Explained with ayahs 1–10
مکہ مکرمہ کی قسم :
اللہ تبارک وتعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں لا سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہوگا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہوگا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہکاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر…
Read the full tafseer →سورة الْبَلَد 7
" أَنْفَقْتُ مَالًا لُّبَدًا " " میں نے ڈھیر سا مال خرچ کردیا " نہیں کہا بلکہ " أَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًا " کہا جس کے لفظی معنی ہیں " میں نے ڈھیر سا مال ہلاک کردیا "، یعنی لٹا دیا یا اڑا دیا۔ یہ الفاظ ظاہر کرتے ہیں کہ کہنے والے کو اپنی مال داری پر کتنا فخر تھا کہ جو ڈھیر سا مال اس نے خرچ کیا وہ اس کی مجموعی دولت کے مقابلے میں اتنا ہیچ تھا کہ اس کے لٹا دینے یا اڑا دینے کی اسے کوئی پروا نہ تھی۔ اور یہ مال اڑا دینا تھا کس مد میں ؟ کسی حقیقی نیکی کے کام میں نہیں، جیسا کہ آگے کی آیات سے خود بخود مترشح ہوتا ہے، بلکہ اپنی دولت مندی کی نمائش اور اپنے فخر اور اپنی بڑائی کے اظہار میں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
لقد خلقنا الانسان فی کبد، کبد کے لفظی معنے محنت ومشقت کے ہیں۔ معنے یہ ہیں کہ انسان اپنی فطرت سے ایسا پیدا کیا گیا ہے کہ اول عمر سے آخر تک محنتوں اور مشقتوں میں رہتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ابتدائے حمل سے رحم مادر میں محبوس رہا پھر ولادت کے وقت کی محنت ومشقت برداشت کی، پھر ماں کا دودھ پینے پھر اسکے چھوٹنے کی محنت اور پھر اپنے معاش اور ضروریات زندگی فراہم کرنے کی مشقت پھر بڑھاپے کی تکلیفین پھر موت پھر قبر، پھر حشر اور اس میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اعمال کی جوابدہی پھر جزا وسزا، یہ سب دور اس پر محنتوں ہی کے آتے ہیں، اور یہ محنت ومشقت اگرچہ انسان کے ساتھ مخصوص نہیں سب جانور بھی اس میں شریک…
Read the full tafseer →فاسد ذہنیت سے فاسد کردار:
اوپر کی آیت میں ان کی اس ذہنیت سے پردہ اٹھایا گیا ہے جس میں مال و جاہ کی فراوانی نے ان کو مبتلا کر دیا تھا۔ اس آیت میں ان کے اس کردار سے پردہ اٹھایا جا رہا ہے جو اس فاسد ذہنیت نے ان کے اندر پیدا کیا۔
جن کے اندر یہ گھمنڈ پیدا ہو جاتا ہے کہ ان کو جو مال و جاہ حاصل ہے یہ ان کا پیدائشی حق اور ان کی قابلیت و ہنر کا کرشمہ ہے، ان کے اندر انفاق کا جذبہ بالکل مردہ ہو جاتا ہے اس لیے کہ ان کو نہ خدا کی پروا رہ جاتی نہ آخرت کی۔ اس طرح کے لوگ اپنی بخالت پر پردہ ڈالے رکھنے کے لیے مستحقین کے سامنے ہمیشہ اپنے وسیع مصارف کا رونا روتے رہتے ہیں اور اس طرح ان کو باور کرانے کی کوشش کرتے…
Read the full tafseer →6۔ 1 یعنی دنیا کے معاملات اور فضولیات میں خوب پیسہ اڑاتا ہے، پھر فخر کے طور پر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
4: مکہ مکرمہ میں کئی کافر ایسے تھے جنہیں اپنی جسمانی طاقت پر ناز تھا، جب انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا جاتا تو کہتے تھے کہ ہمیں کوئی قابو میں نہیں کرسکتا، نیز وہ آپس میں دکھاوے کے طور پر کہتے تھے کہ ہم نے ڈھیر ساری دولت خرچ کی ہے، خاص طور پر یہ بات اس دولت کے بارے میں کہتے تھے جو انہوں نے آنحضرت ﷺ کی مخالفت اور دشمنی میں خرچ کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ایحسب ان ................................ احد
