ابیض بن حمال ؓ کہتے ہیں کہ جب وہ وفد میں شامل ہو کر رسول اللہ کے پاس آئے تو آپ سے صدقے کے متعلق بات چیت کی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے سبائی بھائی! (سبا یمن کے ایک شہر کا نام ہے) صدقہ دینا تو ضروری ہے ، ابیض بن حمال نے کہا: اللہ کے رسول! ہماری زراعت تو صرف کپاس (روئی) ہے، (سبا اب پہلے والا سبا نہیں رہا) سبا والے متفرق ہوگئے (یعنی وہ شہر اور وہ آبادی اب نہیں رہی جو پہلے بلقیس کے زمانہ میں تھی، اب تو بالکل اجاڑ ہوگیا ہے) اب کچھ تھوڑے سے سبا کے باشندے مارب (ایک شہر کا نام ہے) میں رہ رہے ہیں، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے ہر سال کپڑے کے ایسے ستر جوڑے دینے پر مصالحت کرلی جو معافر ١ ؎ کے ریشم کے جوڑے کی قیمت کے برابر ہوں، وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی وفات تک برابر یہ جوڑے ادا کرتے رہے، رسول اللہ ﷺ کے انتقال کے بعد عمال نے رسول ﷺ کے ابیض بن حمال سے سال بہ سال ستر جوڑے دیتے رہنے کے معاہدے کو توڑ دیا، پھر ابوبکر ؓ نے سال میں ستر جوڑے دئیے جانے کے رسول اللہ ﷺ کے اس حکم کو دوبارہ جاری کردیا، پھر جب ابوبکر ؓ کا انتقال ہوا تو یہ معاہدہ بھی ٹوٹ گیا اور ان سے بھی ویسے ہی صدقہ لیا جانے لگا جیسے دوسروں سے لیا جاتا تھا۔
Narrated Abyad ibn Hammal (RA) : Abyad spoke to the Messenger of Allah ﷺ about sadaqah when he came along with a deputation to him. He replied: O brother of Saba, sadaqah is unavoidable. He said: We cultivated cotton, Messenger of Allah. The people of Saba scattered, and there remained only a few at Maarib. He therefore concluded a treaty of peace with the Messenger of Allah ﷺ to give seventy suits of cloth, equivalent to the price of the Yemeni garments known as al-muafir, to be paid every year on behalf of those people of Saba who remained at Maarib. They continued to pay them till the Messenger of Allah ﷺ died. The governors after the death of the Messenger of Allah ﷺ broke the treaty concluded by Abyad by Hammal with the Messenger of Allah ﷺ to give seventy suits of garments. Abu Bakr then revived it as the Messenger of Allah ﷺ had done till Abu Bakr died. When Abu Bakr died, it was discontinued and the sadaqah was levied.
Notes · وضاحت
١ ؎: یمن میں ایک جگہ کا نام ہے جہاں کپڑے بنے جاتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٢) (ضعیف الإسناد) (اس کے دو راوی ثابت بن سعید اور سعید بن ابیض لین الحدیث ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (اپنی وفات کے وقت) تین چیزوں کی وصیت فرمائی (ایک تو یہ) کہا کہ مشرکوں کو جزیرۃ العرب سے نکال دینا، دوسرے یہ کہ وفود (ایلچیوں) کے ساتھ ایسے ہی سلوک کرنا جیسے میں ان کے ساتھ کرتا ہوں۔ عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں: اور تیسری چیز کے بارے میں انہوں نے سکوت اختیار کیا یا کہا کہ (نبی اکرم ﷺ نے ذکر تو کیا) لیکن میں ہی اسے بھلا دیا گیا۔ حمیدی سفیان سے روایت کرتے ہیں کہ سلیمان نے کہا کہ مجھے یاد نہیں، سعید نے تیسری چیز کا ذکر کیا اور میں بھول گیا یا انہوں نے ذکر ہی نہیں کیا خاموش رہے۔
Ibn Abbas said that the Prophet ﷺ gave three instructions saying “Expel the polytheists from Arabia, reward deputations as I did”. Ibn Abbas said “He either did not mention the third or I have been caused to forget it. Al Humaidi said on the authority of Sufyan that Sulaiman said “I do not know whether Saeed mentioned the third and I forgot or he himself did not mention it. ”
