عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اندھا دھند فساد (بلوہ) میں یا تعصب کی وجہ سے پتھر، کوڑے یا ڈنڈے سے مار دیا جائے، تو قاتل پر قتل خطا کی دیت لازم ہوگی، اور اگر قصداً مارا جائے، تو اس میں قصاص ہے، جو شخص قصاص یا دیت میں حائل ہو تو اس پر لعنت اللہ کی ہے، اس کے فرشتوں کی، اور سب لوگوں کی، اس کا نہ فرض قبول ہوگا نہ نفل ١ ؎۔
It was narrated from Ibn Abbas, who attributed it to the Prophet: "Whoever kills out of folly or for tribal motives, using a rock, a whip, or a stick; he must pay the blood money for killing by mistake. Whoever kills deliberately, he is to be killed in retaliation. Whoever tries to prevent that, upon him is the curse of Allah, the angels and all the people, and no change or equitable exchange will be accepted from him.”
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی حکم ہے ہر اس شخص کا جو انصاف اور شرع کی بات سے روکے اور اس میں خلل ڈالے، وہ ملعون ہے، اس کا نماز روزہ سب بےفائدہ ہے، اور اندھا دھند فساد کا مطلب یہ ہے کہ اس کا قاتل معلوم نہ ہو یا قتل کی کوئی وجہ نہ ہو یا کوئی اپنے لوگوں کی طرفداری کرتا ہو تو اس میں مارا جائے، یہ عصبیت ہے، تعصب بھی اسی سے نکلا ہے، مطلب یہ ہے کہ ہتھیار سے عمداً نہ مارا جائے بلکہ چھوٹے پتھر یا چھڑی یا کوڑے سے مارا جائے تو اس میں دیت ہوگی قصاص نہ ہوگا جیسے اوپر گزرا۔
جاریہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کی کلائی پر تلوار ماری جس سے وہ کٹ گئی، لیکن جوڑ پر سے نہیں، پھر زخمی شخص نے رسول اللہ ﷺ سے فریاد کی، تو آپ ﷺ نے اس کے لیے دیت (خون بہا) دینے کا حکم فرمایا، وہ بولا: اللہ کے رسول! میں قصاص لینا چاہتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: دیت لے لو، اللہ تعالیٰ تمہارے لیے اس میں برکت دے، اور اس کے لیے قصاص کا فیصلہ نہیں فرمایا ۔
Nimran bin Jariyah narrated from his father that a man struck another man on the wrist with his sword and severed it, not at the joint. He appealed the Prophet ﷺ who ordered that the Diyah be paid. The man said: "O Messenger of Allah, I want retaliation." He said: "Take the compensation and may Allah bless you therein." And he did not rule that he be allowed retaliation.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٣١٨٠، ومصباح الزجاجة: ٩٣٠) (ضعیف) (سند میں دھثم بن قرّان الیمامی متروک ہے، نیز ملاحظہ ہو: الإ رواء: ٢٢٣٥ )
عباس بن عبدالمطلب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو زخم دماغ یا پیٹ تک پہنچ جائے، یا ہڈی ٹوٹ کر اپنی جگہ سے ہٹ جائے، تو اس میں قصاص نہ ہوگا ١ ؎۔
It was narrated from Abbas bin "Abdul-Muttalib that the Messenger of Allah ﷺ said: "There is no retaliation for a head wound that does not reach the brain, a spear wound that does not penetrate deeply, or a wound that dislocates a bone.”
