Yunus 10:14

Yunus · from ayah 14

10:14

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰٓىِٕفَ فِی الْاَرْضِ مِنْ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ ۟ثُمَّ جَعَلۡنٰكُمۡ خَلٰٓئِفَ فِى الۡاَرۡضِ مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ لِنَـنۡظُرَ كَيۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ

پھر ہم نے ان کے بعد تم لوگوں کو ملک میں خلیفہ بنایا تاکہ دیکھیں تم کیسے کام کرتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then We made you successors in the land after them so that We may observe how you will do.

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 2 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:14

اب ان کے بعد ہم نے تم کو زمین میں ان کی جگہ دی ہے تاکہ دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر ہم نے ان کے بعد تم لوگوں کو ملک میں خلیفہ بنایا تاکہ دیکھیں تم کیسے کام کرتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر ان کے بعد ہم نے دنیا میں بجائے ان کے تم کو جانشین کیا تاکہ ہم دیکھ لیں کہ تم کس طرح کام کرتے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر ہم نے ان کے بعد زمین میں تم کو جانشین بنایا ہے تاکہ یہ دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر ہم نے ان کے بعد تمہیں زمین میں جانشین کیا کہ دیکھیں تم کیسے کام کرتے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر ہم نے ان کے بعد تمہیں زمین میں (ان کا) جانشین بنایا تاکہ ہم دیکھیں کہ (اب) تم کیسے عمل کرتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر ان کے بعد ہم نے تمہیں زمین میں جانشین بنادیا، تاکہ ہم دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر ان کے بعد ہم نے تمہیں زمین میں ان کا جانشین بنایا تاکہ دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر ہم نے ان کے بعد تم کو ملک میں ان کا جانشین بنایا کہ دیکھیں تم کیسا عمل کرتے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر ہم نے تم کو (ان کا) جانشین بنایا اس زمین میں ان (کی ہلاکت) کے بعد، تاکہ ہم دیکھیں کہ تم لوگ کیسا عمل کرتے ہو،

— مولانا اسحاق مدنی

پھر ہم نے ان کے بعد تمہیں زمین پر نائب کیا تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر ان کے بعد ہم نے تمہیں زمین میں جانشین بنا دیا تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیا کرتے ہو !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر ہم نے ان کے بعد تم لوگوں کو زمین میں خلیفہ بنایا تاکہ دیکھیں تم کیسے کام کرتے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Now We have appointed you as their successors in the earth to see how you act.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then We made you (their) successors in the land, so that We see how you would act.

— Muhammad Taqi Usmani

Then We made you (their) successors in the land, so that We see how you would act.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then We made you successors after them, generations after generations in the land, that We might see how you would work.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then We appointed you viceroys in the earth after them, that We might see how ye behave.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then We made you successors in the land after them so that We may observe how you will do.

— Saheeh International

We have made you their successors in the land so that We could see how you behaved.

— Muhammad Sarwar

Then We made you successors in the land after them so that We may see how you act.

— Muhammad Habib Shakir

Then We appointed you as successors in the land after them, that We might see how ye would work.

— Abdul Majid Daryabadi

Then We made you heirs in the land after them, to see how ye would behave!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:14

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–14

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ سابقہ اقوام پر تکذیب رسول کی وجہ سے عذاب آئے تہس نہس ہوگئے۔ اب تم ان کے قائم مقام ہو اور تمہارے پاس بھی افضل الرسل آچکے ہیں۔ اللہ دیکھ رہا ہے کہ تمہارے اعمال کی کیا کیفیت رہتی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دنیا میٹھی، مزے کی، سبز رنگ والی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں خلیفہ بنا کر دیکھ رہا ہے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو ؟ دنیا سے ہوشیار رہو۔ اور عورتوں سے ہوشیار رہو۔ بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں کا ہی آیا تھا۔ (مسلم) حضرت عوف بن مالک نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا آسمان سے ایک رسی لٹکائی گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے تو اسے مکمل تھام لیا،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یُوْنُس 18 خیال رہے کہ خطاب اہل عرب سے ہو رہا ہے۔ اور ان سے کہا یہ جا رہا ہے کہ پچھلی قوموں کو اپنے اپنے زمانے میں کام کرنے کا موقع دیا گیا تھا، مگر انہوں نے آخرکار ظلم و بغاوت کی روش اختیار کی اور جو انبیاء (علیہم السلام) ان کو راہ راست دکھانے کے لیے بھیجے گئے تھے ان کی بات انہوں نے نہ مانی۔ اس لیے وہ ہمارے امتحان میں ناکام ہوئیں اور میدان سے ہٹا دی گئیں۔ اب اے اہل عرب تمہاری باری آئی ہے۔ تمہیں ان کی جگہ کام کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔ تم اس امتحان گاہ میں کھڑے ہو جس سے تمہارے پیش رو ناکام ہو کر نکالے جا چکے ہیں۔ اگر تم نہیں چاہتے کہ تمہارا انجام بھی وہی ہو جو ان کا ہوا تو اس موقع سے، جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