یہ انسان مشقت میں پیدا کیا گیا اور جو اپنی اس دنیا کی پوری زندگی میں اس مشقت سے چھوٹ نہیں سکتا ، یہ اپنی حقیقت کو بھول جاتا ہے اور اس کا پیدا کرنے والا اسے جو قوت ، طاقت اور وجدان اور سازو سامان دیتا ہے ، تو وہ ان قوتوں میں ایسے تصرفات کرتا ہے جیسا کہ وہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہے اور اسے اس جوابدہی کی توقع نہیں ہے اور یہ خوف نہیں ہے کہ ایک بڑی قوت اور قدروالاا سے پکڑ سکتا ہے اور حساب لے سکتا ہے۔ اس لئے یہ انسان دیتا ہے ، پکڑتا ہے ، چھینتا ہے ، لوٹتا ہے ، جمع کرتا ہے ، اضافہ کرتا ہے ، فسق وفجور کرتا ہے ، نہایت بےخوفی اور نہایت بےباکی کے ساتھ ، یہ…
Read the full tafseer →11 یعنی رسول کی عداوت، اسلام کی مخالفت اور معصیت کے مواقع میں یونہی بےت کے پن سے مال خرچ کرنے کو ہنر سمجھتا ہے۔ پھر اسے بڑھا چڑھا کر فخر سے کہتا ہے کہ میں اتنا کثیر مال خرچ کرچکا ہوں۔ کیا اس کے بعد بھی کوئی میرے مقابلہ میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ لیکن آگے چل کر پتہ لگے گا کہ یہ سب خرچ کیا ہوا مال یونہی برباد گیا۔ بلکہ الٹا وبال جان ہوا۔
Read the full tafseer →آیت 6{ یَـقُوْلُ اَہْلَکْتُ مَالًا لُّـبَدًا۔ } ”کہتا ہے میں نے تو ڈھیروں مال خرچ کر ڈالا۔“
اس فقرے میں سردارانِ قریش کی ذہنیت کی جھلک نظر آتی ہے۔ یہ لوگ بھلائی اور نیکی کے کام اکثر و بیشتر جذبہ مسابقت کے تحت کرتے تھے اور پھر اپنی نیکیوں کا خوب چرچا کرتے اور شیخیاں بگھارتے تھے۔ حتیٰ کہ ان میں سے اکثر لوگوں کے ایمان نہ لانے کا سبب بھی یہی جذبہ مسابقت تھا۔ ظاہر ہے وہ لوگ حضور ﷺ کو اپنے خاندان کے مدمقابل خاندان کا ایک فرد سمجھتے تھے اور اس حیثیت سے آپ ﷺ کے سامنے سرتسلیم خم کرنا انہیں کسی قیمت پر گوارا نہیں تھا۔ اس حوالے سے ابوجہل کا اقراری بیان تو تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے۔ اس سے جب پوچھا گیا…
Read the full tafseer →5 ایسی ہی ناجائز خواہشات میں سے ایک یہ ہے کہ وہ محض نمود و نمائش اور تعلی کی خاطر اپنا مال خرچ کرتا ہے اور جتنا خرچ کرتا ہے اس سے کئی گنا بڑھا چڑھ کر بتاتا ہے کہ میں نے اتنا اور اتنا مال اپنے بیٹے کی شادی پر خرچ کیا تھا یا فلاں رسم کو پورا کرنے پر خرچ کیا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
5۔ کیا وہ غافل و سرکش انسان اس بھول میں پڑا ہوا ہے کہ اس کی یہ مسرفانہ نافرمانیاں ایک ایک کرکے دیکھی نہیں جارہی ہیں، اور رتی رتی کا حساب کیا اسے دینا نہ ہوگا ؟ (آیت) ” یقول “۔ یعنی یہ وہ بڑے فخر اور شیخی کے ساتھ کہتا ہے۔ (آیت) ” اھلکت مالا لبدا “۔ ڈھیروں مال کا یہ اڑا ڈالنا یا لٹا ڈالنا ظاہر ہے کہ اللہ و رسول ﷺ کی معصیتوں ہی میں ہوا۔ (آیت) ” لم یرہ “۔ لم یہاں لن کے معنی میں ہے، تحقق وقوع کے اظہار کیلئے۔ ولم بمعنی لن ویعبربھا لتحقق الرفوع (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–20
لقد خلقنا الانسان فی کبد یعنی انسان کی زندگی محنت و مشقت اور شوائد سے معمور ہے، یہ جواب قسم ہے۔
او اطعام فی یوم ذی مسغبۃ مسغبۃ بھوک اور ذی مسغبۃ بھوک والے دن اور دامتربۃ (مٹی والا) یعنی وہ شخص جو فقر و غربت کی وجہ سے زمین پر پڑا رہتا ہو، اس کا گھر بار کچھ نہ ہو، مطلب یہ ہے کہ کسی غلام کو آزاد کرنا کسی بھوکے کو رشتہ دار یتیم کو کھانا کھلانا یہ دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہونا ہے جس کے ذریعہ انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جا پہنچے گا یتیم کی کفالت ویسے بھی بڑے اجر کا کام ہے اور اگر وہ رشتہ دار بھی ہو تو اس کی کفالت کا اجر بھی دگنا ہے ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا اسی طرح غلام آزاد کرنے کی بھی…
Read the full tafseer →یقول اھلکت مالا لبدا . یہ جملہ یحسب کے فاعل کی حالت کا بیان ہے وہ کہتا ہے میں نے تو خود مال
