Yunus 10:103

Yunus · from ayah 103

10:103

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ ۚ— حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ ۟۠ثُمَّ نُنَجِّىۡ رُسُلَنَا وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا‌ كَذٰلِكَ‌ۚ حَقًّا عَلَيۡنَا نُـنۡجِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ

اور ہم اپنے پیغمبروں کو اور مومنوں کو نجات دیتے رہے ہیں۔ اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ مسلمانوں کو نجات دیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then We will save our messengers and those who have believed. Thus, it is an obligation upon Us that We save the believers

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 10 of surah · Ruku 15 of juzع

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:103

پھر (جب ایسا وقت آتا ہے تو) ہم اپنے رسولوں کو اور اُن لوگوں کو بچا لیا کرتے ہیں جو ایمان لائے ہوں ہمارا یہی طریقہ ہے ہم پر یہ حق ہے کہ مومنوں کو بچا لیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم اپنے پیغمبروں کو اور مومنوں کو نجات دیتے رہے ہیں۔ اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ مسلمانوں کو نجات دیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر ہم اپنے پیغمبروں کو اور ایمان والوں کو بچالیتے تھے، اسی طرح ہمارے ذمہ ہے کہ ہم ایمان والوں کو نجات دیا کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر (جب عذاب آتا ہے تو) ہم اپنے پیغمبروں کو اور جو لوگ ایمان لے آتے ہیں ان کو نجات دے دیتے ہیں، اسی طرح ہم نے یہ بات اپنے ذمے لے رکھی ہے کہ ہم تمام (دوسرے) مومنوں کو بھی نجات دیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کو نجات دیں گے بات یہی ہے ہمارے ذمہ کرم پر حق ہے مسلمانوں کو نجات دینا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر ہم اپنے رسولوں کو بچا لیتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو اس طرح ایمان لے آتے ہیں، (یہ بات) ہمارے ذمۂ کرم پر ہے کہ ہم ایمان والوں کو بچا لیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر ہم اپنے رسولوں کو نجات دیتے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو ایمان لائے، اسی طرح ہم پر حق ہے کہ ہم مومنوں کو نجات بخشیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر ہم رسولوں اور ایمان لانے والوں کو بچا لیتے ہیں۔ یہی ہمارا طریقہ ہے کہ مومنوں کو بچا لینا ہمارے ذمہ ہوتا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر ہم نجات دے دیتے رہے ہیں اپنے رسولوں کو اور ایمان لانے والوں کو۔ ایسے ہی ہم پر حق ہے، ہم مومنوں کو نجات دیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر (جب ایسا وقت آجاتا ہے تو) ہم بچا لیتے ہیں اپنے رسولوں اور ان لوگوں کو جو ان پر ایمان لے آئے ہوتے ہیں اسی طرح ہمارے ذمے ہے، کہ ہم بچا لیں ایمان والوں کو،

— مولانا اسحاق مدنی

پھر ہم اپنے پیغمبروں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان والے تھے بچا لیتے تھے اسی طرح ہم (سب) مومنوں کو نجات دیا کرتے ہیں (یہ) ہمارے ذمہ ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر ہم نجات دیتے رہے ہیں اپنے رسولوں کو اور اہل ایمان کو۔ اسی طرح ہمارے اوپر حق ہے کہ ہم اہل ایمان کو نجات دیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم اپنے پیغمبروں اور مؤمنوں کو نجات دیتے رہے ہیں اسی طرح ہمارا ذمہ ہے کہ مسلمانوں کو نجات دیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Then, (when Allah's wrath falls upon the wicked) We save our Messengers and also those who believe. It is incumbent on Us to deliver the believers.' set fire to the whole city and its environs. The Assyrian king set his own palace ablaze and was himself burnt to death.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then We (used to) save Our messengers and those who believed. Similarly, it being undertaken by Us, We shall save the believers.

— Muhammad Taqi Usmani

Then We (used to) save Our messengers and those who believed. Similarly, it being undertaken by Us, We shall save the believers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then We save Our Messengers and those who believe! Thus it is incumbent upon Us to save the believers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then shall We save Our messengers and the believers, in like manner (as of old). It is incumbent upon Us to save believers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then We will save our messengers and those who have believed. Thus, it is an obligation upon Us that We save the believers

— Saheeh International

We saved Our Messengers and those who believed; We must save the believers.

— Muhammad Sarwar

Then We deliver Our apostles and those who believe-- even so (now), it is binding on Us (that) We deliver the believers.

— Muhammad Habib Shakir

Thereafter We delivered Our apostles and those who believed. Even so, as incumbent upon us, We deliver the believers.

