Explained with ayahs 101–103
دعوت غور و فکر
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں اس کی قدرتوں میں اس کی پیدا کردہ نشانیوں میں غور و فکر کرو۔ آسمان و زمین اور ان کے اندر کی نشانیاں بیشمار ہیں۔ ستارے سورج، چاند رات دن اور ان کا اختلاف کبھی دن کی کمی، کبھی راتوں کا چھوٹا ہوجانا، آسمانوں کی بلندی ان کی چوڑائی ان کا حسن وزینت اس سے بارش برسانا اس بارش سے زمین کا ہرا بھرا ہوجانا اس میں طرح طرح کے پھل پھول کا پیدا ہونا، اناج اور کھیتی کا اگنا، مختلف قسم کے جانوروں کا اس میں پھیلا ہوا ہونا، جن کی شکلیں جدا گانہ، جن کے نفع الگ الگ جن کے رنگ الگ الگ، دریاؤں میں عجائبات کا پایا جانا، ان میں طرح طرح کی ہزارہا قسم کی مخلوق کا ہونا، ان میں چھوٹی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
سورة یُوْنُس 105
یہ ان کے اس مطالبہ کا آخری اور قطعی جواب ہے جو وہ ایمان لانے کے لیے شرط کے طور پر پیش کرتے تھے کہ ہمیں کوئی نشانی دکھائی جائے جس سے ہم کو یقین آجائے کہ تمہاری نبوت سچی ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا جارہا ہے کہ اگر تمہارے اندر حق کی طلب اور قبول حق کی آمادگی ہو تو وہ بےحدوحساب نشانیاں جو زمین و آسمان میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں تمہیں پیغام محمدی کی صداقت کا اطمینان دلانے کے لیے کافی سے زیادہ ہیں۔ صرف آنکھیں کھول کر انہیں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر یہ طلب اور یہ آمادگی ہی تمہارے اندر موجود نہیں ہے تو پھر کوئی نشانی بھی، خواہ وہ کیسی ہی خارق عادت اور عجیب و غریب ہو، تم کو نعمت ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
خلاصہ تفسیر
آپ کہہ دیجئے کہ تم غور کرو (اور دیکھو) کہ کیا کیا چیزیں ہیں آسمان میں اور زمین میں (آسمانوں میں ستارے وغیرہ اور زمین میں بےانتہا مخلوق نظر آتی ہے یعنی ان میں غور کرنے سے توحید کی دلیل عقلی حاصل ہوگی، یہ بیان ہوا ان کے مکلف ہونے کا) اور جو لوگ (عنادًا) ایمان نہیں لاتے ان کو دلائل اور دھمکیاں کچھ فائدہ نہیں پہنچاتے (یہ بیان ہوا ان کے عناد کا) سو (ان کی اس حالت عناد سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) وہ لوگ (بدلالت حال) صرف ان لوگوں کے سے واقعات کا انتظار کر رہے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں (یعنی باجود دلائل اور وعیدوں کے جو ایمان نہیں لاتے تو ان کی حالت اس شخص کے مشابہ ہے جو ایسے عذاب کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
101 تا 103:۔ قُلِ انْظُرُوْا مَاذَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَمَا تُغْنِي الْاٰيٰتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ۔ فَهَلْ يَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَيَّامِ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ قُلْ فَانْتَظِرُوْٓا اِنِّىْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِيْنَ۔ ثُمَّ نُنَجِّيْ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ ۚ حَقًّا عَلَيْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِيْنَ۔
مطالبہ معجزات کا جواب : قُلِ انْظُرُوْا۔۔ الایۃ۔ یہ کفار کے مطالبہ معجزات کا جواب دلوایا ہے کہ آسمان و زمین معجزات اور نشانیوں سے بھرے پڑے ہیں ان سے کہو کہ معجزات کی طلب ہے تو ان نشانیوں اور معجزات کو دیکھو، یہ آنکھیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
12۔ 1 یعنی یہ لوگ، جن پر کوئی دلیل اور دھمکی اثر انداز نہیں ہوتی، لہذا ایمان نہیں لاتے۔ کیا اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے ساتھ بھی وہی تاریخ دہرائی جائے جن سے پچھلی امتیں گزر چکی ہیں۔ یعنی اہل ایمان کو بچا کر (جیسا کہ اگلی آیت میں وضاحت ہے) باقی سب کو ہلاک کردیا جاتا تھا۔ اگر اسی بات کا انتظار ہے تو ٹھیک ہے، تم بھی انتظار کرو، میں بھی انتظار کر رہا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–107
