Yunus 10:101

Yunus · from ayah 101

10:101

قُلِ انْظُرُوْا مَاذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ؕ— وَمَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ ۟قُلِ انْظُرُوۡا مَاذَا فِى السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ‌ؕ وَمَا تُغۡنِى الۡاٰيٰتُ وَالنُّذُرُ عَنۡ قَوۡمٍ لَّا يُؤۡمِنُوۡنَ

(ان کفار سے) کہو دیکھو تو زمین اور آسمانوں میں کیا کچھ ہے۔ مگر جو لوگ ایمان نہیں رکھتے ان کی نشانیاں اور ڈرواے کچھ کام نہیں آتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Say, "Observe what is in the heavens and earth." But of no avail will be signs or warners to a people who do not believe

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 10 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:101

اِن سے کہو“زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اسے آنکھیں کھول کر دیکھو" اور جو لوگ ایمان لانا ہی نہیں چاہتے ان کے لیے نشانیاں اور تنبیہیں آخر کیا مفید ہو سکتی ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(ان کفار سے) کہو دیکھو تو زمین اور آسمانوں میں کیا کچھ ہے۔ مگر جو لوگ ایمان نہیں رکھتے ان کی نشانیاں اور ڈرواے کچھ کام نہیں آتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

آپ کہہ دیجئے کہ تم غور کرو کہ کیا کیا چیزیں آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اور جو لوگ ایمان نہیں ﻻتے ان کو نشانیاں اور دھمکیاں کچھ فائده نہیں پہنچاتیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر) ان سے کہو کہ : ذرا نظر دوڑاؤ کہ آسمانوں اور زمین کیا کیا چیزیں ہیں ؟ لیکن جن لوگوں کو ایمان لانا ہی نہیں ہے ان کے لیے (زمین و آسمان میں پھیلی ہوئی) نشانیاں اور آگاہ کرنے والے (پیغمبر) کچھ بھی کار آمد نہیں ہوتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم فرماؤ دیکھو آسمانوں اور زمین میں کیا ہے اور آیتیں اور رسول انہیں کچھ نہیں دیتے جن کے نصیب میں ایمان نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

فرما دیجئے: تم لوگ دیکھو تو (سہی) آسمانوں اور زمین (کی اس وسیع کائنات) میں قدرتِ الٰہیہ کی کیا کیا نشانیاں ہیں اور (یہ) نشانیاں اور (عذابِ الٰہی سے) ڈرانے والے (پیغمبر) ایسے لوگوں کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے جو ایمان لانا ہی نہیں چاہتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہہ تم دیکھو آسمانوں اور زمین میں کیا کچھ موجود ہے۔ اور نشانیاں اور ڈرانے والی چیزیں ان لوگوں کے کام نہیں آتیں جو ایمان نہیں لاتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے کہئے کہ : ذرا دیکھو تو آسمان اور زمین میں کچھ (نشانیاں) ہیں۔ مگر جو لوگ ایمان لانا ہی نہ چاہیں، یہ نشانیاں اور تنبی ہیں ان کے کس کام آسکتی ہیں ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان سے کہو، آسمانوں اور زمین میں کیا کچھ ہے اس کو دیکھو۔ اور نشانیاں اور ڈراوے ان لوگوں کو کچھ نفع نہیں پہناتے جو ایمان نہیں لانا چاہتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ان سے کہو کہ ذرا دیکھو تم لوگ کہ کیا کچھ (سامان عبرت و بصیرت) ہے آسمانوں اور زمین میں ؟ مگر نشانیاں اور تنبیہات ان لوگوں کے کچھ کام نہیں آسکتیں جو ایمان لانا چاہتے ہی نہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

آپ کہہ دیجیے کہ تم دیکھو تو کیا کیا چیزیں آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ اور کوئی بھی نشانیاں اور ڈراوے ان لوگوں کو فائدہ نہیں پہنچاتے جو ایمان نہیں لاتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان سے کہیے کہ دیکھو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے لیکن یہ نشانیاں اور ڈراوے ان لوگوں کے کچھ کام نہیں آتے جو ایمان نہیں لانا چاہتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان کفار سے کہو کہ دیکھو تو آسمان اور زمین میں کیا کیا کچھ ہے ؟ مگر جو لوگ ایمان نہیں رکھتے ان کے لیے نہ ڈراوے کام آتے ہیں اور نہ ہی نشانیاں کام آتی ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Tell them: 'Observe carefully all that is in the heavens and the earth.' But no signs and warnings can avail those who are bent on not believing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Say, :Look at what is there in the heavens and the earth. But, signs and warnings do not suffice a people who do not believe.

— Muhammad Taqi Usmani

Say, :Look at what is there in the heavens and the earth. But, signs and warnings do not suffice a people who do not believe.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Say: "Behold all that is in the heavens and the earth." But neither Ayat nor warners benefit those who do not believe.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Say: Behold what is in the heavens and the earth! But revelations and warnings avail not folk who will not believe.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Say, "Observe what is in the heavens and earth." But of no avail will be signs or warners to a people who do not believe

— Saheeh International

(Muhammad), tell them to consider that which is in the heavens and the earth. Evidence and warnings are of no avail to the disbelieving people.

— Muhammad Sarwar

Say: Consider what is it that is in the heavens and the earth; and signs and warners do not avail a people who would not believe.