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھے عمر بن خطاب ؓ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: میں جزیرہ عرب سے یہود و نصاری کو ضرور با لضرور نکال دوں گا اور اس میں مسلمانوں کے سوا کسی کو نہ رہنے دوں گا ۔
Jabir bin Abdullah said that he was told by Umar bin Al Khattab that he heard the Messenger of Allah ﷺ say “I will certainly expel the Jews and the Christians from Arabia and I shall leave only Muslims in it. ”
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجھاد ٢١ (١٧٦٧)، سنن الترمذی/السیر ٤٣ (١٦٠٧)، (تحفة الأشراف: ١٠٤١٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (١/٢٩، ٣٢، ٣/٣٤٥) (صحیح )
اس سند سے بھی عمر ؓ سے اسی کی ہم معنی حدیث مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، لیکن پہلی حدیث زیادہ کامل ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Umar through a different chain of narrators. ” He said “The Messenger of Allah ﷺ said to the same effect. The former version is ore perfect. ”
سعید یعنی ابن عبدالعزیز سے روایت ہے کہ جزیرہ عرب وادی قریٰ سے لے کر انتہائے یمن تک عراق کی سمندری حدود تک ہے۔
Saeed bin Abd Al Aziz said “Arabia lies between Al Wadi to the extremes of the Yemen extending to the frontiers of Al Iraq and the sea. ” Abu Dawud said “This tradition was read out to Al Harith bin Miskin while I was a witness”. Ashhab bin Abd Al Aziz reported it to you on the authority of Malik who said Umar expelled the people of Najran, but he did not expel (them) from Taima. For it did not fall within the territory of Arabia. As for Al Wadi, I think the Jews were not expelled from there. They did not think it a part of the land of Arabia.
ابوداؤد کہتے ہیں: حارث بن مسکین کے سامنے یہ پڑھا گیا اور میں وہاں موجود تھا کہ اشہب بن عبدالعزیز نے آپ کو خبر دی ہے کہ مالک کہتے ہیں کہ عمر ؓ نے اہل نجران ١ ؎ کو جلا وطن کیا، اور تیماء سے جلا وطن نہیں کیا، اس لیے کہ تیماء ٢ ؎ بلاد عرب میں شامل نہیں ہے، رہ گئے وادی قریٰ کے یہودی تو میرے خیال میں وہ اس وجہ سے جلا وطن نہیں کئے گئے کہ ان لوگوں نے وادی قری کو عرب کی سر زمین میں سے نہیں سمجھا۔
Malik said “Umar expelled the Jews of Najran and Fadak. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: شام و حجاز کے درمیان ایک گاؤں ہے۔ ٢ ؎: سمندر کے قریب شام کے نواح میں ایک مقام ہے۔
مالک کہتے ہیں عمر ؓ نے نجران و فدک کے یہودیوں کو جلا وطن کیا (کیونکہ یہ دونوں عرب کی سرحد میں ہیں) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٢٥١) (منقطع) (امام مالک نے اپنی سند کا ذکر نہیں کیا اس لئے انقطاع ہے)
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٩٢٥٢) (ضعیف) (سند میں امام مالک اور عمر ؓ کے درمیان انقطاع ہے لیکن اسی معنی کی پچھلی حدیث کی سند صحیح ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (ایک وقت آئے گا) جب عراق اپنے پیمانے اور روپے روک دے گا اور شام اپنے مدوں اور اشرفیوں کو روک دے گا اور مصر اپنے اردبوں ٢ ؎ اور اشرفیوں کو روک دے گا ٣ ؎ پھر (ایک وقت آئے گا جب) تم ویسے ہی ہوجاؤ گے جیسے شروع میں تھے ٤ ؎، (احمد بن یونس کہتے ہیں:) زہیر نے یہ بات (زور دینے کے لیے) تین بار کہی اور ابوہریرہ ؓ کے گوشت و خون (یعنی ان کی ذات) نے اس کی گواہی دی۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “Irqa will prevent its measure (qafiz) and dirham. Syria will prevent its measure (mudi) and dinar. Egypt will prevent its measure (ardabb) and dinar. Then you will return to the position where you started. Zubair said this three times. The flesh and blood of Abu Hurairah witnessed to it.
