Ayah 90:1(1) قسم سے پہلے حرف " لا " کا مفہوم و مطلب ؟ سو ارشاد فرمایا گیا " نہیں، میں قسم کھاتا ہوں " یعنی " لا " کا تعلق " اقسم " سے نہیں بلکہ اس محذوف و مقدر سلسلہ سے ہے جو اس طرح کے مواقع پر پایا جاتا ہے، اور جس پر آگے کا مضمون دلالت کرر رہا ہے۔ یعنی غافل و لاپروا انسان کا یہ سمجھنا کہ دنیا کی یہ زندگی عیش و عشرت کے لیے ہے اور بس۔ ہم سے کسی نے پوچھنا نہیں اور ہم نے کسی کے آگے اپنے کیے کرائے کا کوئی جواب نہیں دینا، اور بھگتان نہیں بھگتنا، اور حق و ہدایت کے نور سے محروم مادہ پرست انسان کا یہی حال ہمیشہ رہا ہے۔ کل بھی اس کا یہی کہنا تھا اور آج بھی یہی کہنا ہے کہ چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات، اور بس۔ نیز اس کا کہنا ہے کہ بعیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست۔ سو " لا " کا کلمہ شروع میں لا کر اس سب غلط فہمی کی نفی اور تردید فرما دی گئی کہ ایسا نہیں، اور ہرگز نہیں، میں اس پر فلاں اور فلاں چیز کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ انسان اس دنیا میں عیش کرنے اور چین کی بانسری بجانے نہیں آیا، بلکہ اس کو تو اول سے آخرت تک مشکلات اور مشقتوں میں گھرا ہوا پیدا کیا گیا ہے۔ اور یہ اپنی پیدائش سے لے کر اپنی موت کی آخری چکی تک اسی طرح رہتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ اپنی آخرت اور انجام تک پہنچ جاتا ہے، جہاں اس نے ہمیشہ ہمیش کے لیے رہنا ہے یا جنت کی سدا بہار نعمتوں اور اس کی نعیم مقیم میں، اللہ تعالیٰ ہم سب کو انہی میں سے بنائے، آمین۔ اور یا دوزخ کے ہولناک عذابوں میں، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس سے محفوظ و مامون رکھے، آمین، سو اپنے آخری اور حتمی انجام اور اس کے تقاضوں سے غافل و بیخبر انسان سخت گھاٹے میں ہے، اور بڑے بھولے اور بھٹکے ہوئے ہیں وہ لوگ جو اسی دنیا کو حقیقی منزل قرار دے کر اور اسی کے آرام و راحت کو سب کچھ سمجھ کر، اسی کے لیے جیتے اور اسی کے لیے مرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ، جل وعلا، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب، فبہ ثقتنا وعلیہ الاعتقاد۔
(2) شہر مکہ کی قسم اور اس کا مطلب : سو ارشاد فرمایا گیا " میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی "۔ یعنی مکہ مکرمہ کی جس میں بیت اللہ واقع ہے۔ جو کہ مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کی تمام دنیا کا قبلہ ہے، اور جو کہ عظیم الشان روایات اور طرح طرح کی خیرات و برکات کا امین و پاسدار ہے، اسی لیے دوسرے مقام پر اس کو " البلد الامین " بھی فرمایا گیا ہے۔ سو یہ گھر ایک عظیم الشان اور زندہ جاوید ثبوت و مطہر ہے اس حقیقت اور مضمون کا جس کے لیے یہ قسمیں کھائی جارہی ہیں۔ ذرا سوچیے اور قرنوں پہلے کے ماضی میں جھانک کر دیکھیے کہ کس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس بےآب وگیاہ وادی میں اس گھر کی بنیاد رکھی اور سنسان و سیاہ پہاڑیوں کے درمیان اپنی بیوی اور شیر خوار بچے کو اللہ تعالیٰ کے سہارے اور آسرے پر چھوڑ دیا۔ اور پھر وقت آنے پر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی اور اس کی رضا و خوشنودی کے لیے اپنے بیٹے کے ساتھ اس گھر کی تعمیر کا بیٹرا اٹھایا، اور پھر اپنے رب کے حکم اور اشارے سے اس گھر کے حج اور اس کی زیارت کے لیے منادی کی، جبکہ دور دور تک کوئی سننے والا موجود نہیں تھا، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت و عنایت سے ان کی اس آواز کو وہاں وہاں تک پہنچا اور سنوا دیا جہاں تک انسانی تصور و خیال بھی نہیں پہنچ سکتا۔ پھر یہ مقام ترقی و عورج کے منازل طے کرتا گیا، یہاں تک کہ حرم محترم قرار پایا۔ عربوں کی سرزمین بےآئین میں امن وامان کا مرکز و گہوارہ بن گیا۔ " من دخلہ کان امنا " کی امتیازی صفت اور منفرد شان کا حامل و علمبردار بن گیا، اور یہاں تک کہ صرف عالم عرب ہی کا نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے یہ بقعہ نور ایسا مرکز بن گیا کہ ہر چہار طرف سے دنیا اس کی طرف کھچی چلی آتی ہے، اور ان کے دل اس کے درجہ گرویدہ ہوگئے کہ پورے سال کے کسی بھی موسم اور کسی بھی حصے میں کوئی وقت ایسا نہیں گزرتا کہ جب لوگ انبوہ در انبوہ اس کے گردو دویانہ وار چکر نہ لگاتے ہوں۔ فسبحان اللہ الذی بیدہ تصریف الامور۔ سو یہ بلد امین اور مرکز مقدس اپنی زبان حال سے اس مضمون کی صداقت و حقانیت کی گواہی دے رہا ہے اور پکار پکار کر اس پر دلالت کر رہا ہے جس کے لیے یہ قسمیں کھائی جارہی ہیں، سو اس شہر مقدس کی تاریخ تمہارے سامنے ہے، اور یہ اس مقصود مدعا پر گواہ ہے، سو مکہ کی اس وادی غیر ذی زرع، یعنی میدان بےآب وگیاہ کو ایسا گہوارہ امن و ایمان بنادینا کہ دنیا کی ہر نعمت کھنچی ہوئی اس کی طرف چلی آئی، قدرت کی کتنی بڑی عنایت و رحمت ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا ( آیت، القصص 57 پ 25) یعنی کیا ہم نے ان لوگوں کو اس عظیم الشان حرم میں ٹھکانہ نہیں دیا جو کہ امن کا گہوارہ ہے، جس کی طرف ہر چیز کے پھل کھنچے چلے آتے ہیں، ہماری طرف سے روزی کی طور پر، سو اس سب کا تقاضا یہ تھا کہ تم لوگ دل و جان سے اس خالق ومالک کے آگے جھک جھک جاتے اور جھکے ہی رہتے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، قریش 3, 4 پ 30) یعنی ان عظیم الشان نعمتوں کے نتیجے میں ان لوگوں کو چاہیے کہ یہ اس گھر کے رب کی عبادت کریں، جس نے ان کو بھوک سے بچانے کے لیے کھانا دیا، اور ان کو خوف سے بچانے کے لیے امن سے سرفراز فرمایا، مگر تم لوگ ہو کہ اسی خالق ومالک سے منہ موڑے ہوئے اور اسی کے ساتھ شرک کرتے ہو۔ یہاں تک کہ تم لوگوں نے خدا کے اسی گھر کو جس کو حضرت ابراہیم نے توحید خداوندی کے مرکز کے طور پر تعمیر کیا تھا اس کو تم لوگوں نے بت خانہ اور شرک کا اڈا بنادیا، سو یہ کس قدر ظلم اور کتنی بڑی ناانصافی ہے جس کا ارتکاب تم لوگوں نے کیا، والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیغ و ضلال، وسوء وانحراف، ومن کل شائبۃ من شوائب الکفر والانکار، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب۔
Ayahs 90:2–3(3) وانت حل بھذا البلد کا معنی و مطلب ؟ سو قسم کے بیچ میں جملہ معترضہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا وانت حل بھذا البلد، یعنی " درآنحالیکہ آپ اس میں تشریف فرما ہیں "، کہ مکین کی عظمت و فضیلت سے مکان کی عظمت و فضیلت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ پھر ایسے مکین بےمثل کے تو کہنے ہی کیا جس کی کوئی نظیر اور مثال چشم فلک نے پوری بنی نوع انسان میں نہ اس سے پہلے کبھی دیکھی اور نہ آئندہ کبھی دیکھ سکے گا۔ اور یہ معنی و مطلب اس لفظ کا اس صورت میں ہوگا جب کہ اس کو حلول سے مشتق و ماخوذ مانا جائے جس کے معنی کسی جگہ میں اترنے رہنے اور سمانے وغیرہ کے آتے ہیں۔ اور لفظ " حل " اسی سے ماخوذ ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ بعض حضرات نے کہا، جبکہ دوسرا احتمال اس میں یہ ہے کہ اس کو حلول کی بجائے حلت اور حلال سے مشتق مانا جائے، تو اس صورت میں اس کے دو مطلب بنتے ہیں، ایک یہ کہ آپ حلال کرنے والے ہیں اس شہر کو، یعنی اس حرم محترم میں آپ ﷺ کو تھوڑی سی دیر کے لیے جہاد و قتال کی اجازت ملنے والی ہے، اس ظلم و سرکشی کو مٹانے کے لیے جو ظالم وسرکش انسانوں نے وہاں پھیلا رکھی تھی، جیسا کہ صحیح احادیث میں وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ " اللہ تعالیٰ نے جب زمین و آسمان کو پیدا فرمایا تو اس وقت سے ہی مکہ مکرمہ کو ایسا محترم بنادیا کہ اس میں لڑائی کرنا نہ مجھ سے پہلے کسی کیلیے جائز ہوا اور نہ میرے بعد قیامت تک کسی کے لیے اس کی اجاذت ہوگی، سوائے اس تھوڑے سے وقت کے لیے جس میں اس کی اجازت آنحضرت ﷺ کو فتح مکہ کے موقع پر ملی تھی، تاکہ فسادی عناصر اور ان کے شر و فساد سے اس بقعہ مبارکہ کی تطہیر ہوسکے۔ چناچہ آپ ﷺ نے ابن اخطل کے بارے میں حکم دیا تھا کہ اس کو قتل کیا جائے گا اگرچہ وہ غلاف کعبہ کے ساتھ لپٹا ہوا ہی کیوں نہ ہو، اور اسی طرح قیس بن صابہ کو قتل کیا گیا، اور اسی طرح کے اور بھی کچھ فسادی عناصر کے قتل کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ باقی تمام اہل مکہ کے لیے امن وامان کا مژدہ سنایا گیا تھا۔ چناچہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا گیا کہ جو کوئی دار ابو سفیان میں داخل ہوگیا اس کے لیے بھی امن ہے، سو اس صورت میں " حل " اسم فاعل کے معنی میں ہوگا۔ یعنی آپ حلال کرنے والے ہیں اس بلد حرام کو، جبکہ دوسرا احتمال اس میں یہ ہے کہ یہ لفظ اسم مفعول کے معنی میں ہو۔ یعنی اس شہر مقدس میں جہاں کہ پرندوں کو بھی امن وامان حاصل ہے، جہاں کی گھاس اور درخت کاٹنا بھی جائز نہیں، وہاں آپ ﷺ کی عزت و حرمت کا بھی پاس ولحاظ نہیں، یہاں تک کہ آپ ﷺ کے قتل تک کی سازش تیار کی جاتی ہے اور آپ ﷺ کو وہاوں پر اس حد تک پریشان کیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ کو اپنا یہ محبوب شہر چھوڑنا پڑتا ہے، اور آپ ﷺ کو اس سے ہجرت کرنا پڑتی ہے، اور آپ ﷺ حسرت بھرے انداز میں اس بلد امین کو مخاطب کر کے یہ کہتے ہوئے وہاں سے رخصت ہوتے ہیں کہ " مکہ یقینا تو مجھے سب سے زیادہ پیارا تھا اور ہے، اگر تیرے باشندے مجھے یہاں سے نکلنے پر مجبور نہ کرتے تو میں کبھی یہاں سے نہ نکلتا "۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی الہ وصحبہ و من والاہ، ومن دعا بدعوتہ وبھداہ اھتدی الی یوم العرض علی اللہ واللقائ۔ سو اس طرح وانت حل بھذا البلد، کے تین مطلب ہوگئے۔ یہ تینوں ہی صحیح اور تینوں ہی مراد ہوسکتے ہیں۔ والحمدللہ رب العالمین، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل و بہ نستعین، وفی کل ان و حین، جل وعلا۔
