Yunus 10:100

Yunus · from ayah 100

10:100

وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ؕ— وَیَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ ۟وَمَا كَانَ لِنَفۡسٍ اَنۡ تُؤۡمِنَ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰهِ‌ؕ وَيَجۡعَلُ الرِّجۡسَ عَلَى الَّذِيۡنَ لَا يَعۡقِلُوۡنَ‏

حالانکہ کسی شخص کو قدرت نہیں ہے کہ خدا کے حکم کے بغیر ایمان لائے۔ اور جو لوگ بےعقل ہیں ان پر وہ (کفر وذلت کی) نجاست ڈالتا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And it is not for a soul to believe except by permission of Allah, and He will place defilement upon those who will not use reason.

— Saheeh International

Juz 11 · Ruku 10 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Yunus

All translations of 10:100

کوئی متنفس اللہ کے اذن کے بغیر ایمان نہیں لا سکتا، اور اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ ان پر گندگی ڈال دیتا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

حالانکہ کسی شخص کو قدرت نہیں ہے کہ خدا کے حکم کے بغیر ایمان لائے۔ اور جو لوگ بےعقل ہیں ان پر وہ (کفر وذلت کی) نجاست ڈالتا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

حاﻻنکہ کسی شخص کا ایمان ﻻنا اللہ کے حکم کے بغیر ممکن نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ بے عقل لوگوں پر گندگی ڈال دیتا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور کسی بھی شخص کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر مومن بن جائے، اور جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے، اللہ ان پر گندگی مسلط کردیتا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کسی جان کی قدرت نہیں کہ ایمان لے آئے مگر اللہ کے حکم سے اور عذاب ان پر ڈالنا ہے جنہیں عقل نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور کسی شخص کو (اَز خود یہ) قدرت نہیں کہ وہ بغیر اِذنِ الٰہی کے ایمان لے آئے۔ وہ (یعنی اللہ تعالی) کفر کی گندگی انہی لوگوں پر ڈالتا ہے جو (حق کو سمجھنے کے لئے) عقل سے کام نہیں لیتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کسی شخص کے لیے ممکن نہیں کہ ایمان لائے مگر اللہ کے اذن سے اور وہ گندگی ان لوگوں پر ڈالتا ہے جو نہیں سمجھتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کسی کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ اللہ کے اذن کے بغیر ایمان لائے اور اللہ تو ان لوگوں پر گندگی ڈالتا ہے جو عقل سے کام نہیں لیتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور کسی شخص کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ایمان لاسکے، مگر اللہ کے اذن سے۔ اور وہ گندگی لاد دیا کرتا ہے ان لوگوں پر جو عقل سے کام نہیں لیتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کسی شخص کے بس میں نہیں کہ وہ ایمان لے آئے مگر ان کے اذن سے، اور اللہ ڈال دیتا ہے گندگی (کفر و شرک اور الحادو بےدینی کی) ان لوگوں پر جو عقل سے کام نہیں لیتے

— مولانا اسحاق مدنی

اور کسی شخص کو (یہ قدرت حاصل) نہیں کہ وہ ایمان لے آئے بجز اللہ کی مشیت کے۔ وہ گندگی (کفر کی) واقع کراتا ہے انہی لوگوں پر جو عقل سے کام ہی نہیں لیتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کسی جان کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ ایمان لائے مگر اللہ کے اذن سے اور وہ گندگی مسلط کردیتا ہے ان لوگوں پر جو عقل سے کام نہیں لیتے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

حالانکہ کسی کو قدرت نہیں ہے کہ اللہ کے حکم کے بغیر ایمان لائے اور جو لوگ بےعقل ہیں ان پر وہ کفر و ذلت کی نجاست ڈالتا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

No one can believe except by Allah's leave, and Allah lays abomination on those who do not use their understanding. and conduct.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It is not (possible) for any one that he believes except with the will of Allah. And He makes filth settle on those who do not understand.

— Muhammad Taqi Usmani

It is not (possible) for any one that he believes except with the will of Allah. And He makes filth settle on those who do not understand.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It is not for any person to believe, except by the leave of Allah, and He will put the Rijs on those who do not reason.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

It is not for any soul to believe save by the permission of Allah. He hath set uncleanness upon those who have no sense.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And it is not for a soul to believe except by permission of Allah, and He will place defilement upon those who will not use reason.

— Saheeh International

No one can have faith without the permission of God. God will cast down filth on those who have no understanding.

— Muhammad Sarwar

And it is not for a soul to believe except by Allah's permission; and He casts uncleanness on those who will not understand.

— Muhammad Habib Shakir

It is not for any soul that it should believe save with Allah's will, and He layeth the abomination upon those who reflect not.