Notes · وضاحت
١ ؎: سواد سے مراد عراق کے دیہات کی وہ زمینیں ہیں جنہیں مسلمانوں نے عمر ؓ کے عہد میں حاصل کیا، یہ اپنے کھجور کے باغات اور زراعت کی ہریالی کی وجہ سے سواد کے نام سے مشہور ہے، اور اس کی لمبائی موصل سے عبدان تک اور چوڑائی قادسیہ سے حلوان تک ہے۔ امام ابن القیم فرماتے ہیں کہ مفتوحہ زمینیں مال غنیمت میں داخل نہیں ہیں، امام کو مصلحت کے اعتبار سے اس کے تصرف کے بارے میں اختیار ہے، رسول اللہ ﷺ نے اسے تقسیم بھی کیا ہے، اور چھوڑا بھی ہے، عمر ؓ نے تقسیم نہ کر کے اس کو جوں کا توں رکھا اور اس پر مستقل خراج (محصول) مقرر کردیا، جو فوجیوں کے استعمال میں آئے، یہ اس زمین (ارض سواد) کے وقف کا معنی ہے، اس کا معنی اصطلاحی وقف نہیں ہے، جس کی ملکیت منتقل نہیں ہوسکتی بلکہ اس زمین کا بیچنا جائز ہے، جس پر امت کا عمل ہے، اور اس بات پر اجماع ہے کہ یہ وراثت میں منتقل ہوگی، اور وقف میں وراثت نہیں ہے، امام احمد نے یہ تنصیص فرمائی ہے کہ اس (ارض سواد) کو مہر میں دیا جاسکتا ہے، اور وقف کو مہر میں دینا جائز نہیں ہے، اور اس واسطے بھی کہ وقف کی بیع ممنوع ہے، ایسے ہی اس کی نقل ملکیت بھی ممنوع ہے، اس لیے کہ جن لوگوں کے لیے وقف ہوتا ہے، وہ اس سے فائدہ نہ اٹھا سکیں گے، اور فوجیوں کا حق زمین (ارض سواد) کے خراج (محصول) میں ہے، تو جس نے اس زمین کو خرید لیا وہ اس کے خراج کا مستحق ہوگیا، جیسے کہ کوئی چیز بائع کے یہاں ہوتی ہے (تو جب مشتری کے یہاں منتقل ہوتی ہے، تو اس کا نفع بھی منتقل ہوجاتا ہے)، تو اس بیع سے کسی مسلمان کا حق باطل نہیں ہوتا، جیسے کہ میراث، ہبہ اور صدقہ سے باطل نہیں ہوتا۔ (انتہی مختصراً ) مسلمانوں نے جن علاقوں کو جنگ کے ذریعہ حاصل کیا اس کے بارے میں اختلاف ہے، امام ابن منذر کہتے ہیں کہ امام شافعی اس بات کی طرف گئے ہیں کہ عمر ؓ نے ان مجاہدین کو راضی کرلیا تھا جنہوں نے علاقہ سواد کو فتح کیا تھا اور مال غنیمت میں اس کے حق دار تھے، اور طاقت سے حاصل کی گئی زمین کا حکم یہ ہے کہ وہ تقسیم کی جائے گی، جیسے کہ نبی اکرم ﷺ نے خیبر کی زمین کو تقسیم فرمایا تھا، امام مالک کہتے ہیں کہ مال غنیمت میں حاصل ہونے والی یہ زمینیں تقسیم نہیں کی جائیں گی بلکہ یہ وقف رہیں گی، اور اس کے محصول سے فوجیوں کے وظائف، پل بنانا اور دوسرے کار خیر کیے جائیں گے، ہاں اگر امام کبھی یہ دیکھے کہ مصلحت کا تقاضا اس کا تقسیم کردینا ہے تو وہ اس زمین کو تقسیم کرسکتا ہے، ابوعبید نے کتاب الأموال میں حارثہ بن مضرب سے نقل کیا ہے کہ عمر ؓ نے سواد کی زمین کو تقسیم کرنے کا ارادہ فرمایا اور اس سلسلے میں مشورہ کیا تو علی ؓ نے آپ سے عرض کیا کہ اسے مسلمانوں کے مفاد عامہ کے لیے چھوڑ دیجئے، تو آپ نے اسے مجاہدین میں تقسیم نہ کر کے اس کو ایسے ہی چھوڑ دیا، اور عبداللہ بن ابی قیس