— Abdul Majid Daryabadi

In the end We deliver Our messengers and those who believe: Thus is it fitting on Our part that We should deliver those who believe!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:103

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 101–103

دعوت غور و فکر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں اس کی قدرتوں میں اس کی پیدا کردہ نشانیوں میں غور و فکر کرو۔ آسمان و زمین اور ان کے اندر کی نشانیاں بیشمار ہیں۔ ستارے سورج، چاند رات دن اور ان کا اختلاف کبھی دن کی کمی، کبھی راتوں کا چھوٹا ہوجانا، آسمانوں کی بلندی ان کی چوڑائی ان کا حسن وزینت اس سے بارش برسانا اس بارش سے زمین کا ہرا بھرا ہوجانا اس میں طرح طرح کے پھل پھول کا پیدا ہونا، اناج اور کھیتی کا اگنا، مختلف قسم کے جانوروں کا اس میں پھیلا ہوا ہونا، جن کی شکلیں جدا گانہ، جن کے نفع الگ الگ جن کے رنگ الگ الگ، دریاؤں میں عجائبات کا پایا جانا، ان میں طرح طرح کی ہزارہا قسم کی مخلوق کا ہونا، ان میں چھوٹی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 101–103

سورة یُوْنُس 105 یہ ان کے اس مطالبہ کا آخری اور قطعی جواب ہے جو وہ ایمان لانے کے لیے شرط کے طور پر پیش کرتے تھے کہ ہمیں کوئی نشانی دکھائی جائے جس سے ہم کو یقین آجائے کہ تمہاری نبوت سچی ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا جارہا ہے کہ اگر تمہارے اندر حق کی طلب اور قبول حق کی آمادگی ہو تو وہ بےحدوحساب نشانیاں جو زمین و آسمان میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں تمہیں پیغام محمدی کی صداقت کا اطمینان دلانے کے لیے کافی سے زیادہ ہیں۔ صرف آنکھیں کھول کر انہیں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر یہ طلب اور یہ آمادگی ہی تمہارے اندر موجود نہیں ہے تو پھر کوئی نشانی بھی، خواہ وہ کیسی ہی خارق عادت اور عجیب و غریب ہو، تم کو نعمت ایمان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 101–103

خلاصہ تفسیر آپ کہہ دیجئے کہ تم غور کرو (اور دیکھو) کہ کیا کیا چیزیں ہیں آسمان میں اور زمین میں (آسمانوں میں ستارے وغیرہ اور زمین میں بےانتہا مخلوق نظر آتی ہے یعنی ان میں غور کرنے سے توحید کی دلیل عقلی حاصل ہوگی، یہ بیان ہوا ان کے مکلف ہونے کا) اور جو لوگ (عنادًا) ایمان نہیں لاتے ان کو دلائل اور دھمکیاں کچھ فائدہ نہیں پہنچاتے (یہ بیان ہوا ان کے عناد کا) سو (ان کی اس حالت عناد سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) وہ لوگ (بدلالت حال) صرف ان لوگوں کے سے واقعات کا انتظار کر رہے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں (یعنی باجود دلائل اور وعیدوں کے جو ایمان نہیں لاتے تو ان کی حالت اس شخص کے مشابہ ہے جو ایسے عذاب کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 101–103

101 تا 103:۔ قُلِ انْظُرُوْا مَاذَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَمَا تُغْنِي الْاٰيٰتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ۔ فَهَلْ يَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَيَّامِ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ قُلْ فَانْتَظِرُوْٓا اِنِّىْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِيْنَ۔ ثُمَّ نُنَجِّيْ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ ۚ حَقًّا عَلَيْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِيْنَ۔ مطالبہ معجزات کا جواب : قُلِ انْظُرُوْا۔۔ الایۃ۔ یہ کفار کے مطالبہ معجزات کا جواب دلوایا ہے کہ آسمان و زمین معجزات اور نشانیوں سے بھرے پڑے ہیں ان سے کہو کہ معجزات کی طلب ہے تو ان نشانیوں اور معجزات کو دیکھو، یہ آنکھیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 102–103

12۔ 1 یعنی یہ لوگ، جن پر کوئی دلیل اور دھمکی اثر انداز نہیں ہوتی، لہذا ایمان نہیں لاتے۔ کیا اس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے ساتھ بھی وہی تاریخ دہرائی جائے جن سے پچھلی امتیں گزر چکی ہیں۔ یعنی اہل ایمان کو بچا کر (جیسا کہ اگلی آیت میں وضاحت ہے) باقی سب کو ہلاک کردیا جاتا تھا۔ اگر اسی بات کا انتظار ہے تو ٹھیک ہے، تم بھی انتظار کرو، میں بھی انتظار کر رہا ہوں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 101–107

42: اس کائنات کی ہر چیز کو اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا شاہکار ہے، اس سے نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ محیر العقول کارخانہ خود بخود وجود میں نہیں آگیا، اسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، بلکہ اس سے یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ جو ذات اتنی عظیم کائنات پیدا کرنے پر قادر ہے، اسے اپنی خدائی کے لیے کسی شریک یا مددگار کی حاجت نہیں ہے، لہذا وہ ہے، اور ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس آئنہ خانے میں سبھی عکس ہیں تیرے اس آئنہ خانے میں تو یکتا ہی رہے گا