— Abdul Majid Daryabadi

No soul can believe, except by the will of Allah, and He will place doubt (or obscurity) on those who will not understand.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 10:100

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 99–100

اللہ کی حکمت سے کوئی آگاہ نہیں اللہ کی حکمت ہے کہ کوئی ایمان لائے اور کسی کو ایمان نصیب ہی نہ ہو۔ ورنہ اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو تمام انسان ایمان دار ہوجاتے۔ اگر وہ چاہتا تو سب کو اسی دین پر کار بند کردیتا۔ لوگوں میں اختلاف تو باقی ہی نہ رہے۔ سوائے ان کے جن پر رب کا رحم ہو، انہیں اسی لیے پیدا کیا ہے، تیرے رب کا فرمان حق ہے کہ جہنم انسانوں اور جنوں سے پر ہوگی۔ کیا ایماندار ناامید نہیں ہوگئے ؟ یہ کہ اللہ اگر چاہتا تو تمام لوگوں کو ہدایت کرسکتا تھا۔ یہ تو ناممکن ہے کہ تو ایمان ان کے دلوں کے ساتھ چپکا دے، یہ تیرے اختیار سے باہر ہے۔ ہدایت و ضلالت اللہ کے ہاتھ ہے۔ تو ان پر افسوس اور رنج و غم نہ کر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة یُوْنُس 103 یعنی جس طرح تمام نعمتیں تنہا اللہ کے اختیار میں ہیں اور کوئی شخص کسی نعمت کو بھی اللہ کے اذن کے بغیر نہ خود حاصل کرسکتا ہے نہ کسی دوسرے شخص کو بخش سکتا ہے، اسی طرح یہ نعمت بھی کہ کوئی شخص صاحب ایمان ہو اور راہ راست کی طرف ہدایت پائے اللہ کے اذن پر منحصر ہے۔ کوئی شخص نہ اس نعمت کو اذن الہی کے بغیر خود پاسکتا ہے، اور نہ کسی انسان کے اختیار میں یہ ہے کہ جس کو چاہے یہ نعمت عطا کر دے۔ پس نبی اگر سچے دل سے یہ چاہے بھی کہ لوگوں کو مومن بنا دے تو نہیں بنا سکتا۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کا اذن اور اس کی توفیق درکار ہے۔ سورة یُوْنُس 104 ”سیدھی راہ“ یعنی وہ راہ جس سے انسان بامراد ہوتا اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 99–100

خلاصہ تفسیر اور (ان اقوام و قرٰی کی کیا تخصیص ہے) اگر آپ کا رب چاہتا تو تمام روئے زمین کے لوگ سب کے سب ایمان لے آتے (مگر بعض حکمتوں کی وجہ سے یہ نہ چاہا اس لئے سب ایمان نہیں لائے) سو (جب یہ بات ہے تو) کیا آپ لوگوں پر زبردستی کرسکتے ہیں جس میں وہ ایمان ہی لے آئیں حالانکہ کسی شخص کا ایمان لانا بدون خدا کے حکم (یعنی مشیت) کے ممکن نہیں اور اللہ تعالیٰ بےعقل لوگوں پر (کفر کی) گندگی واقع کردیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 99–100

99۔ 100:۔ وَلَوْ شَاۗءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا ۭ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ۔ وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَي الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ۔ پیغمبر ﷺ کو تسلی۔ ولوشاء ربک۔۔۔ الایۃ۔ یہ بھی پیغمبر ﷺ کو تسلی ہے کہ لوگوں کے ایمان نہ لانے سے تم پریشان نہ ہو، اللہ تعالیٰ کو لوگوں کا ایمان لانا بہت پسند ہے بشرطیکہ لوگ اپنی عقل اور اپنے ضمیر کی رہنمائی میں ایمان لائیں۔ اس معاملے میں اس نے جبر کو پسند نہیں فرمایا ہے۔ اگر وہ جبر کو پسند فرماتا تو سارے ہی لوگوں کو مومن بنا دیتا لیکن اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 100–101

10۔ 1 گندگی سے مراد عذاب یا کفر ہے۔ یعنی جو لوگ اللہ کی آیات پر غور نہیں کرتے، وہ کفر میں مبتلا رہتے ہیں اور یوں عذاب کے مستحق قرار پاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

41: اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر کائنات میں کچھ نہیں ہوسکتا۔ لہذا اس کے بغیر کسی کا ایمان لانا بھی ممکن نہیں، لیکن جو شخص اپنی سمجھ اور اختیار کو صحیح استعمال کر کے ایمان لانا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے ایمان کی توفیق دے دیتا ہے، اور جو شخص عقل اور اختیار کو صحیح استعمال کر کے ایمان لانا چاہتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے ایمان کی توفیق دے دیتا ہے، اور جو شخص عقل اور اختیار سے کام نہ لے، اس پر کفر کی گندگی مسلط ہوجاتی ہے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وما کان لنفس ان تؤمن الا باذن اللہ کسی شخص میں یہ طاقت نہیں کہ اللہ کے ارادہ و توفیق کے بغیر ایمان لا سکے۔ ویجعل الرجس علی الذین لا یعقلون۔ اور اللہ گندگی ان لوگوں پر ڈالتا ہے جو سمجھتے نہیں۔ رجس سے مراد ہے عذاب یا اللہ کی مدد سے محرومی ‘ کیونکہ یہ محرومی ہی عذاب کا سبب ہے۔ نہ سمجھنے سے مراد ہے حق و باطل میں تمیز نہ کرنا ‘ یعنی کافروں کے دلوں پر چونکہ مہر لگی ہوئی ہے اور اللہ نہیں چاہتا کہ وہ حق و باطل میں امتیاز کرسکیں ‘ اسلئے ان کو حق کا باطل سے امتیاز نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 خدا کی مشیت و توفیق اور حکم تکوینی کے بدون کوئی ایمان نہیں لاسکتا۔ اور یہ حکم و توفیق ان ہی کے حق میں ہوتی ہے جو خدا کے نشانات میں غور کریں اور عقل و فہم سے کام لیں۔ جو لوگ سوچنے سمجھنے کی تکلیف گوارا نہیں کرتے انھیں خدا تعالیٰ کفر و شرک کی گندگی میں پڑا رہنے دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 99–100