Ayah 90:4(5) انسان کی تخلیق مشقتوں میں : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں پیدا کیا، یہ ہے مقسم عالیہ یعنی جس پر یہ مذکورہ بالا قسمیں کھائی گئیں ہیں۔ یعنی یہ کہ انسان کو شروع سے آخر تک طرح طرح کی مشکلات اور مشقتوں میں گھرا ہوا پیدا کیا گیا ہے، حمل کے دوران پھر ولادت اور پھر رضاعت و فطام کی مدت میں، اس کے بعد جوانی بڑھاپے اور دنیا سے رخصت ہونے تک یہ طرح طرح کی مشقتوں اور مشکلات و مصائب میں گھرا رہتا ہے، اور یہ شہر مکہ جس کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے ایک بندے نے طرح طرح کی مشکلات کو برداشت کر کے رکھی تھی، اور یہ طرح طرح کے مراحل سے گزر کر اس مقام پر پہنچا اور اب حضرت خاتم الانبیاء ﷺ جو اعلاء کلمۃ الحق کے لیے طرح طرح کی مشقتیں برداشت کر رہے ہیں، اور ہر والد اور مولد کو اپنے سفر حیات میں جو طرح طرح کی مشقتیں اور مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں، یہ سب کچھ اس حقیقت کا واضح ثبوت ہے، کہ انسان اس دنیا میں چین کی بانسری بجانے اور آرام کی نیند سونے کے لیے نہیں آیا، بلکہ اس کی اس زندگی کی اساس و بنیاد ہی تکلیفوں اور مشقتوں پر رکھی گئی ہے، پس خوش قسمت انسان وہ ہے جو تکلیفوں اور مشقتوں کے اس گھر یعنی دنیا میں اپنے رب کی رضا کے حصول کو اپنا اصل مقصد بنائے، اور اس کے لیے سعی و کوشش کی راہ میں پیش آنے والی ہر تکلیف اور مشکل کو خندہ پیشانی سے برداشت کرے، تاکہ اس طرح وہ رضا خداوندی کے اس شرف سے مشرف ہوسکے، جو کہ سب سے بڑا شرف ہے۔ اور اس کے نتیجے میں وہ جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفراز ہوسکے، اور یہی ہے اسل حقیقی اور سب سے بڑی کامیابی، وذلک ھو الفوز العظیم۔ اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے نصیب فرمائے، آمین۔ اور اس کے برعکس بڑا ناکام اور نامراد ہے وہ انسان جو اس دنیاوی زندگی اور اس کے وقتی آرام کو ہی سب کچھ سمجھ کر اسی کے لیے جینے اور مرنے لگے، والعیاذ باللہ العظیم۔ کہ دنیا آرام کی جگہ نہیں تکلیفوں کا گھر ہے، آرام کی جگہ تو جنت ہے، اللہ نصیب فرمائے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین، اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے، اور نفس شیطان کے ہر مکرو فریب سے ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھے، آمین ثم آمین یا رب العالمین، و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب۔
Ayah 90:5(6) غافل انسان کے ضمیر پر ایک دستک : سو انسانی ضمیر پر دستک کے طور پر بطور سواول و استفہام ارشاد فرمایا گیا کہ کیا اس نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اس پر کسی کا بس نہیں چلے گا ؟ اور وہ اس سے اس کے کیے کرائے کا حساب نہیں لے گا ؟ کیوں نہیں جبکہ اس کا رب جو کہ قادر مطلق بھی ہے اور حکیم مطلق بھی، اس انسان کا خالق ومالک مطلق بھی، اور عدل و انصاف قائم کرنے والا بھی، وہ اس انسان پر نگاہ رکھے ہوئے ہے، اور اس کے سب کیے کرائے کو پوری طرح دیکھ بھی رہا ہے۔ ( آیت، انشقاق 15 پ 30) یعنی ہاں کیوں نہیں یقینا اس کا رب اس کو پوری طرح دیکھ رہا ہے، اور وہ اس کے کیے کرائے کا ریکارڈ بھی تیار کرا رہا ہے، اور نہایت ہی محکم طریقے سے اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے مطابق نہایت اعلی درجے پر تیار کر ارہا ہے اور بےمثل و عدیم النظر پیمانے پر، تو پھر یہ کیسے اور کیونکر ہوسکتا ہے کہ انسان کا کوئی حساب کتاب نہ ہو ؟ سو جس انسان کو مشکلات اور مشقتوں میں گھرا ہوا پیدا کیا گیا ہے کہ اس کی دوسری کوئی نظر و مثال ممکن ہی نہیں تو اس سب کے باوجود اگر وہ اس زعم فاسد میں مبتلا ہے کہ اس پر کسی کا بس نہیں چلے گا اس کا کوئی حساب کتاب نہیں چلے گا، اور وہ یونہی دندناتا پھرے گا، تو اس سے بڑا بہکا اور بگڑا ہوا انسان اور کون ہوسکتا ہے ؟ حالانکہ یہ اپنے خالق کی قدرت مطلقہ کے سامنے اس طرح عاجز اور اتنا بےبس ہے کہ وہ آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی جب اور جس طرح چاہے اس کو اپنی گرفت میں لے لے اور ایسے موقع پر ایسے مغرور اور مفتوں لوگوں کی سب تدبیریں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں، جیسا کہ دنیا میں روز مرہ کے مشاہدات سے ثابت اور واضح ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیغ و ضلال، وسواء وانحراف، ومن کل شائبۃ من شوائب الکفر والانکار، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب۔
