Explained with ayahs 28–30
میدان حشر میں سبھی موجود ہوں گے
مومن، کافر، نیک، بد، جن انسان، سب میدان قیامت میں اللہ کے سامنے جمع ہونگے۔ سب کا حشر ہوگا، ایک بھی باقی نہ رہے گا۔ پھر مشرکوں اور ان کے شریکوں کو الگ کھڑا کردیا جائے گا۔ ان مجرموں کی جماعت مومنوں سے الگ ہوجائے گی، سب جدا جدا گروہ میں بٹ جائیں گے ایک سے ایک الگ ہوجائے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ خود فیصلوں کے لیے تشریف لائے گا۔ مومن سفارش کر کے اللہ کو لائیں گے کہ وہ فیصلے فرما دے۔ یہ امت ایک اونچے ٹیلے پر ہوگی، مشرکین کے شرکا اپنے عابدوں سے بےزاری ظاہر کریں گے اسی طرح خود مشرکین بھی ان سے انجان ہوجائیں گے۔ سب ایک دوسرے انجان بن جائیں گے۔ اب بتلاؤ ان مشرکوں سے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
سورة یُوْنُس 37
یعنی وہ تمام فرشتے جن کو دنیا میں دیوی اور دیوتا قرار دے کر پوجا گیا، اور وہ تمام جن، ارواح، اسلاف، اجداد، انبیاء، اولیاء، شہداء وغیرہ جن کو خدائی صفات میں شریک ٹھیرا کر وہ حقوق انہیں ادا کیے گئے جو دراصل خدا کے حقوق تھے، وہاں اپنے پرستاروں سے صاف کہہ دیں گے کہ ہمیں تو خبر تک نہ تھی کہ تم ہماری عبادت بجا لا رہے ہو۔ تمہاری کوئی دعا، کوئی التجا، کوئی پکار اور فریاد، کوئی نذر و نیاز، کوئی چڑھاوے کی چیز، کوئی تعریف و مدح اور ہمارے نام کی جاپ اور کوئی سجدہ ریزی و آستانہ بوسی و درگاہ گردی ہم تک نہیں پہنچی۔
Read the full tafseer →چھٹی آیت میں دونوں فریق اہل جنت اور اہل جہنم کا ایک مشترک حال بیان فرمایا ہے کہ اس مقام یعنی محشر میں ہر شخص اپنے اپنے کئے ہوئے اعمال کو آزما لے گا کہ وہ نفع بخش تھے یا نقصان رسان، اور سب کے سب اپنے معبود حق کے پاس پہنچا دیئے جائیں گے، اور سارے بھروسے اور سہارے جو دنیا میں انسان ڈھونڈتا ہے ختم کردیئے جائیں گے، اور مشرکین جن بتوں کو اپنا مددگار اور سفارشی سمجھا کرتے تھے وہ سب غائب ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →هُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّآ اَسْلَفَتْ وَرُدُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىھُمُ الْحَقِّ وَضَلَّ عَنْھُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ۔
ہر شخص کی پیشی خدا کے آگے ہوگی۔ بلا یبلو، کے معنی تجربہ کرنے، جانچنے، آزمانے اور چکھنے کے ہیں۔ یعنی مشرکین تو اس امید میں ہیں کہ اگر قیامت ہوئی تو، خواہ ان کے اعمال کچھ ہی ہوں، ان کے دیوی دیوتا انکو چھڑا ہی لیں گے لیکن وہاں سابقہ ہر شخص کو اپنے ان اعمال سے پیش آئے گا جو اس نے کیے ہوں گے اور وہ انہیں کو بھگتے گا۔ وَرُدُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىھُمُ الْحَقِّ وَضَلَّ عَنْھُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ ، یعنی یہ توقع لیے بیٹھے ہیں کہ قیامت ہوئی تو ان کے…
Read the full tafseer →30۔ 1 یعنی جان لے گا یا مزہ چکھ لے گا۔
30۔ 2 یعنی کوئی معبود اور ' مشکل کشا ' وہاں کام نہیں آئے گا، کوئی کسی کی مشکل کشائی پر قادر نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →17: یعنی ہر عمل کی قلعی کھل جائے گی کہ اس کی حقیقت کیا تھی ؟
Read the full tafseer →ھنالک تبلوا کل نفس ما اسلفت اس مقام پر ہر شخص اپنے اگلے کئے ہوئے کاموں کو جانچ لے گا اور اپنے گذشتہ اعمال کے نفع و ضرر کو دیکھ لے گا۔
وردوا الی اللہ مولھم الحق اور یہ لوگ اللہ کی طرف جو ان کا مالک حقیقی ہے ‘ لوٹائے جائیں گے۔ یعنی اللہ کے فیصلہ کی طرف یا اللہ کے عذاب کی طرف۔ مَوْلٰھُمُ الْحَقِّ کا یہ مطلب ہے کہ اللہ ہی حقیقت میں ان کا مالک اور ان کے امور کا ذمہ دار ہے ‘ وہ معبود مالک نہیں جن کو کافروں نے معبود بنا رکھا ہے۔
ایک شبہ : کافروں کا تو کوئی مولیٰ نہیں ہوگا۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَاَنَّ الْکَافِرِیْنَ لاَ مَوْلٰی لَھُمُ ۔