آیت 99 وَلَوْ شَآءَ رَبُّکَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ کُلُّہُمْ جَمِیْعًا یہ مضمون سورة الانعام میں بڑے شد ومد کے ساتھ آچکا ہے۔ حضور کی شدید خواہش تھی کہ یہ سب لوگ ایمان لے آئیں مگر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس سلسلے میں ہمارا اپنا قانون ہے اور وہ یہ کہ جو حق کا طالب ہوگا اسے حق مل جائے گا اور جو تعصب ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آئے گا اسے ہدایت نصیب نہیں ہوگی۔ اگر لوگوں کو مسلمان بنانا ہی مقصود ہوتا تو اللہ کے لیے یہ کون سا مشکل کام تھا۔ وہ سب کو پیدا ہی ایسے کرتا کہ سب مؤمن متقی اور پرہیزگار ہوتے۔ آخر اس نے فرشتے بھی تو پیدا کیے ہیں جو کبھی غلطی کرتے ہیں نہ اس کی معصیت۔ جیسا کہ سورة التحریم…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

108 اللہ کے اذن کا مفہوم :۔ یعنی اللہ کی توفیق اور منظوری کے بغیر کسی کو ایمان کی نعمت نصیب نہیں ہوتی اور یہ توفیق صرف اس شخص کو نصیب ہوتی ہے جو حق کی تلاش میں اپنی عقل سے کام لے اور اسے حق کی تلاش کی فکر دامن گیر ہو۔ اور وہ ہر طرح کے تعصبات اور خارجی نظریات سے ذہن کو پاک کرکے اللہ کی آیات میں خالی الذہن ہو کر غور و فکر کرے اور جو شخص اس انداز سے حق کا متلاشی ہو تو اللہ تعالیٰ یقیناً اسے حق کی راہ دکھا دیتا ہے اور ایمان لانے کی توفیق بھی بخشتا ہے اور اسی کا نام اللہ کا اذن ہے لیکن جو شخص آبائی تقلید، مذہبی تعصبات اور خارجی نظریات سے بالا تر ہو کر کچھ سوچنے کی زحمت ہی گوارا نہ کرے اسے اللہ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

150۔ اذن آیت میں مشیت وتوفیق کے معنی میں ہے۔ اے بمشیتہ اوبقضاۂ اوبتوفیقہ (مدارک) الابقضاۂ وقدرہ ومشیئتہ وارادتہ (قرطبی) 151۔ یعنی اس کی مشیت صرف انہی لوگوں کے ایمان لانے سے غیر متعلق رہتی ہے، جو اپنی عقل وفہم کی آیتوں نے بار بار اسی حقیقت کو صاف کردیا ہے کہ کسی کے ایمان وہدایت کی راہ میں اصلا رکاوٹ حق تعالیٰ کی طرف سے ہرگز نہیں ہوتی صرف انسان کی اپنی کج نظری اور بدنفسی کی طرف سے ہوتی ہے۔ (آیت) ” الرجس “۔ (یعنی کفر وبدعقیدگی کی گندگی) رجس یہاں ایمان کے مقابلہ میں آیا ہے اس لئے اس کے معنی کفر کے ہیں۔ الرجس الذی یقابل الایمان لیس الا الکفر (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 93–103

