90. Surah Al-Balad

البلدThe City · 20 ayahsانوار البیان

Ayah 90:1

لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:1 in the Quran reader

ہمیں اس شہر کی قسم

(90:1) لا اقسم بھذ البلد : لا زائدہ؛ اقسم ، مضارع واحد متکلم میں قسم کھاتا ہوں۔ ھذا اسم اشارہ واحد مذکر، البلد : مشار الیہ مراد شہر مکہ ہے۔ میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی۔
Ayah 90:2

وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:2 in the Quran reader

اور تم اسی شہر میں تو رہتے ہو

(90:2) وانت حل بھذا البلد : واؤ حالیہ ہے اور جملہ ھذا البلد سے حال ہے۔ حل حل یحل (باب ضرب) کا مصدر ہے۔ بمعنی حلال۔ حلال ہونا۔ اترنا۔ نازل ہونا ۔ فائز ہونا۔ بمعنی کسی جگہ اترنے والا بھی ہے ۔ چناچہ کہتے ہیں۔ ما زلت حلا بھذا البلد۔ میں اس شہر میں ہمیشہ اترنے والا ہوں۔ (المنجد) یعنی میں اس شہر میں ہمیشہ رہنے والا ہوں۔ اس سے محلہ ہے۔ رہنے کی جگہ۔ اترنے کی جگہ۔ فروکش ہونے کی جگہ۔ شہر کا ایک حصہ جہاں رہائش رکھی جاتی ہو۔ یہاں حل بمعنی حال بمعنی اسم فاعل آیا ہے۔ رہنے والا۔ الحل کے اصل معنی گرہ کشائی کے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ ہے :۔ واحلل عقدۃ من لسانی (20:27) اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ اور حللت کے معنی کسی جگہ پر اترنا اور فروکش ہونا بھی آتے ہیں۔ اصل میں یہ حلل الاحمال عند النزول سے ہے جس کے معنی کسی جگہ اترنے کے لئے سامان کی رسیوں کی گرہ کشائی کے ہیں۔ پھر محض اترنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے۔ لہٰذا حل کے معنی کسی جگہ اترنا کے ہیں۔ (المفردات) مولانا فتح محمد جالندھری اپنے ترجمہ کے اخیر میں فوائد کے عنوان کے تحت نمبر 329 پر رقمطراز ہیں :َ مفسرین نے حل کے معنی حلال بھی کئے ہیں۔ اور لکھا ہے کہ خدا نے اس شہر میں مقاتلہ ہمیشہ کے لئے حرام کیا ہے مگر جناب رسول اللہ ﷺ کے لئے اس میں فتح مکہ کے دن قتال کرنا جائز کیا تھا ۔ اس بناء پر آیت کا ترجمہ یوں ہونا چاہیے۔ کہ تم کو اس شہر میں (قتال) حلال ہونے والا ہے۔ مگر ہمارے نزدیک زیادہ مناسب یہ ہے کہ حل کے معنی حال یعنی ساکن و نازل لئے جائیں۔ اسی وجہ سے ہم نے ترجمہ کیا ہے۔ ” تم اسی شہر میں رہتے ہو۔ اس صورت میں مکہ معظمہ کی دوسری فضیلتوں میں سے ایک یہ فضیلت بھی اس کی قسم کھانے کا موجب ہوگی کہ وہ حضرت خاتم النبیین کا مسکن تھا۔
Ayah 90:3

وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَۙ Open ayah 90:3 in the Quran reader

اور باپ (یعنی آدم) اور اس کی اولاد کی قسم

(90:3) ووالد وما ولد : واؤ عاطفہ ہے۔ والد کا عطف بلد پر ہے والد سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں یا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ یا ہر والد (کوئی ہو) ۔ والد ولادۃ سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ۔ باپ۔ وما ولد : واؤ عاطفہ ہے اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے ما کا لفظ تنکیر پر دلالت کر رہا ہے اور تنکیر اظہار عظمت کے لئے ہے من کی جگہ ما استعمال تعجب کے لئے ہے جیسے واللہ اعلم بما وضعت (3:36) میں من کی بجائے ما کا ذکر کیا گیا ہے۔ ولد ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ ولادۃ (باب ضرب) مصدر سے (جس کا) وہ باپ ہوا۔ ماولد بمعنی اولاد مراد اس سے کل اولاد آدم ۔ یا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل کے پیغمبر یا حضرت رسول اللہ ﷺ ۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 90:4