— Muhammad Habib Shakir

Say thou: behold that which is in the heavens and the earth; and signs and warnings avail not those who will not believe.

— Abdul Majid Daryabadi

Say: "Behold all that is in the heavens and on earth"; but neither Signs nor Warners profit those who believe not.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:101

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 101–103

دعوت غور و فکر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں اس کی قدرتوں میں اس کی پیدا کردہ نشانیوں میں غور و فکر کرو۔ آسمان و زمین اور ان کے اندر کی نشانیاں بیشمار ہیں۔ ستارے سورج، چاند رات دن اور ان کا اختلاف کبھی دن کی کمی، کبھی راتوں کا چھوٹا ہوجانا، آسمانوں کی بلندی ان کی چوڑائی ان کا حسن وزینت اس سے بارش برسانا اس بارش سے زمین کا ہرا بھرا ہوجانا اس میں طرح طرح کے پھل پھول کا پیدا ہونا، اناج اور کھیتی کا اگنا، مختلف قسم کے جانوروں کا اس میں پھیلا ہوا ہونا، جن کی شکلیں جدا گانہ، جن کے نفع الگ الگ جن کے رنگ الگ الگ، دریاؤں میں عجائبات کا پایا جانا، ان میں طرح طرح کی ہزارہا قسم کی مخلوق کا ہونا، ان میں چھوٹی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 101–103

سورة یُوْنُس 105 یہ ان کے اس مطالبہ کا آخری اور قطعی جواب ہے جو وہ ایمان لانے کے لیے شرط کے طور پر پیش کرتے تھے کہ ہمیں کوئی نشانی دکھائی جائے جس سے ہم کو یقین آجائے کہ تمہاری نبوت سچی ہے۔ اس کے جواب میں فرمایا جارہا ہے کہ اگر تمہارے اندر حق کی طلب اور قبول حق کی آمادگی ہو تو وہ بےحدوحساب نشانیاں جو زمین و آسمان میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں تمہیں پیغام محمدی کی صداقت کا اطمینان دلانے کے لیے کافی سے زیادہ ہیں۔ صرف آنکھیں کھول کر انہیں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر یہ طلب اور یہ آمادگی ہی تمہارے اندر موجود نہیں ہے تو پھر کوئی نشانی بھی، خواہ وہ کیسی ہی خارق عادت اور عجیب و غریب ہو، تم کو نعمت ایمان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 101–103

خلاصہ تفسیر آپ کہہ دیجئے کہ تم غور کرو (اور دیکھو) کہ کیا کیا چیزیں ہیں آسمان میں اور زمین میں (آسمانوں میں ستارے وغیرہ اور زمین میں بےانتہا مخلوق نظر آتی ہے یعنی ان میں غور کرنے سے توحید کی دلیل عقلی حاصل ہوگی، یہ بیان ہوا ان کے مکلف ہونے کا) اور جو لوگ (عنادًا) ایمان نہیں لاتے ان کو دلائل اور دھمکیاں کچھ فائدہ نہیں پہنچاتے (یہ بیان ہوا ان کے عناد کا) سو (ان کی اس حالت عناد سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) وہ لوگ (بدلالت حال) صرف ان لوگوں کے سے واقعات کا انتظار کر رہے ہیں جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں (یعنی باجود دلائل اور وعیدوں کے جو ایمان نہیں لاتے تو ان کی حالت اس شخص کے مشابہ ہے جو ایسے عذاب کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 101–103

101 تا 103:۔ قُلِ انْظُرُوْا مَاذَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ وَمَا تُغْنِي الْاٰيٰتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ۔ فَهَلْ يَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَيَّامِ الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ قُلْ فَانْتَظِرُوْٓا اِنِّىْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِيْنَ۔ ثُمَّ نُنَجِّيْ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ ۚ حَقًّا عَلَيْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِيْنَ۔ مطالبہ معجزات کا جواب : قُلِ انْظُرُوْا۔۔ الایۃ۔ یہ کفار کے مطالبہ معجزات کا جواب دلوایا ہے کہ آسمان و زمین معجزات اور نشانیوں سے بھرے پڑے ہیں ان سے کہو کہ معجزات کی طلب ہے تو ان نشانیوں اور معجزات کو دیکھو، یہ آنکھیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 100–101

10۔ 1 گندگی سے مراد عذاب یا کفر ہے۔ یعنی جو لوگ اللہ کی آیات پر غور نہیں کرتے، وہ کفر میں مبتلا رہتے ہیں اور یوں عذاب کے مستحق قرار پاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 101–107

42: اس کائنات کی ہر چیز کو اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا شاہکار ہے، اس سے نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ محیر العقول کارخانہ خود بخود وجود میں نہیں آگیا، اسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، بلکہ اس سے یہ بھی سمجھ میں آتا ہے کہ جو ذات اتنی عظیم کائنات پیدا کرنے پر قادر ہے، اسے اپنی خدائی کے لیے کسی شریک یا مددگار کی حاجت نہیں ہے، لہذا وہ ہے، اور ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس آئنہ خانے میں سبھی عکس ہیں تیرے اس آئنہ خانے میں تو یکتا ہی رہے گا

