ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو دوڑتے ہوئے نہ آؤ، بلکہ اطمینان سے چل کر آؤ، امام کے ساتھ جتنی نماز ملے پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائے اسے پوری کرلو ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "When the lqamah is called for the prayer, do not come running. Come walking, with tranquility. Whatever you catch up with, pray, and whatever you miss, complete it." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: امام ترمذی نے کہا: علماء نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے، بعضوں نے کہا: جب تکبیر اولیٰ چھوٹ جانے کا ڈر ہو تو جلد چلے، اور بعضوں سے دوڑنا بھی منقول ہے، اور بعضوں نے جلدی چلنا، اور دوڑنا دونوں کو مکروہ کہا ہے، اور کہا ہے کہ سہولت اور اطمینان سے چلنا چاہیے، امام احمد اور اسحاق کا یہی قول ہے، اور یہی صحیح ہے، اور اس حدیث میں ایسا ہی حکم ہے دوڑنے اور جلدی کرنے میں سوائے پریشانی کے کوئی فائدہ نہیں۔
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس سے اللہ گناہوں کو معاف کرتا اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے؟ ، صحابہ کرام ؓ نے کہا: جی ہاں، ضرور بتائیے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: دشواری و ناپسندیدگی کے باوجود پورا وضو کرنا، مسجدوں کی جانب دور سے چل کر جانا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Saeed Al-Khudri that he heard the Messenger of Allah ﷺ say: Shall I not tell you of something by means of which Allah expiates for sins and increases good deeds? They said: Yes, a Messenger of Allah. He said: Performing ablution properly despite difficulties, increasing the number of steps one takes towards the Masjid and waiting for the next prayer after prayer. (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: وضو کا پورا کرنا یہ ہے کہ سب اعضاء کو پانی پہنچائے کوئی مقام سوکھا نہ رہے، اور آداب و سنن کے ساتھ وضو کرے، اور مسجدوں کی جانب دور سے چل کر جانے کا یہ مطلب ہے کہ مسجد مکان سے دور ہو اور جماعت کے لئے وہاں جائے، جتنی مسجد زیادہ دور ہوگی اتنے ہی قدم زیادہ اٹھانے پڑیں گے، اور ہر قدم پر ثواب ملتا رہے گا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں مسجد میں بیٹھا رہنا بڑا ثواب ہے، دوسری حدیث میں ہے کہ انتظار میں برابر نماز کا ثواب ملتا رہے گا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٠٤٦، ومصباح الزجاجة: ٢٩٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣، ١٦، ٩٥) (حسن صحیح )
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو خوشی ہو کہ وہ کل اللہ تعالیٰ سے اسلام کی حالت میں ملاقات کرے تو جب اور جہاں اذان دی جائے ان پانچوں نمازوں کی پابندی کرے، کیونکہ یہ ہدایت کی راہیں ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کے لیے ہدایت کے راستے مقرر کئے ہیں، قسم ہے اگر تم میں سے ہر ایک اپنے گھر میں نماز پڑھ لے، تو تم نے اپنے نبی کا راستہ چھوڑ دیا، اور جب تم نے اپنے نبی کا راستہ چھوڑ دیا تو گمراہ ہوگئے، ہم یقینی طور پر دیکھتے تھے کہ نماز سے پیچھے صرف وہی رہتا جو کھلا منافق ہوتا، اور واقعی طور پر (عہد نبوی ﷺ میں) ایک شخص دو آدمیوں پر ٹیک دے کر مسجد میں لایا جاتا، اور وہ صف میں شامل ہوتا، اور جو شخص اچھی طرح وضو کرے اور مسجد کا ارادہ کر کے نکلے، پھر اس حالت میں نماز پڑھے، تو وہ جو قدم بھی چلے گا ہر قدم پر اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا، اور ایک گناہ مٹا دے گا ١ ؎۔
