مومن ہر حال میں اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں۔
اسی آیت جیسی (وَاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَاۗءٍ عَرِيْضٍ 51) 41۔ فصلت :51) ہے یعنی جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بڑی لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے۔ ہر وقت اٹھتے بیٹھے لیٹتے اللہ سے اپنی تکلیف کے دور ہونے کی التجائیں کرتا ہے۔ لیکن جہاں دعا قبول ہوئی تکلیف دور ہوئی اور ایسا ہوگیا جیسے کہ نہ اسے کبھی تکلیف پہنچی تھی نہ اس نے کبھی دعا کی تھی۔ ایسے لوگ حد سے گزر جانے والے ہیں اور وہ انہیں اپنے ایسے ہی گناہ اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ ہاں ایماندار، نیک اعمال، ہدایت و رشد والے ایسے نہیں ہوتے۔ حدیث شریف میں ہے مومن کی حالت پر تعجب ہے۔ اس کے لیے ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
سورة یُوْنُس 15
اوپر کے تمہیدی فقروں کے بعد اب نصیحت اور تفہیم کی تقریر شروع ہوتی ہے۔ اس تقریر کو پڑھنے سے پہلے اس کے پس منظر سے متعلق دو باتیں پیش نظر رکھنی چاہییں
ایک یہ کہ اس تقریر سے تھوڑی مدت پہلے وہ مسلسل اور سخت بلا انگیز، قحط ختم ہوا تھا جس کی مصیبت سے اہل مکہ چیخ اٹھے تھے۔ اس قحط کے زمانے میں قریش کے متکبرین کی اکڑی ہوئی گردنیں بہت جھک گئی تھیں۔ دعائیں اور زاریاں کرتے تھے، بت پرستی میں کمی آگئی تھی، خدائے واحد کی طرف رجوع بڑھ گیا تھا اور نوبت یہ آگئی تھی کہ آخرکار ابو سفیان نے آکر نبی ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ﷺ خدا سے اس بلا کو ٹالنے کے لیے دعا کریں۔ مگر جب قحط دور ہوگیا، بارشیں ہونے…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں منکرین توحید و آخرت کو ایک دوسرے بلیغ انداز سے قائل کیا گیا ہے وہ یہ کہ لوگ عام حالات راحت و اطمینان میں خدا و آخرت کے خلاف حجت بازی کرتے اور غیروں کو خدا تعالیٰ کا شریک قرار دیتے اور ان سے حاجت روائی کی امیدیں باندھے رکھتے ہیں، لیکن جب کوئی بڑی مصیبت آپڑتی ہے اس وقت یہ لوگ خود بھی اللہ تعالیٰ کے سوا اپنی ساری امید گاہوں سے مایوس ہو کر صرف اللہ ہی کو پکارتے ہیں، اور لیٹے، بیٹھے، کھڑے غرض ہر حال میں اسی کو پکارنے پر مجبور ہوتے ہیں، مگر اس کے ساتھ احسان فراموشی کا یہ عالم ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان کی مصیبت دور کردیتے ہیں تو خدا تعالیٰ سے ایسے آزاد و بےفکر ہوجاتے ہیں کہ گویا کبھی اس…
Read the full tafseer →وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖٓ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَاۗىِٕمًا ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ يَدْعُنَآ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ ۭ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ۔
سرکشوں کی فطرت : " انسان " کا لفظ ہرچند عام ہے لیکن اس سے مراد وہی متمردین قریش ہیں جو عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے ان کو لائق خطاب نہیں سمجھا اس وجہ سے بات عام الفاظ میں فرما دی۔ یہ ان کی اس اکڑ پر ایک ضرب بھی ہے اور اس میں اشارہ اس حقیقت کی طرف بھی ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ اس قسم کے لوگوں کا مطالبہ عذاب پورا کردیا جائے تو وہ ایمان لائیں گے۔ اس قسم کے لوگ ایمان…
Read the full tafseer →12۔ 1 یہ انسان کی اس حالت کا تذکرہ ہے جو انسانوں کی اکثریت کا شیوہ ہے۔ بلکہ بہت سے اللہ کے ماننے والے بھی اس کوتاہی کا عام ارتکاب کرتے ہیں کہ مصیبت کے وقت تو خوب اللہ اللہ ہو رہا ہے، دعائیں کی جا رہی ہیں توبہ استغفار کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ مصیبت کا وہ کڑا وقت نکال دیتا ہے تو پھر بارگاہ الٰہی میں دعا و گڑگڑانے سے غافل ہوجاتے ہیں اور اللہ نے ان کی دعائیں قبول کرکے جس امتحان اور مصیبت سے نجات دی، اس پر اللہ کا شکر ادا کرنے کی بھی توفیق انہیں نصیب نہیں ہوتی۔
12۔ 2 بطور آزمائش اور مہلت اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی ہوسکتی ہے، وسوسوں کے ذریعے سے شیطان کی طرف سے بھی ہوسکتی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
