عطا سے روایت ہے انہوں نے (قبیلہ) بکر بن وائل کے ایک شخص سے اس نے اپنے ماموں سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا میں اپنی قوم سے (اموال تجارت میں) دسواں حصہ لیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دسواں حصہ یہود و نصاریٰ پر ہے ۔
A man reported from Bakr bin Wail on the authority of his maternal uncle as saying, I said “Messenger of Allah ﷺ may I levy tithe on my people. ?” He replied “Tithes are to be levied on Jews and Christians. ”
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٠٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٤٦، ١٨٤٨٩) (ضعیف) (اس کے سند میں بکر بن وائل اور ان کے ماموں مجہول ہیں )
حرب بن عبیداللہ کے نانا جو بنی تغلب سے تعلق رکھتے تھے کہتے ہیں میں نبی اکرم ﷺ کے پاس مسلمان ہو کر آیا، آپ نے مجھے اسلام سکھایا، اور مجھے بتایا کہ میں اپنی قوم کے ان لوگوں سے جو اسلام لے آئیں کس طرح سے صدقہ لیا کروں، پھر میں آپ کے پاس لوٹ کر آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! جو آپ نے مجھے سکھایا تھا سب مجھے یاد ہے، سوائے صدقہ کے کیا میں اپنی قوم سے دسواں حصہ لیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں، دسواں حصہ تو یہود و نصاریٰ پر ہے ۔
Narrated A man of Banu Taghlib: Harb ibn Ubaydullah ibn Umayr ath-Thaqafi told on the authority of his grandfather, a man of Banu Taghlib: I came to the Prophet ﷺ , embraced Islam, and he taught me Islam. He also taught me how I should take sadaqah from my people who had become Muslim. I then returned to him and said: Messenger of Allah, I remembered whatever you taught me except the sadaqah. Should I levy tithe on them? He replied: No, tithes are to be levied on Christians and Jews.
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٠٤٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٤٦، ١٨٤٨٩) (ضعیف) (حرب ضعیف ہیں )
عرباض بن ساریہ سلمی ؓ کہتے ہیں ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ خیبر میں پڑاؤ کیا، جو لوگ آپ کے اصحاب میں سے آپ کے ساتھ تھے وہ بھی تھے، خیبر کا رئیس سرکش و شریر شخص تھا وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: محمد! کیا تمہارے لیے روا ہے کہ ہمارے گدھوں کو ذبح کر ڈالو، ہمارے پھل کھاؤ، اور ہماری عورتوں کو مارو پیٹو؟ (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ غصہ ہوئے، اور عبدالرحمٰن بن عوف ؓ سے فرمایا: عبدالرحمٰن! اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر اعلان کر دو کہ جنت سوائے مومن کے کسی کے لیے حلال نہیں ہے، اور سب لوگ نماز کے لیے جمع ہوجاؤ ، تو سب لوگ اکٹھا ہوگئے، نبی اکرم ﷺ نے انہیں نماز پڑھائی پھر کھڑے ہو کر فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص اپنی مسند پر تکیہ لگائے بیٹھ کر یہ سمجھتا ہے کہ اللہ نے اس قرآن میں جو کچھ حرام کیا اس کے سوا اور کچھ حرام نہیں ہے؟ خبردار! سن لو میں نے تمہیں کچھ باتوں کی نصیحت کی ہے، کچھ باتوں کا حکم دیا ہے اور کچھ باتوں سے روکا ہے، وہ باتیں بھی ویسی ہی (اہم اور ضروری) ہیں جیسی وہ باتیں جن کا ذکر قرآن میں ہے یا ان سے بھی زیادہ ١ ؎، اللہ نے تمہیں بغیر اجازت اہل کتاب کے گھروں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی ہے، اور نہ ہی ان کی عورتوں کو مارنے و ستانے کی، اور نہ ہی ان کے پھل کھانے کی، جب تک کہ وہ تمہیں وہ چیزیں دیتے رہیں جو تمہارا ان پر ہے (یعنی جزیہ) ۔
Narrated Al-Irbad ibn Sariyah as-Sulami (RA) : We alighted with the Prophet ﷺ at Khaybar, and he had his companions with him. The chief of Khaybar was a defiant and abominable man. He came to the Prophet ﷺ and said: Is it proper for you, Muhammad, that you slaughter our donkeys, eat our fruit, and beat our women? The Prophet ﷺ became angry and said: Ibn Awf, ride your horse, and call loudly: Beware, Paradise is lawful only for a believer, and that they (the people) should gather for prayer. They gathered and the Prophet ﷺ led them in prayer, stood up and said: Does any of you, while reclining on his couch, imagine that Allah has prohibited only that which is to be found in this Quran? By Allah, I have preached, commanded and prohibited various matters as numerous as that which is found in the Quran, or more numerous. Allah has not permitted you to enter the houses of the people of the Book without permission, or beat their women, or eat their fruits when they give you that which is imposed on them.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حدیث پر بھی قرآن کی طرح عمل واجب اور ضروری ہے، یہ نہ سمجھو کہ جو قرآن میں نہیں ہے اس پر عمل کرنا ضروری نہیں، رسول اللہ ﷺ نے جس بات کا حکم دیا ہے، وہ اصل میں اللہ ہی کا حکم ہے، اسی طرح جن باتوں سے آپ ﷺ نے روکا ہے ان سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے، ارشاد باری ہے: وما آتاکم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا ( سورة الحشر: ٧ )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٨٨٦) (ضعیف) (اس کے راوی اشعث لین الحدیث ہیں )
