Explained with ayahs 15–16
کفار کی بدترین حجتیں
مکہ کے کفار کا بغض دیکھئے قرآن سن کر کہنے لگے، اسے تو بدل لا، بلکہ کوئی اور ہی لا۔ تو جواب دے کہ یہ میرے بس کی بات نہیں میں تو اللہ کا غلام ہوں اس کا رسول ہوں اس کا کہا کہتا ہوں۔ اگر میں ایسا کروں تو قیامت کے عذاب کا مجھے ڈر ہے۔ دیکھو اس بات کی دلیل یہ کیا کم ہے ؟ کہ میں ایک بےپڑھا لکھا شخص ہوں تم لوگ استاد کلام ہو لیکن پھر بھی اس کا معارضہ اور مقابلہ نہیں کرسکتے۔ میری صداقت و امانت کے تم خود قائل ہو۔ میری دشمنی کے باوجود تم آج تک مجھ پر انگلی ٹکا نہیں سکتے۔ اس سے پہلے میں تم میں اپنی عمر کا بڑا حصہ گزار چکا ہوں۔ کیا پھر بھی عقل سے کام نہیں لیتے ؟ شاہ روم ہرقل نے ابو…
Read the full tafseer →سورة یُوْنُس 21
یہ ایک زبردست دلیل ہے ان کے اس خیال کی تردید میں کہ محمد ﷺ قرآن کو خود اپنے دل سے گھڑ کر خدا کی طرف منسوب کر رہے ہیں، محمد ﷺ کے اس دعوے کی تائید میں کہ وہ خود اس کے مصنف نہیں ہیں بلکہ یہ خدا کی طرف سے بذریعہ وحی ان پر نازل ہو رہا ہے۔ دوسرے تمام دلائل تو پھر نسبتا دور کی چیز تھے، مگر محمد ﷺ کی زندگی تو ان لوگوں کے سامنے کی چیز تھی۔ آپ ﷺ نے نبوت سے پہلے پورے چالیس سال ان کے درمیان گزارے تھے۔ ان کے شہر میں پیدا ہوئے، ان کی آنکھوں کے سامنے بچپن گزرا، جوان ہوئے، ادھیڑ عمر کو پہنچے۔ رہنا سہنا، ملنا چلنا، لین دین، شادی بیاہ، غرض ہر قسم کا معاشرتی تعلق انہی کے ساتھ تھا اور آپ ﷺ کی…
Read the full tafseer →اس کے بعد قرآن کے من جانب اللہ اور کلام الہٰی ہونے کو ایک واضح دلیل سے سمجھایا، (آیت) فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ ، یعنی تم ذرا یہ بھی تو سوچو کہ نزول قرآن سے پہلے میں نے تمہارے سامنے چالیس سال کی طویل مدت گزاری ہے، اس مدت میں تم نے کبھی مجھے شعر و سخن یا کوئی مقالہ لکھتے ہوئے نہیں سنا، اگر میں اپنی طرف سے ایسا کلام کہہ سکتا تو کچھ نہ کچھ اس چالیس سال کے عرصہ میں بھی کہا ہوتا، اس کے علاوہ اس چالیس سالہ طویل زندگی میں تم میرے چال چلن میں صدق و دیانت کا تجربہ کرچکے ہو کہ عمر بھر کبھی جھوٹ نہیں بولا تو آج چالیس سال کے بعد آخر جھوٹ بولنے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے، اس سے بدیہی طور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
16۔ 17۔ قُلْ لَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا تَلَوْتُهُ عَلَيْكُمْ وَلا أَدْرَاكُمْ بِهِ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلا تَعْقِلُونَ (16) فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِآيَاتِهِ إِنَّهُ لا يُفْلِحُ الْمُجْرِمُونَ
ادراکم، دری یدری، سے باب افعال اور غائب کا صیغہ ہے۔ فاعل اس کا اللہ ہے۔ بعض لوگوں نے اس کو " ماتلوتہ " سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اس کا ترجمہ متکلم کا کیا ہے لیکن یہ عربیت کے بالکل خلاف ہے۔
مسکت جواب : اب یہ پیغمبر ﷺ کی زبان سے کفار کے مطالبے کے پہلے ٹکڑے کا جواب دلوایا ہے۔ یعنی اس بات کا کہ اس قرآن کے بجائے کوئی اور قرآن لاؤ۔ فرمایا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
16۔ 1 یعنی سارا معاملہ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے، وہ چاہتا تو میں نہ تمہیں پڑھ کر سناتا نہ تمہیں اس کی کوئی اطلاع دی جاتی، بعض نے ادراکم بہ کے معنی کیے ہیں اعلمکم بہ علی لسانی، کہ وہ تم کو میری زبانی اس قرآن کی بابت کچھ بھی نہ بتلاتا۔
16۔ 2 اور تم بھی جانتے ہو کہ دعوائے نبوت سے قبل چالیس سال میں نے تمہارے اندر گزارے کیا میں نے کسی استاذ سے کچھ سیکھا ہے ؟ اسی طرح تم میری امانت و صداقت کے بھی قائل رہے ہو۔ کیا اب یہ ممکن ہے کہ میں اللہ پر افترا باندھنا شروع کردوں ؟ مطلب ان دونوں باتوں کا یہ ہے کہ یہ قرآن اللہ ہی کا نازل کردہ ہے نہ میں نے کسی سے سن یا سیکھ کر اسے بیان کیا ہے اور نہ یوں ہی جھوٹ موٹ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
6: یعنی یہ قرآن میرا بنایا ہوا نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا ہے۔ اگر وہ نہ چاہتا تو نہ میں تمہارے سامنے پڑھ سکتا تھا، نہ تمہیں اس کا علم ہوسکتا تھا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر نازل فرما کر مجھے حکم دیا کہ تمہیں سناؤں، اس لیے سنا رہا ہوں۔ لہذا اس میں کسی قسم کی تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