It was narrated that Abdullah said: "Whoever would like to meet Allah tomorrow (i.e. on the Day of Judgment) as a Muslim, let him preserve these five (daily) prayer when the call for them is given, for they are part of the ways of guidance, and Allah prescribed the ways of guidance to your Prophet ﷺ . By Allah, if each of you prays in his house, you will have abandoned the Sunnah of your Prophet ﷺ , and if you abandon the Sunnah of your Prophet ﷺ you will go astray. I remember when no one stayed behind from the prayer except a hypocrite who was known for his hypocrisy. I have seen a man coming supported by two others, unti I he joined the row (of worshippers). There is no man who purifies himself and does it well, and comes to the Masjid and prays there, but for every step that he takes, Allah raises him in status one degree thereby, and takes away one of his sins." (Hasan)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے صاف طور پر ثابت ہوتا ہے کہ نماز باجماعت فرض ہے، جمہور علماء اس کو سنت مؤکدہ کہتے ہیں، ابن مسعود ؓ نے اس کے چھوڑ دینے کو گمراہی قرار دیا، ابوداود کی روایت میں ہے کہ تم کافر ہوجاؤ گے، تارک جماعت کو منافق بتلایا اگر وہ اس کا عادی ہے، ورنہ ایک یا دو بار کے ترک سے آدمی منافق نہیں ہوتا، ہاں نفاق پیدا ہوتا ہے، کبھی کبھی مسلمان بھی جماعت سے پیچھے رہ جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٩٤٩٥)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ٤٤ (٦٥٤)، سنن ابی داود/الصلاة ٤٧ (٥٥٠)، سنن النسائی/الإمامة ٥٠ (٨٥٠)، مسند احمد (١/٣٨٢، ٤١٤، ٤١٥) (صحیح) (سند میں ابراہیم بن مسلم لین الحدیث ہیں، اور صحیح مسلم میں ولعمری کے بغیر یہ حدیث ہے، نیز ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: ٥٥٩، والإرواء: ٤٨٨ )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے گھر سے نماز کے لیے نکلے اور یہ دعا پڑھے: اللهم إني أسألک بحق السائلين عليك وأسألک بحق ممشاي هذا فإني لم أخرج أشرا ولا بطرا ولا رياء ولا سمعة وخرجت اتقاء سخطک وابتغاء مرضاتک فأسألك أن تعيذني من النار وأن تغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت اے اللہ! میں تجھ سے اس حق ١ ؎ کی وجہ سے مانگتا ہوں جو مانگنے والوں کا تجھ پر ہے، اور اپنے اس چلنے کے حق کی وجہ سے، کیونکہ میں غرور، تکبر، ریا اور شہرت کی نیت سے نہیں نکلا، بلکہ تیرے غصے سے بچنے اور تیری رضا چاہنے کے لیے نکلا، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے جہنم سے پناہ دیدے، اور میرے گناہوں کو معاف کر دے، اس لیے کہ گناہوں کو تیرے علاوہ کوئی نہیں معاف کرسکتا تو اللہ تعالیٰ اس کی جانب متوجہ ہوگا، اور ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کریں گے ۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khud ri said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Whoever leaves his house for the if the prayer and says: (O Allah, I ask You by the right that those who ask of You have over You, and I ask You by virtue of this walking of mine, fori am not going out because of pride or vanity, or to show off or make a reputation, rather I am going out because I fear Your wrath and seek Your pleasure. So I ask You to protect me from the Fire and to forgive me my sins, for no one can forgive sins except You), Allah will tum His Face towards him and seventy thousand angels will pray for his forgiveness." (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: اگرچہ اللہ تعالیٰ پر کسی کا کوئی ایسا حق لازم نہیں ہے جس کا کرنا اس کو ضروری ہو کیونکہ وہ ہمارا مالک و مختار ہے جو چاہے سو کرے، اس سے کسی کی مجال نہیں کہ کچھ پوچھ بھی سکے، پر ہمارے مالک نے اپنی عنایت اور فضل سے بندوں کے حق اپنے ذمے لئے ہیں، جن کو وہ ضرور پورا کرے گا، اس لئے کہ وہ سچا ہے، اس کا وعدہ بھی سچا ہے، اہل سنت کا یہی مذہب ہے۔ معتزلہ اپنی گمراہی سے یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر نیک بندوں کو جنت میں لے جانا، اور بروں کو سزا دینا واجب ہے اور ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا وعدہ کیا ہے، لیکن واجب اس پر کچھ نہیں ہے، نہ کسی کا کوئی زور بھی اس پر چل سکتا ہے، نہ کسی کی مجال ہے کہ اس کے سامنے کوئی ذرا بھی چون وچرا کرسکے، اگر وہ چاہے تو دم بھر میں سب بدکاروں اور کافروں اور منافقوں کو بخش دے، اور ان کو جنت میں لے جائے، اور جتنے نیک اور عابد اور متقی بندے ہیں، ان سب کو جہنم میں ڈال دے، غرض یہ سب کچھ اس کی قدرت کے لحاظ سے ممکن ہے، اور اس کو ایسا اختیار ہے، اگرچہ ایسا ظہور میں نہ آئے گا، کیونکہ اس کا وعدہ سچا ہے، اور اس نے وعدہ کیا ہے کہ نیک بندوں کو میں جنت میں لے جاؤں گا، اور کافروں کو جہنم میں، ایسا ہی ہوگا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٢٣٢، ومصباح الزجاجة: ٢٩٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٢١) (ضعیف) (سند میں عطیہ العوفی، فضیل بن مرزوق اور فضل بن موفق سب ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: ا لضعیفہ: ٢٤ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تاریکیوں میں مسجدوں کی جانب چل کر جانے والے ہی (قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ کی رحمت میں غوطہٰ مارنے والے ہیں ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Those who walk to the Masjid in the dark are those who are diving into the mercy of Allah:" (Daif)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٢٥٥٥، ومصباح الزجاجة: ٢٩٤) (ضعیف) (اس حدیث کی سند میں ابو رافع اسماعیل بن رافع ضعیف ہیں، نیز ولید بن مسلم مدلس ہیں، اور یہاں عنعنہ سے روایت کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفہ: ٢٠٥٩ )
سہل بن سعد ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تاریکیوں میں (نماز کے لیے) چل کر جانے والے خوش ہوجائیں کہ ان کے لیے قیامت کے دن کامل نور ہوگا ۔
It was narrated that Sahl bin Sad As,Saidi said: "The Messenger of Allah ﷺ said: Give glad tidings, to those who walk to the Masjids in the dark, of perfect light on the Day of Resurrection: " (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٦٧٦، ومصباح الزجاجة: ٢٩٥) (صحیح) (طرق و شواہد کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، ورنہ ابراہیم الحلبی صدوق ہیں، لیکن غلطیاں کرتے ہیں، اور یحییٰ شیرازی مقبول ہیں، عراقی نے اسے حسن غریب کہا ہے، نیز حاکم نے اس کی تصحیح کی ہے، اور ذہبی نے موافقت کی ہے، (مستدرک الحاکم ١ / ٢١٢)، اور ابن خزیمہ نے بھی تصحیح کی ہے، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: ٥٦٤ ، و صحیح ابی داود: ٥٧٠ )
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تاریکیوں میں مسجدوں کی جانب چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن کامل نور کی بشارت سنا دو ۔
It was narrated that Anas bin Malik (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: "Give glad tidings, to those who walk to the Masjids in the dark, of perfect light on the "Day of Resurrection:" (Hasan)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٤٠١، ومصباح الزجاجة: ٢٩٦) (صحیح) (سند میں سلیمان بن داود الصائغ ضعیف ہیں، لیکن دوسری سند سے یہ صحیح ہے، تراجع الألبانی: رقم: ٥٦٤ ، نیز بوصیری نے دس شاہد کا ذکر لیا ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسجد میں جو جتنا ہی دور سے آتا ہے، اس کو اتنا ہی زیادہ اجر ملتا ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The greater the distance from the Masjid, the greater the reward:" (Hasan)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٤٩ (٥٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٥٩٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣٥١، ٤٢٨) (صحیح )