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قل انظروا ما ذا فی السموت والارض (اے محمد (ﷺ) ! ) آپ کہہ دیجئے کہ دیکھو ‘ غور کرو ‘ سوچو ! آسمان اور زمین میں کیسی عجیب نشانیاں ہیں۔ چاند ‘ سورج ‘ ستارے ‘ ان کی بناوٹ ‘ مربوط رفتار ‘ پہاڑ ‘ ان کی استقامت ‘ سمندر ‘ دریا ‘ درخت اور کائنات نباتی و حیوانی ‘ ان تمام چیزوں کے اندر ایک صانع و قادر ‘ دانا و یگانہ کی قدرت و صنعت جھلک رہی ہے ‘ اس کی ذات کی عظمت اور صفات کے کمال کا ان سے ظہور ہو رہا ہے۔ وما تغنی الایت والنذر عن قوم لا یؤمنون۔ جو قوم (ا اللہ کے علم میں اور اس کی مشیت میں) ایمان لانے والی نہیں ‘ اس کو (علم و یقین پیدا کرنے والی) نشانیوں اور ڈرانے والے (پیغمبروں اور عبرتوں) سے کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی سوچنے اور غرور کرنے والوں کے لیے آسمان و زمین میں خدا کی قدرت و حکمت اور توحید و تفرید کے کیا کچھ نشان موجود ہیں۔ بلکہ ذرہ ذرہ اور پتہ پتہ اس کی توحید پر دلالت کرتا ہے۔ لیکن جو کسی بات کو ماننا اور تسلیم کرنا نہیں چاہتے ان کے لیے یہ سب نشانات و دلائل بیکار ہیں اور ڈرانے والے پیغمبروں کی تنبیہ و تخویف بھی غیر موثر ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 101 قُلِ انْظُرُوْا مَاذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کی بیشمار نشانیاں ہیں ‘ ان کو بنظر غائر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

109 ضد اور تعصب کی موجودگی میں اللہ کی کوئی نشانی فائدہ نہیں دیتی :۔ جو لوگ اللہ کی نشانیوں میں غور و فکر کرتے ہیں ان کے لیے تو کائنات کی ایک ایک چیز میں اللہ کی معرفت کے دلائل مل سکتے ہیں حتیٰ کہ درختوں کے پتے، پھولوں کی مہک اور ان کے مختلف رنگ اور شکلیں بھی اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید پر بیشمار دلائل پیش کر رہی ہیں اور جو لوگ غور و فکر کے بجائے ہٹ دھرمی ضد اور تعصب سے کام لیتے ہیں ان کے لیے حسی معجزے بھی بیکار ثابت ہوتے ہیں وہ انھیں بھی دیکھ کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ تو محض جادو کی کرشمہ سازیاں ہیں ان کے لیے نہ کوئی نصیحت کارگر ثابت ہوتی ہے اور نہ ہی اللہ کے عذاب اور اس کی گرفت کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

152۔ (حق تعالیٰ کی توحید اور قدرت اور صنعت پر دلالت کرنے والی) (آیت) ” انظروا “۔ یعنی چشم بصیرت سے دیکھو، سوچو اور غور کرو، دوسرے مذہبوں کے برعکس جہاں ایمان اور عقل کو ایک دوسرے کے منافی سمجھا گیا ہے، قرآن تو خود دعوت تکوینیات میں غور وفکر کرتے رہنے کی دیتا رہتا ہے۔ اے تفکروا (بیضاوی) امر بالنظر والا ستدلال فی الدلائل حتی لایتوھم ان الحق ھو الجبر المحض (کبیر) (آیت) ” انظروا ما ذا فی السموت والارض “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہاں سے معلوم ہوا کہ خلق پر حق کے لیے نظر کرنا نظر الی الحق کا منافی نہیں۔ 153۔ یعنی ایمان لانا چاہتے نہیں، مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ دلائل حق پر سرے سے غور ہی نہیں کرتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 93–103