Ayah 90:6(7) منکر انسان کے کبر و غرور کا ایک نمونہ و مظہر : سو ایمان و یقین کی دولت سے محروم و بےبہرہ انسان کے غرور وتکبر اور اس کی محرومی کے ایک نمونے کے ذکرو بیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا انسان کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال اڑا دیا، اپنی ناموری اور نمود نمائش کے لیے اور اس کی کوئی پرواہ کیے بغیر کہ اسے اس کا کوئی حساب دینا ہے کہ اس نے یہ کہاں سے اور کیسے کمایا تھا اور کہاں اور کس کے لیے خرچ کیا تھا، سو یہی حال ہوتا ہے اس انسان کا جو ایمان و یقین کی دولت سے محروم اور پرسش آخرت سے بےخطر اور نچنت ہوجاتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کا مال و دولت اس طرح کی عیاشیوں فضول خرچیوں اور اللوں تللوں میں ضائع ہوتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ پس جن لوگوں کے اندر یہ گھمنڈ پیدا ہوجاتا ہے جو کہ کچھ مال و دولت ان کو حاصل ہے وہ ان کا پیدائشی حق، ان کی اپنی قابلیت کا نتیجہ اور ان کے ہنر کا کرشمہ ہے، تو وہ ایسے ہی غرور وتکبر میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور ان اندر انفاق فی سبیل اللہ کا جذبہ بالکل مردہ ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں ایسوں کو نہ اپنے خالق ومالک کی رضا و خوشنودی اور اس کے حقوق کی پروا ہوتی ہے، اور نہ ان کو اپنی آخرت اور اپنے انجام کی کوئی فکر ہوتی ہے، وہ بس جوڑنے اور جمع کرنے ہی کے چکر میں پھنس کر رہ جاتے ہیں، یہاں تک کہ ان کی فرصت عمر تمام ہوجاتی ہے، اور وہ اپنا جوڑا ہوا اور جمع کردہ سب کچھ یہیں چھوڑ کر خالی ہاتھ اس جہان فانی سے عالم جاودانی کو کوچ کر جاتے ہیں جو کہ سب سے بڑا خسارہ اور محرومیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیغ و ضلال، وسوء وانحراف۔
Ayahs 90:7–8(8) غافل انسان کو تنبیہ و تذکیر : سو غافل انسان کو تنبیہ و تذکیر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا اس نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ کسی نے اس کو دیکھا نہیں ؟ اور اس سے کوئی پوچھ نہیں ہوگی، اس کے کیے کرائے کی ؟ سو ایسا سمجھنا بہت غلط اور یہ زاویہ نگاہ بہت ٹیڑھا ہے، انسان کے کیے کرائے کا پورا ریکارڈ تیار ہورہا ہے، اور اس کو اس کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا، اور یہ جو کچھ سمجھتا ہے سمجھتا رہے، لیکن اس کا خالق ومالک سب کچھ دیکھتا اور جانتا ہے، اور اس کو پوری طرح معلوم ہے کہ یہ کن کن شاہ خرچیوں سے کام لیتا ہے، کہاں کہاں اڑاتا ہے اور کن کن جگہوں اور کن کن نیتوں اور ارادوں سے خرچ کرتا ہے، ان سب کے بارے میں اس سے پوچھ ہوگی کہ اس نے یہ مال کہاں سے اور کس طرح کمایا تھا، اور اس کو کہاں اور کس لیے خرچ کیا تھا، وغیرہ وغیرہ۔ صحیح مصارف میں اور اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کی کے لیے خرنے سے کترانا اور طرح طرح کے حیلوں، بہانوں سے کام لیتا، اور نمود و نمائش کے لیے طرح طرح کی عیاشیوں میں ڈھیروں مال اڑا دیتا وغیرہ۔ سب کچھ اس خالق ومالک کے علم میں ہے، اور ریکارڈ پوری طرح محفوظ ہے، اور کل کے اس یوم حساب میں جو کہ کشف حقائق اور ظہور نتائج کا جہان ہوگا، سب کچھ اس کے سامنے آجائے گا اور اس وقت کھرا کھوٹا اور حق ناحق سب کچھ اس کے سامنے پوری طرح واضح ہوجائے گا۔ تب ایسے مغرور و متکبر لوگوں کو سب کچھ خود معلوم ہوجائے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 90:9–10(10) زبان اور ہونٹوں کی نعمت اور اس کے تقاضوں کی تزکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہم نے اس کو زبان اور دو ہونٹ نہیں عطا کیے ؟ جو کہ قدرت کی عظیم الشان نعمتوں میں سے ہیں، تاکہ ان کے ذریعے انسان بول سکے، اظھار ما فی الضمیر کرسکے، اور ان کے ذریعے یہ اپنے خالق ومالک کو یاد کرے اور اسی واہب مطلق جل وعلا شانہ کے گن گائے اور زمزمہ حق و صداقت کی نغمہ سرائی کرے، تاکہ یہ اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھے اور محسوس کرے، اس کے تقاضوں پر خود بھی عمل کرے اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم و تلقین کرے، تاکہ اس کی تشویش و ترغیب سے دوسروں کے اندر بھی وہ نیکی پھیلے، اور سب کا بھلا ہو، اور خیر و برکت کا دور دورہ ہو، جس طرح کہ وہ ( آیت، الفجر 18 پ 30) کے کلمات کریمہ سے فرمائی گئی ہے، جیسا کہ پچھلی سورة کریمہ میں اس کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے، یعنی تم لوگ دوسروں کو مسکین کے کھانے پر نہیں ابھارتے اور آگے اسی سورة کریمہ میں اس مضمون کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے ( ایت، البلد 14 تا 17 پ 30) یعنی " پھر وہ ہو بھی ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور وہ ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے ہیں، اور ایک دوسرے کو ہمدردی کی تلقین کرتے ہیں "۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید۔ بہرکیف زبان اور ہونٹ قدرت کی عظیم الشان نعمتیں ہیں، اسی لیے یہاں پر زبان کی نعمت کے زکر کے ساتھ ہی ساتھ ارشاد فرمایا گیا اور کیا ہم نے اس کو دو ہونٹ نہیں عطا کیے ؟ جو اس کے لیے زیب وزینت بھی ہیں اور ان سے وہ کھانے پینے بولنے چالنے اور دوسرے کئی اہم امور سے متعلق طرح طرح سے مستفید بھی ہوتا ہے، پھر بھی اگر وہ اس وحدہ لا شریک کو یاد نہ کرے تو یہ کس قدر بےانصافی ہے ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو قدرت نے اس کو ایسی عظیم الشان نعمتوں سے نوازا تھا تاکہ ان کو ان کے صحیح مصرف میں صرف کر کے یہ اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا سامان کرتا، اور اپنے مال و دولت کو بھی سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ بناتا، اور چند روزہ متاع دنیا کے خزف ریزوں کے عشق میں اندھا ہو کر اس ابدی بادشاہی اور اس کے تقاضوں سے غافل نہ ہوتا، اور اس سے محرومی کی راہ کو نہ اپناتا، جس کی حقیقی اور ابدی بادشاہی کو یہ اس فانی دنیا کی فانی دولت کے بدلے میں حاصل کرسکتا تھا۔ یہاں پر زبان کے ساتھ شفتین یعنی دو ہونٹوں کے ذکر میں کئی عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ مثلا یہ کہ زبان اپنی ادائیگی وبیان اور اظہار مافی الضمیر کے لیے دونوں ہونٹوں کی محتاج ہے، ان کے بغیر یہ کچھ بول ہی نہیں سکتی، نیز یہ کہ باہر سے آنے والی کھانے اور پینے کی کوئی چیز ہونٹوں کی مدد کے بغیر زبان تک نہیں پہنچ سکتی، اور تیسری طرف یہ کہ ان ہونٹوں کے ذریعے زبان کو اوپر اور نیچے دونوں طرف سے محفوظ کیا گیا ہے اور قاعدہ ہے کہ جو چیز جتنی قیمتی ہوتی ہے اتنی ہی اس کی حفاظت زیادہ کی جاتی ہے۔ اور جو چیز جتنی زیادہ اثر انگیز اور دور رس ہوتی ہے اتنا ہی اس کی حفاظت زیادہ احتیاط سے کی جاتی ہے، تاکہ اس کے استعمال میں کوئی بےاحتیاطی راہ نہ پائے اور زبان چونکہ انسان کے نہایت موثر اور قیمتی اسلحہ میں سے ہے، اس لیے اس کی حفاظت کا اس طرح فطری درس دیا گیا ہے کہ اس کو صرف خیر میں اور خیر ہی کے لیے استعمال کیا جائے، مگر افسوس کہ لوگوں نے اس سے اصل کام لینے کی بجائے اس کو گھاس کاٹنے کی درانتی بنا لیا ہے جو ہر وقت اور ہر طرف چلتی ہے، اور خشک و تر سب کو کاٹ کر ڈھیر کر جاتی ہے۔ الا ماشاء اللہ، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ اور اپنی بخشی ہوئی ہر نعمت کو ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں میں صرف کرنے کی توفیق بخشے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب، سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayahs 90:11–15(12) انسان کی دون ہمتی کی شکایت کا ذکر وبیان : سو انسان کی دون ہمتی کی شکایت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے ہمت نہ کی اس دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی، جو سدا بہار بلندیوں اور حقیقی عظمتوں سے ہم کنار کرنے والی ایک عظیم الشان گھاٹی ہے اور ایسی عظیم الشان گھاٹی جو اس مشت خاک یعنی انسان ضعیف کو رشک ملائک بنا دینے والے گھاٹی ہے۔ " عقبہ " کے معنی گھاٹی کے ہیں اور " اقتحام " کے معنی چڑھائی چڑھنے یا کوئی مشکل کام کرنے کے ہیں، یہاں پر اس ارشاد سے نیکی کے ان کاموں کی طرف اشارہ ہے جو ہمدردی خلق اور بندگی رب کے اعلی کام ہیں، اور جن کی مثالیں آگے مذکور ہیں، ان کاموں کے انجام دینے میں چونکہ انسان کو ایثار و قربانی سے کام لینا پڑتا ہے، جو کہ انسان پر طبعی طور پر شاق ہوتا ہے، اس لیے اس کو اقتحام عقبہ یعنی گھاٹی پر کرنے سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اور جس کی ہمت وہی لوگ کرسکتے ہیں جو راسخ الایمان، صادق القول اور موفق من اللہ ہوتے ہیں، اور اس عقبہ کی تشریح و تفسیر کے طور پر اور اس سے مقصود مراد کی وضاحت کے لیے آگے ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ڑھا دینا ہے کسی گردن کو، یعنی رق و عبودیت سے، خواہ اس کو پوری طرح آزاد کر کے یا اس کی آزادی میں ہاتھ بٹا کر، اور حصہ لے کر اس کو آزاد کرا دیا جائے، اسی طرح جو کوئی کسی قرض یا تاوان کے بوجھ میں دبا اور پھنسا ہوا ہو، اس کی مدد و معانوت کر کے کہ وہ بھی اسی میں داخل ہے، یا کوئی بےوسیلہ شخص کسی تاوان کے بوجھ کے نیچے آگیا، اس کی مدد کرنا اور اس کے تاوان کی ادائیگی میں ہاتھ بٹا کر اس کی خلاصی کا سامان کرنا وغیرہ وغیرہ۔ سو " عقبہ " کی تفسیر و تشریح کے سلسلے میں جن امور کا ذکرو بیان فرمایا گیا ہے ان میں سب سے پہلا کام " فک رقبہ " یعنی گردن چھڑانا ذکر فرمایا گیا جس سے اس کی عظمت و اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل و بہ نستعین۔