7: یعنی تمہارا یہ مطالبہ کہ میں اس قرآن کو بدل دوں۔ دراصل میری نبوت کا انکار اور مجھ پر (معاذ اللہ) جھوٹ کا الزام ہے، حالانکہ میں نے عمر کا بڑا حصہ تمہارے درمیان گزارا ہے، اور میری ساری زندگی ایک کھلی کتاب کی طرح تمہارے سامنے رہی ہے۔ قرآن کریم کے نازل ہونے سے پہلے تم سب مجھے سچا اور امانت دار…
Read the full tafseer →قل لو شآء اللہ آپ کہہ دیجئے کہ اگر اللہ کو کچھ اور منظور ہوتا۔ یا یہ مطلب کہ اگر اللہ کو اس قرآن کی تلاوت کرانی منظورنہ ہوتی تو وہ مجھ پر اس کو نازل نہ فرماتا۔
ما تلوتہ علیکم ولا ادرٰں کم بہ نہ میں تم کو پڑھ کر سناتا نہ اللہ اس سے تم کو میری زبانی واقف بناتا۔
فقد لبثت بیکم عمرا من قبلہ میں تمہارے اندر ایک مدت یعنی چالیس سال سے نزول قرآن سے پہلے رہتا ہوں اور جب تک میرے پاس وحی نہیں آئی ‘ میں نے کچھ نہیں بیان کیا۔ اس جملہ سے قرآن کے معجز ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ جو شخص چالیس برس کچھ لوگوں کے ساتھ رہا ہو اور نہ تعلیم حاصل کی ہو ‘ نہ کسی عالم سے ملا ‘ نہ کبھی شعر کہا ہو ‘ نہ خطبہ دیا ہو ‘ پھر اچانک…
Read the full tafseer →6 یعنی جو خدا چاہتا ہے وہ ہی تمہارے سامنے پڑھتا ہوں اور جتنا وہ چاہتا ہے میرے ذریعہ سے تم کو خبردار کرتا ہے۔ اگر وہ اس کے خلاف چاہتا تو میری کیا طاقت تھی کہ خود اپنی طرف سے ایک کلام بنا کر اس کی طرف منسوب کردیتا۔ آخر میری عمر کے چالیس سال تمہاری آنکھوں کے سامنے گزرے۔ اس قدر طویل مدت میں تم کو میرے حالات کے متعلق ہر قسم کا تجربہ ہوچکا۔ میرا صدق و عفاف، امانت و دیانت وغیرہ اخلاق حسنہ تم میں ضرب المثل رہے۔ میرا اُمّی ہونا اور کسی ظاہری معلم کے سامنے زانوئے تلمذ تہ نہ کرنا ایک معروف و مسلم واقعہ ہے۔ پھر چالیس برس تک جس نے نہ کوئی قصیدہ لکھا ہو، نہ مشاعروں میں شریک ہوا ہو، نہ کبھی کتاب کھولی ہو نہ…
Read the full tafseer →آیت 16 قُلْ لَّوْ شَآء اللّٰہُ مَا تَلَوْتُہٗ عَلَیْکُمْ وَلاآ اَدْرٰٹکُمْ بِہٖز ”آپ ﷺ ان سے کہیے کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ میں یہ قرآن تمہیں پڑھ کر سناتا اور نہ وہ تمہیں اس سے واقف کرتا“
فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖط اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ”میں تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں اس سے پہلے۔ تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے !“
میں پچھلے چالیس برس سے تمہارے درمیان زندگی بسر کر رہا ہوں۔ تم مجھے اچھی طرح سے جانتے ہو۔ تم جانتے ہو کہ میں شاعر نہیں ہوں ‘ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ میں کاہن یا جادو گر بھی نہیں ہوں ‘ تمہیں یہ بھی علم ہے کہ مجھے ان چیزوں سے کبھی کوئی دلچسپی نہیں رہی…
Read the full tafseer →25 آپ کی سابقہ زندگی سے قرآن کے منزل من اللہ ہونے کا ثبوت :۔ یہ کفار کے مطالبات کا دوسرا جواب ہے یعنی اللہ کی یہی مشیت تھی کہ اس نے مجھے اپنا پیغمبر بنا کر بھیجا تاکہ میں تمہیں اس کے پیغام سے آگاہ کر دوں اور اگر وہ نہ چاہتا تو نہ میں تمہیں قرآن سناتا اور نہ ہی تم اس کے مضامین پر آگاہ ہوتے اس میں میرے اپنے اختیار کی کوئی بات نہیں البتہ ایک بات کی طرف تمہاری توجہ ضرور دلاتا ہوں اور وہ ہے میری سابقہ زندگی جو میں نے تمہارے ہی درمیان گزاری ہے اور تم ان باتوں سے خوب واقف ہو کہ :
1۔ میں خود امی یا ان پڑھ ہوں تمام تر زندگی میں نے کسی کے سامنے زانوئے تلمذ طے نہیں کیا کہ کسی دوسرے سے سیکھ کر ایسا کلام…
Read the full tafseer →30۔” روشن خیالان “ عرب کی اسی فرمایشی ترمیم کے جواب میں رسول اللہ ﷺ کے جواب کا خلاصہ حسب ذیل ہے :۔ (1) اپنی عمر کے 40۔ 50 سال تمہاری آنکھوں کے سامنے گزار چکا ہوں۔ میرے تدین، راستبازی، صداقت شعاری پر تم سب گواہ ہو کبھی کسی خفیف معاملہ میں بھی کذب وافتراء سے مجھے کام لیتے تم نے دیکھا یا سنا ہے ؟ پھر جب یہ نہیں، تو اتنے بڑے افتراء کی کہ اپنے کلام کو خدا کا کلام کہہ کر پکاروں، آخر مجھے جرأت ہو ہی کیونکر سکتی ہے ؟ تمہاری عقلیں اس احتمال ہی کو کیسے تسلیم کررہی ہیں ؟ (2) تمہارے درمیان اپنی عمر کا اتنا بڑا حصہ میں گزار چکا۔ میری ایک ایک خوبو سے تم واقف ہوچکے۔ میری بولی، میرے انداز کلام کو تم خوب اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیت نمبر 11 تا 20
