ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھیں، کہتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں جیت گئی، پھر جب میرا بدن بھاری ہوگیا تو میں نے آپ سے (دوبارہ) مقابلہ کیا تو آپ جیت گئے، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا: یہ جیت اس جیت کے بدلے ہے ۔
Narrated Aisha (RA) , Ummul Muminin (RA) : while she was on a journey along with the Messenger of Allah ﷺ : I had a race with him (the Prophet) and I outstripped him on my feet. When I became fleshy, (again) I had a race with him (the Prophet) and he outstripped me. He said: This is for that outstripping.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٧٧٣٦)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٠ (١٩٧٩)، مسند احمد (٦/١٢٩، ٢٨٠) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص دو گھوڑوں کے درمیان ایک گھوڑا داخل کر دے اور گھوڑا ایسا ہو کہ اس کے آگے بڑھ جانے کا یقین نہ ہو تو وہ جوا نہیں، اور جو شخص ایک گھوڑے کو دو گھوڑوں کے درمیان داخل کرے اور وہ اس کے آگے بڑھ جانے کا یقین رکھتا ہو تو وہ جوا ہے ۔
Narrated Abu Hurairah (RA) : The Prophet ﷺ said: If one enters a horse with two others when he is not certain that it cannot be beaten, it is not gambling; but when one enters a horse with two others when he is certain it cannot be beaten, it is gambling.
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجھاد ٤٤ (٢٨٧٦)، (تحفة الأشراف: ١٣٢١)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٢/٥٠٥) (ضعیف) (” سفیان بن حسین “ زہری سے روایت میں ضعیف ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اسے متصل بنادیا ہے جبکہ زہری کے ثقہ تلامذہ نے اس کو مرسلا روایت کیا ہے، جیسا کہ مؤلف نے بیان کیا ہے )
اس سند سے بھی زہری سے عباد والے طریق ہی سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: اسے معمر، شعیب اور عقیل نے زہری سے اور زہری نے اہل علم کی ایک جماعت سے روایت کیا ہے اور یہ ہمارے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Al Zuhri with the chain of Abbad and to the same affect. Abu Dawud said “This tradition has also been narrated by Mamar, Shuaib and Aqil on the authority of Al Zuhri from a number of scholars and this is the soundest one in our opinion.
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جلب اور جنب نہیں ہے ۔ یحییٰ نے اپنی حدیث میں في الرهان (گھوڑ دوڑ کے مقابلہ میں) کا اضافہ کیا ہے۔
Narrated Imran ibn Husayn: The Prophet ﷺ said: There must be no shouting or leading another horse at ones side. Yahya added in his tradition: When racing for a wager.
Takhrij · تخریج
حدیث یحییٰ بن خلف، قد تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٨٠٠) وحدیث مسدد، قد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح ٢٩ (١١٢٣)، سنن النسائی/النکاح ٦٠ (٣٣٣٧)، الخیل ١٥ (٣٦٢٠)، سنن ابن ماجہ/الفتن ٣ (٣٩٣٧)، مقتصراً علی قولہ: من انتھب، (تحفة الأشراف: ١٠٧٩٣)، مسند احمد (٤/٤٣٨، ٤٣٩، ٤٤٣، ٤٤٥) (صحیح )
قتادہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے کہا جلب اور جنب ١ ؎ گھوڑ دوڑ کے مقابلہ میں ہوتا ہے۔
Qatadah said “Taking another horse behind one’s horse to urge it on and taking another horse at one’s side are (done) in a horse race.