5: یہ دراصل کفار عرب کے ایک سوال کا جواب ہے، جب انہیں کفر کے نتیجے میں عذاب الٰہی سے ڈرایا جاتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ اگر یہ بات سچ ہے تو وہ عذاب ابھی کیوں نہیں آجاتا ؟ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ لوگ عذاب آنے کے لئے اس طرح جلدی مچا رہے ہیں جیسے وہ کوئی اچھی چیز ہو، لیکن اگر اللہ تعالیٰ ان کی خواہش کے مطابق ابھی عذاب نازل کردے تو ان کو سوچنے سمجھنے کی جو مہلت دی گئی ہے وہ ختم ہوجائے گی، اور پھر ان کا ایمان لانا معتبر بھی نہیں ہوگا، لہذا اللہ تعالیٰ ان کے اس مطالبے کو اپنی حکمت کی بناء پر پورا نہیں کر رہا ہے ؛ بلکہ فی الحال ان کو اپنے حال پر چھوڑدیا ہے، تاکہ جو لوگ سرکش ہیں وہ گمراہی میں…
Read the full tafseer →واذا مس الانسان الضر اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔ الضر سے مراد ہے سختی ‘ مصیبت۔
دعانا لجنبہ او قاعدًا او قائمًا تو وہ (نجات و خلاص کیلئے) ہم کو پکارتا ہے پہلو کے بل (یعنی لیٹ کر) یا بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر۔ یعنی مصیبت دور ہونے کی ہر حالت میں فوراً ہم سے دعا کرتا ہے لیٹے لیٹے ‘ بیٹھے بیٹھے ‘ کھڑے کھڑے۔
فلما کشفنا عنہ ضرہ مر پھر جب ہم اس کی تکلیف ہٹا دیتے ہیں ‘ کھول دیتے ہیں تو وہ اپنے سابق طریقے پر قائم رہتا ہے ‘ کفر کرتا رہتا ہے ‘ ناشکری کرتا ہے۔
کان لم یدعنا معلوم ہوتا ہے کہ (مصیبت اور دکھ کی حالت میں) اس نے ہم سے دعا ہی نہیں کی تھی ‘ ہم کو پکارا ہی نہ تھا۔
الی ضر مسہ اس مصیبت کو دور…
Read the full tafseer →1 یعنی انسان اول بےباکی سے خود عذاب طلب کرتا اور برائی اپنی زبان سے مانگتا ہے۔ مگر کمزور اور بودا اتنا ہے کہ جہاں ذرا تکلیف پہنچی گھبرا کر ہمیں پکارنا شروع کردیا۔ جب تک مصیبت رہی کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر حالت میں خدا کو پکارتا رہا۔ پھر جہاں تکلیف ہٹا لی گئی، سب کہا سنا بھول گیا۔ گویا خدا سے کبھی کوئی واسطہ نہ تھا۔ وہ ہی غرور غفلت کا نشہ، وہ ہی اکڑفوں رہ گئی۔ جس میں پہلے مبتلا تھا۔ حدیث میں ہے کہ تو خدا کو اپنے عیش و آرام میں یاد رکھ، خدا تجھ کو تیری سختی اور مصیبت میں یاد رکھے گا۔ مومن کی شان یہ ہے کہ کسی وقت خدا کو نہ بھولے۔ سختی پر صبر اور فراخی پر خدا کا شکر ادا کرتا رہے۔ یہ ہی وہ چیز ہے جس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
آیت 12 وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَان الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِہٖٓ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآءِمًا ج ”اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے پہلو کے بل لیٹے ہوئے یا بیٹھے ہوئے یا کھڑے ہوئے۔“
فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُ ضُرَّہٗ مَرَّ کَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَآ اِلٰی ضُرٍّ مَّسَّہٗ ط ”پھر جب ہم اس سے اس کی تکلیف کو دور کردیتے ہیں تو وہ ایسے چل دیتا ہے جیسے اس نے ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا کوئی تکلیف پہنچنے پر۔“
کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ”ایسے ہی مزین کردیا گیا ہے ان حد سے بڑھنے والوں کے لیے ان کے اعمال کو۔“
ان کے اندر اتنی ڈھٹائی پیدا ہوگئی ہے کہ ذرا تکلیف…
Read the full tafseer →18 شرکیہ کام خوشحالی میں ہی بھلے لگتے ہیں :۔ انسان کی ایک عادت تو یہ ہے کہ وہ دوسرے کے حق میں یا اپنے لیے کوئی بددعا کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی یہ بددعا جلد از جلد قبول ہو جس کا لازمی نتیجہ سب لوگوں کی تباہی پر منتج ہوتا ہے اور اس کی دوسری عادت یہ ہے کہ جب کوئی مصیبت پڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ کو سچے دل سے پکارنے لگتا ہے اور اللہ سے کئی طرح کے وعدے کرتا ہے لیکن جب اللہ وہ مصیبت دور کردیتا ہے تو سب کچھ بھول جاتا ہے نہ اسے اللہ یاد رہتا ہے اور نہ اس سے کیے ہوئے وعدے یاد رہتے ہیں پھر اسے اپنے خود ساختہ حاجت روا اور مشکل کشا یاد آنے لگتے ہیں جیسا کہ قریش مکہ نے بھی یہی کچھ کیا تھا۔ جب آپ کی دعا سے…