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ثم ننجی رسلنا والذین امنوا پھر ہم (کافروں اور منکروں کو ہلاک کردیتے ہیں اور) اپنے پیغمبروں اور ان کے ماننے والوں کو بچا لیتے ہیں۔ یہ حال گزشتہ کا بیان ہے (یعنی گزشتہ زمانہ میں ہم نے ایسا کیا تھا اور یہی ہمارا دستور تھا) ۔ کذلک حقا علینا ننج المؤمنین۔ اسی طرح (یعنی گزشتہ پیغمبروں کی طرح) ہم بچا لیں گے مؤمنوں کو۔ ہمارا یہ وجوبی وعدہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے گزشتہ پیغمبروں اور مؤمنوں کو ہم نے بچایا ‘ اسی طرح نزول عذاب کے وقت ہم محمد (ﷺ) کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو بچا لیں گے اور یہ بچا لینا (حسب وعدہ) ہم پر واجب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی جیسے پہلی قوموں کے ساتھ ہماری عادت رہی ہے کہ مکذبین کو ہلاک کر کے پیغمبروں اور مؤمنین کو بچایا۔ اسی طرح موجودہ اور آئندہ مومنین کی نسبت ہمارا وعدہ ہے کہ ان کو نجات دیں گے آخرت میں عذاب الیم سے اور دنیا میں کفار کے مظالم اور سختیوں سے ہاں شرط یہ ہے کہ مؤمنین مؤمنین ہوں۔ یعنی وہ صفات و خصال رکھتے ہوں جو قرآن و حدیث میں مؤمنین کی بیان ہوئیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 103 ثُمَّ نُنَجِّيْ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ ۚ حَقًّا عَلَيْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِيْنَ جیسے حضرت نوح ‘ حضرت ہود اور حضرت صالح کی قوموں میں سے جو لوگ ایمان لے آئے انہیں بچالیا گیا۔ عامورہ اور سدوم کی بستیوں میں سے کوئی ایک خوش قسمت بھی نہ نکلا کہ اسے بچایا جاتا۔ حضرت لوط صرف اپنی دو بیٹیوں کو لے کر وہاں سے نکلے تھے ‘ جبکہ ان کی اپنی بیوی بھی پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ رہ گئی اور عذاب کا نشانہ بنی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

111 رسول پر ایمان لانے والوں کو عذاب سے بچانا اللہ کی ذمہ داری ہے :۔ اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ سے یہ دستور رہا ہے کہ جب کسی مجرم قوم پر اپنے رسول کی تکذیب کی وجہ سے عذاب نازل کرتا ہے تو وہ وحی کے ذریعہ اس عذاب کی آمد سے رسول کو مطلع کردیتا ہے اور اس عذاب سے بچاؤ کی صورت بھی سمجھا دیتا ہے۔ اس طرح رسول اور اس پر ایمان لانے والے تو اس عذاب سے بچ جاتے ہیں اور مجرمین اس عذاب سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔ اس آیت میں دراصل اہل مکہ کو انتباہ ہے جو اسلام اور پیغمبر اسلام کی مخالفت میں، اسلام کی راہ روکنے اور مسلمانوں کو اذیتیں پہنچانے میں اپنا ایڑی چوٹی کا زور صرف کر رہے تھے اور انھیں بتلانا یہ مقصود تھا کہ تمہارا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

156۔ قرآن مجید نے اس حقیقت کو بار بار مختلف پیرایوں میں واضح کیا ہے کہ عذاب الہی جب آتا ہے صرف کافروں اور منکروں پر آتا ہے۔ اور مومنین اس سے بچا لئے جاتے ہیں۔ اور یہیں سے یہ بات بھی صاف ہوجاتی ہے کہ تکوینی حادثے جن میں مومن و کافر سب بلاامتیاز وتفریق یکساں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ مثلا قحط، سیلاب، وباء یہ ہرگز صحیح معنی میں ”’ عذاب الہی “ نہیں۔ زیادہ سے زیادہ انہیں نمونہ عذاب الہی کہا جاسکتا ہے۔ (آیت) ” ثم “۔ ربط کلام انہیں پچھلی ہلاک شدہ قوموں سے ہے۔ (آیت) ” ننجی “۔ یعنی اس عذاب سے نجات دے دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 93–103

