Yunus 10:13

Yunus · from ayah 13

10:13

وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا ۙ— وَجَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا ؕ— كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ ۟وَلَقَدۡ اَهۡلَـكۡنَا الۡـقُرُوۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ لَمَّا ظَلَمُوۡا ‌ ۙ وَجَآءَتۡهُمۡ رُسُلُهُمۡ بِالۡبَيِّنٰتِ وَمَا كَانُوۡا لِيُـؤۡمِنُوۡا ‌ ؕ كَذٰلِكَ نَجۡزِى الۡقَوۡمَ الۡمُجۡرِمِيۡنَ‏

اور تم سے پہلے ہم کئی امتوں کو جب انہوں نے ظلم کا راستہ اختیار کیا ہلاک کرچکے ہیں۔ اور ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے۔ ہم گنہگار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We had already destroyed generations before you when they wronged, and their messengers had come to them with clear proofs, but they were not to believe. Thus do We recompense the criminal people

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 2 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:13

لوگو، تم سے پہلے کی قوموں کو (جو اپنے اپنے زمانہ میں برسر عروج تھیں) ہم نے ہلاک کر دیا جب انہوں نے ظلم کی روش اختیار کی اور اُن کے رسُول اُن کے پاس کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر آئے اور انہوں نے ایمان لا کر ہی نہ دیا اس طرح ہم مجرموں کو ان کے جرائم کا بدلہ دیا کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم سے پہلے ہم کئی امتوں کو جب انہوں نے ظلم کا راستہ اختیار کیا ہلاک کرچکے ہیں۔ اور ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے۔ ہم گنہگار لوگوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے تم سے پہلے بہت سے گروہوں کو ہلاک کردیا جب کہ انہوں نے ﻇلم کیا حاﻻنکہ ان کے پاس ان کے پیغمبر بھی دﻻئل لے کر آئے، اور وه ایسے کب تھے کہ ایمان لے آتے؟ ہم مجرم لوگوں کو ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے تم سے پہلے (کئی) قوموں کو اس موقع پر ہلاک کیا جب انہوں نے ظلم کا ارتکاب کیا تھا، اور ان کے پیغمبر ان کے پاس روشن دلائل لے کر آئے تھے، اور وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے، ایسے مجرم لوگوں کو ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ہم نے تم سے پہلی سنگتیں (قومیں) ہلاک فرمادیں جب وہ حد سے بڑھے اور ان کے رسول ان کے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے اور وہ ایسے تھے ہی نہیں کہ ایمان لاتے، ہم یونہی بدلہ دیتے ہیں مجرموں کو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور بیشک ہم نے تم سے پہلے (بھی بہت سی) قوموں کو ہلاک کر دیا جب انہوں نے ظلم کیا، اور ان کے رسول ان کے پاس واضح نشانیاں لے کر آئے مگر وہ ایمان لاتے ہی نہ تھے، اسی طرح ہم مجرم قوم کو (ان کے عمل کی) سزا دیتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا ہم نے تم سے پہلے بہت سے زمانوں کے لوگ ہلاک کردیے، جب انھوں نے ظلم کیا اور ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلیں لے کر آئے اور وہ ہرگز ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے۔ اسی طرح ہم مجرم لوگوں کو جزا دیا کرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ہم تم سے پہلے کی بہت سی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جبکہ انہوں نے ظلم کی روش اختیار کی۔ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے مگر وہ ایمان لانے والے نہ تھے۔ ہم مجرم لوگوں کو ایسے ہی سزا دیتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے تم سے پہلے قوموں کو ہلاک کیا جب کہ وہ ظلم کی مرتکب ہوئیں۔ اور ان کے رسول ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے اور وہ ایمان لانے والے نہ بنے۔ ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں مجرم قوم کو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں تم سے پہلے، جب کہ وہ لوگ اڑے رہے تھے اپنے ظلم پر، حالانکہ ان کے پاس آچکے تھے ان کے رسول کھلے دلائل لے کر، مگر وہ (اپنے بغض وعناد کی وجہ سے) ایسے نہ تھے کہ ایمان لے آتے، اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں مجرم لوگوں کو،

— مولانا اسحاق مدنی

اور بالیقین ہم تم سے قبل (بہت سی) نسلوں کو ہلاک کرچکے ہیں جبکہ انہوں نے ظلم کیا درآنحالیکہ ان کے پاس ان کے پیغمبر کھلے دلائل کے ساتھ آتے رہے اور وہ ایسے تھے ہی نہیں کہ ایمان لے آتے ہم اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں مجرم لوگوں کو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم تم لوگوں سے پہلے بھی بہت سی نسلوں اور قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جب انہوں نے ظلم کی روش اختیار کی اور ان کے پاس (بھی) آئے تھے ان کے رسول واضح تعلیمات لے کر لیکن وہ نہیں تھے ایمان لانے والے۔ اسی طرح ہم بدلہ دیا کرتے ہیں مجرم لوگوں کو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تم سے پہلے کئی امتوں کو جب انہوں نے ظلم اختیار کیا ہم ہلاک کرچکے ہیں اور ان کے پاس پیغمبر کھلی نشانیاں لے کر آئے، مگر وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے۔ ہم گنہگاروں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely We destroyed the nations (which had risen to heights of glory in their times) before you when they indulged in wrong-doing and refused to believe even when their Messengers brought clear signs to them. Thus do We recompense the people who are guilty.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Indeed We have destroyed generations before you when they transgressed, and their Messengers had come to them with clear signs, but they were not the ones who would believe. This is how We punish the guilty people.