Read the full tafseer →23۔ یعنی ہر حال میں اور ہر وضع کے ساتھ ہم کو پکارتا رہتا ہے۔ شدت اضطراب واضطرار میں ناشکر انسان بھی توجہ الی اللہ میں لگ جاتا ہے۔ (آیت) ” الانسان “۔ انسان سے یہاں مراد ناشکرا کافر انسان ہے۔ قیل المراد بالانسان ھنا الکافر (قرطبی)
24۔ یعنی ادھر مصیبتیں دور ہوئیں، ادھر غافل انسان پھر غفلتوں کا شکار ہوگیا۔ انما اراد جمیع حالاتہ (قرطبی) اے فی حال اضطجاعہ وقعودہ وقیامہ وفی جمیع احوالہ (ابن کثیر)
25۔ عارفین نے اسی لئے ہمیشہ بڑے تضرع وابتہال کے ساتھ دعائیں مانگی ہیں کہ اے اللہ ہم کو حق ہمیشہ حق ہی کی صورت میں اور باطل ہمیشہ باطل ہی کی شکل میں دکھا۔
آب خوش را صورت آتش مدہ !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیت نمبر 11 تا 20
ترجمہ : اور (آئندہ) آیت اس وقت نازل ہوئی جبکہ مشرکین نے عذاب کے جلد آنیکا مطالبہ کیا، اور اگر اللہ لوگوں کیلئے شر کے معاملہ میں جلدی کرتا جیسا کہ یہ خیر کے معاملہ میں جلدی کرتے ہیں تو ان کا وعدہ پورا کردیا گیا ہوتا قُضِیَ مجھول اور معروف دونوں طرح پڑھا گیا ہے، (اَجَلُھُمْ ) رفع اور نصب کے ساتھ ہے بایں صورت کہ ان کو ہلاک کردیا گیا ہوتا، لیکن وہ ان کی مہلت دیتا ہے سو ہم ان کو جن کو ہمارے پاس آنے کی توقع نہیں ہے ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے رہتے ہیں، (یعنی) تردد کے ساتھ حیران رہتے ہیں، اور جب کافر انسان کو مرض اور فقر وغیرہ کی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارنے لگتا ہے، لیٹے…
Read the full tafseer →واذا مس الانسان الضر اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔ الضر سے مراد ہے سختی ‘ مصیبت۔
دعانا لجنبہ او قاعدًا او قائمًا تو وہ (نجات و خلاص کیلئے) ہم کو پکارتا ہے پہلو کے بل (یعنی لیٹ کر) یا بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر۔ یعنی مصیبت دور ہونے کی ہر حالت میں فوراً ہم سے دعا کرتا ہے لیٹے لیٹے ‘ بیٹھے بیٹھے ‘ کھڑے کھڑے۔
فلما کشفنا عنہ ضرہ مر پھر جب ہم اس کی تکلیف ہٹا دیتے ہیں ‘ کھول دیتے ہیں تو وہ اپنے سابق طریقے پر قائم رہتا ہے ‘ کفر کرتا رہتا ہے ‘ ناشکری کرتا ہے۔
کان لم یدعنا معلوم ہوتا ہے کہ (مصیبت اور دکھ کی حالت میں) اس نے ہم سے دعا ہی نہیں کی تھی ‘ ہم کو پکارا ہی نہ تھا۔
الی ضر مسہ اس مصیبت کو دور…
Read the full tafseer →(12) اور جب کو یعنی ہشام بن مغیرہ مخزومی کو کوئی تکلیف یا بیماری پہنچتی ہے تو بستر پر بھی ہمیں پکارنے لگتا ہے پھر جب ہم اس سے اس کی وہ تکلیف دور کردیتے ہیں تو پھر دعا کر چھوڑ کر اپنی پہلی حالت پر آجاتا ہے، گویا جو تکلیف اس کو پہنچتی تھی اس کے ہٹانے کے لیے کبھی ہمیں پکارا ہی نہ تھا، ان مشرکین کو ان کے اعمال شرکیہ اسی طرح اچھے معلوم ہوتے ہیں کہ سختی اور تکلیف میں ہمیں پکارتے ہیں اور فراخی و خوشحالی میں ہمیں بھول جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَان الضُّرُّ۔۔ : یہاں ”الانسان“ سے مراد اکثر انسان ہیں، جن میں کفار و مشرکین بھی شامل ہیں، کیونکہ انھی کا ذکر پہلے اور بعد میں چل رہا ہے اور وہ بھی مصیبت کے وقت اللہ کو پکارتے ہیں، پھر مقصد پورا ہوجانے کے بعد سرے سے اسے بھول جاتے ہیں، بعض مومنوں کا بھی یہی حال ہے۔ یعنی انسان اس قدر عاجز و ناتواں ہے کہ جوں ہی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو لیٹتے، بیٹھتے اور کھڑے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے، لیکن اس کی بےوفائی کا یہ عالم ہے کہ جوں ہی تکلیف دور ہوتی ہے اسی پہلے غرور میں بدمست ہوجاتا ہے اور اپنی مصیبت اور تکلیف سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتا۔ انسان کی اس عادت کا کئی آیات میں…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 12
قولہ تعالیٰ : آیت : واذامس الانسان الضر دعانا لجنبہ کہا گیا ہے کہ یہاں انسان سے مراد کافر ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ابو حذیفہ بن مغیرہ مشرک ہے، اسے کوئی تکلیف، شدت اور مشقت پہنچتی تھی۔ آیت : دعانا لجنبہ وہ ہمیں پکارتا اپنے پہلو پر لیٹے ہوئے۔