ترجمہ : اور (آئندہ) آیت اس وقت نازل ہوئی جبکہ مشرکین نے عذاب کے جلد آنیکا مطالبہ کیا، اور اگر اللہ لوگوں کیلئے شر کے معاملہ میں جلدی کرتا جیسا کہ یہ خیر کے معاملہ میں جلدی کرتے ہیں تو ان کا وعدہ پورا کردیا گیا ہوتا قُضِیَ مجھول اور معروف دونوں طرح پڑھا گیا ہے، (اَجَلُھُمْ ) رفع اور نصب کے ساتھ ہے بایں صورت کہ ان کو ہلاک کردیا گیا ہوتا، لیکن وہ ان کی مہلت دیتا ہے سو ہم ان کو جن کو ہمارے پاس آنے کی توقع نہیں ہے ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے رہتے ہیں، (یعنی) تردد کے ساتھ حیران رہتے ہیں، اور جب کافر انسان کو مرض اور فقر وغیرہ کی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارنے لگتا ہے، لیٹے…
Read the full tafseer →قل لو شآء اللہ آپ کہہ دیجئے کہ اگر اللہ کو کچھ اور منظور ہوتا۔ یا یہ مطلب کہ اگر اللہ کو اس قرآن کی تلاوت کرانی منظورنہ ہوتی تو وہ مجھ پر اس کو نازل نہ فرماتا۔
ما تلوتہ علیکم ولا ادرٰں کم بہ نہ میں تم کو پڑھ کر سناتا نہ اللہ اس سے تم کو میری زبانی واقف بناتا۔
فقد لبثت بیکم عمرا من قبلہ میں تمہارے اندر ایک مدت یعنی چالیس سال سے نزول قرآن سے پہلے رہتا ہوں اور جب تک میرے پاس وحی نہیں آئی ‘ میں نے کچھ نہیں بیان کیا۔ اس جملہ سے قرآن کے معجز ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ جو شخص چالیس برس کچھ لوگوں کے ساتھ رہا ہو اور نہ تعلیم حاصل کی ہو ‘ نہ کسی عالم سے ملا ‘ نہ کبھی شعر کہا ہو ‘ نہ خطبہ دیا ہو ‘ پھر اچانک…
Read the full tafseer →(16) اے محمد ﷺ آپ ان سے یوں فرما دیجیے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو ہوتا کہ میں اس کا رسول نہ ہوں تو نہ میں تمہیں یہ قرآن حکیم پڑھ کر سنا سکتا اور نہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس قرآن حکیم کے ملنے کی اطلاع کرتاکیوں کہ آخر اس کلام پاک کے ظاہر کرنے سے پہلے بھی چالیس سال تک تم میں رہ چکا ہوں اور اس وقت اس کے متعلق ایک جملہ بھی نہیں نکلا تو پھر کیا تم انسانوں جیسی اتنی عقل بھی نہیں رکھتے کہ یہ قرآن کریم میری اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ اللہ کا کلام ہے۔
Read the full tafseer →قُلْ لَّوْ شَاۗءَ اللّٰهُ مَا تَلَوْتُهٗ۔۔ : ”تَلَوْتُ“ ”تَلاَ یَتْلُوْ تِلَاوَۃً“ (ن) سے واحد متکلم ماضی معلوم کا صیغہ ہے۔ ”مَا تَلَوْتُہٗ ‘ میں اسے نہ پڑھتا۔ ”أَدْرٰی“ یہ ”دَرٰی یَدْرِیْ“ (ض) (جاننا، معلوم کرنا) سے باب افعال ”اَدْرٰی یُدْرِیْ“ کا ماضی معلوم واحد غائب کا صیغہ ہے۔ ”وَلَا اَدْرٰکُم“ اور نہ وہ تمہیں اس کی خبر دیتا، یا تمہیں یہ معلوم کرواتا۔ مطلب یہ ہے کہ میں نبوت سے پہلے ایک عمر، یعنی چالیس برس تم میں رہا، اس ساری مدت میں تم سب جانتے ہو کہ نہ مجھے پڑھنا آتا تھا نہ لکھنا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَمَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّلَا تَخُــطُّهٗ…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 16۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” قل لوشآء اللہ تلوتہ علیکم ولا ادرکم بہ “۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو وہ مجھے تمہاری طرف نہ بھیجتا اور (نہ) میں تم پر قرآن کریم پڑھتا اور نہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس کے بارے آگاہ کرتا اور نہ تمہیں خبر دیتا، کہا جاتا ہے : دریت الشیئ (میں نے کسی شی کو جان لیا) وادرائی اللہ بہ (اور اللہ نے مجھے اس کے بارے آگاہ کیا) ودریتہ ودریت بہ (میں نے اسے جان لیا اور مجھے اس کے بارے آگاہ کیا گیا) اور درایت میں دھوکہ اور فریب دینا کا معنی پایا جاتا ہے اور اسی سے ہے دریت الرجل، یعنی ختلتہ (میں نے اسے دھوکا دیا) اسی وجہ سے الداری مطلق اللہ تعالیٰ کے حق میں نہیں استعمال کیا…
Read the full tafseer →1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا ادرکم بہ “ نہ ہی تم کو اس بارے میں بتایا۔