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایک انصاری شخص کا مکان انتہائی دوری پر تھا، اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس کی کوئی نماز نہیں چھوٹتی تھی، مجھے اس کی یہ مشقت دیکھ کر اس پر رحم آیا، اور میں نے اس سے کہا: اے ابوفلاں! اگر تم ایک گدھا خرید لیتے جو تمہیں گرم ریت پہ چلنے، پتھروں کی ٹھوکر اور زمین کے کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رکھتا (تو اچھا ہوتا) ! اس انصاری نے کہا: اللہ کی قسم میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر محمد ﷺ کے گھر کے کسی گوشے سے ملا ہو، اس کی یہ بات مجھے بہت ہی گراں گزری ١ ؎ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے اس کو بلایا اور اس سے پوچھا، تو اس نے آپ کے سامنے بھی وہی بات کہی، اور کہا کہ مجھے نشانات قدم پر ثواب ملنے کی امید ہے، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس ثواب کی تم امید رکھتے ہو وہ تمہیں ملے گا ۔
It was narrated that Ubayy bin Kab said: "There was a man among the Ansar whose house was the furthest house in AIMadinah,yet he never missed prayer with the Messenger of Allah ﷺ , I felt sorry for him and said: O so-and-so, why do you not buy a donkey to spare Yourself the heat of the scorching sand , to carry you over the stony ground, and keep you away from the vermin on the ground? He said: By Allah! I do not want to ve so close to Muhammad ﷺ This troubled me until I came to the house of the Prophet ﷺ and mentioned that to him. He called (the man) and asked him, and he said something similar, and said that he was hoping for the reward for his steps. The Messenger of Allah ﷺ said, You will have that (reward) that you sought."(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کہ یہ کیسا مسلمان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس رہنا پسند نہیں کرتا ہے۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے پرانے گھروں کو جو مسجد نبوی سے فاصلہ پر تھے چھوڑ کر مسجد نبوی کے قریب آ رہیں، تو نبی اکرم ﷺ نے مدینہ کی ویرانی کو مناسب نہ سمجھا، اور فرمایا: بنو سلمہ! کیا تم اپنے نشانات قدم میں ثواب کی نیت نہیں رکھتے؟ ، یہ سنا تو وہ وہیں رہے جہاں تھے۔
It was narrated that Anas said: "Banu Salimah wanted to move from their homes to somewhere near the Masjid, but the Prophet ﷺ did not want the outskirts of Al-Madinah to be left vacant, so he said: O Banu salimah, do you not hope for the reward of your footsteps? So they stayed (where they were)." (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦٥٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٣٣ (٦٥٥)، مسند احمد (٣/١٠٦، ١٨٢، ٢٦٣) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ انصار کے مکانات مسجد نبوی سے کافی دور تھے، ان لوگوں نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب آجائیں تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: ونکتب ما قدموا وآثارهم ہم ان کے کئے ہوئے اعمال اور نشانات قدم لکھیں گے (يسين: 12) تو وہ اپنے مکانوں میں رک گئے ١ ؎۔
it was narrated that Ibn Abbas said: "The houses of the Ansar were far from the Masjid and they wanted to move closer. Then the following Verse was revealed: We record that which they send before (them), and their traees.He said: So they remained (where they were)." (Hasan)
Notes · وضاحت
ا ؎: ان حدیثوں کے خلاف وہ حدیث نہیں ہے کہ گھر کی نحوست یہ ہے کہ وہاں اذان سنائی نہ دے، کیونکہ یہ نحوست اس وجہ سے ہے کہ اکثر ایسے گھر میں رہنے سے جماعت چھوٹ جاتی ہے، نماز کا وقت معلوم نہیں ہوتا، اور ان حدیثوں میں اس شخص کی فضیلت ہے جو دور سے مسجد آئے، اور جماعت میں شریک ہو، اور ابن کثیر نے تصریح کی ہے کہ جو گھر مسجد سے زیادہ دور ہو وہی افضل ہے، امام مسلم نے جابر ؓ سے روایت کی ہے کہ ہمارے گھر مسجد سے زیادہ دور تھے ہم نے چاہا کہ ان کو بیچ ڈالیں اور مسجد کے قریب آ رہیں تو نبی اکرم ﷺ نے ہم کو منع کیا، اور فرمایا: تم کو ہر قدم پر ایک درجہ ملے گا، اور امام احمد نے روایت کی ہے کہ مسجد سے دور جو گھر ہو