فجیع عامری ؓ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور پوچھا: مردار میں سے ہمارے لیے کیا حلال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا کھانا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہم شام کو دودھ پیتے ہیں اور صبح کو دودھ پیتے ہیں۔ ابونعیم کہتے ہیں: عقبہ نے مجھ سے اس کی تفسیر یہ کی کہ صبح کو ایک پیالہ پیتے ہیں اور شام کو ایک پیالہ پیتے ہیں میرا کل یہی کھانا ہے قسم ہے میرے والد کی میں بھوکا رہتا ہوں، تو آپ ﷺ نے ایسی صورت حال میں ان کے لیے مردار کو حلال کردیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: غبوق کے معنی دن کے آخری حصہ کے ہیں اور صبوح کے معنی دن کے شروع حصہ کے ہیں۔
Narrated Al-Faji ibn Abdullah al-Amiri (RA) : Al-Faji came to the Messenger of Allah ﷺ and asked: Is not dead meat lawful for us? He said: What is your food? We said: Some food in the evening and some in the morning. Abu Nuaym said: Uqbah explained it to me saying: a cup (of milk) in the morning and a cup in the evening; this does not satisfy the hunger. So made the carrion lawful for them in this condition. Abu Dawud said: Ghabuq is a drink in the evening and Sabuh is a drink in the morning.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٠٢١) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی عقبہ عامری لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے گندمی رنگ کے گیہوں کی سفید روٹی جو گھی اور دودھ میں چپڑی ہوئی ہو بہت محبوب ہے تو قوم میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اسے بنا کر آپ کی خدمت میں لایا آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کس برتن میں تھا؟ اس نے کہا: سانڈا (سوسمار) کی کھال کے بنے ہوئے ایک برتن میں تھا آپ ﷺ نے فرمایا: پھر تو اسے اٹھا لے جاؤ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اور اس حدیث میں وارد ایوب، ایوب سختیانی نہیں ہیں۔
Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ said: I wish I had a white loaf made from tawny and softened with clarified butter and milk. A man from among the people got up and getting one brought it. He asked: In which had it been? He replied: In a lizard skin. He said: Take it away. Abu Dawud said: This is a munkar (rejected) tradition. Abu Dawud said: Ayyub, the narrator of this tradition, is not (Ayyub) al-Sakhtiyani.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٤٧ (٣٣٤١)، (تحفة الأشراف: ٧٥٥١) (ضعیف) (اس کے راوی ایوب بن خوط متروک الحدیث ہیں )
عطا بن ابی رباح کا بیان ہے کہ جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے الگ رہے یا آپ نے فرمایا: ہماری مسجد سے الگ رہے، اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے اور آپ ﷺ کی خدمت میں ایک طبق لایا گیا جس میں کچھ سبزیاں تھیں، آپ نے اس میں بو محسوس کی تو پوچھا: کس چیز کی سبزی ہے؟ تو اس میں جس چیز کی سبزی تھی آپ کو بتایا گیا، تو اسے آپ ﷺ نے اپنے بعض ساتھیوں کے پاس لے جانے کو کہا جو آپ کے ساتھ تھے تو جب دیکھا کہ یہ لوگ بھی اسے کھانا ناپسند کر رہے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم کھاؤ کیونکہ میں ایسی ذات سے سرگوشی کرتا ہوں جس سے تم نہیں کرتے ۔ احمد بن صالح کہتے ہیں: ابن وہب نے بدر کی تفسیر طبق سے کی ہے۔
Jabir bin Abdullah reported the Messenger of Allah ﷺ as sayings: He who eats garlic or onion must keep away from us. Or he said: must keep away from our mosque or must sit in his house. A dish containing green vegetables was brought to him, and noticing that it had an odour he asked (about it). He was told that it contained some vegetables. He then said: Bring it near, to one of his companion who was with him. When he saw it, he abominated eating it, and said: eat for I hold intimate converse with one with whom you do not. Ahmad bin Salih said: Ibn Wahb explained the word badr as meaning dish.
