Explained with ayahs 1–10
مکہ مکرمہ کی قسم :
اللہ تبارک وتعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں لا سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہوگا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہوگا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہکاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر…
Read the full tafseer →سورة الْبَلَد 6
یعنی کیا یہ انسان جو ان حالات میں گھرا ہوا ہے، اس غرے میں مبتلا ہے کہ وہ دنیا میں جو کچھ چاہے کرے، کوئی بالاتر اقتدار اس کو پکڑنے اور اس کا سر نیچے کردینے والا نہیں ہے ؟ حالانکہ آخرت سے پہلے خود اس دنیا میں بھی ہر آن وہ دیکھ رہا ہے کہ اس کی تقدیر پر کسی اور کی فرمانروائی قائم ہے جس کے فیصلوں کے آگے اس کی ساری تدبیریں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ زلزلے کا ایک جھٹکا، ہوا کا ایک طوفان، دریاؤں اور سمندروں کی ایک طغیانی اسے یہ بتادینے کے لیے کافی ہے کہ خدائی طاقتوں کے مقابلے میں وہ کتنا بل بوتا رکھتا ہے۔ ایک اچانک حادثہ اچھے خاصے بھلے چنگے انسان کو اپاہج بنا کر رکھ دیتا ہے۔ تقدیر کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
لقد خلقنا الانسان فی کبد، کبد کے لفظی معنے محنت ومشقت کے ہیں۔ معنے یہ ہیں کہ انسان اپنی فطرت سے ایسا پیدا کیا گیا ہے کہ اول عمر سے آخر تک محنتوں اور مشقتوں میں رہتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ابتدائے حمل سے رحم مادر میں محبوس رہا پھر ولادت کے وقت کی محنت ومشقت برداشت کی، پھر ماں کا دودھ پینے پھر اسکے چھوٹنے کی محنت اور پھر اپنے معاش اور ضروریات زندگی فراہم کرنے کی مشقت پھر بڑھاپے کی تکلیفین پھر موت پھر قبر، پھر حشر اور اس میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اعمال کی جوابدہی پھر جزا وسزا، یہ سب دور اس پر محنتوں ہی کے آتے ہیں، اور یہ محنت ومشقت اگرچہ انسان کے ساتھ مخصوص نہیں سب جانور بھی اس میں شریک…
Read the full tafseer →مطلب یہ ہے کہ جن کو اس سرزمین کی ابتدائی تاریخ معلوم ہے ان کے لیے تو اس کی موجودہ رفاہیت سے اس غلط فہمی میں پڑنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ اب ان کی جڑیں اتنی مضبوط ہو چکی ہیں کہ کوئی ان کو اکھاڑ نہیں سکتا۔ جس نے ان کو ایک بے آب و گیاہ زمین میں یہ فراوانئ رزق بخشی وہ ان کو جب چاہے تباہ بھی کر سکتا ہے بالخصوص جب کہ انھوں نے اس مقصد کو بھی برباد کر دیا ہے جس کے لیے ان کو یہاں آباد کیا گیا اور جس کی خاطر ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کے لیے دعا فرمائی۔
Read the full tafseer →5۔ 1 یعنی کوئی اس کی گرفت کرنے پر قادر نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
4: مکہ مکرمہ میں کئی کافر ایسے تھے جنہیں اپنی جسمانی طاقت پر ناز تھا، جب انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا جاتا تو کہتے تھے کہ ہمیں کوئی قابو میں نہیں کرسکتا، نیز وہ آپس میں دکھاوے کے طور پر کہتے تھے کہ ہم نے ڈھیر ساری دولت خرچ کی ہے، خاص طور پر یہ بات اس دولت کے بارے میں کہتے تھے جو انہوں نے آنحضرت ﷺ کی مخالفت اور دشمنی میں خرچ کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ایحسب ان ................................ احد