42: اس کائنات کی ہر چیز کو اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا شاہکار ہے، اس سے نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ محیر العقول کارخانہ خود بخود وجود میں نہیں آگیا، اسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، بلکہ اس سے یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ جو ذات اتنی عظیم کائنات پیدا کرنے پر قادر ہے، اسے اپنی خدائی کے لیے کسی شریک یا مددگار کی حاجت نہیں ہے، لہذا وہ ہے، اور ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
اس آئنہ خانے میں سبھی عکس ہیں تیرے
اس آئنہ خانے میں تو یکتا ہی رہے گا
Read the full tafseer →فھل ینتظرون الا مثل ایام الذین خلوا من قبلھم پس وہ (یعنی مکہ کے مشرک) انتظار نہیں کر رہے ہیں مگر انہی جیسے واقعات و مصائب کا جو ان سے پہلے گذرے ہوئے کافروں کے ہوئے ہیں۔ قتادہ نے کہا : یعنی اس جیسے عذاب الٰہی کا جو قوم نوح و عاد اور ثمود پر آیا تھا۔ عربی محاورہ میں ایام کے لفظ سے عذاب بھی مراد لیا جاتا ہے اور انعامات بھی۔ اللہ نے فرمایا : وَذَکِّرْھُمْ بِاَیَّام اللّٰہِ گویا انسانوں پر جو بھلائی یا تباہی آتی ہے ‘ سب کو ایام کہا جاتا ہے۔
قل فانتظروا انی معکم من المنتظرین (اے محمد (ﷺ) ! ) آپ کہہ دیجئے کہ تم (میری ہلاکت کے) منتظر رہو۔ میں بھی تمہارے ساتھ (تمہاری ہلاکت کا) انتظار کرنے والوں میں سے…
Read the full tafseer →1 ایسی ضدی اور معاند قوم کے لیے جو کسی دلیل اور نشان کو نہ مانے، اور کچھ باقی نہیں بجز اس کے کہ گذشتہ مکذبین پر جو آفات و حوادث نازل ہوئے ہیں، ان کا یہ بھی انتظار کریں۔ سو بہتر ہے تم اور ہم دونوں مل کر اس وقت کا انتظار کرتے ہیں تاکہ صادق و کاذب کا آخری فیصلہ سامنے آجائے۔
Read the full tafseer →آیت 102 فَہَلْ یَنْتَظِرُوْنَ الاَّ مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِہِمْ
رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں پر آنے والے عذاب استیصال والے دنوں کو قرآن حکیم میں ”ایام اللہ“ قرار دیا گیا ہے۔ تو کیا یہ لوگ ایسے دنوں کے منتظر ہیں جو قوم نوح یا قوم ہود علیہ السلام یا قوم صالح یا قوم لوط علیہ السلام کو دیکھنے پڑے تھے ؟
Read the full tafseer →110 ایسے لوگ اس وقت تک ایمان لانے پر آمادہ نہیں ہوتے جب تک کہ وہ عذاب کی شکل میں اپنی موت کو اپنے سامنے دیکھ نہ لیں۔ سابقہ اقوام کے انجام سے عبرت حاصل کرنا ان کے لیے خارج از بحث ہوتا ہے کیونکہ وہ ایسے انجام کی بھی مادی توجیہات تلاش کرنے کے درپے ہوجاتے ہیں لہذا ایسے لوگوں کو سمجھانا بھی بےسود ہی ثابت ہوتا ہے ایسے لوگوں کو یہی جواب مناسب ہوتا ہے کہ تم بھی انتظار کرو اور میں بھی انتظار کرتا ہوں تاآنکہ اللہ تعالیٰ خود ہی ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کی کوئی ایسی صورت پیدا کر دے جس سے ہر ایک کو یہ معلوم ہوجائے کہ دونوں فریقوں میں سے حق پر کون ہے اور باطل پر کون ؟ اور ایسا فیصلہ عموماً منکرین حق…
Read the full tafseer →154۔ یعنی ان موجودہ منکروں اور معاندوں کے وجود سے تو بس یہ ظاہر ہورہا ہے کہ یہ لوگ سابق ہلاک شدہ قوموں کے وقت کا انتظار کررہے ہیں ! (آیت) ” ھل ینتظرون “۔ یعنی دلالت حال سے تو ایسا ہی ظاہر ہورہا ہے۔ (آیت) ” ایام “۔ محاورۂ عرب میں ایام کا اطلاق اہم ترین شدید ترین واقعات و حوادث پر ہوتا ہے۔ الایام ھنا بمعنی الوقائع والحرب تسمی العذاب ایاما والنعم ایاما کل ما سعی لک من الخیر اوالشر فھو ایام (قرطبی) ای وقائع اللہ تعالیٰ فیھم (کشاف) ومنھا استعمال الایام فی الوقائع کقولھم ایام العرب وھو مجاز مشھور من التعبیر بالزمان عما وقع فیہ (روح) (آیت) ” الذین خلوا من قبلھم “۔ یعنی وہ پر قوت و شوکت ونافرمان و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–103
آیت نمبر 93 تا 103
