اللہ تعالیٰ اپنے احسانات کا تذکرہ فرماتے ہیں
فرمان ہے کہ میرے الطاف اور میری مہربانیوں کو دیکھو، کہ بندے کبھی کبھی تنگ آکر، گھبرا کر اپنے لیے، اپنے بال بچوں کے لیے اپنے مالک کے لیے، بد دعائیں کر بیٹھتے ہیں لیکن میں انہیں قبول کرنے میں جلدی نہیں کرتا۔ ورنہ وہ کسی گھر کے نہ رہیں جیسے کہ میں انہی چیزوں کی برکت کی دعائیں قبول فرمالیا کرتا ہوں۔ ورنہ یہ تباہ ہوجاتے۔ پس بندوں کو ایسی بدعاؤں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ چناچہ مسند بزار کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں۔ اپنی جان و مال پر بد دعا نہ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ کسی قبولیت کی ساعت موافقت کر جائے اور وہ بد دعا قبول ہوجائے۔ اسی مضمون کا بیان (وَيَدْعُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
سورة یُوْنُس 15
اوپر کے تمہیدی فقروں کے بعد اب نصیحت اور تفہیم کی تقریر شروع ہوتی ہے۔ اس تقریر کو پڑھنے سے پہلے اس کے پس منظر سے متعلق دو باتیں پیش نظر رکھنی چاہییں
ایک یہ کہ اس تقریر سے تھوڑی مدت پہلے وہ مسلسل اور سخت بلا انگیز، قحط ختم ہوا تھا جس کی مصیبت سے اہل مکہ چیخ اٹھے تھے۔ اس قحط کے زمانے میں قریش کے متکبرین کی اکڑی ہوئی گردنیں بہت جھک گئی تھیں۔ دعائیں اور زاریاں کرتے تھے، بت پرستی میں کمی آگئی تھی، خدائے واحد کی طرف رجوع بڑھ گیا تھا اور نوبت یہ آگئی تھی کہ آخرکار ابو سفیان نے آکر نبی ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ﷺ خدا سے اس بلا کو ٹالنے کے لیے دعا کریں۔ مگر جب قحط دور ہوگیا، بارشیں ہونے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر (ان کی جلدی مچانے کے موافق) جلدی سے نقصان واقع کردیا کرتا جس طرح وہ فائدہ کے لئے جلدی مچاتے ہیں (اور اس کے موافق وہ فائدہ جلد واقع کردیتا ہے اسی طرح اگر نقصان بھی واقع کردیا کرتا) تو ان کا وعدہ (عذاب) کبھی کا پورا ہوچکا ہوتا (لیکن ہماری حکمت جس کا بیان ابھی آتا ہے چونکہ اس کو مقتضی نہیں ہے) سو (اس لئے) ہم ان لوگوں کو جن کو ہمارے پاس آنے کا کھٹکا نہیں ہے ان کے حال پر (بلا عذاب چند روز) چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں (اور مستحق عذاب کے ہوجاویں اور وہ حکمت یہی ہے) اور جب انسان کو (یعنی ان میں سے بعض کو) کوئی تکلیف پہنچی ہے تو ہم کو پکارنے…
Read the full tafseer →آگے کا مضمون آیات 11 تا 19: آگے پہلے منکرین و مکذبین کے اس مطالبہ کا جواب دیا ہے جو وہ عذاب کے لیے کر رہے تھے کہ اگر جزا اور سزا ایسی ہی اٹل چیز ہے اور ہم اپنے اعمال کے باعث اس کے مستحق ہو ہی چکے ہیں تو اس عذاب کو کوئی نمونہ دکھا کیوں نہیں دیتے جس کی دھمکی سنا رہے ہو۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کا حوالہ دیا کہ خدا رحمت میں سبقت کرتا ہے، قہر کرنے میں وہ بڑا دھیما ہے۔ اگر قہر کرنے میں بھی وہ ایسی ہی جلدی کرنے والا ہوتا، جیسا کہ فضل و رحمت کے معاملے میں ہے تو کب کا فیصلہ ہوچکا ہوتا پھر انسان کی اس جلد بازی کی حقیقت واضح کی ہے کہ وہ مطالبہ تو عذاب کا بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کرتا ہے لیکن…
Read the full tafseer →11۔ 1 اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ جس طرح انسان خیر کے طلب کرنے میں جلدی کرتا ہے، اسی طرح وہ شر (عذاب) کے طلب کرنے میں بھی جلدی مچاتا ہے، اللہ کے پیغمبروں سے کہتا ہے اگر تم سچے ہو تو وہ عذاب لے کر آؤ جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر ان کے اس مطالبے کے مطابق ہم جلدی عذاب بھیج دیتے تو کبھی کے یہ موت اور ہلاکت سے دوچار ہوچکے ہوتے۔ لیکن ہم مہلت دے کر انہیں پورا موقع دیتے ہیں۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ جس طرح انسان اپنے لئے خیر اور بھلائی کی دعائیں مانگتا ہے جنہیں ہم قبول کرتے ہیں۔ اسی طرح جب انسان غصے یا تنگی میں ہوتا ہے تو اپنے لئے اور اپنی اولاد وغیرہ کے لئے بد دعائیں کرتا ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