یہ انسان مشقت میں پیدا کیا گیا اور جو اپنی اس دنیا کی پوری زندگی میں اس مشقت سے چھوٹ نہیں سکتا ، یہ اپنی حقیقت کو بھول جاتا ہے اور اس کا پیدا کرنے والا اسے جو قوت ، طاقت اور وجدان اور سازو سامان دیتا ہے ، تو وہ ان قوتوں میں ایسے تصرفات کرتا ہے جیسا کہ وہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہے اور اسے اس جوابدہی کی توقع نہیں ہے اور یہ خوف نہیں ہے کہ ایک بڑی قوت اور قدروالاا سے پکڑ سکتا ہے اور حساب لے سکتا ہے۔ اس لئے یہ انسان دیتا ہے ، پکڑتا ہے ، چھینتا ہے ، لوٹتا ہے ، جمع کرتا ہے ، اضافہ کرتا ہے ، فسق وفجور کرتا ہے ، نہایت بےخوفی اور نہایت بےباکی کے ساتھ ، یہ…
Read the full tafseer →10 یعنی انسان جن سختیوں اور محنت و مشقت کی راہوں سے گزرتا ہے اس کا مقتضاء تو یہ تھا کہ اس میں عجزو درماندگی پیدا ہوتی اور اپنے کو بستہ حکم و قضا سمجھ کر مطیع امرو تابع رضا ہوتا اور ہر وقت اپنی احتیاج و افتقار کو پیش نظر رکھتا۔ لیکن انسان کی حالت یہ ہے کہ بالکل بھول میں پڑا ہے۔ تو کیا وہ سمجھتا ہے کہ کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس پر قابو پا سکے اور اس کی سرکشی کی سزا دے سکے۔
Read the full tafseer →آیت 5{ اَیَحْسَبُ اَنْ لَّـنْ یَّـقْدِرَ عَلَیْہِ اَحَدٌ۔ } ”کیا یہ سمجھتا ہے کہ اس کے اوپر کوئی قابو نہیں پاسکے گا ؟“
مشقت میں پڑے ہوئے انسان کا حال دیکھو۔ اس حالت میں بھی وہ غرور کرتا ہے۔ ابوجہل کو دیکھو کیسے اکڑا ہوا ہے۔۔۔ مقامِ غور ہے ! چاروں طرف سے مصائب و مشکلات میں گھرے ہوئے انسان کا اپنے خالق اور مالک کے سامنے یہ حال ہے تو اگر اس کے لیے دنیا میں آسانیاں ہی آسانیاں ہوتیں تو پھر یہ اللہ تعالیٰ سے کیسی کیسی بغاوتیں کرتا اور مخلوقِ خدا پر کیا کیا ستم ڈھاتا !
Read the full tafseer →4 انسان جن تکلیفوں میں زندگی گزارتا ہے ان میں بیشتر ایسی ہوتی ہیں جو اس کے اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی، اپنے نفس کی خواہشات کی تکمیل کی وجہ سے ہوتی ہیں جن میں سے اکثر غلط اور ناجائز قسم کی ہوتی ہیں جنہیں وہ پورا کرنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا دیتا ہے۔ وہ دوسروں پر کئی طرح کی زیادتیاں بھی کرجاتا ہے اور اس بات سے غافل اور بےنیاز ہوتا ہے کہ کوئی ہستی اسے دیکھ بھی رہی ہے اور اس پر گرفت بھی کرسکتی ہے۔
Read the full tafseer →4۔ یعنی وہ اتنی غفلت اور بھول میں پڑگیا ہے کہ اپنے گویا اللہ کے حدود قدرت سے بھی خارج سمجھنے لگا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–20
لقد خلقنا الانسان فی کبد یعنی انسان کی زندگی محنت و مشقت اور شوائد سے معمور ہے، یہ جواب قسم ہے۔