— Muhammad Taqi Usmani

Indeed We have destroyed generations before you when they transgressed, and their Messengers had come to them with clear signs, but they were not the ones who would believe. This is how We punish the guilty people.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed, We destroyed generations before you when they did wrong, while their Messengers came to them with clear proofs, but they were not such as to believe! Thus do We requite the people who are criminals.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We destroyed the generations before you when they did wrong; and their messengers (from Allah) came unto them with clear proofs (of His Sovereignty) but they would not believe. Thus do We reward the guilty folk.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We had already destroyed generations before you when they wronged, and their messengers had come to them with clear proofs, but they were not to believe. Thus do We recompense the criminal people

— Saheeh International

We destroyed certain generations who lived before you because of their injustice. Our Messengers came to them and showed them miracles, but they would not believe. Thus do We punish the criminals.

— Muhammad Sarwar

And certainly We did destroy generations before you when they were unjust, and their apostles had come to them with clear arguments, and they would not believe; thus do We recompense the guilty people.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly We have destroyed the generations before you when they did wrong, while their apostles came unto them with the evidences, and they were not such as to believe. In this wise We requite the sinning people.

— Abdul Majid Daryabadi

Generations before you We destroyed when they did wrong: their messengers came to them with clear-signs, but they would not believe! thus do We requite those who sin!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:13

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 13–14

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ سابقہ اقوام پر تکذیب رسول کی وجہ سے عذاب آئے تہس نہس ہوگئے۔ اب تم ان کے قائم مقام ہو اور تمہارے پاس بھی افضل الرسل آچکے ہیں۔ اللہ دیکھ رہا ہے کہ تمہارے اعمال کی کیا کیفیت رہتی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دنیا میٹھی، مزے کی، سبز رنگ والی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں خلیفہ بنا کر دیکھ رہا ہے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو ؟ دنیا سے ہوشیار رہو۔ اور عورتوں سے ہوشیار رہو۔ بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں کا ہی آیا تھا۔ (مسلم) حضرت عوف بن مالک نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا آسمان سے ایک رسی لٹکائی گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے تو اسے مکمل تھام لیا،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یُوْنُس 16 اصل میں لفظ ”قرن“ استعمال ہوا ہے جس سے مراد عام طور پر تو عربی زبان میں ایک ”عہد کے لوگ“ ہوتے ہیں، لیکن قرآن مجید میں جس انداز سے مختلف مواقع پر اس لفظ کو استعمال کیا گیا ہے اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ”قرن“ سے مراد وہ قوم ہے جو اپنے دور میں برسر عروج اور کلی یا جزئی طور پر امامت عالم پر سرفراز رہی ہو۔ ایسی قوم کی ہلاکت لازما یہی معنی نہیں رکھتی کہ اس کی نسل کو بالکل غارت ہی کردیا جائے۔ بلکہ اس کا مقام عروج و امارت سے گرا دیا جانا، اس کی تہذیب و تمدن کا تباہ ہوجانا، اس کے تشخص کا مٹ جانا اور اس کے اجزاء کا پارہ پارہ ہو کر دوسری قوموں میں گم ہوجانا، یہ بھی ہلاکت ہی کی ایک صورت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تیسری آیت میں اسی دوسری آیت کے مضمون کی مزید توضیح اور تاکید اس طرح کی گئی ہے کہ کوئی اللہ تعالیٰ کے ڈھیل دینے سے یہ نہ سمجھے کہ دنیا میں عذاب آہی نہیں سکتا، پچھلی قوموں کی تاریخ اور ان کی سرکشی و نافرمانی کی سزا میں مختلف قسم کے عذاب اسی دنیا میں آچکے ہیں، اس امت میں اگرچہ اللہ تعالیٰ نے سید الانبیاء ﷺ کے اکرام کی وجہ سے یہ وعدہ فرما لیا ہے کہ عذاب عام نہ آئے گا، اور اللہ تعالیٰ کے اسی لطف و کرم نے ان لوگوں کو ایسا بےباک کردیا ہے کہ وہ بڑی جرأت سے عذاب الہٰی کو دعوت دینے اور اس کا مطالبہ کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں، لیکن یاد رہے کہ عذاب الہٰی سے بےفکری ان کے لئے بھی کسی حال میں روا نہیں،…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 13–14

تفسیر آیت 13۔ 14: وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا ۙ وَجَاۗءَتْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَيِّنٰتِ وَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِيْنَ۔ ثُمَّ جَعَلْنٰكُمْ خَلٰۗىِٕفَ فِي الْاَرْضِ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُوْنَ۔ تاریخ کی شہادت : یہ جواب قریش کو مخاطب کر کے، تاریخ کی روشنی میں دیا گیا ہے کہ آخر دوسروں کو جو کچھ اسی ملک کی تاریخ کے مختلف ادوار میں پیش آچکا ہے اس سے سبق کیوں نہیں لیتے۔ یہ کیا ضروری ہے کہ وہی کچھ تم پر گزر جائے تب تمہاری سمجھ میں بات آئے کہ جو کچھ تم سے کہا گیا وہ ٹھیک ہے۔ یہاں حوالہ اجمالی ہے۔ اسی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

13۔ 1 یہ کفار کو تنبیہ ہے کہ گزشتہ امتوں کی طرح تم بھی ہلاکت سے دو چار ہوسکتے ہو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 11–15

