Yunus 10:15

Yunus · from ayah 15

10:15

وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْهِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ ۙ— قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ هٰذَاۤ اَوْ بَدِّلْهُ ؕ— قُلْ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اُبَدِّلَهٗ مِنْ تِلْقَآئِ نَفْسِیْ ۚ— اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤی اِلَیَّ ۚ— اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۟وَاِذَا تُتۡلٰى عَلَيۡهِمۡ اٰيَاتُنَا بَيِّنٰتٍ‌ ۙ قَالَ الَّذِيۡنَ لَا يَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا ائۡتِ بِقُرۡاٰنٍ غَيۡرِ هٰذَاۤ اَوۡ بَدِّلۡهُ‌ ؕ قُلۡ مَا يَكُوۡنُ لِىۡۤ اَنۡ اُبَدِّلَهٗ مِنۡ تِلۡقَآئِ نَـفۡسِىۡ ۚ اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا يُوۡحٰۤى اِلَىَّ‌ ۚ اِنِّىۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَيۡتُ رَبِّىۡ عَذَابَ يَوۡمٍ عَظِيۡمٍ

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں کہ (یا تو) اس کے سوا کوئی اور قرآن (بنا) لاؤ یا اس کو بدل دو۔ کہہ دو کہ مجھ کو اختیار نہیں ہے کہ اسے اپنی طرف سے بدل دو۔ میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف آتا ہے۔ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے (سخت) دن کے عذاب سے خوف آتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when Our verses are recited to them as clear evidences, those who do not expect the meeting with Us say, "Bring us a Qur'an other than this or change it." Say, [O Muhammad], "It is not for me to change it on my own accord. I only follow what is revealed to me. Indeed I fear, if I should disobey my Lord, the punishment of a tremendous Day."

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 2 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:15

جب انہیں ہماری صاف صاف باتیں سُنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے، کہتے ہیں کہ“اِس کے بجائے کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں کچھ ترمیم کرو " اے محمدؐ، ان سے کہو“میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبّدل کر لوں میں تو بس اُس وحی کا پیرو ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا ڈر ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں کہ (یا تو) اس کے سوا کوئی اور قرآن (بنا) لاؤ یا اس کو بدل دو۔ کہہ دو کہ مجھ کو اختیار نہیں ہے کہ اسے اپنی طرف سے بدل دو۔ میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف آتا ہے۔ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے (سخت) دن کے عذاب سے خوف آتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں جو بالکل صاف صاف ہیں تو یہ لوگ جن کو ہمارے پاس آنے کی امید نہیں ہے یوں کہتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی دوسرا قرآن ﻻئیے یا اس میں کچھ ترمیم کردیجئے۔ آپ ﷺ یوں کہہ دیجئے کہ مجھے یہ حق نہیں کہ میں اپنی طرف سے اس میں ترمیم کردوں بس میں تو اسی کا اتباع کروں گا جو میرے پاس وحی کے ذریعہ سے پہنچا ہے، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ لوگ جو (آخرت میں) ہم سے آملنے کی توقع نہیں رکھتے جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں، جبکہ وہ بالکل واضح ہوتی ہیں، تو وہ یہ کہتے ہیں کہ :“ یہ نہیں، کوئی اور قرآن لے کر آؤ، یا اس میں تبدیلی کرو ”۔ (اے پیغمبر) ان سے کہہ دو کہ :“ مجھے یہ حق نہیں پہنچتا کہ میں اس میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی کروں۔ میں تو کسی اور چیز کی نہیں، صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے۔ اگر کبھی میں اپنے رب کی نافرمانی کر بیٹھوں تو مجھے ایک زبردست دن کے عذاب کا خوف ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو وہ کہنے لگتے ہیں جنہیں ہم سے ملنے کی امید نہیں کہ اس کے سوا اور قرآن لے آیئے یا اسی کو بدل دیجیے تم فرماؤ مجھے نہیں پہنچتا کہ میں اسے اپنی طرف سے بدل دوں میں تو اسی کا تابع ہوں جو میری طرف وحی ہوتی ہے میں اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب ان پر ہماری روشن آیتیں تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملاقات کی توقع نہیں رکھتے، کہتے ہیں کہ اس (قرآن) کے سوا کوئی اور قرآن لے آئیے یا اسے بدل دیجئے، (اے نبیِ مکرّم!) فرما دیں: مجھے حق نہیں کہ میں اسے اپنی طرف سے بدل دوں، میں تو فقط جو میری طرف وحی کی جاتی ہے (اس کی) پیروی کرتا ہوں، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو بیشک میں بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ان پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے، کہتے ہیں کوئی قرآن اس کے سوا لے آ، یا اسے بدل دے۔ کہہ دے میرے لیے ممکن نہیں کہ میں اسے اپنی طرف سے بدل دوں، میں پیروی نہیں کرتا، مگر اسی کی جو میری طرف وحی کی جاتی ہے، بیشک میں اگر اپنے رب کی نافرمانی کروں تو بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جب ان (کافروں) پر ہماری واضح آیات پڑھی جاتی ہیں جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے تو کہتے ہیں : اس قرآن کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں تبدیلی کردو آپ ان سے کہئے : مجھے یہ حق نہیں کہ میں اپنی طرف سے اس میں تبدیلی کر دوں۔ میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو میں بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب ہماری کھلی ہوئی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہماری ملاقات کے متوقع نہیں ہیں، کہتے ہیں اس قرآن کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں ترمیم کرو۔ کہہ دو مجھے کیا حق ہے کہ میں اس میں اپنے جی سے ترمیم کردوں۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر آتی ہے۔ اگر میں نے اپنے رب کی نافرمانی کی تو ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری (کھلی اور) صاف صاف آیتیں، تو وہ لوگ جو امید نہیں رکھتے ہمارے حضور پیشی (اور ملاقات) کی، (بگڑ اور بپھر کر) کہتے ہیں کہ لے آؤ کوئی اور قرآن ان کے سوا، یا کچھ ردوبدل کردو اس میں، کہو مجھے کیا حق پہنچتا ہے کہ میں اس کو بدل دوں اپنی طرف سے، میرا کام تو بس پیروی کرنا ہے اس وحی کی جو میری طرف بھیجی جاتی ہے، میں تو سخت ڈرتا ہوں اگر میں نافرمانی کروں اپنے رب کی، ایک بڑے ہی ہولناک دن کے عذاب سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب انہیں ہماری کھلی ہوئی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا کوئی کھٹکا نہیں ہے کہنے لگتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا اسی میں ترمیم کردو۔۔ آپ کہہ دیجیے میں یہ نہیں کرسکتا کہ اس میں اپنے جی سے ترمیم کردوں میں تو بس اسی کی پیروی کروں گا جو میرے پاس وحی سے پہنچتا ہے اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو میں یوں عظیم کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں ہماری روشن آیات تو کہتے ہیں وہ لوگ جو ہم سے ملاقات کے امیدوار نہیں ہیں کہ (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے علاوہ آپ ﷺ کوئی اور قرآن پیش کریں یا اس میں کوئی ترمیم کریں۔ (اے نبی ﷺ !) کہہ دیجیے کہ میرے لیے ہرگز یہ ممکن نہیں کہ میں اس میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی کرلوں میں تو پیروی کرتا ہوں اسی کی جو میری طرف وحی کیا جا رہا ہے۔ میں ڈرتا ہوں بڑے دن کے عذاب سے اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہم سے ملنے کی امید نہیں وہ کہتے ہیں کہ یا تو اس کے سوا کوئی اور قرآن بنا کر لائو یا اس کو بدل دو۔ کہہ دو کہ مجھے اختیار نہیں ہے کہ اسے اپنی طرف سے بدل دوں۔ میں تو اسی حکم کا تابع ہوں جو میری طرف آتا ہے۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب سے خوف آتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And whenever Our clear revelations are recited to them, those who do not expect to meet Us say: 'Bring us a Qur'an other than this one, or at least make changes in it. Tell them (O Muhammad): 'It is not for me to change it of my accord. I only follow what is revealed to me. Were I to disobey my Lord, I fear the chastisement of an Awesome Day.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When Our verses are recited to them in all their clarity, say those who do not believe in meeting Us, :Bring a Qur‘an other than this, or make changes in it (to suit our fancies) . Say, :It is not possible for me to make changes in it on my own. I follow nothing but what is revealed to me. If I disobey my Lord, I fear the punishment of a terrible day.