جہینہ کے ایک شخص کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایسا ہوسکتا ہے کہ تم ایک قوم سے لڑو اور اس پر غالب آجاؤ تو وہ تمہیں مال (جزیہ) دے کر اپنی جانوں اور اپنی اولاد کو تم سے بچا لیں ۔ سعید کی روایت میں ہے: فيصالحونکم على صلح پھر وہ تم سے صلح پر مصالحت کرلیں پھر (مسدد اور سعید بن منصور دونوں راوی آگے کی بات پر) متفق ہوگئے کہ: جتنے پر مصالحت ہوگئی ہو اس سے زیادہ کچھ بھی نہ لینا کیونکہ یہ تمہارے واسطے درست نہیں ہے۔
Narrated A man of Juhaynah (RA) : The Prophet ﷺ said: Probably you will fight with a people, you will dominate them, and they will save themselves and their children by their property. The version of Saeed has You will then conclude peace with them. The agreed version goes: Then do no take anything from them more than that, for it is not proper for you.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٧٠٧) (ضعیف) ( رجل من ثقیف مبہم مجہول راوی ہے )
ابوصخر مدینی کا بیان ہے کہ صفوان بن سلیم نے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کے کچھ بیٹوں سے اور انہوں نے اپنے آبائ سے (جو ایک دوسرے کے عزیز تھے) اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سنو! جس نے کسی ذمی پر ظلم کیا یا اس کا کوئی حق چھینا یا اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بوجھ ڈالا یا اس کی کوئی چیز بغیر اس کی مرضی کے لے لی تو قیامت کے دن میں اس کی طرف سے وکیل ١ ؎ ہوں گا ۔
Narrated A number of Companions of the Prophet: Safwan reported from a number of Companions of the Messenger of Allah ﷺ on the authority of their fathers who were relatives of each other. The Messenger of Allah ﷺ said: Beware, if anyone wrongs a contracting man, or diminishes his right, or forces him to work beyond his capacity, or takes from him anything without his consent, I shall plead for him on the Day of Judgment.
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں حجیج کا لفظ ہے یعنی میں اس کے دعوے کی وکالت کروں گا۔
محمد بن کثیر کہتے ہیں سفیان سے اس حدیث کا مطلب ١ ؎ پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ جب ذمی اسلام قبول کرلے تو اس پر (اسلام لاتے وقت سال میں سے گزرے ہوئے دنوں کا) جزیہ نہ ہوگا۔
Muhammad bin Kathir said “Sufyan was asked to explain the tradition mentioned above. ” He said “When he embraces Islam, no jizyah will be levied on him. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ابن عباس ؓ کی مذکورہ حدیث (نمبر ٣٠٥٣) کے متعلق سوال کیا۔
عبداللہ ہوزنی کہتے ہیں کہ میں نے مؤذن رسول بلال ؓ سے حلب ١ ؎ میں ملاقات کی، اور کہا: بلال! مجھے بتائیے کہ رسول اللہ ﷺ کا خرچ کیسے چلتا تھا؟ تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ نہ ہوتا، بعثت سے لے کر موت تک جب بھی آپ کو کوئی ضرورت پیش آتی میں ہی اس کا انتظام کرتا تھا جب رسول اللہ ﷺ کے پاس کوئی مسلمان آتا اور آپ اس کو ننگا دیکھتے تو مجھے حکم کرتے، میں جاتا اور قرض لے کر اس کے لیے چادر خریدتا، اسے پہننے کے لیے دے دیتا اور اسے کھانا کھلاتا، یہاں تک کہ مشرکین میں سے ایک شخص مجھے ملا اور کہنے لگا: بلال! میرے پاس وسعت ہے (تنگی نہیں ہے) آپ کسی اور سے قرض نہ لیں، مجھ سے لے لیا کریں، میں ایسا ہی کرنے لگا یعنی (اس سے لینے لگا) پھر ایک دن ایسا ہوا کہ میں نے وضو کیا اور اذان دینے کے لیے کھڑا ہوا کہ اچانک وہی مشرک سوداگروں کی ایک جماعت لیے ہوئے آپہنچا جب اس نے مجھے دیکھا تو بولا: اے حبشی! میں نے کہا: يا لباه ٢ ؎ حاضر ہوں، تو وہ ترش روئی سے پیش آیا اور سخت سست کہنے لگا اور بولا: تو جانتا ہے مہینہ پورا ہونے میں کتنے دن باقی رہ گئے ہیں؟ میں نے کہا: قریب ہے، اس نے کہا: مہینہ پورا ہونے میں صرف چار دن باقی ہیں ٣ ؎ میں اپنا قرض تجھ سے لے کر چھوڑوں گا اور تجھے ایسا ہی کر دوں گا جیسے تو پہلے بکریاں چرایا کرتا تھا، مجھے اس کی باتوں کا ایسے ہی سخت رنج و ملال ہوا جیسے ایسے موقع پر لوگوں کو ہوا کرتا ہے، جب میں عشاء پڑھ چکا تو رسول اللہ ﷺ اپنے گھر والوں کے پاس تشریف لے جا چکے تھے (میں بھی وہاں گیا) اور شرف یابی کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے مجھے اجازت دے دی، میں نے (حاضر ہو کر) عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں، وہ مشرک جس سے میں قرض لیا کرتا تھا اس نے مجھے ایسا ایسا کہا ہے اور نہ آپ کے پاس مال ہے جس سے میرے قرض کی ادائیگی ہوجائے اور نہ ہی میرے پاس ہے (اگر ادا نہ کیا) تو وہ مجھے اور بھی ذلیل و رسوا کرے گا، تو آپ مجھے اجازت دے دیجئیے کہ میں بھاگ کر ان قوموں میں سے کسی قوم کے پاس جو مسلمان ہوچکے ہیں اس وقت تک کے لیے چلا جاؤں جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو اتنا مال عطا نہ کر دے جس سے میرا قرض ادا ہوجائے، یہ کہہ کر میں نکل آیا اور اپنے گھر چلا آیا، اور اپنی تلوار، موزہ جوتا اور ڈھال سرہانے رکھ کر سو گیا، صبح ہی صبح پو پھٹتے ہی یہاں سے چلے جانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ ایک شخص بھاگا بھاگا پکارتا ہوا آیا کہ اے بلال (تمہیں رسول اللہ ﷺ یاد کر رہے ہیں) چل کر آپ کی بات سن لو، تو میں چل پڑا، آپ ﷺ کے پاس پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ چار لدے ہوئے جانور بیٹھے ہیں، آپ سے اجازت طلب کی تو رسول ﷺ نے مجھ سے فرمایا: بلال! خوش ہوجاؤ، اللہ تعالیٰ نے تمہاری ضرورت پوری کردی، کیا تم نے چاروں بیٹھی ہوئی سواریاں نہیں دیکھیں؟ ، میں نے کہا: ہاں دیکھ لی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ وہ جانور بھی لے لو اور جو ان پر لدا ہوا ہے وہ بھی ان پر کپڑا اور کھانے کا سامان ہے، فدک کے رئیس نے مجھے ہدیہ میں بھیجا ہے، ان سب کو اپنی تحویل میں لے لو، اور ان سے اپنا قرض ادا کر دو ، تو میں نے ایسا ہی کیا۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ بلال ؓ کہتے ہیں: پھر میں مسجد میں آیا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما ہیں، میں نے آپ کو سلام کیا، آپ ﷺ نے پوچھا: جو مال تمہیں ملا اس کا کیا ہوا؟ ، میں نے عرض کیا: اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے سارے قرضے ادا کردیئے اب کوئی قرضہ باقی نہ رہا، آپ ﷺ نے فرمایا: کچھ مال بچا بھی ہے؟ ، میں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: جاؤ جو بچا ہے اسے اللہ کی راہ میں صرف کر کے مجھے آرام دو کیونکہ جب تک یہ مال صرف نہ ہوجائے گا میں اپنی ازواج (مطہرات) میں سے کسی کے پاس نہ جاؤں گا ، پھر جب رسول اللہ ﷺ عشاء سے فارغ ہوئے تو مجھے بلایا اور فرمایا: کیا ہوا وہ مال جو تمہارے پاس بچ رہا تھا؟ میں نے کہا: وہ میرے پاس موجود ہے، کوئی ہمارے پاس آیا ہی نہیں کہ میں اسے دے دوں تو رسول ﷺ نے رات مسجد ہی میں گزاری۔ راوی نے پوری حدیث بیان کی (اس میں ہے) یہاں تک کہ جب آپ ﷺ عشاء کی نماز پڑھ چکے یعنی دوسرے دن تو آپ نے مجھے بلایا اور پوچھا: وہ مال کیا ہوا جو تمہارے پاس بچ رہا تھا؟ ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ نے آپ کو اس سے بےنیاز و بےفکر کردیا (یعنی وہ میں نے ایک ضرورت مند کو دے دیا) یہ سن کر آپ ﷺ نے اللہ اکبر کہا، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اس کی حمد و ثنا بیان کی اس ڈر سے کہ کہیں آپ کو موت نہ آجاتی اور یہ مال آپ کے پاس باقی رہتا، پھر میں آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے چلا، آپ اپنی بیویوں کے پاس آئے اور ایک ایک کو سلام کیا، پھر آپ ﷺ وہاں تشریف لے گئے جہاں رات گزارنی تھی، (اے عبداللہ ہوزنی! ) یہ ہے تمہارے سوال کا جواب۔
Narrated Abdullah al-Hawzani (RA) : I met Bilal, the muadhdhin of the Messenger of Allah ﷺ at Aleppo, and said: Bilal, tell me, what was the financial position of the Messenger of Allah ﷺ ? He said: He had nothing. It was I who managed it on his behalf since the day Allah made him Prophet of Allah ﷺ until he died. When a Muslim man came to him and he found him naked, he ordered me (to clothe him). I would go, borrow (some money), and purchase a cloak for him. I would then clothe him and feed him. A man from the polytheists met me and said: I am well off, Bilal. Do not borrow money from anyone except me. So I did accordingly. One day when I performed ablution and stood up to make call to prayer, the same polytheist came along with a body of merchants. When he saw me, he said: O Abyssinian. I said: I am at your service. He met me with unpleasant looks and said harsh words to me. He asked me: Do you know how many days remain in the completion of this month? I replied: The time is near. He said: Only four days remain in the completion of this month. I shall then take that which is due from you (i. e. loan), and then shall return you to tend the sheep as you did before. I began