Notes · وضاحت
١ ؎: گھوڑ دوڑ میں جلب یہ ہے کہ کسی کو اپنے گھوڑے کے پیچھے لگالے کہ وہ گھوڑے کو ڈانٹتا رہے، تاکہ وہ آگے بڑھ جائے، اور جنب یہ ہے کہ اپنے گھوڑے کے پہلو میں ایک اور گھوڑا رکھے کہ جب سواری کا گھوڑا تھک جائے تو اس گھوڑے پر سوار ہوجائے، اور زکاۃ میں جلب یہ ہے کہ زکاۃ لینے والا دور اترے اور زکاۃ دینے والے سے کہے کہ وہ اپنے مویشی میرے پاس لے آئیں، اور جنب یہ ہے کہ دینے والے اپنی اصل جگہ سے مویشیوں کو دور لے کر چلے جائیں اور محصل سے یہ کہیں کہ وہ یہاں آ کر زکاۃ لے، یہ دونوں چیزیں منع ہیں۔
( حسن بصری کے بھائی) سعید بن ابوالحسن کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی تلوار کے دستہ کی خول چاندی کی تھی۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ اس پر ان کی متابعت کسی اور شخص نے کی ہے۔
Narrated Saeed ibn AbulHasan (RA) : The pommel of the sword of the Messenger of Allah ﷺ was of silver. Qatadah said: I do not know that anyone has supported him for that (for the tradition narrated by Saeed bin Abu al-Hasan).
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١١٤٦، ١٨٦٨٨) ( پچھلی روایت سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے ورنہ خود یہ روایت مرسل ہے) (صحیح )
اس سند سے انس بن مالک ؓ سے سابقہ حدیث مروی ہے ابوداؤد کہتے ہیں: ان احادیث میں سب سے زیادہ قوی سعید بن ابوالحسن کی حدیث ہے اور باقی ضعیف ہیں۔
The tradition mentioned above has also been narrated by Anas bin Malik (RA) through a different chain of narrators. He mentioned similar words. Abu Dawud said “the strongest of these traditions is the one of Saeed bin Abu Al Hasan. The rest are weak.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٠٨٨) (صحیح) بما قبلہ
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب کوئی شخص ہماری مسجد یا ہمارے بازار سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہو تو اس کی نوک کو پکڑ لے یا فرمایا: مٹھی میں دبائے رہے ، یا یوں کہا کہ: اسے اپنی مٹھی سے دبائے رہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلمانوں میں سے کسی کو لگ جائے ۔
Abu Musa reported the Messenger of Allah ﷺ as saying “ When one of you passes our Masjid or our market with an arrow, he should hold its head or hold it with its hand (the narrator is doubtful) so that no harm may be done to any Muslim. ”
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٦٧ (٤٥٢)، والفتن ٦ (٧٠٧٥)، صحیح مسلم/البر (٢٦١٥)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٥١ (٣٧٧٨)، (تحفة الأشراف: ٩٠٣٩)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٣٩١، ٣٩٢، ٣٩٧، ٤١٠، ٤١٣) (صحیح )
سائب بن یزید ؓ ایک ایسے آدمی سے روایت کرتے ہیں جس کا انہوں نے نام لیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ احد کے دن دو زرہیں اوپر تلے پہنے شریک غزوہ ہوئے۔
Narrated as-Saib ibn Yazid: as-Saib reported on the authority of a man whom he named: The Messenger of Allah ﷺ put on two coats of mail during the battle of Uhud as a double protection. (The narrator is doubtful about the word zahara or labisa. )
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الجہاد ١٨ (٢٨٠٦)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٧٧)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٣/٤٤٩) (صحیح )
محمد بن قاسم کے غلام یونس بن عبید کہتے ہیں کہ محمد بن قاسم نے مجھے براء بن عازب ؓ کے پاس بھیجا کہ میں ان سے رسول اللہ ﷺ کے جھنڈے کے متعلق پوچھوں کہ وہ کیسا تھا، تو انہوں نے کہا: وہ سیاہ چوکور دھاری دار اونی کپڑے کا تھا۔
Narrated Al-Bara ibn Azib: Yunus ibn Ubayd, client of Muhammad ibn al-Qasim, said that Muhammad ibn al-Qasim sent to al-Bara ibn Azib to ask him about the standard of the Messenger of Allah ﷺ . He said: It was black and square, being made of a woollen rug.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجھاد ١٠ (١٦٨٠)، (تحفة الأشراف: ١٩٢٢)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٢٩٧) (صحیح) (لیکن مربعة۔ چوکور۔ کا لفظ صحیح نہیں ہے اس لیے کہ ابو یعقوب اسحاق بن ابراہیم ثقفی کوفی میں ضعف ہے ان کی توثیق ابن حبان نے کی ہے، اور اس لفظ کی روایت میں ان کا کوئی شاہد یا متابع نہیں ہے )
سماک اپنی قوم کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں اور اس نے انہیں میں سے ایک دوسرے شخص سے روایت کیا، وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کا پرچم زرد دیکھا۔
Narrated Simak ibn Harb (RA) : Simak reported on the authority of a man from his people, on the authority of another man from them: I saw that the standard of the Messenger of Allah ﷺ was yellow.