آیت نمبر 93 تا 103 ترجمہ : اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانہ دیا اور وہ شام اور مصر تھا، اور ہم نے ان کو پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں، پھر انہوں نے اختلاف نہیں کیا مگر اس وقت جبکہ علم ان کے پاس آچکا بایں طور کہ بعض لوگ ایمان لائے اور بعض نے انکار کیا، یقیناً تیرا رب قیامت کے دن ان کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کر دے گا جس امر دین میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں مومنین کو نجات دے کر اور کافروں کو عذاب دیکر، پس اے محمد ! بالفرض اگر تم ان قصوں کے بارے میں جو ہم نے تمہاری طرف نازل کئے ہیں، شک میں ہو تو ان لوگوں سے پوچھ دیکھئے جو تم سے پہلی کتاب تورات کو پڑھتے ہیں اس لئے کہ وہ نازل کردہ (واقعات) ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم ننجی رسلنا والذین امنوا پھر ہم (کافروں اور منکروں کو ہلاک کردیتے ہیں اور) اپنے پیغمبروں اور ان کے ماننے والوں کو بچا لیتے ہیں۔ یہ حال گزشتہ کا بیان ہے (یعنی گزشتہ زمانہ میں ہم نے ایسا کیا تھا اور یہی ہمارا دستور تھا) ۔ کذلک حقا علینا ننج المؤمنین۔ اسی طرح (یعنی گزشتہ پیغمبروں کی طرح) ہم بچا لیں گے مؤمنوں کو۔ ہمارا یہ وجوبی وعدہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے گزشتہ پیغمبروں اور مؤمنوں کو ہم نے بچایا ‘ اسی طرح نزول عذاب کے وقت ہم محمد ﷺ کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو بچا لیں گے اور یہ بچا لینا (حسب وعدہ) ہم پر واجب ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(103) پھر ہم ان قوموں کو ہلاک کرنے کے بعد اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ہمارے رسولوں پر ایمان لائے بچالیتے ہیں ہم اسی طرح رسولوں کے ساتھ سب ایمان والوں کو نجات دیا کرتے ہیں وہ ہمارے ذمہ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 102–103

فَهَلْ يَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَيَّامِ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ : یعنی کیا یہ مشرکین چاہتے ہیں کہ ان پر گزشتہ قوموں کی طرح عذاب آجائے ؟ فرمایا، ٹھیک ہے تم بھی انتظار کرو میں بھی انتظا ر کرنے والوں میں شامل ہوں، مگر یاد رکھو کہ پھر عذاب آنے پر اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو اور ایمان والوں کو ہر حال میں عذاب سے بچا لیتا ہے اور یہ اللہ پر حق ہے کہ وہ مومنوں کو ضرور ہی بچا لیتا ہے۔ بطور مثال دیکھیے سورة حم السجدہ (18) میں قوم عاد وثمود کے عذاب میں سے ایمان اور تقویٰ والوں کو بچا لینے کا ذکر۔ اس سے معلوم ہوا کہ جتنا بڑا عذاب بھی آجائے اہل خیر کا وجود زمین میں ہمیشہ رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 103۔ قولہ تعالیٰ : ثم ننجی رسلناوالذین امنوا یعنی ہماری سنت میں سے ہے کہ جب ہم کسی قوم پر عذاب نازل کریں تو ان کے درمیان سے اپنے رسولوں اور اہل ایمان کو نکال لیتے ہیں۔ اور ثم اس کا معنی ہے ثم اعلموا انا ننجی رسلنا (پھر تم جان لو کہ ہم اپنے رسولوں کو بچالیں گے ) (آیت) کذالک حقا علینا یعنی ہم پر واجب ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے اور اس کی خبر میں خلاف نہیں ہوسکتا۔ اور یعقوب نے ثم ننجی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ اور کسائی، حفص اور یعقوب نے ننجی المومنین کو مخفف پڑھا ہے اور باقیوں نے مشدد پڑھا ہے۔ اور یہ دونوں لغتیں فصیح ہیں۔ انجی ینجی انجاء اور نجی ینجی تنجیۃ دونوں کا معنی ایک ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 100–106

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ’ ’ ویجعل الرجس “ میں جس سے مراد ہے غصہ۔ 2:۔ ابوالشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” ویجعل الرجس “ میں ” الرجس “ سے مراد ہے شیطان یا رجس سے مراد ہے عذاب۔ 3:۔ ابو الشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما تغنی الایت ولنذر عن قوم “ میں قوم کی بجائے ” عن قوم لا یومنون “ سے مگر (اس حکم کو) اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” حکمۃ بالغۃ فما تغن النذر “ (5) ۔ نے منسوخ کردیا (یہ حک ہے کہ ان کو ڈرانا فائدہ نہیں دیتا جو (اللہ کے علم میں) ایمان نہیں لائیں گے۔ 4:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ثُمَّ [پھر ] نُنَجِّيْ [ ہم بچا لیتے ہیں ] رُسُلَنَا [ اپنے رسولوں کو ] وَالَّذِيْنَ [ اور ان کو جو ] اٰمَنُوْا [ایمان لائے ] كَذٰلِكَ ۚ [ اسی طرح (ہے ) ] حَقًّا [ حق ہوتے ہوئے ] عَلَيْنَا [ ہم پر ] نُنْجِ [ (کہ ) ہم بچا لیں ] الْمُؤْمِنِيْنَ [ایمان لانے والوں کو ] (آیت ۔ 103) ننج دراصل مضارع میں جمع متکلم کا صیغہ ننجی ہے ی حرف علت ہے ، لفظ میں آخری ہونے کی وجہ سے ساکن ہوئی ۔ پھر المومنین میں لام بھی ساکن ہے ۔ دوساکن جمع ہوئے ۔ اس لئے ی گرگئی ہے ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

آخر میں فرمایا (ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کَذٰلِکَ ) جب ہمارا عذاب آتا ہے تو ہم مکذبین کو ہلاک کردیتے ہیں پھر اپنے رسولوں کو نجات دے دیتے ہیں اور اہل ایمان کو بھی اسی طرح نجات دیتے ہیں (حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ ) (ہمارے ذمہ ہے کہ ہم اہل ایمان کو نجات دیتے ہیں) اس میں اہل ایمان کو خوشخبری ہے اور مواقع عذاب سے نجات پانے کی بشارت ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 101–103