ازالہ : آیت زیر بحث میں مولیٰ کا معنی ہے رب اور مالک اور لاَ…
Read the full tafseer →5 یعنی جھوٹے اور بےاصل توہمات سب رفو چکر ہوجائیں گے۔ ہر شخص بہ رائ العین مشاہدہ کرلے گا کہ اس سچے مالک کے سوا رجوع کرنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔ اور ہر ایک انسان کو اپنے تمام برے بھلے اعمال کا اندازہ ہوجائے گا کہ کتنا وزن رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 30 ہُنَالِکَ تَبْلُوْا کُلُّ نَفْسٍ مَّآ اَسْلَفَتْ وَرُدُّوْٓا اِلَی اللّٰہِ مَوْلٰٹہُمُ الْحَقِّ وَضَلَّ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ
یعنی اس دن جب شفاعت کی امیدوں کے سارے سہارے ہوا ہوجائیں گے تو ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جائیں گے۔ تب انہیں معلوم ہوگا کہ ع ”خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا ‘ جو سنا افسانہ تھا !“
Read the full tafseer →44 مشرکوں کے اپنے مشکل کشاؤں کے متعلق عقائد اور بےجا توقعات :۔ مشرک مندرجہ ذیل غلط عقائد کی بنا پر اپنے معبودوں کی پرستش کرتے ہیں :
یہ معبود ہمارے حاجت روا اور مشکل کشا ہیں ہم جہاں کہیں سے ان کو پکاریں وہ ہماری بات کو سنتے اور فریاد کو پہنچتے ہیں۔ اللہ ہماری بات نہیں سنتا۔ ہمارے یہ معبود درمیان میں واسطہ کا کام دیتے ہیں۔ ہمارے معبود ہمیں اللہ سے قریب کرنے کا ذریعہ ہیں اگر قیامت ہوئی تو یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہوں گے اور ہمیں اخروی عذاب سے بچا لیں گے حتیٰ کہ بعض لوگوں کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ فلاں پیر کی بیعت ہوجانا ہی اخروی عذاب سے نجات کی ضمانت ہے جب قیامت کے دن حقیقت حال مشرکوں کے سامنے…
Read the full tafseer →53۔ یعنی کوئی کام نہ آئے گا، اس وقت سب گم ہوجائیں گے۔ (آیت) ” ھنالک۔۔۔ اسلفت “۔ یعنی ہر شخص عیانا دیکھ لے گا جو اعمال اس نے کئے تھے، وہ واقع میں نافع تھے یا اس کے برعکس، یہ اجمالی علم تو انسان کو مرنے کے ساتھ ہی ہوجاتا ہے حشر میں اس کا تحقق کامل اور مفصل طور ہوگا۔ (آیت) ” مولھم الحق “۔ یعنی واقعی اور حقیقی مالک۔ کوئی گڑھا ہوا معبود نہیں۔ اے المتحقق الصادق فی ربوبیتہ لا ما اتخذوہ ربا باطلا (روح) یہاں اللہ کو جو کافروں کا ” مولی “ کہا گیا ہے تو یہ مالکیت بہ اعتبار اصل واقعہ کے ہے اور سورة محمد میں جہاں اس کی نفی آئی ہے۔ ان الکافرین لا مولی لھم۔ وہاں ” مولی “ حامی، ناصر اور سہارے کے معنی میں ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
آیت نمبر 21 تا 30
ترجمہ : اور لوگوں کا یہ حال ہے کہ جب ان کو یعنی کفار مکہ کو تکلیف اور قحط سالی کے بعد جو ان کو پیش آچکی ہوتی ہے رحمت یعنی بارش اور خوشحالی کا مزا چکھا دیتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں کے بارے میں استہزاء اور تکلیف کے ذریعہ چالبازیاں کرنے لگتے ہیں ان سے کہو کہ اللہ چالنازی کا جواب دینے میں تم سے زیادہ تیز ہے (اور) بلاشبہ ہمارے فرشتے ان کی مکاریوں کو قلمبند کر رہے ہیں (تمکرون) یاء اور تاء کے ساتھ ہے، وہ اللہ ہی ہے کہ جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے اور ایک قراءت میں ینشرون ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ ان کو نرم (موافق) ہوا کے ذریعہ لے کر چلتی ہیں اور وہ اس سے…
Read the full tafseer →ھنالک تبلوا کل نفس ما اسلفت اس مقام پر ہر شخص اپنے اگلے کئے ہوئے کاموں کو جانچ لے گا اور اپنے گذشتہ اعمال کے نفع و ضرر کو دیکھ لے گا۔
وردوا الی اللہ مولھم الحق اور یہ لوگ اللہ کی طرف جو ان کا مالک حقیقی ہے ‘ لوٹائے جائیں گے۔ یعنی اللہ کے فیصلہ کی طرف یا اللہ کے عذاب کی طرف۔ مَوْلٰھُمُ الْحَقِّ کا یہ مطلب ہے کہ اللہ ہی حقیقت میں ان کا مالک اور ان کے امور کا ذمہ دار ہے ‘ وہ معبود مالک نہیں جن کو کافروں نے معبود بنا رکھا ہے۔