آیت : او قا عدا اوقائما (یا بیٹھے ہوئے یا کھڑے ہوئے ہو) اس سے مراد اس کے جمیع حالات ہیں، کیونکہ انسان ان تین حالات میں سے کسی ایک سے بھاگ نہیں سکتا (1۔ معالم التنزیل، سورة یونس، جلد 3، صفحہ 142 ) ۔ بعض نے کہا ہے : بیشک آغاز لینے سے کیا ہے کیونکہ اسے امر غالب میں جتنی شدید ترین ہوتی ہے، تو وہ اتنا زیادہ پکارتا ہے اور اس کی کوشش میں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
1:۔ ابن جریر وابن منذر رحمہما اللہ نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” دعانا لجنبہ “ سے مراد ہے لیٹے ہوئے (ہم کو پکارتا ہے)
2:۔ ابوالشیخ نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” دعانا لجنبہ اوقاعدا اوقآئما “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ وہ ہم کو ہر حال میں پکارتا ہے۔
3:۔ ابو الشیخ (رح) نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کو پکار اپنے خوشی کے دن میں وہ تیری دعا قبول کرے گا تیرے تکلیف کے دن میں۔
Read the full tafseer →وَاِذَا [اور جب کبھی ] مَسَّ [ چھوتی ہے ] الْاِنْسَانَ [ انسان کو ] الضُّرُّ [ تکلیف ] دَعَانَا [ تو وہ پکارتا ہے ہم کو ] لِجَنْۢبِهٖٓ [ اپنی کروٹ کے بل ] اَوْ [ یا ] قَاعِدًا [ بیٹھے ہوئے ] اَوْ [ یا ] قَاۗىِٕمًا ۚ [ کھڑے ہوئے ] فَلَمَّا [ پھر جب ] كَشَفْنَا [ ہٹا دیتے ہیں ہم ] عَنْهُ [ اس سے ] ضُرَّهٗ [ اس کی تکلیف کو ] مَرَّ [ تو وہ گزرتا ہے (یعنی چل دیتا ہے ) ] كَاَنْ [ جیسے کہ ] لَّمْ يَدْعُنَآ [ اس نے پکارا ہی نہیں ہم کو ] اِلٰى ضُرٍّ [ اس تکلیف کے لیے ] مَّسَّهٗ ۭ [ جس نے چھوا اس کو ] كَذٰلِكَ [ اس طرح ] زُيِّنَ [ مزین کیا گیا ] لِلْمُسْرِفِيْنَ [ حد سے تجاوز کرنے والوں کے لیے ] مَا […
Read the full tafseer →اس کے بعد انسان کی ایک اور بےراہی بیان فرمائی جو اس کی طبیعت بنی ہوئی ہے۔ ارشاد فرمایا (وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَان الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِہٖ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآءِمًا) اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو ہمیں لیٹے ہوئے ‘ بیٹھے ہوئے اور کھڑے ہوئے پکارتا ہے۔ (فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُ ضُرَّہٗ مَرَّکَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَآ اِلٰی ضُرٍّمَّسَّہٗ ) پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو ایسے گزر جاتا ہے کہ گویا اس نے تکلیف پہنچ جانے پر ہمیں پکارا ہی نہ تھا۔ یہ مضمون قرآن مجید کی دیگر آیات میں بھی وارد ہوا ہے۔ سورة زمر میں فرمایا (وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّدَعَا رَبَّہٗ مُنِیْبًا اِلَیْہِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
منکرین نبوت کے شبہ کا جواب
قال اللہ تعالی۔ ولو یعجل اللہ للناس الشر۔۔۔ الی۔۔۔ فی طغیانھم یعمہون
(ربط): اس سورت کا آغاز منکرین نبوت کے شبہات کے جوابات سے ہوا ہے چناچہ منکرین نبوت کے ایک شبہ کا جواب شروع سورت میں ہوچکا ہے اب ان آیات میں ان کے ایک اور شبہ کا جواب دیتے ہیں کہ کفار اکثر یہ کہا کرتے تھے کہ اگر محمد ﷺ خدا کے سچے نبی ہیں تو ان کی مخالفت کرنے پر عذاب کیوں نہیں آتا اور ہم پر آسمان سے پتھر کیوں نہیں برستے۔ اور ہم ہلاک کیوں نہیں کردئیے جاتے لہذا حق سبحانہ ان کے اس شبہ کا جواب ارشاد فرماتے ہیں کہ منکرین اور مخالفین پر فورا عذاب نازل کرنا ہماری حکمت اور حمت کے خلاف ہے۔ ہم جیسا لوگوں پر…
Read the full tafseer →20: یہ شکوی ہے۔ انسان کیا احسان فراموش ہے اللہ تعالیٰ کی قدرت کے واضح نشان دیکھ کر اور اس کی بےحساب نعمتیں ملاحظہ کر کے پھر بھی عقل وفکر سے کام نہیں لیتا اور اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے۔ حالانکہ جب کبھی اس پر کوئی بہت بڑی مصیبت آجاتی ہے تو اپنے تمام خود ساختہ معبودوں کو بھول کر ہر حالت میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارتا ہے۔ مشرکین عرب اپنی معمولی حاجات ومشکلات کے لیے تو اپنے معبودانِ باطلہ کو پکارتے تھے مگر جب کسی شدید ترین مصیبت میں مبتلا ہوجاتے تو سب کو چھوڑ چھاڑ کر صرف رب محمد ﷺ جل جلالہ کو پکارتے اور اس کی دہائی دیتے حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں وہ پیغمبر خدا ﷺ سے سنتے رہتے تھے کہ اگر مسئلہ توحید…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