چوتھی آیت میں فرمایا (آیت) ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰۗىِٕفَ فِي الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ ، یعنی پھر پچھلی قوموں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے تمہیں ان کا قائم مقام بنایا اور زمین کی خلافت تمہارے حوالہ کردی مگر یہ نہ سمجھو کہ یہ زمین کی خلافت تمہارے عیش و آرام کے لئے تمہیں سپرد کی گئی ہے بلکہ اس اعزازو اکرام کا اصل مقصد یہ ہے کہ تمہارا امتحان لیا جائے کہ تم کیسا عمل کرتے ہو، پچھلی تاریخ امم سے متاثر ہو کر اپنے حالات کی اصلاح کرتے ہو یا حکومت و و دولت کے نشہ میں سرشار ہوجاتے ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کی حکومت و اقتدار کوئی فخر و ناز کی چیز نہیں بلکہ ایک بھاری بوجھ ہے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 13–14

تفسیر آیت 13۔ 14: وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا ۙ وَجَاۗءَتْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَيِّنٰتِ وَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِيْنَ۔ ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰۗىِٕفَ فِي الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ۔ تاریخ کی شہادت : یہ جواب قریش کو مخاطب کر کے، تاریخ کی روشنی میں دیا گیا ہے کہ آخر دوسروں کو جو کچھ اسی ملک کی تاریخ کے مختلف ادوار میں پیش آچکا ہے اس سے سبق کیوں نہیں لیتے۔ یہ کیا ضروری ہے کہ وہی کچھ تم پر گزر جائے تب تمہاری سمجھ میں بات آئے کہ جو کچھ تم سے کہا گیا وہ ٹھیک ہے۔ یہاں حوالہ اجمالی ہے۔ اسی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

14۔ 1 خلائف، خلیفہ کی جمع ہے۔ اس کے معنی ہیں، گزشتہ امتوں کا جانشین۔ یا ایک دوسرے کا جانشین۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–15

5: یہ دراصل کفار عرب کے ایک سوال کا جواب ہے، جب انہیں کفر کے نتیجے میں عذاب الٰہی سے ڈرایا جاتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ اگر یہ بات سچ ہے تو وہ عذاب ابھی کیوں نہیں آجاتا ؟ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ لوگ عذاب آنے کے لئے اس طرح جلدی مچا رہے ہیں جیسے وہ کوئی اچھی چیز ہو، لیکن اگر اللہ تعالیٰ ان کی خواہش کے مطابق ابھی عذاب نازل کردے تو ان کو سوچنے سمجھنے کی جو مہلت دی گئی ہے وہ ختم ہوجائے گی، اور پھر ان کا ایمان لانا معتبر بھی نہیں ہوگا، لہذا اللہ تعالیٰ ان کے اس مطالبے کو اپنی حکمت کی بناء پر پورا نہیں کر رہا ہے ؛ بلکہ فی الحال ان کو اپنے حال پر چھوڑدیا ہے، تاکہ جو لوگ سرکش ہیں وہ گمراہی میں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ثم جعلنکم خلئف فی الارض من بعدھم پھر ان کے یعنی ہلاک شدہ قوموں کے بعد ہم نے (اے اہل مکہ ! ) تم کو ان کا جانشین بنایا۔ لننظر کیف تعملون۔ تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو اچھے یا برے اور گزشتہ اقوام کے احوال سے عبرت اندوز ہو کر پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہو یا نہیں کرتے۔ یہ آیت بتا رہی ہے کہ اعمال و افعال بذات خود نہ اچھے ہوتے ہیں نہ برے۔ افعال کی اچھائی برائی ‘ کیفیت و جہت کے اختلاف پر مبنی ہے۔ ایک ہی عمل مختلف وجوہ کے تحت اچھا بھی ہوجاتا ہے اور برا بھی۔ حضرت ابو سعید خدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : دنیا میٹھی اور سرسبز ہے۔ اللہ تم کو یہاں (گزشتہ اقوام کا) جانشین بنائے گا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی پہلوں کی جگہ اب تم کو زمین پر بسایا تاکہ دیکھا جائے کہ تم کہاں تک خالق و مخلوق کے حقوق پہچانتے ہو۔ اور خدا کے پیغمبروں کے ساتھ کیا معاملہ کرتے ہو۔ نیک و بد جیسے عمل کرو گے اسی کے مناسب تم سے برتاؤ کیا جائے گا۔ آگے اس معاملہ کا ذکر ہے جو قرآن کریم یا پیغمبر ﷺ یا خداوند قدوس کے ساتھ انہوں نے کیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 14 ثُمَّ جَعَلْنٰکُمْ خَلٰٓءِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْم بَعْدِہِمْ لِنَنْظُرَکَیْفَ تَعْمَلُوْنَ ”پھر ان کے بعد ہم نے تمہیں زمین میں جانشین بنا دیا ‘ تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیا کرتے ہو !“ یہاں ہر شخص انفرادی طور پر بھی اپنی محدود عمر میں امتحان دے رہا ہے اور قومیں اور امتیں بھی اپنے اپنے وقفۂ مہلت میں اس امتحان گاہ سے گزر رہی ہیں۔ علامہ اقبالؔ کے بقول : ؂ قلزم ہستی سے تو ابھرا ہے مانند حباب اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