ایک شبہ : کافروں کا تو کوئی مولیٰ نہیں ہوگا۔ اللہ نے فرمایا ہے : وَاَنَّ الْکَافِرِیْنَ لاَ مَوْلٰی لَھُمُ ۔
ازالہ : آیت زیر بحث میں مولیٰ کا معنی ہے رب اور مالک اور لاَ…
Read the full tafseer →(30) اس موقعہ پر ہر ایک انسان اپنے کیے ہوئے کاموں کو جان لے گا کہ کیا اس نے نیکیاں کی ہیں اور کیا کیا برائیاں اور یہ لوگ اللہ کی طرف جو ان کا معبود حقیقی ہے، لوٹا دیے جائیں گے اور انہوں نے جھوٹے معبود تراش رکھے تھے وہ سب باطل اور ان سے علیحدہ اور غائب ہوجائیں گے۔
Read the full tafseer →هُنَالِكَ ”اس وقت، اس جگہ“ دونوں معنی میں آتا ہے، اس لیے ترجمہ ”اس موقع پر“ کیا ہے، تاکہ دونوں معنی شامل ہوجائیں۔ ”تَبْلُوْا“ آزمائش کرنا، جانچ لینا۔ جانچنے پرکھنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کو اس چیز کا پوری طرح علم ہوجاتا ہے، یعنی اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال کی پوری حقیقت ہر شخص کے سامنے پوری طرح کھل جائے گی اور اپنے اصل مالک کے پاس پہنچنے کے بعد نہ ان کے اپنے گھڑے ہوئے اور بنائے ہوئے مشکل کشا کہیں نظر آئیں گے، نہ کوئی زبردستی سفارش کے ساتھ چھڑا لینے والا کہیں ڈھونڈے سے ملے گا۔ سب لغو اور جھوٹی باتیں ہوا ہوجائیں گی۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 30۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) ” ھنالک یہ ظرف ہونے کی بنا پر محل نصب میں ہے، (آیت) ” تبلوا “ یعنی اس وقت میں (آزمالے گا) تبلو بمعنی تذوق یعنی چکھ لے گا، اور کلبی نے کہا : بمعنی تعلم ہے یعنی ہر شخص جان لے گا، اور حضرت مجاہد (رح) نے کہا ہے : بمعنی تختبر ہے یعنی آزما لے گا۔ (آیت) ” کل نفس ما اسلفت “۔ یعنی اس عمل کی جزا جو اس نے کیا اور آگے بھیجا، اور یہ بھی کہا گیا ہے : بمعنی تسلم (وہ حوالے کر دے گا) یعنی حقوق میں سے جو اس پر تھے وہ ان کو ان کے مالکوں کے حوالے کر دے گا ان کے اختیار اور ان کی پسند کے بغیر اور حمزہ اور کسائی نے تتلوا پڑھا ہے یعنی ہر نفس اپنے اس نامہ عمل کو پڑھ لے گا جو اس میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
معبودان باطلہ کی بیزاری :
1:۔ ابن جریر وابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویوم نحشرھم “ میں ” الحشر “ سے مراد ہے موت۔
2:۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہما اللہ نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فزیلنا بینہم “ یعنی ہم نے ان کے درمیان جدائی ڈال دیں گے۔
3:۔ ابن ابی شیبہ ابن منذر وابن ابی حاتم وابو الشیخ رحمہم اللہ مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ قیامت کے دن لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ جس میں نرمی ہوگی۔ مشرک لوگ توحید والوں کے سامنے یہ اظہار کریں گے کہ ان کی مغفرت کردی جائے گی تو وہ کہیں گے (آیت) ” واللہ ربنا ما کنا مشرکین (22) “ (الانعام آیت…
Read the full tafseer →هُنَالِكَ [ وہاں ] تَبْلُوْا [ جانچ لے گی ] كُلُّ نَفْسٍ [ ہر جان ] مَّآ [ اس کو جو ] اَسْلَفَتْ [ اس نے آگے بھیجا ] وَرُدُّوْٓا [ اور وہ لوٹائے جائیں گے ] اِلَى اللّٰهِ [ اللہ کی طرف ] مَوْلٰىھُمُ الْحَقِّ [ جو ان کا حقیقی آقا ہے ] وَضَلَّ [اور گم ہوجائے گا ] عَنْھُمْ [ ان سے ] مَّا [ وہ جو ] كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ [ وہ گھڑتے تھے ]
(آیت ۔ 30) اللہ کا بدل ہونے کی وجہ سے مولہم میں مولی محلا حالت جر میں ہے اس لیے اس کی صفت الحق حالت جر میں آئی ہے ۔
Read the full tafseer →آخر میں فرمایا (ھُنَالِکَ تَبْلُوْا کُلُّ نَفْسٍ مَّا اَسْلَفَتْ ) (الایۃ) وہاں یعنی روز قیامت ہر شخص اپنے کئے ہوئے اعمال کو جانچ لے گا۔ یعنی ہر ایک کے اپنے اپنے عمل کا نتیجہ سامنے آجائے گا جس میں مشرکین کے شرک کی حقیقت کھل جائے گی اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم جن کی عبادت کرتے تھے ان سے ہمیں جو نفع کی امید تھی وہ غلط تھی وہ تو آج ہمارے خلاف بول رہے ہیں ان لوگوں کی ساری آرزوئیں ختم ہوجائیں گی اور اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جائیں گے جو حقیقی مولا اور مالک ہے ‘ اور جو کچھ باتیں تراشتے تھے غیر اللہ کو معبود جانتے تھے وہ سب کچھ غائب ہوجائے گا۔ اور کچھ بھی کام نہ آئے گا۔ اللہ تعالیٰ سب کا مولیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
