کھانے پینے کا بیان

Sunan Abu Dawood · Chapter 24 · 121 hadiths · Page 6 of 7

3837Sunan Abu Dawood

دو طرح کے کھانوں کو ملا کر کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مَزْيَدَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ ابْنَيْ بُسْرٍ السُّلَمِيَّيْنِ، قَالَا: دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدَّمْنَا زُبْدًا وَتَمْرًا، وَكَانَ يُحِبُّ الزُّبْدَ وَالتَّمْرَ.

بسر سلمی کے لڑکے عبداللہ و عطیہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے آپ کی خدمت میں مکھن اور کھجور پیش کیا، آپ مکھن اور کھجور پسند کرتے تھے۔

Narrated Abdullah ibn Busr ibn Atiyyah ibn Busr (RA) : The Messenger of Allah ﷺ came to visit us and we offered him butter and dates, for he liked butter and dates.

Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٤٣ (٣٣٣٤)، (تحفة الأشراف: ٥١٩٢) (صحیح )
3838Sunan Abu Dawood

اہل کتاب کے برتن استعمال کرنے کا حکم

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، وَإِسْمَاعِيل، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُصِيبُ مِنْ آنِيَةِ الْمُشْرِكِينَ وَأَسْقِيَتِهِمْ فَنَسْتَمْتِعُ بِهَا، فَلَا يَعِيبُ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ.

جابر ؓ کہتے ہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ کرتے تھے تو ہم مشرکین کے برتن اور مشکیزے پاتے تو انہیں کام میں لاتے تو آپ اس کی وجہ سے ہم پر کوئی نکیر نہیں فرماتے۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : I was on an expedition along with the Messenger of Allah ﷺ . We got the vessels and skins of the polytheists and used them. But he did not object to them (i. e. us) for that (action).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٤٠٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣٢٧، ٣٤٣، ٣٧٩، ٣٨٩) (صحیح )
3839Sunan Abu Dawood

اہل کتاب کے برتن استعمال کرنے کا حکم

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ زَبْرٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ مُسْلِمِ بْنِ مِشْكَمٍ، عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّا نُجَاوِرُ أَهْلَ الْكِتَابِ، وَهُمْ يَطْبُخُونَ فِي قُدُورِهِمُ الْخِنْزِيرَ، وَيَشْرَبُونَ فِي آنِيَتِهِمُ الْخَمْرَ ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ وَجَدْتُمْ غَيْرَهَا فَكُلُوا فِيهَا وَاشْرَبُوا، وَإِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا فَارْحَضُوهَا بِالْمَاءِ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا.

ابوثعلبہ خشنی ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہا: ہم اہل کتاب کے پڑوس میں رہتے، وہ اپنی ہانڈیوں میں سور کا گوشت پکاتے ہیں اور اپنے برتنوں میں شراب پیتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: اگر تمہیں ان کے علاوہ برتن مل جائیں تو ان میں کھاؤ پیئو، اور اگر ان کے علاوہ برتن نہ ملیں تو انہیں پانی سے دھو ڈالو پھر ان میں کھاؤ اور پیو ۔

Abu Thalabah al-khushani said that he asked the Messenger of Allah ﷺ : We live in the neighbourhood of the People of the Book and they cook in their pots (the flesh of) swine and drink wine in their vessels. The Messenger of Allah ﷺ said: If you find any other pots, then eat in them and drink. But if you do not find any others, then wash them with water and eat and drink (In them).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٨٧٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصید ٤ (٥٤٧٨)، ١٠ (٥٤٨٨)، ١٤ (٥٤٩٦)، صحیح مسلم/الصید ١ (١٩٣٠)، سنن الترمذی/الصید ١ (١٤٦٤)، سنن ابن ماجہ/الصید ٣ (٣٢٠٧) (صحیح )
3840Sunan Abu Dawood