کثیر خرچ کر ڈالا۔ لبدٌ۔ لبدۃٌ کی جمع ہے لبدۃٌ بہت۔ جمع شدہ۔ کثیر۔ ابو الاشد کا یہ قول یا تو اظہار فخر اور دکھاوٹ کے لیے تھا یا یہ مراد ہے کہ میں رسول ﷺ کی مخالفت میں کثیر مال خرچ کرچکا اسوقت اس جملہ کی غرضیہ ہوگی کہ میں دوسرے قریشی غیر مسلموں کے مقابلہ میں اونچا درجہ رکھتا ہوں (کیونکہ میں نے رسول ﷺ کی عداوت میں کثیر مال خرچ کیا ہے) اسلیے تمام کفار قریش کو میری برتری کا اعتراف کرنا ضروری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
(75) کیا کافر اپنی قوت پر یہ سمجھتا ہے کہ اس کو سزا دینے اور اس کی گرفت پر اللہ تعالیٰ کا بس نہیں چلے گا۔ کلدہ اور ولید ابن مغیرہ کہتا ہے کہ میں نے تو حضور کی دشمنی میں اس قدر مال خرچ کردیا ہے مگر پھر بھی مجھے کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ کیا وہ کافر یہ سمجھ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی ان بری حرکتوں کو دیکھا نہیں کہ اس نے خرچ کیا ہے یا نہیں۔
Read the full tafseer →(یقول اھلکت مالاً لبداً : یعنی دین حق کی مخالفت یا جاہالانہ رسم و رواج میں روپیہ لٹانے کو بڑا کمال سمجھتا ہے اور اسے فخر یہ بیان کرتا ہے۔ (اشرف الحواشی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
ایحسب الن یقدر۔۔۔ تا۔۔۔ شفتین۔
کیا انسان گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے سزا نہیں دے گا وہ کہتا ہے میں نے کثیر مال خرچ کردیا، کیا وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اسے کوئی نہیں دیکھ رہا بلکہ اللہ تعالیٰ اس کے سب اعمال کو جانتا ہے وہ اس بات میں جھوٹا ہے کہ وہ کہتا ہے میں نے مال خرچ کیا ہے جب کہ اس نے مال خرچ نہیں کیا جاتا، حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ بندے کو کھڑا کیا جائے گا اسے کہا جائے گا، میں تجھے جو رزق دیا تھا اس کا تونے کیا کیا، وہ کہے گا میں نے اس کو خرچ کیا اور اس کی زکوۃ ادا کی، اسے کہا جائے گا، گویا تو نے یہ کیا تاکہ کہا جائے کہ وہ بڑا سخی ہے تو وہ تو کہا جاچکا ہے پھر اسے آگ میں ڈالنے کا حکم دے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
40۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت مالا لبدا سے مراد ہے کثیر مال۔
41۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت اہلکت مالا لبدا سے مراد ہے کہ وہ کہے گا میں نے اللہ کے راستے سے روکنے پر بہت مال خرچ کیا آیت ایحسب ان لم یرہ احد میں الاحد سے مراد ہیں اللہ تعالیٰ یعنی کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے نہیں دیکھا۔
42۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے یقول الکت مالا لبدا۔ کے بارے میں روایت کیا کہ اس نے ہم پر احسان فرمایا۔ لیکن ہم نے اس کو زیادہ فضیلت والا قرار نہیں دیا آیت الم نجعل لہ عینین۔ کیا ہم اس کے لیے دو آنکھیں نہیں بنائی۔ اس طرح اور اس طرح۔
43۔ عبد بن حمید…
Read the full tafseer →[يَقُوْلُ اَهْلَكْتُ : وہ کہتا ہے میں نے ہلاک کیا (خرچ کیا)][ مَالًا لُّبَدًا : ڈھیروں ڈھیر مال ]
نوٹ۔ 3: آیت۔ 6 ۔ میں یہ نہیں کہا کہ میں نے ڈھیر سا مال خرچ کردیا، بلکہ اَھْلَکْتَ کہا ہے جس کے معنی ہیں کہ میں نے ڈھیر سا مال ہلاک کردیا یعنی لٹا دیا یا اڑا دیا۔ اور یہ مال اڑا دینا کس مد میں تھا۔ کسی حقیقی نیکی کے کام میں نہیں، جیسا کہ آگے کی آیات سے خودبخود ظاہر ہو رہا ہے بلکہ اپنی دولت مندی کی نمائش اور فخر کے اظہار میں تھا۔ شادی اور غمی کی رسموں میں سینکڑوں آدمیوں کی دعوت کرنا، جوئے میں دولت ہار دینا، جوا جیت جانے پر اونٹ پر اونٹ کاٹنا اور یار دوستوں کو خراب کھلانا، میلوں میں بڑے لائو لشکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