میدان حشر میں کافروں کی ذلت اور رسوائی کا بیان
قال اللہ تعالیٰ ویوم نحشرھم جمیعا۔۔۔ الی۔۔۔ وضل عنھم ما کانوا یفترون۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل ایمان کے درجات اخروی اور نعیم ابدی اور کافروں کی ذلت اور رسوائی کا بیان تھا۔ اب اس آیت میں بھی کافروں کی ایک اور ذلت اور رسوائی کا بیان ہے وہ یہ کہ قیامت کے دن عابد اور معبود۔ دنوں ہی کا حشر ہوگا اور بعد ازاں وہ معبود جن کی یہ مشرکین دنیا میں پرستش کرتے تھے اور جن کو اپنا سفارشی سمجھتے تھے۔ قیامت کے دن۔ یہ معبودین اپنے عابدین سے بری اور بیزار ہوجائیں گے کہ تم لوگ ہماری پرستش نہیں کرتے تھے۔ بلکہ اپنی خواہش کی پرستش کرتے تھے ہمیں تو تمہاری پرستش کی خبر…
Read the full tafseer →45: یہ ظرف زمان ہے یا ظرف مکان۔ “ تَتْلُوْا ” پالے گا، جان لے گا یا چکھ لے گا۔ “ مَا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ” جن معبودان باطلہ کو انہوں نے کارساز اور سفارشی سمجھ رکھا تھا وہ سب غائب ہوں گے اور کوئی بھی ان کے کام نہ آسکے گا۔ “ (مَا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ) من ان اٰلھتھم تشفع لھم او ما کانوا یدعون انھا اٰلھة ” (ابو السعود ج 1، کبیر ج 44 ص 838) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
میدان حشر
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی ایک دوسرے طریقے پر تردید فرمائی ہے اور ساتھ ساتھ معاد کا مسئلہ بھی بیان فرمایا ہے ۔ قیامت پر یقین رکھنا بھی اہم اجزائے ایمان میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں قیامت اور حشر نشر کے واقعات کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے اس سورة میں پہلے شرک کی تردید اور نیکی اور بدی کا انجام کا تذکرہ ہوچکا ہے اور اب حشر نشر کے متعلق ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ویوم نحشرھم جمیعا “ اور جس دن ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے۔ حشر کا معنی اکٹھا کرنا ہوتا ہے دوسری جگہ فرمایا (آیت) ” احشروا الذین ظلموا وازواجھم “ (الصفت) اکٹھا کرو ان کو جنہوں نے ظلم یعنی کفر اور شرک کیا ہے…
Read the full tafseer →ہُنَالِكَ تَبْلُوْا كُلُّ نَفْسٍ مَّآ اَسْلَفَتْ وَرُدُّوْٓا اِلَى اللہِ مَوْلٰىھُمُ الْحَقِّ وَضَلَّ عَنْھُمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ 30 ۧ
هنالک
هُنَا يقع إشارة إلى الزمان، والمکان القریب، والمکان أملک به، يقال : هُنَا، وهُنَاكَ ، وهُنَالِكَ ، کقولک : ذا، وذاک، وذلک . قال اللہ تعالی: جُنْدٌ ما هُنالِكَ [ ص/ 11] ، إِنَّا هاهُنا قاعِدُونَ
[ المائدة/ 24] ، هُنالِكَ تَبْلُوا كُلُّ نَفْسٍ ما أَسْلَفَتْ [يونس/ 30] ، هُنالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ [ الأحزاب/ 11] ، هُنالِكَ الْوَلايَةُ لِلَّهِ الْحَقِّ [ الكهف/ 44] ، فَغُلِبُوا هُنالِكَ [ الأعراف/ 119]
( ھنا ) ھنا یہاں یہ زمانہ اور جگہ قریب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–32
ترکیب : عامل یوم اذکر محذوف مکانکم ظرف مبنی ہے لوقوعہ موقع الامر ای الزموا وفیہ ضمیر فاعل وانتم توکید لہ والکاف والمیم فی موضع جر عند قوم وعند آخرین الکاف للخطاب لا موضع لھا کاف فی ایاکم وشرکاء کم عطف علی الفاعل فزیلنا عین الکلمۃ و اولانہ من زال 2 ؎ یزول وقیل ہومن زلت الشیء ازیلہ فعینہ یائ۔