21 یعنی اے اہل عرب ! اب تمہاری باری آچکی ہے پہلی قوموں کی جگہ تم نے لے لی ہے اور جیسی زیادتیاں اور ظلم تم سے پہلے لوگ کرتے رہے وہ تم بھی کر رہے ہو ان کے پاس بھی ہم نے رسول بھیجے تھے اور تمہارے پاس بھی بھیجا ہے اور اب ہم یہ دیکھیں گے کہ تم سابقہ اقوام کے انجام سے عبرت حاصل کرتے ہو یا نہیں ؟ اور رسول پر ایمان لاکر اپنی باغیانہ روش سے باز آتے ہو یا نہیں ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

27۔ یعنی آباد ویسے ہی کفر وشرک میں لگے رہتے ہو یا ایمان لے آتے ہو۔ (آیت) ” لننظر “۔ یعنی ظاہری طور پر بھی تمہاری جانچ کرلیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–20

آیت نمبر 11 تا 20 ترجمہ : اور (آئندہ) آیت اس وقت نازل ہوئی جبکہ مشرکین نے عذاب کے جلد آنیکا مطالبہ کیا، اور اگر اللہ لوگوں کیلئے شر کے معاملہ میں جلدی کرتا جیسا کہ یہ خیر کے معاملہ میں جلدی کرتے ہیں تو ان کا وعدہ پورا کردیا گیا ہوتا قُضِیَ مجھول اور معروف دونوں طرح پڑھا گیا ہے، (اَجَلُھُمْ ) رفع اور نصب کے ساتھ ہے بایں صورت کہ ان کو ہلاک کردیا گیا ہوتا، لیکن وہ ان کی مہلت دیتا ہے سو ہم ان کو جن کو ہمارے پاس آنے کی توقع نہیں ہے ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے رہتے ہیں، (یعنی) تردد کے ساتھ حیران رہتے ہیں، اور جب کافر انسان کو مرض اور فقر وغیرہ کی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارنے لگتا ہے، لیٹے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم جعلنکم خلئف فی الارض من بعدھم پھر ان کے یعنی ہلاک شدہ قوموں کے بعد ہم نے (اے اہل مکہ ! ) تم کو ان کا جانشین بنایا۔ لننظر کیف تعملون۔ تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو اچھے یا برے اور گزشتہ اقوام کے احوال سے عبرت اندوز ہو کر پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہو یا نہیں کرتے۔ یہ آیت بتارہی ہے کہ اعمال و افعال بذات خود نہ اچھے ہوتے ہیں نہ برے۔ افعال کی اچھائی برائی ‘ کیفیت و جہت کے اختلاف پر مبنی ہے۔ ایک ہی عمل مختلف وجوہ کے تحت اچھا بھی ہوجاتا ہے اور برا بھی۔ حضرت ابو سعید خدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دنیا میٹھی اور سرسبز ہے۔ اللہ تم کو یہاں (گزشتہ اقوام کا) جانشین بنائے گا اور دیکھے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(14) پھر اے امت محمد یہ ﷺ ان لوگوں کی ہلاکت کے بعد دنیا میں ہم نے تمہیں آباد کیا تاکہ ہم دیکھ لیں تم کس طرح نیک اعمال کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰۗىِٕفَ۔۔ : یعنی ان کے بعد تمہیں زمین میں ان کے جانشین بنایا، اگر تم بھی ان کی طرح ظلم و سرکشی پر کمربستہ رہو گے تو تمہاری تباہی بھی یقینی ہے۔ یہ خطاب ان تمام لوگوں کو ہے جن کی طرف رسول اللہ ﷺ مبعوث ہوئے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 14 قولہ تعالیٰ : آیت : ثم جعلنکم خلئف (کم اور خلائف) دونوں مفعول ہیں۔ اور الخلائف خلیفہ کی جمع ہے اور اس کا ذکر سورة انعام کے آخر میں گزر چکا ہے، یعنی ہم نے تمہیں زمین میں سکونت اختیار کرنے والا بنایا۔ من بعدھم یعنی ہلاک ہونے والے بستیوں کے بعد۔ لننظر یہ لام کی کے سبب منصوب ہے۔ اور اس کی نظائر اور مثالیں پہلے گزر چکی ہیں، یعنی تاکہ تم سے وہ عمل واقع ہو جس کے سبب تم ثواب اور عقاب کے مستحق بن جاؤ گے اور وہ اسے مسلسل غیب جانتا رہا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : تاکہ وہ تمہارے ساتھ اظہار عدل کے لیے مخیر ( امتحان لینے والا) کے معاملہ کرے۔ اور یہ قول بھی ہے : نظر کی نسبت رسل کے طرف ہے، یعنی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” ثم جعلنکم خلٓئف فی الارض من بعدہم لننظر کیف تعملون (14) کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ عمر بن خطاب ؓ نے یہ آیت پڑھی اور فرمایا ہمارے رب نے سچ فرمایا کہ ہم کو زمین میں خلفیہ نہیں بنایا مگر (اس لئے) کہ وہ دیکھیں گے ہمارے اعمال کی طرف پس دکھاؤ تم اللہ تعالیٰ کو اپنے بہترین اعمال رات کو چھپے ہوئے اور علانیہ طور پر۔ 2:۔ ابن منذر (رح) نے ابن جریح (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم جعلنکم خلیف “ یعنی یہ خطاب امت محمد ﷺ کے لئے ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ثُمَّ [ پھر ] جَعَلْنٰكُمْ [ ہم نے بنایا تم لوگوں کو ] خَلٰۗىِٕفَ [خلیفہ ] فِي الْاَرْضِ [ زمین میں ] مِنْۢ بَعْدِهِمْ [ ان کے بعد سے ] لِنَنْظُرَ [ تاکہ ہم دیکھیں ] كَيْفَ [ کیسا ] تَعْمَلُوْنَ [ تم لوگ عمل کرتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (ثُمَّ جَعَلْنٰکُمْ خَلآءِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْ م بَعْدِھِمْ ) ( پھر ہم نے تمہیں ان لوگوں کے بعد زمین میں خلیفہ بنایا) ۔ گزشتہ قومیں ہلاک ہوگئیں ان لوگوں کی حکومتیں ‘ سلطنتیں خاک میں مل گئیں تعمیرات برباد ہوئیں ‘ منصوبے خاک میں ملے جو دنیاوی ترقیاں کی تھیں وہ سب ختم ہوئیں ان کی جگہ اب موجودہ اقوام دنیا میں آباد ہیں۔ حکومتیں ہیں دولتیں ہیں یہ لوگ پرانی قوموں کے خلیفہ ہیں۔ یعنی ان کے بعدزمین میں بسے ہیں اور زمین میں انہیں اقتدار ملا ہے۔ یہ خلافت اس لئے نہیں ہے کہ دنیا ہی کو سب کچھ سمجھیں اور دنیا ہی کیلئے مریں اور جیئیں اور دنیا میں فساد کریں ‘ یہ خلافت آزمائش کے لئے دی گئی ہے۔ اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–14

ذکر ہلاک مجرمین سابقین برائے عبرت مجرمین حاضرین قال اللہ تعالیٰ ولقد اھلکنا القرون من قبلکم۔۔۔ الی۔۔۔ لننظر کیف تعملون۔ (ربط): گزشتہ آیت میں کفار ومشرکین کا مستحق عذاب ہونا بیان کیا اب ان آیات میں کفار سابقین کا نافرمانی کے جرم میں ہلاک ہونا ذکر کرتے ہیں تاکہ حاضرین اور موجودین اور آں حضرت ﷺ ان سابقین کے حالات سے عبرت حاصل کریں اور نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی تکذیب اور مخالفت سے باز آجائیں اور سمجھ لیں کہ اللہ کی یہ قدیم سنت ہے کہ جو لوگ انبیاء ورمسلین کے کھلے نشانات دیکھنے کے بعد ان کی تکذیب پر کمر بستہ رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمانی عذاب سے ہلاک کر ڈالا مگر ایک زمانہ کے بعد ہلاک…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

