باجماعت نماز کی فضیلت
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ فِي بَيْتِهِ، وَصَلَاتِهِ فِي سُوقِهِ بِضْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً.
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا گھر میں یا بازار میں تنہا نماز پڑھنے سے بیس سے زیادہ درجہ افضل ہے ١ ؎۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ said: A mans prayer in congregation is twenty-some levels higher than his prayer in his house or in the marketplace. " (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ جب ہے کہ گھر میں وہ اکیلے نماز ادا کرے، اسی طرح بازار میں، دوسری روایت میں ستائیس درجے زیادہ کا ذکر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٨٧ (٤٧٧)، الأذان ٣٠ (٦٤٧)، ٣١ (٦٤٨)، البیوع ٤٩ (٢١١٩)، صحیح مسلم/المساجد ٤٢ (٦٤٩)، ٤٩ (٦٤٩)، سنن ابی داود/الصلاة ٤٩ (٥٥٩)، (تحفة الأشراف: ١٢٥٠٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة ٤٧ (٢١٥)، سنن النسائی/الإمامة ٤٢ (٨٣٨)، موطا امام مالک/الجماعة ١ (٢)، مسند احمد (٢/٢٥٢، ٢٦٤، ٢٦٦، ٢٧٣، ٣٢٨، ٣٩٦، ٤٥٤، ٤٧٣، ٤٧٥، ٤٨٥، ٤٨٦، ٥٢٠، ٥٢٥، ٥٢٩)، سنن الدارمی/الصلاة ٥٦ (١٣١٢) (صحیح )