تفسیر : ویوم نحشرھم یہ بیان سابقہ کا تتمہ ہے یعنی ان بت پرستوں کے ساتھ حشر کے روز یہ کیا جاوے گا جو لوگ دنیا میں اللہ کے سوا اور کسی کو پوجتے ہیں خواہ ملائکہ کو ‘ خواہ جنوں اور ارواح انبیاء و اولیاء اللہ کو ‘ خواہ عناصر اور کواکب کو ‘ خواہ ان کے نام کی مورتیں بنا کر یا یونہی ان کو پکارتے ہر کاروبار میں ان…
Read the full tafseer →ھُنَالِکَ تَبْلُوْا کُلُّ نَفْسٍ مَّآ اَسْلَفَتْ وَرُدُّوْآ اِلَی اللّٰہِ مَوْلٰھُمُ الْحَقِّ وَضَلَّ عَنْھُمْ مَّاکَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔ (یونس : 30)
(اس وقت ہر شخص اپنے اس عمل سے دوچار ہوگا جو اس نے آگے بھیجا تھا اور وہ سب لوگ اپنے مولیٰ حقیقی کی طرف لوٹائے جائیں گے اور گم ہوجائے گا ان سے جو وہ افتراء باندھا کرتے تھے۔ )
سب کی پیشی اللہ کے سامنے
اس رسوائی اور جگ ہنسائی کے بعد دونوں کی آنکھیں کھلیں گی اور وہ یقین کرنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ ہم نے جو سہارے دنیا میں تراش رکھے تھے وہ فریب نظر کے سوا کچھ نہ تھا۔ آج یہاں نہ کوئی سہارا کام آئے گا نہ کوئی معاوضہ۔ یہاں تو عدل کی حکومت ہے اور یہاں سکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–33
فہم القرآن
ربط کلام : مشرکین کو ان کے شرک کے بارے میں قیامت کے دن سوال ہوگا لیکن دنیا میں بھی ان سے سوال کیا جاتا ہے۔ ان کے پاس نہ قیامت کو اپنے شرک کا جواب ہوگا اور نہ دنیا میں جواب دے سکتے ہیں۔
اس سے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مشکل کشا ہونے کے دلائل دیئے تھے۔ جس کا اقرار مشرک صرف سمندری سفر میں بھنور میں پھنسنے کے وقت کرتے تھے۔ یہی مشرک اور مؤاحد کے درمیان فرق ہے۔ مشرک جب اپنے مشکل کشاؤں سے مایوس ہوجاتا ہے تب خالصتاً ایک اللہ کو پکارتا ہے، مؤاحد ہر حال میں ایک اللہ کو پکارتا ہے۔ اب توحید کے وہ دلائل دیے جاتے ہیں۔ جن کا مشرک ہر حال میں اقرار کرتے ہیں۔ چناچہ رسول محترم ﷺ اور ہر مؤاحد…
Read the full tafseer →سب کی جانچ :
30: ھُنَالِکَ (وہاں) اس جگہ میں یا اس وقت میں۔ اس صورت میں اسم مکان زمانہ کیلئے بطور استعارہ استعمال ہوا ہے۔ تَبْلُوْا کُلُّ نَفْسٍ (آزمائے گا اور چکھے گا) ہر شخص مَّآ اَسْلَفَتْ (جو اس نے پیچھے چھوڑا) یعنی عمل۔ پس پہچان لے گا کہ اس عمل کی کیفیت کیا۔
ہے اچھا یا برا نفع بخش یا نقصان دہ، مقبول یا مردود، زجاج (رح) کہتے ہیں اسلفت کا معنی قدمت ہے جو اس نے آگے بھیجا۔
قراءت : حمزہ، علی نے تتلواؔ پڑھا ہے۔ یعنی وہ پیروی کرے گا اس عمل کی جو اس نے آگے بھیجا کیونکہ اسکا عمل ہی اس کو جنت و دوزخ کی راہ دکھائیگا۔ یا اپنے نامہ عمل میں وہ پڑھ لے گا جو اس نے خیر و شر کا عمل آگے بھیجا ہوگا۔ یہ اخفش…
Read the full tafseer →(30)” ھنالک تبلوا “ یعنی آزمالے گا اور بعض نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ جان لے گا اور واقف ہوجائے گا اور حمزہ ، کسائی اور یعقوب رحمہم اللہ نے ” تتلوا “ پڑھا ہے دوتاء کے ساتھ یعنی پڑھ لے گا ۔” کل نفس ‘ ‘ اپنے نامہ اعمال کو ” ما اسلفت “ جو خیر یا شر آگے بھیجا اور بغض نے کہا ہے معائنہ کرلے گا ۔ ” وردوا الی اللہ “ اس کے حکم کی طرف ۔ ” مولا ھم الحق “ جو ان کے معاملہ کا مالک ہے۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ” وان الکافرین لا مولیٰ لھم “ اور یہاں اللہ تعالیٰ کو ان کا مولیٰ کہا جارہا ہے ؟ تو جواب یہ ہے کہ اس آیت میں مولیٰ بمعنی مالک ہے اور دوسری آیت میں مولیٰ بمعنی مدد گار ہے کہ کافروں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
29۔ 30۔ اس سے پہلے کی آیت میں یہ ذکر ہوچکا ہے کہ حشر کے میدان میں مشرک اور ان کے معبود ایک جگہ کھڑے کئے جائیں گے اور اللہ پاک یہ ارشاد فرمائے گا کہ تم یہیں کھڑے رہو تم سے سوال کیا جائے گا اور مشرک دنیا میں جن جن کی عبادت کرتے تھے وہ معبود ان سے بیزار ہو کر کہیں گے کہ تم ہماری عبادت نہیں کرتے تھے اپنی خواہش کو پوجتے تھے اور انکار کریں گے کہ ہم نے کبھی تمہیں اپنی مورتوں کی پوجا کرنے کو نہیں کہا تھا اور ہمیں اس کی خبر بھی نہیں کہ تم ہم کو پوجتے تھے اگر ہم تمہاری عبادت سے رضا مند تھے یا ذرا بھی ہمیں اس کی خبر تھی تو خدا بھی جانتا ہوگا تفسیر ابن مردویہ میں عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