آیت نمبر 93 تا 103 ترجمہ : اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانہ دیا اور وہ شام اور مصر تھا، اور ہم نے ان کو پاکیزہ چیزیں کھانے کو دیں، پھر انہوں نے اختلاف نہیں کیا مگر اس وقت جبکہ علم ان کے پاس آچکا بایں طور کہ بعض لوگ ایمان لائے اور بعض نے انکار کیا، یقیناً تیرا رب قیامت کے دن ان کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کر دے گا جس امر دین میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں مومنین کو نجات دے کر اور کافروں کو عذاب دیکر، پس اے محمد ! بالفرض اگر تم ان قصوں کے بارے میں جو ہم نے تمہاری طرف نازل کئے ہیں، شک میں ہو تو ان لوگوں سے پوچھ دیکھئے جو تم سے پہلی کتاب تورات کو پڑھتے ہیں اس لئے کہ وہ نازل کردہ (واقعات) ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما کان لنفس ان تؤمن الا باذن اللہ کسی شخص میں یہ طاقت نہیں کہ اللہ کے ارادہ و توفیق کے بغیر ایمان لاسکے۔ ویجعل الرجس علی الذین لا یعقلون۔ اور اللہ گندگی ان لوگوں پر ڈالتا ہے جو سمجھتے نہیں۔ رجس سے مراد ہے عذاب یا اللہ کی مدد سے محرومی ‘ کیونکہ یہ محرومی ہی عذاب کا سبب ہے۔ نہ سمجھنے سے مراد ہے حق و باطل میں تمیز نہ کرنا ‘ یعنی کافروں کے دلوں پر چونکہ مہر لگی ہوئی ہے اور اللہ نہیں چاہتا کہ وہ حق و باطل میں امتیاز کرسکیں ‘ اسلئے ان کو حق کا باطل سے امتیاز نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(100) حالانکہ کہ کسی کافر کا ایمان لانا بغیر مشیت خداوندی اور اس کی توفیق کے ممکن نہیں اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں میں جو توحید خداوندی کو نہیں سمجھتے، کفر اور تکذیب کی گندگی کو بھردیتا ہے۔ یہ آیت ابوطالب کے بارے میں اتری ہے رسول اکرم ﷺ ان کے ایمان لانے کے متمنی اور خواہش مند تھے مگر مشیت خداوندی ان کے ایمان لانے کے بارے میں نہ ہوئی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ : یعنی جس طرح تکوینی طور پر دنیا کی کوئی نعمت کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی، یعنی دنیا کی نعمتوں میں بھی اگرچہ آدمی کی محنت کا دخل ہے، مگر اللہ کے اذن کے بغیر کوئی محنت نہ ہوسکتی ہے اور نہ نتیجہ خیز ہوسکتی ہے۔ اسی طرح کسی شخص کو ایمان کی نعمت حاصل ہونے یا نہ ہونے کا انحصار بھی اللہ کے اذن پر ہے۔ کوئی شخص اس نعمت کو نہ خود پاسکتا ہے اور نہ کسی دوسرے کو عطا کرسکتا ہے، اس لیے اگر نبی چاہے بھی کہ تمام لوگوں کو مومن بنا دے تو نہیں بنا سکتا۔ نبی ﷺ کے چچا ابوطالب، نوح ؑ کا بیٹا اور نوح اور لوط ؑ کی بیویاں اس کی مثال…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 100۔ قولہ تعالیٰ : (آیت) وماکان لنفس ان توء من الا باذن اللہ اس میں مانافیہ ہے، یعنی یہ مناسب نہیں کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی قضا وقدر اور اس کی مشیت و ارادہ کے بغیر ایمان لاسکے۔ (آیت) ویجعل الرجس حسن، ابوبکر اور مفضل نے ونجعل تعظیم کے لیے نون کے ساتھ پڑھا ہے اور الرجس کا معنی عذاب ہے۔ را کے ضمہ اور اس کے کسرہ کے ساتھ اس کی دو لغتیں ہیں۔ علی الذین لایعقلون یعنی ان لوگوں پر جو اللہ تعالیٰ کے امر ونہی کو نہیں سمجھتے۔ (2) (تفسیر بغوی، جلد 2، صفحہ 370)

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 100–106

1:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ’ ’ ویجعل الرجس “ میں جس سے مراد ہے غصہ۔ 2:۔ ابوالشیخ (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا (آیت) ” ویجعل الرجس “ میں ” الرجس “ سے مراد ہے شیطان یا رجس سے مراد ہے عذاب۔ 3:۔ ابو الشیخ (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما تغنی الایت ولنذر عن قوم “ میں قوم کی بجائے ” عن قوم لا یومنون “ سے مگر (اس حکم کو) اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” حکمۃ بالغۃ فما تغن النذر “ (5) ۔ نے منسوخ کردیا (یہ حک ہے کہ ان کو ڈرانا فائدہ نہیں دیتا جو (اللہ کے علم میں) ایمان نہیں لائیں گے۔ 4:۔ ابن جریر وابن ابی حاتم وابوالشیخ رحمہم اللہ نے قتادہ ؓ سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَا كَانَ [ اور (ممکن ) نہیں ہے ] لِنَفْسٍ [ کسی جان کے لئے ] اَنْ [ کہ ] تُؤْمِنَ [ وہ ایمان لائے ] اِلَّا [ مگر ] بِاِذْنِ اللّٰهِ ۭ [ اللہ کی اجازت سے ] وَيَجْعَلُ [ اور وہ ڈالتا ہے ] الرِّجْسَ [ گندگی کو ] عَلَي الَّذِيْنَ [ ان لوگوں پر جو ] لَا يَعْقِلُوْنَ [ عقل نہیں کرتے ] (آیت ۔ 100) تومن واحد مؤنث کا صیغہ ہے اس کی ضمیر فاعلیھی ، نفس کے لئے ہے ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 99–102

اگر اللہ چاہتاتو سب ایمان قبول کرلیتے ! ان آیات میں اول تو یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں مومن بھی رہیں گے۔ کافر بھی رہیں گے۔ اللہ کی حکمت کا یہی تقاضا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو زمین کے بسنے والے سب لوگ ایمان لے آتے۔ جب اللہ کی حکمت اسی میں ہے کہ زمین پر کافر بھی بسیں اور مومن بھی رہیں تو آپ کو اس پر اصرار نہ ہونا چاہئے کہ سب لوگ مومن ہوجائیں۔ کیا آپ زبردستی کر کے لوگوں کو مومن بنائیں گے ؟ ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ زبردستی کر کے لوگوں کو مومن بنالیں۔ جو شخص مومن ہوتا ہے اللہ کے اذن یعنی اس کی مشیت سے مومن ہوتا ہے۔ ہاں یہ بات بھی ہے کہ جو لوگ عقل کو کام میں نہیں لاتے ایمان کی خوبی اور برتری انہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 94–100