5: یہ دراصل کفار عرب کے ایک سوال کا جواب ہے، جب انہیں کفر کے نتیجے میں عذاب الٰہی سے ڈرایا جاتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ اگر یہ بات سچ ہے تو وہ عذاب ابھی کیوں نہیں آجاتا ؟ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ لوگ عذاب آنے کے لئے اس طرح جلدی مچا رہے ہیں جیسے وہ کوئی اچھی چیز ہو، لیکن اگر اللہ تعالیٰ ان کی خواہش کے مطابق ابھی عذاب نازل کردے تو ان کو سوچنے سمجھنے کی جو مہلت دی گئی ہے وہ ختم ہوجائے گی، اور پھر ان کا ایمان لانا معتبر بھی نہیں ہوگا، لہذا اللہ تعالیٰ ان کے اس مطالبے کو اپنی حکمت کی بناء پر پورا نہیں کر رہا ہے ؛ بلکہ فی الحال ان کو اپنے حال پر چھوڑدیا ہے، تاکہ جو لوگ سرکش ہیں وہ گمراہی میں…
Read the full tafseer →ولو یعجل اللہ للناس الشر استجالھم بالخیر اور اگر (لوگوں کی عجلت طلب کے موافق) اللہ فوراً برا نتیجہ دے دیتا ‘ جیسا کہ فوری عجلت طلب پر اچھا نتیجہ دے دیتا ہے۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس (آیت) سے مراد وہ قول ہے جو عموماً غصہ کے وقت لوگ اپنے اہل و عیال کے متعلق کہتے ہیں کہ تم پر اللہ کی مار ‘ تم پر خدا کی لعنت وغیرہ۔
قتادہ نے کہا : آیت کا تشریحی مطلب یہ ہے کہ لوگ جب اللہ سے کوئی بددعا کرتے ہیں اور فوری شر کے طلبگار ہوتے ہیں ‘ اگر اللہ ان کی بددعا کو قبول کرنے میں اسی عجلت سے کام لے جس عجلت سے وہ لوگوں کی نیک دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔ نیک دعاؤں کے نتیجہ کو جلد طلب کرنے کا تو آیت میں ذکر ہے ‘ جلد…
Read the full tafseer →13 دو آیت پہلے فرمایا تھا جو لوگ غفلت میں پڑے ہیں اور ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے۔ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ یہاں یہ بتلانا ہے کہ خدا ایسے مجرموں کو دنیا میں فوراً نہیں پکڑتا بلکہ مہلت دیتا ہے۔ حالانکہ لوگوں کا حال یہ ہے کہ کبھی بےباک و بےحیا بن کر خود اپنے اوپر جلد عذاب آنے کا مطالبہ کرتے ہیں مثلاً کہتے ہیں (اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاۗءِ ) 8 ۔ الانفال :32) کبھی دنیاوی حوادث سے تنگ آکر اپنے یا اپنی اولاد وغیرہ کے حق میں بددعائیں کرنے لگتے ہیں۔ جیسا کہ تجربہ سے ظاہر ہے۔ اب اگر خدا تعالیٰ ان کی درخواست و دعاء کے موافق…
Read the full tafseer →آیت 11 وَلَوْ یُعَجِّلُ اللّٰہُ للنَّاس الشَّرَّ اسْتِعْجَالَہُمْ بالْخَیْرِ ”اور اگر اللہ جلدی کردیتا لوگوں کے لیے شر ‘ جیسے کہ وہ جلدی چاہتے ہیں خیر“
انسان جلد باز ہے ‘ وہ چاہتا ہے کہ اس کی کوششوں کے نتائج جلد از جلد اس کے سامنے آجائیں۔ مگر اللہ تو بڑا حکیم ہے ‘ اس نے ہر کام اور ہر واقعہ کے لیے اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق وقت مقرر کر رکھا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کس کام میں خیر ہے اور کس میں خیر نہیں ہے۔ اگر اللہ انسان کی غلطیوں اور برائیوں کے بدلے اور نتائج بھی فوراً ہی ان کے سامنے رکھ دیا کرتا اور ان کے جرائم کی سزائیں بھی فوراً ہی ان کو دے دیا کرتا تو :
لَقُضِیَ اِلَیْہِمْ اَجَلُہُمْ ط ”ان…
Read the full tafseer →17 قریش مکہ پر قحط :۔ قریش مکہ کی مسلسل ایذا رسانیوں اور نافرمانیوں کے نتیجہ میں مکہ میں سخت قحط نمودار ہوا جس کی مصیبت سے اہل مکہ بلبلا اٹھے قریشی متکبرین کی اکڑی ہوئی گردنیں جھک گئیں۔ کھانے کو کچھ نہ ملتا تھا حتیٰ کہ یہ لوگ ہڈیاں اور چمڑہ تک کھانے پر مجبور ہوگئے اور آسمان کی طرف دیکھتے تو بھوک کی شدت اور جسمانی کمزوری کی وجہ سے انہیں دھواں ہی دھواں نظر آتا تھا اور ان دنوں وہ اللہ سے آہ زاریاں بھی کرتے تھے اور بت پرستی میں بھی خاصی کمی آگئی تھی جب اس قحط نے طول کھینچا تو ابو سفیان آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا ! آپ قحط کے عذاب سے نجات کے لیے دعا کریں، آپ تو صلہ رحمی کا سبق دیتے ہیں جبکہ…