ترجمہ : اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانہ دیا اور وہ شام اور مصر تھا، اور ہم نے ان کو پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں، پھر انہوں نے اختلاف نہیں کیا مگر اس وقت جبکہ علم ان کے پاس آچکا بایں طور کہ بعض لوگ ایمان لائے اور بعض نے انکار کیا، یقیناً تیرا رب قیامت کے دن ان کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کر دے گا جس امر دین میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں مومنین کو نجات دے کر اور کافروں کو عذاب دیکر، پس اے محمد ! بالفرض اگر تم ان قصوں کے بارے میں جو ہم نے تمہاری طرف نازل کئے ہیں، شک میں ہو تو ان لوگوں سے پوچھ دیکھئے جو تم سے پہلی کتاب تورات کو پڑھتے ہیں اس لئے کہ وہ نازل کردہ (واقعات) ان کے…
Read the full tafseer →فھل ینتظرون الا مثل ایام الذین خلوا من قبلھم پس وہ (یعنی مکہ کے مشرک) انتظار نہیں کر رہے ہیں مگر انہی جیسے واقعات و مصائب کا جو ان سے پہلے گذرے ہوئے کافروں کے ہوئے ہیں۔ قتادہ نے کہا : یعنی اس جیسے عذاب الٰہی کا جو قوم نوح و عاد اور ثمود پر آیا تھا۔ عربی محاورہ میں ایام کے لفظ سے عذاب بھی مراد لیا جاتا ہے اور انعامات بھی۔ اللہ نے فرمایا : وَذَکِّرْھُمْ بِاَیَّام اللّٰہِ گویا انسانوں پر جو بھلائی یا تباہی آتی ہے ‘ سب کو ایام کہا جاتا ہے۔
قل فانتظروا انی معکم من المنتظرین (اے محمد ﷺ ! ) آپ کہہ دیجئے کہ تم (میری ہلاکت کے) منتظر رہو۔ میں بھی تمہارے ساتھ (تمہاری ہلاکت کا) انتظار کرنے والوں میں سے…
Read the full tafseer →(102) تو کیا ان کے لیے اور کوئی نشانی باقی رہ گئی ہے جس کی بنا پر یہ ان کفار جیسے عذاب کا انتظار کر رہے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔
اے محمد ﷺ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ تم بھی نزول عذاب اور میری ہلاکت کے منتظر رہو میں بھی تمہارے ساتھ نزول عذاب اور تمہاری ہلاکت کا منتظر ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
فَهَلْ يَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَيَّامِ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ : یعنی کیا یہ مشرکین چاہتے ہیں کہ ان پر گزشتہ قوموں کی طرح عذاب آجائے ؟ فرمایا، ٹھیک ہے تم بھی انتظار کرو میں بھی انتظا ر کرنے والوں میں شامل ہوں، مگر یاد رکھو کہ پھر عذاب آنے پر اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو اور ایمان والوں کو ہر حال میں عذاب سے بچا لیتا ہے اور یہ اللہ پر حق ہے کہ وہ مومنوں کو ضرور ہی بچا لیتا ہے۔ بطور مثال دیکھیے سورة حم السجدہ (18) میں قوم عاد وثمود کے عذاب میں سے ایمان اور تقویٰ والوں کو بچا لینے کا ذکر۔ اس سے معلوم ہوا کہ جتنا بڑا عذاب بھی آجائے اہل خیر کا وجود زمین میں ہمیشہ رہتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 102۔
قولہ تعالیٰ : (آیت) فھل ینتظرون الا مثل ایام الذین خلوا من قبلھم یہاں ایام سے مراد واقعات ہیں یعنی بمعنی وقائع ہے۔ کہا جاتا ہے : فلان عالم بایام العرب یعنی فلاں عرب میں پیش آنے والے واقعات کا عالم ہے۔ حضرت قتادہ۔ نے کہا ہے : مراد وہ واقعات ہیں جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے قوم نوح، عاد اور ثمود میں پیش آئے۔ اور عرب عذاب اور انعام دونوں کو ایام کا نام دیتے ہیں، جیسا کہ قول باری تعالیٰ ہے : (آیت) وذکرھم بایام اللہ (ابراہیم : 5) اور ہم وہ جو خیر وشر میں سے گزرچکا ہے وہی ایام ہے۔ (آیت) فانتظروا یعنی تم انتظار کرو یہ تہدید (ڈانٹ ڈپٹ) اور وعید ہے۔ (آیت) انی معکم من المنتظرین بیشک میں بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–106
1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ’ ’ ویجعل الرجس “ میں جس سے مراد ہے غصہ۔
2:۔ ابوالشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” ویجعل الرجس “ میں ” الرجس “ سے مراد ہے شیطان یا رجس سے مراد ہے عذاب۔
3:۔ ابو الشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما تغنی الایت ولنذر عن قوم “ میں قوم کی بجائے ” عن قوم لا یومنون “ سے مگر (اس حکم کو) اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” حکمۃ بالغۃ فما تغن النذر “ (5) ۔ نے منسوخ کردیا (یہ حک ہے کہ ان کو ڈرانا فائدہ نہیں دیتا جو (اللہ کے علم میں) ایمان نہیں لائیں گے۔
4:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے…
Read the full tafseer →فَهَلْ يَنْتَظِرُوْنَ [ تو وہ لوگ کیا انتظار کرتے ہیں ] اِلَّا [سوائے ] مِثْلَ اَيَّامِ الَّذِيْنَ [ ان لوگوں کے دنوں کے جیسے کا ] خَلَوْا [ جو گزرے ] مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ [ ان سے پہلے ] قُلْ [ آپ کہہ دیجئے ] فَانْتَظِرُوْٓا [ پس تم لوگ انتظار کرو ] اِنِّىْ [ بیشک میں (بھی) ] مَعَكُمْ [ تمہارے ساتھ ] مِّنَ الْمُنْتَظِرِيْنَ [انتظار کرنے والوں میں سے ہوں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
اگر اللہ چاہتاتو سب ایمان قبول کرلیتے !
ان آیات میں اول تو یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں مومن بھی رہیں گے۔ کافر بھی رہیں گے۔ اللہ کی حکمت کا یہی تقاضا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو زمین کے بسنے والے سب لوگ ایمان لے آتے۔ جب اللہ کی حکمت اسی میں ہے کہ زمین پر کافر بھی بسیں اور مومن بھی رہیں تو آپ کو اس پر اصرار نہ ہونا چاہئے کہ سب لوگ مومن ہوجائیں۔ کیا آپ زبردستی کر کے لوگوں کو مومن بنائیں گے ؟ ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ زبردستی کر کے لوگوں کو مومن بنالیں۔ جو شخص مومن ہوتا ہے اللہ کے اذن یعنی اس کی مشیت سے مومن ہوتا ہے۔ ہاں یہ بات بھی ہے کہ جو لوگ عقل کو کام میں نہیں لاتے ایمان کی خوبی اور برتری انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
اہل رجس یعنی معاندین کو خطاب تہدید
قال اللہ تعالیٰ ۔ قل انظرو ماذا فی السموات والارض۔۔۔ الی۔۔۔ ننج ال مومن ین
(ربط): گزشتہ آیت یعنی وجعل الرجس علی الذین لا یعقلون۔ میں اہل رجس یعنی معاندین کا ذکر تھا کہ لوگ کفر اور عناد کی گندگی میں ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بےعقل ہیں ہوائے نفسانی کے تابع ہیں اب اس آیت میں انہیں اہل رجس یعنی معاندین کو خدا کی نشانیوں میں غور وفکر کا حکم ہے اور تہدید بھی ہے کہ کیا یہ معاندین اسی قسم کے عذابوں کا انتظار کر رہے ہیں جو پہلی امتوں پر نازل ہوچکے ہیں خوب سمجھ لیں کہ یہ لوگ بھی عناد کی وجہ سے اسی قسم کے عذاب کے مستحق ہیں اللہ تعالیٰ نے تم کو غور وفکر کرنے کے لیے عقل عطا کی…
Read the full tafseer →111: یہ تخویف دنیوی ہے۔ ضدی اور معاند لوگوں پر دلائل و آیات کا کوئی اثر نہیں ہوتا بس ان کے لیے یہی ایک راہ باقی ہے کہ گذشتہ معاند قوموں کا جو حشر ہوا یہ بھی اپنے لیے اسی انجام کا انتظار کریں لہذا تم بھی اس وقت کا انتظار کرو اور میں بھی اس کا انتظار کرتا ہوں تاکہ حق و باطل اور صادق و کاذب کا فیصلہ ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–103
ربط آیات
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے یونس (علیہ السلام) کا حال بیان فرمایا ، نیز آپ کی قوم کی منفرد حیثیت کا تذکرہ فرمایا کہ یہ واھد قوم ہے جس کی توبہ اللہ تعالیٰ نے عذاب کی نشانیان ظاہر ہوجانے کے بعد قبول کی۔ اس سلسلے میں بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ عذاب کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) کی تصدیق کے لیے عذاب کی کچھ علامات ظاہر فرمائی تھیں۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور آپ پر ایمان لانے والوں کو تسلی دی ہے کہ لوگوں کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے آپ دل برداشتہ نہ ہوں کیوں کہ ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اور آپ کسی کو ایمان لانے…
Read the full tafseer →فَہَلْ يَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَيَّامِ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِہِمْ 0 ۭ قُلْ فَانْتَظِرُوْٓا اِنِّىْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِيْنَ 102
هَلْ