﴿اَيَحْسَبُ اَنْ لَّنْ يَّقْدِرَ عَلَيْهِ اَحَدٌۘ005﴾ (کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قادر نہ ہوگا) یعنی انسان کا رویہ یہ بتاتا ہے کہ وہ اپنی ذات کو آزاد سمجھتا ہے اور جو چاہتا ہے کرتا ہے دنیا و آخرت میں مواخذہ ہوگا اس کی بالکل پرواہ نہیں کرتا اس کا ڈھنگ یہ بتاتا ہے کہ وہ یہ سمجھ کر اپنے دنیاوی مشاغل میں لگتا ہے کہ میں آزاد ہوں اور جو چاہوں کروں، مجھے کوئی پکڑنے والا نہیں اور مجھ پر کسی کو کوئی قدرت نہیں حالانکہ جس ذات پاک نے اس کو پیدا فرمایا ہے قوت اور طاقت بخشی ہے وہ اس پر پوری طرح قادر ہے انسان کے اعمال میں اموال کا خرچ کرنا بھی ہے۔ وہ بےفکری کے ساتھ مال خرچ کرتا ہے اور گناہوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
انقسام عمل درخیر وشر مع بیان عظمت مہبط وحی و سرچشمہ ہدایت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بھذا البلد ........ الی .......... نار مؤصدۃ “۔
(ربط) سورة الفجر میں پانچ اہم اور عظیم امور کی قسم کھا کر ہر صاحب عقل اور فہم کو اس امر کی دعوت دی گئی تھی کہ وہ عقل اور فطرت کی روشنی میں خداوند عالم کی عظمت وقدرت کو پہچانے اس کی خالقیت و ربوبیت پر ایمان لائے یہی چیز انسان کو فلاح وسعادت کے مقام تک پہنچانے والی ہے، اور جو قومیں عقل و فطرت کی ان صلاحیتوں کو ضائع کرکے سرکشی اور نافرمانی پر ڈٹی رہیں جیسے قوم عاد وثمود اور فرعون تا ریخ میں ان کا عبرت ناک انجام بھی دنیا کے سامنے آچکا تو اس سورت میں سرزمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
4:۔ ” ایحسب “ یہ زجر ہے کیا کافر انسان گمان کرتا ہے کہ اس پر کوئی قادر اور غالب نہ ہوگا اور کوئی اس کو اس کے برے عملوں کی سزا نہیں دے گا۔ اس کا یہ خیال غلط ہے۔ اسے اس کے گناہوں کی اللہ تعالیٰ ضرور سزا دے گا۔ ” یقول اھلکت مالا لبدا “ لبدا، بہت زیادہ۔ وہ بڑے فخر سے کہتا ہے کہ اس نے اپنے مشرک اور شرک پھیلانے والے اور اسلام سے روکنے والے دوستوں پر اور رسول اللہ ﷺ کی عداوت میں بےدریغ دولت خرچ کی ہے کیا اس کا خیال ہے کہ باطل میں خرچ کرتے ہوئے اس کو کوئی نہیں دیکھتا اور اس سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی بلکہ ہم اس کو دیکھ رہے ہیں اور اس کا پورا محاسبہ کریں گے (ایحسب ان لم یرہ احد) حین کان ینفق او بعد ذلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
شہر مکہ
ابتدائے سورة میں دو چیزوں کی قسم کھا کر بات سمجھائی گئی ہے پہلی قسم بلد یعنی شہر مکہ کی ہے اور دوسری والدوما ولد یعنی والد اور مولود کی چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ لا اقسم بھذا البلد یہاں لفظ لاتاکید کے لئے ہے۔ یعنی میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی وانت حل بھذا البلد اور آپ اترے ہوئے ہیں اس شہر میں حل ، حلول سے ہے۔ اور اس کا معنی اترنا ہے۔ مراد شہر مکہ مکرمہ ہے۔ جو کہ بلدہ طیبہ ، بلد الحرام اور عزت والا شہر ہے۔ قرآن پاک میں بلدہ طیبہ کا ذکر کئی مقامات پر آیا ہے۔ اس کی بڑی اہمیت ہے۔ کیونکہ اس میں بیت اللہ شریف واقع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شہر کو مرکز ہدایت اور حرمت والا شہر قرار دیا ہے اور اس کے…
Read the full tafseer →يَقُوْلُ اَہْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًا 6 ۭ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122]
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
هلك
الْهَلَاكُ علی ثلاثة أوجه :
افتقاد الشیء عنك، وهو عند غيرک موجود کقوله تعالی: هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29]
- وهَلَاكِ الشیء باستحالة و فساد کقوله :
وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ويقال : هَلَكَ الطعام .