25:“ قَالَ الَّذِیْنَ لَایَرْجُوْنَ ”۔ یہ شکوٰی ہے یعنی جب مشرکین کو ہمارا پیغمبر ہماری آیات بینات پڑھ کر سناتا ہے جن میں دلائل توحید اور رد شرک کا بیان ہوتا ہے اور جن میں ان کے معبودانِ باطلہ کی بےبسی اور بیچارگی کا ذکر ہوتا ہے تو وہ بول اٹھتے ہیں یہ قرآن تو ہم ماننے سے رہے البتہ اگر اس قرآن کی جگہ کوئی دوسرا قرا ان لے آؤ یا اسی میں ترمیم کر ڈالو۔ الغرض قرآن میں ہمارے معبودوں کی توہین و تحقیر کا مضمون نہ ہو اور نہ اس میں حشر ونشر کا ذکر ہو تو ہم اسے بسر وچشم قبول کرنے کو تیار ہیں۔ “ (وَاِذَا تُتْلیٰ عَلیْھِمْ اٰیٰتُنَا) الدلاة علی حقیة التوحید وبطلان الشرک ای ائت بکاتب اخر نقرءہ لیس فیه ما…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–14

ربط آیات۔ قرآن کریم کی حقانیت اور پھر رسالت کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے توحید کے عقلی اور نقلی دلائل ذکر کیے۔ اس کے بعد قیامت کا مسئلہ بھی بیان فرمایا اور ایمان والوں کی اس کامیابی کا ذکر کیا جو انہیں اللہ کے ہاں حاصل ہونے والی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے منکرین قیامت کا ذکر کای جو اسی دنیا پر مطمئن ہو کر بیٹھ گئے ہیں اور اسی کو اپنا منتہائے مقصود سمجھ رہے ہیں۔ اللہ نے ان کی ناکامی اور ان کو ملنے والی سزا کا ذکر بھی کیا۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے بعض انسانوں کا شکوہ بیان کیا ہے کہ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچی ہے تو اللہ تعالیٰ سے گڑ گڑا کر دعائیں کرتے ہیں ، مگر جب اللہ اس تکلیف کو دور فرما…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰۗىِٕفَ فِي الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِہِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ۝ 14 ثمَ ثُمَّ حرف عطف يقتضي تأخر ما بعده عمّا قبله، إمّا تأخيرا بالذات، أو بالمرتبة، أو بالوضع حسبما ذکر في ( قبل) وفي (أول) . قال تعالی: أَثُمَّ إِذا ما وَقَعَ آمَنْتُمْ بِهِ آلْآنَ وَقَدْ كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ ثُمَّ قِيلَ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا، [يونس/ 51- 52] ، وقال عزّ وجلّ : ثُمَّ عَفَوْنا عَنْكُمْ مِنْ بَعْدِ ذلِكَ [ البقرة/ 52] ، وأشباهه . وثُمَامَة : شجر، وثَمَّتِ الشاة : إذا رعتها ، نحو : شجّرت : إذا رعت الشجر، ثم يقال في غيرها من النبات . وثَمَمْتُ الشیء : جمعته، ومنه قيل : كنّا أَهْلَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 10–17

2 ؎ ہر قسم کی خوبیاں اللہ ہی کو سزا وار ہیں۔ جو تمام جہان کا پروردگار ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ثُمَّ جَعَلْنٰکُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْ م بَعْدِھِمْ لِنَنْظُرَ کَیْفَ تَعمَلُوْنَ ۔ (یونس : 14) (اب ہم نے تمہیں ان کے بعد زمین میں ان کا جانشین بنایا ہے تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ ) عرب کی کتنی قومیں تباہ کردی گئیں اور بنی اسرائیل اپنی بداعمالیوں اور بداطواریوں کے باعث دنیا کی امامت کے منصب سے معزول کردیئے گئے۔ (اب تمہیں اے عرب کے لوگو) اس سرزمین میں ان کا جانشین بنایا گیا ہے اس لیے نہیں کہ تم عرب کے وسائل سے فائدہ اٹھائو، تم ان کے کھنڈرات پر حکومت کرو اور جیسے انھوں نے اپنی من مرضی کی زندگی گزاری تم بھی ویسی ہی زندگی گزارو بلکہ تمہیں اس لیے ان کے بعد اس سرزمین میں اٹھایا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 13–14

