونس
قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے
قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…
Read the full tafseer →30 ۔ اللہ پر جھوٹ باندھناسب سے بڑا ظلم۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ سب سے بڑا ظالم شخص وہ ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے۔ اور کہے کہ میری طرف وحی آئی ہے حالانکہ اس کی طرف وحی نہیں آئی یاک ہے کہ فلاں بات اللہ کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں۔ اور استفہام یہاں پر انکاری ہے۔ یعنی ایسے شخص سے بڑھ کر ظالم اور کوئی نہیں ہوسکتا۔ تو ایسے میں میں اس طرح کے کسی ظلم کا ارتکاب کس طرح کرسکتا تھا ؟ پس ظالم دراصل وہ لوگ ہیں جو اللہ کے پیغمبر کی وحی کو جھٹلاتے اور اللہ کی طرف بےبنیاد باتیں منسوب کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ والعظیم۔ سو میں اگر نبوت و رسالت میں سچاہوں جیسا کہ حقیقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
ظالموں کی تباہی، قرآن کی عظمت اور کھلا ثبوت
تشریح : ان آیات کا پچھلی آیات سے ربط ہے۔ ان میں بھی مکہ کے لوگوں کو ہی مخاطب کر کے قرآن پاک میں اللہ کے بتائے ہوئے فوائد، قانون اور اصول بتائے جا رہے ہیں۔ یہاں وضاحت کردی گئی ہے کہ یہ قانون قدرت ہے کہ جب ایک قوم اپنی اچھائیوں سے دور اور اللہ کی رحمتوں سے غلط فائدے اٹھا کر برائی، بدکاری، عیش و آرام اور فسق و فجور کے راستوں پر چلنے لگتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی جگہ کسی دوسری قوم کو لے آتے ہیں جو اس بگاڑ کو سنوار میں بدل سکے تاکہ انسانیت امن و سکون سے پنپ سکے جب ہم تاریخ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس میں بیشمار مثالیں مل سکتی ہیں ماضی قریب میں ہندوستان، سپین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیات 11 تا 20
اسرار و معارف
انسان بھی بہت عجیب سوچ رکھتا ہے بھلایہ بھی کوئی معیار ہے کہ کفار کہہ دیں جب ہم دین قبول نہیں کر رہے تو ہم پر فورا عذاب کیوں نہیں آجاتا۔ اگر اس طرح سے بات بات پر گرفت ہوتی تو انسان ختم ہوچکے ہوتے اور دوسرا اثر اس کا یہ ہوتا کہ انسانی پسنددناپسند کا موقع کون ساباقی رہتا ظاہر ہے یا فورا ایمان لے آتے یا ہلاک ہوجاتے اور اللہ تو قادر ہے جس طرح مانگے بےمانگے بےحساب نعمتیں عطافرمارہا ہے۔ زندگی طاقت دولت اقتدار ہر شے دے رہا ہے چاہے تو آن واحد میں چھین بھی سکتا ہے لیکن اگر ایسا ہونے لگے تو انسان کے لئے اختیار آزمانے کا موقع نہ رہے گا لہٰذا انسان کو پہلے سے طے شدہ وقت تک فرصت…
Read the full tafseer →ف 5۔ یعنی اگر یہ قرآن خود میں نے تصنیف کرلیا ہے جیسا کہ تم سمجھتے ہو تو میں نے خدا پر بہتان باندھا جس کے برابر کوئی گناہ نہیں۔ مگر اس کا خدا کی طرف سے ہونا اوپر کے دلائل سے ثابت ہوچکا ہے۔ اس کے بعد بھی اگر تم نے اس کی آیات اور مجرم کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔ (کبیر) ۔
Read the full tafseer →(10:17) افتری۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے جھوٹ باندھا۔ اس نے بہتان تراشا۔ افتراء سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
لغات القرآن آیت نمبر 15 تا 17
تتلی (تلاوت کی گئی، پڑھی گئی) ات (لے آ) غیر ھذا (اس کے سوا) بدل (بدل دے، تبدیل کر دے) تلقائی نفسی (اپنی طرف سے، اپنی خواہش سے) یوحی (وحی کی گئی ہے) عصیت (میں نے نافرمانی کی) تلوث (میں نے پڑھا (تلاوۃ) ، پڑھنا (ماضی کا صیغہ ہے) ادری (جتایا، ماضی کا صیغہ اذراء سے، درایۃ کے معنی سمجھ لیتا) لبثت (میں نے گزاری ہے، میں رہا ہوں) عمر (عمر تک) افتری (جس نے گھڑا) لایفلع (وہ فلاح نہیں پاتا، وہ کامیاب نہیں ہوتا)
تشریح : آیت نمبر 15 تا 17
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی وہ آخری کتاب ہدایت ہے جو اس نے اپنے محبوب بندے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمائی جس کی اتباع اس کو پڑھ کر سنانے اس…
Read the full tafseer →سر کش اور نافرمان لوگوں کا ذکر