والثالث :
الموت کقوله : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] وقال تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ترکیب ¦ أالہمزۃ للاستفہام الانکاری یحسب فاعلہ الضمیر یرجع الی الانسان ان مخففۃ من الثقیلۃ واسمہا ضمیر الشان مقدر والجملۃ مفعول یحسب یقول جملۃ مستانفۃ اھلکت صرفت لبدا صفت مالا قال ابو عبیدہ لبد فعل من التلبید وھو المال الکثیر بعضہ علی بعض وقال الفراء جمع لبدۃ وقال بعضھم ھو واحد أالاستفہام للانکار ان انہ لم یرہ احد خبران والجملۃ مفعول یحسب۔
تفسیر ¦ یعنی باوجود یکہ انسان مصائب کش پیدا ہوا ہے سدا کا دکھیا ہے پھر اس پر بھی اس کو یہ غرور و پندار ہے ایحسب ان لن یقدر علیہ احد کیا یہ خیال کر رہا ہے کہ مجھ پر کوئی قابو نہیں پاوے گا۔ میرے اعمالِ بد کی سزا مجھے کوئی نہیں دے گا جو چاہوں کروں۔ گویا حشر…
Read the full tafseer →یَقُوْلُ اَھْلَـکْتُ مَالاً لُّـبَدًا۔ (البلد : 6)
(کہتا ہے میں نے ڈھیروں مال اڑا دیا۔ )
انسان کی مزید کج فہمی
جس طرح اس سے پہلے کی آیت کریمہ میں اس کی کج فہمی کو واشگاف کرتے ہوئے فرمایا کہ باوجود اس کے کہ وہ تغیرات اور مصائب میں گھرا ہوا ہے لیکن پھر بھی یہ سمجھتا ہے کہ کوئی اس پر قادر نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح اس کی مزید کج فہمی کی دلیل یہ ہے کہ اسے خوب معلوم ہے کہ مال جن اعضاء وجوارح اور جن صلاحیتوں کی مدد سے اور ذہن کی جن توانائیوں کے نتیجے میں کمایا جاتا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی دین ہیں۔ ان میں سے کسی چیز کو نہ اس نے پیدا کیا اور نہ اس کا مالک ہے۔ اس کے باوجود برخودغلط ہونے کا حال یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
فہم القرآن
ربط کلام : مکہ شہر کی قسم اٹھانے کے بعد باپ اور اس کی اولاد کی قسم اٹھا کر ہر انسان کو ایک حقیقت بتلائی گئی ہے۔
مکہ کی قسم اٹھا کر بین السطور آپ ﷺ کو آپ کی دعوت کی کامیابی کی خبر دی گئی ہے، اس کے بعد فرمایا کہ مجھے باپ اور اس کی اولاد کی قسم ! ہم نے انسان کو مشقت جھیلنے کے لیے پیدا کیا ہے لیکن انسان سمجھتا ہے کہ کوئی اس پر قابو نہیں پاسکے گا۔ باپ اور اولاد سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی پوری اولاد ہے۔ کچھ اہل علم نے باپ سے مراد ابراہیم (علیہ السلام) اور اولاد سے مراد بنی اسماعیل (علیہ السلام) لیے ہیں۔ لیکن مناسب یہ ہے کہ باپ سے مراد آدم (علیہ السلام) لیے جائیں اور اولاد…
Read the full tafseer →مال پر فخر :
6 : یَقُوْلُ اَھْلَکْتُ مَالًا لُّبَدًا (وہ کہتا ہے میں نے اتنا و افر مال خرچ کر ڈالا) لُبَدًا بہت سا۔ یہ جمع لُبْدَۃٌ کی ہے۔ جو مال اکٹھا اور جمع ہو۔ اس سے مراد وہ مال ہے جو اس نے اس مقام پر خرچ کیا جس کو اہل جاہلیت مکارم و معالی کہتے تھے۔
Read the full tafseer →6 ۔” یقول اھلکت “ جیسی میں نے خرچ کیا۔ ” مالا لبدا “ یعنی بہت زیادہ ایک دوسرے پر تلبید سے ہے محمد (ﷺ ) کی دشمنی میں۔ ابوجعفر (رح) نے لبداباء کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے ” لا بد “ کی جمع ہے۔ جیسے راکع اور رکع اور دیگر حضرات نے تخفیف کے ساتھ جمع پر پڑھا ہے۔ ” لبدۃ “ اور کہا گیا ہے واحد پر ہے جیسے قثم اور حطم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ شروع سورة میں جس بات پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے وہ یہی بات ہے جو ان آیتوں میں آگے فرمائی۔ تجھ کو قید نہ رہے گی کا مطلب یہ ہے کہ مکہ میں جو قید ہے کہ وہاں لڑائی منع ہے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اے نبی اللہ کے تم کو تھوڑی دیر کے لئے وہاں لڑائی حلال ہوجائے گی ہجرت سے پہلے اس مکی سورة میں اللہ کا یہ ایک وعدہ تھا جس کو فتح مکہ کے وقت اللہ تعالیٰ نے پورا کیا۔ چناچہ صحیح 3 ؎ بخاری و مسلم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تھوڑی دیر کے لئے کو مجھ کو مکہ میں لڑنا حلال کردیا تھا اس کے بعد مکہ میں بدستور لڑائی کی ممانعت ہے اب جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
(يَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًا) کہتا ہے میں نے بہت سامال برباد کیا ہے۔ یعنی بہت زیادہ مال، ایک دوسرے کے اوپر چڑھا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شہوات اور معاصی میں مال خرچ کرنے کو ہلاک کرنے سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس راستے میں مال خرچ کرنے والا اپنے خرچ کیے ہوئے مال سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اور اس کو اپنے مال خرچ کرنے سے ندامت، خسارے، تکان اور قلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اس شخص کے مانند نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا ہے۔ کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کی اور جو کچھ اس نے خرچ کیا اس سے کئی گنا نفع اٹھایا اللہ تبارک وتعالی نے اس شخص کو جو اپنی شہوات…
Read the full tafseer →(7) منکر انسان کے کبر و غرور کا ایک نمونہ و مظہر : سو ایمان و یقین کی دولت سے محروم و بےبہرہ انسان کے غرور وتکبر اور اس کی محرومی کے ایک نمونے کے ذکرو بیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا انسان کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال اڑا دیا، اپنی ناموری اور نمود نمائش کے لیے اور اس کی کوئی پرواہ کیے بغیر کہ اسے اس کا کوئی حساب دینا ہے کہ اس نے یہ کہاں سے اور کیسے کمایا تھا اور کہاں اور کس کے لیے خرچ کیا تھا، سو یہی حال ہوتا ہے اس انسان کا جو ایمان و یقین کی دولت سے محروم اور پرسش آخرت سے بےخطر اور نچنت ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کا مال و دولت اس طرح کی عیاشیوں فضول خرچیوں اور اللوں تللوں میں ضائع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
مکہ شہر اور آدم (علیہ السلام) کی قسم انسان کے بڑے فرائض ہیں
تشریح : شروع میں نہیں کا لفظ اس لیے آیا کہ کفار مکہ جو آخرت سے انکار کر رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو جھٹلا رہے ہیں تو ان کو خوب اچھی طرح علم ہونا چاہیے کہ انسان کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کو بہت سی ذمہ داریاں دیکر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے یعنی یہ زندگی پوری کی پوری امتحانی دور پر مبنی ہے اور اس بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ حرمت والے شہر اور اشرف المخلوقات آدم (علیہ السلام) و اولاد آدم یعنی انسان جو کہ نائب اللہ بھی ہے۔ کی قسم کھا کر یہ بات بتا رہے ہیں۔
قسم ایسی ہی چیز کی کھائی جاتی ہے جو عام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
سورة البلد۔
آیات 1 تا 20۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے اس شہر عظیم کی یعنی اس شہر کا تقدس جو بنائے کعبہ کے باعث تھا اور کفار ومشرکین بھی اس کی عظمت کے قائل تھے جو آپ کے یہاں تشریف فرما ہونے سے دو بالا ہوگیا اس کی ساری عظمت بھی تو اللہ کی عظمت پہ گواہ ہے مفسرین نے اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ حرمت والاشہر عنقریب آپ کے لیے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کو حلال کردیاجائے گا گویا فتح مکہ کی خوش خبری بھی ہے اور خود آدم (علیہ السلام) اور ان کی ساری اولاد ، تمام انسانوں کی پیدائش سے موت تک کی زندگی ، اس بات پر گواہ ہے کہ انسان تخلیقی طور پر محنت ومشقت کرنے پر مجبور ہے اس کی زندگی کا کوئی لمحہ مشقت سے خالی نہیں…