— Muhammad Taqi Usmani

When Our verses are recited to them in all their clarity, say those who do not believe in meeting Us, :Bring a Qur‘an other than this, or make changes in it (to suit our fancies) . Say, :It is not possible for me to make changes in it on my own. I follow nothing but what is revealed to me. If I disobey my Lord, I fear the punishment of a terrible day.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when Our clear Ayat are recited unto them, those who hope not for their meeting with Us, say: "Bring us a Qur'an other than this, or change it." Say: "It is not for me to change it on my own accord; I only follow that which is revealed unto me. Verily, I fear the torment of the Great Day (the Day of Resurrection) if I were to disobey my Lord."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when Our clear revelations are recited unto them, they who look not for the meeting with Us say: Bring a Lecture other than this, or change it. Say (O Muhammad): It is not for me to change it of my accord. I only follow that which is inspired in me. Lo! if I disobey my Lord I fear the retribution of an awful Day.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when Our verses are recited to them as clear evidences, those who do not expect the meeting with Us say, "Bring us a Qur'an other than this or change it." Say, [O Muhammad], "It is not for me to change it on my own accord. I only follow what is revealed to me. Indeed I fear, if I should disobey my Lord, the punishment of a tremendous Day."

— Saheeh International

Whenever Our authoritative revelations are recited to those who do not wish to meet Us in the life hereafter, say, "Bring us another book besides this one or change it." (Muhammad), tell them, "I can not change it myself. I only follow what is revealed to me. I fear that for disobeying my Lord I shall be punished on the great (Day of Judgment).

— Muhammad Sarwar

And when Our clear communications are recited to them, those who hope not for Our meeting say: Bring a Quran other than this or change it. Say: It does not beseem me that I should change it of myself; I follow naught but what is revealed to me; surely I fear, if I disobey my Lord, the punishment of a mighty day.

— Muhammad Habib Shakir

And whenever Our manifest revelations are rehearsed unto them, those who hope not for the meeting with Us, say: bring us a Qur'an other than this, or change it. Say thou: it lieth not with me to change it of my own accord; I only follow that which is Revealed unto me; verily I fear, if I disobey my Lord, the torment of the Mighty Day.

— Abdul Majid Daryabadi

But when Our Clear Signs are rehearsed unto them, those who rest not their hope on their meeting with Us, Say: "Bring us a reading other than this, or change this," Say: "It is not for me, of my own accord, to change it: I follow naught but what is revealed unto me: if I were to disobey my Lord, I should myself fear the penalty of a Great Day (to come)."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–16

کفار کی بدترین حجتیں مکہ کے کفار کا بغض دیکھئے قرآن سن کر کہنے لگے، اسے تو بدل لا، بلکہ کوئی اور ہی لا۔ تو جواب دے کہ یہ میرے بس کی بات نہیں میں تو اللہ کا غلام ہوں اس کا رسول ہوں اس کا کہا کہتا ہوں۔ اگر میں ایسا کروں تو قیامت کے عذاب کا مجھے ڈر ہے۔ دیکھو اس بات کی دلیل یہ کیا کم ہے ؟ کہ میں ایک بےپڑھا لکھا شخص ہوں تم لوگ استاد کلام ہو لیکن پھر بھی اس کا معارضہ اور مقابلہ نہیں کرسکتے۔ میری صداقت و امانت کے تم خود قائل ہو۔ میری دشمنی کے باوجود تم آج تک مجھ پر انگلی ٹکا نہیں سکتے۔ اس سے پہلے میں تم میں اپنی عمر کا بڑا حصہ گزار چکا ہوں۔ کیا پھر بھی عقل سے کام نہیں لیتے ؟ شاہ روم ہرقل نے ابو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یُوْنُس 19 ان کا یہ قول اول تو اس مفروضے پر مبنی تھا کہ محمد ﷺ جو کچھ پیش کر رہے ہیں یہ خدا کی طرف سے نہیں ہے بلکہ ان کے اپنے دماغ کی تصنیف ہے، اور اس کو خدا کی طرف منسوب کر کے انہوں نے صرف اس لیے پیش کیا ہے کہ ان کی بات کا وزن بڑھ جائے۔ دوسرے ان کا مطلب یہ تھا کہ یہ تم نے توحید اور آخرت اور اخلاقی پابندیوں کی بحث کیا چھیڑ دی، اگر رہنمائی کے لیے اٹھے ہو تو کوئی ایسی چیز پیش کرو جس سے قوم کا بھلا ہو اور اس کی دنیا بنتی نظر آئے۔ تاہم اگر تم اپنی اس دعوت کو بالکل نہیں بدلنا چاہتے تو کم از کم اس میں اتنی لچک ہی پیدا کرو کہ ہمارے اور تمہارے درمیان کم و بیش پر مصالحت ہو سکے۔ کچھ ہم تمہاری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

