محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء

Sunan Abu Dawood · Chapter 17 · 161 hadiths · Page 8 of 9

3068Sunan Abu Dawood

زمین مقطعہ دینا

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي سَبْرَةُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الرَّبِيعِ الْجُهَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فِي مَوْضِعِ الْمَسْجِدِ تَحْتَ دَوْمَةٍ، فَأَقَامَ ثَلَاثًا ثُمَّ خَرَجَ إِلَى تَبُوكَ وَإِنَّ جُهَيْنَةَ لَحِقُوهُ بِالرَّحْبَةِ فَقَالَ لَهُمْ: مَنْ أَهْلُ ذِي الْمَرْوَةِ ؟ فَقَالُوا: بَنُو رِفَاعَةَ مِنْ جُهَيْنَةَ فَقَالَ: قَدْ أَقْطَعْتُهَا لِبَنِي رِفَاعَةَ فَاقْتَسَمُوهَا فَمِنْهُمْ مَنْ بَاعَ وَمِنْهُمْ مَنْ أَمْسَكَ فَعَمِلَ، ثُمَّ سَأَلْتُ أَبَاهُ عَبْدَ الْعَزِيزِ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَحَدَّثَنِي بِبَعْضِهِ وَلَمْ يُحَدِّثْنِي بِهِ كُلِّهِ.

ربیع جہنی کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس جگہ جہاں اب مسجد ہے ایک بڑے درخت کے نیچے پڑاؤ کیا، وہاں تین دن قیام کیا، پھر تبوک ١ ؎ کے لیے نکلے، اور جہینہ کے لوگ آپ ﷺ سے ایک وسیع میدان میں جا کر ملے (یعنی آپ ﷺ کے ساتھ ہوئے) آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: مروہ والوں میں سے یہاں کون رہتا ہے؟ ، لوگوں نے کہا: بنو رفاعہ کے لوگ رہتے ہیں جو قبیلہ جہینہ کی ایک شاخ ہے، آپ ﷺ نے فرمایا:،، میں یہ زمین (علاقہ) بنو رفاعہ کو بطور جاگیر دیتا ہوں تو انہوں نے اس زمین کو آپس میں بانٹ لیا، پھر کسی نے اپنا حصہ بیچ ڈالا اور کسی نے اپنے لیے روک لیا، اور اس میں محنت و مشقت (یعنی زراعت) کی۔ ابن وہب کہتے ہیں: میں نے پھر اس حدیث کے متعلق سبرہ کے والد عبدالعزیز سے پوچھا تو انہوں نے مجھ سے اس کا کچھ حصہ بیان کیا پورا بیان نہیں کیا۔

Narrated Saburah ibn Mabad al-Juhani (RA) : The Prophet ﷺ alighted at a place where a mosque has been built under a large tree. He tarried there for three days, and then proceeded to Tabuk. Juhaynah met him on a wide plain. He asked them: who are the people of Dhul-Marwah? They replied: Banu Rifaah of Juhaynah. He said: I have given this (land) to Banu Rifaah as a fief. Therefore, they divided it. Some of them sold (their share) and others retained and worked on it. (Sub-narrator Ibn Wahab said: I then asked Abdul Aziz about this tradition. He narrated a part of it to me and did not narrate it in full.

Notes · وضاحت
١ ؎: تبوک مدینہ سے شمال شام کی طرف ایک جگہ کا نام ہے، جہاں نو ہجری میں لشکر اسلام گیا تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٣٨١٢) (ضعیف) (ربیع جہنی تابعی ضعیف ہیں، اور حدیث مرسل ہے، ملاحظہ ہو: ضعیف ابی داود ٢/٤٥٧ )
3069Sunan Abu Dawood

زمین مقطعہ دینا

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ نَخْلًا.

اسماء بنت ابوبکر ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زبیر ؓ (اسماء ؓ کے خاوند ہیں) کو کھجور کے کچھ درخت بطور جاگیر عنایت فرمائی۔

Narrated Asma daughter of Abu Bakr (RA) : The Messenger of Allah ﷺ assigned to az-Zubayr palm-trees as a fief.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٧٣٢)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فرض الخمس ١٩ (٢٨١٥)، مسند احمد (٦/٣٤٧) (حسن صحیح )
3070Sunan Abu Dawood