ربط آیات۔
قرآن کریم کی حقانیت اور پھر رسالت کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے توحید کے عقلی اور نقلی دلائل ذکر کیے۔ اس کے بعد قیامت کا مسئلہ بھی بیان فرمایا اور ایمان والوں کی اس کامیابی کا ذکر کیا جو انہیں اللہ کے ہاں حاصل ہونے والی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے منکرین قیامت کا ذکر کای جو اسی دنیا پر مطمئن ہو کر بیٹھ گئے ہیں اور اسی کو اپنا منتہائے مقصود سمجھ رہے ہیں۔ اللہ نے ان کی ناکامی اور ان کو ملنے والی سزا کا ذکر بھی کیا۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے بعض انسانوں کا شکوہ بیان کیا ہے کہ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچی ہے تو اللہ تعالیٰ سے گڑ گڑا کر دعائیں کرتے ہیں ، مگر جب اللہ اس تکلیف کو دور فرما…
Read the full tafseer →وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِہٖٓ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَاۗىِٕمًا 0 ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْہُ ضُرَّہٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ يَدْعُنَآ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّہٗ 0 ۭ كَذٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِيْنَ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ 12
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
2 ؎ ہر قسم کی خوبیاں اللہ ہی کو سزا وار ہیں۔ جو تمام جہان کا پروردگار ہے۔
Read the full tafseer →وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّدَعَانَالِجَنْبِیْہٖٓ اَوْقَاعِدًا اَوْقَآئِمًا ج فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُ ضُرَّہٗ مَرَّکَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَاٗ اِلٰی ضُرٍّمَّسَّہٗ ط کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْن۔
(یونس : 12)
جب انسان کو کوئی سخت تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارنے لگتا ہے۔ لیٹا ہوا یا بیٹھا ہوا یا کھڑا ہوا۔ پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو اس طرح چل دیتا ہے جیسے اس نے کسی تکلیف میں جو اسے پہنچی تھی کبھی ہمیں پکارا ہی نہیں تھا۔ اسی طرح حدود سے تجاوز کرنے والوں کی نگاہوں میں ان کے کرتوت خوشنما بنا دیئے گئے ہیں۔
مشرکینِ مکہ کے کردار کی بنیادی خرابی
آیتِ…
Read the full tafseer →اسراف کا معنی ہے : زیادتی کرنا، حد سے تجاوز کرنا، فضول خرچی کرنا۔
اسراف میں یہ جرم بھی شامل ہوتا ہے کہ کسی فرد، خاندان یا قوم کے لیے گناہ فیشن کا درجہ اختیار کر جائے اگر اسے روکا جائے تو وہ اس میں اپنی توہین اور گناہ کو چھوڑنے میں دقیانوسی ہونے کا طعنہ محسوس کرتا ہے۔
(إِنَّ الْمُبَذِّرِینَ کَانُوْا إِخْوَان الشَّیَاطِینِ وَکَان الشَّیْطَانُ لِرَبِّہِ کَفُوْرًا)[ بنی اسرائیل : 27]
” بلاشبہ فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا نافرمان تھا۔ “
فضول خرچی کی ممانعت :
(عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیْہِ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ کُلُوْا وَاشْرَبُوْا…
Read the full tafseer →کافر کا دکھ سکھ میں حال :
12: وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ (جب انسان کو پہونچتی ہے) مس کا معنی پہنچنا اور انسان سے کافر انسان مراد ہے الضُّرُّ دَ عَانَا (تکلیف تو وہ ہمیں پکارتا ہے) یعنی اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے تاکہ وہ اس تکلیف کا ازالہ کر دے لِجَنْچبِہٖٓ ( اپنے پہلو پر) یہ حال ہے کیونکہ بعد والے حال کا یہ معطوف علیہ ہے۔ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآئِمًا (بیٹھے یا کھڑے) یعنی لیٹے ہوئے بھی ہمیں پکارتا ہے۔ ان تینوں حالتوں کو ذکر کرنے کا فائدہ یہ ہے۔ کہ تکلیف زدہ کے بارے ظاہر کردیا جائے کہ وہ ہمیں مسلسل پکارتا ہے۔ نہ پکارنے سے اکتاتا اور نہ منقطع کرتا ہے جب تک کہ ضررو تکلیف اس سے دور نہیں ہوجاتی۔ وہ…