Notes · وضاحت
١ ؎: جن زخموں کی دیت میں برابری ہو سکے ان میں قصاص کا حکم دیا جائے گا، مثلاً کوئی عضو جوڑ سے کاٹ ڈالے تو کاٹنے والے کا بھی وہی عضو جوڑ پر سے کاٹا جائے گا، اور جن زخموں میں برابری نہ ہو سکے تو ان میں قصاص کا حکم نہ ہوگا بلکہ دیت دلائی جائے گی۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوجہم بن حذیفہ ؓ کو مصدق (عامل صدقہ) بنا کر بھیجا، زکاۃ کے سلسلے میں ان کا ایک شخص سے جھگڑا ہوگیا، ابوجہم ؓ نے اسے مارا تو اس کا سر پھٹ گیا، وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور قصاص کا مطالبہ کرنے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا تم اتنا اتنا مال لے لو ، وہ راضی نہیں ہوئے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: اچھا اتنا اتنا مال (اور) لے لو ، تو وہ راضی ہوگئے، آپ ﷺ نے فرمایا: میں لوگوں کے سامنے خطبہ دوں، اور تم لوگوں کی رضا مندی کی خبر سناؤں؟ کہنے لگے: ٹھیک ہے، پھر نبی اکرم ﷺ نے خطبہ دیا اور فرمایا: یہ لیث کے لوگ میرے پاس آئے اور قصاص لینا چاہتے تھے، میں نے ان سے اتنا اتنا مال لینے کی پیشکش کی اور پوچھا: کیا وہ اس پر راضی ہیں ؟ کہنے لگے: نہیں، (ان کے اس رویہ پر) مہاجرین نے ان کو مارنے پیٹنے کا ارادہ کیا، آپ ﷺ نے انہیں باز رہنے کو کہا، تو وہ رک گئے، پھر آپ ﷺ نے ان کو بلایا اور کچھ اضافہ کردیا، اور پوچھا: کیا اب راضی ہیں ؟ انہوں نے اقرار کیا، آپ ﷺ نے پھر فرمایا: کیا میں خطبہ دوں اور لوگوں کو تمہاری رضا مندی کی اطلاع دے دوں ؟ جواب دیا: ٹھیک ہے، آپ ﷺ نے خطبہ دیا، اور پھر کہا: تم راضی ہو ؟ جواب دیا: جی ہاں ١ ؎۔ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے محمد بن یحییٰ کو کہتے سنا کہ معمر اس حدیث کو روایت کرنے میں منفرد ہیں، میں نہیں جانتا کہ ان کے علاوہ کسی اور نے بھی یہ حدیث روایت کی ہے۔
It was narrated from Aisha (RA) that the Messenger of Allah ﷺ sent Abu Jahm bin Hudhaifah to collect Sadaqah. A man disputed with him concerning his Sadaqah, and Abu Jahm struck him and wounded his head. They came to the Prophet ﷺ and said: "Compensatory money, O Messenger of Allah! ﷺ " The Prophet ﷺ said: "You will have such and such," but they did not accept that. He said: "You will have such and such," and they agreed. Then the Prophet ﷺ said: "I am going to address the people and tell them that you agreed.” They said "Yes." So the Prophet ﷺ They addressed (the people) and said: "These people of Laith came to me seeking the compensatory money and I have offered them such and such. Do you agree?” they said: "No". The Emigrant wanted to attack them, but the Prophet ﷺ told them not to, so they refrained. Then he called them and offered them more and said:” Do you agree?" They said: “Yes.” He said: "I am going to address the people and tell them that you agreed." They said; "Yes." So the Prophet ﷺ addressed (the people) and said: "Do you agree?" They said: “Yes.” Ibn Majah said: I heard Muhammad bin Yahya saying: Mamar alone has narrated this Hadith. I dont know anyone else that has narrated it."