اہل رجس یعنی معاندین کو خطاب تہدید قال اللہ تعالیٰ ۔ قل انظرو ماذا فی السموات والارض۔۔۔ الی۔۔۔ ننج ال مومن ین (ربط): گزشتہ آیت یعنی وجعل الرجس علی الذین لا یعقلون۔ میں اہل رجس یعنی معاندین کا ذکر تھا کہ لوگ کفر اور عناد کی گندگی میں ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بےعقل ہیں ہوائے نفسانی کے تابع ہیں اب اس آیت میں انہیں اہل رجس یعنی معاندین کو خدا کی نشانیوں میں غور وفکر کا حکم ہے اور تہدید بھی ہے کہ کیا یہ معاندین اسی قسم کے عذابوں کا انتظار کر رہے ہیں جو پہلی امتوں پر نازل ہوچکے ہیں خوب سمجھ لیں کہ یہ لوگ بھی عناد کی وجہ سے اسی قسم کے عذاب کے مستحق ہیں اللہ تعالیٰ نے تم کو غور وفکر کرنے کے لیے عقل عطا کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

112:“ ثُمَّ ” تراخی کے لیے نہیں بلکہ تعقیب ذکری کیلئے ہے اور یہ ماننے والوں کے لیے بشارت اخروی ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 99–103

ربط آیات گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے یونس (علیہ السلام) کا حال بیان فرمایا ، نیز آپ کی قوم کی منفرد حیثیت کا تذکرہ فرمایا کہ یہ واھد قوم ہے جس کی توبہ اللہ تعالیٰ نے عذاب کی نشانیان ظاہر ہوجانے کے بعد قبول کی۔ اس سلسلے میں بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ عذاب کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) کی تصدیق کے لیے عذاب کی کچھ علامات ظاہر فرمائی تھیں۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور آپ پر ایمان لانے والوں کو تسلی دی ہے کہ لوگوں کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے آپ دل برداشتہ نہ ہوں کیوں کہ ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اور آپ کسی کو ایمان لانے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ نُنَجِّيْ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ۝ 0 ۚ حَقًّا عَلَيْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِيْنَ۝ 103 ۧ نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان لائے ان کو ہم نے نجات دی ۔ رسل أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 98–103

حضرت یونس (علیہ السلام) کے واقعہ کی طرف بڑے عبرت آمیز الفاظ میں اشارہ کرتا ہے فلولا کانت قریۃ آمنت فنفعہا ایمانہا الخ لولا کو بعض نے کلمہ نفی سمجھا ہے۔ امام واحد کا اسی طرف رجحان ہے۔ ان کے نزدیک یہ معنی ہوئے فما کانت قریۃً آمنت فنفعہا ایمانہا الا قوم یونس کہ ان گمراہ بستیوں میں سے کوئی بھی ایسی بستی نہیں ہوئی کہ جو ایمان لاتی اور ان کا ایمان نفع دیتا بجز قوم یونس کے یہ استثنیٰ منقطع ہے۔ ادل سے بعض علماء اس کو کلمہ تحریص و تخصیص کہتے ہیں بمعنی ہلاان کے نزدیک یہ معنی ہوئے کہ کوئی ایسی بستی بھی ہوتی کہ جو ایمان لاتی اور اس کا ایمان نفع دیتا مگر قوم یونس کہ وہ ایمان لائی۔ یونس بن متی (علیہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 102–103

فَہَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلاَّ مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِہِمْط قُلْ فَانْتَظِرُوْٓا اِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ ۔ ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کَذٰلِکَ ج حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ ع (یونس : 102، 103) (پس وہ انتظار نہیں کر رہے مگر ان جیسے لوگوں کے حالات کا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں آپ کہہ دیجیے اچھا انتظار کرو بیشک میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ پھر ہم نجات دے دیتے ہیں اپنے رسولوں کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو۔ ایسے ہی ہم پر حق ہے ہم مؤمنوں کو نجات دیں گے۔ ) جو لوگ اپنے رویے سے اپنے آپ کو فطری صلاحیتوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 101–103