Read the full tafseer →21۔ (اور یہ کبھی کے ختم ہوچکے ہوتے) (آیت) ” لو یعجل اللہ للناس الشر استعجالھم بالخیر “۔ مشرکین مکہ نے کہا یہ نبی اگر سچے ہیں تو ہم پر آسمان سے پتھر کیوں نہیں برسا دیتے۔ جواب ملتا ہے کہ اگر کہیں اللہ کا معاملہ ان کے ساتھ عذاب کے باب میں بھی اسی عجلت کا ہوتا جس کی توقع یہ باب رحمت میں رکھتے ہیں تو اب تک ان کا قلع قمع ہی ہوگیا ہوتا۔ قیل المعنی لوفعل اللہ مع الناس فی اجابتہ الی المکروہ مثل ما یرید ان فعلہ معھم فی اجابتہ الی الخیر لاھلکھم (قرطبی) (آیت) ” بالخیر “۔ یعنی جس طرح کی عجلت وہ ثواب و رحمت کے موقع پر چاہتے ہیں یا جس طرح خیر و رحمت کے موقع دعا پر حق تعالیٰ کا دستور ہے۔ اے کما یحبون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیت نمبر 11 تا 20
ترجمہ : اور (آئندہ) آیت اس وقت نازل ہوئی جبکہ مشرکین نے عذاب کے جلد آنیکا مطالبہ کیا، اور اگر اللہ لوگوں کیلئے شر کے معاملہ میں جلدی کرتا جیسا کہ یہ خیر کے معاملہ میں جلدی کرتے ہیں تو ان کا وعدہ پورا کردیا گیا ہوتا قُضِیَ مجھول اور معروف دونوں طرح پڑھا گیا ہے، (اَجَلُھُمْ ) رفع اور نصب کے ساتھ ہے بایں صورت کہ ان کو ہلاک کردیا گیا ہوتا، لیکن وہ ان کی مہلت دیتا ہے سو ہم ان کو جن کو ہمارے پاس آنے کی توقع نہیں ہے ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے رہتے ہیں، (یعنی) تردد کے ساتھ حیران رہتے ہیں، اور جب کافر انسان کو مرض اور فقر وغیرہ کی تکلیف پہنچتی ہے تو ہم کو پکارنے لگتا ہے، لیٹے…
Read the full tafseer →ولو یعجل اللہ للناس الشر استجالھم بالخیر اور اگر (لوگوں کی عجلت طلب کے موافق) اللہ فوراً برا نتیجہ دے دیتا ‘ جیسا کہ فوری عجلت طلب پر اچھا نتیجہ دے دیتا ہے۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس (آیت) سے مراد وہ قول ہے جو عموماً غصہ کے وقت لوگ اپنے اہل و عیال کے متعلق کہتے ہیں کہ تم پر اللہ کی مار ‘ تم پر خدا کی لعنت وغیرہ۔
قتادہ نے کہا : آیت کا تشریحی مطلب یہ ہے کہ لوگ جب اللہ سے کوئی بددعا کرتے ہیں اور فوری شر کے طلبگار ہوتے ہیں ‘ اگر اللہ ان کی بددعا کو قبول کرنے میں اسی عجلت سے کام لے جس عجلت سے وہ لوگوں کی نیک دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔ نیک دعاؤں کے نتیجہ کو جلد طلب کرنے کا تو آیت میں ذکر ہے ‘ جلد…
Read the full tafseer →(11) اور اگر لوگوں کی برائی کے لی جلدی مچانے کے مطابق جیسا کہ وہ فائدے کے لیے جلدی مچاتے ہیں اللہ تعالیٰ نقصان واقع کردیا کرتا تو سب کے سب ہلاک ہوچکے ہوتے، سو ہم ان لوگوں کو جن کو مرنے کے بعد کا کھٹکا ہی نہیں، ان کے حال پر چھوڑے رکھتے ہیں کہ یہ اپنے کفر اور گمراہیوں میں اندھوں کی طرح بھٹکتے رہیں۔
Read the full tafseer →وَلَوْ يُعَجِّلُ۔۔ : ”تَعْجِیْلٌ“ تفعیل سے ہے، اس کا معنی وقت سے پہلے طلب کرنا اور ”اِسْتِعْجَالٌ“ کا معنی بھی جلدی طلب کرنا ہے، مگر یہاں یہ دونوں جلدی طلب کے معنی میں نہیں بلکہ جلدی دینے کے معنی میں ہیں اور حروف میں اضافہ معنی میں اضافے کے لیے ہے۔ اس آیت کی دو تفسیریں کی گئی ہیں۔ پہلی یہ کہ کفار جلدی مچاتے تھے کہ لاؤ عذاب جس سے ہمیں ڈراتے ہو، فرمایا : (وَيَسْتَعْجِلُوْنَكَ بالْعَذَابِ) [ الحج : 47 ] ”اور وہ تجھ سے عذاب جلدی مانگتے ہیں۔“ حتیٰ کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ ! اگر اسلام واقعی حق ہے تو ہم پر پتھروں کی بارش برسایا یا کوئی عذاب الیم بھیج دے۔ دیکھیے سورة انفال (32)…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 11
اس میں تین مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1۔ قولہ تعالیٰ : آیت : ولو یعجل اللہ للناس الشر کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو سزا دینے میں جلدی کرتا جیسے وہ ثواب اور بھلائی کے لیے جلد بازی کرتے ہیں تو وہ یقینا مر چکے ہوتے، کیونکہ وہ دنیا میں ضعیف اور کمزور مخلوق کی صورت میں پیدا کیے گئے ہیں اور قیامت کے دن وہ اس طرح نہ ہوں گے، کیونکہ قیامت کے دن انہیں باقی رہنے کے لیے تخلیق کیا جائے گا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے : اس کا معنی ہے اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ مکروہ اور تکلیف دہ دعا کو قبول کرنے میں اسی طرح کرتا جیسے وہ چاہتے ہیں کہ خیر اور بھلائی کی دعا قبول کرنے میں وہ ان…