پانچویں، چھٹی، ساتویں، آٹھویں چار آیتوں میں منکرین آخرت کے ایک غلط خیال اور بےجا فرمائش کی تردید ہے، ان لوگوں کو نہ خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل تھی اور نہ وحی و رسالت کے سلسلہ سے واقف تھے، انبیاء علہیم السلام کو بھی عام انسانوں کی طرح جانتے تھے قرآن کریم جو رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ دنیا کو پہنچا اس کے متعلق بھی ان کا یہ خیال تھا کہ یہ خود آپ کا کلام اور آپ کی تصنیف ہے، اسی خیال کی بناء پر آنحضرت ﷺ سے یہ مطالبہ کیا کہ قرآن تو ہمارے اعتقادات و نظریات کے خلاف ہے جن بتوں کی ہمارے باپ دادا ہمیشہ تعظیم کرتے آئے اور ان کو حاجت روا مانتے آئے ہیں قرآن ان سب کو باطل اور لغو قرار دیتا ہے، بہت سی چیزیں اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ لا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَذَا أَوْ بَدِّلْهُ قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِي إِنْ أَتَّبِعُ إِلا مَا يُوحَى إِلَيَّ إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ۔ یعنی توحید اور آخرت کی یہ باتیں، جو مذکور ہوئیں، نہایت واضح دلائل کے ساتھ ان کو سنائی جاتی ہیں تو یہ ان سے چڑتے ہیں اور کہتے ہی کہ یا تو اس قرآن کی جگہ کوئی اور قرآن لاؤ یا کم از کم اس میں ایسی ترمیم کرو کہ ہمارے لیے گوارا ہوسکے۔ گویا قرآن ان کے نزدیک خود آنحضرت ﷺ کی تصنیف ہے کہ آپ اس میں ان کے مطالبے کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

15۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ کی الوہیت و واحدیت پر دلالت کرتے ہیں۔ 15۔ 2 مطلب یہ ہے کہ یا تو اس قرآن مجید کی جگہ قرآن ہی دوسرا لائیں یا پھر اس میں ہماری حسب خواہش تبدیلی کردیں۔ 15۔ 3 یعنی مجھ سے دونوں باتیں ممکن نہیں میرے اختیار میں ہی نہیں۔ 15۔ 4 یہ اس کی مذید تاکید ہے۔ میں تو صرف اس بات کا پیرو ہوں جو اللہ کی طرف سے مجھ پر نازل ہوتی ہے۔ اس میں کسی کمی بیشی کا ارتکاب کروں گا تو یوم عظیم کے عذاب سے میں محفوظ نہیں رہ سکتا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–15

5: یہ دراصل کفار عرب کے ایک سوال کا جواب ہے، جب انہیں کفر کے نتیجے میں عذاب الٰہی سے ڈرایا جاتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ اگر یہ بات سچ ہے تو وہ عذاب ابھی کیوں نہیں آجاتا ؟ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ لوگ عذاب آنے کے لئے اس طرح جلدی مچا رہے ہیں جیسے وہ کوئی اچھی چیز ہو، لیکن اگر اللہ تعالیٰ ان کی خواہش کے مطابق ابھی عذاب نازل کردے تو ان کو سوچنے سمجھنے کی جو مہلت دی گئی ہے وہ ختم ہوجائے گی، اور پھر ان کا ایمان لانا معتبر بھی نہیں ہوگا، لہذا اللہ تعالیٰ ان کے اس مطالبے کو اپنی حکمت کی بناء پر پورا نہیں کر رہا ہے ؛ بلکہ فی الحال ان کو اپنے حال پر چھوڑدیا ہے، تاکہ جو لوگ سرکش ہیں وہ گمراہی میں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

واذا تتلی علیھم ایاتنا اور جب ان کے سامنے ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں۔ قتادہ کے قول پر مشرکین مکہ مراد ہیں۔ مقاتل نے کہا : پانچ آدمیوں کے حق میں اس آیت کا نزول ہو۔ مکرز بن حفص ‘ عمرو بن عبد اللہ بن ابو قیس عامری ‘ عاص بن عامر بن ہشام ‘ عبد اللہ بن ابی مخزومی ‘ ولید بن مغیرہ۔ بینٰت کھلی ہوئی یعنی جو واضح طور پر بتا رہی ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔ قال الذین لا یرجون لقاء نا کہتے ہیں : وہ لوگ جو ہماری پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یعنی حشر سے نہیں ڈرتے اور قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ ائت بقران غیر ھذا اس کے سوا کوئی دوسرا قرآن لاؤ۔ یعنی اس کے سوا کوئی دوسری کتاب لاؤ جس کو ہم پڑھیں اور اس کے اندر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 قرآن کی عام پندو نصیحت تو بہت سے پسند کرتے لیکن بت پرستی یا ان کے مخصوص عقائد و رسوم کا رد ہوتا تو وحشت کھاتے اور ناک بھوں چڑھا کر رسول اللہ ﷺ سے کہتے کہ اپنے خدا سے کہہ کر یا تو دوسرا قرآن لے آئیے جس میں یہ مضامین نہ ہوں اور اگر یہ ہی قرآن رہے تو اتنے حصہ میں ترمیم کر دیجئے جو بت پرستی وغیرہ سے متعلق ہے۔ جن لوگوں نے پتھر کی مورتیوں پر خدائی اختیارات تقسیم کر رکھے تھے، ان کی ذہنیت سے کچھ مستبعد نہیں کہ ایک پیغمبر کو اس طرح کے تصرفات و اختیارات کا مالک فرض کرلیں۔ یا یہ کہنا بھی محض الزام و استہزاء کے طور پر ہوگا۔ بہرحال اس کا تحقیقی جواب آگے مذکور ہے۔ 5 یعنی کسی فرشتہ یا پیغمبر کا یہ کام…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 15 وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍلا قالَ الَّذِیْنَ لاَ یَرْجُوْنَ لِقَآءَ نَا اءْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ ہٰذَآ اَوْ بَدِّلْہُ ط ”اور جب ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں ہماری روشن آیات تو کہتے ہیں وہ لوگ جو ہم سے ملاقات کے امیدوار نہیں ہیں کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے علاوہ آپ ﷺ کوئی اور قرآن پیش کریں یا اس میں کوئی ترمیم کریں۔“ یہاں وہی الفاظ پھر دہرائے جا رہے ہیں ‘ یعنی جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے وہ ہمارے کلام کو سنجیدگی سے سنتے ہی نہیں اور کبھی سن بھی لیتے ہیں تو استہزائیہ انداز میں جواب دیتے ہیں کہ یہ قرآن بہت سخت rigid ہے ‘ اس کے احکام ہمارے لیے قابل…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

