جزیہ لینے کا بیان
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ، حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْعَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى أُكَيْدِرِ دُومَةَ فَأُخِذَ فَأَتَوْهُ بِهِ، فَحَقَنَ لَهُ دَمَهُ وَصَالَحَهُ عَلَى الْجِزْيَةِ.
انس ؓ سے (مرفوعاً ) اور عثمان بن ابو سلیمان سے (مرسلاً ) روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے خالد بن ولید کو اکیدر ١ ؎ دومہ کی طرف بھیجا، تو خالد اور ان کے ساتھیوں نے اسے گرفتار کرلیا اور آپ ﷺ کے پاس لے آئے، آپ نے اس کا خون معاف کردیا اور جزیہ پر اس سے صلح کرلی۔
Narrated Anas ibn Malik ; Uthman ibn Abu Sulayman (RA) : The Prophet ﷺ sent Khalid ibn al-Walid to Ukaydir of Dumah. He was seized and they brought him to him (i. e. the Prophet). He spared his life and made peace with him on condition that he should pay jizyah (poll-tax).