زمین مقطعہ دینا

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، الْمَعْنَى وَاحِدٌ قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَّانَ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتَايَ صَفِيَّةُ، وَدُحَيْبَةُ ابْنَتَا عُلَيْبَةَ وَكَانَتَا رَبِيبَتَيْ قَيْلَةَ بِنْتِ مَخْرَمَةَ، وَكَانَتْ جَدَّةَ أَبِيهِمَا أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُمَا، قَالَتْ: قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: تَقَدَّمَ صَاحِبِي تَعْنِي حُرَيْثَ بْنَ حَسَّانَ وَافِدَ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ فَبَايَعَهُ عَلَى الإِسْلَامِ عَلَيْهِ وَعَلَى قَوْمِهِ ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْتُبْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَنِي تَمِيمٍ بِالدَّهْنَاءِ أَنْ لَا يُجَاوِزَهَا إِلَيْنَا مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا مُسَافِرٌ أَوْ مُجَاوِرٌ، فَقَالَ: اكْتُبْ لَهُ يَا غُلَامُ بِالدَّهْنَاءِ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُ قَدْ أَمَرَ لَهُ بِهَا شُخِصَ بِي وَهِيَ وَطَنِي وَدَارِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَمْ يَسْأَلْكَ السَّوِيَّةَ مِنَ الأَرْضِ إِذْ سَأَلَكَ إِنَّمَا هِيَ هَذِهِ الدَّهْنَاءُ عِنْدَكَ مُقَيَّدُ الْجَمَلِ وَمَرْعَى الْغَنَمِ وَنِسَاءُ بَنِي تَمِيمٍ وَأَبْنَاؤُهَا وَرَاءَ ذَلِكَ، فَقَالَ: أَمْسِكْ يَا غُلَامُ صَدَقَتِ الْمِسْكِينَةُ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ يَسَعُهُمَا الْمَاءُ وَالشَّجَرُ وَيَتَعَاوَنَانِ عَلَى الْفَتَّانِ.

عبداللہ بن حسان عنبری کا بیان ہے کہ مجھ سے میری دادی اور نانی صفیہ اور دحیبہ نے حدیث بیان کی یہ دونوں علیبہ کی بیٹیاں تھیں اور قیلہ بنت مخرمہ ؓ کی پروردہ تھیں اور قیلہ ان دونوں کے والد کی دادی تھیں، قیلہ نے ان سے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور ہمارا ساتھی حریث بن حسان جو بکر بن وائل کی طرف پیامبر بن کر آیا تھا ہم سے آگے بڑھ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ گیا، اور آپ سے اسلام پر اپنی اور اپنی قوم کی طرف سے بیعت کی پھر عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے اور بنو تمیم کے درمیان دہناء ١ ؎ کو سرحد بنا دیجئیے، مسافر اور پڑوسی کے سوا اور کوئی ان میں سے آگے بڑھ کر ہماری طرف نہ آئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے غلام! دہناء کو انہیں لکھ کر دے دو ، قیلہ کہتی ہیں: جب میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے دہناء انہیں دے دیا تو مجھے اس کا ملال ہوا کیونکہ وہ میرا وطن تھا اور وہیں میرا گھر تھا، میں نے کہا: اللہ کے رسول! انہوں نے اس زمین کا آپ سے مطالبہ کر کے مبنی پر انصاف مطالبہ نہیں کیا ہے، دہناء اونٹوں کے باندھنے کی جگہ اور بکریوں کی چراگاہ ہے اور بنی تمیم کی عورتیں اور بچے اس کے پیچھے رہتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے غلام رک جاؤ! (مت لکھو) بڑی بی صحیح کہہ رہی ہیں، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ایک دوسرے کے درختوں اور پانی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور مصیبتوں و فتنوں میں ایک دوسرے کی مدد کرسکتے اور کام آسکتے ہیں ۔

Narrated Qaylah bint Makhramah (RA) : Abdullah ibn Hasan al-Anbari said: My grandmothers, Safiyyah and Duhaybah, narrated to me, that hey were the daughters of Ulaybah and were nourished by Qaylah, daughter of Makhramah. She was the grandmother of their father. She reported to them, saying: We came upon the Messenger of Allah ﷺ . My companion, Hurayth ibn Hassan, came to him as a delegate from Bakr ibn Wail. He took the oath of allegiance of Islam for himself and for his people. He then said: Messenger of Allah ﷺ , write a document for us, giving us the land lying between us and Banu Tamim at ad-Dahna to the effect that not one of them will cross it in our direction except a traveller or a passer-by. He said: Write down ad-Dahna for them, boy. When I saw that he passed orders to give it to him, I became anxious, for it was my native land and my home. I said: Messenger of Allah, he did not ask you for a true border when he asked you. This land of Dahna is a place where the camels have their home, and it is a pasture for the sheep. The women of Banu Tamim and their children are beyond it. He said: Stop, boy! A poor woman spoke the truth: a Muslim is a brother of a Muslim. Each one of them may benefit from water and trees, and they should cooperate with each other against Satan.