22 کفار مکہ اپنے آپ کو ملت ابراہیمی کا پیروکار سمجھتے تھے وہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کے تو پوری طرح قائل تھے مگر الوہیت کی صفات میں اپنے مختلف دیوی دیوتاؤں کو بھی شریک کرلیا تھا اور عقیدہ آخرت کے تو سخت منکر تھے۔ انکار آخرت کا عقیدہ کس دور میں ان کے مذہب میں شامل ہوا تھا یہ معلوم نہیں ہوسکا۔ 23 کفار کی طرف سے قرآن میں تبدیلی کا مطالبہ :۔ گویا مشرکین قریش یہ سمجھتے تھے کہ یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل شدہ نہیں بلکہ محمد ﷺ کا ہی تصنیف کردہ ہے لہذا اپنے اس زعم باطل کو بنیاد بنا کر انہوں نے دو مطالبات پیش کردیئے ایک یہ کہ اس قرآن کے بجائے کوئی ایسا قرآن لاؤ جو ہمارے لیے بھی قابل قبول ہو اور دوسرا یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

28۔ (کہ ہمارے مسلک کے خلاف اس میں کوئی مضمون باقی نہ رہے) (آیت) ” ائت بقران غیر ھذا “۔ مخاطب ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ تھے۔ آپ ﷺ ہی کو جاہلیت عرب کے بڑے بڑے ” روشن خیال “۔ جاہلیت فرنگ کے ” روشن خیالوں “ کی طرح قرآن کا مصنف خیال کرتے تھے اور اس لیے قدرۃ فرمایش بھی آپ ﷺ ہی سے کرتے تھے کہ یا تو اپنی کوئی دوسری تصنیف سنائیے یا کم از کم اسی تصنیف میں ہمارے نقطہ نظر سے مناسب کانٹ چھانٹ کردیجیے۔ 29۔ یہ ایک بار پھر اس حقیقت کا تصریحی اعادہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ صرف حامل شریعت ہیں، بانی شریعت نہیں۔ احکام الہی کا اتباع آپ ﷺ پر بھی اسی درجہ میں ضروری تھا جتنا کسی اور فرد بشر پر۔ (آیت) ” قل ما یکون لی ان ابدلہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–20

آیت نمبر 11 تا 20 ترجمہ : اور (آئندہ) آیت اس وقت نازل ہوئی جبکہ مشرکین نے عذاب کے جلد آنیکا مطالبہ کیا، اور اگر اللہ لوگوں کیلئے شر کے معاملہ میں جلدی کرتا جیسا کہ یہ خیر کے معاملہ میں جلدی کرتے ہیں تو ان کا وعدہ پورا کردیا گیا ہوتا قُضِیَ مجھول اور معروف دونوں طرح پڑھا گیا ہے، (اَجَلُھُمْ ) رفع اور نصب کے ساتھ ہے بایں صورت کہ ان کو ہلاک کردیا گیا ہوتا، لیکن وہ ان کی مہلت دیتا ہے سو ہم ان کو جن کو ہمارے پاس آنے کی توقع نہیں ہے ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے رہتے ہیں، (یعنی) تردد کے ساتھ حیران رہتے ہیں، اور جب کافر انسان کو مرض اور فقر وغیرہ کی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارنے لگتا ہے، لیٹے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا تتلی علیھم ایاتنا اور جب ان کے سامنے ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں۔ قتادہ کے قول پر مشرکین مکہ مراد ہیں۔ مقاتل نے کہا : پانچ آدمیوں کے حق میں اس آیت کا نزول ہو۔ مکرز بن حفص ‘ عمرو بن عبد اللہ بن ابو قیس عامری ‘ عاص بن عامر بن ہشام ‘ عبد اللہ بن ابی مخزومی ‘ ولید بن مغیرہ۔ بینٰت کھلی ہوئی یعنی جو واضح طور پر بتارہی ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔ قال الذین لا یرجون لقاء نا کہتے ہیں : وہ لوگ جو ہماری پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یعنی حشر سے نہیں ڈرتے اور قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ ائت بقران غیر ھذا اس کے سوا کوئی دوسرا قرآن لاؤ۔ یعنی اس کے سوا کوئی دوسری کتاب لاؤ جس کو ہم پڑھیں اور اس کے اندر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(15) اور جب ان ٹھٹھہ کرنے والوں یعنی ولید بن مغیرہ اور اس کی جماعت کے سامنے ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں جو بالکل واضح طور پر اوامرو نواہی کو بیان کرنے والی ہیں۔ تو یہ لوگ جن کو مرنے کے بعد کا خوف ہی نہیں اور وہ اسکا مذاق اڑاتے ہیں تو یوں کہتے ہیں کہ محمد ﷺ یا تو اس کے سوا کوئی پورا دوسرا قرآن ہی لے آؤ یا کم سے کم اسی میں کچھ ترمیم کردو، یعنی آیت رحمت کو آیت عذاب اور آیت عذاب کو آیت رحمت سے بدل دیں، اے محمد ﷺ آپ ان سے یوں فرما دیجیے کہ مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ میں اپنے پاس سے اس میں کچھ ترمیم کروں، میں تو وہی کہوں گا اور اسی پر عمل کروں گا جو قرآن حکیم بذریعہ وحی میرے پاس پہنچتا ہے اگر میں اس میں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيَاتُنَا بَيِّنٰتٍ۔۔ : اس سے پچھلی آیات میں مشرکین کو مخاطب کیا تھا، یہاں ان کا ذکر غائب کے صیغے سے کیا ہے، اسے التفات کہتے ہیں اور یہاں اس سے مقصود مشرکین کی تحقیر اور ان پر ناراضگی کا اظہار ہے کہ یہ بےعقل لوگ خطاب کے قابل ہی نہیں ہیں۔ مشرکین کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور شرک کی تردید کا ذکر اور آخرت پر یقین کی بات سننا کسی طرح گوارا نہ تھا۔ وہ آیات الٰہی سن کر مطالبہ کرتے کہ اس قرآن کی جگہ کوئی اور قرآن لائیں، جس میں ہمارے لیے یہ تکلیف دہ باتیں نہ ہوں، بلکہ کچھ ہماری پسندیدہ باتیں بھی ہوں، اللہ کے سوا بھی کسی داتا، دستگیر، مشکل کشا، بگڑی بنانے والے کے اختیارات…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 15۔ اس آیت میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر : (1) قولہ تعالیٰ : (آیت) ” واذا تتلی علیھم ایاتنا “۔ تتلی یعنی تقرء (اور جب ان پر پڑھی جاتی ہیں ہماری آیات) اور بینات حال ہونے کی بنا پر منصوب ہے یعنی واضح اور بین آیتیں جن میں نہ کوئی التباس ہے اور نہ کوئی اشکال۔ (آیت) ” قال الذین لا یرجون لقآء نا “۔ یعنی جو نہ یوم بعث اور حساب سے ڈرتے ہیں اور نہ ثواب کی امید رکھتے ہیں (نہ کہنے لگتے ہیں) حضرت قتادہ (رح) نے کہا ہے : مراد مکہ کے رہنے والے مشرک ہیں (1) (معالم التنزیل، سورة یونس، جلد 3، صفحہ 144) (آیت) ” ائت بقران غیر ھذا او بدلہ “۔ اس میں تبدیلی کرنے اور اس کے علاوہ دوسرا (قرآن) لانے میں فرق…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