اثبات حقانیت قرآن بطرز خاص قال اللہ تعالی۔ فان کنت فی شک مما انزلناالیک۔۔۔ الی۔۔ یروا العذاب الالیم (ربط) انبیاء سابقین کے واقعات بیان کرنے کے بعد قرآن کریم اوردین اسلام کی حقانیت معلوم کرنے کا ایک طریقہ ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر کفار قریش کو اس بارے میں شک ہے تو علماء اہل کتاب سے پوچھ لیں جن کے علم وفضل کا خود ان کو اقرار ہے چناچہ فرماتے ہیں سو اے انسان ! اگر تو اس قرآن کے من جانب اللہ ہونے کی طرف سے شک میں ہے جو ہم نے بواسطہ محمد رسول اللہ ﷺ تیری طرف اتارا ہے تو اس شک کے دفع کرنے کا سہل طریقہ یہ ہے کہ تو ان لوگوں سے پوچھ لے جو تجھ سے پہلے کتاب الہی پڑھتے ہیں یعنی توریت اور انجیل کے عالم ہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

109: اللہ تعالیٰ کے حکم تکوینی اور اس کی مشیت و توفیق کے بغیر کوئی شخص ایمان نہیں لاسکتا اور توفیق صرف انہی لوگوں کو ملتی ہے جو اللہ کی آیتوں میں عقل و فکر سے کام لیں اور ان کے دلوں میں ضد نہ ہو بلکہ انابت اور تلاش حق کا جذبہ ہو۔ “ اَلرِّجْسُ ” شرک کی پلیدی۔ جو لوگ عقل خداداد سے کام نہیں لیتے وہ ہمیشہ شرک کی نجاست سے ملوث رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 99–103

ربط آیات گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے یونس (علیہ السلام) کا حال بیان فرمایا ، نیز آپ کی قوم کی منفرد حیثیت کا تذکرہ فرمایا کہ یہ واھد قوم ہے جس کی توبہ اللہ تعالیٰ نے عذاب کی نشانیان ظاہر ہوجانے کے بعد قبول کی۔ اس سلسلے میں بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ عذاب کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) کی تصدیق کے لیے عذاب کی کچھ علامات ظاہر فرمائی تھیں۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور آپ پر ایمان لانے والوں کو تسلی دی ہے کہ لوگوں کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے آپ دل برداشتہ نہ ہوں کیوں کہ ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اور آپ کسی کو ایمان لانے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِـاِذْنِ اللہِ۝ 0 ۭ وَيَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَي الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ۝ 100 نفس الَّنْفُس : الرُّوحُ في قوله تعالی: أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] قال : وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] ، وقوله : تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ [ المائدة/ 116] ، وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، وهذا۔ وإن کان قد حَصَلَ من حَيْثُ اللَّفْظُ مضافٌ ومضافٌ إليه يقتضي المغایرةَ ، وإثباتَ شيئين من حيث العبارةُ- فلا شيءَ من حيث المعنی سِوَاهُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 98–103

حضرت یونس (علیہ السلام) کے واقعہ کی طرف بڑے عبرت آمیز الفاظ میں اشارہ کرتا ہے فلولا کانت قریۃ آمنت فنفعہا ایمانہا الخ لولا کو بعض نے کلمہ نفی سمجھا ہے۔ امام واحد کا اسی طرف رجحان ہے۔ ان کے نزدیک یہ معنی ہوئے فما کانت قریۃً آمنت فنفعہا ایمانہا الا قوم یونس کہ ان گمراہ بستیوں میں سے کوئی بھی ایسی بستی نہیں ہوئی کہ جو ایمان لاتی اور ان کا ایمان نفع دیتا بجز قوم یونس کے یہ استثنیٰ منقطع ہے۔ ادل سے بعض علماء اس کو کلمہ تحریص و تخصیص کہتے ہیں بمعنی ہلاان کے نزدیک یہ معنی ہوئے کہ کوئی ایسی بستی بھی ہوتی کہ جو ایمان لاتی اور اس کا ایمان نفع دیتا مگر قوم یونس کہ وہ ایمان لائی۔ یونس بن متی (علیہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 99–100

وَلَوْ شَآئَ رَبُّکَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ کُلُّہُمْ جَمِیْعاً ط اَفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ۔ وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلاَّ بِاِذْنِ اللّٰہِط وَیَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یَعْقِلُوْنَ ۔ (یونس : 99، 100) (اور اگر تیرا رب چاہتا تو زمین پر جتنے لوگ ہیں سب ایمان لے آتے تو کیا آپ لوگوں کو مجبور کریں گے کہ وہ مومن بن جائیں۔ اور کسی شخص کے لیے ممکن نہیں کہ وہ ایمان لاسکے مگر اللہ کے اذن سے۔ (اور اللہ کا طریقہ یہ ہے) کہ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ ان پر گندگی ڈال دیا کرتا ہے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو تسلی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 99–100