2:۔ ابو الشیخ (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا ادرکم بہ “ یعنی وہ تم کو اس کا شعور دلاتا۔
3:۔ ابو عبید وابن جریر وابن منذر رحمہم اللہ نے حسن ؓ سے رویت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” ولا ادرکم بہ “ یعنی ہمزہ کے ساتھ فراء نے کہا میں نہیں جانتا کہ یہ جائز ہے (دریت سے اور نہ ادریت سے) مگر یہ کہ حسن نے کہ اس کو دیا ہے ان طبیعت کے مطابق کیونکہ عرب کبھی غلل کرجاتے ہیں اور وہاں ہمزہ پڑھتے ہیں جہاں ہمزہ نہ ہو۔
4:۔ سعید بن منصور وابن جریر…
Read the full tafseer →قُلْ [ آپ کہیے ] لَّوْ [ اگر ] شَاۗءَ [ چاہتا ] اللّٰهُ [اللہ ] مَا تَلَوْتُهٗ عَلَيْكُمْ [ تو میں اسے پڑھ کر نہ سناتا تم لوگوں کو ] وَلَآ اَدْرٰىكُمْ [ اور وہ باخبر نہ کرتا تم کو ] بِهٖ ڮ [ اس سے ] فَقَدْ لَبِثْتُ [ تو میں رہ چکا ہوں ] فِيْكُمْ [ تم لوگوں میں ] عُمُرًا [ ایک عمر ] مِّنْ قَبْلِهٖ ۭ [ اس سے پہلے ] اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ [ تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
فائدہ : یہ جو فرمایا (فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ ) (کہ میں اپنی عمر کے بڑے حصہ تک تمہارے اندر رہا ہوں) اس میں تحدی ہے یعنی مخاطبین کو چیلنج ہے کہ میں نے عمر کا بہت بڑا حصہ تمہارے اندر گزارا ہے اس حصہ میں میں نے تم سے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور اس کے تم گواہ ہو تو پھر میں اللہ پر کیسے جھوٹ باندھ سکتا ہوں سوال جواب تو قرآن مجید کو بدلنے یا اپنے پاس سے بنانے سے متعلق تھا لیکن الفاظ کے عموم میں آنحضرت سرور عالم ﷺ کی حیات طیبہ کے اخلاق عالیہ اور افعال جمیلہ اور اعمال صالحہ کی طرف بھی اشارہ کردیا اور بتادیا کہ مجھے دیکھ چکے ہو ہر طرح سے پرکھ چکے ہو۔ ہمیشہ سے صادق اور امین کہتے آئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
کفار عرب کی ایک ہر زہ سرائی کا جواب باصواب
قال اللہ تعالیٰ واذا تتلی علیھم ایاتنا بینات۔۔ الی۔۔ لایفلح المجرمن۔
(ربط) اس آیت میں منکرین نبوت کے ایک تیسرے شبہ کو ذکر کر کے اس کا جواب دیتے ہیں وہ یہ کہ آپ جب کافروں کو آیات ِ قرآنی پڑھ کر سناتے تو اس کا اعجاز ان کے دل پر اثر کرتا اور اس کی پند ونصیحت کو پسند کرتے۔ لیکن جب شرک اور ان کی بت پرستی اور ان کی جاہلانہ رسمون کی مذمت کا ذکر آتا تو ناک منہ چڑھا کر رسول خدا سے درخواست کرتے کہ ان کو قرآن سے نکال دیجئے اور اس کے بدلے میں دوسرے مضامین بنا دیجئے جن میں بت پرستی کی مذمت اور شرک کی برائیں نہ ہوں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے تعنت اور عناد کی…
Read the full tafseer →28: یعنی سب کچھ اللہ کے اختیار ومرضی سے ہے۔ میں اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرسکتا۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو مجھے نہ بھیجتا اور میں تم کو قرآن کی آیتیں پڑھ کر نہ سناتا اور میری وساطت سے اللہ تعالیٰ تمہیں قرآن کی خبر نہ دیتا۔ “ والمنعی ان الامر کله منوط بمشیته تعالیٰ ولیس لی منه شیئ قط ” (ابو السعود ج 4 ص 802) ۔ “ یعنی لو شاء اللہ لم ینزل علی ھذا القراٰن ولم یامرنی بقراء ته علیکم ” (خازن) ۔
29: یہ ماقبل کی دلیل ہے۔ نزول قرآن سے پہلے میں تم میں ایک طول عرصہ یعنی چالیس برس رہ چکا ہوں۔ میری امانت و دیانت کو تم بخوبی جانتے ہو اور تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ میں نے کسی سے لکھنا پڑھنا بھی نہیں سیکھا تو معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
ربط آیات۔
سورۃ یونس مکی دور کے آخر میں نازل ہوئی اس کا مرکزی مضمون قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت ہے۔ سورة کی ابتدائی آیت میں ہی اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حقانیت کا ذکر فرما دیا تھا۔ اس کے بعد دو مسئلے بیان ہوئے۔ ایک توحید کے عقلی دلائل کا اور دوسرا قیامت اور جزائے عمل کا اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی حقانیت بیان کی ہے اور اس کے ساتھ رسالت کی صداقت کو بھی عقلی دلیل سے ثابت کیا ہے۔
آیات بینات۔
چنانچہ قریش مکہ کے ساتھ مکالمے کا ذکر ہور ہا ہے (آیت) ” واذا تتلی علیھم ایتنا بینت “ جب ان پر ہماری واضح واضح آئیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔ یہ اس کتاب کی آیات کا ذکر ہے جس میں تمام بنیادی…