آیت : (28-30)
(ویوم نحشرھم جمیعا) ” اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے۔ “ یعنی ایک مقرر دن میں ہم تمام مخلوقات کو جمع کریں گے ‘ ہم مشرکین اور ان کے ان معبودان باطل کو بھی اکٹھا کریں گے جن کی یہ مشرکین عبادت کیا کرتے تھے۔ (ثم نقول للذین اشرکوا مکانکم انتم وشرکاء کم) ” پھر ہم کہیں گے شرک کرنے والوں کو کھڑے ہو اپنی اپنی جگہ ‘ تم اور تمہارے شریک “ یعنی اپنی جگہ پر کھڑے رہو ‘ تاکہ تمہارے اور تمہارے معبودوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے۔ (فزیلنا بینھم) ” پھر ہم ان کے درمیان تفرقہ ڈال دیں ہے۔ “ یعنی ہم بعد بدنی اور بعد قلبی کے ذریعے سے ان کے درمیان جدائی ڈال دیں گے ‘ دنیا میں وہ ایک دوسرے کے لئے خالص محبت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–58
سورة یونس
قرآن میں تبدیلی ناممکن ہے
قول باری ہے قال الذین لا یربون لقاء نا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ ل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء نفسی ان اتبع الا ما یوحی الی ۔ وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ اس بجائے کوئی اور قرآن لائو یا اس میں کچھ ترمیم کرو۔ اے محمد ﷺ ! ان سے کہو۔ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر و تبدیل کرلوں ، میں تو بس اس وحی کی پیرو ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ قول باری لا یرجون لقاء نا کی تفسیر میں دو قول ہیں ۔ ایک تو یہ کہ ہمارے عقاب سے نہیں ڈرتے اس لیے کہ رجاء کا لفظ خوف کے معنی دے جاتا ہے اور اس کی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 30–31
63 ۔ مشرکین کے دلوں پر ایک دستک : سو مشرکین کے دلوں پر ایک دستک کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جب تم لوگ مانتے ہو کہ آسمان اور زمین سے روزی دینے والا بھی اللہ ہے۔ تمہارے کانوں، آنکھوں وغیرہ اعضاء وجوارح کا مالک بھی اللہ ہے۔ زندوں کو مردوں سے اور مردوں کو زندوں سے نکالنا بھی اللہ ہی کا کام ہے اور کائنات کے معاملے کی تدبیر بھی وہی فرماتا ہے۔ تو پھر بھی تم لوگ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کیسے ٹھہراتے ہو۔ آخر تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ؟ سو اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ مشرکین مکہ کا عقیدہ اور کہنا اور ماننا بھی یہی تھا کہ زمین و آسمان کی اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس کا حاکم اور مدبر و متصرف اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–30
حساب کتاب کا دن
تشریح : ان آیات میں حشر نشر، یعنی میدان حشر کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ ہر قسم کے گنہگار کو اس کے گناہ کے مطابق سزا ملے گی یہاں مشرکین کے بارے میں ذکر کیا جا رہا ہے کہ مشرکین اپنے معبودوں کو کہیں گے ہمیں بچائو، جبکہ وہ چھوٹے خدا خواہ چاند، سورج ستارے، آگ، ہوا، پانی، بت، قبر یا مزار ہوں وہ بھلا اتنی اہلیت کہاں رکھ سکتے ہیں کہ وہ ان کو بچا سکیں یا یہ جان سکیں کہ ہاں یہ لوگ ہماری عبادت کرتے تھے لہٰذا وہ صاف انکار کردیں گے۔ کیونکہ عبادت کے لائق تو صرف اللہ کی ذات ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مشرکوں کو وقت پر خبردار کردیا جائے کہ انہوں نے مرنے کے بعد اللہ کے حضور ضرور حاضر ہونا ہے وہاں بڑا سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
آیات 21 تا 30
اسرار و معارف