فہم القرآن ربط کلام : کیونکہ حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم عذاب دیکھ کر سچا ایمان لائی اور توبہ کی اس لیے مناسب سمجھا گیا کہ وضاحت کردی جائے کہ اللہ تعالیٰ جبراً کسی کو ایمان لانے پر مجبور نہیں کرتا۔ جس طرح کہ پہلی آیات کی تفسیر میں عرض کیا گیا ہے۔ کہ حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب بھیجنے کے باوجود اس لیے انہیں معاف کردیا گیا کہ ابھی پوری طرح ان پر اتمام حجت نہیں ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اللہ کے حضور عجزو عاجزی کی ایک نئی مثال قائم کی تھی جس بنا پر ان پر آیا ہوا عذاب ٹال دیا گیا۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنے والے کو یہ خیال آسکتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ہر دور کے مجرموں کو راہ راست…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

100: وَمَاکَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنَ اللّٰہِ ( کسی نفس کیلئے مناسب نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر وہ ایمان لائے) اذن سے یہاں۔ نمبر 1۔ مشیّت مراد ہے یا نمبر 2۔ قضاء و قدر مراد ہے۔ یا نمبر 3 توفیق و تسہیل مراد ہے۔ یا نمبر 4۔ علم مراد ہے۔ وَیَجْعَلُ الرِّجْسَ ( اور عذاب کو مقرر کرے) یعنی عذاب یا ناراضی یا شیطان یعنی شیطان کو مسلط کر دے۔ عَلَی الَّذِیْنَ لَایَعْقِلُوْنَ (ان لوگوں پر جو بےعقل ہیں) اپنی عقلوں سے فائدہ حاصل نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

100۔” وما کان لنفس “ کسی نفس کیلئے مناسب نہیں ہے اور بعض نے کہا نہیں ہے کوئی نفس ” ان تومن الا باذن اللہ “ ابن عباس ؓ عنہمافرماتے ہیں کہ اللہ کے حکم کے ساتھ اور عطاء (رح) فرماتے ہیں اللہ کی مشیت کے ساتھ اور بعض نے کہا اللہ کے علم کے ساتھ ’ ویجعل الرجس “ ابوبکر (رح) نے نجعل نون کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے یاء کے ساتھ ۔ ” الرجس “ بمعنی عذاب ” علی الذین لا یعقلون “ اللہ کا حکم اور نہی ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 99–100

99۔ 100۔ حضرت ﷺ کو اس بات کی حرص تھی کہ سارے لوگ مسلمان ہوجاویں اس پر اللہ جل شانہ نے فرمایا کہ کیا تم زبردستی لوگوں کو مومن بنانا چاہتے ہو تمہیں یہ نہیں معلوم کہ بغیر حکم خدا کے کوئی ایمان نہیں لاسکتا یہ بات غیر ممکن ہے کہ سب کے سب مومن ہوجائیں یہ خدا کی مشیت کے خلاف ہے اگر خدا چاہتا تو سارے جہاں کو مومن بنا دیتا مگر اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہے جن لوگوں میں عقبیٰ کی بہبودی کے سمجھنے کا مادہ نہیں ہے خدا کی دلیلوں میں حجت نکالتے ہیں وہ کیوں کر ایمان لاسکتے ہیں۔ صحیح مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی یہ حدیث اوپر گزر چکی ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے جو کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 99–100

آیت : (99-100) اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ سے فرماتا ہے : (ولو شاء ربک لا من من فی الارض کلھم جمیعا) ” اگر آپ کا رب چاہتا تو زمین میں رہنے والے سب کے سب ایمان لے آتے “ یعنی ان کے دلوں میں ایمان الہام کردیتا اور ان کے دلوں کو تقویٰ کے لئے درست کردیتا۔ اللہ تعالیٰ ایسا کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے مگر اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ ان میں سے بعض لوگ ایمان لائیں اور بعض لوگ کافر رہیں۔ (افانت تکرہ الناس حتی یکونوا مومنین) ” کیا آپ لوگوں پر زبردستی کریں گے ‘ یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں “ یعنی آپ اس پر قدرت رکھتے ہیں نہ آپ کے بس میں ہے اور نہ یہ چیز غیر اللہ کے اختیار اور قدرت میں ہے۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 89–109

قول باری ہے قد اجیبت دعوتکما تم دونوں کی دعا قبول کی گئی ۔ دعا کی نسبت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) دونوں کی طرف سے کی گئی ہے ۔ ابو العالیہ ، عکرمہ ، محمد بن کعب اور ربیع بن موسیٰ کا قول ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) دعا مانگتے اور حضرت ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے، اس بنا پر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو دعا مانگنے والے قرار دیا ۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ آمین بھی دعا ہے اور جب اس کا دعا ہونا ثابت ہوگیا تو پھر اس کا اخفاء اس کے جہر سے افضل ہوگا اس لیے کہ قول باری ہے ادعوا ربکم تضرعا ً و خفیۃ ۔ اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے پکارو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