فہم القرآن ربط کلام : حد سے گزر جانے والوں اور جرائم کا وطیرہ اختیار کرنے والوں کا تذکرہ کرنے کے بعد ان کی سزا بیان کی جارہی ہے۔ جن لوگوں نے گناہوں کو فیشن اور جرائم کو وطیرہ بنا لیا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حد سے آگے گزر جائیں تو اللہ تعالیٰ ایسے مجرموں کی ضرور گرفت کرتا ہے۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاں ظالموں اور مجرموں کی ایک حد مقرر کر رکھی ہے جب حد عبور کرنے سے دنیا کا نظام درہم برہم ہونا شروع ہوجاتا ہے تب اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو تباہی کے گھاٹ اتار دیا۔ حالانکہ ان کے پاس رسول بھیجے گئے جنہوں نے روشن اور ٹھوس دلائل کے ساتھ انہیں راہ راست پر لانے کی بےپناہ کوششیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ماضی سے عبارت پکڑو ‘ نہ اکڑو : 14: ثُمَّ جَعَلْنٰـکُمْ خَلٰٓئِفَ فِی الْاَرْضِ مِنْم بَعْدِھِمْ ( پھر ان قوموں کے بعد ہم نے تمہیں ان کا جانشین بنایا) یہ ان لوگوں کو خطاب ہے جنکی طرف حضرت محمد ﷺ کو براہ راست مبعوث فرمایا کہ ہلاک شدہ اقوام کے بعد ہم نے اے مخاطبین تمہیں زمین میں ان کا نائب بنایا۔ لِنَنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ (تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے کام کرتے ہو) یعنی تاکہ ہم دیکھیں کیا تم خیر کے اعمال بجا لاتے ہو یا شر کا ارتکاب کرتے ہو۔ پھر ہم تمہارے اعمال کے مطابق تم سے سلوک برتیں گے۔ نحو : وکیف یہ تعملون کی وجہ سے محل نصب میں ہے۔ لِنَنْظُرَ کی وجہ سے نہیں کیونکہ استفہام کا معنی اس سلسلہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(14)” ثم جعلنا کم خلائف “ یعنی خلیفے ” فی الارض من بعدھم “ ان امتوں کے بعد جن کو ہم نے ہلاک کیا ۔ ” لنظر کیف تعلمون “ حالانکہ وہ ان کو خوب جانتا ہے ۔ حضرت ابو سعیدخدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سن لو یہ دنیا بڑی میٹھی اور سرسبز ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا خلیفہ بنائے گا تا کہ دیکھ لے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–14

12۔ 14۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نافرمان لوگوں کی یہ عادت بتائی تھی کہ جس قدر ان کو دنیا میں تندرستی اور فارغ بالی دی جاتی ہے اسی قدر ان کی نافرمانی اور سرکشی بڑھتی جاتی ہے اس آیت میں دوسری عادت ان لوگوں کی فرمائی کہ تنگی کے وقت یہ سب لوگ سرکشی بھول کر اٹھتے بیٹھتے اللہ کو پکارنے لگتے ہیں اور جب اللہ ان کی وہ تنگی رفع کردیتا ہے تو پھر بالکل خدا سے بیگانے بن جاتے ہیں۔ صحیح مسلم میں صہیب رومی ؓ کی روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کی علامت یہ بیان فرمائی ہے کہ تنگی کے وقت وہ صبر کرتے ہیں اور راحت کے وقت اللہ کا شکر بجالاتے ہیں۔ 1 ؎ اور اس سے بڑھ کر ایک مقام ہے جو خاص لوگوں کو میسر ہوتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 13–14

آیت : (13-14) اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے گزشتہ قوموں کو ان کے کفر و ظلم کی بنا پر تباہ کردیا۔ رسولوں کے توسط سے ان کے پاس واضح دلائل آئے اور ان کے سامنے حق واضح ہوگیا مگر انہوں نے حق کو تسلیم نہ کیا اور وہ ایمان نہ لائے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کردیا جو کسی مجرم اور اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والے سے ہٹایا نہیں جاسکتا۔ تمام قوموں میں اللہ تعالیٰ کی یہی سنت ہے۔ (ثم جعلنکم) ” پھر بنایا ہم نے تم کو “ یعنی اے مخاطبو ! (خلئف فی الارض من بعد ھم لنظر کیف تعملون) ” زمین میں جانشین ان کے بعد ‘ تاکہ ہم دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو “ اگر تم نے گزشتہ قوموں سے عبرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

24 ۔ دنیاوی زندگی کی مہلت ابتلاء و آزمائش کا پیڑیڈ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ہم نے تم لوگوں کو ان کا جانشین بنایا اس زمین میں تاکہ ہم دیکھیں کہ تم لوگ کیسا عمل کرتے ہو، نیک یا بد، اچھا یا برا اپنے خالق ومالک کی رضاء و خوشنودی کا یا اس سے بغاوت و سرکشی کا۔ والعیاذ باللہ۔ تاکہ اسی کے مطابق تم سے معاملہ کیا جائے۔ پس عمررواں کی یہ فرصت محدود، تمہیں آزادی اور عیش پرستی کے لیے نہیں دی گئی بلکہ یہ دراصل ابتلاء و آزمائش کا ایک پیریڈ ہے، جس پر تمہاری آئندہ کی حقیقی اور دائمی وابدی زندگی کا مدارو انحصار ہے۔ سو اپنا نفع و نقصان اور بھلا برا تم لوگ خود سوچ لو۔ فوفقنا اللہم لماتحب وترضی من قول وعمل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 13–17