Read the full tafseer →1:۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابوالشیخ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” ولو یعجل اللہ للناس الشر الستعجالہم بالخیر “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ انسان کا قول ہے اپنی اولاد اور اپنے مال کے لئے جب وہ اس پر غصہ ہوتا ہے (اور کہتا ہے) اے اللہ اس میں برکت نہ دے اور اس پر لعنت بھیج (آیت) لقضی الیہم اجلہم “ یقینی طور پر اللہ تعالیٰ کردیتا اور اس کو موت دے دیتا جس کو انسان نے بددعا کی۔
2:۔ ابو الشیخ (رح) نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت ) ” ولو یعجل اللہ للناس الشر الستعجالہم “ کے بارے میں فرمایا کہ یہ ایک آدمی کا دوسرے آدمی کو یہ کہنا ہے اے…
Read the full tafseer →وَلَوْ [ اور اگر ] يُعَجِّلُ [ جلدی کرتا ] اللّٰهُ [ اللہ ] لِلنَّاسِ [ لوگوں کے لیے ] الشَّرَّ [ برائی میں ] اسْتِعْجَالَھُمْ [ جیسا کہ ان کا جلدی مچانا ہے ] بِالْخَيْرِ [بھلائی میں ] لَقُضِيَ [ تو ضرور پورا کردیا جاتا ] اِلَيْهِمْ [ ان کی طرف ] اَجَلُھُمْ ۭ [ ان کی مدت کو ] فَنَذَرُ [ توہم چھوڑ دیتے ہیں ] الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کو جو ] لَا يَرْجُوْنَ [ امید نہیں رکھتے ] لِقَاۗءَنَا [ ہماری ملاقات کی ] فِيْ طُغْيَانِهِمْ [ ان کی سرکشی میں ] يَعْمَهُوْنَ [ بھٹکتے ہوئے ]
Read the full tafseer →انسان جلد باز ہے ‘ مصیبت میں اللہ کو پکارتا ہے اور عافیت کے وقت بھول جاتا ہے
انسان کے مزاج میں جلد بازی ہے سورة انبیاء میں فرمایا ہے۔ (خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِن عَجَلٍ ) (انسان جلدی سے پیدا کیا گیا ہے) اس کی جلد بازی کا مزاج ہر جگہ کام کرتا ہے جب رسول اللہ ﷺ نے منکرین کو عذاب کی وعیدیں سنائیں تو بجائے ایمان قبول کرنے کے یوں کہتے تھے کہ عذاب آ کیوں نہیں جاتا ‘ سورة رعد میں فرمایا (وَیَسْتَعْجِلُوْنَکَ بالسَّیِّءَۃِ قَبْلَ الْحَسَنَۃِ وَقَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِھِمُ الْمَثُلٰتُ ) (اور یہ لوگ عافیت سے پہلے آپ سے مصیبت کا تقاضا کرتے ہیں حالانکہ ان سے پہلے واقعات عقوبت گزر چکے ہیں) ان لوگوں کا عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
منکرین نبوت کے شبہ کا جواب
قال اللہ تعالی۔ ولو یعجل اللہ للناس الشر۔۔۔ الی۔۔۔ فی طغیانھم یعمہون
(ربط): اس سورت کا آغاز منکرین نبوت کے شبہات کے جوابات سے ہوا ہے چناچہ منکرین نبوت کے ایک شبہ کا جواب شروع سورت میں ہوچکا ہے اب ان آیات میں ان کے ایک اور شبہ کا جواب دیتے ہیں کہ کفار اکثر یہ کہا کرتے تھے کہ اگر محمد ﷺ خدا کے سچے نبی ہیں تو ان کی مخالفت کرنے پر عذاب کیوں نہیں آتا اور ہم پر آسمان سے پتھر کیوں نہیں برستے۔ اور ہم ہلاک کیوں نہیں کردئیے جاتے لہذا حق سبحانہ ان کے اس شبہ کا جواب ارشاد فرماتے ہیں کہ منکرین اور مخالفین پر فورا عذاب نازل کرنا ہماری حکمت اور حمت کے خلاف ہے۔ ہم جیسا لوگوں پر…
Read the full tafseer →19: یہ زجر ہے “ اِسْتِعْجَالَھُمْ ” منصوب بنزع خافض ہے اس سے پہلے کاف تشبیہ مقدر ہے “ اي کا ستعجالھم ” بعض دفعہ مشرکین اللہ تعالیٰ سے عذاب کی دعائیں کرنے لگتے کہ اے اللہ اگر محمد ﷺ اور ان کا دین سچے ہیں تو ہمیں آسمان سے پتھر برسا کر یا کسی دوسرے عذاب سے ہلاک کردے۔ “ اَللّٰھُمَّ اِنْ کَانَ ھٰذَا ھُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِکَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ اَوِائْتَنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ” (انفال رکوع 4) ۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس طرح لوگ خیر اور بھلائی مانگنے میں عجلت کرتے ہیں اور انہیں بھلائی دی جاتی ہے، اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ ان کے شر اور عذاب کے مطالبے کو بھی پورا کردیتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