5: یہ دراصل کفار عرب کے ایک سوال کا جواب ہے، جب انہیں کفر کے نتیجے میں عذاب الٰہی سے ڈرایا جاتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ اگر یہ بات سچ ہے تو وہ عذاب ابھی کیوں نہیں آجاتا ؟ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ لوگ عذاب آنے کے لئے اس طرح جلدی مچا رہے ہیں جیسے وہ کوئی اچھی چیز ہو، لیکن اگر اللہ تعالیٰ ان کی خواہش کے مطابق ابھی عذاب نازل کردے تو ان کو سوچنے سمجھنے کی جو مہلت دی گئی ہے وہ ختم ہوجائے گی، اور پھر ان کا ایمان لانا معتبر بھی نہیں ہوگا، لہذا اللہ تعالیٰ ان کے اس مطالبے کو اپنی حکمت کی بناء پر پورا نہیں کر رہا ہے ؛ بلکہ فی الحال ان کو اپنے حال پر چھوڑدیا ہے، تاکہ جو لوگ سرکش ہیں وہ گمراہی میں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ولقد اھلکنا القرون من قبلکم اور (اے اہل مکہ ! ) تم سے سابق قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں۔ لما ظلموا جب انہوں نے (کفر و بداعمالی کر کے) خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ وجاء تھم رسلھم بالبینت اور ان کے پیغمبر کھلی ہوئی واضح دلیلیں ان کے پاس لا چکے (مگر انہوں نے کسی دلیل کو نہیں مانا) گویا حجت تمام ہوگئی اور ہلاکت کا ان کو استحقاق ہوگیا۔ اسی مضمون کو دوسری آیت میں بیان کیا ہے ‘ فرمایا ہے : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً ۔ وما کانوا لیؤمنوا اور وہ (ظالم قومیں) ایسی تھیں ہی نہیں کہ ایمان لاتیں۔ یعنی ان میں ایمان لانے کی فطری صلاحیت ہی نہ تھی۔ اللہ کے اسم مضل (گمراہ کرنے والا) کا پرتو ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی اگر ان کی درخواست کے موافق جلدی عذاب نہ آئے یا تکلیف و مصیبت آکر ٹل جائے تو بےفکر نہیں ہونا چاہیے۔ ظلم و شرارت اور بےایمانی کی سزا جلد یا بدیر مل کر رہے گی۔ سنت اللہ قدیم سے یہ ہی ہے کہ جب لوگ انبیاء ومرسلین کے کھلے نشان دیکھنے کے بعد بھی ظلم و تکذیب پر کمر بستہ رہے اور کسی طرح ایمان و تسلیم کی طرف نہ جھکے تو آسمانی عذاب نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔ ہمیشہ مجرموں کو کسی نہ کسی رنگ میں سزا ملتی رہی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 12–13

آیت 12 وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَان الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِہٖٓ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآءِمًا ج ”اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے پہلو کے بل لیٹے ہوئے یا بیٹھے ہوئے یا کھڑے ہوئے۔“ فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُ ضُرَّہٗ مَرَّ کَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَآ اِلٰی ضُرٍّ مَّسَّہٗ ط ”پھر جب ہم اس سے اس کی تکلیف کو دور کردیتے ہیں تو وہ ایسے چل دیتا ہے جیسے اس نے ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا کوئی تکلیف پہنچنے پر۔“ کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ”ایسے ہی مزین کردیا گیا ہے ان حد سے بڑھنے والوں کے لیے ان کے اعمال کو۔“ ان کے اندر اتنی ڈھٹائی پیدا ہوگئی ہے کہ ذرا تکلیف…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

19 قرن کے معنی ایک عہد کے لوگ ہیں اور یہاں قرون سے ایسی اقوام مراد ہیں جنہوں نے اپنے اپنے دور میں عروج حاصل کیا تھا اوراقوام عالم میں نامور شمار ہوئی تھیں اور ہلاک کرنے سے یہی مراد نہیں کہ ان پر کوئی ارضی و سماوی عذاب وغیرہ بھیج کر ان کی نسل تک کو تباہ کر ڈالا تھا بلکہ ہلاکت کی ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ جتنا اس قوم نے عروج حاصل کیا تھا اتنا ہی وہ زوال پذیر ہوجائے حتیٰ کہ اتنی کہ قعرمذلت میں گرے اقوام عالم میں وہ شمار کے قابل بھی نہ رہے یعنی ان کے گناہوں کی پاداش میں بتدریج اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے۔ 20 ظلم کا مفہوم :۔ ظلم کا مفہوم اتنا وسیع ہے کہ اس کا اطلاق ہر گناہ اور زیادتی کے کام پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

26۔ (بہ وجہ اپنی غایت قساوت قلب وعناد کے) مراد یہ ہے کہ جب بعثت رسل اور ان کافروں کی طرف سے ان کی تکذیب کے بعد حجت ان پر پوری طرح ثابت ہوچکی تھی تو اب مزید تاخیر وامہال سے کوئی نتیجہ ہی نہ تھا۔ (آیت) ” لما ظلموا “۔ اس ظلم کے تحت میں کفر وشر کے جملہ اقسام آگئے۔ نیز حدود شرعی سے تجاوز اور بدنی ومالی حق تلفیاں۔ (آیت) ” بالبینت “۔ اس میں اللہ کی توحید اور پیغمبروں کی صداقت پر ہر قسم کے دلائل اور معجزات وغیرھا آگئے۔ (آیت) ” لیؤمنوا “۔ میں ل تاکید نفی کے لئے ہے۔ واللام لتاکید النفی (مدارک۔ بیضاوی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 11–20