Read the full tafseer →تفسیر :(12)” واذا مس الانسان الضر “ ضر سے مراد مشقت اور سختی ہے ۔ ” دعا نا لجنبہ “ اپنے پہلو پر لیٹے ہوئے ” او قاعدا ً او قائما “ یعنی تمام حالات میں کیونکہ انسان ان حالتوں میں کسی حالت سے باہر نہیں ہوتا ۔” فلما کشفنا ہم دور کردیں عنہ ضرہ مرکان لم یدعنا الی ضرمسہ یعنی تکلیف پہنچنے سے پہلے جو حالت تھی اسی پر آجاتا ہے اور اپنی مصیبت اور مشقت بھول جاتا ہے۔ گویا کہ اس نے ہم سے اس تکلیف دور کرنے کی دعا ہی نہ کی تھی ۔ ” کذلک زین للمسرفین “ کفر اور معصیت میں حد سے تجاوز کنے والوں کے لیے ” ما کانوا یعملون “ نافرمانیوں میں سے ، ابن جریج (رح) فرماتے ہیں کہ مسرفین کے لیے یہ مزین کیا گیا ہے کہ مصیبت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
12۔ 14۔ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نافرمان لوگوں کی یہ عادت بتائی تھی کہ جس قدر ان کو دنیا میں تندرستی اور فارغ بالی دی جاتی ہے اسی قدر ان کی نافرمانی اور سرکشی بڑھتی جاتی ہے اس آیت میں دوسری عادت ان لوگوں کی فرمائی کہ تنگی کے وقت یہ سب لوگ سرکشی بھول کر اٹھتے بیٹھتے اللہ کو پکارنے لگتے ہیں اور جب اللہ ان کی وہ تنگی رفع کردیتا ہے تو پھر بالکل خدا سے بیگانے بن جاتے ہیں۔ صحیح مسلم میں صہیب رومی ؓ کی روایت ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کی علامت یہ بیان فرمائی ہے کہ تنگی کے وقت وہ صبر کرتے ہیں اور راحت کے وقت اللہ کا شکر بجالاتے ہیں۔ 1 ؎ اور اس سے بڑھ کر ایک مقام ہے جو خاص لوگوں کو میسر ہوتا…
Read the full tafseer →آیت : (12)
اس میں انسان کی فطرت کے بارے میں خبر دی گئی ہے کہ جب اسے کسی مرض یا مصیبت کی وجہ سے کوئی تکلیف پہنچتی ہے ‘ تو خوب دعائیں کرتا ہے اور وہ اٹھتے بیٹھتے لیٹتے ہرحال میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہے ‘ اپنی دعاؤں میں گڑگڑاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی تکلیف کو دور کر دے۔ (فلما کشفنا عنھ ضرہ مر کان لم یدعنا الی ضرمسہ) ” پو جب ہم اس سے اس کی تکلیف کو دور کردیتے ہیں تو وہ (یوں) چلا جاتا ہے گویا کہ اس نے ہمیں کسی تکلیف کے پہنچنے پر پکارا ہی نہیں “ یعنی اپنے رب سے رو گردانی کرتے ہوئے غفلت میں مستغرق رہتا ہے گویا کہ اسے کوئی تکلیف ہی نہیں آئی ‘ جسے اللہ تعالیٰ نے دور کیا ہو۔ اس سے بڑھ کر اور کون…
Read the full tafseer →20 ۔ انسان کی تنگ ظرفی کا ایک مظہر و نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب اس کو کوئی تکلیف چھوجاتی ہے تو یہ لیٹے بیٹھے اور کھڑے یعنی ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا ہے کیونکہ انسان ان تینوں حالتوں میں سے کسی ایک حالت پر ہی ہوتا ہے، بیٹھا، کھڑا، یا لیٹا۔ تو مطلب یہ ہوا کہ ایسے میں تو یہ تنگ ظرف اور مادہ پرست انسان ہر حال میں اللہ کو پکارتا ہے مگر جونہی اس سے وہ تکلیف دور ہوئی اور اس کو اس سے راحت و رہائی ملی یہ اور ہوگیا اور اس کے انداز واطوار بدل گئے۔ اور یہاں تک کہ وہ گویا ہماری گرفت اور پکڑکے دائرے سے ہی ہمیشہ کیلئے نکل گیا۔ والعیاذ باللہ۔ سو مومن صادق کو پاہئے کہ وہ ہر حال میں اور خاص کر…
Read the full tafseer →تکلیف رفع ہونے پر انسان کی فطرت
تشریح : یہ بھی انسان کی فطرت کا ذکر کیا گیا ہے کہ مصیبت اور پریشانی میں تو اللہ خوب یاد آتا ہے مگر جب آسائش و آرام مل جاتا ہے تو پھر اللہ کو بالکل ہی بھلا دیتے ہیں۔ اتنا بھی نہیں کرتے کہ اللہ کا شکر ہی ادا کردیں۔ ان کے لیے ان کے یہ اعمال خوشنما بنا دیے جاتے ہیں یعنی یہ لوگ حد سے گزر جانے والے ہیں اسی لیے ان کے بد اعمال کو ان کے لیے اچھا کردیا گیا ہے۔ یعنی وہ لوگ شکر الٰہی، غفلت اور خواہشات کی پیروی میں ہی خوش رہتے ہیں۔ شکر و دعا صرف اتنی دیر ہی ان کو یاد رہتی ہے جتنی دیر مصیبت میں پھنسے ہوئے ہوں۔ مصیبت ٹلی اور یہ پھر شتر بےمہار بن جاتے ہیں۔ اور اسی میں یہ خوش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیات 11 تا 20