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ خطبہ میں ان کی رضا مندی کی بات اس لئے کہتے تھے تاکہ لوگ گواہ ہوجائیں اور پھر وہ اپنے اقرار سے مکر نہ سکیں چونکہ آپ کو ان کی صداقت پر بھروسہ نہ تھا، اور ایسا ہوا بھی، پہلی بار راضی ہو کر گئے، مگر خطبہ کے وقت کہنے لگے کہ ہم راضی نہیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الدیات ١٣ (٤٥٣٤)، سنن النسائی/القسامة ٢٠ (٤٧٨٢)، (تحفة الأشراف: ١٦٦٣٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٢٣٢) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جنین (پیٹ کے بچے کی دیت) میں ایک غلام یا ایک لونڈی کا فیصلہ فرمایا، تو جس کے خلاف فیصلہ ہوا وہ بولا: کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے نہ پیا ہو نہ کھایا ہو، نہ چیخا ہو نہ چلایا ہو، ایسے کی دیت کو تو لغو مانا جائے گا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ تو شاعروں جیسی بات کرتا ہے؟ پیٹ کے بچہ میں ایک غلام یا لونڈی (دیت) ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah (RA) said: "The Messenger of Allah ﷺ ruled concerning a fetus that (the blood money) was a slave, male or female. The one against whom this verdict was passed said: Should we pay blood money for one who neither ate, drank, shouted, nor cried (at the moment of birth)? One such as this should be overlooked: The Messenger of Allah ﷺ said: This man speaks like a poet. (But the blood money for a fetus is) a slave, male or female.’”
مسور بن مخرمہ ؓ کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے لوگوں سے پیٹ سے گر جانے والے بچے کے بارے میں مشورہ لیا، تو مغیرہ بن شعبہ ؓ نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا، آپ ﷺ نے اس میں ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ فرمایا تو عمر ؓ نے کہا: اپنی اس بات کے لیے گواہ لاؤ، تو محمد بن مسلمہ ؓ نے ان کے ساتھ گواہی دی ١ ؎۔
It was narrated that Miswar bin Makhramah said: "Umar bin Khattab consulted the people concerning a woman who had been caused to miscarry. Al- Mughirah bin Shubah said: “I saw the Messenger of Allah ﷺ rule that a slave male or female, be given as blood money (for a fetus): Umar said: Bring me someone who will testify alongside you. So he brought Muhammad bin Maslamah to testify alongside It was narrated from Umar bin Khattab that he asked the people about the ruling of the Prophet ﷺ concerning that - concerning a fetus. Hamal bin Malik bin Nabighah stood up and said: “I was between my two wives and one of them struck the other with a tent-pole, killing her and her fetus. The Messenger of Allah ﷺ ruled that the blood money for the fetus was a slave and that she should be killed in retaliation.”
Notes · وضاحت
١ ؎: عمر ؓ نے مزید توثیق کے لئے گواہ طلب کیا تھا ورنہ مغیرہ بن شعبہ ؓ سچے صحابی رسول تھے، اور خبر واحد حجت ہے جب وہ ثقہ ہو۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے جنین (پیٹ کے بچے) کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان تلاش کیا، تو حمل بن مالک ؓ نے کھڑے ہو کر کہا: میری دو بیویاں تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کی لکڑی سے مارا جس سے وہ اور اس کے پیٹ میں جو بچہ تھا دونوں مرگئے، پھر آپ ﷺ نے جنین (پیٹ کے بچہ) میں ایک غلام یا ایک لونڈی دینے کا، اور عورت کو عورت کے قصاص میں قتل کا فیصلہ فرمایا ١ ؎۔
It was narrated from Umar bin Khattab that he asked the people about the ruling of the Prophet ﷺ concerning that concerning a fetus. Hamal bin Malik bin Nabighah stood up and said: "I was between my two wives and one of them struck the other with a tent-pole, killing her and her fetus. The Messenger of Allah ﷺ ruled that the blood money for the fetus was a slaver and that she should be killed in retaliation." (Sahih)
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ جرم دو تھے ایک عورت کا قتل، دوسرا بچہ کا، ہر ایک کی سزا الگ الگ دلائی۔
سعید بن المسیب سے روایت ہے کہ عمر ؓ کہتے تھے کہ دیت (خون بہا) قاتل کے خاندان والوں کے ذمہ ہے، اور عورت کو اپنے شوہر کی دیت میں سے کچھ نہیں ملے گا، یہاں تک کہ ضحاک بن سفیان نے ان کو لکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اشیم ضبابی ؓ کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت میں سے ترکہ دلایا ١ ؎۔
It was narrated from Saeed bin Musayyab that Umar used to say: "The blood money is for the near male relatives from the fathers side and the wife does not inherit anything from the blood money of her husband," until Ad-Dahhak bin Sufyan wrote to him, and told him that the Prophet ﷺ ruled that the wife of Ashyam bin Dibabi should inherit from the blood money of her husband.