Read the full tafseer →قُلْ لَّوْ شَاۗءَ اللہُ مَا تَلَوْتُہٗ عَلَيْكُمْ وَلَآ اَدْرٰىكُمْ بِہٖ 0 ۡ ۖ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُـرًا مِّنْ قَبْلِہٖ 0 ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 16
شاء
والْمَشِيئَةُ عند أكثر المتکلّمين كالإرادة سواء، وعند بعضهم : المشيئة في الأصل : إيجاد الشیء وإصابته، وإن کان قد يستعمل في التّعارف موضع الإرادة، فالمشيئة من اللہ تعالیٰ هي الإيجاد، ومن الناس هي الإصابة، قال : والمشيئة من اللہ تقتضي وجود الشیء، ولذلک قيل : ( ما شَاءَ اللہ کان وما لم يَشَأْ لم يكن) والإرادة منه لا تقتضي وجود المراد لا محالة، ألا تری أنه قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
2 ؎ ہر قسم کی خوبیاں اللہ ہی کو سزا وار ہیں۔ جو تمام جہان کا پروردگار ہے۔
Read the full tafseer →قُلْ لَّوْشَآئَ اللّٰہُ مَاتَلَوْتُہٗ عَلَیْکُمْ وَلاَ اَدْرٰکُمْ بِہٖ صلے ز فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ ط اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ۔ (یونس : 16)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے کہ اگر اللہ چاہتا تو میں یہ قرآن تم کو کبھی نہ سناتا اور اللہ تمہیں اس سے کبھی باخبر نہ کرتا۔ میں اس سے پہلے ایک عمر تمہارے درمیان گزار چکا ہوں۔ کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ )
قرآن کے منزل من اللہ ہونے کی دلیل
گزشتہ آیت کریمہ میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ مشرکینِ مکہ آنحضرت ﷺ سے مطالبہ کررہے تھے۔ کہ اگر آپ اس کتاب کو جو بقول آپ کے اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے قابل قبول بنانا چاہتے ہیں تو یا تو نیا قرآن لایئے اور یا اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–18
فہم القرآن
ربط کلام : مجر موں اور ہلاک ہونے والوں کا یہ بھی جرم تھا کہ وہ کتاب الٰہی کا انکار کرتے اور آخرت کے منکر تھے۔
پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح اہل مکہ کا کردار بھی یہی تھا کہ وہ قیامت کے دن کی جواب دہی کا تصور بھول چکے تھے۔ جس بنا پر اس قدر بےخوف اور دلیر ہوئے کہ جب بھی ان کے سامنے ٹھوس اور واضح آیات نازل ہوتیں یا نبی معظم ﷺ ان کے سامنے کوئی معجزہ پیش کرتے تو وہ سر تسلیم خم کرنے کی بجائے گردن اکڑا کر یہ کہتے کہ ہم اسے ہرگز نہیں مانیں گے۔ اگر ہمیں منوانا چاہتے ہو تو۔ اس قرآن کی جگہ کوئی دوسری کتاب لے آؤ اگر یہ ممکن نہیں تو کم از کم اس میں اتنی تبدیلی ضرور کرو۔ جس میں ہمارے اور تمہارے…
Read the full tafseer →16: قُلْ لَّوْ شَآئَ اللّٰہُ مَاتَلَوْتُہٗ عَلَیْکُمْ ( کہہ دیں اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو میں تم کو یہ پڑھ کر نہ سناتا) یعنی قرآن مجید کی تلاوت فقط اللہ تعالیٰ کی مشیّت سے ہے اور اس کا اـظہار ایک خارجی معاملہ ہے جو عادت کے اعتبار سے عجیب ہے اور وہ یہ ہے کہ ایک امی آدمی جس نے کسی سے پڑھا نہ ہو۔ اور نہ علماء کی مجلس میں بیٹھا ہو مگر وہ تمہارے سامنے ایک فصیح وبلیغ کتاب پیش کرے جو ہر فصیح کلام پر غالب ہو اور ہر نثری اور شعری کلام پر فوقیت رکھے اور اصول و فروع کے علوم سے پُر ہو۔ اخبار بالغیب بھی اس میں اس طرح دئیے گئے ہوں کہ جن کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا۔
وَلَآ اَدْرٰکُمْ بِہٖ (اور نہ…
Read the full tafseer →(16)” قل لو شاء اللہ ما تلوتہ علیکم “ یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو یہ قرآن مجھ پر نہ اتارتے ” ولا ادراکم بہ “ اور نہ تمہیں اس کی خبر دیتے بزی نے ابن کثیر رحمہما اللہ سے ” ولا دراکم بہ “ قصر کے ساتھ پڑھا ہے ، مراد یہ ہے کہ تم کو اس کا علم میرے تم پر پڑھنے کے بغیر نہ دینا ، اور ابن عباس ؓ نے اس کو ” ولا انذرتکم بہ “ پڑھا ہے۔ باب انداز سے ۔” فقدلبثت فیکم عمرا “ چالیس سال ” من قبلہ “ قرآن کے نازل ہونے سے پہلے اور میں تمہارے پاس اس عرصہ میں کچھ نہیں لایا ۔ ” فلا تعقلون “ کہ یہ میری طرف سے نہیں ہے۔
اور نبی کریم ﷺ ان میں وحی سے پہلے چالیس سال رہے، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ (علیہ السلام) کی طرف وحی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