سے یہ نقل کیا کہ عمر ؓ نے ارض سواد کی تقسیم کا ارادہ فرمایا تو معاذ ؓ نے ان سے عرض کیا کہ اگر آپ اسے تقسیم کردیں گے تو اس کی بڑی آمدنی لوگوں کے پاس چلی جائے گی اور لوگوں کے فوت ہوجانے کے بعد وہ ایک مرد یا ایک عورت کے ہاتھ میں چلی جائے گی، اور دوسرے ضرورت مند مسلمان آئیں گے تو انہیں کچھ نہ ملے گا، تو آپ کوئی ایسا راستہ اختیار کیجئے جس سے پہلے اور بعد کے سارے مسلمان فائدہ اٹھائیں، تو عمر ؓ نے اس زمین کی تقسیم کو مؤخر کردیا، اور غنیمت پانے والے مجاہدین اور بعد کے آنے والے لوگوں کی مصلحت کے لیے اس پر محصول لگا دیا۔ (عون المعبود شرح سنن ابی داود ٨/١٩٤، ١٩٥) ٢ ؎: اردب ایک پیمانہ کا نام ہے۔ ٣ ؎: یعنی ان ممالک کی دولت پر تم قابض ہوجاؤ گے۔ ٤ ؎: یعنی یہ ساری دولت تم سے چھِن جائے گی۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفتن وأشراط الساعة ٨ (٢٨٩٦)، (تحفة الأشراف: ١٢٦٥٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٢٦٢)، (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس بستی میں تم آؤ اور وہاں رہو تو جو تمہارا حصہ ہے وہی تم کو ملے گا ١ ؎ اور جس بستی کے لوگوں نے اللہ و رسول کی نافرمانی کی (اور اسے تم نے زور و طاقت سے زیر کیا) تو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ و رسول کا نکال کر باقی تمہیں مل جائے گا (یعنی بطور غنیمت مجاہدین میں تقسیم ہوجائے گا) ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “Whatever town you come to and stay in, your portion is in it, but whatever town disobeys Allaah and His Messenger a fifth of it goes to Allaah and His Messenger and what remains is yours. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی غنیمت کی طرح وہ گاؤں تم میں تقسیم نہ ہوگا، کیونکہ بغیر جنگ کے حاصل ہوا ہے بلکہ امام کو اختیار ہے کہ جس کو جس قدر چاہے اس میں سے دے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الجھاد ٥ (١٧٥٦)، (تحفة الأشراف: ١٤٧٢٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٣١٧) (صحیح )
انس ؓ سے (مرفوعاً ) اور عثمان بن ابو سلیمان سے (مرسلاً ) روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے خالد بن ولید کو اکیدر ١ ؎ دومہ کی طرف بھیجا، تو خالد اور ان کے ساتھیوں نے اسے گرفتار کرلیا اور آپ ﷺ کے پاس لے آئے، آپ نے اس کا خون معاف کردیا اور جزیہ پر اس سے صلح کرلی۔
Narrated Anas ibn Malik ; Uthman ibn Abu Sulayman (RA) : The Prophet ﷺ sent Khalid ibn al-Walid to Ukaydir of Dumah. He was seized and they brought him to him (i. e. the Prophet). He spared his life and made peace with him on condition that he should pay jizyah (poll-tax).