آیت نمبر 93 تا 103 ترجمہ : اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانہ دیا اور وہ شام اور مصر تھا، اور ہم نے ان کو پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں، پھر انہوں نے اختلاف نہیں کیا مگر اس وقت جبکہ علم ان کے پاس آچکا بایں طور کہ بعض لوگ ایمان لائے اور بعض نے انکار کیا، یقیناً تیرا رب قیامت کے دن ان کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کر دے گا جس امر دین میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں مومنین کو نجات دے کر اور کافروں کو عذاب دیکر، پس اے محمد ! بالفرض اگر تم ان قصوں کے بارے میں جو ہم نے تمہاری طرف نازل کئے ہیں، شک میں ہو تو ان لوگوں سے پوچھ دیکھئے جو تم سے پہلی کتاب تورات کو پڑھتے ہیں اس لئے کہ وہ نازل کردہ (واقعات) ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قل انظروا ما ذا فی السموت والارض (اے محمد ﷺ ! ) آپ کہہ دیجئے کہ دیکھو ‘ غور کرو ‘ سوچو ! آسمان اور زمین میں کیسی عجیب نشانیاں ہیں۔ چاند ‘ سورج ‘ ستارے ‘ ان کی بناوٹ ‘ مربوط رفتار ‘ پہاڑ ‘ ان کی استقامت ‘ سمندر ‘ دریا ‘ درخت اور کائنات نباتی و حیوانی ‘ ان تمام چیزوں کے اندر ایک صانع و قادر ‘ دانا و یگانہ کی قدرت و صنعت جھلک رہی ہے ‘ اس کی ذات کی عظمت اور صفات کے کمال کا ان سے ظہور ہو رہا ہے۔ وما تغنی الایت والنذر عن قوم لا یؤمنون۔ جو قوم (ا اللہ کے علم میں اور اس کی مشیت میں) ایمان لانے والی نہیں ‘ اس کو (علم و یقین پیدا کرنے والی) نشانیوں اور ڈرانے والے (پیغمبروں اور عبرتوں) سے کیا فائدہ۔ ما…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(101) اے محمد ﷺ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ تم چاند، سورج، اور ستاروں کو دیکھو اور غور کرو کہ کیا کیا چیزیں زمین میں ہیں درخت، جانور، پہاڑ، دریا ان میں غور وفکر کرنے سے تمہارے لیے توحید پر دلیل عقلی قائم ہوگی اور علم ازلی میں جو لوگ ایمان لانے والے نہیں ان کو رسولوں کی دھمکیاں اور دلائل کچھ فائدہ نہیں دے سکتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قُلِ انْظُرُوْا مَاذَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : یعنی ایمان لانے کے لیے زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی توحید کی بیشمار نشانیاں موجود ہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَكَاَيِّنْ مِّنْ اٰيَةٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ يَمُرُّوْنَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ) [ یوسف : 105 ] ”اور آسمانوں اور زمین میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے گزرتے ہیں اور وہ ان سے بےدھیان ہوتے ہیں۔“ اور فرمایا : (وَفِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ) [ الذاریات : 20 ] ”اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے کئی نشانیاں ہیں۔“ وَمَا تُغْنِي الْاٰيٰتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ : اس کے دو…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 101 قولہ تعالیٰ : (آیت) قل انظروا ماذا فی السموات والارض یہ کفار کے لیے ان مصنوعات میں غوروفکر اور تدبر کرنے کے بارے امر ہے جو صانع پر اور اس کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہیں۔ اس بارے میں مکمل بحث کئی مقامات پر پہلے گزرچکی ہے۔ (آیت) وماتغنی یہ مانافیہ ہے ای ولن تغنی (یعنی آیتیں ہرگز فائدہ نہیں پہنچائیں گی) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ما استفہامیہ ہے اور تقدیر کلام ہے ای شی تغنی (کون سی شے کا نفع آیات پہنچاسکتی ہیں ) الآیات مراد دلالات اور نشانیاں ہیں۔ والنذر یعنی رسل (علیہ السلام) اور یہ نذیر کی جمع ہے اور وہ رسول اللہ ﷺ ہیں۔ (آیت) عن قوم لایوء منون یعنی اس قوم کو جن کے بارے پہلے سے اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 100–106

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ’ ’ ویجعل الرجس “ میں جس سے مراد ہے غصہ۔ 2:۔ ابوالشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” ویجعل الرجس “ میں ” الرجس “ سے مراد ہے شیطان یا رجس سے مراد ہے عذاب۔ 3:۔ ابو الشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما تغنی الایت ولنذر عن قوم “ میں قوم کی بجائے ” عن قوم لا یومنون “ سے مگر (اس حکم کو) اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” حکمۃ بالغۃ فما تغن النذر “ (5) ۔ نے منسوخ کردیا (یہ حک ہے کہ ان کو ڈرانا فائدہ نہیں دیتا جو (اللہ کے علم میں) ایمان نہیں لائیں گے۔ 4:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قُلِ [ آپ کہئے ] انْظُرُوْا [ تم لوگ دیکھو ] مَاذَا [ اس کو جو ] فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ [ آسمانوں اور زمین میں ہے ] وَمَا تُغْنِي [ اور کام نہیں آتیں ] الْاٰيٰتُ [ نشانیاں ] وَالنُّذُرُ [ اور ڈرانے والے ] عَنْ قَوْمٍ [ ایسے لوگوں کے ] لَّا يُؤْمِنُوْنَ [ جو ایمان نہیں لاتے ] (آیت ۔ 101) النذر جمع مکسر ہے نذیر کا ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 99–102

اگر اللہ چاہتاتو سب ایمان قبول کرلیتے ! ان آیات میں اول تو یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں مومن بھی رہیں گے۔ کافر بھی رہیں گے۔ اللہ کی حکمت کا یہی تقاضا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو زمین کے بسنے والے سب لوگ ایمان لے آتے۔ جب اللہ کی حکمت اسی میں ہے کہ زمین پر کافر بھی بسیں اور مومن بھی رہیں تو آپ کو اس پر اصرار نہ ہونا چاہئے کہ سب لوگ مومن ہوجائیں۔ کیا آپ زبردستی کر کے لوگوں کو مومن بنائیں گے ؟ ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ زبردستی کر کے لوگوں کو مومن بنالیں۔ جو شخص مومن ہوتا ہے اللہ کے اذن یعنی اس کی مشیت سے مومن ہوتا ہے۔ ہاں یہ بات بھی ہے کہ جو لوگ عقل کو کام میں نہیں لاتے ایمان کی خوبی اور برتری انہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 101–103