15۔ 16۔ مفسرین سلف مثل قتادہ اور مقاتل بن حیان نے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی ہے حاصل اس کا یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ مشرکین مکہ کو قرآن شریف کی وہ آیتیں سناتے جن میں ان کے بتوں اور بت پرستی کی مذمت ہوتی تو ولید بن مغیرہ، ابن امیہ اور سرکش مشرک کہتے تھے کہ اگر تم کو ہمیں اس قرآن کو تسلیم کرانا منظور ہے تو اس میں سے اس طرح کی آیتیں جن میں ہمارے بتوں کی مذمت ہے بدل ڈالو۔ امام فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر میں لکھا ہے کہ اس مقولہ سے ان مشرکین کی دو غرضیں خیال میں آتی ہیں یا تو مسخرے پن سے وہ ایسی بات کہتے تھے یا ان کا امتحان مقصود تھا کہ اگر خود آنحضرت ﷺ کا بنایا ہوا یہ قرآن ہوگا تو وہ ہماری خاطر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
آیت : (15-17)
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکذٰب کرنے والے کفار کی ڈھٹائی اور تعصب کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب ان کے سامنے آیات قرآنی کی تلاوتی کی جاتی ہے جو حق کو بیان کرتی ہیں تو یہ ان سے منہ پھیر لیتے ہیں اور جب ان سے اس ڈھٹائی اور تعصب کی وجہ پوچھی جاتی ہے تو وہ ظلم اور جسارت کا ارتکاب کرتے ہوئے کہتے ہیں : (ائت بقران غیر ھذا اوبدلہ) ” اس قرآن کے علاوہ کوئی اور لا ‘ یا اس کو بدل دے۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کا برا کرے ! وہ اللہ تعالیٰ کی شان میں کتنی بڑی گستاخی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو ٹھکرا کر کتنا سخت ظلم کرتے ہیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے عظیم رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–58
سورة یونس
قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے
قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
28 ۔ قرآن حکیم ایک عظیم الشان اور بےمثال معجزہ : سو پیغمبر کو ہدایت فرمائی کہ آپ ان سے کہو کہ اگر اللہ چاہتا تو میں تم لوگوں کو یہ قرآن کبھی پڑھ کر نہ سناتا اور نہ ہی اللہ تم کو اس کی خبر کرتا۔ کیونکہ میں تو جیسا کہ تم خودجانتے ہو ایک امی محض ہوں، جس نے نہ کبھی کسی کے آگے زانوئے تلمذطے کئے ہیں اور نہ کسی سے کوئی حرف تک کبھی سیکھا پڑھا ہے۔ پھر بھی ایسی عظیم الشان اور بےمثال کتاب جو تمہارے سامنے پیش کررہا ہوں جس کی نظیرومثال لانے سے ساری دنیا عاجزو بےبس ہے جو کہ ایک کھلا ثبوت اور واضح دلیل ہے میری صداقت و حقانیت کی۔ تو اگر اللہ کی مشیت ومنظوری نہ ہوتی تو یہ کیسے اور کیونکرممکن ہوسکتا تھا ؟ سو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–17
ظالموں کی تباہی، قرآن کی عظمت اور کھلا ثبوت
تشریح : ان آیات کا پچھلی آیات سے ربط ہے۔ ان میں بھی مکہ کے لوگوں کو ہی مخاطب کر کے قرآن پاک میں اللہ کے بتائے ہوئے فوائد، قانون اور اصول بتائے جا رہے ہیں۔ یہاں وضاحت کردی گئی ہے کہ یہ قانون قدرت ہے کہ جب ایک قوم اپنی اچھائیوں سے دور اور اللہ کی رحمتوں سے غلط فائدے اٹھا کر برائی، بدکاری، عیش و آرام اور فسق و فجور کے راستوں پر چلنے لگتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی جگہ کسی دوسری قوم کو لے آتے ہیں جو اس بگاڑ کو سنوار میں بدل سکے تاکہ انسانیت امن و سکون سے پنپ سکے جب ہم تاریخ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس میں بیشمار مثالیں مل سکتی ہیں ماضی قریب میں ہندوستان، سپین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیات 11 تا 20
اسرار و معارف
انسان بھی بہت عجیب سوچ رکھتا ہے بھلایہ بھی کوئی معیار ہے کہ کفار کہہ دیں جب ہم دین قبول نہیں کر رہے تو ہم پر فورا عذاب کیوں نہیں آجاتا۔ اگر اس طرح سے بات بات پر گرفت ہوتی تو انسان ختم ہوچکے ہوتے اور دوسرا اثر اس کا یہ ہوتا کہ انسانی پسنددناپسند کا موقع کون ساباقی رہتا ظاہر ہے یا فورا ایمان لے آتے یا ہلاک ہوجاتے اور اللہ تو قادر ہے جس طرح مانگے بےمانگے بےحساب نعمتیں عطافرمارہا ہے۔ زندگی طاقت دولت اقتدار ہر شے دے رہا ہے چاہے تو آن واحد میں چھین بھی سکتا ہے لیکن اگر ایسا ہونے لگے تو انسان کے لئے اختیار آزمانے کا موقع نہ رہے گا لہٰذا انسان کو پہلے سے طے شدہ وقت تک فرصت…