سمندری جانوروں کے کھانے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَّرَ عَلَيْنَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ نَتَلَقَّى عِيرًا لِقُرَيْشٍ، وَزَوَّدَنَا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ لَمْ نَجِدْ لَهُ غَيْرَهُ، فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يُعْطِينَا تَمْرَةً تَمْرَةً كُنَّا نَمُصُّهَا كَمَا يَمُصُّ الصَّبِيُّ، ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهَا مِنَ الْمَاءِ، فَتَكْفِينَا يَوْمَنَا إِلَى اللَّيْلِ، وَكُنَّا نَضْرِبُ بِعِصِيِّنَا الْخَبَطَ، ثُمَّ نَبُلُّهُ بِالْمَاءِ، فَنَأْكُلُهُ، وَانْطَلَقْنَا عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ، فَرُفِعَ لَنَا كَهَيْئَةِ الْكَثِيبِ الضَّخْمِ، فَأَتَيْنَاهُ فَإِذَا هُوَ دَابَّةٌ تُدْعَى الْعَنْبَرَ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ: مَيْتَةٌ وَلَا تَحِلُّ لَنَا، ثُمَّ قَالَ: لَا، بَلْ نَحْنُ رُسُلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَقَدِ اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ فَكُلُوا، فَأَقَمْنَا عَلَيْهِ شَهْرًا، وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ حَتَّى سَمِنَّا، فَلَمَّا قَدِمْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: هُوَ رِزْقٌ أَخْرَجَهُ اللَّهُ لَكُمْ، فَهَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ شَيْءٌ فَتُطْعِمُونَا مِنْهُ ؟، فَأَرْسَلْنَا مِنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ.

جابر ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ابوعبیدہ بن جراح ؓ کو ہم پر امیر بنا کر قریش کا ایک قافلہ پکڑنے کے لیے روانہ کیا اور زاد سفر کے لیے ہمارے ساتھ کھجور کا ایک تھیلہ تھا، اس کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں تھا، ابوعبیدہ ؓ ہمیں ہر روز ایک ایک کھجور دیا کرتے تھے، ہم لوگ اسے اس طرح چوستے تھے جیسے بچہ چوستا ہے، پھر پانی پی لیتے، اس طرح وہ کھجور ہمارے لیے ایک دن اور ایک رات کے لیے کافی ہوجاتی، نیز ہم اپنی لاٹھیوں سے درخت کے پتے جھاڑتے پھر اسے پانی میں تر کر کے کھاتے، پھر ہم ساحل سمندر پر چلے توریت کے ٹیلہ جیسی ایک چیز ظاہر ہوئی، جب ہم لوگ اس کے قریب آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ ایک مچھلی ہے جسے عنبر کہتے ہیں۔ ابوعبیدہ ؓ نے کہا: یہ مردار ہے اور ہمارے لیے جائز نہیں۔ پھر وہ کہنے لگے: نہیں ہم رسول اللہ ﷺ کے بھیجے ہوئے لوگ ہیں اور اللہ کے راستے میں ہیں اور تم مجبور ہوچکے ہو لہٰذا اسے کھاؤ، ہم وہاں ایک مہینہ تک ٹھہرے رہے اور ہم تین سو آدمی تھے یہاں تک کہ ہم (کھا کھا کر) موٹے تازے ہوگئے، جب ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا، تو آپ نے فرمایا: وہ رزق تھا جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے بھیجا تھا، کیا تمہارے پاس اس کے گوشت سے کچھ بچا ہے، اس میں سے ہمیں بھی کھلاؤ ہم نے اس میں سے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا تو آپ نے اسے کھایا۔

) Jabir said: The Messenger of Allah ﷺ sent us on an expedition and made Abu Ubaidah bin al-Jarrah our leader. We had to meet a caravan of the Quraish. He gave us a bag of dates as a light meal during the journey. We had nothing except that. Abu Ubaidah would give each of us one date. We used to suck them as a child sucks, and drink water after that and it sufficed us that day till night. We used to beat leaves off the trees with our sticks (for food), wetted them with water and ate them. We then went to the coast of the sea. There appeared to us a body like a great mound. When we came to it, we found that it was an animal called al-anbar. Abu Ubaidah said: It is a carrion, and it is not lawful for us. He then said: No, we are the Messengers of the Apostel of Allah ﷺ and we are in the path of Allah. If you are forced by necessity (to eat it), then eat it. We stayed feeding on it for one mouth, till we became fat, and we were three hundred in number. When we came to the Messenger of Allah ﷺ , we mentioned it to him. He said: It is a provision which Allah has brought forth for you, and give us some to eat if you have any meat of it with you. So we sent some of it to the Messenger of Allah ﷺ and he ate (it).

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الصید ٤ (١٩٣٥)، (تحفة الأشراف: ٢٧٢٤، ٥٠٤٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٣١١، ٣٧٨) (صحیح )
3841Sunan Abu Dawood

چوہا اگر گھی میں گر جائے تو کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَلْقُوا مَا حَوْلَهَا وَكُلُوا.