Read the full tafseer →ف 16 یعنی حق کی مخالفت یا جاہلانہ رسم و رواج میں روپیہ لٹانے کو بڑا کمال سمجھتا ہے اور اسے فخریہ بیان کرتا ہے۔
Read the full tafseer →(90:6) یقول اہلکت مالا لبدا : اہلکت ماضی واحد متکلم۔ میں نے ہلاک کردیا۔ میں انے اڑا دیا۔ میں نے بہا دیا۔
مالا لبدا۔ موصوف و صفت مل کر مفعول اہلکت کا۔
لبدا۔ مال کثیر۔ لبد اور لابد کا بھی یہی مطلب ہے۔ اصل میں لبد اور لبدۃ اور لبدۃ کا معنی ہے نمدا۔ اور گوند یا پانی وغیرہ سے چپکایا ہوا اون یا نمدہ ہو۔ یا چپکایا ہوا اون سب میں تہ بر تہ جمائی جاتی ہے۔ توسیع استعمال کے بعد تہ بر تہ چڑھ جائے۔
لبدا ، لبود اور لبد (باب نصر، سمع) ایک جگہ جم کر بیٹھ گیا۔
لبد جمع لبدۃ واحد۔ ٹھٹ کے ٹھٹ۔ ہجوم ، بھیڑ، جماعت درجماعت (لغات القرآن) ۔
لبد بہت مال۔ لبود سے صفت مشبہ۔ جس کے معنی چمٹنا۔ اور بعض اجزاء کا بعض سے چپکنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
لغات القرآن۔
ھذا البلد۔ یہ شہر۔ (مکہ مکرمہ) ۔ حل۔ حلال ہے۔ کبد۔ مشقت۔ مصیبت۔ اھلکت۔ میں نے خرچ کیا ہے۔ مالا لبدا۔ ڈھیروں مال۔ عینین۔ دو آنکھیں۔ شفتین۔ دو ہونت۔ النجدین۔ دو راستے۔ اقتحم۔ وہ داخل ہوگیا۔ العقبۃ۔ گھاٹی۔ فک رقبۃ۔ گردن چھڑانا۔ (غلاموں کو آزاد کرنا) ۔ ذی مسغبۃ۔ بھوکا۔ بھوک والا۔ ذا مقربۃ۔ رشتہ دار۔ ذامتربۃ۔ جو خاک میں مل جانے والا ہے۔ نارموصدۃ۔ آگ جو اوپر سے بند کی گئی ہے۔
تشریح : سورت بلند کا مفہوم اور خلاصہ یہ ہے۔
اس سورت میں اللہ نے ” بلد “ یعنی مکہ مکرمہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو اس شہر میں قتال کرنا حلال ہونیوالا ہے۔ باپ اور اولاد یعنی حضرت آدم (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–20
غریبوں کے ساتھ سلوک کرنا۔
(ف 4) شان نزول۔ تفسیر کلبی میں لکھا ہیی کہ مشرکین مکہ میں ایک شخص ابوالاشد بڑا شہ زور تھا اور اس کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ اونٹ کی کھال پاؤں کے نیچے بالیتا تھا دس دس آدمی اس کھال کو کھینچنے تھے کھال پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے اڑ جاتی تھی مگر جتنا اس کے پاؤں کے نیچے ہوتا ہرگز نہ نکل سکتا تھا، یہ شخص نبی ﷺ سے بڑی عداوت رکھتا تھا اور حضور کی عداوت میں لوگوں کو رشوتیں دے دے کر حضور کو آزار پہنچائیں ، اسی شخص کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اور فرمایا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس پر قابو پاسکے اور اس سرکشی کی سزا دے سکے، حضور کی عداوت میں یو ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
[5] یعنی انسان جن سختیوں اور مشقت کی راہوں سے گزرتا ہے اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس میں عجز و درماندگی پیدا ہوتی اور اپنے کو بستہ حکم و قضا سمجھ کر مطیع امر و تابع رضائے الٰہی ہوتا۔ لیکن اس کی حالت یہ ہے کہ اتنی بھول میں پڑگیا ہے کہ خود کو گویا اللہ تعالیٰ کے حدود وقدرت سے بھی خارج سمجھنے لگا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–14
حیات انسانی