او اطعام فی یوم ذی مسغبۃ مسغبۃ بھوک اور ذی مسغبۃ بھوک والے دن اور دامتربۃ (مٹی والا) یعنی وہ شخص جو فقر و غربت کی وجہ سے زمین پر پڑا رہتا ہو، اس کا گھر بار کچھ نہ ہو، مطلب یہ ہے کہ کسی غلام کو آزاد کرنا کسی بھوکے کو رشتہ دار یتیم کو کھانا کھلانا یہ دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہونا ہے جس کے ذریعہ انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جا پہنچے گا یتیم کی کفالت ویسے بھی بڑے اجر کا کام ہے اور اگر وہ رشتہ دار بھی ہو تو اس کی کفالت کا اجر بھی دگنا ہے ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا اسی طرح غلام آزاد کرنے کی بھی…
Read the full tafseer →ایحسب . اس کا فاعل الانسان ہے۔ اگر الانسان سے مراد ابو الاشد ہو تو اس کو فریب خوردگی اور غرور سے بازداشت
ہوگی اور اگر جنس انسان مراد ہو تو اس وقت عام انسان کی طرف یحسب کی ضمیر راجع ہوگی مگر (خارج میں کلی کا تحقق افراد اور اشخاص کے بغیر نہیں ہوسکتا ‘ اسلئے ضمیر راجع کرنے کے وقت) بعض اشخاص کا خصوصی لحاظ ہوگا اور کوئی ایسا انسان مراد ہوگا جس سے رسول اللہ ﷺ کو بہت زیادہ دکھ پہنچتا تھا یعنی وہی ابو الاشد اور بعض کے نزدیک ولید بن مغیرہ۔ بہرحال استفہام ‘ انکار اور زجر کے لیے ہے۔
ان لن یقدر علیہ احد . کیا اس کا یہ خیال ہے کہ کوئی بھی اس پر قدرت نہیں رکھے گا۔ ایسا اس کو خیال نہ
رکھنا چاہیے۔ نفی کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
(75) کیا کافر اپنی قوت پر یہ سمجھتا ہے کہ اس کو سزا دینے اور اس کی گرفت پر اللہ تعالیٰ کا بس نہیں چلے گا۔ کلدہ اور ولید ابن مغیرہ کہتا ہے کہ میں نے تو حضور کی دشمنی میں اس قدر مال خرچ کردیا ہے مگر پھر بھی مجھے کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ کیا وہ کافر یہ سمجھ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی ان بری حرکتوں کو دیکھا نہیں کہ اس نے خرچ کیا ہے یا نہیں۔
Read the full tafseer →ایحسب ان لن یقدر علیہ احد : جن سختیوں اور مصیبتوں میں آدمی زندگی بسر کرتا ہے ان کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ اپنی حقیقت کو پہچانتا اور اس میں عاجزی اور انکسار کا جذبہ پیدا ہوتا، لیکن اس کی حالت یہ ہے کہ اکڑفوں دکھاتا ہے اور سمجھتا ہے مجھ پر کون قابو پاسکتا ہے ؟ (اشرف الحواشی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
ایحسب الن یقدر۔۔۔ تا۔۔۔ شفتین۔
کیا انسان گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے سزا نہیں دے گا وہ کہتا ہے میں نے کثیر مال خرچ کردیا، کیا وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اسے کوئی نہیں دیکھ رہا بلکہ اللہ تعالیٰ اس کے سب اعمال کو جانتا ہے وہ اس بات میں جھوٹا ہے کہ وہ کہتا ہے میں نے مال خرچ کیا ہے جب کہ اس نے مال خرچ نہیں کیا جاتا، حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ بندے کو کھڑا کیا جائے گا اسے کہا جائے گا، میں تجھے جو رزق دیا تھا اس کا تونے کیا کیا، وہ کہے گا میں نے اس کو خرچ کیا اور اس کی زکوۃ ادا کی، اسے کہا جائے گا، گویا تو نے یہ کیا تاکہ کہا جائے کہ وہ بڑا سخی ہے تو وہ تو کہا جاچکا ہے پھر اسے آگ میں ڈالنے کا حکم دے…