ام المؤمنین میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک چوہیا گھی میں گرگئی تو نبی اکرم ﷺ کو اس کی خبر دی گئی، آپ نے فرمایا: (جس جگہ گری ہے) اس کے آس پاس کا گھی نکال کر پھینک دو اور (باقی) کھاؤ ۔

Maimunah said: A mouse fell into clarified butter. The Prophet ﷺ was informed of it. He said: Throw what is around it and eat.

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٦٧ (٢٣٥)، والذبائح ٣٤ (٥٥٣٨)، سنن الترمذی/الأطعمة ٨ (١٧٩٨)، سنن النسائی/الفرع والعتیرة ٩ (٤٢٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٦٥)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاستئذان ٧ (٢٠)، مسند احمد (٦/٣٢٩، ٣٣٠، ٣٣٥)، سنن الدارمی/الطہارة ٦٠ (٧٦٥) ( صحیح )
3842Sunan Abu Dawood

چوہا اگر گھی میں گر جائے تو کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَاللَّفْظُ لِلْحَسَنِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا وَقَعَتِ الْفَأْرَةُ فِي السَّمْنِ فَإِنْ كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَلَا تَقْرَبُوهُ، قَالَ الْحَسَنُ: قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَرُبَّمَا حَدَّثَ بِهِ مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب چوہیا گھی میں گرجائے تو اگر گھی جما ہو تو چوہیا اور اس کے اردگرد کا حصہ پھینک دو (اور باقی کھالو) اور اگر گھی پتلا ہو تو اس کے قریب مت جاؤ ۔ حسن کہتے ہیں: عبدالرزاق نے کہا: اس روایت کو بسا اوقات معمر نے: عن الزهري عن عبيدالله بن عبدالله عن ابن عباس عن ميمونة عن النبي ﷺ کے طریق سے بیان کیا ہے۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: When a mouse falls into clarified butter, if it is sold, throw the mouse and what is around it away, but if it is in a liquid state, do not go near it. Al-Hasan said: AbdurRazzaq said: This tradition has been transmitted by Mamar, from az-Zuhri, from Ubaydullah ibn Abdullah ibn Abbas, from Maymunah, from the Prophet ﷺ .

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٣٠٣، ١٨٠٦٥) (شاذ) ط (کیوں کہ معمر کے سوا زہری کے اکثر تلامذہ اس کو میمونہ کی حدیث سے اور بغیر تفصیل کے روایت کرتے ہیں )
3843Sunan Abu Dawood

چوہا اگر گھی میں گر جائے تو کیا حکم ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُوذَوَيْهِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيِّبِ.

اس سند سے بھی ام المؤمنین میمونہ ؓ سے زہری کی حدیث کے مثل روایت ہے جسے انہوں نے ابن مسیب کے واسطہ سے (ابوہریرہ ؓ سے) روایت کیا ہے۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The tradition mentioned above (No. 3833) has also been transmitted by Ibn Abbas from Maymunah, from the Prophet ﷺ like the tradition narrated by az-Zuhri, from Ibn al-Musayyab.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، أي بھذا السیاق، (تحفة الأشراف: ١٨٠٦٥) (شاذ) (کیوں کہ معمر کے سوا زہری کے دیگر تلامذہ میمونہ کی حدیث سے بھی بغیر تفصیل روایت کرتے ہیں )
3844Sunan Abu Dawood

مکھی کھانے میں گر جائے تو کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي إِنَاءِ أَحَدِكُمْ فَامْقُلُوهُ فَإِنَّ فِي أَحَدِ جَنَاحَيْهِ دَاءً وَفِي الْآخَرِ شِفَاءً وَإِنَّهُ يَتَّقِي بِجَنَاحِهِ الَّذِي فِيهِ الدَّاءُ فَلْيَغْمِسْهُ كُلُّهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کے برتن میں مکھی گرجائے تو اسے برتن میں ڈبو دو کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہوتی ہے اور دوسرے میں شفاء، اور وہ اپنے اس بازو کو برتن کی طرف آگے بڑھا کر اپنا بچاؤ کرتی ہے جس میں بیماری ہوتی ہے، اس کے پوری مکھی کو ڈبو دینا چاہیئے ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: when a fly alights in anyone’s vessel, he should plunge it all in, for in one of its wings there is a disease, and in the other is a cure. It prevents the wing of it is which there is a cure, so plunge it all in (the vessel).