Notes · وضاحت
١ ؎: اکیدر شہر دومہ کا نصرانی بادشاہ تھا اور رسول اللہ ﷺ نے اسے زندہ پکڑ لانے کا حکم دیا تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٩٣٧، ١٩٠٠٢) (حسن )
معاذ ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں یمن کی طرف (حاکم بنا کر) بھیجا، تو انہیں حکم دیا کہ ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر قیمت کا معافری کپڑا جو یمن میں تیار ہوتا ہے جزیہ لیں۔
Narrated Muadh ibn Jabal (RA) : When the Prophet ﷺ sent him to the Yemen, he ordered to take from everyone who had reached puberty one dinar or its equivalent in Muafiri garment of Yemen origin.
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الزکاة ٨ (٢٤٥٥)، (تحفة الأشراف: ١١٣١٢)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزکاة ٥ (٦٢٣)، سنن ابن ماجہ/الزکاة ١٢ (١٨٠٣)، مسند احمد (٥/٢٣٠، ٢٣٣، ٢٤٧) (صحیح )
زیاد بن حدیر کہتے ہیں کہ علی ؓ نے کہا: اگر میں زندہ رہا تو بنی تغلب کے نصاریٰ کے لڑنے کے قابل لوگوں کو قتل کر دوں گا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لوں گا کیونکہ ان کے اور نبی اکرم ﷺ کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا وہ عہد نامہ میں نے ہی لکھا تھا اس میں تھا کہ وہ اپنی اولاد کو نصرانی نہ بنائیں گے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ حدیث منکر ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ امام احمد بھی اس حدیث کا نہایت سختی سے انکار کرتے تھے۔ ابوعلی کہتے ہیں: ابوداؤد نے دوسری بار جب اس کتاب کو سنایا تو اس میں اس حدیث کو نہیں پڑھا۔
Ali said “If I survive for the Christians of Banu Taghlib I shall kill fighters and captivate children for I had written a document between them and the Prophet ﷺ to the effect that they would not make their children Christian. Abu Dawud said “This is rejected (munkar) tradition and it has reached me from Ahmad (bin Hanbal) that he used to reject this tradition seriously. Abu Ali said “Abu Dawud did not present this (tradition) in this second reading. ”
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٠٩٧) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوة عبد الرحمن، شریک اور ابراہیم حافظے کے کمزور راوی ہیں )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل نجران سے اس شرط پر صلح کی کہ وہ کپڑوں کے دو ہزار جوڑے مسلمانوں کو دیا کریں گے، آدھا صفر میں دیں، اور باقی ماہ رجب میں، اور تیس زرہیں، تیس گھوڑے اور تیس اونٹ اور ہر قسم کے ہتھیاروں میں سے تیس تیس ہتھیار جس سے مسلمان جہاد کریں گے بطور عاریت دیں گے، اور مسلمان ان کے ضامن ہوں گے اور (ضرورت پوری ہوجانے پر) انہیں لوٹا دیں گے اور یہ عاریۃً دینا اس وقت ہوگا جب یمن میں کوئی فریب کرے (یعنی سازش کر کے نقصان پہنچانا چاہے) یا مسلمانوں سے غداری کرے اور عہد توڑے (اور وہاں جنگ در پیش ہو) اس شرط پر کہ ان کا کوئی گرجا نہ گرایا جائے گا، اور کوئی پادری نہ نکالا جائے گا، اور ان کے دین میں مداخلت نہ کی جائے گی، جب تک کہ وہ کوئی نئی بات نہ پیدا کریں یا سود نہ کھانے لگیں۔ اسماعیل سدی کہتے ہیں: پھر وہ سود کھانے لگے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب انہوں نے اپنے اوپر لاگو بعض شرائط توڑ دیں تو نئی بات پیدا کرلی (اور وہ ملک عرب سے نکال دئیے گئے) ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah ﷺ concluded peace with the people of Najran on condition that they would pay to Muslims two thousand suits of garments, half of Safar, and the rest in Rajab, and they would lend (Muslims) thirty coats of mail, thirty horses, thirty camels, and thirty weapons of each type used in battle. Muslims will stand surely for them until they return them in case there is any plot or treachery in the Yemen. No church of theirs will be demolished and no clergyman of theirs will be turned out. There will be no interruption in their religion until they bring something new or take usury. Ismail said: They took usury. Abu Dawud said: If they violate any provision of the treaty, they will be deemed as bringing something new.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٣٦١) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی اسماعیل سدی کا ابن عباس سے سماع ثابت نہیں )
عمرو بن دینار سے روایت ہے، انہوں نے بجالہ کو عمرو بن اوس اور ابوشعثاء سے بیان کرتے سنا کہ میں احنف بن قیس کے چچا جزء بن معاویہ کا منشی (کاتب) تھا، کہ ہمارے پاس عمر ؓ کا خط ان کی وفات سے ایک سال پہلے آیا (اس میں لکھا تھا کہ) : ہر جادوگر کو قتل کر ڈالو، اور مجوس کے ہر ذی محرم کو دوسرے محرم سے جدا کر دو، ١ ؎ اور انہیں زمزمہ (گنگنانے اور سر سے آواز نکالنے) سے روک دو ، تو ہم نے ایک دن میں تین جادوگر مار ڈالے، اور جس مجوسی کے بھی نکاح میں اس کی کوئی محرم عورت تھی تو اللہ کی کتاب کے مطابق ہم نے اس کو جدا کردیا، احنف بن قیس نے بہت سارا کھانا پکوایا، اور انہیں (کھانے کے لیے) بلوا بھیجا، اور تلوار اپنی ران پر رکھ کر بیٹھ گیا تو انہوں نے کھانا کھایا اور وہ گنگنائے نہیں، اور انہوں نے ایک خچر یا دو خچروں کے بوجھ کے برابر چاندی (بطور جزیہ) لا کر ڈال دی تو عمر ؓ نے مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیا جب تک کہ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے گواہی نہ دے دی کہ رسول اللہ ﷺ نے ہجر ٢ ؎ کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا۔
Narrated Umar ibn al-Khattab (RA) : Amr ibn Aws and AbulShatha reported that Bujalah said: I was secretary to Jaz ibn Muawiyah, the uncle of Ahnaf ibn Qays. A letter came to us from Umar one year before his death, saying: Kill every magician, separate the relatives of prohibited degrees from the Magians, and forbid them to murmur (before eating). So we killed three magicians in one day, and separated from a Magian husband his wife of a prohibited degree according to the Book of Allah. He prepared abundant food and called them, and placed the sword on his thigh. They ate (the food) but did not murmur. They threw (on the ground) one or two mule-loads of silver. Umar did not take jizyah from Magians until Abdur Rahman ibn Awf witnessed that the Messenger of Allah ﷺ had taken jizyah from the Magians of Hajar.