فہم القرآن ربط کلام : حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کے تذکرہ کے بعد۔ انسان کو توجہ دلائی گئی ہے اگر تھوڑا سا عقل سے کام لے اور اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر غور کرے تو اس کے لیے ہدایت کے راستے کھل جائیں گے۔ اللہ کی قدرت کی نشانیاں زمین و آسمان میں اس قدر نمایاں اور پھیلی ہوئی ہیں کہ آدمی تھوڑی سی توجہ کرے تو وہ خود بخود اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہیں۔ آسمان کی طرف دیکھیے کب سے جوں کا توں بلا ستون کھڑا ہے نہ اس کی رنگت میں کوئی فرق آیا ہے اور نہ ہی کہیں سے جھکا اور پھٹا ہے یہاں تک کہ اس میں دراڑ اور نشیب و فراز بھی نظر نہیں آتا۔ اب اپنے پاؤں تلے زمین پر غور فرمائیے کہ بظاہر ایک ہی دھرتی ہونے کے باوجود…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آخر میں نجات ایمان والوں کی : 103: ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا (پھر ہم نجات دیتے ہیں اپنے رسولوں کو) اسکا عطف کلام محذوف پر ہے۔ جس پر الامثل ایام الذین خلوا من قبلہمدلالت کررہا ہے۔ گویا اس طرح کہا گیا نہلک الامم، ثم ننجی رسلنا ہم امتوں کو ہلاک کردیتے ہیں۔ پھر اپنے رسولوں کو نجات دیتے ہیں۔ احوال ماضیہ کی حکایت کے طور پر یہ فرمایا وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا (ان لوگوں کو جو ایمان لائے) اور جو ان انبیاء (علیہم السلام) پر ایمان لائے۔ کَذٰلِکَ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ (اسی طرح ہم پر ایمان والوں کی نجات لازم ہے) یعنی اس نجات دینے کی طرح ہم تم میں سے جو ایمان والے ہیں ان کو نجات دیں گے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

103” ثم ننجی رسلنا یعقوب “( ننجی) پڑھا ہے تخفیف کے ساتھ ” والذین امنوا “ ان رسولوں کے ساتھ عذب کے اترنے کے وقت ۔ یہاں ” ننجی “ مستقبل کا صیغہ ہے لیکن ماضی ” نجینا “ کے معنی میں ہے (گزشتہ زمانے میں ہم نے اسا کیا تھا اور یہی ہمارا دستور ہے) کذالکج جیسے ہم نے ان کو نجات دی ۔ ’ ’ حقا علینا ننج المومنین “ کسائی اور حفص و یعقوب نے ” ننجی “ تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے تشدید کے ساتھ اور نجا اور انجی کا ایک معنی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 101–103

101۔ 103۔ اوپر منکرین قیامت کی کم عقلی کا ذکر تھا ان آیتوں میں ان کو عقل سے کام لینے پر آمادہ کیا اور فرمایا کے اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ زمین و آسمان میں کیا کچھ نہیں ہے اگر تم لوگ غور اور فکر کرو تو بات بات سے سمجھ لو کہ خدا کی خدائی میں تمہارے بتوں کو کچھ دخل نہیں ہے۔ چاند سورج دن کا ہونا رات کا ہونا اندھیری راتوں میں ستاروں کا نکلنا راتوں کو سفر کرنے والوں کو کیسا مفید ہے کہ وہ ستاروں کو دیکھ کر سمت دریافت کرلیا کرتے ہیں پھر بارش کا ہونا کھیتوں کا سرسبز کرنا کیسا فائدہ مند ہے غرض کہ ہوشیار آدمی درختوں کے پتہ تک سے خدا کی وحدانیت کا پتہ لگا لیتا ہے پھر فرمایا کہ یہ قدرت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 101–103

آیت : ( 101-103) اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ آسمانوں اور زمن میں غور کریں اور اس سے مراد یہ ہے کہ تفکر اور عبرت کی نظر سے آسمان کو دیکھیں ‘ ان میں جو کچھ موجود ہے اس میں تدبر کریں اور بسیرت حاصل کریں۔ ان میں اہل ایمان کے لئے نشانیاں اور اہل ایقان کے لئے عبرت ہے جو اس پر دلالت کرتی ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود محود ہے ‘ وہی صاحب جلال و اکرام و عظیم اسماء وصفات کا مالک ہے۔ (وما تغنی الایت والنذر عن قوم لا یومنون) ” اور کچھ کام نہیں آتیں نشانیاں اور ڈرانے والے ان لوگوں کو جو ایمان لانے والے نہیں “ کیونکہ یہ لوگ اپنے اعراض اور عناد کی وجہ سے آیت الٰہی سے فائدہ نہیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–109

قول باری ہے قد اجیبت دعوتکما تم دونوں کی دعا قبول کی گئی ۔ دعا کی نسبت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) دونوں کی طرف سے کی گئی ہے ۔ ابو العالیہ ، عکرمہ ، محمد بن کعب اور ربیع بن موسیٰ کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دعا مانگتے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے، اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو دعا مانگنے والے قرار دیا ۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ آمین بھی دعا ہے اور جب اس کا دعا ہونا ثابت ہوگیا تو پھر اس کا اخفاء اس کے جہر سے افضل ہوگا اس لیے کہ قول باری ہے ادعوا ربکم تضرعا ً و خفیۃ ۔ اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے پکارو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 103–105