آیت نمبر 11 تا 20 ترجمہ : اور (آئندہ) آیت اس وقت نازل ہوئی جبکہ مشرکین نے عذاب کے جلد آنیکا مطالبہ کیا، اور اگر اللہ لوگوں کیلئے شر کے معاملہ میں جلدی کرتا جیسا کہ یہ خیر کے معاملہ میں جلدی کرتے ہیں تو ان کا وعدہ پورا کردیا گیا ہوتا قُضِیَ مجھول اور معروف دونوں طرح پڑھا گیا ہے، (اَجَلُھُمْ ) رفع اور نصب کے ساتھ ہے بایں صورت کہ ان کو ہلاک کردیا گیا ہوتا، لیکن وہ ان کی مہلت دیتا ہے سو ہم ان کو جن کو ہمارے پاس آنے کی توقع نہیں ہے ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے رہتے ہیں، (یعنی) تردد کے ساتھ حیران رہتے ہیں، اور جب کافر انسان کو مرض اور فقر وغیرہ کی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارنے لگتا ہے، لیٹے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولقد اھلکنا القرون من قبلکم اور (اے اہل مکہ ! ) تم سے سابق قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں۔ لما ظلموا جب انہوں نے (کفر و بداعمالی کر کے) خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ وجاء تھم رسلھم بالبینت اور ان کے پیغمبر کھلی ہوئی واضح دلیلیں ان کے پاس لا چکے (مگر انہوں نے کسی دلیل کو نہیں مانا) گویا حجت تمام ہوگئی اور ہلاکت کا ان کو استحقاق ہوگیا۔ اسی مضمون کو دوسری آیت میں بیان کیا ہے ‘ فرمایا ہے : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً ۔ وما کانوا لیؤمنوا اور وہ (ظالم قومیں) ایسی تھیں ہی نہیں کہ ایمان لاتیں۔ یعنی ان میں ایمان لانے کی فطری صلاحیت ہی نہ تھی۔ اللہ کے اسم مضل (گمراہ کرنے والا) کا پرتو ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(13) اور ہم نے تم سے پہلے بہت سی قوموں کو ہلاک کردیا، جب کہ انہوں نے کفر وشرک اختیار کیا، حالانکہ کہ ان کے پیغمبر بھی انکے پاس اوامرو انواہی اور دلائل لے کر آئے تھے اور وہ ایسے کب تھے کہ ایمان لے آتے جب کہ میثاق میں اس چیز کو جھٹلاچکے تھے، ہم مشرکوں کو اس طرح ہلاک کردیا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ۔۔ : قرن سے مراد ایک عہد کے لوگ ہیں، یہاں مراد ایسی اقوام ہیں جنھوں نے اپنے اپنے دور میں عروج حاصل کیا، پھر ظلم کی وجہ سے ملیا میٹ کردی گئیں، یا عروج سے زوال میں جاگریں۔ یہ دونوں صورتیں ہی ہلاکت ہیں۔ اوپر بتایا کہ ان کی بددعا اور طلب پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب نہ اترنے میں سراسر اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے، پھر ان کا حال یہ ہے کہ تکلیف نازل ہونے پر آہ وزاری کرنے لگتے ہیں، اب انھیں ڈرایا جا رہا ہے کہ تمہاری بداعمالیوں کے باوجود اگر اللہ تعالیٰ کا عذاب ٹل جائے تو تمہیں بےفکر نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ایک نہ ایک دن ان بداعمالیوں کی سزا تو مل کر ہی رہے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 13۔ قولہ تعالیٰ : آیت : ولقد اھلکنا القرون من قبلکم لما ظلموا یعنی جب اہل مکہ سے قبل گزشتہ امتوں نے زیادتیاں کیں تو ہم نے انہیں ہلاک کردیا۔ آیت : لماظلموا یعنی جب انہوں نے کفر اور شرک کیا۔ آیت : وجاء تھم رسلھم بالبینت اور ان کے پاس ان کے رسول آئے واضح معجزات اور روشن دلیلیں لے کر۔ آیت : وماکانوا لیومنوا یعنی ہم نے انہیں ہلاک کردیا کیونکہ ہم جانتے تھے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کفار مکہ کو گزشتہ امتوں کے عذاب سے ڈرا رہا ہے، یعنی ہم ان کے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو جھٹلانے کے سبب انہیں ہلاک کرنے پر قادر ہیں لیکن ہم انہیں مہلت دے رہے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں وہ بھی ہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 12–13

1:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” دعانا لجنبہ “ سے مراد ہے لیٹے ہوئے (ہم کو پکارتا ہے) 2:۔ ابوالشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” دعانا لجنبہ اوقاعدا اوقآئما “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ وہ ہم کو ہر حال میں پکارتا ہے۔ 3:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کو پکار اپنے خوشی کے دن میں وہ تیری دعا قبول کرے گا تیرے تکلیف کے دن میں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَقَدْ اَهْلَكْنَا [ اور بیشک ہم نے ہلاک کیا ہے ] الْقُرُوْنَ [ زمانوں (کے لوگوں ) کو ] مِنْ قَبْلِكُمْ [ تم لوگوں سے پہلے ] لَمَّا [ جب ] ظَلَمُوْا ۙ [ انھوں نے ظلم کیا ] وَ [ حالانکہ ] جَاۗءَتْھُمْ [آئے ان کے پاس ] رُسُلُھُمْ [ ان کے رسول ] بِالْبَيِّنٰتِ [واضح (نشانیوں ) کے ساتھ ] وَ [ اور (پھر بھی)] مَا كَانُوْا [ وہ نہیں تھے ] لِيُؤْمِنُوْا ۭ [ کہ ایمان لاتے ] كَذٰلِكَ [ اس طرح ] نَجْزِي [ ہم بدلہ دیتے ہیں ] الْقَوْمَ الْمُجْرِمِيْنَ [جرم کرنے والے لوگوں کو ] نوٹ ۔ 1: آیت ۔ 13 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے ” قرون “ کو ہلاک کیا یہ قرن کی جمع ہے۔ جس کے معنی ہیں ” زمانہ “ پھر عام…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد فرمایا (وَلَقَدْ اَھْلَکْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ ) (الآیتین) یعنی ہم نے تم سے پہلے بہت سی جماعتوں کو ہلاک کیا۔ جبکہ انہوں نے ظلم کیا اور ان لوگوں کے پاس ان کے رسول کھلے ہوئے دلائل لے کر آئے۔ وہ ایمان لانے والے نہ تھے لہٰذا وہ ایمان نہ لائے (جب وہ ایمان نہ لائے تو انہیں ہلاک فرما دیا) ہم مجرمین کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں۔ اس آیت میں منکرین کو تنبیہ ہے کہ ہمارے ڈھیل دینے سے یہ نہ سمجھ لو کہ عذاب نہ آئے گا گزشتہ اقوام کی تاریخ اور ان کی سرکشی اور نافرمانی اور پھر ان پر عذاب آنے کے واقعات سے عبرت حاصل کرلو۔ عذاب الٰہی سے بےفکر ہوجانا بہت بڑی ناسمجھی ہے مختلف ممالک میں وقفہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 13–14

ذکر ہلاک مجرمین سابقین برائے عبرت مجرمین حاضرین قال اللہ تعالیٰ ولقد اھلکنا القرون من قبلکم۔۔۔ الی۔۔۔ لننظر کیف تعملون۔ (ربط): گزشتہ آیت میں کفار ومشرکین کا مستحق عذاب ہونا بیان کیا اب ان آیات میں کفار سابقین کا نافرمانی کے جرم میں ہلاک ہونا ذکر کرتے ہیں تاکہ حاضرین اور موجودین اور آں حضرت ﷺ ان سابقین کے حالات سے عبرت حاصل کریں اور نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی تکذیب اور مخالفت سے باز آجائیں اور سمجھ لیں کہ اللہ کی یہ قدیم سنت ہے کہ جو لوگ انبیاء ورمسلین کے کھلے نشانات دیکھنے کے بعد ان کی تکذیب پر کمر بستہ رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو آسمانی عذاب سے ہلاک کر ڈالا مگر ایک زمانہ کے بعد ہلاک…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

23: تخویف دنیوی “ تخوف بذلک کفار مکة ” (خازن) ۔ جو لوگ ایمان نہیں لاتے۔ توحید کا انکار کرتے اور رسالت و قیامت کی تکذیب کرتے ہیں وہ دنیا کی زندگی اور یہاں کی عیش و طرب پر مطمئن نہ ہوں اور یہ خیال نہ کریں کہ ان کا کچھ بگڑ نہیں سکتا۔ ان سے پہلے قوم نوح اور عاد وثمود وغیرہ کا حشر ان کو اچھی طرح معلوم ہے ان کے پاس اللہ کے پیغمبر توحید کا پیغام لے کر آئے اور واضح اور روشن دلائل سے مسئلہ توحید کو بیان کیا مگر انہوں نے اس کا انکار کیا اور ماننے پر تیار نہ ہوئے تو ہم نے ان کو شدید ترین عذابوں سے نیست و نابود کردیا۔ “ لَمَّا ظَلَمُوْا ” یعنی جب انہوں نے اللہ کی توحید کا انکار کر کے اور اس کے پیغمبروں…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–14

ربط آیات۔ قرآن کریم کی حقانیت اور پھر رسالت کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے توحید کے عقلی اور نقلی دلائل ذکر کیے۔ اس کے بعد قیامت کا مسئلہ بھی بیان فرمایا اور ایمان والوں کی اس کامیابی کا ذکر کیا جو انہیں اللہ کے ہاں حاصل ہونے والی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے منکرین قیامت کا ذکر کای جو اسی دنیا پر مطمئن ہو کر بیٹھ گئے ہیں اور اسی کو اپنا منتہائے مقصود سمجھ رہے ہیں۔ اللہ نے ان کی ناکامی اور ان کو ملنے والی سزا کا ذکر بھی کیا۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے بعض انسانوں کا شکوہ بیان کیا ہے کہ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچی ہے تو اللہ تعالیٰ سے گڑ گڑا کر دعائیں کرتے ہیں ، مگر جب اللہ اس تکلیف کو دور فرما…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ اَہْلَكْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا۝ 0 ۙ وَجَاۗءَتْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَيِّنٰتِ وَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا۝ 0 ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِي الْقَوْمَ الْمُجْرِمِيْنَ۝ 13 هلك الْهَلَاكُ علی ثلاثة أوجه : افتقاد الشیء عنك، وهو عند غيرک موجود کقوله تعالی: هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] - وهَلَاكِ الشیء باستحالة و فساد کقوله : وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ويقال : هَلَكَ الطعام . والثالث : الموت کقوله : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] وقال تعالیٰ مخبرا عن الکفّار : وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] . ( ھ ل ک ) الھلاک یہ کئی طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 10–17