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍؕ Open ayah 90:4 in the Quran reader

کہ ہم نے انسان کو تکلیف (کی حالت) میں (رہنے والا) بنایا ہے

(90:4) لقد خلقنا الانسان فی کبد۔ یہ جواب قسم ہے لام تاکید کا ہے۔ قد فعل ماضی ساتھ تحقیق کے معنی دیتا ہے اور اس جملہ فعلیہ میں جو کہ قسم کے جواب میں آیا ہو تاکید کا فائدہ دیتا ہے۔ تحقیق ہم نے پیدا کیا۔ الانسان ۔ خلقنا کا مفعول ہے۔ اس میں الف لام جنس کا ہے (کوئی انسان ہو) یا یہ ال عہد کا ہے۔ لیکن یہ اس روایت کے بموجب ہوگا۔ کہ یہ آیت ابو الاشد کے متعلق نازل ہوئی۔ اس کا نام اسید بن کلدہ بن الجمحی تھا۔ بڑا طاقتور تھا ۔ عکاظی چمڑا اپنے پاؤں کے نیچے دبا کر کہتا تھا کہ جو اس چمڑے سے میرے قدم ہٹا دے گا اس کو اتنا انعام ملے گا۔ لیکن کوئی اس کے قدم کو ہٹا نہ سکتا یہاں تک کہ چمڑا کھینچنے سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا تھا اور قدم اپنی جگہ جما رہتا تھا۔ کبد بمعنی فضا۔ ریت کے تودے کا درمیانی حصہ۔ دن کا وسط۔ مصیبت، مشقت۔ الکبد بمعنی جگر ہے اور الکبد بطور کبد یکبد کے مصدر کے جگر پر مار کر زخمی کرنا ہے۔ ترجمہ آیت :۔ تحقیق ہم نے انسان کو تکلیف و مشقت (کی حالت) میں (رہنے والا) بنایا ہے۔ اس آیت میں متنبہ کیا گیا ہے کہ انسان کی ساخت ہی اللہ تعالیٰ نے کچھ اس قسم کی بنائی ہے کہ جب تک دین کی گھاٹی پر ہو کر نہ گزرے وہ نہ تو رنج و مشقت سے نجات پاسکتا ہے اور نہ ہی اسے (حقیقی) چین نصیب ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : لترکبن طبقا عن طبق (84:19) رم درجہ بدرجہ (رتبہ اعلیٰ پر) چڑھو گے ۔ (المفردات) بعض علماء کے نزدیک مشقت میں پیدا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان پیدائش سے لے کر موت تک کسی نہ کسی مشقت و مصیبت میں گرفتار رہتا ہے خواہ وہ مصیبت اس کی اپنی ذات سے ہو یا دوسروں کے ساتھ معاشی و معاشرتی روابط کے سلسلہ میں پیش آنے والی ہو۔ (نیز ملاحظہ ہو تفسیر حقانی)
Ayah 90:5

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌۘ Open ayah 90:5 in the Quran reader