اسرار و معارف
انسان بھی بہت عجیب سوچ رکھتا ہے بھلایہ بھی کوئی معیار ہے کہ کفار کہہ دیں جب ہم دین قبول نہیں کر رہے تو ہم پر فورا عذاب کیوں نہیں آجاتا۔ اگر اس طرح سے بات بات پر گرفت ہوتی تو انسان ختم ہوچکے ہوتے اور دوسرا اثر اس کا یہ ہوتا کہ انسانی پسنددناپسند کا موقع کون ساباقی رہتا ظاہر ہے یا فورا ایمان لے آتے یا ہلاک ہوجاتے اور اللہ تو قادر ہے جس طرح مانگے بےمانگے بےحساب نعمتیں عطافرمارہا ہے۔ زندگی طاقت دولت اقتدار ہر شے دے رہا ہے چاہے تو آن واحد میں چھین بھی سکتا ہے لیکن اگر ایسا ہونے لگے تو انسان کے لئے اختیار آزمانے کا موقع نہ رہے گا لہٰذا انسان کو پہلے سے طے شدہ وقت تک فرصت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
ف 6۔ اس آیت میں انسان کے انتہائی عجز اور ضعف کی طرف اشارہ ہے جس سے اوپر کی آیت کے مضمون کی تاکید مقصود ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا عذاب آجائے تو انسان فوراً ہلاک ہوجائیں۔ (کبیر) ۔ مطلب یہ ہے کہ انسان اس قدر عاجز اور ناتواں ہے کہ جونہی کوئی تکلیف پہنچتی ہے لیٹے بیٹھے ہرحال میں اللہ کو پکارتا ہے لیکن اس کے بےوفائی کا یہ عالم ہے کہ جونہی تکلیف دور ہوتی ہے اسی غرور میں بدمست ہوجاتا ہے اور اپنی مصیبت سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتا۔ حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں کہ سکھ اور چین کی گھڑی میں اللہ کو یاد کرو وہ سختی اور تکلیف کی گھڑی میں تمہیں یاد رکھے گا۔ (فتح القدیر) ۔
7۔ یعنی شیطان نے ان کے برے کاموں کو ان…
Read the full tafseer →(10:12) الضر۔ تکلیف، بلا، سختی۔ ایذا۔ اسم ہے۔ یہ بدحالی خواہ اپنے نفس (اندورون) میں ہو بسبب علم و فضل اور عفت کی کمی ہونے کے۔ یا اپنے بدن میں کسی عضو کے نہ ہونے کے باعث یا کسی نقص کی بناء پر۔ خواہ حالت ظاہری میں بوجہ مال و جاہ کی قلت کے۔
لجنبہ۔ جنب پہلو۔ یعنی اپنے پہلو کے بل۔
کشفنا ماضی جمع متکلم۔ ہم نے دور کردیا۔ ہم نے ٹال دیا۔ (آیۃ ہذا) کھولنا اور پردہ ہٹانا کے معنی میں جیسے لقد کنت فی غفلۃ من ھذا فکشفنا عنک غطاء ک (50:22) یہ وہ دن ہے کہ اس سے تو غافل ہو رہا تھا اب ہم نے تجھ پر سے پردہ ہٹا دیا۔
مسرفین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ مجرور۔ اسراف مصدر۔ حد اعتدال سے آگے بڑھ جانے والے ۔ بےجا و بےہودہ صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 12
یعجل (وہ جلدی بھیجتا ہے) استفجال (وہ جلدی مانگتے ہیں) نذر (ہم چھوڑ دیتے ہیں) طغیان (سرکشی، نافرمانی) یعمھون (وہ بھٹکتے ہیں، گھومتے ہیں) کشفنا (ہم نے کھول دیا (تہس نہس کیا) مسرفین (حد سے بڑھ جانے والے)
تشریح : آیت نمبر 11 تا 12
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی مقامتا پر ارشاد فرمایا ہے کہ اس نے انسان کو بہت سی عظمت عطا فرمائی ہیں روحانی بھی اور جسمانی بھی۔ روحانی تو ایسی کہ اس کو فرشتوں کا مسجود بنا دیا تمام فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ انسان کی عظمت کے سامنے سب کے سب سجدہ کریں۔ جب شیطان نے انسان کی عظمت کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا تو اس کو قیامت تک اپنی بارگاہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
مشرکین کی عادتوں کا ذکر : اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نافرمان لوگوں کی عادت بتلائی تھی کہ جس قدر ان کو دنیا میں تندرستی اور فارغ البالی دی جاتی ہے اسی قدر ان کی نافرمانی اور سرکشی بڑھتی جاتی ہے۔ اس آیت میں دوسری عادت ان لوگوں کی فرمائی کہ تنگی کے وقت یہ لوگ سب سرکشی بھول کر اٹھتے بیٹھتے اللہ کو پکارنے لگتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ ان کی وہ تنگی رفع کردیتا ہے تو پھر بلکل خدا سے بیگانے بن جاتے ہیں۔ آخر کو فرمایا پچھلے لوگ اس سرکشی اور ناشکری کے وبال میں طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک ہوگئے، اور حال کے لوگ ان پچھلے لوگوں کی قائم مقام کے طور پر زمین پر آباد ہوئے۔ جن کا ہر ایک کام اللہ تعالیٰ کی نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