Notes · وضاحت
١ ؎: دہناء: ایک جگہ کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأدب ٥٠ (٢٨١٤)، (تحفة الأشراف: ١٨٠٤٧) (حسن) (ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود ٧/٣٩٢ )
3071Sunan Abu Dawood

زمین مقطعہ دینا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ جَنُوبٍ بِنْتُ نُمَيْلَةَ، عَنْ أُمِّهَا سُوَيْدَةَ بِنْتِ جَابِرٍ، عَنْ أُمِّهَا عَقِيلَةَ بِنْتِ أَسْمَرَ بْنِ مُضَرِّسٍ، عَنْ أَبِيهَا أَسْمَرَ بْنِ مُضَرِّسٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ، فَقَالَ: مَنْ سَبَقَ إِلَى مَاءٍ لَمْ يَسْبِقْهُ إِلَيْهِ مُسْلِمٌ فَهُوَ لَهُ، قَالَ: فَخَرَجَ النَّاسُ يَتَعَادَوْنَ يَتَخَاطُّونَ.

اسمر بن مضرس ؓ کہتے ہیں میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور میں نے آپ سے بیعت کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی ایسے پانی (چشمے یا تالاب) پر پہنچ جائے (یعنی اس کا کھوج لگالے) جہاں اس سے پہلے کوئی اور مسلمان نہ پہنچا ہو تو وہ اس کا ہے ، (یعنی وہ اس کا مالک و مختار ہوگا) (یہ سن کر) لوگ دوڑتے اور نشان لگاتے ہوئے چلے (تاکہ نشانی رہے کہ ہم یہاں تک آئے تھے) ۔

Narrated Asmar ibn Mudarris: I came to the Prophet ﷺ , and took the oath of allegiance to him. He said: If anyone reaches a water which has not been approached before by any Muslim, it belongs to him. The people, therefore, went out running and marking (on the land).

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٤٥) (ضعیف) (یہ سند مسلسل بالمجاہیل ہے: ام الجنوب سویدة اور عقیلہ سب مجہول ہیں اور عبد الحمید لین الحدیث ہیں )
3072Sunan Abu Dawood

زمین مقطعہ دینا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ حُضْرَ فَرَسِهِ فَأَجْرَى فَرَسَهُ حَتَّى قَامَ، ثُمَّ رَمَى بِسَوْطِهِ فَقَالَ: أَعْطُوهُ مِنْ حَيْثُ بَلَغَ السَّوْطُ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے زبیر ؓ کو اتنی زمین جاگیر میں دی جہاں تک ان کا گھوڑا دوڑ سکے، تو زبیر ؓ نے اپنا گھوڑا دوڑایا اور جہاں گھوڑا رکا اس سے آگے انہوں نے اپنا کوڑا پھینک دیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دے دو زبیر کو جہاں تک ان کا کوڑا پہنچا ہے ۔

Narrated Abdullah ibn Umar (RA) : The Prophet ﷺ gave az-Zubayr the land as a fief up to the reach of his horse when he runs. He, therefore, made his horse run until it stopped. He then threw his flog. Thereupon he said: Give him (the land) up to the point where his flog has reached.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٧٧٢٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/١٥٦) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی عبد اللہ بن عمر ضعیف ہیں )
3073Sunan Abu Dawood

لاوارث زمین کو آباد کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ.

سعید بن زید ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ اسی کا ہے (وہی اس کا مالک ہوگا) کسی اور ظالم شخص کی رگ کا حق نہیں ہے ١ ؎۔

Narrated Saeed ibn Zayd: The Prophet ﷺ said: If anyone brings barren land into cultivation, it belongs to him, and the unjust vein has no right.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی کوئی ظالم اس کی آباد اور قابل کاشت بنائی ہوئی زمین کو چھین نہیں سکتا۔
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الأحکام ٣٨ (١٣٧٨)، (تحفة الأشراف: ١٩٠٤٣، ٤٤٦٣)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الأقضیة ٢٤ (٢٦) (صحیح )
3074Sunan Abu Dawood

لاوارث زمین کو آباد کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاق، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُوَذَكَرَ مِثْلَهُ، قَالَ: فَلَقَدْ خَبَّرَنِي الَّذِي حَدَّثَنِي هَذَا الْحَدِيثَ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَرَسَ أَحَدُهُمَا نَخْلًا فِي أَرْضِ الآخَرِ فَقَضَى لِصَاحِبِ الأَرْضِ بِأَرْضِهِ وَأَمَرَ صَاحِبَ النَّخْلِ أَنْ يُخْرِجَ نَخْلَهُ مِنْهَا، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهَا وَإِنَّهَا لَتُضْرَبُ أُصُولُهَا بِالْفُؤُوسِ وَإِنَّهَا لَنَخْلٌ عُمٌّ حَتَّى أُخْرِجَتْ مِنْهَا.

عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ زمین اسی کی ہے ۔ پھر راوی نے اس کے مثل ذکر کیا، راوی کہتے ہیں: جس نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی اسی نے یہ بھی ذکر کیا کہ دو شخص اپنا جھگڑا رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر گئے ایک نے دوسرے کی زمین میں کھجور کے درخت لگا رکھے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے زمین کو اس کی زمین دلا دی، اور درخت والے کو حکم دیا کہ تم اپنے درخت اکھاڑ لے جاؤ میں نے دیکھا کہ ان درختوں کی جڑیں کلہاڑیوں سے کاٹی گئیں اور وہ زمین سے نکالی گئیں، حالانکہ وہ لمبے اور گنجان پورے پورے درخت ہوگئے تھے۔

Narrated Urwah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone brings barren land into cultivation, it belong to him. He then transmitted a similar tradition mentioned above (No. 3067). He (Urwah) said: One who transmitted this tradition to me said that two persons brought their dispute to the Messenger of Allah ﷺ . One of them grew palm trees in the land of the other. He decided to return the land to its owner of the palm-trees to remove his palm-trees. He said: I saw when their roots were being struck with axes. The trees were fully grown up, but they were removed from there.

Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٤٤٦٣) (حسن ) (پچھلی روایت سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ یہ روایت مرسل ہے )
3075Sunan Abu Dawood

لاوارث زمین کو آباد کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقِ، بِإِسْنَادِه وَمَعْنَاهُ، إلا أَنَّهُ قَالَ عِنْدَ قَوْلِهِ مَكَانَ الَّذِي حَدَّثَنِي هَذَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَكْثَرُ ظَنِّي أَنَّهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، فَأَنَا رَأَيْتُ الرَّجُلَ يَضْرِبُ فِي أُصُولِ النَّخْلِ.

ابن اسحاق اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں مگر اس میں الذي حدثني هذا کی جگہ یوں ہے، رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص نے کہا: میرا گمان غالب یہ ہے کہ وہ ابو سعید خدری ؓ رہے ہوں گے کہ میں نے اس آدمی کو دیکھا کہ وہ اپنے درختوں کی جڑیں کاٹ رہا ہے۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Ishaq through a different chain of narrators and to the same effect. Instead of the phrase “one who transmitted this tradition to me” this version has “A man from among the Companions of the Prophet ﷺ and probably he was Abu Saeed Al Khudri. I saw the man striking at the roots of the palm trees. ”

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: (٣٠٧٣)، (تحفة الأشراف: ٤٤٦٣) (حسن) (حدیث نمبر: ٣٠٧٣ سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے ورنہ یہ حدیث مرسل ہے )
3076Sunan Abu Dawood

لاوارث زمین کو آباد کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الْآمُلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنْابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الأَرْضَ أَرْضُ اللَّهِ، وَالْعِبَادَ عِبَادُ اللَّهِ وَمَنْ أَحْيَا مَوَاتًا فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ جَاءَنَا، بِهَذَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ جَاءُوا بِالصَّلَوَاتِ عَنْهُ.

عروہ کہتے ہیں کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے (فیصلہ) فرمایا ہے کہ زمین اللہ کی ہے اور بندے بھی سب اللہ کے بندے ہیں اور جو شخص کسی بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ اس زمین کا زیادہ حقدار ہے، یہ حدیث ہم سے نبی اکرم ﷺ کے واسطہ سے ان لوگوں نے بیان کی ہے جنہوں نے آپ سے نماز کی روایت کی ہے۔

Narrated Urwah (RA) : I testify that the Messenger of Allah ﷺ decided that the land is the land of Allah, and the servants are the servants of Allah. If anyone brings barren land into cultivation, he has more right to it. This tradition has been transmitted to us from the Prophet ﷺ by those who transmitted the traditions about prayer from him.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٦٣٧) (صحیح الإسناد )
3077Sunan Abu Dawood

لاوارث زمین کو آباد کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَحَاطَ حَائِطًا عَلَى أَرْضٍ فَهِيَ لَهُ.

سمرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی بنجر زمین پر دیوار کھڑی کرے تو وہی اس زمین کا حقدار ہے ۔

Narrated Samurah (RA) : The Prophet ﷺ said: If anyone surrounds a land with a wall, it belongs to him.

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ٤٥٩٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٢، ٢١) (ضعیف) (حسن بصری اور قتادہ مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت کئے ہوئے ہیں )
3078Sunan Abu Dawood

لاوارث زمین کو آباد کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، قَالَ هِشَامٌ: الْعِرْقُ الظَّالِمُ أَنْ يَغْرِسَ الرَّجُلُ فِي أَرْضِ غَيْرِهِ فَيَسْتَحِقَّهَا بِذَلِكَ، قَالَ مَالِكٌ: وَالْعِرْقُ الظَّالِمُ كُلُّ مَا أُخِذَ وَاحْتُفِرَ وَغُرِسَ بِغَيْرِ حَقٍّ.

مالک نے خبر دی کہ ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ ظالم رگ سے مراد یہ ہے کہ ایک شخص کسی غیر کی زمین میں درخت لگائے اور پھر اس زمین پر اپنا حق جتائے۔ امام مالک کہتے ہیں: ظالم رگ ہر وہ زمین ہے جو ناحق لے لی جائے یا اس میں گڈھا کھود لیا جائے یا درخت لگا لیا جائے۔

Hisham said “The unjust vein means that a man implants a tree in the land of another man so that they may be entitled to it. Malik said “The unjust vein means that a man takes (a thing) digs a pit and implants a tree without (his) right.

Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم (٣٠٧٣)، (تحفة الأشراف: ٤٤٦٣) (صحیح )
3079Sunan Abu Dawood

لاوارث زمین کو آباد کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ الْعَبَّاسِ السَّاعِدِيِّ يَعْنِي ابْنَ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكَ فَلَمَّا أَتَى وَادِي الْقُرَى إِذَا امْرَأَةٌ فِي حَدِيقَةٍ لَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: اخْرُصُوا، فَخَرَصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَةَ أَوْسُقٍ، فَقَالَ لِلْمَرْأَةِ: أَحْصِي مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، فَأَتَيْنَا تَبُوكَ فَأَهْدَى مَلِكُ أَيْلَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَغْلَةً بَيْضَاءَ وَكَسَاهُ بُرْدَةً وَكَتَبَ لَهُ يَعْنِي بِبَحْرِهِ، قَالَ: فَلَمَّا أَتَيْنَا وَادِي الْقُرَى، قَالَ لِلْمَرْأَةِ: كَمْ كَانَ فِي حَدِيقَتِكِ ؟ قَالَتْ: عَشْرَةَ أَوْسُقٍ خَرْصَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي مُتَعَجِّلٌ إِلَى الْمَدِينَةِ فَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَعَجَّلَ مَعِي فَلْيَتَعَجَّلْ.

ابوحمید ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تبوک (جہاد کے لیے) چلا، جب آپ وادی قری میں پہنچے تو وہاں ایک عورت کو اس کے باغ میں دیکھا، رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے کہا: تخمینہ لگاؤ (کہ باغ میں کتنے پھل ہوں گے) رسول اللہ ﷺ نے دس وسق ١ ؎ کا تخمینہ لگایا، پھر آپ ﷺ نے عورت سے کہا: آپ اس سے جو پھل نکلے اس کو ناپ لینا ، پھر ہم تبوک آئے تو ایلہ ٢ ؎ کے بادشاہ نے آپ ﷺ کے پاس سفید رنگ کا ایک خچر تحفہ میں بھیجا آپ نے اسے ایک چادر تحفہ میں دی اور اسے (جزیہ کی شرط پر) اپنے ملک میں رہنے کی سند (دستاویز) لکھ دی، پھر جب ہم لوٹ کر وادی قری میں آئے تو آپ ﷺ نے اس عورت سے پوچھا: تیرے باغ میں کتنا پھل ہوا؟ اس نے کہا: دس وسق، رسول اللہ ﷺ نے دس وسق ہی کا تخمینہ لگایا تھا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: میں جلد ہی مدینہ کے لیے نکلنے والا ہوں تو تم میں سے جو جلد چلنا چاہے میرے ساتھ چلے ٣ ؎۔

Abu Humaid Al Saeedi said “I went to Tabuk on an expedition along with the Messenger of Allah ﷺ . When he reached Wadi Al Qura, he found a woman in her garden. The Messenger of Allah ﷺ said to his Companions “Assess (the quantity o fruits). The Messenger of Allah ﷺ assessed ten wasqs. ” He said to the woman “Count the produce of it. We then came to Tabuk. ” The monarch of Ailah presented a white mule as a gift to the Messenger of Allah ﷺ . He presented a cloak as a gift o him and wrote a document for his land at sea coast. When we came to Wadi Al Qura he said to the woman “How much is the produce of your garden?” She replied “Ten wasqs which the Messenger of Allah ﷺ had assessed. ” The Messenger of Allah ﷺ said “I am going quickly to Madeenah if any of you intend to go quickly with me, he should make haste. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے اور ایک صاع پانچ رطل (تقریباً ڈھائی کلو) کا۔ ٢ ؎: شام کی ایک آبادی کا نام ہے۔ ٣ ؎: باب سے حدیث کی مطابقت اس طرح ہے کہ: آپ ﷺ نے باغ پر اس عورت کی ملکیت برقرار رکھی اس لئے کہ اس نے اس زمین کو آباد کیا تھا، اور جو کسی بنجر زمین کو آباد کرے وہی اس کا حقدار ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٥٤ (١٤٨١)، والجزیة ٢ (٣١٦١)، صحیح مسلم/الحج ٩٣ (١٣٩٢)، (تحفة الأشراف: ١١٨٩١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/٤٢٤) (صحیح )
3080Sunan Abu Dawood

لاوارث زمین کو آباد کرنے کا بیان

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ كُلْثُومٍ، عَنْ زَيْنَبَ: أَنَّهَا كَانَتْ تَفْلِي رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعِنْدَهُ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، وَنِسَاءٌ مِنْ الْمُهَاجِرَاتِ وَهُنَّ يَشْتَكِينَ مَنَازِلَهُنَّ أَنَّهَا تَضِيقُ عَلَيْهِنَّ وَيُخْرَجْنَ مِنْهَا، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُوَرَّثَ دُورَ الْمُهَاجِرِينَ النِّسَاءُ، فَمَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَوُرِّثَتْهُ امْرَأَتُهُ دَارًا بِالْمَدِينَةِ.