کیا وہ خیال رکھتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہ پائے گا ؟

(90:5) ایحسب ان لن یقدر علیہ احد۔ ہمزہ استفہام انکاری ہے ۔ الانسان یحسب کا فاعل ہے۔ ضمیر فاعل کس کی طرف راجع ہے اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔ (1) یہ کہ اگر الانسان میں الف لام جنسی ہے تو ضمیر فاعل عام انسان کی طرف راجع ہوگی اور مطلب یہ ہوگا کہ باوجود یہ کہ انسان مصائب کش پیدا ہوا ہے سدا کا دکھیا ہے پھر بھی اس پر اس کو یہ غرور کہ ان لن یقدر علیہ احد : (کہ اس پر کوئی قابو نہ پائے گا) ۔ (تفسیرحقانی، تفسیر مظہری، ضیاء القرآن) (2) اگر الف لام عہد کا ہے تو ضمیر کا مرجع وہ کافر ہے جو اپنی قوت و طاقت پر گھمنڈ کر رہا ہے۔ یعنی ابو الاشد اسید بن کلدۃ (الخازن، بیضاوی، ایسر التفاسیر) (3) بعض کے نزدیک ضمیر کا مرجع الولید بن المغیرہ المخزومی ہے۔ (تفسیر الخازن) یحسب مضارع واحد مذکر غائب حسبان (سمع) مصدر سے جس کا معنی ہے خیال کرنا۔ ان مخففہ اصل میں ان تھا۔ لن یقدر مضارع منفی تاکید بلن ۔ قدرۃ (باب ضرب) مصدر سے۔ وہ قدرت نہیں رکھتا ہے۔ علیہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الانسان ہے احد یقدر کی ضمیر کا مرجع ہے۔ بمعنی کوئی۔ ترجمہ ہوگا :۔ کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہیں پائے گا۔ علامہ پانی پتی (رح) لکھتے ہیں :۔ یا احد سے مراد اللہ ہے کہ جس نے ابو الاشد کو اتنی عظیم الشان طاقت و قوت عطا فرمائی تھی کہ اس کا خیال تھا کہ خدا بھی اس سے انتقام لینے کی قدرت نہیں رکھتا۔ ان لن یقدر علیہ احد مفعول ہے یحسب کا۔
Ayah 90:6

یَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًاؕ Open ayah 90:6 in the Quran reader

کہتا ہے کہ میں نے بہت سا مال برباد کیا

(90:6) یقول اہلکت مالا لبدا : اہلکت ماضی واحد متکلم۔ میں نے ہلاک کردیا۔ میں انے اڑا دیا۔ میں نے بہا دیا۔ مالا لبدا۔ موصوف و صفت مل کر مفعول اہلکت کا۔ لبدا۔ مال کثیر۔ لبد اور لابد کا بھی یہی مطلب ہے۔ اصل میں لبد اور لبدۃ اور لبدۃ کا معنی ہے نمدا۔ اور گوند یا پانی وغیرہ سے چپکایا ہوا اون یا نمدہ ہو۔ یا چپکایا ہوا اون سب میں تہ بر تہ جمائی جاتی ہے۔ توسیع استعمال کے بعد تہ بر تہ چڑھ جائے۔ لبدا ، لبود اور لبد (باب نصر، سمع) ایک جگہ جم کر بیٹھ گیا۔ لبد جمع لبدۃ واحد۔ ٹھٹ کے ٹھٹ۔ ہجوم ، بھیڑ، جماعت درجماعت (لغات القرآن) ۔ لبد بہت مال۔ لبود سے صفت مشبہ۔ جس کے معنی چمٹنا۔ اور بعض اجزاء کا بعض سے چپکنا ہیں۔ (قاموس القرآن) فائدہ : یہ نہیں کہا قنفقت مالا لبدا : (میں نے ڈھیر سا مال خرچ کردیا) ۔ بلکہ کہا اہلکت مالا لبدا۔ (میں نے ڈھیر سا مال ہلاک کردیا۔ لٹا دیا۔ گویا کہنے والے کو اپنی مال و دولت پر کتنا فخر تھا۔ جو زر کثیر اس نے اپنی نشوونمود اور اپنی حفاظت میں بےفائدہ گنوائی۔ اس کی مجموعی دولت کے مقابلہ میں اسے ہیچ معلوم دیتی تھی۔ یقول کی ضمیر فاعل یا تو الانسان کے لئے ہے یا کافر ابو الاشد کے لئے جملہ اہلکت مالا لبدا مفعول ہے یقول کا۔
Ayah 90:7

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 90:7 in the Quran reader

کیا اسے یہ گمان ہے کہ اسے کسی نے دیکھا نہیں

(90:7) ایحسب ان لم یرہ احد : (کیا وہ گمان کرتا ہے کہ اس کو کسی نے دیکھا ہی نہیں) ۔ جملہ استفہامیہ انکاری ہے (یعنی اللہ تعالیٰ یقینا اسے مال خرچ کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا اور اللہ تعالیٰ ضرور اس سے بازپرس کرے گا کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا) ۔ لم یرہ احد یہ جملہ مفعول ہے یحسب کا۔ لم یر مضارع نفی جحد بلم۔ واحد مذکر غائب۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب یا کافر ابو الاشد کے لئے ہے یا عام انسان کے لئے۔
Ayahs 90:8–9

اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَیْنَیْنِۙ Open ayah 90:8 in the Quran reader

بھلا ہم نے اس کو دو آنکھیں نہیں دیں ؟

وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیْنِۙ Open ayah 90:9 in the Quran reader

اور زبان اور دو ہونٹ (نہیں دئیے)

(90:8-9) الم نجعل لہ عینین ولسانا وشفتین۔ (کیا ہم نے نہیں بنائیں اس کے لئے دو آنکھیں اور ایک زبان دو ہونٹ) ۔ لہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب ۔ یرہ کی طرح یا عام انسان کی طرف راجع ہے یا ابوالاشد کی طرف۔ الم نجعل استفہام تقریری ہے۔ یعنی ہم نے بنائی ہیں (اس کے لئے) عینین مفعول لہ متعلق نجعل۔ لسانا وشفتین دونوں کا عطف عینین پر ہے۔ آنکھیں انسان کے لئے خارج کے محسوسات و مدرکات کے باب میں سب سے بڑی نعمت ہیں۔ اور زبان اور ہونٹ مافی الضمیر کے اظہار کا ذریعہ ہیں شاید اسی لئے یہی تین نعمتیں نام کی صراحت کے ساتھ یہاں بیان ہوئیں۔ (تفسیر ماجدی) ان نعمتوں کے فائدے یوں بیان کئے گئے ہیں :۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے ابن آدم اگر تیری زبان ناجائز چیزوں کے لئے تجھ سے کشاکش کرے تو میں نے اس کے خلاف تیری مدد کے لئے دو ڈھکن تجھے دئیے ہیں تو اس کو ڈھکن میں بند کر دے (اور ناجائز بات زبان سے نہ نکال) اور اگر تیری نگاہ ناجائز چیزوں کے لئے تجھ سے کشاکش کرے۔ تو تیری مدد کے لئے میں نے دوغلاف تجھے دیدئیے ہیں۔ تو ان غلافوں میں اس کو بند رکھ۔ اور اگر تیری شرمگاہ ناجائز امور کی طرف تجھے کھینچے تو میں نے تیری امداد کے لئے دو پردے دیدئیے ہیں ان پردوں میں اس کو بند رکھ۔ (تفسیر مظہری)
Ayah 90:10

وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ Open ayah 90:10 in the Quran reader

(یہ چیزیں بھی دیں) اور اس کو (خیر اور شر کے) دو نور بھی دکھا دئیے

(90:10) وھدینہ النجدین۔ واؤ عاطفہ۔ ھدینا ماضی جمع متکلم ھدایۃ (باب ضرب) مصدر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ النجدین مفعول ثانی ھدینا کا۔ اور ہم نے اسے (حق و باطل کے) دونوں راستے دکھا دئیے۔ النجدین۔ اسم تثنیہ منصوب۔ دو روشن راستے۔ یعنی نیکی اور بدی کے راستے النجد۔ کے لغوی معنی بلند اور سخت جگہ کے ہیں۔
Ayah 90:11

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ٘ۖ Open ayah 90:11 in the Quran reader