اہل رجس یعنی معاندین کو خطاب تہدید قال اللہ تعالیٰ ۔ قل انظرو ماذا فی السموات والارض۔۔۔ الی۔۔۔ ننج ال مومن ین (ربط): گزشتہ آیت یعنی وجعل الرجس علی الذین لا یعقلون۔ میں اہل رجس یعنی معاندین کا ذکر تھا کہ لوگ کفر اور عناد کی گندگی میں ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بےعقل ہیں ہوائے نفسانی کے تابع ہیں اب اس آیت میں انہیں اہل رجس یعنی معاندین کو خدا کی نشانیوں میں غور وفکر کا حکم ہے اور تہدید بھی ہے کہ کیا یہ معاندین اسی قسم کے عذابوں کا انتظار کر رہے ہیں جو پہلی امتوں پر نازل ہوچکے ہیں خوب سمجھ لیں کہ یہ لوگ بھی عناد کی وجہ سے اسی قسم کے عذاب کے مستحق ہیں اللہ تعالیٰ نے تم کو غور وفکر کرنے کے لیے عقل عطا کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

110: آپ ان کو زمین و آسمان کی عجائب المخلوقات میں غور و فکر کرنے کی دعوت دیں مگر یہ تکوینی دلائل اور انبیاء ورسل (علیہم السلام) کی آسمانی تعلیم ایسے لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں دیتی جن سے مہر جباریت کی وجہ سے توفیق ایمان سلب کرلی گئی ہو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 99–103

ربط آیات گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے یونس (علیہ السلام) کا حال بیان فرمایا ، نیز آپ کی قوم کی منفرد حیثیت کا تذکرہ فرمایا کہ یہ واھد قوم ہے جس کی توبہ اللہ تعالیٰ نے عذاب کی نشانیان ظاہر ہوجانے کے بعد قبول کی۔ اس سلسلے میں بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ عذاب کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) کی تصدیق کے لیے عذاب کی کچھ علامات ظاہر فرمائی تھیں۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور آپ پر ایمان لانے والوں کو تسلی دی ہے کہ لوگوں کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے آپ دل برداشتہ نہ ہوں کیوں کہ ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اور آپ کسی کو ایمان لانے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قُلِ انْظُرُوْا مَاذَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ 0 ۭ وَمَا تُغْنِي الْاٰيٰتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُوْنَ۝ 101 ( ماذا) يستعمل علی وجهين : أحدهما . أن يكون ( ما) مع ( ذا) بمنزلة اسم واحد، والآخر : أن يكون ( ذا) بمنزلة ( الذي) ، فالأوّل نحو قولهم : عمّا ذا تسأل ؟ فلم تحذف الألف منه لمّا لم يكن ما بنفسه للاستفهام، بل کان مع ذا اسما واحدا، وعلی هذا قول الشاعر : دعي ماذا علمت سأتّقيه أي : دعي شيئا علمته . وقوله تعالی: وَيَسْئَلُونَكَ ماذا يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 219] ، فإنّ من قرأ : قُلِ الْعَفْوَ بالنّصب فإنّه جعل الاسمین بمنزلة اسم واحد، كأنّه قال : أيّ شيء ينفقون ؟ ومن قرأ : قُلِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 98–103

حضرت یونس (علیہ السلام) کے واقعہ کی طرف بڑے عبرت آمیز الفاظ میں اشارہ کرتا ہے فلولا کانت قریۃ آمنت فنفعہا ایمانہا الخ لولا کو بعض نے کلمہ نفی سمجھا ہے۔ امام واحد کا اسی طرف رجحان ہے۔ ان کے نزدیک یہ معنی ہوئے فما کانت قریۃً آمنت فنفعہا ایمانہا الا قوم یونس کہ ان گمراہ بستیوں میں سے کوئی بھی ایسی بستی نہیں ہوئی کہ جو ایمان لاتی اور ان کا ایمان نفع دیتا بجز قوم یونس کے یہ استثنیٰ منقطع ہے۔ ادل سے بعض علماء اس کو کلمہ تحریص و تخصیص کہتے ہیں بمعنی ہلاان کے نزدیک یہ معنی ہوئے کہ کوئی ایسی بستی بھی ہوتی کہ جو ایمان لاتی اور اس کا ایمان نفع دیتا مگر قوم یونس کہ وہ ایمان لائی۔ یونس بن متی (علیہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط وَمَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَالنُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لاَّ یُؤْمِنُوْنَ ۔ ( یونس : 101) (اے پیغمبر ! ان سے کہیے کہ دیکھو کہ کیا ہے آسمانوں اور زمین میں ؟ اور نہیں کام آتیں نشانیاں اور ڈراوے ان لوگوں کو جو ایمان لانا نہیں چاہتے۔ ) مطالبہ معجزات کا جواب مشرکین ِمکہ معذب قوموں کی طرح نبی کریم ﷺ سے بار بار مطالبہ کرتے تھے کہ آپ ہمارے سامنے ایسی بڑی بڑی نشانیاں لائیں جنھیں دیکھ کر ہم یقین کرنے پر مجبور ہوجائیں کہ واقعی آپ اللہ کے نبی ہیں، اور یا ہمارے سامنے کوئی ایسا ہولناک منظر لائیں یا دل ہلا دینے والی مصیبتیں ہم پر مسلط کردیں جس سے ہمارے دل دہل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 101–103