Read the full tafseer →ف 4۔ اس آیت کا تعلق بھی اسی جواب سے ہے یعنی میری پچھلی ساری زندگی تمہارے سامنے ہے اس پوری مدت میں نہ تو میں نے کسی سے تربیت حاصل کی ہے نہ کسی کی صحبت میں رہا ہوں اور نہ کبھی جھوٹ ہی بولا ہے۔ تم سب مجھے ” امین “ کہہ کر پکارے ہے تو کیا میں اب یکایک اتنا ماہر اور جھوٹا بن گیا ہوں کہ اس قرآن کو خود تصنیت کرکے تمہارے سامنے خدائی کلام کے نام سے پیش کردوں۔ لہٰذا اگر اس قرآن کو خود میری تصنیت کردوہ کتاب قرار دے کر جھٹلا رہے ہو تو جھٹلانے سے پہلے کچھ تو عقل سے کام لو اور میری گزشتہ زندگی پر کو ب غور کرلو۔ (ازکبیر) ۔
Read the full tafseer →(10:16) من تلقاء نفسی۔ تلقاء ی۔ میری طرف سے۔ اپنی طرف سے۔ تلقائ۔ طرف ۔ لقائ۔ سے جس کے معنی ملاقات کرنے کے ہیں۔ ملاقات کرنے اور آمنے سامنے ہونے کی جگہ کو تلقاء کہتے ہیں اسی اعتبار سے طرف اور جہت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لقاء کا اسم ہے۔ جلس تلقاء وہ اس کے مقابل بیٹھا۔ فعل الامر من تلقاء نفسہ۔ اس نے اس کام کو خود کیا بغیر اس کے کہ کسی نے اس کو مجبور کیا ہو۔ ان اتبع۔ میں ان نافیہ ہے۔
یوم عظیم۔ بڑا سخت دن۔ یوم قیامت۔ یوم ترونھا تذہل کل مرضعۃ عما ارضعت (22:2) جس روز تم دیکھو گے کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے سے غافل ہو جائیگی۔ عذاب یوم عظیم۔ یوم عظیم۔ موضوف وصفت مل کر مضاف الیہ عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
لغات القرآن آیت نمبر 15 تا 17
تتلی (تلاوت کی گئی، پڑھی گئی) ات (لے آ) غیر ھذا (اس کے سوا) بدل (بدل دے، تبدیل کر دے) تلقائی نفسی (اپنی طرف سے، اپنی خواہش سے) یوحی (وحی کی گئی ہے) عصیت (میں نے نافرمانی کی) تلوث (میں نے پڑھا (تلاوۃ) ، پڑھنا (ماضی کا صیغہ ہے) ادری (جتایا، ماضی کا صیغہ اذراء سے، درایۃ کے معنی سمجھ لیتا) لبثت (میں نے گزاری ہے، میں رہا ہوں) عمر (عمر تک) افتری (جس نے گھڑا) لایفلع (وہ فلاح نہیں پاتا، وہ کامیاب نہیں ہوتا)
تشریح : آیت نمبر 15 تا 17
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی وہ آخری کتاب ہدایت ہے جو اس نے اپنے محبوب بندے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمائی جس کی اتباع اس کو پڑھ کر سنانے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
مشرکین مکہ کی شرارتیں یعنی حضور سے درخواست کرتے کہ قرآن کی آیتیں بدل دیں
شان نزول : جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ مشرکین مکہ کو قرآن کی وہ آیتیں سناتے جن میں ان کے بتوں اور بت پرستی کی مذمت ہوتی تو ولید بن مغیرہ ابن امیہ اور سرکش مشرک کہتے تھے کہ اگر تم کو ہمیں اس قرآن کو تسلیم کرانا منظور ہے تو اس میں سے اس طرح کی آیتیں جن میں ہمارے بتوں کی مذمت ہے بدل ڈالو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلی مقصود کو جان کر یہ جواب نازل فرمایا کہ : ” ان منکر قرآن لوگوں سے کہہ دو کہ تمہاری عقلوں میں اتنی بات سمجھنے کی کیا قدرت نہیں ہے کہ قرآن شریف کے نازل ہونے سے چالیس برس پیشتر میں تمہی لوگوں میں رہتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
[11] یعنی میں تمہارے درمیان اپنی عمر کا بڑا حصہ گزار چکا ہوں۔ میری راست بازی اور صداقت شعاری پر تم سب گواہ ہو، پھر کیا تم مجھ سے یہ توقع کرسکتے ہو کہ اللہ پر جھوٹ باندھوں اور اپنے کلام کو اللہ کا کلام کہوں۔ کیا تمہیں قرآن میں اور میرے کلام میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ؟ اگر یہ میرا کلام ہے تو یہ کیسی بات ہے کہ چالیس سال کی عمر تک تو ایک جملہ کبھی اس طرح کا میرے منہ سے نہ نکلا اور پھر دفعتاً ایسے اعلیٰ طرز کا کلام پیش کردیا ؟ کیا اتنی موٹی بات بھی تم نہیں سمجھ سکتے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
معیار رسالت :
(ف 1) مکہ والوں نے جب قرآن کی تبدیلی کا مطالبہ کیا تو جوابا فرمایا گیا کہ یہ ناممکن ہے ، انبیاء کو اپنی جانب سے تعلیمات الہیہ میں کمی بیشی کرنے کا مطلقا اختیار نہیں دیا گیا ، وہ تو محض اللہ کے قرابت اور اطاعت شعار ہوتے ہیں منصب نبوت کا مقصد ہی یہی ہے ۔ کہ نفس کی ترجمانی نہ ہو ، منشاء الہی کی تعمیل ہو ، پھر انبیاء سے یہ کیونکر ممکن ہے کہ وہ پیغام خداوندی کو بدل دیں ،