ربط آیات۔
قرآن کریم کی حقانیت اور پھر رسالت کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے توحید کے عقلی اور نقلی دلائل ذکر کیے۔ اس کے بعد قیامت کا مسئلہ بھی بیان فرمایا اور ایمان والوں کی اس کامیابی کا ذکر کیا جو انہیں اللہ کے ہاں حاصل ہونے والی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے منکرین قیامت کا ذکر کای جو اسی دنیا پر مطمئن ہو کر بیٹھ گئے ہیں اور اسی کو اپنا منتہائے مقصود سمجھ رہے ہیں۔ اللہ نے ان کی ناکامی اور ان کو ملنے والی سزا کا ذکر بھی کیا۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے بعض انسانوں کا شکوہ بیان کیا ہے کہ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچی ہے تو اللہ تعالیٰ سے گڑ گڑا کر دعائیں کرتے ہیں ، مگر جب اللہ اس تکلیف کو دور فرما…
Read the full tafseer →وَلَوْ يُعَجِّلُ اللہُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَھُمْ بِالْخَيْرِ لَقُضِيَ اِلَيْہِمْ اَجَلُھُمْ 0 ۭ فَنَذَرُ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ لِقَاۗءَنَا فِيْ طُغْيَانِہِمْ يَعْمَہُوْنَ 11
لو
لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] .
( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
2 ؎ ہر قسم کی خوبیاں اللہ ہی کو سزا وار ہیں۔ جو تمام جہان کا پروردگار ہے۔
Read the full tafseer →وَلَوْ یُعَجِّلُ اللّٰہُ لِلنَّاسِ الشَّرَّاسْتِعْجَا لَھُمْ بِالْخَیْرِ لَقُضِیَ اِلَیْھِمْ اَجَلُھُمْ ط فَنَذَرُالَّذِیْنَ لاَ یَرْجُوْنَ لِقَآئَ نَا فِیْ طُغْیَانِھِمْ یَعْمَھُوْنَ ۔ (یونس : 11)
(اگر اللہ تعالیٰ جلدی کرتا لوگوں کو عذاب پہنچانے میں جتنی وہ دنیا کی بھلائی مانگنے میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی مہلت عمل کبھی کی ختم کردی گئی ہوتی۔ ہم چھوڑے رکھتے ہیں ان لوگوں کو جو ہم سے ملاقات کی توقع نہیں رکھتے تاکہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔ )
سابقہ رکوع میں پروردگارِ عالم نے اسلام کے تین بنیادی عقائد کو بیان فرمایا ہے اور بطور خاص آخرت کے عقیدے پر زور دیا گیا ہے کیونکہ توحید اور رسالت کے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جہنمیوں اور جنتیوں کی سزا اور صلہ بیان کرنے کے بعد انسان کی فطرت بیان کی جارہی ہے۔
انسان جلد باز ہے لیکن اللہ تعالیٰ برد بار اور غفور الرحیم ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کی کو تاہیوں اور گناہوں پر پکڑنا چاہے تو کسی ایک کا بھی بچنا محال ہوجائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور بردباری کی وجہ سے لوگوں کو ڈھیل اور مہلت دیتا ہے تاکہ لوگ اپنے افکار اور کردار پر نظر ثانی کریں اور اس کی بارگاہ میں تائب ہوجائیں۔ عادی مجرموں کو اس لیے ڈھیل دیتا ہے تاکہ انہیں گناہ اور جرائم کرنے میں کوئی حسرت باقی نہ رہے۔ ایسے لوگ اپنے گناہوں میں گھرے اور پریشان رہتے ہیں۔ یاد رہے نیکی میں سکون اور…
Read the full tafseer →جلد عذاب نہ آنے میں حکمت :
11: وَلَوْ یُعَجِّلُ اللّٰہُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسْتِعْجَالَھُمْ بِالْخَیْرِ (اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر برائی بھیجنے میں جلدی کیا کرتا جیسا لوگ بھلائی مانگنے میں جلدی کرتے ہیں) اصل اس طرح ہے اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو شر بھی اس طرح جلدی پہنچا دیتے جیسا وہ بھلائی میں جلدی مانگتے ہیں۔ پس آیت میں استعجال بالخیر کو تعجیل خیر کی جگہ رکھ کر اس کے جلد قبول ہونے کی اطلاع دی ہے۔ ہم سے مراد اہل مکہ ہیں۔ استعجال سے ان کے قول فامطر علینا حجارۃ من السمآء۔ [ الا نفال : 32] کی طرف اشارہ ہے کہ اگر ہم ان کو شر بھی جلدی سے پہنچا دیں جیسا کہ ہم خیر ان کو جلدی دیتے اور اس سلسلہ میں ان کی…
