جب ذمی کا فرمال ِتجارت لے کر لوٹیں تو ان سے دسواں حصہ محصول لیا جائے گا
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ هِلَالٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ ثَقِيفٍ، عَنْ رَجُلٍمِنْ جُهَيْنَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَلَّكُمْ تُقَاتِلُونَ قَوْمًا فَتَظْهَرُونَ عَلَيْهِمْ فَيَتَّقُونَكُمْ بِأَمْوَالِهِمْ دُونَ أَنْفُسِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ، قَالَ سَعِيدٌ فِي حَدِيثِهِ: فَيُصَالِحُونَكُمْ عَلَى صُلْحٍ، ثُمَّ اتَّفَقَا فَلَا تُصِيبُوا مِنْهُمْ شَيْئًا فَوْقَ ذَلِكَ فَإِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لَكُمْ.
جہینہ کے ایک شخص کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایسا ہوسکتا ہے کہ تم ایک قوم سے لڑو اور اس پر غالب آجاؤ تو وہ تمہیں مال (جزیہ) دے کر اپنی جانوں اور اپنی اولاد کو تم سے بچا لیں ۔ سعید کی روایت میں ہے: فيصالحونکم على صلح پھر وہ تم سے صلح پر مصالحت کرلیں پھر (مسدد اور سعید بن منصور دونوں راوی آگے کی بات پر) متفق ہوگئے کہ: جتنے پر مصالحت ہوگئی ہو اس سے زیادہ کچھ بھی نہ لینا کیونکہ یہ تمہارے واسطے درست نہیں ہے۔
Narrated A man of Juhaynah (RA) : The Prophet ﷺ said: Probably you will fight with a people, you will dominate them, and they will save themselves and their children by their property. The version of Saeed has You will then conclude peace with them. The agreed version goes: Then do no take anything from them more than that, for it is not proper for you.