Ayah 90:16(13) قریبی رشتہ دار اور مسکین کو کھانا کھلانا ایک اہم مطلب : چناچہ اقتحام عقبہ کی تشریح و تفسیر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بھوک کے دن کھانا کھلادینا ہے کسی قریبی یتیم یا خاک نشیں مسکین کو، اور یہ اس لیے کہ کسی قریبی یتیم کو کھنا کھلانے میں دوہرا اجر وثواب ہے، ایک صدقہ و خیرات کا اور دوسرا قرابت داری کا اور صلہ رحمی کا، مگر شرط یہ ہے کہ ان میں سے کسی کام میں بھی کوئی ریا و نمود وغیرہ نہ ہو، بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کا حصول ہی اس کا اصل مقصد و محرک ہو۔ " فایک نسال اللھم التوفیق 1 لزالک والسداد والثبات علیہ " اور یتیم کو کھانا کھلانا محض اس کے محدود ومعنی کے اعتبار سے نہیں بلکہ یہ اپنے وسیع معنی میں ہے، یعنی اس کے لیے اس کے " ما یحتاج الیہ " کا انتظام کرنا۔ یعنی اس کی جملہ ضرورتوں کو پورا کرنا اور " فی یوم ذی مسغبۃ " کی قید سے اس اپیل کو مزید موثر بنادیا گیا کہ یہ کام یوں تو ہر وقت ہی نیکی اور خیر کا کام ہے، لیکن قحط اور بھوک کے زمانے میں اس کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے، اسی طرح " ذا مقربۃ " کی قید بھی اس دعوت و اپیل کو مزید موثر بنانے کے لیے ہے کہ یوں تو ہر اپنے قیمیت اور بےبسی کی بنا پر معاونت و مدد کا حق دار ہے، لیکن قرابت دار یتیم کا حق اور بھی زیادہ اور دو چند ہوجاتا ہے، اور یہی بات " یتیما " کے ساتھ " ذا متربۃ " ( خاک آلود) کی صفت و قید میں بھی ملحوظ ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب، فبہ ثقتنا وعلیہ الاعتماد، جل وعلا۔
Ayah 90:17(14) اجتماعی عمل کی ضرورت و اہمیت کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور اجتماعی عمل کی ضرورت و اہمیت کا اجاگر کرنے کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہ ہو بھی ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے ہوں، کہ ایمان قبولیت عمل کے لیے اولین بنیاد اور لازمی شرط ہے، اس کے بغیر کسی عمل کا اللہ تعالیٰ کے ہاں نہ کوئی وزن ہے اور نہ ہی کوئی اجر وثواب، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور ایمان کے بگیر نہ کوئی عمل صالح قرار پاسکتا ہے اور نہ وہ مدار نجات بن سکتا ہے، اور قرآن حکیم میں اس امر کی جگہ جگہ اور طرح طرح سے تصریح فرمائی گئی، مثلا سورة نساء کی آیت نمبر 124 میں ارشاد فرمایا گیا کہ " جو کوئی نیک عمل کرے گا، خواہ وہ کوئی مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ ایمان رکھتا ہو تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان پر ذرہ برابر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا "۔ پس عمل خیر میں صرف شخصی اور انفرادی عمل پر اکتفا نہ کیا جائے، بلکہ اس کو " من حیث الجماعۃ " اور اجتماعی شکل میں انجام دینے کی کوشش کی جائے اور انسان صرف اپنی ذات ہی تک محدود ہو کر نہ رہ جائے بلکہ وہ نیکی اور خیر کا داعی اور مبلغ بھی بنے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید۔
(15) باہمی صبر اور رحم و کرم کی تلقین وتعلیم کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور باہمی صبر اور رحم و کرم کی تعلیم و تلقین کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہ اس میں ایک دوسرے کو صبر کی فرمائش اور تلقین بھی کرتے ہوں، اور ایک دوسرے کو رحم و کرم کی بھی تعلیم و تلقین کرتے ہوں، اور صبر کا لفظ اس کی تینوں قسموں کو شامل ہے۔ یعنی " صبر علی الطاعۃ " یعنی نیکی اور خیر کے کاموں پر صبر کرنا، اور ان پر پکار ہنا اور " صبر عن المعصیت " یعنی برائی اور گناہ کے کاموں سے اجتناب و دوری پر پکا اور ثابت قدم رہنا اور " صبر علی المصائب والمکارہ " یعنی تکلیفوں اور مصیبتوں پر صبر و برداشت سے کام لینا، سو صبر کا لفظ اس کی ان تینوں قسموں کو عام اور شامل ہے، وباللہ التوفیق۔ سو اگر غور کے ساتھ دیکھا جائے تو مومن کی پوری زندگی ہی صبر کی زندگی ہے، ایمان کے راستے پر قدم رکھتے ہی اس کے صبر کا امتحان شروع ہوجاتا ہے، اللہ تعالیٰ کی عائد کردہ عبادات اور اس کے ارشاد فرمودہ احکام و ارشادات پر عمل پیرا ہونا، اور ان پر استقامت و پابندی سے کام لینا صبر کے بغیر ممکن ہی نہیں ہوسکتا، کیونکہ اس کے لیے انسان کی مزاحمت کرنا اور ایک چڑھائی چڑھنا پڑتی ہے، جس کو یہاں " اقتحام عقبہ " ( گھاٹی عبور کرنے) سے تعبیر فرمایا گیا ہے، اور ظاہر ہے کہ یہ چیز صبر کے بغیر ممکن نہیں، اور سبر کے ساتھ ساتھ باہمی رحم و کرم کی تعلیم و تلقین کی بھی ضرور ہے، اس لیے ارشاد فرمایا کہ پھر وہ تلقین کرتے ہیں رحم کی، کیونکہ رحم ایک عظیم الشان وصف بھی ہے اور مومن صادق کا امتیازی نشان بھی، اور اللہ پاک کی رحمت و عنایت سے سرفرازی کا ایک خاص ذریعہ بھی، اور اہل ایمان کے معاشرے کی امتیازی شان بھی، کیونکہ اسلامی معاشرہ ایک رحیم و شفیق اور ہمدرد و غمگسار معاشرہ ہوتا ہے، فرد کی حیثیت سے بھی وہ اللہ پاک کی شان رحیمی کا ایک نمونہ و مظہر ہوتا ہے اور