to think in my mind what people think in their minds (on such occasions). When I offered the night prayer, the Messenger of Allah ﷺ returned to his family. I sought permission from him and he gave me permission. I said: Messenger of Allah, may my parents be sacrificed for you, the polytheist from whom I used to borrow money said to me such-and-such. Neither you nor I have anything to pay him for me, and he will disgrace me. So give me permission to run away to some of those tribes who have recently embraced Islam until Allah gives His Messenger ﷺ something with which he can pay (the debt) for me. So I came out and reached my house. I placed my sword, waterskin (or sheath), shoes and shield near my head. When dawn broke, I intended to be on my way. All of a sudden I saw a man running towards me and calling: Bilal, return to the Messenger of Allah ﷺ . So I went till I reached him. I found four mounts kneeling on the ground with loads on them. I sought permission. The Messenger of Allah ﷺ said to me: Be glad, Allah has made arrangements for the payment (of your debt). He then asked: Have you not seen the four mounts kneeling on the ground? I replied: Yes. He said: You may have these mounts and what they have on them. There are clothes and food on them, presented to me by the ruler of Fadak. Take them away and pay off your debt. I did so. He then mentioned the rest of the tradition. I then went to the mosque and found that the Messenger of Allah ﷺ was sitting there. I greeted him. He asked: What benefit did you have from your property? I replied: Allah Most High paid everything which was due from the Messenger of Allah ﷺ . Nothing remains now. He asked: Did anything remain (from that property)? I said: Yes. He said: Look, if you can give me some comfort from it, for I shall not visit any member of my family until you give me some comfort from it. When the Messenger of Allah ﷺ offered the night prayer, he called me and said: What is the position of that which you had with you (i. e. property)? I said: I still have it, no one came to me. The Messenger of Allah ﷺ passed the night in the mosque. He then narrated the rest of the tradition. Next day when he offered the night prayer, he called me and asked: What is the position of that which you had (i. e. the rest of the property)? I replied: Allah has given you comfort from it, Messenger of Allah. He said: Allah is Most Great, and praised Allah, fearing lest he should die while it was with him. I then followed him until he came to his wives and greeted each one of them and finally he came to his place where he had to pass the night. This is all for which you asked me.
Notes · وضاحت
١ ؎: شام کے ایک شہر کا نام ہے۔ ٢ ؎: یہ کلمہ عربی میں جی، یا حاضر ہوں کی جگہ بولا جاتا ہے۔ ٣ ؎: قرض واپسی کی مدت میں ابھی چار دن باقی تھے اس لئے اسے لڑنے جھگڑنے اور بولنے کا حق نہیں تھا، ادائیگی کا وقت گزر جانے کے بعد اسے بولنے اور جھگڑنے کا حق تھا۔ مگر تھا تو کافر مسلمانوں کا دشمن، قرض کا بہانہ کر کے لڑ پڑا۔
اس سند سے بھی ابوتوبہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث مروی ہے، اس میں ہے کہ جب میں نے کہا کہ نہ آپ کے پاس اتنا مال ہے اور نہ میرے پاس کہ قرضہ ادا ہوجائے تو رسول اللہ ﷺ خاموش رہے مجھے کوئی جواب نہیں دیا تو مجھے بڑی گرانی ہوئی (کہ شاید رسول اللہ ﷺ نے میری بات پر توجہ نہیں دی) ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Muawiyah through a different chain of narrators to the same effect as narrated by Abu Taubah. This version has “I have nothing to pay from me. The Messenger of Allah ﷺ thereupon kept silence and this displeased me. ”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢٠٤٠) (صحیح الإسناد )
عیاض بن حمار ؓ کہتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو ایک اونٹنی ہدیہ میں دی، تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: کیا تم مسلمان ہوگئے ہو؟ میں نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے مشرکوں سے تحفہ لینے کی ممانعت کردی گئی ہے ١ ؎۔
Narrated Iyad ibn Himar (RA) : I presented a she-camel to the Prophet ﷺ . He asked: Have you embraced Islam? I replied: No. The Prophet ﷺ said: I have been prohibited to accept the present of polytheists.
