باجماعت نماز کی فضیلت
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ رُسْتَةُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَفْضُلُ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً.
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی کا جماعت کی نماز تنہا پڑھی گئی نماز پر ستائیس درجہ فضیلت رکھتی ہے ١ ؎۔
It was narrated that Ibn Umar said: "The Messenger of Allah ﷺ said: The prayer of a man in congregation is twentyseven levels more virtuous than a mans prayer on his own.(Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے پہلی والی حدیث میں نماز باجماعت کی فضیلت ( ٢٥ ) گنا کا ذکر ہے اور اس حدیث میں ( ٢٧ ) گنا فضیلت بتائی گئی ہے، اس کی توجیہ علماء نے یہ کی ہے کہ یہ فضیلت رسول اللہ ﷺ کو پہلے ( ٢٥ ) گنا بتلائی گئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مزید اضافہ فرما کر اسے ( ٢٧ ) گنا کردیا، اور بعض نے کہا کہ یہ کمی بیشی نماز میں خشوع و خضوع اور اس کے سنن و آداب کی حفاظت کے اعتبار سے ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/المساجد ٤٢ (٦٥)، (تحفة الأشراف: ٨١٨٤)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان ٣٠ (٦٤٥)، ٣١ (٦٤٩)، سنن الترمذی/الصلاة ٤٧ (٢١٥)، سنن النسائی/الامامة ٤٢ (٨٣٦)، موطا امام مالک/الجماعة ١ (١)، مسند احمد (٢/١٧، ٦٥، ١٠٢، ١١٢)، سنن الدارمی/الصلاة ٥٦ (١٣١٣) (صحیح )