قرآن کریم میں تبدیلی ممکن نہیں : 1: ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” واذا تتلی علیہم ایاتنا بینت “ کے بارے میں فرمایا کہ جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے ہیں (وہ کہتے ہیں) کہ اس کے علاوہ کوئی اور قرآن لے آؤ یا اس کو بدل دو (اور فرمایا) کہ ( یہ بات) مکہ والوں کے مشرک لوگوں نے نبی کریم ﷺ کو کہا تو ( اس کے جو اب میں) اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ سے فرمایا (آیت) قل لو شآء اللہ ما تلوتہ علیکم “ (یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہتے تو میں تم پر قرآن کی تلاوت نہ کرتا )

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاِذَا [ اور جب بھی ] تُتْلٰى عَلَيْهِمْ [ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں انھیں ] اٰيَاتُنَا [ ہماری آیتیں ] بَيِّنٰتٍ ۙ [ واضح ہوتے ہوئے ] قَالَ [ تو کہتے ہیں ] الَّذِيْنَ [ وہ لوگ جو ] لَا يَرْجُوْنَ [ امید نہیں رکھتے ] لِقَاۗءَنَا [ ہماری ملاقات کی ] ائْتِ [ آپ لائیں ] بِقُرْاٰنٍ [ کوئی قرآن ] غَيْرِ ھٰذَآ [ اس کے علاوہ ] اَوْ [ یا ] بَدِّلْهُ ۭ [ آپ تبدیل کریں اس کو ] قُلْ [ آپ کہہ دیجیے ] مَا يَكُوْنُ لِيْٓ [ نہیں ہوگا (ممکن ) میرے لیے ] اَنْ [ کہ ] اُبَدِّلَهٗ [ میں تبدیل کروں اس کو ] مِنْ تِلْقَاۗئِ نَفْسِيْ ۚ [ اپنے نفس کی طرف سے ] اِنْ اَتَّبِعُ [ میں پیروی نہیں کرتا ] اِلَّا [ مگر ] مَا […

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

منکرین کی اس بات کا جواب کہ دوسرا قرآن لے آئیے یا اس کو بدل دیجئے معالم التنزیل (ص 347 ج 2) میں حضرت قتادہ سے نقل کیا ہے کہ وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ سے مشرکین مکہ مراد ہیں اور یہ بھی نقل کیا ہے کہ اہل مکہ میں سے پانچ آدمیوں نے آنحضرت سرور عالم ﷺ سے یوں کہا تھا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں تو آپ اس قرآن کے علاوہ دوسرا قرآن لے آئیں جس میں لات اور عزیٰ اور منات کی عبادت چھوڑنے کا حکم نہ ہو اور ان بتوں کا برائی کے ساتھ ذکر بھی نہ ہو ‘ اگر اللہ تعالیٰ نے ایسی آیات نازل نہیں کی ہیں تو آپ اپنے پاس سے بنا دیں یا اس قرآن کو بدل ہی دیں۔ آیت عذاب کی جگہ آیت رحمت لکھ دیں اس پر یہ آیت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 15–17

کفار عرب کی ایک ہر زہ سرائی کا جواب باصواب قال اللہ تعالیٰ واذا تتلی علیھم ایاتنا بینات۔۔ الی۔۔ لایفلح المجرمن۔ (ربط) اس آیت میں منکرین نبوت کے ایک تیسرے شبہ کو ذکر کر کے اس کا جواب دیتے ہیں وہ یہ کہ آپ جب کافروں کو آیات ِ قرآنی پڑھ کر سناتے تو اس کا اعجاز ان کے دل پر اثر کرتا اور اس کی پند ونصیحت کو پسند کرتے۔ لیکن جب شرک اور ان کی بت پرستی اور ان کی جاہلانہ رسمون کی مذمت کا ذکر آتا تو ناک منہ چڑھا کر رسول خدا سے درخواست کرتے کہ ان کو قرآن سے نکال دیجئے اور اس کے بدلے میں دوسرے مضامین بنا دیجئے جن میں بت پرستی کی مذمت اور شرک کی برائیں نہ ہوں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے تعنت اور عناد کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

26: ضمیر کی جگہ موصول کو رکھ کر ان کے قول کی علت بیان کرنا مقصود ہے۔ نیز اس طرف اشارہ ہے کہ انہوں نے اتنی بری بات اس لیے کہی کہ ان کے دلوں میں قیامت کے عذاب کا کوئی کھٹکا نہیں۔ “ وضع الموصول موضع الضمیر اشعارًا بعالیه فی حیز الصلة للعظیمة المحکیة عنھم وانھم انما اجترء وا علیھا لعدم خوفھم من عقابه تعالیٰ یوم اللقاء ” (ابو السعود ج 4 ص 799) ۔ 27: یہ جواب شکویٰ ہے۔ کوئی دوسرا قرآن لانے یا اسی قرآن میں ترمیم کرنے کا مجھ سے مطالطہ تو اس طرح کرتے ہیں کہ قرآن نازل کرنا میرے اختیار میں ہے یا میں اپنی مرضی سے قرآن لاسکتا ہوں حالانکہ مجھے ان باتوں کا اختیار نہیں میں تو صرف انہی احکام کی پیروی کرتا ہوں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–17

ربط آیات۔ سورۃ یونس مکی دور کے آخر میں نازل ہوئی اس کا مرکزی مضمون قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت ہے۔ سورة کی ابتدائی آیت میں ہی اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حقانیت کا ذکر فرما دیا تھا۔ اس کے بعد دو مسئلے بیان ہوئے۔ ایک توحید کے عقلی دلائل کا اور دوسرا قیامت اور جزائے عمل کا اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی حقانیت بیان کی ہے اور اس کے ساتھ رسالت کی صداقت کو بھی عقلی دلیل سے ثابت کیا ہے۔ آیات بینات۔ چنانچہ قریش مکہ کے ساتھ مکالمے کا ذکر ہور ہا ہے (آیت) ” واذا تتلی علیھم ایتنا بینت “ جب ان پر ہماری واضح واضح آئیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔ یہ اس کتاب کی آیات کا ذکر ہے جس میں تمام بنیادی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا تُتْلٰى عَلَيْہِمْ اٰيَاتُنَا بَيِّنٰتٍ۝ 0 ۙ قَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَيْرِ ھٰذَآ اَوْ بَدِّلْہُ۝ 0 ۭ قُلْ مَا يَكُوْنُ لِيْٓ اَنْ اُبَدِّلَہٗ مِنْ تِلْقَاۗيِ نَفْسِيْ۝ 0 ۚ اِنْ اَتَّبِـــعُ اِلَّا مَا يُوْحٰٓى اِلَيَّ۝ 0 ۚ اِنِّىْٓ اَخَافُ اِنْ عَصَيْتُ رَبِّيْ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيْمٍ۝ 15 تلاوة تختص باتباع کتب اللہ المنزلة، تارة بالقراءة، وتارة بالارتسام لما فيها من أمر ونهي، وترغیب وترهيب . أو ما يتوهم فيه ذلك، وهو أخصّ من القراءة، فکل تلاوة قراءة، ولیس کل قراءة تلاوة، لا يقال : تلوت رقعتک، وإنما يقال في القرآن في شيء إذا قرأته وجب عليك اتباعه .…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 10–17