Read the full tafseer →غصہ کی حالت میں اپنے اہل و عیال کیلئے بد دعا نہیں کہنی چاہئے
(11)” ولو یعجل اللہ للناس الشر استعجالھم بالخیر “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ غصہ کے وقت آدمی اپنے اہل و عیال کو جو کچھ کہتا ہے وہ مراد ہے جیسے ” لعنکم اللہ “ اور ” لا بارک اللہ فیکم “ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس سے مراد آدمی کا اپنے آپ اور اہل و عیال اور مال پر ایسی بددعا کرنا جس کی قبولیت کو وہ خود بھی پسند نہیں کرتا ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ شر کے بارے لوگوں کی دعا جلدی قبول کرلیں ، جیسے وہ خیر کے بارے میں جلدی قبولیت چاہتے ہیں تو ” لقضی الیھم اجلھم “
ابن عامر اور یعقوب نے ( لقضی) قاف اور ضاد کے زبر کے ساتھ پڑھا ہے ( اجلھم)…
Read the full tafseer →11۔ نضر بن حارث اور ابو جہل نے جب یہ دعا مانگی کہ اگر یہ قرآن اور آنحضرت ﷺ کا رسول ہونا سچا ہے تو یا اللہ ہم پر آسمان سے پتھر برسا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی حاصل معنے آیت کے یہ ہیں کہ تندرستی فارغ البانی اور دنیا کی بھلائیاں جس طرح ہر وقت آدمی کو اللہ دیتا رہتا ہے اسی طرح غصہ کے وقت کی بددعا پر فوراً اللہ آدمی کی پکڑ کرتا رہے تو بہت جلد دنیا اور اہل دنیا کا خاتمہ ہوجاوے۔ صحیح مسلم اور ابو داود میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اے لوگو ! اپنے اور اپنے مال و اولاد کے حق میں غصہ کے وقت بددعا نہ کیا کرو ایسا نہ ہو کبھی قبولیت کے وقت وہ بدعا منہ سے نکل جاوے اور…
Read the full tafseer →آیت : (11)
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف و احسان ہے کہ جب بندے برائی کے اسباب مہیا کرتے ہیں ‘ تو اگر اللہ تعالیٰ ان کو اس برائی میں عجلت سے پکڑنا اور انہیں فوراً عذاب میں مبتلا کرنا چاہے ‘ جس طرح وہ نیکی کرتے ہیں تو ان کے لئے جلدی سے ثواب لکھ لیا جاتا ہے ‘ (لقضی الیھم اجلھم) ” تو ختم کردی جائے ان کی عمر “ یعنی عذاب انکو ملیا میٹ کر دے۔۔۔۔ مگر اللہ تعالیں ان کو مہلت دیتا ہے اور اپنے بہت سے حقوق کے بارے میں ان کی کوتاہیوں کو معاف کردیتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے ظلم پر انکا مواخذہ کرے ‘ تو روئے زمین پر کسی جاندار کو نہ چھوڑے۔
اس آیت کریمہ میں یہ چیز بھی داخل ہے کہ بسا اوقات…
Read the full tafseer →19 ۔ عذاب الہی کے لئے کفار کی جلدبازی کا جواب : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ سنت الہٰی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ رحمت کرنے میں تو جلدی کرتا ہے لیکن عذاب بھیجنے میں جلدی نہیں کرتا ورنہ اگر اللہ لوگوں کی جلدبازی پر معاملہ فرماتا تو ان کی مدت مہلت کبھی کی ختم کردی گئی ہوتی کہ ان پر وہ عذاب واقع کردیا جاتا جس کا مطالبہ یہ لوگ کرتے ہیں اور جو ان کی جڑکاٹ کر رکھ دیتا مگر وہ چونکہ ارحم الراحمین ہے۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور اتنابڑا مہربان کہ وہ انسان پر خود اس کی اپنی جان سے بھی کہیں بڑھ کر مہربان ہے۔ اس لئے وہ ان لوگوں پر فورا عذاب نہیں نازل فرماتا بلکہ ان کو ڈھیل پر ڈھیل دیئے جارہا ہے۔ یہاں تک کہ یہ اپنی…
Read the full tafseer →عذاب مت مانگو
تشریح : یہاں انسانی فطرت کا ذکر کیا گیا ہے کہ جس طرح وہ دعا قبول ہونے میں جلدی مچاتا ہے اسی طرح وہ بددعا کی قبولیت میں بھی جلدی مچاتا ہے۔ مگر اللہ رب العزت رحمن و رحیم اور حکیم وخبیر بھی ہے وہ بندے کے اچھے برے کو خوب جانتا ہے دعا قبول کرنے میں اور بددعا قبول کرنے میں اس کی حکمت ہوتی ہے۔ اگر وہ ان لوگوں کی دعا قبول کرلیتا جو پیغمبر سے کہتے ہیں ” کہ اگر سچے ہو تو وہ عذاب لے آئو جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو۔ “ اگر ان کا یہ مطالبہ فوراً پورا کردیا جاتا تو پھر وہ کب کے ہلاک ہوچکے ہوتے مگر اللہ ان کو مہلت دیتا ہے تاکہ وہ اپنے حالات اور اعمال پر غور وفکر کر کے کچھ بدل جائیں اور عذاب دنیا و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