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض روایات میں آتا ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے نجاشی، مقوقس، اکیدر دومہ اور رئیس فدک کے ہدایا قبول کئے تو یہ إني نهيت عن زبد المشرکين کے خلاف نہیں ہے کیونکہ مذکورہ سب کے سب ہدایا اہل کتاب کے تھے نہ کہ مشرکین کے، گویا اہل کتاب کے ہدایا لینے درست ہیں نہ کہ مشرکین کے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/السیر ٢٤ (١٥٧٧)، (تحفة الأشراف: ١١٠١٥)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/١٦٢) (حسن صحیح )
عمرو بن حریث ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں مجھے گھر بنانے کے لیے کمان سے نشان لگا کر ایک زمین دی اور فرمایا: میں تمہیں مزید دوں گا مزید دوں گا (فی الحال یہ لے لو) ۔
Narrated Amr ibn Hurayth (RA) : The Messenger of Allah ﷺ demarcated a house with a bow at Madina for me. He said: I shall give you more. I shall give you more.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٧١٨) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی خلفیہ مخزومی لین الحدیث ہیں )
ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے کئی لوگوں سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بلال بن حارث مزنی کو فرع ١ ؎ کی طرف کے قبلیہ ٢ ؎ کے کان دیئے، تو ان کانوں سے آج تک زکاۃ کے سوا کچھ نہیں لیا جاتا رہا۔
Narrated Rabiah ibn Abu Abdur Rahman (RA) : Rabiah reported on the authority of more than one person saying: The Messenger of Allah ﷺ assigned as a fief to Bilal ibn al-Harith al-Muzani the mines of al-Qabaliyyah which is in the neighbourhood of al-Fur, and only zakat is levied on those mines up to the present day.
Notes · وضاحت
١ ؎: مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے۔ ٢ ؎: قبلیہ ایک گاؤں ہے جو فرع کے متعلقات میں سے ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٧٧٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة ٣ (٨)، مسند احمد (١/٣٠٦) (ضعیف) (یہ روایت مرسل ہے، اس میں مذکور جاگیر دینے والے واقعہ کی متابعت اور شواہد تو موجود ہیں مگر زکاة والے معاملہ کے متابعات و شواہد نہیں ہیں )
عمرو بن عوف مزنی ؓ ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بلال بن حارث مزنی کو قبلیہ کی نشیب و فراز کی کانیں ٹھیکہ میں دیں ١ ؎۔ (ابوداؤد کہتے ہیں) اور دیگر لوگوں نے جلسيها وغوريها کہا ہے) اور قدس (ایک پہاڑ کا نام ہے) کی وہ زمین بھی دی جو قابل کاشت تھی اور وہ زمین انہیں نہیں دی جس پر کسی مسلمان کا حق اور قبضہ تھا، اور نبی اکرم ﷺ نے انہیں اس کے لیے ایک دستاویز لکھ کردی، وہ اس طرح تھی: بسم الله الرحمن الرحيم،، یہ دستاویز ہے اس بات کا کہ رسول اللہ ﷺ نے بلال بن حارث مزنی کو قبلیہ کے کانوں کا جو بلندی میں ہیں اور پستی میں ہیں، ٹھیکہ دیا اور قدس کی وہ زمین بھی دی جس میں کھیتی ہوسکتی ہے، اور انہیں کسی مسلمان کا حق نہیں دیا ۔ ابواویس راوی کہتے ہیں: مجھ سے بنو دیل بن بکر بن کنانہ کے غلام ثور بن زید نے بیان کیا، انہوں نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے ابن عباس سے اسی کے ہم مثل روایت کی ہے۔
Narrated Amr ibn Awf al-Muzani (RA) : The Prophet ﷺ assigned as a fief to Bilal ibn al-Muzani the mines of al-Qabaliyyah both which lay on the upper side and which lay on the lower side, and (the land) which was suitable for cultivation at Quds. He did not give him (the land which involved) the right of a Muslim. The Prophet ﷺ wrote a document for him. It goes: In the name of Allah, the Compassionate, the Merciful. This is what the Messenger of Allah ﷺ assigned to Bilal ibn Harith al-Muzani. He gave him the mines of al-Qabaliyyah, both which lay on the upper side and which lay on the lower side, and (the land) which is suitable for cultivation at Quds. He did not give him the right of any Muslim. Abu Uwais said: A similar tradition has been narrated to me by Thawr bin Zaid, client of Banu al-Dail bin Bakr bin Kinahah from Ikrimah on the authority of Ibn Abbas.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان کے نام سے الاٹ کردیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٦٠١٥، ١٠٧٧٧) (حسن) ( کثیر کی روایت متابعات و شواہد سے تقویت پا کر حسن ہے، ورنہ کثیر خود ضعیف راوی ہیں، ابن عباس ؓ کی روایت حسن ہے )