2 ؎ ہر قسم کی خوبیاں اللہ ہی کو سزا وار ہیں۔ جو تمام جہان کا پروردگار ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ لا قَالَ الَّذِیْنَ لاَیَرْجُوْنَ لِقَآئَ نَا ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِھٰذَآ اَوْبَدِّلْہُ ط قُلْ مَایَکُوْنُ لِیْ ٓ اَنْ اُبَدِّلَہٗ مِنْ تِلْقَآیِٔ نَفْسِیْ ج اِنْ اَتَّبِعُ اِلاَّ مَایُوْحٰیٓ اِلَیَّ ج اِنِّیْ ٓ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ۔ (یونس : 15) ( جب ہماری کھلی ہوئی آیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے، کہتے ہیں کہ اس قرآن کے سوا کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ردوبدل کرو۔ اے پیغمبر کہہ دیجیے مجھے یہ اختیار نہیں ہے کہ میں اس میں اپنی طرف سے کچھ ترمیم کردوں۔ میں تو صرف اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–18

فہم القرآن ربط کلام : مجر موں اور ہلاک ہونے والوں کا یہ بھی جرم تھا کہ وہ کتاب الٰہی کا انکار کرتے اور آخرت کے منکر تھے۔ پہلے ہلاک ہونے والوں کی طرح اہل مکہ کا کردار بھی یہی تھا کہ وہ قیامت کے دن کی جواب دہی کا تصور بھول چکے تھے۔ جس بنا پر اس قدر بےخوف اور دلیر ہوئے کہ جب بھی ان کے سامنے ٹھوس اور واضح آیات نازل ہوتیں یا نبی معظم ﷺ ان کے سامنے کوئی معجزہ پیش کرتے تو وہ سر تسلیم خم کرنے کی بجائے گردن اکڑا کر یہ کہتے کہ ہم اسے ہرگز نہیں مانیں گے۔ اگر ہمیں منوانا چاہتے ہو تو۔ اس قرآن کی جگہ کوئی دوسری کتاب لے آؤ اگر یہ ممکن نہیں تو کم از کم اس میں اتنی تبدیلی ضرور کرو۔ جس میں ہمارے اور تمہارے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اور قرآن کا مطالبہ اور اس کا جواب : 15: وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ (اور جب ان کو ہماری واضح آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں) بینات ٍ ، حال ہے۔ قَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآ ئَ نَا (وہ لوگ کہتے ہیں جن کو ہماری ملاقات کی امید نہیں) جب کہ ان کو قرآن میں بتوں کی عبادت کی مذمت اور سرکش لوگوں کے متعلق وعید پر غصہ آتا ہے۔ ائْتِ بِقُرْاٰنٍ غَیْرِ ھٰذَا ( تو اس قرآن کے سواء اور قرآن لے آ) اس میں وہ چیزیں نہ ہوں جو ہمیں غصہ دلائیں۔ تو ہم آپ کی اتباع کرلیں گے۔ اَوْبَدِّلْہُ ( یا اسی کو بدل دے) اس طرح کہ آیت عذاب کی جگہ رحمت کی آیات اور ہمارے معبودوں کا تذکرہ اور ان کی عبادت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

مشرکین مکہ کی بےجامن مانیاں تفسیر :(15) واذ تتلی علیھم آیاتنا بینات “ قتادہ (رح) فرماتے ہیں یعنی مکہ کے مشرکین اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ یہ پانچ افراد تھے۔ عبد اللہ بن امیہ مخزومی ، ولید بن مغیرہ ، مکرز بن حفص ، عمرو بن عبید اللہ بن ابی قیس عامری اور عاص بن عامر بن ہشام ۔ ” قال الذین لایرجون لقاء نا “ یہ وہی لوگ جن کا ابھی تذکرہ ہوا ۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو کہا کہ اگر آپ (علیہ السلام) چاہتے ہیں کہ ہم آپ (علیہ السلام) پر ایمان لائیں تو ” ائت بقرآن غیر ھذا “ کہ جس میں لات ، عزی اور مناۃ کی عبادت چھوڑنے اور ان کے عیوب کا ذکر نہ ہو اور اگر اللہ تعالیٰ ایسا قرآن نہ اتاریں تو آپ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–16

15۔ 16۔ مفسرین سلف مثل قتادہ اور مقاتل بن حیان نے جو شان نزول ان آیتوں کی بیان کی ہے حاصل اس کا یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ مشرکین مکہ کو قرآن شریف کی وہ آیتیں سناتے جن میں ان کے بتوں اور بت پرستی کی مذمت ہوتی تو ولید بن مغیرہ، ابن امیہ اور سرکش مشرک کہتے تھے کہ اگر تم کو ہمیں اس قرآن کو تسلیم کرانا منظور ہے تو اس میں سے اس طرح کی آیتیں جن میں ہمارے بتوں کی مذمت ہے بدل ڈالو۔ امام فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر میں لکھا ہے کہ اس مقولہ سے ان مشرکین کی دو غرضیں خیال میں آتی ہیں یا تو مسخرے پن سے وہ ایسی بات کہتے تھے یا ان کا امتحان مقصود تھا کہ اگر خود آنحضرت ﷺ کا بنایا ہوا یہ قرآن ہوگا تو وہ ہماری خاطر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 15–17

آیت : (15-17) اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کی تکذٰب کرنے والے کفار کی ڈھٹائی اور تعصب کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب ان کے سامنے آیات قرآنی کی تلاوتی کی جاتی ہے جو حق کو بیان کرتی ہیں تو یہ ان سے منہ پھیر لیتے ہیں اور جب ان سے اس ڈھٹائی اور تعصب کی وجہ پوچھی جاتی ہے تو وہ ظلم اور جسارت کا ارتکاب کرتے ہوئے کہتے ہیں : (ائت بقران غیر ھذا اوبدلہ) ” اس قرآن کے علاوہ کوئی اور لا ‘ یا اس کو بدل دے۔ “ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کا برا کرے ! وہ اللہ تعالیٰ کی شان میں کتنی بڑی گستاخی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو ٹھکرا کر کتنا سخت ظلم کرتے ہیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے عظیم رسول…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 15–58