زینب ؓ فرماتی ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے سر مبارک سے جوئیں نکال رہی تھیں، اس وقت عثمان ؓ کی بیوی اور کچھ دوسرے مہاجرین کی عورتیں آپ کے پاس بیٹھیں تھیں اور اپنے گھروں کی شکایت کر رہی تھیں کہ ان کے گھر ان پر تنگ ہوجاتے ہیں، وہ گھروں سے نکال دی جاتی ہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ مہاجرین کی عورتیں ان کے مرنے پر ان کے گھروں کی وارث بنادی جائیں، تو جب عبداللہ بن مسعود ؓ کا انتقال ہوا تو ان کی عورت مدینہ میں ایک گھر کی وارث ہوئی (شاید یہ حکم مہاجرین کے ساتھ خاص ہو) ١ ؎۔

Narrated Zaynab (RA) : She was picking lice from the head of the Messenger of Allah ﷺ while the wife of Uthman ibn Affan and the immigrant women were with him. They complained about their houses that they had been narrowed down to them and they were evicted from them. The Messenger of Allah ﷺ ordered that the houses of the Immigrants should be given to their wives. Thereafter Abdullah ibn Masud died, and his wife inherited his house in Madina.

Notes · وضاحت
١ ؎: مہاجر عورتیں پردیس میں تھیں اور جب ان کے شوہر کے ورثاء شوہر کے گھر سے ان کو نکال دیتے تھے تو ان کو پردیس میں سخت پریشانیوں کا سامنا ہوتا تھا اس لئے گھروں کو ان کے لئے الاٹ کردیا گیا یہ ان کے لئے خاص حکم تھا، تمام حالات میں گھروں میں بھی حسب حصص ترکہ تقسیم ہوگا، اور باب سے تعلق یہ ہے کہ ان کے شوہروں نے خالی جگہوں پر ہی یہ گھر بنائے تھے اس لئے ان کے لئے یہ گھر بطور مردہ زمین کو زندہ کرنے کے حق کے ہوگئے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٨٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٦/٣٦٣) (صحیح الإسناد )
3081Sunan Abu Dawood

جزیہ والی زمین کی خریداری اور اس میں رہائش کا بیان

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى يَعْنِي ابْنَ سُمَيْعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِيأَبُو عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُعَاذٍ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ عَقَدَ الْجِزْيَةَ فِي عُنُقِهِ فَقَدْ بَرِئَ مِمَّا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

معاذ ؓ کہتے ہیں جس نے اپنی گردن میں جزیہ کا قلادہ ڈالا (یعنی اپنے اوپر جزیہ مقرر کرایا) تو وہ رسول اللہ ﷺ کے طریقے سے بری ہوگیا (یعنی اس نے اچھا نہ کیا) ۔

Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : He who put the necklace of jizyah in his neck abandoned the way followed by the Messenger of Allah ﷺ .

Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٣٧٢) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی محمد بن عیسیٰ سیٔ الحفظ ہیں )
3082Sunan Abu Dawood

جزیہ والی زمین کی خریداری اور اس میں رہائش کا بیان

حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَاءِ، حَدَّثَنِي سِنَانُ بْنُ قَيْسٍ، حَدَّثَنِيشَبِيبُ بْنُ نُعَيْمٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَخَذَ أَرْضًا بِجِزْيَتِهَا فَقَدِ اسْتَقَالَ هِجْرَتَهُ وَمَنْ نَزَعَ صَغَارَ كَافِرٍ مِنْ عُنُقِهِ فَجَعَلَهُ فِي عُنُقِهِ فَقَدْ وَلَّى الإِسْلَامَ ظَهْرَهُ، قَالَ: فَسَمِعَ مِنِّي خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ لِي: أَشُبَيْبٌ حَدَّثَكَ ؟ قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: فَإِذَا قَدِمْتَ فَسَلْهُ فَلْيَكْتُبْ إِلَيَّ بِالْحَدِيثِ، قَالَ: فَكَتَبَهُ لَهُ، فَلَمَّا قَدِمْتُ سَأَلَنِي خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ الْقِرْطَاسَ فَأَعْطَيْتُهُ فَلَمَّا قَرَأَهُ تَرَكَ مَا فِي يَدِهِ مِنَ الأَرْضِينَ حِينَ سَمِعَ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ الْيَزَنِيُّ لَيْسَ هُوَ صَاحِبَ شُعْبَةَ.