: حرف استخبار، إما علی سبیل الاستفهام، وذلک لا يكون من اللہ عزّ وجلّ : قال تعالی: قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنا[ الأنعام/ 148] وإمّا علی التّقریر تنبيها، أو تبكيتا، أو نفیا . نحو : هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِنْ أَحَدٍ أَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزاً [ مریم/ 98] . وقوله :
هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا[ مریم/ 65] ، فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرى مِنْ فُطُورٍ [ الملک/ 3] كلّ ذلک تنبيه علی النّفي . وقوله تعالی: هَلْ يَنْظُرُونَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–103
حضرت یونس (علیہ السلام) کے واقعہ کی طرف بڑے عبرت آمیز الفاظ میں اشارہ کرتا ہے فلولا کانت قریۃ آمنت فنفعہا ایمانہا الخ لولا کو بعض نے کلمہ نفی سمجھا ہے۔ امام واحد کا اسی طرف رجحان ہے۔ ان کے نزدیک یہ معنی ہوئے فما کانت قریۃً آمنت فنفعہا ایمانہا الا قوم یونس کہ ان گمراہ بستیوں میں سے کوئی بھی ایسی بستی نہیں ہوئی کہ جو ایمان لاتی اور ان کا ایمان نفع دیتا بجز قوم یونس کے یہ استثنیٰ منقطع ہے۔ ادل سے بعض علماء اس کو کلمہ تحریص و تخصیص کہتے ہیں بمعنی ہلاان کے نزدیک یہ معنی ہوئے کہ کوئی ایسی بستی بھی ہوتی کہ جو ایمان لاتی اور اس کا ایمان نفع دیتا مگر قوم یونس کہ وہ ایمان لائی۔ یونس بن متی (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
فَہَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلاَّ مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِہِمْط قُلْ فَانْتَظِرُوْٓا اِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ ۔ ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کَذٰلِکَ ج حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ ع
(یونس : 102، 103)
(پس وہ انتظار نہیں کر رہے مگر ان جیسے لوگوں کے حالات کا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں آپ کہہ دیجیے اچھا انتظار کرو بیشک میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ پھر ہم نجات دے دیتے ہیں اپنے رسولوں کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو۔ ایسے ہی ہم پر حق ہے ہم مؤمنوں کو نجات دیں گے۔ )
جو لوگ اپنے رویے سے اپنے آپ کو فطری صلاحیتوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کے تذکرہ کے بعد۔ انسان کو توجہ دلائی گئی ہے اگر تھوڑا سا عقل سے کام لے اور اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر غور کرے تو اس کے لیے ہدایت کے راستے کھل جائیں گے۔
اللہ کی قدرت کی نشانیاں زمین و آسمان میں اس قدر نمایاں اور پھیلی ہوئی ہیں کہ آدمی تھوڑی سی توجہ کرے تو وہ خود بخود اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہیں۔ آسمان کی طرف دیکھیے کب سے جوں کا توں بلا ستون کھڑا ہے نہ اس کی رنگت میں کوئی فرق آیا ہے اور نہ ہی کہیں سے جھکا اور پھٹا ہے یہاں تک کہ اس میں دراڑ اور نشیب و فراز بھی نظر نہیں آتا۔ اب اپنے پاؤں تلے زمین پر غور فرمائیے کہ بظاہر ایک ہی دھرتی ہونے کے باوجود…
Read the full tafseer →102: فَھَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِھِمْ (پس وہ انتظار نہیں کر رہے مگر ان لوگوں کے دنوں جیسے جو ان سے پہلے ہوئے) یعنی جن میں بڑے بڑے واقعات پیش آئے جیسا کہا جاتا ہے۔ ایام العرب لوقائعھا۔ قُلْ فَانْتَظِرُوْا اِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ (کہہ دو پس تم انتظار کرو بیشک میں تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں)
Read the full tafseer →تفسیر : 102” فھل ینظرون “ مکہ کے مشرکین یاد ہیں ” الا مثل ایام الذین خلوا من قبلھم “ پہلی امتوں کے تکذیب کرنے والوں کے مثل ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی اللہ کے وہ عذاب جو قوم نوح (علیہ السلام) وقوم عاد وثمود پر واقع ہوئے اور عربی محاورہ میں ایام کے لفظ سے عذاب بھی مراد لیا جاتا ہے اور انعامات بھی ، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” وذکر ھم بایام اللہ “ یعنی ہر خیر اور شر جوان پر گزرے وہ ایام ہے۔” قل فانتظروا انی معکم من المنتظرین “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