محمد بن نضر کہتے ہیں کہ میں نے حنینی کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اسے یعنی نبی اکرم ﷺ کے جاگیر نامہ کو کئی بار پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: مجھ سے کئی ایک نے حسین بن محمد کے واسطہ سے بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے ابواویس نے خبر دی ہے وہ کہتے ہیں: مجھ سے کثیر بن عبداللہ نے بیان کیا ہے وہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بلال بن حارث مزنی ؓ کو قبلیہ کے نشیب و فراز کی کانیں بطور جاگیر دیں۔ ابن نضر کی روایت میں ہے: اور اس کے جرس اور ذات النصب ١ ؎ کو دیا، پھر دونوں راوی متفق ہیں: اور قدس کی قابل کاشت زمین دی، اور بلال بن حارث کو کسی اور مسلمان کا حق نہیں دیا، اور نبی اکرم ﷺ نے انہیں لکھ کردیا کہ یہ وہ تحریر ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے بلال بن حارث مزنی کو لکھ کردی، انہیں قبلیہ کے نشیب و فراز کی کانیں اور قدس کی قابل کاشت زمینیں دیں، اور انہیں کسی اور مسلمان کا حق نہیں دیا۔ ابواویس کہتے ہیں کہ ثور بن زید نے مجھ سے بیان کیا انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے ابن عباس ؓ سے ابن عباس نے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے ہم مثل روایت کیا اور ابن نضر نے اتنا اضافہ کیا کہ (یہ دستاویز) ابی بن کعب ؓ نے لکھی۔
Narrated Amr ibn Awf al-Muzani (RA) : The Prophet ﷺ assigned as a fief to Bilal ibn Harith al-Muzani the mines of al-Qabaliyyah, both those which lay on the upper side those and which lay on the lower side. The narrator, Ibn an-Nadr, added: also Jars and Dhat an-Nusub. The agreed version reads: and (the land) which is suitable for cultivation at Quds. He did not assign to Bilal ibn al-Harith the right of any Muslim. The Prophet ﷺ wrote a document to him: This is what the Messenger of Allah ﷺ assigned to Bilal ibn al-Harith al-Muzani. He gave him the mines of al-Qabaliyyah both those which lay on the upper and lower side, and that which is fit for cultivation at Quds. He did not give him the right of any Muslim. The narrator Abu Uways said: A similar tradition has been transmitted to me by Thawr ibn Zayd from Ikrimah on the authority of Ibn Abbas from the Prophet ﷺ . Ibn an-Nadr added: Ubayy ibn Kab wrote it.
Notes · وضاحت
١ ؎: کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ دو جگہوں کے نام ہیں اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ زمین کی قسموں کے نام ہیں۔
ابیض بن حمال ماربی ؓ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے نمک کی کان کی جاگیر مانگی (ابن متوکل کی روایت میں ہے: جو مآرب ١ ؎ میں تھی) تو آپ ﷺ نے انہیں دے دی، لیکن جب وہ واپس مڑے تو مجلس میں موجود ایک شخص نے عرض کیا: جانتے ہیں کہ آپ نے ان کو کیا دے دیا ہے؟ آپ نے ان کو ایسا پانی دے دیا ہے جو ختم نہیں ہوتا، بلا محنت و مشقت کے حاصل ہوتا ہے ٢ ؎ وہ کہتے ہیں: تو آپ ﷺ نے اسے واپس لے لیا، تب انہوں نے آپ سے پوچھا: پیلو کے درختوں کی کون سی جگہ گھیری جائے؟ ٣ ؎، آپ نے فرمایا: جہاں جانوروں کے پاؤں نہ پہنچ سکیں ٤ ؎۔ ابن متوکل کہتے ہیں: خفاف سے مراد أخفاف الإبل (یعنی اونٹوں کے پیر) ہیں۔
Narrated Abyad ibn Hammal (RA) : Abyad went to the Messenger of Allah ﷺ and asked him for assigning him (the mines of) salt as fief. (The narrator Ibn al-Mutawakkil said: which was in Maarib.) So he assigned it to him as a fief. When he returned, a man in the meeting asked: Do you know what you have assigned him as a fief? You have assigned him the perennial spring water. So he took it back from him. He asked him about protecting land which had arak trees growing in it. He replied: He could have such as was beyond the region where the hoofs (of camels) went. The narrator Ibn al-Mutwakkil said: that is the camel hoofs.