فہم القرآن ربط کلام : حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کے تذکرہ کے بعد۔ انسان کو توجہ دلائی گئی ہے اگر تھوڑا سا عقل سے کام لے اور اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر غور کرے تو اس کے لیے ہدایت کے راستے کھل جائیں گے۔ اللہ کی قدرت کی نشانیاں زمین و آسمان میں اس قدر نمایاں اور پھیلی ہوئی ہیں کہ آدمی تھوڑی سی توجہ کرے تو وہ خود بخود اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہیں۔ آسمان کی طرف دیکھیے کب سے جوں کا توں بلا ستون کھڑا ہے نہ اس کی رنگت میں کوئی فرق آیا ہے اور نہ ہی کہیں سے جھکا اور پھٹا ہے یہاں تک کہ اس میں دراڑ اور نشیب و فراز بھی نظر نہیں آتا۔ اب اپنے پاؤں تلے زمین پر غور فرمائیے کہ بظاہر ایک ہی دھرتی ہونے کے باوجود…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قراءت : حماد و یحییٰ نے نَجْعَلُ پڑھا ہے۔ 101: قُلِ انْظُرُوْا (کہہ دیں تم دیکھو) استدلالی نگاہ سے اور عبرت کی نظر سے مَاذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ (کہ آسمان و زمین میں کیا ہے) آیات اور عبر جو دن رات کے اختلاف سے ظاہر ہوتی ہیں اور کھیتوں اور پھلوں کے ظہور سے سامنے آتی ہیں۔ وَمَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ (اور آیات فائدہ نہیں دیتیں) ما ؔ نافیہ ہے۔ وَالنُّذُرُ ( اور ڈرانے والے) انبیاء جو ڈراتے رہے۔ یا ڈرا وے عَنْ قَوْمٍ لَّایُؤْمِنُوْنَ (ایمان نہ لانے والی قوم کو) جنکے ایمان کی توقع نہیں۔ وہی تو بےعقل ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

101” قل انظروا “ یعنی ان مشرکین کو کہہ دیں جو آپ سے نشانیاں مانگتے ہیں کہ تم دیکھو ” ما ذا فی السموات والارض “ آیات اور دلائل اور عبرت ، پس آسمانوں میں سورج ، چاند اور ستارے وغیرہ ہیں اور زمین میں پہاڑ ، سمندر ، دریا ، درخت وغیرہ ہیں۔ ” وما تغنی الآیات والنذر عن قوم لا یومنون “ یہ اس قوم کے بارے میں ہے جن کا ایمان نہ لانا اللہ کے علم میں ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 101–103

101۔ 103۔ اوپر منکرین قیامت کی کم عقلی کا ذکر تھا ان آیتوں میں ان کو عقل سے کام لینے پر آمادہ کیا اور فرمایا کے اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ زمین و آسمان میں کیا کچھ نہیں ہے اگر تم لوگ غور اور فکر کرو تو بات بات سے سمجھ لو کہ خدا کی خدائی میں تمہارے بتوں کو کچھ دخل نہیں ہے۔ چاند سورج دن کا ہونا رات کا ہونا اندھیری راتوں میں ستاروں کا نکلنا راتوں کو سفر کرنے والوں کو کیسا مفید ہے کہ وہ ستاروں کو دیکھ کر سمت دریافت کرلیا کرتے ہیں پھر بارش کا ہونا کھیتوں کا سرسبز کرنا کیسا فائدہ مند ہے غرض کہ ہوشیار آدمی درختوں کے پتہ تک سے خدا کی وحدانیت کا پتہ لگا لیتا ہے پھر فرمایا کہ یہ قدرت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 101–103

آیت : ( 101-103) اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ آسمانوں اور زمن میں غور کریں اور اس سے مراد یہ ہے کہ تفکر اور عبرت کی نظر سے آسمان کو دیکھیں ‘ ان میں جو کچھ موجود ہے اس میں تدبر کریں اور بسیرت حاصل کریں۔ ان میں اہل ایمان کے لئے نشانیاں اور اہل ایقان کے لئے عبرت ہے جو اس پر دلالت کرتی ہیں کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود محود ہے ‘ وہی صاحب جلال و اکرام و عظیم اسماء وصفات کا مالک ہے۔ (وما تغنی الایت والنذر عن قوم لا یومنون) ” اور کچھ کام نہیں آتیں نشانیاں اور ڈرانے والے ان لوگوں کو جو ایمان لانے والے نہیں “ کیونکہ یہ لوگ اپنے اعراض اور عناد کی وجہ سے آیت الٰہی سے فائدہ نہیں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–109

قول باری ہے قد اجیبت دعوتکما تم دونوں کی دعا قبول کی گئی ۔ دعا کی نسبت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) دونوں کی طرف سے کی گئی ہے ۔ ابو العالیہ ، عکرمہ ، محمد بن کعب اور ربیع بن موسیٰ کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دعا مانگتے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے، اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو دعا مانگنے والے قرار دیا ۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ آمین بھی دعا ہے اور جب اس کا دعا ہونا ثابت ہوگیا تو پھر اس کا اخفاء اس کے جہر سے افضل ہوگا اس لیے کہ قول باری ہے ادعوا ربکم تضرعا ً و خفیۃ ۔ اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے پکارو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