مگر وہ گھاٹی پر سے ہو کر نہ گزرا

(90:11) فلا اقتحم القعبۃ : اقتحم ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اقتحام (افتعال) مصدر۔ بمعنی گھس پڑنا ۔ بغیر دیکھے بھالے اپنے آپ کو کسی شے میں جھونک دینا۔ عقبۃ پہاڑ میں چڑھائی کا جو دشوار گزار راستہ ہوتا ہے اس کو عقبۃ کہتے ہیں اس کی جمع عقب و عقاب ہے۔ العقبۃ مفعول ہے اقتحم کا۔ تفسیر مظہری میں اس آیت کی مندرجہ ذیل تشریح کی گئی ہے :۔ فلا میں لا بعض کے نزدیک اپنے اصل معنی (نفی) میں نہیں بلکہ ہلا کے معنی میں آیا ہے کیونکہ جب تک تکرار نہ ہو لا ماضی پر نہیں آتا۔ اس وقت مطلب اس طرح ہوگا :۔ کہ اللہ تعالیٰ کی طاعت میں اس نے مال خرچ کیوں نہیں کیا۔ کہ اس کے ذریعہ سے گھاٹی کو عبور کرلیتا۔ (زندگی کی یا جنت کی یا طاعت کی گھاٹی) اور رسول اللہ ﷺ کی عداوت میں صرف کرنے سے طاعت رسول میں صرف کرنا اس کے لئے بہتر ہوتا۔ اور بعض علماء نے کہا ہے کہ لا اپنے معنی پر ہے لا کا مدخول اگرچہ لفظا مکرر نہیں مگر معنوی تعداد ضرور ہے۔ کیونکہ عقبۃ کے (مرادی) معنی میں تعدد ہے۔ (عقبۃ سے مراد ہے (1) فک رقبۃ (2) اطعام مسکین (3) مومن ہونا) اصل کلام اس طرح تھا :۔ فلافک رقبۃ ولا اطعم مسکینا ولا کان من الذین امنوا۔ نہ اس نے کسی بردہ کی گلو خلاصی کی نہ مسکین کو کھانا دیا۔ اور نہ مومنوں میں سے ہوا۔ اول الذکر تقدیر پر اس جملہ کا عطف اہلکت مالا لبدا پر ہوگا۔ اور مؤخر الذکر تفسیر پر جواب قسم پر عطف ہوگا۔ مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے انسان کو اوامرو نواہی کے دکھ میں پیدا کیا مگر وہ تعمیل احکام کی گھاٹی میں داخل ہی نہیں ہوا۔ اور نہ اس نے اپنی تخلیق کے مقصد کو پورا کیا۔ یا الم نجعل لہ عینین ولسانا ۔۔ الخ کے مضمون پر عطف ہوگا۔ مطلب یہ ہوگا :۔ کہ ہم نے انسان کو دو آنکھیں اور زبان اور دو ہونٹ دئیے اور دو راستے بھی اس کو بتا دئیے مگر وہ طاعت کی راہ میں داخل ہی نہیں ہوا ۔ کہ ان نعمتوں کا صرف ان کے مصرف میں ہوجاتا۔ اور منعم کے انعام کا (کچھ) شکر ہوجاتا۔ عقبۃ اصل میں پہاڑی راستہ کو کہتے ہیں۔ اقتحام۔ گھسنا یہاں مراد ہے۔ اوامرو نواہی کی پابندی کی مشقت برداشت کرنا اور اواء واجب سے عہدہ برآ ہونا۔ کیونکہ گنہگار پر گناہ کرنے کا بار اور اداء واجبات کی ذمہ داری پہاڑی گھاٹی کے مشابہ ہے اور فرائض مذکورہ کو ادا کردینا گھاٹی کو عبور کرلینے سے مشابہت رکھتا ہے۔ ابن زید نے کہا :۔ ” اللہ فرماتا ہے : پھر کیوں راہ نجات پر نہیں چلتا۔ (راہ نجات کونسی ہے) آئندہ خود ہی اس کو بیان فرما دیا “۔
Ayah 90:12

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُؕ Open ayah 90:12 in the Quran reader

اور تم کیا سمجھے کہ گھاٹی کیا ہے

(90:12) وما ادرک مالعقبہ : ما استفہامیہ ۔ کیا چیز ۔ کون۔ ادرک : ادری ماضی واحد مذکر غائب ادراء (افعال) مصدر سے بمعنی خبردار کرنا۔ بتانا۔ واقف کرنا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر، کون تجھے بتائے۔ کیا چیز تمہیں خبردار کرے۔ ، طلب یہ کہ تجھے کیا خبر، تجھے کیا معلوم۔ ما العقبۃ ۔ ما استفہامیہ : کیا۔ (العقبۃ) کیا ہے۔ تم کیا جانو کہ گھاٹی کیا ہے ؟
Ayah 90:13

