Sunan Abu Dawood 3044

محصول غنیمت اور امارت وخلافت سے متعلق ابتداء

3044Sunan Abu Dawood

مجوسیوں سے جزیہ لینے کا بیان

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ قُشَيْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ بَجَالَةَ بْنِ عَبْدَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الأَسْبَذِيِّينَ مِنْ أَهْلِ الْبَحْرَيْنِ وَهُمْ مَجُوسُ أَهْلِ هَجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَكَثَ عِنْدَهُ، ثُمَّ خَرَجَ فَسَأَلْتُهُ مَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ فِيكُمْ ؟ قَالَ: شَرٌّ قُلْتُ: مَهْ قَالَ: الْإِسْلَامُ أَوِ الْقَتْلُ، قَالَ: وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ قَبِلَ مِنْهُمُ الْجِزْيَةَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَأَخَذَ النَّاسُ بِقَوْلِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَتَرَكُوا مَا سَمِعْتُ أَنَا مِنْ الْأَسْبَذِيِّ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ بحرین کے رہنے والے اسبذیوں ١ ؎ (ہجر کے مجوسیوں) میں کا ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کے پاس تھوڑی دیر ٹھہرا رہا پھر نکلا تو میں نے اس سے پوچھا: اللہ اور اس کے رسول نے تم سب کے متعلق کیا فیصلہ کیا؟ وہ کہنے لگا: برا فیصلہ کیا، میں نے کہا: چپ (ایسی بات کہتا ہے) اس پر اس نے کہا: فیصلہ کیا ہے کہ یا تو اسلام لاؤ یا قتل ہوجاؤ۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں: عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ آپ نے ان سے جزیہ لینا قبول کرلیا۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں: تو لوگوں نے عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کے قول پر عمل کیا اور اسبذی سے جو میں نے سنا تھا اسے چھوڑ دیا (عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کے مقابل میں کافر اسبذی کے قول کا کیا اعتبار) ۔

Narrated Abdullah ibn Abbas (RA) : A man belonging to Usbadhiyin of the people of Bahrayn, who were the Magians of Hajar, came to the Messenger of Allah ﷺ and remained with him (for some time), and then came out. I asked him: What have Allah and His Messenger of Allah decided for you? He replied: Evil. I said: Silent. He said: Islam or killing. Abdur Rahman ibn Awf said: He accepted jizyah from them. Ibn Abbas said: The people followed the statement of Abdur Rahman ibn Awf, and they left that which I heard from the Usbadhi.

Notes · وضاحت
١ ؎: اسبذی منسوب ہے اسپ کی طرف، اسپ فارسی میں گھوڑے کو کہتے ہیں، ممکن ہے وہ یا اس کے باپ دادا گھوڑے کو پوجتے رہے ہوں اسی وجہ سے انہیں اسبذی کہا جاتا ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٥٣٧١، ٩٧٢٣، ١٥٦١٣) (ضعیف الإسناد) (اس کے راوی قشیر مجہول الحال ہیں )