Read the full tafseer →38۔ ابو یعلی والبغوی وابن مردویہ نے بنو عامر کے ایک آدمی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی تو میں نے ان کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا آیت ایحسب ان لن یقدر علیہ احد ایحسب ان لم یرہ احد یعنی یحسب میں سین کے فتح کے ساتھ۔
39۔ ابن المنذر نے سدی (رح) سے آیت ایحسب ان لم یرہ احد کے بارے میں روایت کیا کہ کافر یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہرگز اس پر قادر نہیں ہوں گے اور نہ اس نے اسے دیکھا ہے۔
Read the full tafseer →[اَيَحْسَبُ : کیا وہ (انسان) سمجھتا ہے ][ ان لَّنْ يَّقْدِرَ عَلَيْه : کہ ہرگز قابو نہیں پائے گا اس پر ][ِ اَحَدٌ: کوئی ایک بھی ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
﴿اَيَحْسَبُ اَنْ لَّنْ يَّقْدِرَ عَلَيْهِ اَحَدٌۘ005﴾ (کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قادر نہ ہوگا) یعنی انسان کا رویہ یہ بتاتا ہے کہ وہ اپنی ذات کو آزاد سمجھتا ہے اور جو چاہتا ہے کرتا ہے دنیا و آخرت میں مواخذہ ہوگا اس کی بالکل پرواہ نہیں کرتا اس کا ڈھنگ یہ بتاتا ہے کہ وہ یہ سمجھ کر اپنے دنیاوی مشاغل میں لگتا ہے کہ میں آزاد ہوں اور جو چاہوں کروں، مجھے کوئی پکڑنے والا نہیں اور مجھ پر کسی کو کوئی قدرت نہیں حالانکہ جس ذات پاک نے اس کو پیدا فرمایا ہے قوت اور طاقت بخشی ہے وہ اس پر پوری طرح قادر ہے انسان کے اعمال میں اموال کا خرچ کرنا بھی ہے۔ وہ بےفکری کے ساتھ مال خرچ کرتا ہے اور گناہوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
انقسام عمل درخیر وشر مع بیان عظمت مہبط وحی و سرچشمہ ہدایت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بھذا البلد ........ الی .......... نار مؤصدۃ “۔
(ربط) سورة الفجر میں پانچ اہم اور عظیم امور کی قسم کھا کر ہر صاحب عقل اور فہم کو اس امر کی دعوت دی گئی تھی کہ وہ عقل اور فطرت کی روشنی میں خداوند عالم کی عظمت وقدرت کو پہچانے اس کی خالقیت و ربوبیت پر ایمان لائے یہی چیز انسان کو فلاح وسعادت کے مقام تک پہنچانے والی ہے، اور جو قومیں عقل و فطرت کی ان صلاحیتوں کو ضائع کرکے سرکشی اور نافرمانی پر ڈٹی رہیں جیسے قوم عاد وثمود اور فرعون تا ریخ میں ان کا عبرت ناک انجام بھی دنیا کے سامنے آچکا تو اس سورت میں سرزمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
4:۔ ” ایحسب “ یہ زجر ہے کیا کافر انسان گمان کرتا ہے کہ اس پر کوئی قادر اور غالب نہ ہوگا اور کوئی اس کو اس کے برے عملوں کی سزا نہیں دے گا۔ اس کا یہ خیال غلط ہے۔ اسے اس کے گناہوں کی اللہ تعالیٰ ضرور سزا دے گا۔ ” یقول اھلکت مالا لبدا “ لبدا، بہت زیادہ۔ وہ بڑے فخر سے کہتا ہے کہ اس نے اپنے مشرک اور شرک پھیلانے والے اور اسلام سے روکنے والے دوستوں پر اور رسول اللہ ﷺ کی عداوت میں بےدریغ دولت خرچ کی ہے کیا اس کا خیال ہے کہ باطل میں خرچ کرتے ہوئے اس کو کوئی نہیں دیکھتا اور اس سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی بلکہ ہم اس کو دیکھ رہے ہیں اور اس کا پورا محاسبہ کریں گے (ایحسب ان لم یرہ احد) حین کان ینفق او بعد ذلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