Notes · وضاحت
١ ؎: پہلے عمر ؓ کی رائے حدیث کے خلاف تھی، جب حدیث پہنچی تو اسی وقت اپنی رائے سے رجوع کرلیا، یہی حال تمام صحابہ کرام ؓ، تابعین، تبع تابعین اور تمام علمائے صالحین کا تھا، لیکن اس زمانہ میں بعض نام کے مسلمان ایسے نکلے ہیں کہ اگر ایک حدیث نہیں دس صحیح حدیثیں بھی ان کو پہنچاؤ تب بھی قیاس اور رائے کی تقلید نہیں چھوڑتے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/الفرائض ١٨ (٢٩٢٧)، سنن الترمذی/الدیات ١٩ (١٤١٥)، الفرائض ١٨ (٢١١٠)، (تحفة الأشراف: ٤٩٧٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العقول ١٧ (١٠)، مسند احمد (٣/٤٥٢) (صحیح )
عبادہ بن صامت ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حمل بن مالک ہذلی لحیانی ؓ کو ان کی بیوی کی دیت میں سے میراث دلائی جس کو ان کی دوسری بیوی نے قتل کردیا تھا۔
It was narrated from Ubadahh bin Samit that the Prophet ﷺ ruled that Hamal bin Malik Hudhali Al-Lihyani should inherit from his wife who was killed by his other wife.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٥٠٦٤، ومصباح الزجاجة: ٩٣٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٧٩) (صحیح) (اسحاق بن یحییٰ مجہول ہے، اور عبادہ ؓ سے ان کی ملاقات بھی نہیں ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا: دونوں اہل کتاب کی دیت مسلمان کی دیت کے مقابلہ میں آدھی ہے، اور دونوں اہل کتاب سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں ١ ؎۔
It was narrated from Amr bin Shuaib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ ruled that the blood money for the People of the Book is half of that of the blood money for the Muslims, and they are the Jews and Christians.
Notes · وضاحت
١ ؎: سنن ابی داود میں ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں دیت کی قیمت آٹھ سو دینار تھی اور آٹھ ہزار درہم، اور اہل کتاب کی دیت مسلمانوں کے نصف تھی، جب عمر ؓ کا زمانہ آیا تو انہوں نے مسلمان کی دیت کو بڑھا دیا اور کافر کی دیت وہی رہنے دی۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قاتل وارث نہیں ہوگا ١ ؎۔
It was narrated from Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: "The killer does not inherit."
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس کے جرم کی سزا ہے، اکثر لوگ اپنے مورث کو ترکہ پر قبضہ کرنے کے لیے مار ڈالتے ہیں، تو شریعت نے قاتل کو ترکہ ہی سے محروم کردیا تاکہ کوئی ایسا جرم نہ کرے۔
عمرو بن شعیب کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی مدلج کے ابوقتادہ نامی شخص نے اپنے بیٹے کو مار ڈالا جس پر عمر ؓ نے اس سے دیت کے سو اونٹ لیے: تیس حقے، تیس جذعے، اور چالیس حاملہ اونٹنیاں، پھر فرمایا: مقتول کا بھائی کہاں ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: قاتل کے لیے کوئی میراث نہیں ١ ؎۔
It was narrated from Amr bin Shuaib that Abu Qatadah, a man from Banu Mudlij, killed his son, and Umar took one hundred camels from him, thirty Hiqqah, thirty Jadhaah and forty Khalifah. Then he said: "Where is the brother of the slain? I heard the Messenger of Allah ﷺ say: The killer does not inherit.