179 ۔ رب کی عبادت و بندگی کے لیے یکسوئی کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور یہ کہ سیدھا رکھو تم اپنا رخ دین حق کے لیے یکسو ہو کر اور کسی طور پر مشرکوں میں سے نہیں ہوجانا۔ بہرکیف اس میں پیغمبر کو خطاب کرکے حکم و ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم سیدھا رکھو اپنا رخ اس دین حق کے لیے یکسو ہوکر۔ اس طرح کہ دل کی توجہ اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کی طرف، کسی بھی قسم کی عبادت میں نہ ہونے پائے۔ خاص کر اس عبادت میں جو کہ سب عبادات کا مغز اور نچوڑ ہے۔ یعنی دعا و پکار۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا۔ (فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰهِ اَحَدًا) مگر افسوس کہ اس قدر تاکیدی حکم اور مکرر تعلیم کے باوجود آج کا کلمہ گو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 99–109

رسول کا کام صرف سمجھانا ہے تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے تو نبی اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ اس بات سے آگاہ کرتا ہے کہ آپ ﷺ کی یہ خواہش کہ سب لوگ ہی ایمان لے آئیں یہ پوری نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ اگر چاہتے تو یہ کر بھی سکتے تھے مگر یہ بات اللہ کی مشیت کے خلاف ہے۔ آپ ﷺ اللہ کے سچے، اتنہائی مخلص اور فرمانبردار بندے تھے مگر تھے تو انسان ہی۔ انہوں نے اپنے کام کو جو اللہ نے ان کے سپرد کیا تھا، یعنی نبوت اور تبلیغ کا تو اس کام میں انہوں نے اتنی مصیبتیں، دکھ، پریشانیاں اور مشقتیں برداشت کیں کہ انسان حیران ہوجاتا ہے مگر آپ ﷺ کو اپنے رب سے اور اس کے دیے ہوئے کام (نبوت) سے اس قدر پیار اور محبت تھی کہ وہ ہر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 93–103

آیات 93 تا 103 اسرار و معارف پھر ان نعمتوں کا تذکرہ جو بنی اسرائیل کو عطاہوئیں کہ بظاہرفرعون اور اس کی ساری حکومت انھیں رسوا کرنے پہ کمرباندھے ہوئے تھی کوئی ظاہری سبب ان کی نجات کا نہ تھا کہ انھوں نے اللہ پر بھر وسہ کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی میں نکل کھڑے ہوئے تو فرعون اور اس کا لشکرتباہ ہوگئے اور نبی اسرائیل کو وہ خوبصورت اور سرسبز و شاداب وادی جو انبیائے سابقین کا مسکن بھی تھی اور دنیاوی ودینی اعتبار سے ان کی پسنددیدہ بھی تھی یعنی اردن و فلسطین کی ارض مقدسہ عطاہوئی اور سلطنت مصر بھی انہی کو مل گئی اور بہترین نعمتیں بھی بطور رزق نصیب ہوئیں۔ آباد گھر تنومنداولاداچھی بیویاں شاداب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 102–104

ف 2 ۔ آنحضرت ﷺ کفار کو عذاب سے ڈراتے تو وہ اس کا مذاق اڑاتے۔ اس پر اس آیت میں ان کو وعید سنائی کہ تم از خود اپنے اوپر عذاب کو دعوت دے رہے ہو جو ان سے پہلے کی کسی قوم پر نازل ہوا۔ (شوکانی) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(10:103) ثم۔ پھر (اس وقت) ننجی۔ مضارع جمع متکلم (باب تفعیل) تنجیۃ۔ مصدر ۔ ہم بچا لیتے ہیں۔ کذلک۔ بیشک ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہی اللہ کا دستور ہے۔ ننج۔ مضارع جمع متکلم۔ انجائ۔ مصدر (باب افعال) اصل میں ننجی تھا۔ حقا علینا ننجی المؤمنین۔ ہم پر یہ حق ہے کہ ہم مؤمنوں کو بچا لیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 98–103

لغات القرآن آیت نمبر 98 تا 103 قریۃ (بستی ، آبادی) کشفنا (ہم نے کھول دیا، ہٹا دیا ) الخزی (رسوائی) متعنا (ہم نے سامان دیا) حین (زمانہ، مدت) تکرہ (تو زبردستی کرے گا) یجعل (وہ بناتا ہے، ڈالتا ہے) الرجس (گندگی) لایعقلون (سمجھ نہیں رکھتے ہیں انظروا (تم دیکھو ) ماتغنی (کام نہیں آئی) النذر (ڈرانا، دھمکانا) ینتظرون (وہ انتظار کر رہے ہیں تشریح : آیت نمبر 98 تا 103 اللہ تعالیٰ نے انسان کو خشکی اور تری میں برتری اور اس کائنات کی ہر مخلوق سے زیادہ عظمت عطا فرمائی ہے لیکن اس کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ وہ دنیا کے معاملات میں الجھ کر اس قدر غافل ہوجاتا ہے کہ اس کو آخرت کی یاد ہی نہیں آتی اور بھول کر وہ اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 101–103