شہر مکہ
ابتدائے سورة میں دو چیزوں کی قسم کھا کر بات سمجھائی گئی ہے پہلی قسم بلد یعنی شہر مکہ کی ہے اور دوسری والدوما ولد یعنی والد اور مولود کی چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ لا اقسم بھذا البلد یہاں لفظ لاتاکید کے لئے ہے۔ یعنی میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی وانت حل بھذا البلد اور آپ اترے ہوئے ہیں اس شہر میں حل ، حلول سے ہے۔ اور اس کا معنی اترنا ہے۔ مراد شہر مکہ مکرمہ ہے۔ جو کہ بلدہ طیبہ ، بلد الحرام اور عزت والا شہر ہے۔ قرآن پاک میں بلدہ طیبہ کا ذکر کئی مقامات پر آیا ہے۔ اس کی بڑی اہمیت ہے۔ کیونکہ اس میں بیت اللہ شریف واقع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شہر کو مرکز ہدایت اور حرمت والا شہر قرار دیا ہے اور اس کے…
Read the full tafseer →اَيَحْسَبُ اَنْ لَّنْ يَّقْدِرَ عَلَيْہِ اَحَدٌ 5 ۘ
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–7
ترکیب ¦ أالہمزۃ للاستفہام الانکاری یحسب فاعلہ الضمیر یرجع الی الانسان ان مخففۃ من الثقیلۃ واسمہا ضمیر الشان مقدر والجملۃ مفعول یحسب یقول جملۃ مستانفۃ اھلکت صرفت لبدا صفت مالا قال ابو عبیدہ لبد فعل من التلبید وھو المال الکثیر بعضہ علی بعض وقال الفراء جمع لبدۃ وقال بعضھم ھو واحد أالاستفہام للانکار ان انہ لم یرہ احد خبران والجملۃ مفعول یحسب۔
تفسیر ¦ یعنی باوجود یکہ انسان مصائب کش پیدا ہوا ہے سدا کا دکھیا ہے پھر اس پر بھی اس کو یہ غرور و پندار ہے ایحسب ان لن یقدر علیہ احد کیا یہ خیال کر رہا ہے کہ مجھ پر کوئی قابو نہیں پاوے گا۔ میرے اعمالِ بد کی سزا مجھے کوئی نہیں دے گا جو چاہوں کروں۔ گویا حشر…
Read the full tafseer →اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّـقْدِرَ عَلَیْہِ اَحَدٌ۔ (البلد : 5)
(کیا وہ یہ گمان رکھتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہ پا سکے گا۔ )
یعنی جو انسان اس قدر مشقتوں میں گھرا ہوا، اس قدر تغیرات میں محصور اور اس قدر ارادوں کی بجاآوری میں کمزوریوں کا شکار ہے، کیا اسے یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ یہ گمان کرے کہ اس پر کوئی قادر نہیں ہوسکتا اور کوئی اس کا سر نیچا کرنے والا نہیں۔ حالانکہ وہ قدم قدم پر دیکھ رہا ہے کہ اس کی تقدیر پر کسی اور کی فرمانروائی ہے۔ زلزلے کا ایک جھٹکا، ہوا کا ایک طوفان اور سیلاب کا ایک ریلا اسے یہ بتادینے کے لیے کافی ہے کہ وہ اپنی سرکشی کے باوجود حقیقت میں کتنا کمزور ہے۔ بڑے سے بڑے حکمران کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–7
فہم القرآن
ربط کلام : مکہ شہر کی قسم اٹھانے کے بعد باپ اور اس کی اولاد کی قسم اٹھا کر ہر انسان کو ایک حقیقت بتلائی گئی ہے۔