Takhrij · تخریج
تفر دبہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٣٠٤٩)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/بدء الخلق ١٧ (٣٣٢٠)، الطب ٥٨ (٥٧٨٢)، سنن ابن ماجہ/الطب ٣١ (٣٥٠٥)، سنن الدارمی/الأطعمة ١٢ (٢٠٨١) (صحیح )
3845Sunan Abu Dawood

جو نوالہ گر جائے اس کا کیا حکم ہے؟

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا أَكَلَ طَعَامًا لَعِقَ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ، وَقَالَ: إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيُمِطْ عَنْهَا الْأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَسْلُتَ الصَّحْفَةَ، وَقَالَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ يُبَارَكُ لَهُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کھانا کھاتے تو اپنی تینوں انگلیاں چاٹتے اور فرماتے: جب تم میں سے کسی کا لقمہ گرجائے تو اسے چاہیئے کہ لقمہ صاف کر کے کھالے اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے نیز آپ ﷺ نے ہمیں پلیٹ صاف کرنے کا حکم دیا اور فرمایا: تم میں سے کسی کو یہ معلوم نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصہ میں اس کے لیے برکت ہے ۔

Anas bin Malik (RA) said that when the Messenger of Allah ﷺ ate food, he licked his three fingers. And he said: If the morsel of one of you falls down, he should wipe away anything injurious on it and eat it and not leave it for the devil. And he ordered us to clean the dish, for one of you does not leave it for the devil. And he ordered us to clean the dish, for one of you does not know in what part of his food the blessing lies.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ١٨ (٢٠٣٤)، سنن الترمذی/الأطعمة ١١ (١٨٠٢)، (تحفة الأشراف: ٣١٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٧٧، ٢٩٠)، سنن الدارمی/الأطعمة ٨ (٧٠٧١) (صحیح )
3846Sunan Abu Dawood

نوکر کو اپنے ساتھ کھلانا چاہیے

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا صَنَعَ لِأَحَدِكُمْ خَادِمُهُ طَعَامًا ثُمَّ جَاءَهُ بِهِ وَقَدْ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ، فَلْيُقْعِدْهُ مَعَهُ لِيَأْكُلَ، فَإِنْ كَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوهًا فَلْيَضَعْ فِي يَدِهِ مِنْهُ أَكْلَةً أَوْ أَكْلَتَيْنِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں کسی کے لیے اس کا خادم کھانا بنائے پھر اسے اس کے پاس لے کر آئے اور اس نے اس کے بنانے میں گرمی اور دھواں برداشت کیا ہے تو چاہیئے کہ وہ اسے بھی اپنے ساتھ بٹھائے تاکہ وہ بھی کھائے، اور یہ معلوم ہے کہ اگر کھانا تھوڑا ہو تو اس کے ہاتھ پر ایک یا دو لقمہ ہی رکھ دے ۔

Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: If the servant of any of you prepares food for him, and he brings it to him, while he had suffered its heat and smoke. He should make him sit with him to eat. If the food is scanty, he should put one or two morsels in his hand.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأیمان ١٠ (١٦٦٣)، (تحفة الأشراف: ١٤٦٢٨)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة ٤٤ (١٨٥٣)، مسند احمد (٢/٢٧٧، ٢٨٣) (صحیح )
3847Sunan Abu Dawood

کھانے کے بعد رومال سے ہاتھ صاف کرنا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَمْسَحَنَّ يَدَهُ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اپنا ہاتھ اس وقت تک رومال سے نہ پونچھے جب تک کہ اسے خود چاٹ نہ لے یا کسی کو چٹا نہ دے ۔

Ibn Abbas reported the Messenger of Allah ﷺ as saying: When one of you eats, he must not wipe his hand with a handkerchief till he licks it or gives it to someone to lick.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ١٨ (٢٠٣١)، (تحفة الأشراف: ٥٩١٦)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأطعمة ٥٢ (٥٤٥٦)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٩ (٣٢٦٩)، مسند احمد (١/٢٩٣، ٣٤٦، ٣٧٠، ٣/٣٠١)، سنن الدارمی/الأطعمة ٦ (٢٠٦٩) (صحیح )
3848Sunan Abu Dawood

کھانے کے بعد رومال سے ہاتھ صاف کرنا

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَيَأْكُلُ بِثَلَاثِ أَصَابِعَ، وَلَا يَمْسَحُ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا.