ان آیات میں ایک اور طریق سے جواب دیا گیا ہے حضور دعوی نبوت سے قبل چالیس سالہ زندگی کفار مکہ کے سامنے تھی ، آپ سے کہا گیا ہے کہ ان سے پوچھیں کہ کیا تم نے کبھی کوئی بات چالیس (40) سال کے طویل عرصے میں ایسی دیکھی ہے جو…
Read the full tafseer →16 اے پیغمبر ﷺ ! آپ ان سے فرما دیجئے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا اور اس کو منظور ہوتا تو میں یہ قرآن کریم نہ تو تم کو پڑھ کر سناتا اور نہ خدا تم کو اس کی خبر دیتا آخر اس قرآن کریم سے پہلے بھی تو میں تم میں اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ گزار چکا ہوں اور عمر کے بڑے حصے تک تم میں رہ چکا ہوں تو کیا تم کو اتنی بھی عقل نہیں۔
یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہتا کہ میں تم کو یہ قرآن کریم نہ سنائوں اور میرے ذریعہ سے تم کو اس کی اطلاع نہ دے تو وہ یہ قرآن کریم مجھ پر نازل نہیں کرتا یہ دلیل ہے اس کی کہ یہ کلام معجز میرا بنایا ہوا نہیں ہے آخر اس سے پہلے بھی تو میں تم میں رہتا تھا پھر تم نے آج تک میرے منہ سے ایسا کلام سنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
ف 1۔ پس جب میں تم کو سنا رہا ہوں اور میرے ذریعے سے تم کو اطلاع ہورہی ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کو اس کلام معجز کا سنورنا اور اطلاع کرنا منظور ہوا اور سنانا اور اطلاع دینا بدون وحی کے بوجہ اس کے معجز ہونے کے ممکن نہیں اس سے معلوم ہوتا ہے وہ وحی منزل اور کلام الٰہی ہے۔
2۔ یعنی اگر یہ میرا کلام ہے تو یا تو اتنی مدت تک ایک جملہ بھی اس طرح کانہ نکلا اور یا دفعتا اتنی بڑی بات بنالی یہ تو بالکل عق کے خلاف ہے۔
فائدہ۔ اعجاز کے اثبات میں فقد لبثت فیکم سے استدلال علی سبیل التنزل ہے یعنی استدلال یہ ہے فاتوا بسورة من مثلہ اور اس میں کوئی بعید احتمال نکالنا کہ شاید عام اس پر قادر نہ ہوں آپ قادر ہوں اس…
Read the full tafseer →اگر اللہ نہ چاہتاتو میں قرآن کریم تم پر کیسے پڑھ سکتا ؟
27 ؎ اب غور کرو کہ ان روشن خیالان عرب کی اس فرمائشی ترمیم کا کیا بہترین ، صاف ، ستھرا اور معجزانہ انداز میں
جواب دے دیا جو صداقت نبوت کی ایک سب سے زیادہ واضح اور وجدانی دلیل بیان کردی جس کی حقیقت افسوس ہے کہ ہمارے مفسرین نے پوری طرح واضح نہ کی ۔ فرمایا : ساری باتیں چھوڑ دو صرف اور صرف اس بات پر غور کرو کہ میں تم میں کوئی نیا آدمی نہیں ہوں جس کے خصائل و حالات کی تمہیں خبر نہ ہو ، تم ہی میں سے ہوں اور اعلان وحی سے پہلے ایک پوری عمر تم میں بسر کرچکا ہوں یعنی چالیس برس تک کی عمر کہ یہ عمر انسان کی پختگی کی کامل مدت ہے اس تمام مدت میں میری…
Read the full tafseer →After that, the fact that the Qur'an was from Allah and that it was His Word was driven home with an open argument by saying: فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّن قَبْلِهِ (Then I have lived among you for years before it). In effect, he was saying, ` just think for a moment. Is it not that, much before the revelation of the Qur'an, I have spent a long period of forty years of my life among you? During this period, you have never heard me composing and reciting poetry or writing essays in prose. Had I been proficient in saying something like this Word of Allah, I would have naturally said at…
Read the full tafseer →21. This is indeed a very weighty argument in refutation of the unbelievers' allegation that the Prophet (peace be on him) had himself authored the Qur'an and subsequently ascribed it to God. So far as other arguments are concerned, they might be considered as somewhat remote. But the argument based on the life and character of the Prophet (peace be on him) was particularly weighty since the Makkans were thoroughly familiar with the whole of his life. Before his designation as a Prophet, he had spent a full forty years in their midst. He was born in their city. They had observed his…
Read the full tafseer →