ان آیتوں مطلب یہ ہے کہ مشرک اور کافر خدا کو اور اس کی آیتوں کو اور اس کے رسول کو جھٹلاتے ہیں، بہت ظلم کرتے ہیں ان کو فلاحیت نہ ہوگی اور مطلب اس کا یہ ہے کہ مسیلمہ کذاب ایک شخص حضرت کے زمانہ میں عرب میں تھا، اس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا اور اپنے جی سے آیتیں گھڑ کر کہتا تھا کہ خدا نے یہ آیتیں مجھ پر اتاری ہیں۔ اس واسطے فرمایا کہ جو شخص خدا پر بہتان باندھے اور یہ کہے کہ خدا نے مجھ پر اپنا کلام بھیجا ہے، اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں۔ خدا کی مخلوق کو دھوکا دیتا ہے کبھی فلاحیت نہ پائے گا۔ آخر جب مسیلمہ مارا گیا تو اس کے سب یار دوست علیحدہ علیحدہ ہوگئے۔ یہاں تک کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
[11] یعنی میں تمہارے درمیان اپنی عمر کا بڑا حصہ گزار چکا ہوں۔ میری راست بازی اور صداقت شعاری پر تم سب گواہ ہو، پھر کیا تم مجھ سے یہ توقع کرسکتے ہو کہ اللہ پر جھوٹ باندھوں اور اپنے کلام کو اللہ کا کلام کہوں۔ کیا تمہیں قرآن میں اور میرے کلام میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ؟ اگر یہ میرا کلام ہے تو یہ کیسی بات ہے کہ چالیس سال کی عمر تک تو ایک جملہ کبھی اس طرح کا میرے منہ سے نہ نکلا اور پھر دفعتاً ایسے اعلیٰ طرز کا کلام پیش کردیا ؟ کیا اتنی موٹی بات بھی تم نہیں سمجھ سکتے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
معیار رسالت :
(ف 1) مکہ والوں نے جب قرآن کی تبدیلی کا مطالبہ کیا تو جوابا فرمایا گیا کہ یہ ناممکن ہے ، انبیاء کو اپنی جانب سے تعلیمات الہیہ میں کمی بیشی کرنے کا مطلقا اختیار نہیں دیا گیا ، وہ تو محض اللہ کے قرابت اور اطاعت شعار ہوتے ہیں منصب نبوت کا مقصد ہی یہی ہے ۔ کہ نفس کی ترجمانی نہ ہو ، منشاء الہی کی تعمیل ہو ، پھر انبیاء سے یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ پیغام خداوندی کو بدل دیں ،
ان آیات میں ایک اور طریق سے جواب دیا گیا ہے حضور دعوی نبوت سے قبل چالیس سالہ زندگی کفار مکہ کے سامنے تھی ، آپ سے کہا گیا ہے کہ ان سے پوچھیں کہ کیا تم نے کبھی کوئی بات چالیس (40) سال کے طویل عرصے میں ایسی دیکھی ہے جو…
Read the full tafseer →17 لہٰذا اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر جھوٹ باندھے اور کسی کلام کا منزل من اللہ ہونا افتراء کے طور پر بیان کرے یا اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلائے اور ان کی تکذیب کرے یقینا ایسے مجرموں کو کبھی فلاح نصیب نہیں ہوتی اور ایسے گناہ گار فلاح کو نہیں پہنچتے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اگر میں بناتا ہوں تو مجھ سا ظالم نہیں اور اگر میں سچا ہوں تو جھٹلانے والوں پر بھی یہی بات ہے۔ 13
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
ف 3۔ یعنی سب موحد تھے کیونکہ آدم (علیہ السلام) موحد تھے بہت روز تک ان کی اولاد ان ہی کے طریقہ پر رہی پس سب موحد رہے۔
Read the full tafseer →اللہ پر افتراء باندھنے والا کبھی فلاح و کامیاب حاصل نہیں کر سکتا
28 ؎ تمام علماء اخلاقیات اور نفسیات متفق ہی کی عمر میں ابتدائی چالیس برس کا زمانہ اس کے اخلاق و خصائل کے ابھرنے اور پنپنے کا اصل زمانہ ہوتا ہے۔ جو سانچا اس عرصہ میں بن گیا پھر بقیہ زندگی میں بدل نہیں سکتا ۔ پس اگر ایک شخص چالیس برس کی عمر تک صادق و امین رہا ہے تو کیونکر ممکن ہے کہ اکتالیسیوں برس میں قدم رکھتے ہیں ، ایسا کذاب و مفتری بن جائے کہ انسانوں ہی پر نہیں بلکہ فاطر السموات والارض پر افترا کرنے لگے ؟ چناچہ اس کے بعد فرمایا کہ دو باتوں سے تم انکار نہیں کرسکتے جو شخص اللہ پر افتراء کرے کہ اس سے بڑھ کر کوئی شریر نہیں اور جو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
The last verse (17) emphasizes the subject conclusively by warning that attributing any statement to Allah Ta` ala that was not His Word, or denying what actually was, were crimes deserving severe punishment.
Read the full tafseer →22. If the verses of the Qur'an were in fact not from God but had been composed by the Prophet (peace be on him) who then claimed them to be from God, the Prophet would be guilty of the worst kind of wrong. But if, on the contrary, the Qur'an was the word of God, those who rejected it as false must be regarded as the worst kind of wrong-doers.
23. The Qur'anic term falah (prosperity, success) used in the above verse has been understood by some to signify such things as longevity, worldly prosperity and other worldly attainments. Under this false impression, they tend to believe that if a…
Read the full tafseer →