171 ۔ کائنات میں غور و فکر کی دعوت : سو اس ارشاد سے آسمانوں اور زمین میں موجود سامان عبرت میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے کہ دیکھو ان میں کیا کچھ ایسے عجائب قدرت اور دلائل حکمت موجود ہیں، جو کہ دامن دل کو کھینچتے اور دعوت غور و فکر دیتے ہیں اور اپنے خالق ومالک کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور وحدانیت مطلقہ کی طرح طرح سے عکاسی کرتے ہیں۔ یہیں سے علامہ سیوطی وغیرہ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اللہ کی مخلوق میں غور و فکر سے کام لینا واجب ہے (محاسن التاویل وغیرہ) مگر افسوس کہ انسان کائنات کی ان عظیم الشان نعمتوں سے طرح طرح سے مستفید ہونے کے باوجود اپنے خالق ومالک کا ناشکرا اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہے۔…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 99–109

رسول کا کام صرف سمجھانا ہے تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے تو نبی اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ اس بات سے آگاہ کرتا ہے کہ آپ ﷺ کی یہ خواہش کہ سب لوگ ہی ایمان لے آئیں یہ پوری نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ اگر چاہتے تو یہ کر بھی سکتے تھے مگر یہ بات اللہ کی مشیت کے خلاف ہے۔ آپ ﷺ اللہ کے سچے، اتنہائی مخلص اور فرمانبردار بندے تھے مگر تھے تو انسان ہی۔ انہوں نے اپنے کام کو جو اللہ نے ان کے سپرد کیا تھا، یعنی نبوت اور تبلیغ کا تو اس کام میں انہوں نے اتنی مصیبتیں، دکھ، پریشانیاں اور مشقتیں برداشت کیں کہ انسان حیران ہوجاتا ہے مگر آپ ﷺ کو اپنے رب سے اور اس کے دیے ہوئے کام (نبوت) سے اس قدر پیار اور محبت تھی کہ وہ ہر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 93–103

آیات 93 تا 103 اسرار و معارف پھر ان نعمتوں کا تذکرہ جو بنی اسرائیل کو عطاہوئیں کہ بظاہرفرعون اور اس کی ساری حکومت انھیں رسوا کرنے پہ کمرباندھے ہوئے تھی کوئی ظاہری سبب ان کی نجات کا نہ تھا کہ انھوں نے اللہ پر بھر وسہ کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی میں نکل کھڑے ہوئے تو فرعون اور اس کا لشکرتباہ ہوگئے اور نبی اسرائیل کو وہ خوبصورت اور سرسبز و شاداب وادی جو انبیائے سابقین کا مسکن بھی تھی اور دنیاوی ودینی اعتبار سے ان کی پسنددیدہ بھی تھی یعنی اردن و فلسطین کی ارض مقدسہ عطاہوئی اور سلطنت مصر بھی انہی کو مل گئی اور بہترین نعمتیں بھی بطور رزق نصیب ہوئیں۔ آباد گھر تنومنداولاداچھی بیویاں شاداب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 ۔ یا جو طے کرلیتے ہیں کہ چاہے کچھ ہوجائے ہم ہرگز اپنے باپ دادا کے راستہ کو چھوڑ کر ایمان نہیں لائیں گے۔ (کذافی فی الوحیدی) ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(10: 101) انظروا۔ نظر سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم دیکھو۔ تم غور کرو۔ ماذا۔ ماذا کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں۔ (1) اسم جنس ہے ۔ (2) موصول ہے اور الذی کا ہم معنی ہے (3) ما استفہامیہ ہے اور ذا موصولہ ہے۔ (4) ما استفہامیہ ہے اور ذا اسم اشارہ ہے (5) ذا اسم اشارہ اور ما زائدہ ہے (6) ما استفہامیہ اور ذا زائدہ ہے۔ ماذا۔ کیا ۔ ماذا اتفعل تو کیا کر رہا ہے ۔ لما ذا جئت تو کیسے آیا۔ کس لئے آیا ۔ یسئلونک ماذا ینفقون ۔ (2:219) تم سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں۔ یہاں آیۃ میں ذا بمعنی الذی آیا ہے۔ ماتغنی۔ ما نافیہ ہے۔ النذر۔ نذیر کی جمع ہے ڈرانے والے۔ یعنی رسول۔ پیغمبران اور اگر النذیر بمعنی مصدر ہو تو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 98–103

لغات القرآن آیت نمبر 98 تا 103 قریۃ (بستی ، آبادی) کشفنا (ہم نے کھول دیا، ہٹا دیا ) الخزی (رسوائی) متعنا (ہم نے سامان دیا) حین (زمانہ، مدت) تکرہ (تو زبردستی کرے گا) یجعل (وہ بناتا ہے، ڈالتا ہے) الرجس (گندگی) لایعقلون (سمجھ نہیں رکھتے ہیں انظروا (تم دیکھو ) ماتغنی (کام نہیں آئی) النذر (ڈرانا، دھمکانا) ینتظرون (وہ انتظار کر رہے ہیں تشریح : آیت نمبر 98 تا 103 اللہ تعالیٰ نے انسان کو خشکی اور تری میں برتری اور اس کائنات کی ہر مخلوق سے زیادہ عظمت عطا فرمائی ہے لیکن اس کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ وہ دنیا کے معاملات میں الجھ کر اس قدر غافل ہوجاتا ہے کہ اس کو آخرت کی یاد ہی نہیں آتی اور بھول کر وہ اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 101–103