2 ؎ ہر قسم کی خوبیاں اللہ ہی کو سزا وار ہیں۔ جو تمام جہان کا پروردگار ہے۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَلَقَدْ اَھْلَکْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا لا وَجَآئَ تْہُمْ رُسُلُُھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَمَا کَانُوْا لِیْؤْمِنُوْا ط کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ (یونس : 13) (بیشک ہم نے تم سے پہلے کئی عظیم قوموں کو ہلاک کیا جب وہ زیادتیاں کرنے لگے اور ان کے رسول ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے اور وہ ایسے نہیں تھے کہ ایمان لاتے۔ اسی طرح ہم مجرموں کو ان کے جرائم کا بدلہ دیا کرتے ہیں) ۔ اس آیت کریمہ میں ” قرن “ کا لفظ آیا ہے۔ اس کا معنی عموماً (ایک عہد کے لوگ یا صدی) ہوتا ہے لیکن قرآن کریم اسے عام طور پر ایسی قوم کے معنی میں استعمال کرتا ہے جو اپنے دور میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 13–14

فہم القرآن ربط کلام : حد سے گزر جانے والوں اور جرائم کا وطیرہ اختیار کرنے والوں کا تذکرہ کرنے کے بعد ان کی سزا بیان کی جارہی ہے۔ جن لوگوں نے گناہوں کو فیشن اور جرائم کو وطیرہ بنا لیا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حد سے آگے گزر جائیں تو اللہ تعالیٰ ایسے مجرموں کی ضرور گرفت کرتا ہے۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاں ظالموں اور مجرموں کی ایک حد مقرر کر رکھی ہے جب حد عبور کرنے سے دنیا کا نظام درہم برہم ہونا شروع ہوجاتا ہے تب اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کو تباہی کے گھاٹ اتار دیا۔ حالانکہ ان کے پاس رسول بھیجے گئے جنہوں نے روشن اور ٹھوس دلائل کے ساتھ انہیں راہ راست پر لانے کی بےپناہ کوششیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مکذین کا انجام ہلاکت : 13: وَلَقَدْ اَھْلَکْنَا الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ (بیشک ہم نے تم سے پہلے بہت سے اہل زمانہ کو ہلاک کیا) کم ؔ سے اہل مکہ کو مخاطب فرمایا گیا ہے لَمَّا ظَلَمُوْا (جب انہوں نے ظلم کیا) ظلم سے یہاں شرک مراد ہے یہ اہلکنا کا ظرف ہے۔ وَجَآ ئَ تْھُمْ رُسُلُھُمْ وائوؔ حالیہ ہے (حالانکہ ان کے رسول ان کے پاس) مطلب یہ ہے کہ تکذیب کر کے انہوں نے ظلم کیا حالانکہ ان کے رسول ان کے پاس بِالْبَیِّنٰتِ معجزات لائے وَمَا کَانُوْا لِیُؤْ مِنُوْا ( وہ نہ تھے ایسے کہ مانتے) اگر وہ باقی رہتے اور ہلاک نہ کئے جاتے کیونکہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں جانتے تھے کہ وہ کفر پر اصرار کرتے رہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(13)” ولقد اھلکنا القرون من قبلکم لما ظلموا “ ظلم سے مراد شرک کیا ۔ ” وجاء تھم رسلھم بالبینات وما کانوا لیئومنوا کذالک “ یعنی جیسے ہم نے ان کو ہلاک کیا ان کے کفر کی وجہ سے ” نجزی ہم سزا دیتے اور ہلاک کرتے ہیں اور القوم المجرمین “ کافروں کو ان کے محمد ﷺ کی تکذیب کرنے کی وجہ سے ۔ اس آیت میں کفار مکہ کو پہلی امتوں کے عذاب سے ڈرایا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 12–14

12۔ 14۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نافرمان لوگوں کی یہ عادت بتائی تھی کہ جس قدر ان کو دنیا میں تندرستی اور فارغ بالی دی جاتی ہے اسی قدر ان کی نافرمانی اور سرکشی بڑھتی جاتی ہے اس آیت میں دوسری عادت ان لوگوں کی فرمائی کہ تنگی کے وقت یہ سب لوگ سرکشی بھول کر اٹھتے بیٹھتے اللہ کو پکارنے لگتے ہیں اور جب اللہ ان کی وہ تنگی رفع کردیتا ہے تو پھر بالکل خدا سے بیگانے بن جاتے ہیں۔ صحیح مسلم میں صہیب رومی ؓ کی روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کی علامت یہ بیان فرمائی ہے کہ تنگی کے وقت وہ صبر کرتے ہیں اور راحت کے وقت اللہ کا شکر بجالاتے ہیں۔ 1 ؎ اور اس سے بڑھ کر ایک مقام ہے جو خاص لوگوں کو میسر ہوتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 13–14

آیت : (13-14) اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے گزشتہ قوموں کو ان کے کفر و ظلم کی بنا پر تباہ کردیا۔ رسولوں کے توسط سے ان کے پاس واضح دلائل آئے اور ان کے سامنے حق واضح ہوگیا مگر انہوں نے حق کو تسلیم نہ کیا اور وہ ایمان نہ لائے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کردیا جو کسی مجرم اور اللہ تعالیٰ کے محارم کے ارتکاب کی جسارت کرنے والے سے ہٹایا نہیں جاسکتا۔ تمام قوموں میں اللہ تعالیٰ کی یہی سنت ہے۔ (ثم جعلنکم) ” پھر بنایا ہم نے تم کو “ یعنی اے مخاطبو ! (خلئف فی الارض من بعد ھم لنظر کیف تعملون) ” زمین میں جانشین ان کے بعد ‘ تاکہ ہم دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو “ اگر تم نے گزشتہ قوموں سے عبرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