کفر اور نافرمانی سے دل تباہ ہو کر ان کی سوچ الٹ جاتی ہے لہٰذا ایسے لوگوں کو سفر حیات میں جب کبھی تنگی اور تکلیف سے آرام ملتا ہے مشکلات کے بعد جب کسی میدان سے گزرنے کے لمحے آتے ہیں جو سراسر رحمت الٰہی کا مظہرہوتا ہے تو بجائے شکر کرنے کے الٹا اللہ کے دین اور اس کے احکام کو ناکام بنانے کے حیلے سوچنے لگتے ہیں ۔ ان نادانوں کو بتادیجئے کہ تم آخرمخلوق ہو عاجز ہو جس طرح تمہاری ذات محدود ہے ۔ صفات بھی محدود ہیں ۔ سوچ اور فکر تک مخلوق ہے۔ بھلاجس خلاق عالم نے تمام جہانوں کی تدبیر فرمادی ۔ اس کی تدبیر کو تم کیا ردکرسکوگے کہ تم توچندے دنیا میں ہو نہ تھے نہ رہوگے اور اس کی قدرت…
Read the full tafseer →ف 2 ۔ یعنی خوب جان لے گا اور مشاہدہ کرلے گا کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے اور اس کے اعمال کا اسے کیا بدلہ ملتا ہے۔ پس یہاں مجازاً اتبلا بمعنی انکشاف ہے۔ من قبیل اطلاق السبب علی المسبب۔
3 ۔ مثلاً یہ کہ بت یا معبود اللہ کے مقرب ہیں اور یہ اللہ سے ہماری سفارش کریں گے تو ان کے سفارش لازماً قبول کی جائے گی وغیرہ وغیرہ۔ مطلب یہ ہے کہ اس قسم کی تمام جھوٹی اور لغو باتیں ہوا ہوا جائینگی اور ان کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے گی۔ حضرت عبد اللہ ﷺ بن مسعود سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن ان لوگوں کے سامنے ان کے معبود لائے جائیں گے۔ وہ آگے آگے اور یہ ان کے پیچھے پیچھے چلیں گے یہاں تک کہ جہنم میں…
Read the full tafseer →(10:30) ھنالک۔ تب ۔ ظرف مکان ہے مجازا ! یہاں بطور ظرف زمان استعمال ہوا ہے بطور ظرف مکان مطلب ہوگا۔ وہاں ۔ میدان حشر میں۔ تبلوا۔ مضارع واحد مؤنث غائب۔ بلاء سے۔ ہر جان آزمالے گی۔ جان لیگی۔ خبر پالے گی۔ بلو مادہ۔
ما اسلفت۔ یعنی جو اعمال اس نے آگے بھیجے تھے۔ اسلفت ماضی واحد مؤنث غائب وہ پہلے کرچکی۔ اس نے آگے بھیجا۔
ردوا۔ ماضی مجہول۔ جمع مذکر غائب۔ ماضٰ بمعنی مضارع۔ وہ لوٹائے جائیں گے۔ وہ واپس لائے جائیں گے۔ اس کا عطف زیلنا پر ہے۔ اور ضمیر جمع مذکر غائب الذین اشرکوا کے لئے ہے۔
ضل عن۔ ذھب عن۔ چھوڑ جائیں گے۔ ان سے کھو جائیں گے۔
ما کانوا یفترون۔ جو انہوں نے من گھڑت خود ساختہ (معبود) بنا رکھے تھے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
لغات القرآن آیت نمبر 26 تا 30
الحسنی (بھلائی، نیکی) لا یرھق (نہ ڈھانپ لے گی) فتر (سیاہی، اندھیرا) کسبوا (انہوں نے کمایا) السیئات (سیتہ) ، برائیاں عاصم (بچانے والا) اغشیت (ڈھانپ لی گئی) قطع (ٹکڑے) مظلم (سیاہی) نحشر (ہم جمع کریں گے) مکانکم (تم اپنی جگہ رہو) زیلنا (ہم پھوٹ ڈال دیں گے) ھنالک (اسی جگہ) اسلفت (اس نے پہلے سے کیا تھا) ضل (گم ہوگیا، گم ہوجائیں گے)
تشریح :- آیت نمبر 26 تا 30
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت اور اہل جہنم یعنی اچھے اور برے اعمال کے نتائج اور انجام کی وضاحت فرمائی ہے ۔ فرمایا کہ وہ دن جب سارے انسان میدان حشر میں جمع ہوں گے اس وقت اہل جنت کے چہرے تو چمک رہے ہوں گے جب کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
خدا کی قدرت کا نظارہ
ان آیتوں میں ارشاد ہوتا ہے کہ اے محبوب ! (ﷺ) تم ان سے کہہ دو کہ تم جو خدا کی عبادت سے بیزار ہو۔ اتنا غور نہیں کرتے کہ تمہارے رزق کا سامان کون کرتا ہے، آسمان سے مینہ کون برساتا ہے، اور زمین کی پیدا وار کس کا کام ہے، سماعت اور بصارت کس کے اختیار میں ہے، کون ان کی حفاظت کرتا ہے، کون انہیں آفت میں پھنساتا ہے، اور انسان کو نطفہ سے، اور نطفہ کو انسان سے، پرند کو انڈے سے، اور انڈے کو پرند سے، مومن کو کافر اور کافر کو مومن سے، عالم کو جاہل اور جاہل کو عالم سے۔ کہو ذرا غور کریں کہ تمام عالم کا مدبر کون ہے۔ یہ چونکہ صاف بات ہے اور اس میں جھگڑے کی گنجائش نہیں ہے پس ان کو کہنا ہی پڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