اس کی فضیلت مسجد سے قریب والے گھر پر ایسی ہے جیسے سوار کی فضیلت بیٹھے ہوئے شخص پر۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٦١٢٧، ومصباح الزجاجة: ٢٩٧) (صحیح) (سماک کی عکرمہ سے روایت میں اضطراب ہے، لیکن دوسرے طریق سے یہ صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا گھر میں یا بازار میں تنہا نماز پڑھنے سے بیس سے زیادہ درجہ افضل ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: A mans prayer in congregation is twenty-some levels higher than his prayer in his house or in the marketplace. " (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ جب ہے کہ گھر میں وہ اکیلے نماز ادا کرے، اسی طرح بازار میں، دوسری روایت میں ستائیس درجے زیادہ کا ذکر ہے۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جماعت کی فضیلت تم میں سے کسی کے اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس درجہ زیادہ ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The prayer in congregation is twenty-five times more virtuous than the prayer of anyone of you on his own," (Sahih)
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٣١١٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٦٤، ٣٩٦)، سنن الدارمی/الصلاة ٥٦ (١٣١٢) (صحیح )
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا گھر میں تنہا نماز پڑھنے سے پچیس درجہ افضل ہے ۔
It was narrated that Abu Saeed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The prayer of a man in congregation is twenty-five levels higher than his prayer in his home. (Sahih)
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٤٩ (٥٦٠)، (تحفة الأشراف: ٤١٥٧)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٣٠ (٦٤٧)، مسند احمد (٣/٥٥) (صحیح )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کا جماعت کی نماز تنہا پڑھی گئی نماز پر ستائیس درجہ فضیلت رکھتی ہے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The prayer of a man in congregation is twentyseven levels more virtuous than a mans prayer on his own.(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے پہلی والی حدیث میں نماز باجماعت کی فضیلت ( ٢٥ ) گنا کا ذکر ہے اور اس حدیث میں ( ٢٧ ) گنا فضیلت بتائی گئی ہے، اس کی توجیہ علماء نے یہ کی ہے کہ یہ فضیلت رسول اللہ ﷺ کو پہلے ( ٢٥ ) گنا بتلائی گئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مزید اضافہ فرما کر اسے ( ٢٧ ) گنا کردیا، اور بعض نے کہا کہ یہ کمی بیشی نماز میں خشوع و خضوع اور اس کے سنن و آداب کی حفاظت کے اعتبار سے ہوتی ہے۔
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کا جماعت کی نماز تنہا پڑھی ہوئی نماز پر چوبیس یا پچیس درجہ فضیلت رکھتی ہے ۔
It was narrated that Ubayy bin Kab said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The prayer of a man in congregation is higher than his prayer on his own by twenty-four or twenty-five levels." (Hasan)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرا پختہ ارادہ ہوا کہ نماز پڑھنے کا حکم دوں اور اس کے لیے اقامت کہی جائے، پھر ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، اور میں کچھ ایسے لوگوں کو جن کے ساتھ لکڑیوں کا گٹھر ہو، لے کر ان لوگوں کے پاس جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے ہیں، اور ان کے ساتھ ان کے گھروں کو آگ لگا دوں ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: I was thinking of commanding that the call to prayer be given, then I would tell a man to lead the people in prayer, then I would go out with some other men carrying bundles of wood, and go to people who do not attend the prayer, and burn their houses down around them. (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: ابن القیم کہتے ہیں: ظاہر ہے کہ گھر کا جلانا صغیرہ گناہ پر نہیں ہوتا، تو جماعت کا ترک کرنا کبیرہ گناہ ہے، اور نبی اکرم ﷺ نے شروع سے اپنی وفات تک جماعت پر مواظبت فرمائی، اور جس نے اذان سنی گرچہ وہ اندھا ہو اس کو جماعت کے ترک کی اجازت نہ دی۔