170 ۔ گمراہ لوگوں کی گمراہی کی ذمہ داری خود انہی پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ گندگی ڈال دیتا ہے ان لوگوں پر جو عقل سے کام نہیں لیتے اور وہ صحیح طور پر سوچ و بچار نہیں کرتے جس سے وہ نور حق و ہدایت سے اور بھی دور اور محروم ہوتے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ اندھے اور اوندھے ہو کر رہ جاتے ہیں۔ سو گمراہوں کی گمراہی کی ذمہ داری خود انہی پر ہوتی ہے۔ سو اس سے غور و فکر کی عظمت و اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔ پس جو لوگ اپنی عقل سے صحیح کام نہیں لیتے وہ بڑے خسارے میں ہیں کہ وہ اللہ پاک کے قائم فرمودہ دلائل وبراہین میں غور و فکر نہیں کرتے تاکہ نور حق و ہدایت سے بہرہ ور و سرشار ہوسکیں۔ انہوں نے اس کے برعکس نور عقل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 99–109

رسول کا کام صرف سمجھانا ہے تشریح : ان آیات میں سب سے پہلے تو نبی اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ اس بات سے آگاہ کرتا ہے کہ آپ ﷺ کی یہ خواہش کہ سب لوگ ہی ایمان لے آئیں یہ پوری نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ اگر چاہتے تو یہ کر بھی سکتے تھے مگر یہ بات اللہ کی مشیت کے خلاف ہے۔ آپ ﷺ اللہ کے سچے، اتنہائی مخلص اور فرمانبردار بندے تھے مگر تھے تو انسان ہی۔ انہوں نے اپنے کام کو جو اللہ نے ان کے سپرد کیا تھا، یعنی نبوت اور تبلیغ کا تو اس کام میں انہوں نے اتنی مصیبتیں، دکھ، پریشانیاں اور مشقتیں برداشت کیں کہ انسان حیران ہوجاتا ہے مگر آپ ﷺ کو اپنے رب سے اور اس کے دیے ہوئے کام (نبوت) سے اس قدر پیار اور محبت تھی کہ وہ ہر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 93–103

آیات 93 تا 103 اسرار و معارف پھر ان نعمتوں کا تذکرہ جو بنی اسرائیل کو عطاہوئیں کہ بظاہرفرعون اور اس کی ساری حکومت انھیں رسوا کرنے پہ کمرباندھے ہوئے تھی کوئی ظاہری سبب ان کی نجات کا نہ تھا کہ انھوں نے اللہ پر بھر وسہ کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی پیروی میں نکل کھڑے ہوئے تو فرعون اور اس کا لشکرتباہ ہوگئے اور نبی اسرائیل کو وہ خوبصورت اور سرسبز و شاداب وادی جو انبیائے سابقین کا مسکن بھی تھی اور دنیاوی ودینی اعتبار سے ان کی پسنددیدہ بھی تھی یعنی اردن و فلسطین کی ارض مقدسہ عطاہوئی اور سلطنت مصر بھی انہی کو مل گئی اور بہترین نعمتیں بھی بطور رزق نصیب ہوئیں۔ آباد گھر تنومنداولاداچھی بیویاں شاداب…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 9 ۔ یعنی جس طرح تکوینی طور پر دنیا کی کوئی نعمت کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی اسی طرح کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی اسی طرح کسی شخص کو ایمان کی نعمت حاصل ہونے یا نہ ہونے کا انحصار بھی اللہ تعالیٰ کے اذن پر ہے۔ کوئی شخص اس نعمت کو نہ خود پاسکتا ہے اور نہ کسی دوسرے کو عطا کرسکتا ہے۔ اس لئے اگر نبی چاہے بھی کہ تمام لوگوں کو مومن بنا دے تو نہیں بناسکتا۔ اس سے مقصود بھی آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا ہے (شوکانی) 10 ۔ یعنی اگرچہ ایمان کی توفیق دینے نہ دینے کا کلی اختیار اللہ تعالیٰ ہی کو ہے مگر اس کا قاعدہ یہ ہے اس نعمت سے وہ انہی لوگوں کو محروم رکھتا ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(10:100) یجعل الرجس۔ الرجس کے اصل معنی ناپاک، نجس، پلید اور گندہ کے ہیں۔ جیسے اولحم خنزیر فانہ رجس (16:45) یا سور کا گوشت کہ یہ چیزیں بیشک ناپاک ہیں :۔ ویجعل الرجس علی الذین لایعقلون ۔ اور خدا (شرک وکفر کی) نجاست انہیں لوگوں پر ڈالتا ہے جو (دلائل وحدانیت میں) عقل کو کام میں نہیں لاتے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 98–103