آیات 11 تا 20
اسرار و معارف
انسان بھی بہت عجیب سوچ رکھتا ہے بھلایہ بھی کوئی معیار ہے کہ کفار کہہ دیں جب ہم دین قبول نہیں کر رہے تو ہم پر فورا عذاب کیوں نہیں آجاتا۔ اگر اس طرح سے بات بات پر گرفت ہوتی تو انسان ختم ہوچکے ہوتے اور دوسرا اثر اس کا یہ ہوتا کہ انسانی پسنددناپسند کا موقع کون ساباقی رہتا ظاہر ہے یا فورا ایمان لے آتے یا ہلاک ہوجاتے اور اللہ تو قادر ہے جس طرح مانگے بےمانگے بےحساب نعمتیں عطافرمارہا ہے۔ زندگی طاقت دولت اقتدار ہر شے دے رہا ہے چاہے تو آن واحد میں چھین بھی سکتا ہے لیکن اگر ایسا ہونے لگے تو انسان کے لئے اختیار آزمانے کا موقع نہ رہے گا لہٰذا انسان کو پہلے سے طے شدہ وقت تک فرصت…
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی اللہ کا غضب نازل ہو اور وہ فوراً ہلاک ہوجائیں۔ ابتدا سورة سے منکرین نبوت کے شبہات اور ان کے جوابات کا سلسلہ چلا آرہا ہے۔ یہاں سے ان کے دوسرے شبہ کا جواب دیا جا رہا ہے وہ کہا کرتے۔ اے اللہ ! اگر محمد ﷺ سچے ہیں تو ہم پر یا تو پتھر کی بارش ہو یا کوئی دوسرا دردناک عذاب آجائے “ اس آیت میں اسی شبہ کا جواب دیا ہے کہ اگر ایسا ہی ہو تو وہ فوراً ہلاک ہوجائیں۔ (کبیر) ۔ بعض علماء نے اس کی تفسیر میں یہ بھی لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر نہایت مہربان ہے۔ انسان جب اپنے لئے یا دوسروں کے لئے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو اسے جلد قبول فرماتا ہے لیکن جب غصے یا رنج میں آکر اپنے منہ سے اپنے یا اپنے…
Read the full tafseer →(10:11) یعجل۔ مضارع واحد مذکر غائب تعجیل (تفعیل) مصدر۔ وہ جلدی کردیتا۔ تعجیل ، کسی چیز کو اس کے وقت سے پہلے حاصل کرنے کی کوشش کرنا۔ عجلت سے جلدی کرنا۔ جیسے قرآن میں ہے ولا تعجل بالقرآن (20:114) قرآن کی تلاوت میں جلدی مت کرو۔ تعجیل بھی معنی جلدی کرنا ہے مثلاً من کان یرید العاجلۃ عجلنا لہ فیہا مانشاء لمن ترید (17:18) جو دنیا کی آسودگی کے خواہشمند ہیں ہم ان میں سے جسے چاہیں اور جتنا چاہیں جلدی دے دیتے ہیں (العاجلۃ بمعنی دنیاوی سازوسامان) یا عجل لنا قطنا قبل یوم الحساب (38:16) ہم کو ہمارا حصہ حساب کے دن سے پہلے ہی دیدے۔
استعجالہم۔ استعجال (استفعال) مصدر۔ مضاف۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
لغات القرآن آیت نمبر 11 تا 12
یعجل (وہ جلدی بھیجتا ہے) استفجال (وہ جلدی مانگتے ہیں) نذر (ہم چھوڑ دیتے ہیں) طغیان (سرکشی، نافرمانی) یعمھون (وہ بھٹکتے ہیں، گھومتے ہیں) کشفنا (ہم نے کھول دیا (تہس نہس کیا) مسرفین (حد سے بڑھ جانے والے)
تشریح : آیت نمبر 11 تا 12
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی مقامتا پر ارشاد فرمایا ہے کہ اس نے انسان کو بہت سی عظمت عطا فرمائی ہیں روحانی بھی اور جسمانی بھی۔ روحانی تو ایسی کہ اس کو فرشتوں کا مسجود بنا دیا تمام فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ انسان کی عظمت کے سامنے سب کے سب سجدہ کریں۔ جب شیطان نے انسان کی عظمت کے سامنے جھکنے سے انکار کردیا تو اس کو قیامت تک اپنی بارگاہ سے…
Read the full tafseer →دعا نیک مانگنی چاہئے : شان نزول : نضر بن حارث اور ابو جہل نے جب یہ دعا مانگی کہ اگر یہ قرآن اور حضور ﷺ ہونا سچا ہے تو یا اللہ ! ہم پر آسمان سے پھتر برسا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حاصل معنی آیت کے یہ ہیں کہ تندرستی و فارغ البالی اور دنیا کی بھلائیاں جس طرح ہر وقت آدمی کو اللہ دیتا رہتا ہے، اسی طرح غصہ کے وقت کی بد دعا پر فورا اللہ آدمی کو پکڑتا رہے تو بہت جلد دنیا اور اہل دنیا کا خاتمہ ہوجاوے۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اے لوگو ! اپنے اور اپنے مال واولاد کے حق مین غصہ کے وقت بددعا نہ کیا کرو۔ ایسا نہ ہو کبھی قبولیت کے وقت وہ بد دعا منہ سے نکل جاوے اور قبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