2: سورة البلد میں تین چیزوں کبو بطور استشہاد کے پیش فرمایا ۔ ہے اور ثابت کیا ہے کہ انسانی زندگی مسلسل مصائب اور سختیوں کا نام ہے ۔ ایک مکہ کی پوری تاریخ کہ کیونکہ اللہ کے ایک بندے نہ پریشانی اور اضطراب کے عالم میں یہاں اپنی اولاد کو بسایا اور اس غیر آباد زمین میں ایک معبد کی بنیاد رکھی ۔ اور پھر وہ جگہ کس درجہ مقبول ہوئی ۔ دوسرے آپ کا اس شہر میں فاتحانہ داخلہ اور تیسرے آدم اور بنی آدم کی ساری زندگی ، ان واقعات کو دیکھئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ حیات انسانی ، تعبیر ہے محنت وجانفشانی سے ، تگ ودو اور سعی سے ، دوڑ دھوپ اور کوشش سے ، اور وہی لوگ دنیا میں کامیابی اور کامرانی سے زندگی بسر…
Read the full tafseer →(6) کہتا پھرتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال خرچ کرڈالا - حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں شادیوں میں، ماتموں میں نام کی جگہوں میں مال خرچ کرنے کو بڑائی گنتا ہے اور خرچ کرنے کی جگہ اور ہے۔
خلاصہ : یہ کہ نیک کاموں پر خرچ کرنے کے بعد بھی بڑائی نہیں کرنی چاہیے چہ جائے کہ پیغمبر کے خلاف مال خرچ کرکے اور مراسم کفریہ پر مال خرچ کرکے یہ بڑائی کرتا پھرتا ہے۔
Read the full tafseer →ف 5۔ یعنی ایک تو شیخی بگھارتا ہے پھر عداوت رسول و مخالفت اسلام و معاصی میں خرچ کرنے کو ہنر سمجھتا ہے پھر جھوٹ بھی بولتا ہے کہ اس کو مال کثیر بتلاتا ہے۔
Read the full tafseer →وہ کہتا ہے کہ میں نے تو ڈھیروں ڈھیرمال خرچ کردیا ہے
6 ؎ (لبدا) ماکثیر لبد لبدۃ کے معنی ہیں نمدہ اور گوند سے یا پانی غیرہ سے چپکایا ہوا اون کہ اس طرح اون کی تہ پر تہ جمائی جاتی ہے اور پھر اس کا اطلاق کثیر مال پر ہونے لگا یعنی وہ مال جس کو ڈھیروں میں جمع کیا جائے۔ کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال خرچ کردیا ہے۔ انسانوں کی تھیوری (Theory) بتاجائی رہی ہے پہلے تو وہ ڈھیروں مال جمع کرتا ہے اور اس میں جائز و ناجائز کی بحث بھی بہت کم ہی کرتا ہے پھر جب حلال و حرام جمع کرلیتا ہے تو پھر اس کو محلات بنا کر ، زمینیں خرید کر ، مکانات خرید کر ، عہدے حال کر کے اس ڈھیروں مال کو خرچ کرتا ہے پھر لوگوں میں بیٹھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي كَبَدٍ (Indeed We have created man [ to live ] in hard struggle…90:4) The word kabad means 'labour, 'toil' or 'difficulty'. The verse purports to say that man's life is a series of hard and toilsome works.
Ibn ` Abbas ؓ says: 'Man was conceived and held in his mother's womb. The mother bore the pangs of birth. The hardship of sucking the mother's milk and the difficulty of weaning. This is followed by seeking livelihood and other necessities of life with hardship. Then he endures hardships and long-suffering of old age, death, grave, resurrection,…
Read the full tafseer →7 Literally: "I have destroyed heaps of wealth", i.e. squandered and wasted it. These words show how proud the speaker was of his wealth. The heaps of wealth that he spent was so insignificant as against his total wealth that he did not mind squandering it carelessly. And to what purpose did he squander it'? Not for a genuine, good cause as becomes evident from the following verses, but for display of his wealth and expression of his pride and glory. Bestowing rich awards on , poetic admirers, inviting and feeding hundreds of thousands of people on marriage and death ceremonies, gambling away…
Read the full tafseer →