اوپر منکرین قیامت کی کم عقلی کا ذکر تھا۔ ان آیتوں میں ان کو عقل سے کام لینے پر آمادہ کیا اور فرمایا کہ اے رسول اللہ کے ! تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ زمین وآسمانہ میں کیا کچھ نہیں ہے۔ اگر تم لوگ غور وفکر کرو تو بات بات سے سمجھ لو کہ خدا کی خدائی میں تمہارے بتوں کو کچھ دخل نہیں ۔ چاند سورج، دن کا ہونا، رات کا ہونا، ستاروں کا نکلنا، بارش کا ہونا غرضیکہ ہوشیار آدمی درختوں کے پتا تک سے خدا کی وحدانیت کا پتہ لگا لیتا ہے۔ پھر فرمایا کہ قدرت کی سب نشانیاں اسی کو کار آمد ہیں جو ایمان لاوے اور جو ایمان لانے والے نہیں ہیں یہ نشانیاں کیا فائدہ پہنچائیں گی۔ کیونکہ ان لوگوں کو بھی اسی روز بد کا انتظار ہے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 98–109

[42] مفسرین نے عذاب ٹل جانے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ یونس (علیہ السلام) اپنی نافرمان قوم کو عذاب کی اطلاع دینے کے بعد اللہ کی اجازت کے بغیر بستی سے چلے گئے تھے۔ اس لئے جب آثار عذاب ظاہر ہونا شروع ہوئے تو پوری قوم نے اللہ تعالیٰ کے روبرو گریہ زاری شروع کی اور ایمان لے آئی لہذا عذاب ہٹا لیا گیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 100–105

(ف 2) مشیت واذن الہی کے دو معنے ہیں ایک کا تعلق تکوین سے ہے ایک کا تشریع سے ، اللہ کے نزدیک پسندیدہ تو یہی ہے کہ سب لوگ ایمان لے آئیں ، مگر تکوین میں اس نے اختلاف رائے کو باقی رکھا ہے تاکہ حق و باطل میں امتیاز قائم رہے ۔ اسی طرح اگر ” الا باذن اللہ “ سے مقصود یہ ہے کہ ایمان کے لئے جہاں تک آسانیوں اور توفیق وتسہیل کا تعلق ہے وہ اللہ کی تکوین کا نتیجہ ہے ، اس لئے وہ شخص جو ان وسائل ہدایت سے محروم ہے ، ہدایت قبول نہیں کرسکتا ، غرض یہ ہے کہ آپ ان لوگوں کی گمراہی پر غم نہ کریں اختلاف رائے مشیت ایزدی ہے ، یہ باقی رہے گا البتہ تلقین و دعوت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے ۔ حل لغات : کشفنا : کھول دیا یعنی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

101 اے پیغمبر ! آپ ان سے فرما ئیے کہ تم ذرا غور کرو اور دیکھو کہ کیا چیزیں ہیں آسمانوں میں اور زمین میں اور جو لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں ان کو نہ دلائل کچھ فائدہ پہونچا تے ہیں اور نہ ڈرانے والے یعنی آسمان و زمین میں قدرت کی نشانیاں بھری ہوئی ہیں ذرا غور و فکر کی ضرورت ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یقین نہ رکھنے والوں کیلئے ساری نشانیاں ہی بےسود ہیں 137 ؎ سوچو اور غور کرو یعنی چشم بصیرت سے دیکھو ، دوسرے مذاہب کے برعکس جہاں ایمان اور عقل کو ایک دوسرے کے منافی سمجھا گیا ہے قرآن کریم تو خود تکوینیات میں غور و فکر کرتے رہنے کی دعوت دیتا ہے کہ صحیفہ کائنات کو ذرا غور سے دیکھو وہ تمہیں قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کی الوہیت کے انفسی اور آفاقی دلائل پیش کرتا ہے اور ہر جگہ تم کو ہدایت کے چراغ جگمگاتے ہوئے نظر آئیں گے لیکن اگر تم آنکھیں بند رکھنے ہی پر مصر ہو تو تمہاری قسمت ! یعنی دوپہر کے وقت تم اندھوں کی طرح گھپ اندھیروں میں گھرے ہوئے دکھائی دو گے اور ان آیات اور شواہد سے فقط وہی لوگ مستفیدہو سکتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 98–109

In the seventh verse (98), the heedless deniers of truth have been admonished for their failure to make the optimum use of the time of life allowed to them. There was still time for them to leave denial and contumacy. Otherwise, an ominous time was due to come when they will make Taubah but their Taubah will not be accepted. They will say that they believed but their belief will not be welcome. And that time will be the time when the punishment of the Hereafter will appear right before their eyes at the time of death. It was in this connection that an event relating to Sayyidna Yunus (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 101–103

105. This is the final and categorical response to the unbelievers. The unbelievers had asked that they be shown some convincing sign that would make them confirm the truth of the Prophet's claim to prophethood. Here they are being told that if the unbelievers had any desire to seek and accept the truth, there are innumerable signs scattered throughout the heavens and the earth, signs that are more than sufficient to convince them about the truth of the Prophet's message. All one needed to do was to look around with open eyes and to reflect on what one observes. Conversely, if there are some…

Read the full tafseer →