فَكُّ رَقَبَةٍۙ Open ayah 90:13 in the Quran reader

کسی کی گردن کا چھڑانا

(90:13) فک رقبۃ۔ ای ہی فک رقبۃ۔ فک (باب نصر سے) مصدر ہے بمعنی چھڑا دینا۔ آزاد کرنا۔ مضاف۔ رقبۃ مضاف الیہ۔ کسی گردن کا آزاد کرنا۔ غلام کو آزاد کرنا۔ یا قیمت دے کر آزاد کرانا۔ رقبۃ۔ گردن۔ غلام۔ باندی۔ اس کے اصل معنی گردن کے ہیں پھر اس کو بول کر انسان مراد لیا جانے لگا۔ پھر عرف عام میں غلام کا نام پڑگیا۔ جیسا کہ رأس اور ظھر بول کر مرکوب (جس پر سواری کی جائے) اور سواری مراد لی جاتی ہے۔ مطلب یہ کہ عقبۃ غلام آزاد کرانے کو کہتے ہیں۔ غلام آزاد کرنا۔ یتیم اور مسکین کو کھانا کھلانا۔ عقبۃ کی تفسیر ہیں۔
Ayah 90:14

اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍۙ Open ayah 90:14 in the Quran reader

یا بھوک کے دن کھانا کھلانا

(90:14) او اطعم فی یوم ذی مسغبۃ : او حرف عطف ہے اطعام کا عطف فک پر ہے۔ ای او ہی اطعم ۔۔ الخ اطعام (باب افعال) سے مصدر بمعنی کھانا کھلانا۔ فی حرف جر یوم مجرور۔ موصوف۔ ذی مسغبۃ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر صفت یوم کی۔ مسغبۃ مصدر میمی۔ بھوک۔ کھانے کی خواہش۔ فی یوم ذی مسغبۃ۔ بھوک والے دن میں۔ بھوکے ہونے کی نسبت یوم کی طرف حقیقی نہیں (دن بھوکا نہیں ہوتا) مجازی ہے۔
Ayah 90:15

یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍۙ Open ayah 90:15 in the Quran reader

یتیم رشتہ دار کو

(90:15) یتیما : مفعول اطعم کا۔ موصوف۔ ذامقربۃ مضاف مضاف الیہ مل کر صفت یتیما کی۔ مقربۃ (مصدر میمی) قرابت داری۔ قرابت۔ یتیما ذا مقربۃ قرابت دار یتیم کو۔
Ayah 90:16

اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍؕ Open ayah 90:16 in the Quran reader

یا فقیر خاکسار کو

(90:16) او مسکنا ذا متربۃ۔ او۔ حرف عطف۔ (اس کا عطف یتیما پر ہے) مفلس، نادار۔ موصوف۔ ذا متربۃ مضاف مضاف الیہ مل کر صفت مسکینا کی ۔ متربۃ۔ اسم ، سخت ناداری۔ ایسی مفلسی جو زمین سے چمٹا دے۔ اٹھنے کی سکت نہ چھوڑے۔ آیات 12 تا 16 کا ترجمہ یوں ہوگا :۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ عقبہ کیا ہے ۔ وہ کسی غلام کو آزاد کرانا ہے یا بھوک کے (قحط سالی) میں کسی قرابت دار یتیم کو یا سخت نادار (خاک نشین) مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔
Ayah 90:17

ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِؕ Open ayah 90:17 in the Quran reader

پھر ان لوگوں میں بھی (داخل) ہوا جو ایمان لائے اور صبر کی نصحیت اور (لوگوں پر) شفقت کرنے کی وصیت کرتے رہے