جماعتی لحاظ سے بھی اس کی یہی شان ہوتی ہے اور نبی رحمت نے ارشاد فرمایا کہ جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اس پر اللہ بھی رحم فرماتا " من لا یرحم لا یرحم " نیکی کے کام چونکہ بالعموم نفس کی خواہات کے خلاف ہوتے ہیں، اس لیے ان کی انجام دہی اور ان پر مداومت کے سلسلے میں انسان کو نفس کی مزاحمت کرنی اور ایک چڑھائی چڑھنی پڑتی ہے، اور یہ چڑھائی وہی لوگ چڑھ سکتے ہیں جن کے اندر صبر و استقامت کی خو خصلت مضبوط و مستحکم ہوتی ہے، اور جن کے اندر یہ وصف موجود نہ ہو وہ کوئی بھی کام مضبوطی اور پامردی کے ساتھ نہیں کرسکتے، اس لیے یہ امر ضروری ہوا کہ جن کو نیکی کا درس دیا جائے ان کو صبر و استقامت اور عزم و ہمت کا درس بھی دیا جائے اور اس کی تعلیم و تلقین بھی کی جائے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر قائم رکھے، آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین، بکل حال من الاحوال۔
Ayah 90:18(16) دائیں بازو والوں کی تعیین و تشخیص کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور دائیں بازوں والے خوش نصیبوں کی تشخیص اور نشاندہی کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا اور اسلوب حصر وقصر میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہی لوگ ہیں دائیں بازو والے، یعنی جن کی صفات اوپر بیان ہوئیں، سو یہی لوگ ہیں سعادت و نیک بختی والے جو کہ یوم ازل میں حضرت آدم کی داہنی طرف تھ، اور یہی وہ خوش نصیب ہوں گے جن کو حشر کے دن ان کے نامہ ہائے اعمال ان کے داہنے ہاتھوں میں ملیں گے، جو کہ آخری حقیقی اور دائمی کامیابی کا ثبوت و نشان ہوگا، اور جو سعادتوں کی سعادت اور کامیابیوں کی کامیابی ہوگی، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے فضل وکرم سے انہی اہل سعادت میں سے کرے، آمین ثم آمین۔ واضح رہے کہ یہ معنی و مطلب اس صورت میں ہوگا جب کہ میمنہ کو یمین سے مشتق و ماخوذ مانا جائے، جبکہ اس میں دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ یہ یمین کی بجائے یمن سے ماخوذ ہو، جس کے معنی خیر و برکت اور سعادت و نیک بختی کے ہیں۔ یعنی ایسے ہی لوگ خیر و برکت والے اور نیک بخت وسعادت مند لوگ ہیں، اور اسلوب بیاں یہاں پر جیسا کہ ابھی اوپر بھی گزرا حصر والا ہے، یعنی نیک بخت اور سعادت مند لوگ یہی اور صرف یہی ہیں، کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اس دنیا میں حیات طیبہ یعنی پاکیزہ زندگی کی سعادت نصیب ہوگی، اور آخرت میں یہ جنت کی ابدی اور سدا بہار نعمتوں سے سرفراز ہوں گے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو انہی میں سے کرے آمین ثم آمین۔ سو اس ارشاد سے ان نیک بختوں اور خوش نصیبوں کا صلہ و بدلہ ان کا انجام بیان فرما دیا گیا کہ جو نیکی اور خیر کے ان مذکور بالا کاموں کا حوصلہ کریں گے، وہ کامیاب اور فائز المرام ہوں گے، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر مستقیم و ثابت قدم رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، واکرم الاکرمین۔
Ayah 90:19( 17) کفر و انکار باعث ہلاکت و محرومی، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جنہوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کا، والعیاذ باللہ۔ وہی ہیں بائیں بازو والے محروم و بدبخت، والعیاذ باللہ۔ یعنی جنہوں نے انکار کیا ہماری ان آیتوں کا جو کہ راہ حق و ہدایت کو واضھ کرتی اور ہماری عظمت و وحدانیت کا پتہ دیتی ہیں، خواہ وہ آیات کونیہ ہوں جو اس پوری کائنات میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں، اور اپنی زبان حال سے پکار پکار کر دعوت غور وفکر دے رہی ہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، الذاریات 20 پ 24) یعنی زمین میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں یقین والوں کے لیے۔ نیز ارشاد فرمایا گیا ( آیت، یوسف 105 پ 13) یعنی کتنی ہی نشانیاں آسمانوں اور زمین ( کی اس کائنات) کے اندر موجود ہیں جس پر یہ لوگ ( دن رات) گزرتے ہیں، لیکن یہ ان سے منہ موڑے رہتے ہیں، سو یہ آیات کونیہ ہیں، اور دوسری آیات وہ آیات تنزیلیہ اور تشریعیہ ہیں جو اللہ پاک نے اپنی اس کتاب حکیم میں نازل فرمائی ہیں، اور جو قیامت تک باقی رہنے والی ہیں، سو لفظ آیات کا عموم ان دونوں قسموں کی آتیوں کو شامل ہے، پس ان کا انکار اور ان کے ساتھ کفر کا برتاؤ بڑی ہلاکت اور تباہی ہے، والعیاذ باللہ۔ اور یہ دونوں قسم کی آیات اللہ پاک کی توحید اور وحدانیت کا درس دیتی ہیں۔ پس جو لوگ اس کے برعکس کفر و انکار اور شرک کی راہ پر چلتے ہیں، وہ ان آیتوں کے منکر ہیں، اور کفر وانکار دارین کی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین۔ بہرکیف اس آیت کریمہ کے اندر اللہ پاک کی آیات کی تکذیب اور ان کے انکار کے مجرموں کے ذکرو بیان کے بعد ارشاد فرمایا گیا اور انداز حصر و قصر میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہی ہیں بائیں ہاتھ والے یعنی وہ محروم اور بدنصیب لوگ جن کو ان کے نامہ اعمال حشر کے روز کے بائیں ہاتھ میں ملیں گے، اور ان کا مآل و انجام دوزخ ہوگا۔ والعیاذ باللہ۔ سو یہ بڑے ہی بدبخت اور منحوس لوگ ہوں گے، جو جنت کی ابدی اور سدا بہار نعمتوں سے محروم ہو کر دوزخ کا ایندھن بنیں گے اور اس کے دائمی اور ہولناک عذاب میں مبتلا ہوں گے، والعیاذ باللہ۔ جیسا کہ سورة واقعہ میں ان کا حال بیان فرمایا گیا کہ یہ لوگ دوزخ کی ہولناک آگ اور وہاں کے کھولتے پانی کے اندر ہوں گے، چناچہ ارشاد ہوتا ہے ( آیت، الواقعہ 41, 44 پ 27) سو قرآنی الفاظ اور اسلامی اصطلاح کے مطابق " اصحب الیمین " یعنی اپنے داہنے والے حقیقی معنوں میں کامیاب اور فائز المرام لوگ ہیں جو کہ دوزخ کے عذاب سے بچ کر جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفراز ہوں گے، اللہ ہم سب کو انہی میں سے کرے، آمین۔ اور اس کے مقابلے میں " اصحب الشمال " عنوان ہے ان سیاہ بخت لوگوں کے حال و مآل کا جو سب سے بڑے ناکام اور نامراد لوگ ہوں گے، جو جنت کی سدا بہار نعمتوں سے محروم ہو کر دوزخ کے ابدی عذاب میں مبتلا ہوں گے، اور یہی ہے سب سے بڑی ناکامی، والعیاذ باللہ العظیم۔ مشمہ شوم سے ماخوذ و مشتق ہے جس کے معنی نحوست و بدبختی کے ہیں۔ سو یہ لوگ بڑے ہی محروم اور بدبخت لوگ ہوں گے جو ابدی بادشاہی سے محروم ہو کر ہمیشہ کے انتہائی ہولناک عذاب میں مبتلا ہوں گے جیسا کہ دوسرا کوئی خسارہ ہو ہی نہیں سکتا۔ والعیاذ باللہ۔
Ayah 90:20(18) اصحاب شمال کے انتہائی ہولناک انجام کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور " اصحاب شمال " کے ہولناک عذاب کی تصریح کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ان پر مسلط ہوگی ایک بڑی ہی ہولناک آگ۔ ایسی ہولناک کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال ممکن نہیں، جو دلوں تک جھانکے گی، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، الھمزہ 7 پ 30) یعنی دوزخ کی وہ ہولناک عذاب جھانکتی ہوگی دلوں پر اور وہ دوزخیوں کو پکار پکار کر اپنی طرف بلا رہی ہوگی، جیسا کہ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، معارج 17, 18 پ 30) یعنی دوزخ کی وہ آگ بلاتی پکاری ہوگی ہر اس شخص کو جس نے منہ موڑا ہوگا ( راہ حق و ہدایت سے) اور اس نے پیٹھ پھیری ہوگی اور اس ہولناک آگ کو ان کافروں اور منکروں پر مسلط بھی اس طرح کیا جائے گا کہ اس سے بچنے اور بھاگ نکلنے کی بھی پھر کوئی صورت ان کے لیے ممکن نہ ہوگی، اور یہ سب کچھ نتیجہ وثمرہ ہوگا ان کے اپنے اس کفر و انکار کا جس کو انہوں نے دنیا میں اپنے اراہ و اختیار سے ہمیشہ اپنائے رکھا تھا، یہاں تک کہ ان کی موت بھی کفر ونکار کے انہی اندھیروں میں ہوئی، اور رب رحمن و رحیم کا کرم بالائے کرم ملاحظہ ہو کہ اس نے ان کو اس انجام محتوم اور مصیر موعود سے پیشگی اس دنیا میں ہی اس قدر صراحت و وضاحت کے ساتھ خبردار کردیا، تاکہ یہ اس سے بچاؤ کا سامان کرسکیں، قبل اس سے کہ فرصت حیات ان کے ہاتھ سے نکل جائے، مگر انہوں نے پھر بھی حق کو مان کر نہ دیا، یہاں تک کہ وہ کفر و انکار ہی کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوئے، اور ہمیشہ ہمیش کے عذاب میں مبتلا ہوگئے، سو تکذیب حق اور کفر و انکار، محرومیوں کی محرومی اور ہلاکتوں کی ہلاکت ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور عذاب دوزخ کے ایک انتہائی ہولناک پہلو کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ان پر وہ آگ مسلط ہوگی جس کو اوپر سے موندھ دیا گیا ہوگا، تاکہ نہ تو اندر سے اس آگ کی حرارت و تپش کا کوئی حصہ اس سے باہر نکلنے پائے اور نہ ہی باہر سے کوئی تازہ اور ٹھنڈی ہوا کا کوئی جھونکا اس کے اندر داخل ہوسکے، اور اس طرح یہ بدبخت ہمیشہ اس ہولناک آگ میں پڑے جلتے اور بھنتے رہیں گے اور " لا یموت فیھا ولا یحی " والی اس زندگی میں نہ ان کو سکھ کا کوئی سانس لینا نصیب ہوسکے گا اور نہ ہی ان کے اس عذاب میں کوئی تخفیف ہوسکے گی، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو جس کافر و منکر کا آخری انجام یہ ہونے والا ہے، اس کو اگر آج دنیا بھر کی تمام دولت بھی مل جائے تو بھی اس کو کیا ملا۔ والعیاذ باللہ العظیم، اللھم اجرنا من النار بمحض منک وکرمک یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، فعلیک نتوکل وبہ نستعین، والیک انبنا والیک المصیر، و صلی اللہ تعالیٰ علی البشیر والنذیر النبی الامی الکریم، الذی ھدانا بہ سبحانہ وتعالی الی الصراط المستقیم، و وقانا من نار الجحیم نبینا محمد وعلی الہ وصحبہ وسلم ومن اھتدی بھدیہ و دعا بدعوتہ واستن بسنتہ الی یوم الدین۔