101۔ 103۔ اوپر منکرین قیامت کی کم عقلی کا ذکر تھا ان آیتوں میں ان کو عقل سے کام لینے پر آمادہ کیا اور فرمایا کے اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ زمین و آسمان میں کیا کچھ نہیں ہے اگر تم لوگ غور اور فکر کرو تو بات بات سے سمجھ لو کہ خدا کی خدائی میں تمہارے بتوں کو کچھ دخل نہیں ہے۔ چاند سورج دن کا ہونا رات کا ہونا اندھیری راتوں میں ستاروں کا نکلنا راتوں کو سفر کرنے والوں کو کیسا مفید ہے کہ وہ ستاروں کو دیکھ کر سمت دریافت کرلیا کرتے ہیں پھر بارش کا ہونا کھیتوں کا سرسبز کرنا کیسا فائدہ مند ہے غرض کہ ہوشیار آدمی درختوں کے پتہ تک سے خدا کی وحدانیت کا پتہ لگا لیتا ہے پھر فرمایا کہ یہ قدرت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
آیت : ( 101-103)
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ آسمانوں اور زمن میں غور کریں اور اس سے مراد یہ ہے کہ تفکر اور عبرت کی نظر سے آسمان کو دیکھیں ‘ ان میں جو کچھ موجود ہے اس میں تدبر کریں اور بسیرت حاصل کریں۔ ان میں اہل ایمان کے لئے نشانیاں اور اہل ایقان کے لئے عبرت ہے جو اس پر دلالت کرتی ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود محود ہے ‘ وہی صاحب جلال و اکرام و عظیم اسماء وصفات کا مالک ہے۔ (وما تغنی الایت والنذر عن قوم لا یومنون) ” اور کچھ کام نہیں آتیں نشانیاں اور ڈرانے والے ان لوگوں کو جو ایمان لانے والے نہیں “ کیونکہ یہ لوگ اپنے اعراض اور عناد کی وجہ سے آیت الٰہی سے فائدہ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 89–109
قول باری ہے قد اجیبت دعوتکما تم دونوں کی دعا قبول کی گئی ۔ دعا کی نسبت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) دونوں کی طرف سے کی گئی ہے ۔ ابو العالیہ ، عکرمہ ، محمد بن کعب اور ربیع بن موسیٰ کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دعا مانگتے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے، اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو دعا مانگنے والے قرار دیا ۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ آمین بھی دعا ہے اور جب اس کا دعا ہونا ثابت ہوگیا تو پھر اس کا اخفاء اس کے جہر سے افضل ہوگا اس لیے کہ قول باری ہے ادعوا ربکم تضرعا ً و خفیۃ ۔ اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے پکارو۔
Read the full tafseer →173 ۔ ہٹ دھرموں کی حرماں نصیبی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا اب یہ لوگ انہی لوگوں کے برے دنوں جیسے دنوں کے منتظر ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں۔ یعنی کیا اب یہ لوگ اپنے آخری انجام ہی کے منتظر ہیں ؟ یعنی ان عذابوں کے ا نتظار میں ہیں۔ جو ان لوگوں پر واقع ہوئے اور " ایام " بول کر عذاب مراد لینا عربوں کا عام طریقہ اور ان کے معروف اسالیب کلام میں سے ہے۔ من قبیل اطلاق الظرف و ارادہ المظروف۔ اور ظرف بول کر مظروف مراد لینا ایک عام اسلوب و محاورہ ہے جو کہ ہر زندہ اور مروج زبان و محاورہ میں پایا جاتا ہے۔ چناچہ ہمارے یہاں بھی ظہر بول کر نماز ظہر، عصر بول کر نماز عصر، اور مغرب بول کر نماز مغرب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–109
رسول کا کام صرف سمجھانا ہے
تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے تو نبی اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ اس بات سے آگاہ کرتا ہے کہ آپ ﷺ کی یہ خواہش کہ سب لوگ ہی ایمان لے آئیں یہ پوری نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ اگر چاہتے تو یہ کر بھی سکتے تھے مگر یہ بات اللہ کی مشیت کے خلاف ہے۔ آپ ﷺ اللہ کے سچے، اتنہائی مخلص اور فرمانبردار بندے تھے مگر تھے تو انسان ہی۔ انہوں نے اپنے کام کو جو اللہ نے ان کے سپرد کیا تھا، یعنی نبوت اور تبلیغ کا تو اس کام میں انہوں نے اتنی مصیبتیں، دکھ، پریشانیاں اور مشقتیں برداشت کیں کہ انسان حیران ہوجاتا ہے مگر آپ ﷺ کو اپنے رب سے اور اس کے دیے ہوئے کام (نبوت) سے اس قدر پیار اور محبت تھی کہ وہ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 93–103