(90:17) ثم کان من الذین امنوا وتواصوا بالصبر وتواصوا بالمرحمۃ۔ صاحب تفسیر حقانی تحریر کرتے ہیں :۔ ثم اس مقام پر تراخی ذکر کے لئے ۔ یعنی ان سب باتوں کا ذکر کرنے کے بعد میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اسے ایمان دار بھی ہونا چاہیے۔ بعض علماء کے نزدیک ثم اس جگہ تاخیر وقوع کے لئے ہے۔ یعنی کفار کے اعمال خیر توقف میں رہتے ہیں۔ اگر اخیر میں ایمان لے آیا تو یہ اعمال مقبول ہوجاتے ہیں ورنہ مردود۔ چناچہ حکیم بن حزام نے اسلام لانے کے بعد آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ میں نے حالف کفر میں بہت سے نیک کام کئے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تیرے ایمان نے ان سب کو نیک اور مقبول بنادیا۔ اولی یہی ہے کہ ثم تراخی ذکر کے لئے ہے۔ ثم کان من الذین امنوا کا ترجمہ ہوگا :۔ پھر وہ ان لوگوں میں جو ایمان لائے۔ (یعنی بغیر ایمان کے کوئی نیکی قبول نہیں ہوتی، ایمان جڑ ہے، ایمان ہی بنیاد ہے۔ اعمال صالحہ اس پر عمارت ہے کوئی عمارت بغیر بنیاد کے قائم نہیں رہ سکتی۔ وتواصوا بالصبر۔ اس کا عطف امنوا پر ہے۔ تواصوا ماضی جمع مذکر غائب ہے۔ انہوں نے باہم وصیت کی۔ وہ کہہ مرے۔ انہوں نے تاکید کی۔ تواصی (تفاعل) مصدر ہے۔ وہ ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کرتے ہیں۔ وتواصوا بالمرحمۃ۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ مرحمۃ رحم یرحم (باب سمع) کا مصدر ہے۔ مہربانی کرنا۔ رحم کرنا۔ ترس کھانا۔ وہ ایک دوسرے کو رحم کرنے کی تاکید کرتے ہیں۔
Ayah 90:18

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 90:18 in the Quran reader

یہی لوگ صاحب سعادت ہیں

(90:18) اولئک اصحب المیمنۃ : اولئک اسم اشارہ جمع مذکر۔ وہ لوگ ، وہی لوگ، یعنی اوپر مذکور صفات والے۔ مبتداء اصحب المینۃ مضاف مضاف الیہ مل کر مبتداء کی خبر المیمنۃ سیدھا ہاتھ۔ دائیں سمت۔ یعنی دائیں سمت والے۔ بابرکت ، باسعادت ترجمہ :۔ وہی لوگ باسعادت اور خوش نصیب ہیں۔
Ayah 90:19

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 90:19 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو نہ مانا وہ بدبخت ہیں

(90:19) والذین کفروا بایتنا ہم اصحب المشئمۃ۔ واؤ عاطفہ، الذین اسم موصول جمع مذکر۔ کفروا جمع مذکر غائب۔ کفر (باب نصر) مصدر۔ صلہ۔ بایتنا متعلق کفروا۔ اسم موصول بمعہ اپنے صلہ کے مبتدائ۔ اصحب المشئمۃ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مبتداء کی خبر۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب تخصیص کے لئے لائی گئی ہے۔ اور جب لوگوں نے ہماری آیات سے انکار کیا۔ وہی منحوس (بدبخت) ہیں۔ مشئمۃ : (ش ء م۔ حروف مادہ) بائیں طرف (جلالین) ۔ اصحب المشئمۃ۔ بائیں طرف والے۔
Ayah 90:20

عَلَیْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ۠ Open ayah 90:20 in the Quran reader

یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے

(90:20) علیہم نار موصدۃ۔ یہ صفت ہے نار کی۔ اسم مفعول واحد مؤنث۔ ایصاد (افعال) مصدر سے۔ بند کی ہوئی۔ صاحب تفسیر حقانی لکھتے ہیں :۔ موصدۃ۔ قرأ الجمھود بالواو وقری بالھمزۃ والمعنی واحد والمراد علیہم نار ابوابھا مغلقۃ۔ لا تفتح ابدا۔ (جمہور نے اسے واؤ کے ساتھ پڑھا ہے ہمزہ کے ساتھ بھی اسے پڑھا گیا ہے معنی ہر دو صورت میں ایک ہی ہیں۔ مراد یہ ہے کہ وہ آگ کے اندر ہوں گے جس کے دروازے بند ہوں گے اور ابد تک نہیں کھولے جائیں گے۔ صاحب ضیاء القرآن تحریر فرماتے ہیں :۔ جب دروازے کو بالکل بند کردیا جائے تو اہل عرب کہتے ہیں اوصدت الباب ای اغلقتہ۔ یعنی ان کو آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ اور دروازے بند کر دئیے جائیں گے اور نکلنے کی کوئی صورت باقی نہ رہے گی۔