23 ۔ تاریخ سے درس عبرت حاصل کرنے کی تحریک و ترغیب : سو اس سے سابقہ قوموں کے انجام سے درس عبرت لینے کی دعوت وتحریک فرمائی گئی ہے اور اس سے واضح فرمایا گیا کہ گزشتہ قوموں کے انبیائے کرام کی بعثت و تشریف آوری ایسے کھلے اور روشن دلائل حق کے ساتھ ہوئی جن سے حق وباطل کا فرق پوری طرح واضح ہوجاتا ہے اور جن کے ذریعے انسان کو اپنی منزل حیات اور طریق نجات سے آگہی نصیب ہوجاتی ہے۔ مگر اس کے باوجود کوتاہ بین، عاقبت نا اندیش اور ناشکرے انسان نے اس سے ہمیشہ منہ ہی موڑا اور اس طرح نورحق اور صراط مستقیم سے محروم ہوکروہ اپنے لیے حرمان نصیبی کا سامان کرتا ہے اور نورحق کے مقابلے میں ظلمات جہل اور کفرو شرک کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 13–17

ظالموں کی تباہی، قرآن کی عظمت اور کھلا ثبوت تشریح : ان آیات کا پچھلی آیات سے ربط ہے۔ ان میں بھی مکہ کے لوگوں کو ہی مخاطب کر کے قرآن پاک میں اللہ کے بتائے ہوئے فوائد، قانون اور اصول بتائے جا رہے ہیں۔ یہاں وضاحت کردی گئی ہے کہ یہ قانون قدرت ہے کہ جب ایک قوم اپنی اچھائیوں سے دور اور اللہ کی رحمتوں سے غلط فائدے اٹھا کر برائی، بدکاری، عیش و آرام اور فسق و فجور کے راستوں پر چلنے لگتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی جگہ کسی دوسری قوم کو لے آتے ہیں جو اس بگاڑ کو سنوار میں بدل سکے تاکہ انسانیت امن و سکون سے پنپ سکے جب ہم تاریخ کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس میں بیشمار مثالیں مل سکتی ہیں ماضی قریب میں ہندوستان، سپین…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 11–20

آیات 11 تا 20 اسرار و معارف انسان بھی بہت عجیب سوچ رکھتا ہے بھلایہ بھی کوئی معیار ہے کہ کفار کہہ دیں جب ہم دین قبول نہیں کر رہے تو ہم پر فورا عذاب کیوں نہیں آجاتا۔ اگر اس طرح سے بات بات پر گرفت ہوتی تو انسان ختم ہوچکے ہوتے اور دوسرا اثر اس کا یہ ہوتا کہ انسانی پسنددناپسند کا موقع کون ساباقی رہتا ظاہر ہے یا فورا ایمان لے آتے یا ہلاک ہوجاتے اور اللہ تو قادر ہے جس طرح مانگے بےمانگے بےحساب نعمتیں عطافرمارہا ہے۔ زندگی طاقت دولت اقتدار ہر شے دے رہا ہے چاہے تو آن واحد میں چھین بھی سکتا ہے لیکن اگر ایسا ہونے لگے تو انسان کے لئے اختیار آزمانے کا موقع نہ رہے گا لہٰذا انسان کو پہلے سے طے شدہ وقت تک فرصت…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 12–13

ف 6۔ اس آیت میں انسان کے انتہائی عجز اور ضعف کی طرف اشارہ ہے جس سے اوپر کی آیت کے مضمون کی تاکید مقصود ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا عذاب آجائے تو انسان فوراً ہلاک ہوجائیں۔ (کبیر) ۔ مطلب یہ ہے کہ انسان اس قدر عاجز اور ناتواں ہے کہ جونہی کوئی تکلیف پہنچتی ہے لیٹے بیٹھے ہرحال میں اللہ کو پکارتا ہے لیکن اس کے بےوفائی کا یہ عالم ہے کہ جونہی تکلیف دور ہوتی ہے اسی غرور میں بدمست ہوجاتا ہے اور اپنی مصیبت سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتا۔ حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں کہ سکھ اور چین کی گھڑی میں اللہ کو یاد کرو وہ سختی اور تکلیف کی گھڑی میں تمہیں یاد رکھے گا۔ (فتح القدیر) ۔ 7۔ یعنی شیطان نے ان کے برے کاموں کو ان…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 13–14

(10:13) القرون۔ قرن کی جمع۔ وہ قومیں جن سے ہر ایک کا زمانہ دوسری سے جدا ہو۔ قومیں۔ امتیں۔ (10:13) لما۔ جب۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 13–14

لغات القرآن آیت نمبر 13 تا 14 اھلکنا (ہم نے ہلاک کیا) القرون (قومیں، نسلیں) نجزی (ہم بدلہ دیتے ہیں) خلتف (قائم مقام، نئاب، خلیفہ) لننطر (تاکہ ہم دیکھیں) تشریح :- آیت نمبر 13 تا 14 قرآن کریم میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اس بات کو پوری وضاحت سے ارشاد فرمیا ہے کہ نافرمانیوں، گناہوں اور ظلم و بغاوت پر جری ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ لوگوں کی فوراً ہی گرفت نہیں کرتا بلکہ وہ حلیم و کریم ہے وہ اپنے بندوں کو ایک خاص مدت تک مہلت عمل اور ڈھیل دیتا چلا جاتا ہے تاکہ وہ زندگی کے کسی بھی موڑ پر اپنے لئے بہتر اور مناسب راستہ کا انتخاب کرسکیں ۔ لیکن اگر پھر بھی وہ اپنی روش زندگیک و تبدیل نہیں کرتے تب ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 12–14