آیات 93 تا 103
اسرار و معارف
پھر ان نعمتوں کا تذکرہ جو بنی اسرائیل کو عطاہوئیں کہ بظاہرفرعون اور اس کی ساری حکومت انھیں رسوا کرنے پہ کمرباندھے ہوئے تھی کوئی ظاہری سبب ان کی نجات کا نہ تھا کہ انھوں نے اللہ پر بھر وسہ کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی میں نکل کھڑے ہوئے تو فرعون اور اس کا لشکرتباہ ہوگئے اور نبی اسرائیل کو وہ خوبصورت اور سرسبز و شاداب وادی جو انبیائے سابقین کا مسکن بھی تھی اور دنیاوی ودینی اعتبار سے ان کی پسنددیدہ بھی تھی یعنی اردن و فلسطین کی ارض مقدسہ عطاہوئی اور سلطنت مصر بھی انہی کو مل گئی اور بہترین نعمتیں بھی بطور رزق نصیب ہوئیں۔ آباد گھر تنومنداولاداچھی بیویاں شاداب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
ف 2 ۔ آنحضرت ﷺ کفار کو عذاب سے ڈراتے تو وہ اس کا مذاق اڑاتے۔ اس پر اس آیت میں ان کو وعید سنائی کہ تم از خود اپنے اوپر عذاب کو دعوت دے رہے ہو جو ان سے پہلے کی کسی قوم پر نازل ہوا۔ (شوکانی) ۔
Read the full tafseer →(10:102) فہل ینتظرون۔ میں ہل نافیہ ہے۔
ایام۔ یوم کی جمع ہے۔ دن۔ وقت کے علاوہ یہ لفظ عذاب اور نعمت دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں : والعرب تسمی العذاب ایاما والنعم ایاما۔ لقولہ تعالیٰ وذکرہم بایام اللہ (14:5) عرب عذاب کو بھی ایام کہتے ہیں۔ اور نعمت کع بھی ایام کہتے ہیں جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے ذکرہم بایام اللہ۔ اور انہیں یاد دلاؤ اللہ کی نعمتیں ۔
یا ایام سے مراد وقائع۔ واقعات بھی مراد ہوسکتا ہے۔ جیسے عرب پہلے واقعات کو ایام العرب کہتے ہیں۔ اس صورت میں آیت ہذا میں ایام الذین خلوا من قبلہم سے مراد ہے ان لوگوں کے واقعات و حالات جو ان سے قبل گزر چلے ہیں (یعنی جب اتمام حجت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–103
لغات القرآن آیت نمبر 98 تا 103
قریۃ (بستی ، آبادی) کشفنا (ہم نے کھول دیا، ہٹا دیا ) الخزی (رسوائی) متعنا (ہم نے سامان دیا) حین (زمانہ، مدت) تکرہ (تو زبردستی کرے گا) یجعل (وہ بناتا ہے، ڈالتا ہے) الرجس (گندگی) لایعقلون (سمجھ نہیں رکھتے ہیں انظروا (تم دیکھو ) ماتغنی (کام نہیں آئی) النذر (ڈرانا، دھمکانا) ینتظرون (وہ انتظار کر رہے ہیں
تشریح : آیت نمبر 98 تا 103
اللہ تعالیٰ نے انسان کو خشکی اور تری میں برتری اور اس کائنات کی ہر مخلوق سے زیادہ عظمت عطا فرمائی ہے لیکن اس کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ وہ دنیا کے معاملات میں الجھ کر اس قدر غافل ہوجاتا ہے کہ اس کو آخرت کی یاد ہی نہیں آتی اور بھول کر وہ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
اوپر منکرین قیامت کی کم عقلی کا ذکر تھا۔ ان آیتوں میں ان کو عقل سے کام لینے پر آمادہ کیا اور فرمایا کہ اے رسول اللہ کے ! تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ زمین وآسمانہ میں کیا کچھ نہیں ہے۔ اگر تم لوگ غور وفکر کرو تو بات بات سے سمجھ لو کہ خدا کی خدائی میں تمہارے بتوں کو کچھ دخل نہیں ۔ چاند سورج، دن کا ہونا، رات کا ہونا، ستاروں کا نکلنا، بارش کا ہونا غرضیکہ ہوشیار آدمی درختوں کے پتا تک سے خدا کی وحدانیت کا پتہ لگا لیتا ہے۔ پھر فرمایا کہ قدرت کی سب نشانیاں اسی کو کار آمد ہیں جو ایمان لاوے اور جو ایمان لانے والے نہیں ہیں یہ نشانیاں کیا فائدہ پہنچائیں گی۔ کیونکہ ان لوگوں کو بھی اسی روز بد کا انتظار ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–109
[42] مفسرین نے عذاب ٹل جانے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ یونس (علیہ السلام) اپنی نافرمان قوم کو عذاب کی اطلاع دینے کے بعد اللہ کی اجازت کے بغیر بستی سے چلے گئے تھے۔ اس لئے جب آثار عذاب ظاہر ہونا شروع ہوئے تو پوری قوم نے اللہ تعالیٰ کے روبرو گریہ زاری شروع کی اور ایمان لے آئی لہذا عذاب ہٹا لیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–105