Notes · وضاحت
١ ؎: غالباً مجوسی اپنی بہن، خالہ وغیرہ سے شادی کرتے رہے ہوں گے۔ ٢ ؎: بحرین کے ایک گاؤں کا نام ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجزیة ١ (٣١٥٦)، سنن الترمذی/السیر ٣١ (١٥٨٦)، (تحفة الأشراف: ٩٧١٧)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الزکاة ٢٤ (٤١)، مسند احمد (١/١٩٠، ١٩٤) (صحیح )
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ بحرین کے رہنے والے اسبذیوں ١ ؎ (ہجر کے مجوسیوں) میں کا ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کے پاس تھوڑی دیر ٹھہرا رہا پھر نکلا تو میں نے اس سے پوچھا: اللہ اور اس کے رسول نے تم سب کے متعلق کیا فیصلہ کیا؟ وہ کہنے لگا: برا فیصلہ کیا، میں نے کہا: چپ (ایسی بات کہتا ہے) اس پر اس نے کہا: فیصلہ کیا ہے کہ یا تو اسلام لاؤ یا قتل ہوجاؤ۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں: عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے ان سے جزیہ لینا قبول کرلیا۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں: تو لوگوں نے عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کے قول پر عمل کیا اور اسبذی سے جو میں نے سنا تھا اسے چھوڑ دیا (عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کے مقابل میں کافر اسبذی کے قول کا کیا اعتبار) ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : A man belonging to Usbadhiyin of the people of Bahrayn, who were the Magians of Hajar, came to the Messenger of Allah ﷺ and remained with him (for some time), and then came out. I asked him: What have Allah and His Messenger of Allah decided for you? He replied: Evil. I said: Silent. He said: Islam or killing. Abdur Rahman ibn Awf said: He accepted jizyah from them. Ibn Abbas said: The people followed the statement of Abdur Rahman ibn Awf, and they left that which I heard from the Usbadhi.
Notes · وضاحت
١ ؎: اسبذی منسوب ہے اسپ کی طرف، اسپ فارسی میں گھوڑے کو کہتے ہیں، ممکن ہے وہ یا اس کے باپ دادا گھوڑے کو پوجتے رہے ہوں اسی وجہ سے انہیں اسبذی کہا جاتا ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٣٧١، ٩٧٢٣، ١٥٦١٣) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی قشیر مجہول الحال ہیں )
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ہشام بن حکیم بن حزام ؓ نے حمص کے ایک عامل (محصل) کو دیکھا کہ وہ کچھ قبطیوں (عیسائیوں) سے جزیہ وصول کرنے کے لیے انہیں دھوپ میں کھڑا کر کے تکلیف دے رہا تھا، تو انہوں نے کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ اللہ عزوجل ایسے لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیا کرتے ہیں ١ ؎۔
Urwa bin Al Zubair said “Hisham bin Halim bin Hizam found a man who was the governor of Hims making some Copts stand in the sun for the payment of jizyah. He said “What is this?” I heard the Messenger ﷺ as saying “Allaah Most High will punish those who punish the people in this world. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ظلم کرتے ہیں، اور لوگوں کو جرم اور قصور سے زیادہ سزا دیتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البر والصلة ٣٣ (٢٦١٣)، (تحفة الأشراف: ١١٧٣٠)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٠٤، ٤٦٨) (صحیح )
حرب بن عبیداللہ کے نانا (جو بنی تغلب سے ہیں) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عشر (دسواں حصہ) یہود و نصاریٰ سے لیا جائے گا اور مسلمانوں پر دسواں حصہ (مال تجارت میں) نہیں ہے (بلکہ ان سے چالیسواں حصہ لیا جائے گا۔ البتہ پیداوار اور زراعت میں ان سے دسواں حصہ لیا جائے گا) ۔
Narrated Ubaydullah (RA) : Harb ibn Ubaydullah told on the authority of his grandfather, his mothers father, that he had it on the authority of his father that the Messenger of Allah ﷺ said: Tithes are to be levied on Jews and Christians, but not on Muslims.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: ١٥٥٤٦، ١٨٤٨٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٧٤، ٤/٣٢٢) (ضعیف) (اس کے راوی حرب بن عبیداللہ لین الحدیث ہیں نیز ان کے شیخ کے بارے میں سخت اضطراب ہے، دیکھیں اگلی روایتوں کی سندیں )
حرب بن عبیداللہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے لیکن عشور کی جگہ خراج کا لفظ ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Harb bin Ubaid Allah from the Prophet ﷺ to the same effect through a different chain of narrators. This version has the word kharaj (land tax) instead of ‘ushr (tithes).
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: ١٥٥٤٦، ١٨٤٨٩) (ضعیف) (حرب بن عبیداللہ لین الحدیث ہیں، نیز روایت مرسل ہے )