Notes · وضاحت
١ ؎: یمن کے ایک گاؤں کا نام ہے۔ ٢ ؎: یعنی یہ چیز تو سب کے استعمال و استفادہ کی ہے اسے کسی خاص شخص کی جاگیر میں دے دینا مناسب نہیں۔ ٣ ؎: کہ جس میں اور لوگ نہ آسکیں اور اپنے جانور وہاں نہ چرا سکیں۔ ٤ ؎: یعنی جو آبادی اور چراگاہ سے دور ہو۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ٣٩ (١٣٨٠)، سنن ابن ماجہ/الرھون ١٧ (٢٤٧٥)، (تحفة الأشراف: ١)، وقد أخرجہ: سنن الدارمی/البیوع ٦٦ (٢٦٥٠) (حسن لغیرہ) (یہ سند مسلسل بالضعفاء ہے: ثمامہ لیّن، سمی مجہول اور شمیر لین ہیں، لیکن آنے والی حدیث (٣٠٦٦) سے تقویت پا کر یہ حسن ہوئی، اس کی تصحیح ابن حبان نے کی ہے، البانی نے دوسرے طریق کی وجہ سے اس کی تحسین کی ہے، ما لَمْ تَنَلْهُ خِفَافٌ کے استثناء کے ساتھ، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ٨ ؍ ٣٨٨ )
ہارون بن عبداللہ کہتے ہیں کہ محمد بن حسن مخزومی نے کہا: ما لم تنله أخفاف الإبل کا مطلب یہ ہے کہ اونٹ کا سر جہاں تک پہنچے گا وہاں تک وہ کھائے ہی کھائے گا اس سے اوپر کا حصہ بچایا جاسکتا ہے (اس لیے ایسی جگہ گھیرو جہاں اونٹ جاتے ہی نہ ہوں) ۔
Muhammad bin Al hasan Al Mukhzumi said “The sentence “that which is not reached by the Camel hoofs” means that the Camels eat (the arak trees) within the reach of their heads. So the land (where the arak trees are growing) may be protected beyond such a region.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود (ضعیف جداً ) (محمد بن حسن مخزومی کذّاب راوی ہے )
ابیض بن حمال ماربی ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے پیلو کی ایک چراگاہ مانگی ١ ؎ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پیلو میں روک نہیں ہے ، انہوں نے کہا: پیلو میرے باڑھ اور احاطے کے اندر ہیں، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: پیلو میں روک نہیں ہے (اس لیے کہ اس کی حاجت سبھی آدمیوں کو ہے) ۔ فرج کہتے ہیں: حظاری سے ایسی سر زمین مراد ہے جس میں کھیتی ہوتی ہو اور وہ گھری ہوئی ہو۔
Narrated Abyad ibn Hammal (RA) : He asked the Messenger of Allah ﷺ for giving him some land which had arak trees growing in it. The Messenger of Allah ﷺ said: There is no (permission for) protecting a land which has arak trees growing in it. He said: These arak trees are within the boundaries of my field. The Prophet ﷺ said: There is no (permission for) protecting a land which has arak trees growing in it. The narrator Faraj said: By the phrase within the boundaries of my field he meant the land which had crop growing in it and was surrounded on four sides.
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ایک احاطہ جس میں دوسرے لوگ آ کر نہ درخت کاٹیں نہ اس میں اپنے جانور چرائیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣)، وقد أخرجہ: دی/ البیوع ٦٦ (٢٦٥٠) (حسن لغیرہ) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ٨ ؍ ٣٩٠ )
صخر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ثقیف سے جہاد کیا (یعنی قلعہ طائف پر حملہ آور ہوئے) چناچہ جب صخر ؓ نے اسے سنا تو وہ چند سوار لے کر نبی اکرم ﷺ کی مدد کے لیے نکلے تو دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ واپس ہوچکے ہیں اور قلعہ فتح نہیں ہوا ہے، تو صخر ؓ نے اس وقت اللہ سے عہد کیا کہ وہ قلعہ کو چھوڑ کر نہ جائیں گے جب تک کہ مشرکین رسول اللہ ﷺ کے حکم کے آگے جھک نہ جائیں اور قلعہ خالی نہ کردیں (پھر ایسا ہی ہوا) انہوں نے قلعہ کا محاصرہ اس وقت تک ختم نہیں کیا جب تک کہ مشرکین رسول اللہ ﷺ کے حکم کے آگے جھک نہ گئے۔ صخر ؓ نے آپ ﷺ کو لکھا: امّا بعد، اللہ کے رسول! ثقیف آپ کا حکم مان گئے ہیں اور وہ اپنے گھوڑ سواروں کے ساتھ ہیں میں ان کے پاس جا رہا ہوں (تاکہ آگے کی بات چیت کروں) ، جب آپ ﷺ کو یہ اطلاع ملی تو آپ نے باجماعت نماز قائم کرنے کا حکم دیا اور نماز میں احمس ١ ؎ کے لیے دس (باتوں کی) دعائیں مانگیں اور (ان دعاؤں میں سے ایک دعا یہ بھی تھی) : اللهم بارک لأحمس في خيلها ورجالها اے اللہ! احمس کے سواروں اور پیادوں میں برکت دے ، پھر سب لوگ (یعنی ضحر ؓ اور ان کے ساتھی) رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، اس وقت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے بات کی اور کہا: اللہ کے نبی! صخر نے میری پھوپھی کو گرفتار کرلیا ہے جب کہ وہ اس (دین) میں داخل ہوچکی ہیں جس میں سبھی مسلمان داخل ہوچکے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے صخر ؓ کو بلایا، اور فرمایا: صخر! جب کوئی قوم اسلام قبول کرلیتی ہے تو وہ اپنی جانوں اور مالوں کو بچا اور محفوظ کرلیتی ہے، اس لیے مغیرہ کی پھوپھی کو انہیں لوٹا دو ، تو صخر ؓ نے مغیرہ ؓ کو ان کی پھوپھی واپس کردی، پھر صخر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے سلیمیوں کے پانی کے چشمے کو مانگا جسے وہ لوگ اسلام کے خوف سے چھوڑ کر بھاگ لیے تھے، صخر ؓ نے کہا: اللہ کے نبی! آپ مجھے اور میری قوم کو اس پانی کے چشمے پہ رہنے اور اس میں تصرف کرنے کا حق و اختیار دے دیجئیے، آپ ﷺ نے کہا: ہاں ہاں (لے لو اور) رہو ، تو وہ لوگ رہنے لگے (اور کچھ دنوں بعد) بنو سلیم مسلمان ہوگئے اور صخر ؓ کے پاس آئے، اور صخر ؓ سے درخواست کی کہ وہ انہیں پانی (کا چشمہ) واپس دے دیں، صخر ؓ (اور ان کی قوم) نے دینے سے انکار کیا (اس خیال سے کہ رسول اللہ ﷺ نے وہ چشمہ انہیں اور ان کی قوم کو دے دیا ہے) تو وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے عرض کیا: اللہ کے نبی! ہم مسلمان ہوچکے ہیں، ہم صخر کے پاس پہنچے (اور ان سے درخواست کی) کہ ہمارا پانی کا چشمہ ہمیں واپس دے دیں تو انہوں نے ہمیں لوٹانے سے انکار کردیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے صخر ؓ کو بلوایا اور فرمایا: صخر! جب کوئی قوم اسلام قبول کرلیتی ہے تو اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ کرلیتی ہے (نہ اسے ناحق قتل کیا جاسکتا ہے اور نہ اس کا مال لیا جاسکتا ہے) تو تم ان کو ان کا چشمہ دے دو صخر ؓ نے کہا: بہت اچھا اللہ کے نبی! (صخر ؓ کہتے ہیں) میں نے اس وقت رسول اللہ ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا کہ وہ شرم و ندامت سے بدل گیا اور سرخ ہوگیا (یہ سوچ کر) کہ میں نے اس سے لونڈی بھی لے لی اور پانی بھی ٢ ؎۔
Narrated Sakhr ibn al-Ayla al-Ahmasi (RA) : The Messenger of Allah ﷺ raided Thaqif. When Sakhr heard this, he proceeded on his horse along with some horsemen to support the Prophet ﷺ . He found the Prophet of Allah ﷺ had returned and he did not conquer (Taif). On that day Sakhr made a covenant with Allah and had His protection that he would not depart from that fortress until they (the inhabitants) surrendered to the command of the Messenger of Allah ﷺ . He did not leave them until they had surrendered to the command of the Messenger of Allah ﷺ . Sakhr then wrote to him: To proceed: Thaqif have surrendered to your command, Messenger of Allah, and I am on my way to them. They have horses with them. The Messenger of Allah ﷺ then ordered prayers to be offered in congregation. He then prayed for Ahmas ten times: O Allah, send blessings the horses and the men of Ahmas. The people came and Mughirah ibn Shubah said to him: Prophet of Allah, Sakhr took my paternal aunt while she embraced Islam like other Muslims. He called him and said: Sakhr, when people embrace Islam, they have security of their blood and property. Give back to Mughirah his paternal aunt. So he returned his aunt to him and asked the Prophet of Allah ﷺ : What about Banu Sulaym who have run away for (fear of) Islam and left that water? He said: Prophet of Allah, allow me and my people to settle there. He said: Yes. So he allowed him to settle there. Banu Sulaym then embraced Islam, and they came to Sakhr. They asked him to return their water to them. But he refused. So they came to the Prophet ﷺ and said: Prophet of Allah, we embraced Islam and came to Sakhr so that he might return our water to us. But he has refused. He (the Prophet) then came to him and said: When people embrace Islam, they secure their properties and blood. Return to the people their water. He said: Yes, Prophet of Allah. I saw that the face of the Messenger of Allah ﷺ was reddening at that moment, being ashamed of taking back from him the slave-girl and the water.
Notes · وضاحت
١ ؎: احمس ایک قبیلہ ہے، صخر اسی قبیلہ کے ایک فرد تھے۔ ٢ ؎: لونڈی وہی مغیرہ کی پھوپھی اور پانی وہی بنی سلیم کے پانی کا چشمہ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٨٥١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣١٠)، سنن الدارمی/الزکاة ٣٤ (١٧١٥) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی ابان ضعیف الحفظ اور عثمان لین الحدیث ہیں )