ابو سعید خدری ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لہسن اور پیاز کا ذکر کیا گیا اور عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ان میں سب سے زیادہ سخت لہسن ہے کیا آپ اسے حرام کرتے ہیں؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اسے کھاؤ اور جو شخص اسے کھائے وہ اس مسجد (مسجد نبوی) میں اس وقت تک نہ آئے جب تک اس کی بو نہ جاتی رہے ۔
Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : The garlic and onions were mentioned before the Messenger of Allah ﷺ . He was told: The most severe of them is garlic. Would you make it unlawful? The Prophet ﷺ said: Eat it, and he who eats it should not come near this mosque until its odour goes away.
Takhrij · تخریج
(تحفة الأشراف: ٤٤٣٨)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد ١٧ (٥٦٦)، مسند احمد (٤/٢٥٢) (صحیح )
حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے قبلہ کی جانب تھوکا تو اس کا تھوک قیامت کے دن اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لگا ہوا آئے گا، اور جس نے ان گندی سبزیوں کو کھایا وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے یہ آپ ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا۔
Narrated Hudhayfah ibn al-Yaman (RA) : Zirr ibn Hubaysh said: Hudhayfah traced, I think, to the Messenger of Allah ﷺ the saying: He who spits in the direction of the qiblah will come on the Day of Resurrection in the state that his saliva will be between his eyes; and he who eats from this noxious vegetable should not come near our mosque, saying it three times.
مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں میں لہسن کھا کر نبی اکرم ﷺ کی مسجد آیا میری ایک رکعت چھوٹ گئی تھی، جب میں مسجد میں داخل ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے لہسن کی بو محسوس کی، تو جب رسول اللہ ﷺ اپنی نماز پوری کرچکے تو فرمایا: جو شخص اس درخت (لہسن) سے کھائے وہ ہمارے قریب نہ آئے یہاں تک کہ اس کی بو جاتی رہے ۔ راوی کو شک ہے آپ نے ريحها کہا یا ريحه کہا، تو جب میں نے نماز پوری کرلی تو نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی آپ اپنا ہاتھ مجھے دیجئیے، وہ کہتے ہیں: میں نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے کرتے کے آستین میں داخل کیا اور سینہ تک لے گیا، تو میرا سینہ بندھا ہوا نکلا آپ نے فرمایا: بلاشبہ تو معذور ہے ١ ؎۔
Narrated Al-Mughirah ibn Shubah (RA) : I ate garlic and came to the place where the Prophet ﷺ was praying; one rakah of prayer had been performed when I joined. When I entered the mosque, the Prophet ﷺ noticed the odour of garlic. When the Messenger of Allah ﷺ finished his prayer, he said: He who eats from this plant should not come near us until its odour has gone away. When I finished the prayer, I came to the Messenger of Allah ﷺ and said: Messenger of Allah, do give me your hand. Then I put his hand in the sleeve of my shirt, carrying it to my chest to show that my chest was fastened with a belt. He said: You have a (valid) excuse.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بھوک کی شدت کی وجہ سے انہوں نے پیٹ پر پتھر باندھ لیا تھا جس کا بندھن سینے تک تھا، اور انہیں کھانے کے لئے لہسن کے سوا کچھ نہیں ملا تھا جسے کھا کر وہ مسجد آئے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١١٥٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٤٩، ٢٥٢) (صحیح) (اس کے راوی ابو ہلال متکلم فیہ ہیں مگر صحیح ابن خزیمہ میں ان کی صحیح متابعت موجود ہے، نمبر ١٦٧٢ )
قرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ان دو درختوں سے منع کیا، اور فرمایا: جو شخص انہیں کھائے وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے اور فرمایا: اگر تمہیں کھانا ضروری ہی ہو تو انہیں پکا کر مار دو ۔ راوی کہتے ہیں: آپ کی مراد پیاز اور لہسن سے تھی۔
Narrated Muawiyah ibn Qurrah (RA) : The Messenger of Allah ﷺ forbade these two plants (i. e. garlic and onions), and he said: He who eats them should not come near our mosque. If it is necessary to eat them, make them dead by cooking, that is, onions and garlic.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبودواد، (تحفة الأشراف: ١١٨٠)، و قد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (٦٦٨١)، مسند احمد (٤/١٩) (صحیح )
علی ؓ کہتے ہیں لہسن کھانے سے منع فرمایا گیا ہے مگر یہ کہ پکا ہوا ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: شریک (جن کا ذکر سند میں آیا ہے) وہ شریک بن حنبل ہیں۔
Narrated Ali ibn Abu Talib: It is forbidden to eat garlic unless it is cooked. Abu Dawud said: The full name of the narrator Sharik is Sharik bin Hanbal.