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ١٥٧٠٣) (ضعیف) (اس کی سند میں دو مبہم راوی ہیں )
ابوالدرداء ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: میرے لیے ضعیف اور کمزور لوگوں کو ڈھونڈو، کیونکہ تم اپنے کمزوروں کی وجہ سے رزق دیئے جاتے اور مدد کئے جاتے ہو ۔
Narrated Abud Darda: I heard the Messenger of Allah ﷺ say: Seek for me weak persons, for you are provided means of subsistence and helped through your weaklings. Abu Dawud said: Zaid bin Artat is the brother of Adi bin Artat.
Takhrij · تخریج
سنن الترمذی/الجھاد ٢٤ (١٧٠٢)، سنن النسائی/الجھاد ٤٣ (٣١٨١)، (تحفة الأشراف: ١٠٩٢٣)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٥/١٩٨) (صحیح )
سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ مہاجرین کا شعار (کوڈ) ١ ؎ عبداللہ اور انصار کا شعار عبدالرحمٰن تھا۔
Samurah bin Jundub said “The war-cry of the Emigrants was Abdullah and that of the helpers Abd Al Rahman. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: وہ خاص لفظ جس سے پہرے دار یا فوجی کو آپس میں ایک دوسرے کی شناخت کے لئے بتادیا جاتا ہے کہ دوران جنگ اسے دھوکہ نہ دیا جاسکے، اسے ” پر دل “ کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: ٤٦٠١) (حسن بصری مدلس ہیں اور روایت ” عنعنہ “ سے ہے) (ضعیف )
سلمہ بن الاکوع ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے ابوبکر ؓ کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں غزوہ کیا تو ہمارا شعار أمت أمت ١ ؎ تھا۔
Ilyas bin Salamah (bin Al Akwa) said on the authority of his father “We went on an expedition with Abu Bakr (Allaah be pleased with him) in the time of the Messenger of Allah ﷺ and our war cry was “Put to death” “Put to death”. ”
Notes · وضاحت
١ ؎: اے مدد کرنے والے دشمن کو فنا کر۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/ الجہاد ٣٠ (٢٨٤٠)، (تحفة الأشراف: ٤٥١٦)، وقد أخرجہ: مسند احمد (٤/٤٦)، سنن الدارمی/السیر ١٥(٢٤٩٥)، ویأتی ہذا الحدیث برقم (٢٦٣٨) (حسن صحیح )
مہلب بن ابی صفرہ کہتے ہیں کہ مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اگر دشمن تمہارے اوپر شب خون ماریں تو تمہارا شعار (کوڈ) حم لا ينصرون ١ ؎ ہونا چاہیئے ۔
Narrated A man who heard the Prophet: Al-Muhallab ibn Abu Sufrah said: A man who heard the Prophet ﷺ say: If the enemy attacks you at night, let your war cry be Ha-Mim. They will not be helped.
Notes · وضاحت
١ ؎: اللہ کی قسم دشمنوں کو اللہ کی تائید و نصرت حاصل نہیں ہوگی بلکہ وہ مغلوب رہیں گے۔