کعب بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ تین انگلیوں سے کھاتے تھے اور اپنا ہاتھ جب تک چاٹ نہ لیتے پونچھتے نہیں تھے۔

Kaab bin Malik said: The Prophet ﷺ used to eat with three fingers and not wipe his before licking it.

Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأشربة ١٨ (٢٠٣٢)، سنن الترمذی/الشمائل (١٣٧، ١٤١)، (تحفة الأشراف: ١١١٤٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٥٤، ٦/٣٨٦)، دی/ الأطعمة ١٠ (٢٠٧٦) (صحیح )
3849Sunan Abu Dawood

کھانے کے بعد کیا کہے

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بَنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا رُفِعَتِ الْمَائِدَةُ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبُّنَا.

ابوامامہ ؓ کہتے ہیں جب دستر خوان اٹھایا جاتا تو رسول اللہ ﷺ یہ دعا پڑھتے الحمد لله كثيرا طيبا مبارکا فيه غير مكفي ولا مودع ولا مستغنى عنه ربنا اللہ تعالیٰ کے لیے بہت سارا صاف ستھرا بابرکت شکر ہے، ایسا شکر نہیں جو ایک بار کفایت کرے اور چھوڑ دیا جائے اور اس کی حاجت نہ رہے اے ہمارے رب تو حمد کے لائق ہے ۔

Abu Umamah said: When the food cloth was removed, the Messenger of Allah ﷺ said: “praise be to Allah abundantly and sincerely, of such a nature as is productive of blessing, is not insufficient, Abandoned, or ignored, O our lord. ”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ٥٤ (٥٤٥٨)، سنن الترمذی/الدعوات ٥٦ (٣٤٥٦)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ١٦ (٣٢٨٤)، (تحفة الأشراف: ٤٨٥٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٢٥٢، ٢٥٦، ٢٦١، ٢٦٧) سنن الدارمی/الأطعمة ٣ (٢٠٦٦) (صحیح )
3850Sunan Abu Dawood

کھانے کے بعد کیا کہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الْوَاسِطِيِّ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ أَوْ غَيْرِهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَإِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب اپنے کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ کہتے: الحمد لله الذي أطعمنا وسقانا وجعلنا مسلمين تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا ۔

Narrated Abu Saeed al-Khudri (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ finished his food, he said: Praise be to Allah Who has given us food and drink and made us Muslims.

Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الشمائل (١٩١)، سنن النسائی/ الیوم واللیلة (٢٨٩، ٢٩٠) (تحفة الأشراف: ٤٠٣٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١٥، ٣٢، ٩٨) (ضعیف) (اس سند میں سخت اختلاف ہے، نیز اسماعیل مجہول راوی ہیں )
3851Sunan Abu Dawood

کھانے کے بعد کیا کہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي عَقِيلٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَكَلَ أَوْ شَرِبَ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَ وَسَقَى، وَسَوَّغَهُ، وَجَعَلَ لَهُ مَخْرَجًا.

ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کھاتے یا پیتے تو کہتے: الحمد لله الذي أطعم وسقى، وسوغه، وجعل له مخرجا ہر طرح کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، اسے خوشگوار بنایا اور اس کے نکلنے کی راہ بنائی ۔

Narrated Abu Ayyub al-Ansari (RA) : When the Messenger of Allah ﷺ ate or drank, he said: Praise be to Allah Who has given food and drink and made it easy to swallow, and provided an exit for it.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٤٦٧)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری (٦٨٩٤)، الیوم واللیلة (٢٨٥) (صحیح )
3852Sunan Abu Dawood

کھانے سے فارغ ہو کر ہاتھ دھونا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ نَامَ وَفِي يَدِهِ غَمَرٌ وَلَمْ يَغْسِلْهُ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص سو جائے اور اس کے ہاتھ میں گندگی اور چکنائی ہو اور وہ اسے نہ دھوئے پھر اس کو کوئی نقصان پہنچے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے ۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone spends the night with grease on his hand which he has not washed away, he can blame only himself if some trouble comes to him.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٢٦٥٦)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الأطعمة ٤٨ (١٨٦٠)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٢٢ (٣٢٩٦)، مسند احمد (٢/٢٦٣، ٥٣٧)، سنن الدارمی/الأطعمة ٢٧ (٢١٠٧) (صحیح )
3853Sunan Abu Dawood