مکہ کی قسم اٹھا کر بین السطور آپ ﷺ کو آپ کی دعوت کی کامیابی کی خبر دی گئی ہے، اس کے بعد فرمایا کہ مجھے باپ اور اس کی اولاد کی قسم ! ہم نے انسان کو مشقت جھیلنے کے لیے پیدا کیا ہے لیکن انسان سمجھتا ہے کہ کوئی اس پر قابو نہیں پاسکے گا۔ باپ اور اولاد سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی پوری اولاد ہے۔ کچھ اہل علم نے باپ سے مراد ابراہیم (علیہ السلام) اور اولاد سے مراد بنی اسماعیل (علیہ السلام) لیے ہیں۔ لیکن مناسب یہ ہے کہ باپ سے مراد آدم (علیہ السلام) لیے جائیں اور اولاد…
Read the full tafseer →5 : اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْہِ اَحَدٌ (کیا وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اس پر کسی کا بس نہ چلے گا) ایحسبؔ کی ضمیر بعض صنادید قریش کی طرف راجع ہے۔ جن کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کو بہت تکالیف پیش آتیں تھیں۔ پھر بعض نے کہا وہ ابو الاشد ہے اور بعض کہتے ہیں وہ ولید بن مغیرہ ہے۔ معنی یہ ہوگا۔ کیا اس اپنی قوم میں طاقتور سردار کا خیال یہ ہے وہ ایمان والوں کو کمزور قرار دینے والا ہے کہ قیامت ہرگز نہ آئے گی۔ اور اس سے انتقام پر کسی کو اختیار نہیں ہے۔ پھر اس بات کا تذکرہ کیا جو وہ آج کہہ رہا ہے۔
Read the full tafseer →5 ۔” ایحسب “ یعنی ابوالاشد اپنی قوت کی وجہ سے۔ ” ان لن یقدر علیہ احد “ یعنی وہ اپنی طاقت کی وجہ سے گمان کرتا ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ ہرگز قادر نہ ہوسکیں گے اور کہا گیا ہے ولید بن مغیرہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ شروع سورة میں جس بات پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے وہ یہی بات ہے جو ان آیتوں میں آگے فرمائی۔ تجھ کو قید نہ رہے گی کا مطلب یہ ہے کہ مکہ میں جو قید ہے کہ وہاں لڑائی منع ہے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اے نبی اللہ کے تم کو تھوڑی دیر کے لئے وہاں لڑائی حلال ہوجائے گی ہجرت سے پہلے اس مکی سورة میں اللہ کا یہ ایک وعدہ تھا جس کو فتح مکہ کے وقت اللہ تعالیٰ نے پورا کیا۔ چناچہ صحیح 3 ؎ بخاری و مسلم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تھوڑی دیر کے لئے کو مجھ کو مکہ میں لڑنا حلال کردیا تھا اس کے بعد مکہ میں بدستور لڑائی کی ممانعت ہے اب جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْ كَبَدٍ ) بیشک ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ سختیاں اور مشقتیں ہیں جو انسان دنیا کے اندر برداشت کرتا ہے اور جو برزخ میں اور قیامت کے دن برداشت کرے گا انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے اعمال کے لیے کوشاں رہے جو اسے اس شدائد سے نجات دلا کر راحت، اس کے لیے دائمی فرحت اور سروکار کا موجب بنیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ابدا الآباد تک سخت عذاب کی مشقت بردازشت کرتار ہے گا۔
اس میں یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور خوب درست تخلیق کے ساتھ پیدا جو سخت اعمال پر تصرف کی قدرت…
