عورت کی دیت اس کے عصبہ پر ہوگی اور اس کی میراث اس کی اولاد کے لئے ہوگی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْجَابِرٍ، قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدِّيَةَ عَلَى عَاقِلَةِ الْقَاتِلَةِ، فَقَالَتْ: عَاقِلَةُ الْمَقْتُولَةِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِيرَاثُهَا لَنَا، قَالَ: لَا مِيرَاثُهَا لِزَوْجِهَا وَوَلَدِهَا.
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے عصبہ (باپ کے رشتہ داروں) پر ٹھہرائی تو مقتولہ کے عصبہ نے کہا: اس کی میراث کے حقدار ہم ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: میراث اس کے شوہر اور اس کے لڑکے کو ملے گی ۔
It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah ﷺ ruled that the blood money should be paid by the near male relations from the fathers side of the killer, and the such relatives of the slain woman said: “O Messenger of Allah, her legacy is for us. He said: No, her legacy is for her husband and children.