سورة یونس قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 15–16

28 ۔ قرآن حکیم ایک عظیم الشان اور بےمثال معجزہ : سو پیغمبر کو ہدایت فرمائی کہ آپ ان سے کہو کہ اگر اللہ چاہتا تو میں تم لوگوں کو یہ قرآن کبھی پڑھ کر نہ سناتا اور نہ ہی اللہ تم کو اس کی خبر کرتا۔ کیونکہ میں تو جیسا کہ تم خودجانتے ہو ایک امی محض ہوں، جس نے نہ کبھی کسی کے آگے زانوئے تلمذطے کئے ہیں اور نہ کسی سے کوئی حرف تک کبھی سیکھا پڑھا ہے۔ پھر بھی ایسی عظیم الشان اور بےمثال کتاب جو تمہارے سامنے پیش کررہا ہوں جس کی نظیرومثال لانے سے ساری دنیا عاجزو بےبس ہے جو کہ ایک کھلا ثبوت اور واضح دلیل ہے میری صداقت و حقانیت کی۔ تو اگر اللہ کی مشیت ومنظوری نہ ہوتی تو یہ کیسے اور کیونکرممکن ہوسکتا تھا ؟ سو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 13–17

ظالموں کی تباہی، قرآن کی عظمت اور کھلا ثبوت تشریح : ان آیات کا پچھلی آیات سے ربط ہے۔ ان میں بھی مکہ کے لوگوں کو ہی مخاطب کر کے قرآن پاک میں اللہ کے بتائے ہوئے فوائد، قانون اور اصول بتائے جا رہے ہیں۔ یہاں وضاحت کردی گئی ہے کہ یہ قانون قدرت ہے کہ جب ایک قوم اپنی اچھائیوں سے دور اور اللہ کی رحمتوں سے غلط فائدے اٹھا کر برائی، بدکاری، عیش و آرام اور فسق و فجور کے راستوں پر چلنے لگتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی جگہ کسی دوسری قوم کو لے آتے ہیں جو اس بگاڑ کو سنوار میں بدل سکے تاکہ انسانیت امن و سکون سے پنپ سکے جب ہم تاریخ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس میں بیشمار مثالیں مل سکتی ہیں ماضی قریب میں ہندوستان، سپین…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–20

آیات 11 تا 20 اسرار و معارف انسان بھی بہت عجیب سوچ رکھتا ہے بھلایہ بھی کوئی معیار ہے کہ کفار کہہ دیں جب ہم دین قبول نہیں کر رہے تو ہم پر فورا عذاب کیوں نہیں آجاتا۔ اگر اس طرح سے بات بات پر گرفت ہوتی تو انسان ختم ہوچکے ہوتے اور دوسرا اثر اس کا یہ ہوتا کہ انسانی پسنددناپسند کا موقع کون ساباقی رہتا ظاہر ہے یا فورا ایمان لے آتے یا ہلاک ہوجاتے اور اللہ تو قادر ہے جس طرح مانگے بےمانگے بےحساب نعمتیں عطافرمارہا ہے۔ زندگی طاقت دولت اقتدار ہر شے دے رہا ہے چاہے تو آن واحد میں چھین بھی سکتا ہے لیکن اگر ایسا ہونے لگے تو انسان کے لئے اختیار آزمانے کا موقع نہ رہے گا لہٰذا انسان کو پہلے سے طے شدہ وقت تک فرصت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3۔ اس آیت میں نبوت پر ان کے تیسرے شہ بےکا جواب ہے (کبیر) مطلب یہ ہے کہ مشرکین آنحضرت ﷺ پر تہمت لگاتے کہ یہ قرآن اپنے پاس سے بنا کرلے آتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے تجربہ اور امتحان کے لئے یا استھزا کے طور پر آنحضرت ﷺ سے مطالبہ کیا کہ اس قرآن کے علاوہ ایک دوسرا قرآن بھی بنا لائو جس میں ہمارے بتوں کی مذمت نہ ہو اور یا اسی میں کچھ ردوبدل کردو اور ہمارے عقائد و رسوم کے رد اور بتوں کی مذمت پر جو آیات مشتمل میں ان کو نکال دو ۔ اللہ تعالیٰ نے اسی کا جواب دیا ہے کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ ﷺ انہیں بتادیں کہ وحی الٰہی کے تابع ہوں اور اپنے پاس سے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کرسکتا۔ (رازی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(10:15) ائت۔ اتی یاتی (ضرب) اتیان مصدر۔ بمعنی آنا۔ جب اس کے صلہ میں باء آتی ہے تو یہ متعدی بمعنی لانا ہوجاتا ہے۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ اتی ب ۔۔ لانا۔ اور اتی ۔۔ ہ کسی کو کوئی چیز پیش کرنا۔ (10:15) من تلقاء نفسی۔ تلقاء ی۔ میری طرف سے۔ اپنی طرف سے۔ تلقائ۔ طرف ۔ لقائ۔ سے جس کے معنی ملاقات کرنے کے ہیں۔ ملاقات کرنے اور آمنے سامنے ہونے کی جگہ کو تلقاء کہتے ہیں اسی اعتبار سے طرف اور جہت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ لقاء کا اسم ہے۔ جلس تلقاء وہ اس کے مقابل بیٹھا۔ فعل الامر من تلقاء نفسہ۔ اس نے اس کام کو خود کیا بغیر اس کے کہ کسی نے اس کو مجبور کیا ہو۔ ان اتبع۔ میں ان نافیہ ہے۔ یوم عظیم۔ بڑا سخت…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 15–17

لغات القرآن آیت نمبر 15 تا 17 تتلی (تلاوت کی گئی، پڑھی گئی) ات (لے آ) غیر ھذا (اس کے سوا) بدل (بدل دے، تبدیل کر دے) تلقائی نفسی (اپنی طرف سے، اپنی خواہش سے) یوحی (وحی کی گئی ہے) عصیت (میں نے نافرمانی کی) تلوث (میں نے پڑھا (تلاوۃ) ، پڑھنا (ماضی کا صیغہ ہے) ادری (جتایا، ماضی کا صیغہ اذراء سے، درایۃ کے معنی سمجھ لیتا) لبثت (میں نے گزاری ہے، میں رہا ہوں) عمر (عمر تک) افتری (جس نے گھڑا) لایفلع (وہ فلاح نہیں پاتا، وہ کامیاب نہیں ہوتا) تشریح : آیت نمبر 15 تا 17 قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی وہ آخری کتاب ہدایت ہے جو اس نے اپنے محبوب بندے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل فرمائی جس کی اتباع اس کو پڑھ کر سنانے اس…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–16