[21] یعنی وہ تمام فرشتے جن کو دیویاں قرار دے کر پوجا گیا اور انبیاء، اولیاء اور جنات جن کو اللہ کا شریک ٹھہرایا گیا تھا۔ وہ اپنے پرستاروں سے صاف کہہ دیں گے کہ ہمیں تو خبر تک نہ تھی کہ تم ہماری عبادت بجا لا رہے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–30
(ف 1) جب کہ دنیا کا یہ حشر ہے تو پھرجائے پناہ کہاں ہے ؟ وہ کون ہے جس کی وجہ سے صحبت وسل امتی کی راہیں کھلتی ہیں ، اس آیت میں اسی سوال کا جواب دیا گیا ہے کہ اگر فنا وموت کے بعد نجات حاصل کرنا چاہتے ، اور دائمی خوش زندگی کے خواہشمند ہو تو اللہ سے اچھا تعلق پیدا کرو ، وہ حی وقیوم ہے ، اسی کی ذات کو ثبات وقرار ہے ، وہ سل امتی کی دعوت دیتا ہے ، مبارک ہیں وہ لوگ جو اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں ۔
اللھم اغفر لکاتبیہ ولمن سعے فیہ ۔
Read the full tafseer →30 اس جگہ اور اس وقت ہر شخص اپنے ان اعمال کو اور ان کاموں کو جانچ لے گا اور امتحان کرلے گا جو اس نے کئے ہوں گے اور تمام گزشتہ اعمال سامنے آجائیں گے اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف جو ان کا حقیقی مالک ہے لوٹائے جائیں گے اور جو افترا پردازیاں یہ کیا کرتے تھے وہ سب ان سے گم ہوجائیں گے اور غائب ہوجائیں گی۔ یعنی اس موقعہ پر ہر شے کی حقیقت ظاہر ہوجائے گی سب اعمال اچھے ہوں یا بُرے سامنے آجائیں گے اور جن کو سہارا سمجھتے تھے اور شفیع کہتے تھے وہی مخالف میں بولیں گے اور سوائے اس مالک حقیقی کے کوئی دوسرا ٹھکانہ نہ ہوگا پھر ایسے وقت میں وہ دنیا کی افترا پردازیاں اور شرارتیں کہاں سے آئیں گی۔
Read the full tafseer →ف 3۔ یہاں اللہ کا کفار کا مولی فرمادینا باعتبار معنی مالکیت کے ہے لامولی لھم میں نفی باعتبار معنی محب وناصر کے ہے۔
Read the full tafseer →ہر آدمی کے سامنے اس کا چٹھا رکھ دیا جائے گا تاکہ اپنے کئے کی فلم وہ خود دیکھ لے
۔ 50 اس وقت میدان حشر میں ہر انسان اپنے کئے کا نفع و نقصان جانچ لے گا اور اپنے اعمال کا مزہ چکھ لے گا۔ پھر ان سب کو ان کے حقیقی مالک اللہ کی طرف پھیر دیا جائے گا جو جھوٹ اور افتراء پر داڑیاں دنیا میں انہوں نے گھڑ رکھی تھیں سب کی سب گم ہوجائیں گی اور سکی بنائے ہوئے شریک کی سفارش نہ ہو سکے گی یعنی کوئی اس جگہ کام نہ آئے گا۔ اس وقت سب گم ہوجائیں گے اور ہر شخص اعیانا دیکھ لے گا کہ جو اعمال اس نے کئے تھے وہ واقعتاً اس کے لئے نافع تھے یا غیر نافع اور اس کا اجمالی علم تو انسان کے مرنے کے ساتھہی ہوجاتا ہے لیکن حشر میں اس…
Read the full tafseer →Described in the sixth verse (30) is what would happen to both the peoples of Jannah and Jahannam by saying that, in this excruciating place called the plains of Resurrection, everyone would have assessed his or her respective deeds, individually and personally, whether they were beneficial or harmful. And they all would then be taken to their true Lord, the only One worthy of worship. At that time, all options of trust and support one usually looks up to will stand terminated. Even the idols the Mushriks used to take as their patrons and intercessors will evaporate in thin air en-block.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–31
37. This shows how the false gods will react to their worshippers. Angels who had been declared gods and goddesses and therefore, worshipped, the jinn, the spirits, the forefathers of yore, the Prophets, and the saints and martyrs who were considered to share with God some of His attributes, will all disavow their devotees. They will tell the latter in quite plain terms that they were not even aware that they were being worshipped; that even if they had been prayed to, called upon or cried out to, or had had offerings or sacrifices made in their name, or who had had reverence, adoration,…
Read the full tafseer →