عبداللہ ابن ام مکتوم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے کہا: میں بوڑھا اور نابینا ہوں، میرا گھر دور ہے اور مجھے مسجد تک لانے والا میرے مناسب حال کوئی آدمی بھی نہیں ہے، تو کیا آپ میرے لیے (جماعت سے غیر حاضری کی) کوئی رخصت پاتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم اذان سنتے ہو؟ ، میں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہارے لیے کوئی رخصت نہیں پاتا ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umm Maktum said: "I said to the Prophet ﷺ I am an old man and " blind; my house is far away, and have no one to lead me. Is there any concession (for me not to have to attend the prayer in the Masjid)? He said: Can you hear " the call? I said: Yes. He said: Then I do not find any concession for you. (Daif)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے جماعت کی بڑی اہمیت و تاکید ثابت ہوتی ہے، اور نبی اکرم ﷺ نے عبداللہ ابن ام مکتوم ؓ کو جماعت سے غیر حاضر رہنے کی اجازت نہ دی، حالانکہ وہ اندھے تھے، اور انہوں نے کہا کہ میرے پاس کوئی آدمی بھی نہیں ہے جو مجھ کو پکڑ کر لائے، کیونکہ ان کا گھر مسجد سے بہت دور نہ تھا، وہ اذان کی آواز سنتے تھے اور بغیر آدمی کے آسکتے تھے، اور بعضوں نے کہا: حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمہارے لیے جماعت کا ترک جائز نہیں کیونکہ اندھا ہونا جماعت سے معافی کے لئے قوی عذر ہے، اور آپ ﷺ نے عتبان بن مالک ؓ کی جماعت ان کے اندھے ہونے کی وجہ سے معاف کی، بلکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے لئے ایسی رخصت نہیں پاتا کہ تم جماعت میں حاضر نہ ہو، اور جماعت کا ثواب نہ پاؤ، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الصلاة ٤٧ (٥٥٢)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٨٨)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الإمامة ٥٠ (٨٥٢)، مسند احمد (٣/٤٢٣) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے اذان سنی لیکن مسجد میں نہیں آیا تو اس کی نماز نہیں ہوگی، الا یہ کہ کوئی عذر ہو ۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet ﷺ said: "Whoever hears the call and does not come, his prayer is not valid, except for those who have an excuse." (Sahih)
عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر ؓ خبر دیتے ہیں کہ ان دونوں نے نبی اکرم ﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: لوگ نماز باجماعت چھوڑنے سے ضرور باز آجائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا، پھر ان کا شمار غافلوں میں ہونے لگے گا ١ ؎۔
Ibn Abbas and Ibn Umar narrated that they heard the Prophet ﷺ say on his pulpit: "People should desist from failing to attend the congrega tions, otherwise Allah will seal their hearts, and then they will be among the negligent." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایمان کا نور ان کے دلوں سے جاتا رہے گا، اور عبادت کی لذت اور حلاوت ان کو حاصل نہ ہوگی، یا عبادت کا اثر ان کے دلوں پر نہ ہوگا، اور دل میں غفلت اور تاریکی بھر جائے گی، یہ فرمودہ آپ ﷺ کا مجرب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجمعة ١٢ (٨٦٥)، سنن النسائی/الجمعة ٢ (١٣٧١)، (تحفة الأشراف: ٦٦٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٣٩، ٢٥٤، ٣٣٥، ٢/٨٤)، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠٥ (١٦١١) (صحیح) (صحیح مسلم میں یہ حدیث ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے، اور اس میں الجمعات ہے، جس کو البانی صاحب نے محفوظ بتایا ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی: ٢٩٦٧ )