Sunan Abu Dawood 3061

محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء

3061Sunan Abu Dawood

زمین مقطعہ دینا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ وَهِيَ مِنْ نَاحِيَةِ الْفُرْعِ فَتِلْكَ الْمَعَادِنُ لَا يُؤْخَذُ مِنْهَا إِلَّا الزَّكَاةُ إِلَى الْيَوْمِ.

ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے کئی لوگوں سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بلال بن حارث مزنی کو فرع ١ ؎ کی طرف کے قبلیہ ٢ ؎ کے کان دیئے، تو ان کانوں سے آج تک زکاۃ کے سوا کچھ نہیں لیا جاتا رہا۔

Narrated Rabiah ibn Abu Abdur Rahman (RA) : Rabiah reported on the authority of more than one person saying: The Messenger of Allah ﷺ assigned as a fief to Bilal ibn al-Harith al-Muzani the mines of al-Qabaliyyah which is in the neighbourhood of al-Fur, and only zakat is levied on those mines up to the present day.

Notes · وضاحت
١ ؎: مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے۔ ٢ ؎: قبلیہ ایک گاؤں ہے جو فرع کے متعلقات میں سے ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٧٧٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة ٣ (٨)، مسند احمد (١/٣٠٦) (ضعیف) (یہ روایت مرسل ہے، اس میں مذکور جاگیر دینے والے واقعہ کی متابعت اور شواہد تو موجود ہیں مگر زکاة والے معاملہ کے متابعات و شواہد نہیں ہیں )