[8] یعنی پاک ہے تو اے اللہ
[9] یعنی ساری تعریف اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
(ف 2) اس آیت میں انسان کی اس نفسی خوبی کو بیان کیا ہے کہ مصیبت کے وقت اس کا دل مجلی ہوتا ہے ، اور اس وقت وہ اللہ کی ضرورت کو دل کی گہرائیوں سے محسوس کرتا ہے مگر جب تکلیف کا وقت گزر جاتا ہے ، دل پر بدستور غفلت کا حجاب پڑجاتا ہے ، اور فطرت کی آواز دب جاتی ہے ۔
سچا مومن وہ ہے جو دولت و عافیت کے نشوں میں بھی فطرت پر نظر رکھتا ہے ، اور مذہب وملت کی ضروریات کو کسی حالت میں بھی فراموش نہیں کرتا ۔
حل لغات :
اجلھم : مدت ۔
القرون : جمع قرن ، بمعنے زمانہ ہائے طول ، یعنی اہل زمانہ ۔
Read the full tafseer →12 اور جب انسان کو کوئی تکلیف اور ضرر پہنچ جاتا ہے تو وہ لیٹے بھی اور بیٹھے بھی اور کھڑے بھی غرض ! ہر حال میں ہم کو پکارتا ہے پھر جب ہم انسان سے اس کی تکلیف اور ضرر کو دور اور زائل کردیتے ہیں تو پھر اپنی پہلی حالت پر آجاتا ہے اور ایسا چلا جاتا ہے جیسے اس نے کسی تکلیف کے پہنچنے پر ہم کو پکارا ہی نہیں تھا اسی طرح حد سے بڑھ جانے والے لوگوں کی نظر میں ان کے وہ اعمال جو وہ کررہے ہیں خوشنما اور مستحسن کردیئے جاتے ہیں۔ یعنی انسانوں میں سے وہ انسان جو کفر و انکار کی روش اختیار کرچکے ہیں ان کی یہ حالت ہے کہ مصیبت کے وقت اپن معبودان باطلہ کو بھول جاتے ہیں اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہر حال میں پکارتے ہیں…
Read the full tafseer →ف 3۔ اوپر توحید کا ذکر ہوا ہے یہاں شرک کا باطل ہونا ایک خاص طور پر بیان فرماتے ہیں وہ یہ کہ مصیبت میں خود مشرکین ہی خدا کے سوا سب کو چھوڑ بیٹھتے ہیں پس شرک واقع میں جس طرح باطل ہے اسی طرح اس عقیدہ والوں کے طرف عمل سے بھی وہ لچر ثابت ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →انسان کو جب کوئی دکھ آ لیتا ہے تو پھر کروٹ پر کروٹ بدلنے لگتا ہے
12 ؎ اب انسان کی اضطراری اور مجبوری کے اوقات کا بیان شروع ہورہا ہے کہ انسان بھی عجیب چیز ہے کہ جب رنج و مصیبت کی حالت میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کے اندر وجدانی طور پر ایک ایساولولہ اٹھتا ہے کہ ایک بالا تر ہستی موجود ہے جو میرا درد و دکھ دور کرسکتی ہے اور اس کو پکارنا چاہئے پھر وہ اس کو پکارتا ہے لیکن جب اس کی وہ مصیبت دور ہوجاتی ہے تو پھر عیش و راحت کی غفلتوں میں پڑ کر اسے بھول جاتا ہے گویا کبھی اس نے کسی کو پکارا ہی نہ تھا اور ظاہر ہے کہ بلا شبہ ” انسان “ کی یہ حالت ہوتی ہے اور اس طرح کی حالت سے وہ دو چار ہوتا ہے لیکن کیا ہر انسان…
Read the full tafseer →An eloquent approach has been made in the second verse (12) to convince those who denied that Allah was One (Tauhid) and that there was a life to come ('Akhirah). It was said: When conditions are normal, people would find time to engage in debating the nature and existence of God and the Hereafter. They would feel free to ascribe all sorts of partners and associates to His pristine divinity and look forward to them in the hope that they would respond at their hour of need. But, as soon as some major distress overtakes them, even these very people, disappointed by the entire range of their…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
15. These introductory remarks are followed by a discourse which comprises the admonition and explanation of certain important points. For a fuller appreciation of the discourse, it is better to take note first of the following points about its background.
First, that the prolonged and acute famine which had virtually destroyed the people of Makka had ended just a little before the revelation of these verses. The famine was so severe that even the most arrogant leaders of the Quraysh had been humbled. As a result, idol-worship had declined and people turned increasingly, with prayer and…
Read the full tafseer →