[8] یعنی پاک ہے تو اے اللہ
[9] یعنی ساری تعریف اللہ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) یعنی اللہ میں علم وعلم ہے وہ تمہاری بددعاؤں اور برے مطالبوں کو سنتا ہے مگر قبول اس لئے نہیں کرتا ، کہ تمہارا اسی میں بھلا ہے ۔
Read the full tafseer →1 1 اور اگر اللہ تعالیٰ لوگوں پر برائی بھیجنے میں اسی طرح جلدی کیا کرتا جس طرح وہ لوگ بھلائی مانگنے میں جلدی کیا کرتے ہیں تو ان کا مقررہ وقت کبھی کا پورا ہوچکا ہوتا۔ سو ہم ان لوگوں کو جن کو ہمارے روبرو پیش ہونے کا کوئی کھٹکا اور خوف نہیں ہے ان کی حالت پر چھوڑے رکھتے ہیں کہ وہ اپنی سرکشی میں حیران و سرگرداں رہیں اور بھٹکتے پھریں یعنی انسان کا قاعدہ ہے کہ جو دعا مانگتا ہے خواہ وہ خیر کی ہو یا شر کی۔ چاہتا ہے کہ وہ جلدی پوری ہوجائے اللہ تعالیٰ خیر کی دعا کو اگر مصلحت ہوتی ہے جلد واقع کردیتا ہے لیکن شر کی دعا کا اثر جلدی ظاہر نہیں کرتا۔
ارشاد ہوتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ شر کی دعائوں کو بھی خیر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
ف 2۔ جو شرونقصان واقع ہوتا ہے اس میں باعتبار شخص خاص یا باعتبار عامہ مصالح کے کوئی چیز مضمر ہوتی ہے اور جس خیر میں توقف ہوتا ہے اسی طرح اس میں کوئی شر مضمر ہوتا ہے پس اس شر کا وقوع واقع میں خیر وقوع ہے اور اس خیر کا عدم وقوع واقع میں شرکا عدم وقوع ہے۔
Read the full tafseer →اس آیت میں قانون بتدریج و امہال کی طرف اشارہ ہے
20 ؎ ہم دیکھتے ہیں کہ فطرت کے تمام قوانین اپنی نوعیت میں کچھ اس طرح واقع ہوئے ہیں کہ اگر لفتوں میں انہیں تعبیر کرنا تو مشکل ہی سے تعبیر کرسکتے ہیں مگر ہاں ! فطرت کے فضل و رحمت ہی سے ایسا ممکن ہے ہمیں اور کوئی تعبیر نہیں ملے گی ۔ مثلاً اس کے قانون کا عمل کبھی فوراً اور اچانک نہیں ہوتا وہ جو کچھ کرتی ہے آہستہ آہستہ بتدریج کرتی ہے اور اس تدریجی طرف عمل نے دنیا کیلئے مہلت اور ڈھیل کا فائدہ پیدا کردیا ہے یعنی اس کا ہر قانون فرصتوں پر فرصتیں دیتا ہے اور اس کا ہر فعل عفو ودر گزر کا دروازہ آخر تک کھلا رہتا ہے۔ بلا شبہ اس کے قوانین اپنے نفاذ میں اٹل…
Read the full tafseer →Commentary
The first of the seven verses cited above relates to people who deny 'Akhirah (Hereafter, life to come). For this reason, when they are warned against the punishment of 'Akhirah, they mockingly say, ` if you are telling the truth, bring this punishment now' or say something like, ` why would this punishment not come soon enough?' This was like what Nadr ibn Harith had said, ` O Allah, if this thing is true, let stones rain down upon us from the heavens, or send some other severe punishment.'
It has been answered in the same verse by saying that Allah Ta` ala is, after all,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
15. These introductory remarks are followed by a discourse which comprises the admonition and explanation of certain important points. For a fuller appreciation of the discourse, it is better to take note first of the following points about its background.
First, that the prolonged and acute famine which had virtually destroyed the people of Makka had ended just a little before the revelation of these verses. The famine was so severe that even the most arrogant leaders of the Quraysh had been humbled. As a result, idol-worship had declined and people turned increasingly, with prayer and…
Read the full tafseer →