Notes · وضاحت
١ ؎: حقہ: ایسی اونٹنی جو تین سال پورے کر کے چوتھے میں لگ جائے۔ جذعہ: ایسی اونٹنی جو چار سال پورے کر کے پانچویں میں لگ جائے۔ مقتول کا بھائی کہاں ہے؟ یعنی مقتول کے بھائی کو سارا مال دلا دیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ١٥٦٥٤، ومصباح الزجاجة: ٩٣٤)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٤٩)، موطا امام مالک/العقول ١٧ (١٠) (صحیح) (شواہد کی وجہ سے یہ صحیح ہے )
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورت پر واجب دیت کو اس کے عصبہ (باپ کے رشتہ دار) ادا کریں گے، لیکن اس عورت کی میراث سے انہیں وہی حصہ ملے گا جو ورثاء سے بچ جائے گا، اگر عورت قتل کردی جائے، تو اس کی دیت اس کے ورثاء کے درمیان تقسیم ہوگی، اور وہی اس کے قاتل کو قتل کریں گے ۔
It was narrated from Amr bin Shu aib, from his father, that his grandfather said: "The Messenger of Allah ﷺ ruled that a womans blood money (if she kills someone) should be paid by her male relatives on her fathers side, whoever they are and they should not inherit anything from her except what is left over after her heirs have taken their shares. If she is killed then her blood money is to be shared among her heirs since they are the ones who may kill the one who killed her.”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأ شراف: ٨٧١٥، )، وقد أخرجہ: سنن النسائی/القسامة ٣٠ (٤٨٠٩) (حسن )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے عصبہ (باپ کے رشتہ داروں) پر ٹھہرائی تو مقتولہ کے عصبہ نے کہا: اس کی میراث کے حقدار ہم ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: میراث اس کے شوہر اور اس کے لڑکے کو ملے گی ۔
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ ruled that the blood money should be paid by the near male relations from the fathers side of the killer, and the such relatives of the slain woman said: “O Messenger of Allah, her legacy is for us. He said: No, her legacy is for her husband and children.
انس ؓ کہتے ہیں کہ ان کی پھوپھی ربیع بنت نضر ؓ نے ایک لڑکی کے سامنے کا دانت توڑ ڈالا، تو ربیع کے لوگوں نے معافی مانگی، لیکن لڑکی کی جانب کے لوگ معافی پر راضی نہیں ہوئے، پھر انہوں نے دیت کی پیش کش کی، تو انہوں نے دیت لینے سے بھی انکار کردیا، اور نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ نے قصاص کا حکم دیا، تو انس بن نضر ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! کیا ربیع کا دانت توڑا جائے گا؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، ایسا نہیں ہوگا، آپ ﷺ نے فرمایا: اے انس! اللہ کی کتاب قصاص کا حکم دیتی ہے ، پھر لوگ معافی پر راضی ہوگئے، اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ کی قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری کردیتا ہے ۔
It was narrated that Anas said: "Rubai, the paternal aunt of Anas, broke the tooth of a girl and they (her family) asked (the girls family) to let her off, but they refused. They offered to pay compensatory money, but they refused. So they came to the Prophet ﷺ who ordered retaliation. Anas bin Nadr said: O Messenger of Allah, will the tooth of Rubai be broken? By the One who sent you with the Truth, it will not be broken! The Prophet ﷺ said: O Anas, what Allah has decreed is retaliation. So the people accepted that and forgave her. The Messenger of Allah ﷺ said: There are among the slaves of Allah those who, if they swear by Allah, Allah fulfills their oath.
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ربیع بنت نضر کے سگے بھائی اور انس بن مالک کے چچا ہیں ؓ۔
عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (دیت میں) انگلیاں سب برابر ہیں، ہر ایک میں دس دس اونٹ دینے ہوں گے ١ ؎۔
It was narrated from Arm bin Shu aib, from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ said: "The fingers are all the same and (the compensatory money) for each of them is ten camels."
Takhrij · تخریج
تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: ٨٨٠٨)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الدیات ٢٠ (٤٥٥٦)، سنن النسائی/القسامة ٣٨ (٤٨٤٧)، مسند احمد (٢/٢٠٧)، سنن الدارمی/الدیات ١٥ (٢٤١٤) (حسن )