ابوزیاد خیار بن سلمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین عائشہ ؓ سے پیاز کے متعلق پوچھا کیا تو آپ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے جو آخری کھانا تناول کیا اس میں پیاز تھی۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : Khalid said: Abu Ziyad Khiyar ibn Salamah asked Aisha (RA) about onions. She replied: The last food which the Messenger of Allah ﷺ ate was some which contained onions.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٦٠٦٨)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٨٩) (ضعیف) (اس کے راوی خیار بن سلمہ لین الحدیث ہیں )
یوسف بن عبداللہ بن سلام کہتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ نے جو کی روٹی کا ایک ٹکڑا لیا اور اس پر کھجور رکھا اور فرمایا: یہ اس کا سالن ہے ۔
Narrated Yusuf ibn Abdullah ibn Salam (RA) : I saw that the Prophet ﷺ took a piece of break of barley and put a date on it and said: This is the condiment of this.
Takhrij · تخریج
انظرحدیث رقم: (٣٢٥٩)، (تحفة الأشراف: ١١٨٥٤) (ضعیف) (اس کے راوی یزیدا لاعور مجہول ہیں )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس گھر میں کھجور نہ ہو اس گھر کے لوگ فاقہ سے ہوں گے ١ ؎۔
Aishah reported the Prophet ﷺ as saying: A family which has no dates will be hungry.
Notes · وضاحت
١ ؎: اس لئے کہ اس وقت کھجور ہی عربوں کی اصل خوراک تھی، اگر گھر اس سے خالی ہو تو ظاہر ہے گھر والوں کو بھوکا رہنا پڑے گا۔ طیبی کہتے ہیں: شاید اس سے مقصود قنات کی ترغیب ہے یعنی جو اس پر قناعت کرلے وہ بھوکا نہیں رہ سکتا، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مقصود کھجور کی فضیلت ظاہر کرنی ہے، نئی تحقیقات سے کھجور کی افادیت اور اہمیت واضح ہے۔
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس کھجور لایا جاتا جس میں کیڑے (سرسریاں) ہوتے، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی۔
Narrated Abdullah ibn Abu Talhah (RA) : The Prophet ﷺ was brought some dates which contained worms. He then mentioned the rest of the tradition to the same effect as the previous (No 3823).
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٢١٥) (صحیح) (یہ مرسل ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر صحیح ہے )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تربوز یا خربوزہ پکی ہوئی تازہ کھجور کے ساتھ کھاتے تھے اور فرماتے تھے: ہم اس (کھجور) کی گرمی کو اس (تربوز) کی ٹھنڈک سے اور اس (تربوز) کی ٹھنڈک کو اس (کھجور) کی گرمی سے توڑتے ہیں ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : The Messenger of Allah ﷺ used to eat melon with fresh dates, and he used to say: The heat of the one is broken by the coolness of the other, and the coolness of the one by the heat of the other.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٦٨٥٣)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة ٣٦ (١٨٤٣) (حسن )