(ف 2) مشیت واذن الہی کے دو معنے ہیں ایک کا تعلق تکوین سے ہے ایک کا تشریع سے ، اللہ کے نزدیک پسندیدہ تو یہی ہے کہ سب لوگ ایمان لے آئیں ، مگر تکوین میں اس نے اختلاف رائے کو باقی رکھا ہے تاکہ حق و باطل میں امتیاز قائم رہے ۔
اسی طرح اگر ” الا باذن اللہ “ سے مقصود یہ ہے کہ ایمان کے لئے جہاں تک آسانیوں اور توفیق وتسہیل کا تعلق ہے وہ اللہ کی تکوین کا نتیجہ ہے ، اس لئے وہ شخص جو ان وسائل ہدایت سے محروم ہے ، ہدایت قبول نہیں کرسکتا ، غرض یہ ہے کہ آپ ان لوگوں کی گمراہی پر غم نہ کریں اختلاف رائے مشیت ایزدی ہے ، یہ باقی رہے گا البتہ تلقین و دعوت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے ۔
حل لغات :
کشفنا : کھول دیا یعنی…
Read the full tafseer →102 سو سو کیا یہ لوگ اس قسم کے واقعات کا انتظار کر رہے ہیں جس قسم کے واقعات ان سے پہلو پر گزر چکے ہیں آپ کہہ دیجئے اچھا تم انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں یعنی ان کی غفلت اور بےپروائی سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی صرف ان ہی باتوں کا انتظار کر رہے ہیں جن سے پہلے لوگوں کو سابقہ پڑچکا ہے اچھا اگر یہ بات ہے تو وہ بھی انتظار کریں اور آپ بھی انتظار کرتے رہیں۔
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی باوجود دلائل اور وعیدوں کے جو ایمان نہیں لاتے تو ان کی حالت اس شخص کے مشابہ ہے جو ایسے عذاب کا منتظر ہو جو کہ پہلی قوموں پر آیا تھا۔
Read the full tafseer →یہ لوگ کیا چاہتے ہیں ؟ یہی کہ ان کے پاس بھی ہلاک کردینے والا عذاب بھیج دیا جائے
138 ؎ ان موجودہ منکرین و معاندین کے طور طریقوں سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ بھی گزشتہ ہلاک شدہ قوموں کے وقت کا انتظار کر رہے ہیں اس لئے کہ ان پر حجت پوری ہوچکی اور حق واضح ہوچکا لیکن اس کے باوجودوہ اب بھی ایمان نہیں لا رہے شاید وہ اس عذاب کے منتظر ہیں جو ان سے پہلے گمراہ قوموں پر نازل ہوا تھا اور انہیں میان میٹ کر گیا تھا۔ اگر ان کی یہی منشاء ہے تو ان کی یہ حسرت بھی پوری کردی جائے گی انہیں کہئے کہ کچھ وقت انتظار کریں یہاں تک کہ وہ متعین گھڑی آجائے جو اللہ تعالیٰ نے ان کی ہلاکت و بربادی کیلئے مقرر رکھی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–109
In the seventh verse (98), the heedless deniers of truth have been admonished for their failure to make the optimum use of the time of life allowed to them. There was still time for them to leave denial and contumacy. Otherwise, an ominous time was due to come when they will make Taubah but their Taubah will not be accepted. They will say that they believed but their belief will not be welcome. And that time will be the time when the punishment of the Hereafter will appear right before their eyes at the time of death. It was in this connection that an event relating to Sayyidna Yunus (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–103
105. This is the final and categorical response to the unbelievers. The unbelievers had asked that they be shown some convincing sign that would make them confirm the truth of the Prophet's claim to prophethood. Here they are being told that if the unbelievers had any desire to seek and accept the truth, there are innumerable signs scattered throughout the heavens and the earth, signs that are more than sufficient to convince them about the truth of the Prophet's message. All one needed to do was to look around with open eyes and to reflect on what one observes. Conversely, if there are some…
Read the full tafseer →