اوپر منکرین قیامت کی کم عقلی کا ذکر تھا۔ ان آیتوں میں ان کو عقل سے کام لینے پر آمادہ کیا اور فرمایا کہ اے رسول اللہ کے ! تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ زمین وآسمانہ میں کیا کچھ نہیں ہے۔ اگر تم لوگ غور وفکر کرو تو بات بات سے سمجھ لو کہ خدا کی خدائی میں تمہارے بتوں کو کچھ دخل نہیں ۔ چاند سورج، دن کا ہونا، رات کا ہونا، ستاروں کا نکلنا، بارش کا ہونا غرضیکہ ہوشیار آدمی درختوں کے پتا تک سے خدا کی وحدانیت کا پتہ لگا لیتا ہے۔ پھر فرمایا کہ قدرت کی سب نشانیاں اسی کو کار آمد ہیں جو ایمان لاوے اور جو ایمان لانے والے نہیں ہیں یہ نشانیاں کیا فائدہ پہنچائیں گی۔ کیونکہ ان لوگوں کو بھی اسی روز بد کا انتظار ہے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 98–109

[42] مفسرین نے عذاب ٹل جانے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ یونس (علیہ السلام) اپنی نافرمان قوم کو عذاب کی اطلاع دینے کے بعد اللہ کی اجازت کے بغیر بستی سے چلے گئے تھے۔ اس لئے جب آثار عذاب ظاہر ہونا شروع ہوئے تو پوری قوم نے اللہ تعالیٰ کے روبرو گریہ زاری شروع کی اور ایمان لے آئی لہذا عذاب ہٹا لیا گیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 100–105

(ف 2) مشیت واذن الہی کے دو معنے ہیں ایک کا تعلق تکوین سے ہے ایک کا تشریع سے ، اللہ کے نزدیک پسندیدہ تو یہی ہے کہ سب لوگ ایمان لے آئیں ، مگر تکوین میں اس نے اختلاف رائے کو باقی رکھا ہے تاکہ حق و باطل میں امتیاز قائم رہے ۔ اسی طرح اگر ” الا باذن اللہ “ سے مقصود یہ ہے کہ ایمان کے لئے جہاں تک آسانیوں اور توفیق وتسہیل کا تعلق ہے وہ اللہ کی تکوین کا نتیجہ ہے ، اس لئے وہ شخص جو ان وسائل ہدایت سے محروم ہے ، ہدایت قبول نہیں کرسکتا ، غرض یہ ہے کہ آپ ان لوگوں کی گمراہی پر غم نہ کریں اختلاف رائے مشیت ایزدی ہے ، یہ باقی رہے گا البتہ تلقین و دعوت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے ۔ حل لغات : کشفنا : کھول دیا یعنی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

103 پھر ہم اس عذاب سے اپنے پیغمبروں کو اور ایمان والوں کو بچا لیتے تھے ہم اسی طرح سب ایمان والوں کو نجات دیدیا کرتے ہیں اور بچا لیا کرتے ہیں یہ باس حسب وعدہ ہمارے ذمہ پر ہے یعنی جس طرح پہلوں کے وقت میں رسول اور مسلمان بچ جایا کرتے تھے اسی طرح ہم مسلمانوں کو نجات دیدیا کرتے ہیں یہ ایمان والوں کو نجات دینا ہمارے ذمہ پر ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 103–104

ف 5۔ پس اسی طرح اگر ان کفار پر کوئی افتاد پڑی تو مسلمان اس سے محفوظ رہیں گے خواہ دنیا میں خواہ آخرت میں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

جس طرح ہم نے پہلوں کو بچایا تم کو بھی بچائیں گے کیونکہ ایسا کرنا ہم پر لازم ہے 139 ؎ گزشتہ اقوام کا ذکر پڑھو اور دیکھو کہ ہم نے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے مخالفوں اور موافقوں کے ساتھ کیا کیا ؟ تم کو یقینا معلوم ہوگا کہ ہم نے اپنے رسولوں اور ان کے ماننے والوں کو نجات دی اور ان کے مخالفین کو تباہ کن عذاب میں مبتلا کیا اور یہی کچھ اب بھی ہوگا ۔ تم کو معلوم ہے کہ بحر احمر کی چنگھاڑتی ہوئی موجیں جو فرعون اور اس کے لائو لشکر کو تنکوں کی طرح بہا لے گئیں وہ موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے ساتھیوں کیلئے خدمت گاروں کی طرح راستہ بناتی گئیں ۔ آندھی کے زور دار جھٹکے جو قوم عاد کی بستی کو زیر و زبر کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 98–109

In the seventh verse (98), the heedless deniers of truth have been admonished for their failure to make the optimum use of the time of life allowed to them. There was still time for them to leave denial and contumacy. Otherwise, an ominous time was due to come when they will make Taubah but their Taubah will not be accepted. They will say that they believed but their belief will not be welcome. And that time will be the time when the punishment of the Hereafter will appear right before their eyes at the time of death. It was in this connection that an event relating to Sayyidna Yunus (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 101–103

105. This is the final and categorical response to the unbelievers. The unbelievers had asked that they be shown some convincing sign that would make them confirm the truth of the Prophet's claim to prophethood. Here they are being told that if the unbelievers had any desire to seek and accept the truth, there are innumerable signs scattered throughout the heavens and the earth, signs that are more than sufficient to convince them about the truth of the Prophet's message. All one needed to do was to look around with open eyes and to reflect on what one observes. Conversely, if there are some…

Read the full tafseer →