ظالموں کی تباہی، قرآن کی عظمت اور کھلا ثبوت تشریح : ان آیات کا پچھلی آیات سے ربط ہے۔ ان میں بھی مکہ کے لوگوں کو ہی مخاطب کر کے قرآن پاک میں اللہ کے بتائے ہوئے فوائد، قانون اور اصول بتائے جا رہے ہیں۔ یہاں وضاحت کردی گئی ہے کہ یہ قانون قدرت ہے کہ جب ایک قوم اپنی اچھائیوں سے دور اور اللہ کی رحمتوں سے غلط فائدے اٹھا کر برائی، بدکاری، عیش و آرام اور فسق و فجور کے راستوں پر چلنے لگتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی جگہ کسی دوسری قوم کو لے آتے ہیں جو اس بگاڑ کو سنوار میں بدل سکے تاکہ انسانیت امن و سکون سے پنپ سکے جب ہم تاریخ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس میں بیشمار مثالیں مل سکتی ہیں ماضی قریب میں ہندوستان، سپین…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–20

آیات 11 تا 20 اسرار و معارف انسان بھی بہت عجیب سوچ رکھتا ہے بھلایہ بھی کوئی معیار ہے کہ کفار کہہ دیں جب ہم دین قبول نہیں کر رہے تو ہم پر فورا عذاب کیوں نہیں آجاتا۔ اگر اس طرح سے بات بات پر گرفت ہوتی تو انسان ختم ہوچکے ہوتے اور دوسرا اثر اس کا یہ ہوتا کہ انسانی پسنددناپسند کا موقع کون ساباقی رہتا ظاہر ہے یا فورا ایمان لے آتے یا ہلاک ہوجاتے اور اللہ تو قادر ہے جس طرح مانگے بےمانگے بےحساب نعمتیں عطافرمارہا ہے۔ زندگی طاقت دولت اقتدار ہر شے دے رہا ہے چاہے تو آن واحد میں چھین بھی سکتا ہے لیکن اگر ایسا ہونے لگے تو انسان کے لئے اختیار آزمانے کا موقع نہ رہے گا لہٰذا انسان کو پہلے سے طے شدہ وقت تک فرصت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1۔ اوپر بتایا کسان کی بددعا اور طلب پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب نہ اترنے میں سراسر اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے۔ پھر ان کا حال یہ ہے کہ تکلیف نازل ہونے پر اللہ تعالیٰ کے سامنے آہ زاری کرنے لگتے ہیں۔ اب یہاں انہیں تہدید کی تمہاری بداعمالیوں کے باوجود اگر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹل جائے تو تمہیں بےفکر نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ایک نہ ایک دن ان بداعمالیوں کی سزا تو مل کر ہی رہے گی۔ تمہیں چاہیے کہ پہلی مجرم قوموں کے حالات پر غور کرو کہ آخر ان کا انجام کیا ہوا۔ (کبیر۔ ابن کثیر) ۔ 2۔ یعنی اگر تم بھی ان کی طرح ظلم و شرارت پر کمربستہ رہے گے تو تمہاری تباہی بھی یقنی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 13–14

(10:13) القرون۔ قرن کی جمع۔ وہ قومیں جن سے ہر ایک کا زمانہ دوسری سے جدا ہو۔ قومیں۔ امتیں۔ (10:13) لما۔ جب۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 13–14

لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 14 اھلکنا (ہم نے ہلاک کیا) القرون (قومیں، نسلیں) نجزی (ہم بدلہ دیتے ہیں) خلتف (قائم مقام، نئاب، خلیفہ) لننطر (تاکہ ہم دیکھیں) تشریح :- آیت نمبر 13 تا 14 قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اس بات کو پوری وضاحت سے ارشاد فرمیا ہے کہ نافرمانیوں، گناہوں اور ظلم و بغاوت پر جری ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ لوگوں کی فوراً ہی گرفت نہیں کرتا بلکہ وہ حلیم و کریم ہے وہ اپنے بندوں کو ایک خاص مدت تک مہلت عمل اور ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے تاکہ وہ زندگی کے کسی بھی موڑ پر اپنے لئے بہتر اور مناسب راستہ کا انتخاب کرسکیں ۔ لیکن اگر پھر بھی وہ اپنی روش زندگیک و تبدیل نہیں کرتے تب ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–14

مشرکین کی عادتوں کا ذکر : اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نافرمان لوگوں کی عادت بتلائی تھی کہ جس قدر ان کو دنیا میں تندرستی اور فارغ البالی دی جاتی ہے اسی قدر ان کی نافرمانی اور سرکشی بڑھتی جاتی ہے۔ اس آیت میں دوسری عادت ان لوگوں کی فرمائی کہ تنگی کے وقت یہ لوگ سب سرکشی بھول کر اٹھتے بیٹھتے اللہ کو پکارنے لگتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ ان کی وہ تنگی رفع کردیتا ہے تو پھر بلکل خدا سے بیگانے بن جاتے ہیں۔ آخر کو فرمایا پچھلے لوگ اس سرکشی اور ناشکری کے وبال میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئے، اور حال کے لوگ ان پچھلے لوگوں کی قائم مقام کے طور پر زمین پر آباد ہوئے۔ جن کا ہر ایک کام اللہ تعالیٰ کی نظر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–14