دعوت کرنے والے کے لئے دعا کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: صَنَعَ أَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التَّيْهَانِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا، فَدَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ، فَلَمَّا فَرَغُوا، قَالَ: أَثِيبُوا أَخَاكُمْ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا إِثَابَتُهُ ؟، قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا دُخِلَ بَيْتُهُ، فَأُكِلَ طَعَامُهُ وَشُرِبَ شَرَابُهُ، فَدَعَوْا لَهُ فَذَلِكَ إِثَابَتُهُ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں ابوالہیثم بن تیہان نے نبی اکرم ﷺ کے لیے کھانا بنایا پھر آپ کو اور صحابہ کرام کو بلایا، جب یہ لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو آپ نے فرمایا: تم لوگ اپنے بھائی کا بدلہ چکاؤ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس کا کیا بدلہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص کسی کے گھر جائے اور وہاں اسے کھلایا اور پلایا جائے اور وہ اس کے لیے دعا کرے تو یہی اس کا بدلہ ہے ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah (RA) : AbulHaytham ibn at-Tayhan prepared food for the Messenger of Allah ﷺ , and he invited the Prophet ﷺ and his Companions. When they finished (food), the said: If some people enter the house of a man, his food is eaten and his drink is drunk, and they supplicate (to Allah) for him, this is his reward.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣١٧٠) (ضعیف) (اس کی سند میں رجل ایک مبہم راوی ہے )
3854Sunan Abu Dawood

دعوت کرنے والے کے لئے دعا کرنا

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَجَاءَ إِلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَجَاءَ بِخُبْزٍ وَزَيْتٍ فَأَكَلَ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سعد بن عبادہ ؓ کے پاس آئے تو وہ آپ کی خدمت میں روٹی اور تیل لے کر آئے، آپ ﷺ نے اسے کھایا پھر آپ نے یہ دعا پڑھی: أفطر عندکم الصائمون وأكل طعامکم الأبرار وصلت عليكم الملائكة تمہارے پاس روزے دار افطار کیا کریں، نیک لوگ تمہارا کھانا کھائیں، اور تمہارے لیے دعائیں کریں ۔

Narrated Anas ibn Malik: The Prophet ﷺ came to visit Saad ibn Ubaydah, and he brought bread and olive oil, and he ate (them). Them). Then the Prophet ﷺ said: May the fasting (men) break their fast with you, and the pious eat your food, and the angels pray for blessing on you.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث ابن ماجہ (١٧٤٧) میں ہے، لیکن اس میں البانی صاحب قرعۃ میں (صحیح دون الفطر عند سعد )
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٧٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/١١٨، ١٣٨، ٢٠١)، سنن الدارمی/الصوم ٥١ (١٨١٣) (صحیح )
3855Sunan Abu Dawood(3800)

جن جانوروں کی حرمت کا ذکر قرآن میں آیا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ صَبِيحٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ شَرِيكٍ الْمَكِّيَّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ،عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَأْكُلُونَ أَشْيَاءَ وَيَتْرُكُونَ أَشْيَاءَ تَقَذُّرًا، فَبَعَثَ اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْزَلَ كِتَابَهُ، وَأَحَلَّ حَلَالَهُ، وَحَرَّمَ حَرَامَهُ، فَمَا أَحَلَّ فَهُوَ حَلَالٌ، وَمَا حَرَّمَ فَهُوَ حَرَامٌ، وَمَا سَكَتَ عَنْهُ فَهُوَ عَفْوٌ، وَتَلَا: قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا سورة الأنعام آية 145 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ بعض چیزوں کو کھاتے تھے اور بعض چیزوں کو ناپسندیدہ سمجھ کر چھوڑ دیتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو مبعوث کیا، اپنی کتاب نازل کی اور حلال و حرام کو بیان فرمایا، تو جو چیز اللہ نے حلال کردی وہ حلال ہے اور جو چیز حرام کردی وہ حرام ہے اور جس سے سکوت فرمایا وہ معاف ہے، پھر ابن عباس نے آیت کریمہ: قل لا أجد فيما أوحي إلى محرما آپ کہہ دیجئیے میں اپنی طرف نازل کی گئی وحی میں حرام نہیں پاتا اخیر تک پڑھی۔

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٣٨٦) (صحیح الإسناد)