مشرکین مکہ کی شرارتیں یعنی حضور سے درخواست کرتے کہ قرآن کی آیتیں بدل دیں شان نزول : جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ جب آنحضرت ﷺ مشرکین مکہ کو قرآن کی وہ آیتیں سناتے جن میں ان کے بتوں اور بت پرستی کی مذمت ہوتی تو ولید بن مغیرہ ابن امیہ اور سرکش مشرک کہتے تھے کہ اگر تم کو ہمیں اس قرآن کو تسلیم کرانا منظور ہے تو اس میں سے اس طرح کی آیتیں جن میں ہمارے بتوں کی مذمت ہے بدل ڈالو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کے دلی مقصود کو جان کر یہ جواب نازل فرمایا کہ : ” ان منکر قرآن لوگوں سے کہہ دو کہ تمہاری عقلوں میں اتنی بات سمجھنے کی کیا قدرت نہیں ہے کہ قرآن شریف کے نازل ہونے سے چالیس برس پیشتر میں تمہی لوگوں میں رہتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[10] یعنی یا تو ہماری مرضی کے مطابق دوسرا قرآن لاؤ یا اس قرآن میں اس طرح ردوبدل کردو کہ ہمارے عقائد کے خلاف اس میں مضمون باقی نہ رہے تو ہم تمہاری بات ماننے کو تیار ہیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 1) مکہ والوں کی سب سے بڑی بدبختی یہ تھی کہ آکر وقت تک انہوں نے حضور ﷺ کے منصب کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی ، ان کا یہ مطالبہ کہ قرآن میں حسب دل خواہ تبدیلیاں کر دو ، اس دعوی پر دلیل ہے ، بھلا کیا انبیاء (علیہم السلام) اپنی مرضی سے تعلیمات الہیہ میں اصلاح و ترمیم کرسکتے ہیں ۔ انبیاء (علیہم السلام) کے تو معنے ہی یہ ہیں ، کہ وہ ارادہ الہی کے ترجمان ہیں اپنی جانب سے وہ کچھ نہیں کہتے ، انکی ہر بات منشاء الہی کے مطابق ہوتی ہے ، انبیاء (علیہم السلام) کا نفس بشری اپنی تمام خواہشوں اور اقتضاء کو نفس نبوت کے تابع کرلیتا ہے ، اس لئے اپنی جانب سے تبدیلی اور اصلاح کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اگر نبی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

15 اور جب ان لوگوں پر ہماری آیات پڑھی جاتی ہیں اور ہمارے دلائل ان کو پڑھ کر سنائے جاتے ہیں توہ وہ لوگ جن کو ہمارے روبرو حاضر ہونے کا کوئی کھٹکا اور ڈر نہیں ہے اے پیغمبر ﷺ ! آپ سے یوں کہتے ہیں یا تو اس پورے قرآن کریم کے علاوہ کوئی دوسرا قرآن کریم ہی لے آیا اس میں کچھ ترمیم ہی کردے اور اس کو کچھ بدل ہی دے۔ آپ ﷺ ! کہہ دیجئے مجھ کو یہ حق نہیں ہے کہ میں اپنی جانب سے اس قرآن کریم میں کوئی ردوبدل کرسکوں میں تو صرف اسی حکم کی پیروی اور اتباع کرتا ہوں جو میری جانب وحی کیا جاتا ہے اگر خدانخواستہ میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو میں ایک بڑے سخت دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ یعنی مطالبہ یہ تھا کہ ہمارے معبودوں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 13–16

ف 1۔ پس جب میں تم کو سنا رہا ہوں اور میرے ذریعے سے تم کو اطلاع ہورہی ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کو اس کلام معجز کا سنورنا اور اطلاع کرنا منظور ہوا اور سنانا اور اطلاع دینا بدون وحی کے بوجہ اس کے معجز ہونے کے ممکن نہیں اس سے معلوم ہوتا ہے وہ وحی منزل اور کلام الٰہی ہے۔ 2۔ یعنی اگر یہ میرا کلام ہے تو یا تو اتنی مدت تک ایک جملہ بھی اس طرح کانہ نکلا اور یا دفعتا اتنی بڑی بات بنالی یہ تو بالکل عق کے خلاف ہے۔ فائدہ۔ اعجاز کے اثبات میں فقد لبثت فیکم سے استدلال علی سبیل التنزل ہے یعنی استدلال یہ ہے فاتوا بسورة من مثلہ اور اس میں کوئی بعید احتمال نکالنا کہ شاید عام اس پر قادر نہ ہوں آپ قادر ہوں اس…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کفار کا مطالبہ کہ ہم آپ کو پیغمبر مان لینے کو تیار ہیں اگر تم اس قرآن کو بدل دو 24 ؎ کفار مکہ یعنی مشرکین کی طرف سے مطالبہ یہ ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ہم آپ کی صداقت و فضلیت سے انکار نہیں کرسکتے اور آپ کی بات سننے کو بھی تیار ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ تم کچھ ایسی باتیں کہتے ہو جو ہمارے ہی نہیں بلکہ ہمارے آبائو و اجداد کے بھی مخالف ہیں جنہیں ہم کبھی قبول نہیں کرسکتے اور ان کو تسلیم کریں بھی کیونکر جب کہ وہ سارے معاشرے ہی کیخلاف ہوں ، کیا سارے جہان میں ایک تو ہی ایسا انسان ہے کہ اس کی سمجھ میں اس طرح کی باتیں آئی ہیں اور باقی سارے لوگ ہی غلط ہیں ؟ نہیں ! ایسا نہیں ہو سکتا ۔ ہاں ! تم اس قرآن کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In the last three verses (15-17), there is the refutation of a false notion entertained by the deniers of Akhirah and also the rejection of an inappropriate request made by them. They were a people who did not know much about God or Revelation or Prophets sent by Him. They took them to be like common human beings having nothing special about them. Think of the Holy Qur'an, which reached the world through the Prophet of Islam. Even this, they thought, was spoken and written by him. It was under this frame of mind that they told the Holy Prophet ﷺ ` as for this Qur'an, it is against our beliefs…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

19. This statement of the unbelievers was based, first of all, on the misconception that the Qur'an, which the Prophet (peace he on him) presented in them as the 'Word of God'. was in fact a product of his own mind which he had ascribed to God merely to invest it with authority. Moreover, they wanted to impress upon the Prophet (peace he on him) that the contents of his message were of little practical, worldly use. The emphasis on the unity of God, on the Life to Come and on the moral principles which people were asked to follow -all these were of no practical consequence to them. They…

Read the full tafseer →