ابوالدرداء ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے جزیہ والی زمین خرید لی تو اس نے (گویا) اپنی ہجرت فسخ کردی اور جس نے کسی کافر کی ذلت (یعنی جزیہ کو) اس کے گلے سے اتار کر اپنے گلے میں ڈال لیا (یعنی جزیے کی زمین خرید لے کر زراعت کرنے لگا اور جزیہ دینا قبول کرلیا) تو اس نے اسلام کو پس پشت ڈل دیا ۔ (اس حدیث کے راوی سنان) کہتے ہیں: خالد بن معدان نے یہ حدیث مجھ سے سنی تو انہوں نے کہا: کیا شبیب نے تم سے یہ حدیث بیان کی ہے؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: جب تم شبیب کے پاس جاؤ تو ان سے کہو کہ وہ یہ حدیث مجھ کو لکھ بھیجیں۔ سنان کہتے ہیں: (میں نے ان سے کہا) تو شبیب نے یہ حدیث خالد کے لیے لکھ کر (مجھ کو) دی، پھر جب میں خالد بن معدان کے پاس آیا تو انہوں نے قرطاس (کاغذ) مانگا میں نے ان کو دے دیا، جب انہوں نے اسے پڑھا، تو ان کے پاس جتنی خراج کی زمینیں تھیں سب چھوڑ دیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ یزید بن خمیر یزنی ہیں، شعبہ کے شاگرد نہیں ١ ؎۔

Narrated Abud Darda: The Prophet ﷺ said: If anyone takes land by (paying) its jizyah, he renounces his immigration; and if anyone takes off the disgrace of an unbeliever from his neck he turns away his back from Islam. He (the narrator) said: Thereafter Khalid ibn Madan heard this tradition from me, and he said: Has Shubayb narrated it to you? I said: Yes. He said! When you come to him, ask him to write this tradition to me. He said: He then wrote it for him. When I came, Khalid ibn Madan asked me for the paper and I gave it to him. When he read (the paper), he abandoned the lands he had in his possession the moment he heard this. Abu Dawud said: This Yazid bin Khumair al-Yazani is not the disciple of Shubah.

Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حکم غالباً ابتداء اسلام میں تھا یا پھر یہ تہدید ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ صرف کاشتکار بن کر رہ جائے اور جہاد کو بھول جائے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٩٦٩) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی سنان بن قیس لیّن الحدیث ہیں، نیز اس میں بقیہ بھی ہیں جو متکلم فیہ ہیں )
3083Sunan Abu Dawood

امام یا کسی اور شخص کے لئے زمین کو روک لینا (یعنی اس زمین کی گھاس اور پانی وغیرہ لینے سے روک دے)

حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَبَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَى النَّقِيعَ.

صعب بن جثامہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کے سوا کسی اور کے لیے چراگاہ نہیں ہے ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نقیع (ایک جگہ کا نام ہے) کو حمی (چراگاہ) بنایا۔

Al Sab bin Jaththamah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “There is no (permission for) protected land except for Allaah and His Prophet. Ibn Shihab said “It has reached me that the Messenger of Allah ﷺ protected Naqi’. ”

Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المساقاة ١١ (٢٣٧٠)، الجہاد ١٤٦ (٣٠١٢)، (تحفة الأشراف: ٤٩٤١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٧، ٣٨، ٧١، ٧٣) (صحیح )
3084Sunan Abu Dawood

امام یا کسی اور شخص کے لئے زمین کو روک لینا (یعنی اس زمین کی گھاس اور پانی وغیرہ لینے سے روک دے)

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. حمَى النَّقِيعَ، وَقَالَ: لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

صعب بن جثامہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے نقیع کو چراگاہ بنایا، اور فرمایا: اللہ کے سوا کسی اور کے لیے چراگاہ نہیں ہے ١ ؎۔

Narrated As-Sab ibn Jaththamah (RA) : The Prophet ﷺ protected Naqi and said: There is no (permission for) protected land except for Allah Most High.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی حکومت کے مویشی جیسے جہاد سے یا زکاۃ میں حاصل ہونے والے جانوروں کے لیے چراگاہ کو خاص کرنا جائز ہے، اور عام آدمی کسی جگہ یا چشمہ وغیرہ کو اپنے ذاتی استعمال کے لیے روک لے تو یہ صحیح نہیں ہے، یہ حکم ایسی زمینوں کا ہے جو کسی خاص آدمی کی ملکیت اور قبضے میں نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ٤٩٤١) (حسن )
3085Sunan Abu Dawood

رکاز (دفینہ اور کان) کا بیان

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ، سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ، يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ.

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دفینہ میں خمس (پانچواں حصہ) ہے ١ ؎۔

Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: A fifth is payable on buried treasure.

Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی پانچ حصے میں ایک حصہ اللہ و رسول کا ہے باقی چار حصے پانے والے کے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الزکاة ٦٦ (١٤٩٩)، والمساقاة ٣ (٢٣٥٥)، والدیات ٢٨ (٦٩١٢)، ٢٩ (٦٩١٣)، صحیح مسلم/الحدود ١١ (١٧١٠)، سنن الترمذی/الأحکام ٣٧ (١٣٧٧)، سنن النسائی/الزکاة ٢٨ (٢٤٩٤)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٤ (٢٦٧٣)، (تحفة الأشراف: ١٣١٢٨، ١٥١٤٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العقول ١٨ (١٢)، مسند احمد (٢/٢٢٨، ٢٢٩، ٢٥٤، ٢٧٤، ٢٨٥، ٣١٩، ٣٨٢، ٣٨٦، ٤٠٦، ٤١١، ٤١٤، ٤٥٤، ٤٥٦، ٤٦٧، ٤٧٥، ٤٨٢، ٤٩٢، ٤٩٥، ٤٩٩، ٥٠١، ٥٠٧)، سنن الدارمی/الزکاة ٣٠ (١٧١٠)، ویأتی ہذا الحدیث فی الدیات (٤٥٩٣) (صحیح )
3086Sunan Abu Dawood

رکاز (دفینہ اور کان) کا بیان

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: الرِّكَازُ الْكَنْزُ الْعَادِيُّ.

حسن بصری کہتے ہیں کہ رکاز سے مراد جاہلی دور کا مدفون خزانہ ہے ٢ ؎۔

Al hasan said “Rikaz means treasure buried in pre Islamic times. ”

Notes · وضاحت
١ ؎: بعض نسخوں میں یحییٰ بن معین ہے، مزی نے تحفۃ الاشراف میں ابن معین ہی لکھا ہے۔ ٢ ؎: حسن بصری نے رکاز کی تعریف الکنز العادی سے کی، یعنی زمانہ جاہلیت میں دفن کیا گیا خزانہ، اور ہر پرانی چیز کو عادی عاد سے منسوب کر کے کہتے ہیں، گرچہ عاد کا عہد نہ ملا ہو، حسن بصری کی یہ تفسیر لؤلؤئی کے سنن ابی داود کے نسخے میں نہیں ہے، امام مزی نے اسے تحفۃ الأشراف میں ابن داسہ کی روایت سے ذکر کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٨٥٥٥) (صحیح )
3087Sunan Abu Dawood

رکاز (دفینہ اور کان) کا بیان

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنَا الزَّمْعِيُّ، عَنْ عَمَّتِهِ قُرَيْبَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْأُمِّهَا كَرِيمَةَ بِنْتِ الْمِقْدَادِ،عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمٍ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهَا، قَالَتْ: ذَهَبَ الْمِقْدَادُلِحَاجَتِهِ بِبَقِيعِ الْخَبْخَبَةِ، فَإِذَا جُرَذٌ يُخْرِجُ مِنْ جُحْرٍ دِينَارًا، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُخْرِجُ دِينَارًا دِينَارًا حَتَّى أَخْرَجَ سَبْعَةَ عَشَرَ دِينَارًا، ثُمَّ أَخْرَجَ خِرْقَةً حَمْرَاءَ يَعْنِي فِيهَا دِينَارٌ، فَكَانَتْ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ دِينَارًا، فَذَهَبَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ وَقَالَ لَهُ: خُذْ صَدَقَتَهَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ هَوَيْتَ إِلَى الْجُحْرِ ؟ قَالَ: لَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِيهَا.

ضباعۃ بنت زبیر بن عبدالمطلب بن ہاشم سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں مقداد اپنی ضرورت سے بقیع خبخبہ ١ ؎ گئے وہاں کیا دیکھتے ہیں کہ ایک چوہا سوراخ سے ایک دینار نکال رہا ہے (وہ دیکھتے رہے) وہ ایک کے بعد ایک دینار نکالتا رہا یہاں تک کہ اس نے (١٧) دینار نکالے، پھر اس نے ایک لال تھیلی نکالی جس میں ایک دینار اور تھا، یہ کل (١٨) دینار ہوئے، مقداد ان دیناروں کو لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ کو پورا واقعہ بتایا اور عرض کیا: اس کی زکاۃ لے لیجئے، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: کیا تم نے سوراخ کا قصد کیا تھا ، انہوں نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تمہیں اس مال میں برکت عطا فرمائے ۔

Narrated Dubaah daughter of az-Zubayr ibn Abdul Muttalib: Al-Miqdad went to Baqi al-Khabkhabah for a certain need. He found a mouse taking out a dinar from a hole. It then continued to take out dinars one by one until it took out seventeen dinars. It then took out a red purse containing a dinar. There were thus eighteen dinars. He took them to the Prophet ﷺ , informed him and said to him: Take its sadaqah. The Prophet ﷺ asked him: Did you extend your hand toward the hole? He replied: No. The Messenger of Allah ﷺ then said: May Allah bless you in it.

Notes · وضاحت
١ ؎: مدینہ کے اطراف میں ایک گاؤں کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأحکام ٣ (٢٥٠٨)، (تحفة الأشراف: ١١٥٥٠) (ضعیف) (اس کی راویہ قریبہ لین الحدیث ہیں )