[8] یعنی پاک ہے تو اے اللہ [9] یعنی ساری تعریف اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–14

(ف 2) اس آیت میں انسان کی اس نفسی خوبی کو بیان کیا ہے کہ مصیبت کے وقت اس کا دل مجلی ہوتا ہے ، اور اس وقت وہ اللہ کی ضرورت کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کرتا ہے مگر جب تکلیف کا وقت گزر جاتا ہے ، دل پر بدستور غفلت کا حجاب پڑجاتا ہے ، اور فطرت کی آواز دب جاتی ہے ۔ سچا مومن وہ ہے جو دولت و عافیت کے نشوں میں بھی فطرت پر نظر رکھتا ہے ، اور مذہب وملت کی ضروریات کو کسی حالت میں بھی فراموش نہیں کرتا ۔ حل لغات : اجلھم : مدت ۔ القرون : جمع قرن ، بمعنے زمانہ ہائے طول ، یعنی اہل زمانہ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

14 پھر ان قوموں کے بعد ہم نے تم کو ان کا جانشین اور نائب بنایا تاکہ ظاہری طور پر ہم دیکھ لیں کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 13–16

ف 1۔ پس جب میں تم کو سنا رہا ہوں اور میرے ذریعے سے تم کو اطلاع ہورہی ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کو اس کلام معجز کا سنورنا اور اطلاع کرنا منظور ہوا اور سنانا اور اطلاع دینا بدون وحی کے بوجہ اس کے معجز ہونے کے ممکن نہیں اس سے معلوم ہوتا ہے وہ وحی منزل اور کلام الٰہی ہے۔ 2۔ یعنی اگر یہ میرا کلام ہے تو یا تو اتنی مدت تک ایک جملہ بھی اس طرح کانہ نکلا اور یا دفعتا اتنی بڑی بات بنالی یہ تو بالکل عق کے خلاف ہے۔ فائدہ۔ اعجاز کے اثبات میں فقد لبثت فیکم سے استدلال علی سبیل التنزل ہے یعنی استدلال یہ ہے فاتوا بسورة من مثلہ اور اس میں کوئی بعید احتمال نکالنا کہ شاید عام اس پر قادر نہ ہوں آپ قادر ہوں اس…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انسانی آزمائش کا ایک نیا رخ اقتدار کی کرسی پر بٹھا کر جائزہ لینا 23 ؎ فرمایا ہم نے تم کو زمین پر نائب کیا ، معلوم ہے کیوں ؟ محض اس لئے تاکہ تمہارا جائزہ لیا جائے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ، غور کرو کہ قدرت کے قانون کس طرح اٹل اور یکساں ہیں ۔ جب تک کوئی قوم اپنی افادیت اور نفع رسانی کا ثبوت بہم پہنچاتی رہتی ہے وہ زندہ و سلامت رہتی ہے اور اس کا آفتاب اقبال درخشاں اور تاباں رہتا ہے لیکن جب وہ اپنے اقتدار اور طاقت کو لذت کوش او عشی طلبی کیلئے وقف کردیتی ہے اور اپنی ذمہ داریوں کو بجا لانے میں غفلت برتتی ہے تو سمجھ لو کہ اس کی موت کی گھڑی آپہنچی پھر اسے راہ سے ہٹا دیا جاتا ہے اور اس کے بعد دوسری قوم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

In verse 14, it was said: ثُمَّ جَعَلْنَاكُمْ خَلَائِفَ فِي الْأَرْ‌ضِ مِن بَعْدِهِمْ لِنَنظُرَ‌ كَيْفَ تَعْمَلُونَ ﴿14﴾ (Then We made you vice-regents on the earth, in order to see how you would act), that is, ` after the destruction of past peoples, We made you successors to them giving you the vice-regency of the earth. But, let this not give you any false idea that this vice-regency of the earth has been given to you so that you could have a good time. In fact, this honor has been bestowed on you to test you and to see how you would act - would you learn your lesson from the history of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

18. One should not lose sight of the fact that the immediate addressees of the present discourse were the people of Arabia. Here they are told that all previous nations were granted the opportunity to show their potential to do good. Instead, they took to wrong-doing and rebellion and rejected the message of the Prophets who had been raised solely to guide them. Thus they failed in the test to which they were put by God and were accordingly removed from the scene of history. Now the turn of the Arabs has come and they have also been granted the opportunity to prove their worth. They have also…

Read the full tafseer →