مشرکین کی عادتوں کا ذکر : اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نافرمان لوگوں کی عادت بتلائی تھی کہ جس قدر ان کو دنیا میں تندرستی اور فارغ البالی دی جاتی ہے اسی قدر ان کی نافرمانی اور سرکشی بڑھتی جاتی ہے۔ اس آیت میں دوسری عادت ان لوگوں کی فرمائی کہ تنگی کے وقت یہ لوگ سب سرکشی بھول کر اٹھتے بیٹھتے اللہ کو پکارنے لگتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ ان کی وہ تنگی رفع کردیتا ہے تو پھر بلکل خدا سے بیگانے بن جاتے ہیں۔ آخر کو فرمایا پچھلے لوگ اس سرکشی اور ناشکری کے وبال میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئے، اور حال کے لوگ ان پچھلے لوگوں کی قائم مقام کے طور پر زمین پر آباد ہوئے۔ جن کا ہر ایک کام اللہ تعالیٰ کی نظر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 10–14

[8] یعنی پاک ہے تو اے اللہ [9] یعنی ساری تعریف اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 12–14

(ف 2) اس آیت میں انسان کی اس نفسی خوبی کو بیان کیا ہے کہ مصیبت کے وقت اس کا دل مجلی ہوتا ہے ، اور اس وقت وہ اللہ کی ضرورت کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کرتا ہے مگر جب تکلیف کا وقت گزر جاتا ہے ، دل پر بدستور غفلت کا حجاب پڑجاتا ہے ، اور فطرت کی آواز دب جاتی ہے ۔ سچا مومن وہ ہے جو دولت و عافیت کے نشوں میں بھی فطرت پر نظر رکھتا ہے ، اور مذہب وملت کی ضروریات کو کسی حالت میں بھی فراموش نہیں کرتا ۔ حل لغات : اجلھم : مدت ۔ القرون : جمع قرن ، بمعنے زمانہ ہائے طول ، یعنی اہل زمانہ ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

13 اور یقیناً ہم تم سے پہلے بہت سی قوموں اور گروہوں کو جب انہوں نے ظالمانہ اور مشرکانہ رویہ اختیار کیا ہلاک کرچکے ہیں حالانکہ ان کے پاس ان کے رسول کھلے دلائل بھی لے کر آئے لیکن وہ لوگ ایسے نہ تھے جو مان کردیتے۔ ہم مجرموں اور گناہ گاروں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔ یعنی اپنے ظالمانہ رویہ پر ایسے مغرور تھے کہ رسولوں کی باتوں پر ایمان ہی نہیں لائے اور دلائل کی پروا نہ کی بالآخر ان کو ہلاک کرڈالا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 13–16

ف 1۔ پس جب میں تم کو سنا رہا ہوں اور میرے ذریعے سے تم کو اطلاع ہورہی ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کو اس کلام معجز کا سنورنا اور اطلاع کرنا منظور ہوا اور سنانا اور اطلاع دینا بدون وحی کے بوجہ اس کے معجز ہونے کے ممکن نہیں اس سے معلوم ہوتا ہے وہ وحی منزل اور کلام الٰہی ہے۔ 2۔ یعنی اگر یہ میرا کلام ہے تو یا تو اتنی مدت تک ایک جملہ بھی اس طرح کانہ نکلا اور یا دفعتا اتنی بڑی بات بنالی یہ تو بالکل عق کے خلاف ہے۔ فائدہ۔ اعجاز کے اثبات میں فقد لبثت فیکم سے استدلال علی سبیل التنزل ہے یعنی استدلال یہ ہے فاتوا بسورة من مثلہ اور اس میں کوئی بعید احتمال نکالنا کہ شاید عام اس پر قادر نہ ہوں آپ قادر ہوں اس…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس سے پہلے کتنی قومیں ہلاک کی جا چکی ہیں اور مجرموں کا انجام یہی ہوتا ہے 22 ؎ القرون حالت نصب میں حالت رفع میں اور حالت جر میں استعمال ہتا ہے جس کے معنی ہیں ” ایک زمانہ کے لوگ “ وہ قومیں جن میں سے ہر ایک کا زمانہ دوسرے سے جدا ہو اور اسی طرح مختلف قوموں کیلئے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے اس جگہ اس کا مطلب مختلف ہی کیا گیا یا مختلف امتیں اور امتیں کہو یا قومیں بات تو ایک ہی ہے ۔ اس طرح اہل مکہ کو بتایا جا رہا ہے کہ جو روش تم نے اختیار کر رکھی ہے وہ کسی عقل مند اور عاقبت اندیش انسان کی روش نہیں ۔ اپنے گناہوں پر تمہیں بھی ندامت نہیں ۔ ہر بھلائی اور آرام کو حاصل کرنے کیلئے تم بہت بےچین ہو لیکن جب…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The subject of verse 12 has been emphasized from a different angle in verse 13. It has been said: Let no one miscalculate that punishment cannot come in this world just because Allah Ta` ala gives respite to those who deny and disbelieve. The history of past peoples shows that different kinds of punishments have visited them because of their contumacy and disobedience right here in this world. It is a different matter that Allah Ta` ala has promised that no mass punishment will come upon the Muslim ummah in consideration of the honor of Sayyidna Muhammad al-Mustafa ﷺ the foremost among…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

16. In Arabic, the word qarn, which occurs in the above verse, usually denotes 'the people of a given age'. However, the word in its several usages in the Qur'an, connotes a 'nation' which, wielded in its heyday, whether fully or partially, the reins of world leadership. When it is said that a certain nation was 'destroyed' this does not necessarily mean its total annihilation. When any such nation suffers the loss of its ascendancy and leadership, when its culture and civilization become extinct, when its identity is effaced, in fact, when such a nation disintegrates and its component pans…

Read the full tafseer →