لغات القرآن آیت نمبر 98 تا 103 قریۃ (بستی ، آبادی) کشفنا (ہم نے کھول دیا، ہٹا دیا ) الخزی (رسوائی) متعنا (ہم نے سامان دیا) حین (زمانہ، مدت) تکرہ (تو زبردستی کرے گا) یجعل (وہ بناتا ہے، ڈالتا ہے) الرجس (گندگی) لایعقلون (سمجھ نہیں رکھتے ہیں انظروا (تم دیکھو ) ماتغنی (کام نہیں آئی) النذر (ڈرانا، دھمکانا) ینتظرون (وہ انتظار کر رہے ہیں تشریح : آیت نمبر 98 تا 103 اللہ تعالیٰ نے انسان کو خشکی اور تری میں برتری اور اس کائنات کی ہر مخلوق سے زیادہ عظمت عطا فرمائی ہے لیکن اس کی بنیادی کمزوری یہ ہے کہ وہ دنیا کے معاملات میں الجھ کر اس قدر غافل ہوجاتا ہے کہ اس کو آخرت کی یاد ہی نہیں آتی اور بھول کر وہ اپنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 99–100

آنحضرت ﷺ کو اس بات کی خوہش تھی کہ سارے لوگ مسلمان ہوجاویں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن لوگوں میں عقبیٰ کی ببہودی کے سمجھنے کا مادہ نہیں ہے خدا کی دلیلوں میں حجت نکالتے ہیں وہ کیونکر ایمان لاسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 98–109

[42] مفسرین نے عذاب ٹل جانے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ یونس (علیہ السلام) اپنی نافرمان قوم کو عذاب کی اطلاع دینے کے بعد اللہ کی اجازت کے بغیر بستی سے چلے گئے تھے۔ اس لئے جب آثار عذاب ظاہر ہونا شروع ہوئے تو پوری قوم نے اللہ تعالیٰ کے روبرو گریہ زاری شروع کی اور ایمان لے آئی لہذا عذاب ہٹا لیا گیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 100–105

(ف 2) مشیت واذن الہی کے دو معنے ہیں ایک کا تعلق تکوین سے ہے ایک کا تشریع سے ، اللہ کے نزدیک پسندیدہ تو یہی ہے کہ سب لوگ ایمان لے آئیں ، مگر تکوین میں اس نے اختلاف رائے کو باقی رکھا ہے تاکہ حق و باطل میں امتیاز قائم رہے ۔ اسی طرح اگر ” الا باذن اللہ “ سے مقصود یہ ہے کہ ایمان کے لئے جہاں تک آسانیوں اور توفیق وتسہیل کا تعلق ہے وہ اللہ کی تکوین کا نتیجہ ہے ، اس لئے وہ شخص جو ان وسائل ہدایت سے محروم ہے ، ہدایت قبول نہیں کرسکتا ، غرض یہ ہے کہ آپ ان لوگوں کی گمراہی پر غم نہ کریں اختلاف رائے مشیت ایزدی ہے ، یہ باقی رہے گا البتہ تلقین و دعوت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے ۔ حل لغات : کشفنا : کھول دیا یعنی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

100 حالانکہ کسی شخص کو بغیر حکم خداوندی اور اس کی مشیت کے ایمان لانا ممکن نہیں اور اللہ تعالیٰ ان ہی لوگوں پر کفر کی گندگی واقع کردیتا ہے اور ان ہی کو کفر کی گندگی میں مبتلا رکھتا ہے جو عقل سے سوچنے سمجھنے کا کام نہیں لیتے یعنی جب تک کسی کے ایمان سے مشیت متعلق نہ ہو ایمان نصیب نہیں ہوتا اور وہی لوگ محروم رہتے ہیں جو بےعقل ہیں اور عقل سے کام نہیں لیتے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

عقل سے کام نہ لینے والوں کو اللہ تعالیٰ گندگی ہی میں چھوڑ دیتا ہے 136 ؎ مشیت الٰہی صرف انہی لوگوں کے ایمان لانے سے غیر متعلق رہتی ہے جو اپنی خداداد عقل و فہم سے کام نہیں لیتے اور حق کے قبول و اتباع کا قصد ہی نہیں کرتے اس قسم کی آیتوں نے بار بار اس حقیقت کو صاف کیا ہے کہ کسی کے ایمان و ہدایت کی راہ میں اضلا ً رکاوٹ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہرگز نہیں ہوتی صرف انسان کی اپنی ہی کج نظری اور بد نفسی کی طرف سے ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شرف ایمان سے فقط وہی مشرف ہو سکتا ہے جس کی یاوری توفیق الٰہی کرے اور بلا وجہ لوگوں کو نعمت ایمان سے محروم نہیں کردیا جاتا اور بلا سبب ان پر کرو خذلان کی ذلت تھوپ نہیں دی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 98–109

In the seventh verse (98), the heedless deniers of truth have been admonished for their failure to make the optimum use of the time of life allowed to them. There was still time for them to leave denial and contumacy. Otherwise, an ominous time was due to come when they will make Taubah but their Taubah will not be accepted. They will say that they believed but their belief will not be welcome. And that time will be the time when the punishment of the Hereafter will appear right before their eyes at the time of death. It was in this connection that an event relating to Sayyidna Yunus (علیہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

103. All God's bounties are solely at His disposal and one can neither have access to any of these without His leave, nor can one confer them on others. The bounty of having faith and being directed to the right path is also fully contingent upon God's leave. Hence, it is simply inconceivable that without God's leave anyone can attain this bounty or confer it on anyone else. Even if the Prophet (peace be on him) sincerely wants people to believe, it does not lie in his power to accomplish that without God's leave and succour. 104. This fully explains that God's leave and succour are not…

Read the full tafseer →