Read the full tafseer →(6) غافل انسان کے ضمیر پر ایک دستک : سو انسانی ضمیر پر دستک کے طور پر بطور سواول و استفہام ارشاد فرمایا گیا کہ کیا اس نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اس پر کسی کا بس نہیں چلے گا ؟ اور وہ اس سے اس کے کیے کرائے کا حساب نہیں لے گا ؟ کیوں نہیں جبکہ اس کا رب جو کہ قادر مطلق بھی ہے اور حکیم مطلق بھی، اس انسان کا خالق ومالک مطلق بھی، اور عدل و انصاف قائم کرنے والا بھی، وہ اس انسان پر نگاہ رکھے ہوئے ہے، اور اس کے سب کیے کرائے کو پوری طرح دیکھ بھی رہا ہے۔ ( آیت، انشقاق 15 پ 30) یعنی ہاں کیوں نہیں یقینا اس کا رب اس کو پوری طرح دیکھ رہا ہے، اور وہ اس کے کیے کرائے کا ریکارڈ بھی تیار کرا رہا ہے، اور نہایت ہی محکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
مکہ شہر اور آدم (علیہ السلام) کی قسم انسان کے بڑے فرائض ہیں
تشریح : شروع میں نہیں کا لفظ اس لیے آیا کہ کفار مکہ جو آخرت سے انکار کر رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو جھٹلا رہے ہیں تو ان کو خوب اچھی طرح علم ہونا چاہیے کہ انسان کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کو بہت سی ذمہ داریاں دیکر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے یعنی یہ زندگی پوری کی پوری امتحانی دور پر مبنی ہے اور اس بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ حرمت والے شہر اور اشرف المخلوقات آدم (علیہ السلام) و اولاد آدم یعنی انسان جو کہ نائب اللہ بھی ہے۔ کی قسم کھا کر یہ بات بتا رہے ہیں۔
قسم ایسی ہی چیز کی کھائی جاتی ہے جو عام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
سورة البلد۔
آیات 1 تا 20۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے اس شہر عظیم کی یعنی اس شہر کا تقدس جو بنائے کعبہ کے باعث تھا اور کفار ومشرکین بھی اس کی عظمت کے قائل تھے جو آپ کے یہاں تشریف فرما ہونے سے دو بالا ہوگیا اس کی ساری عظمت بھی تو اللہ کی عظمت پہ گواہ ہے مفسرین نے اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ حرمت والاشہر عنقریب آپ کے لیے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کو حلال کردیاجائے گا گویا فتح مکہ کی خوش خبری بھی ہے اور خود آدم (علیہ السلام) اور ان کی ساری اولاد ، تمام انسانوں کی پیدائش سے موت تک کی زندگی ، اس بات پر گواہ ہے کہ انسان تخلیقی طور پر محنت ومشقت کرنے پر مجبور ہے اس کی زندگی کا کوئی لمحہ مشقت سے خالی نہیں…
Read the full tafseer →ف 15 یعنی جن ستخیوں اور مصیبتوں کو جھیلتے ہوئے آدمی زندگی بسر کرتا ہے ان کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ اپنی حقیقت کو پہچانتا اور اس میں عاجزی و انکساری کا جذبہ پیدا ہوتا لیکن اس کی حالت یہ ہے کہ اکڑ خوں دکھاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ مجھ پر کو نقابو پاسکتا ہے
Read the full tafseer →(90:5) ایحسب ان لن یقدر علیہ احد۔ ہمزہ استفہام انکاری ہے ۔
الانسان یحسب کا فاعل ہے۔ ضمیر فاعل کس کی طرف راجع ہے اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔
(1) یہ کہ اگر الانسان میں الف لام جنسی ہے تو ضمیر فاعل عام انسان کی طرف راجع ہوگی اور مطلب یہ ہوگا کہ باوجود یہ کہ انسان مصائب کش پیدا ہوا ہے سدا کا دکھیا ہے پھر بھی اس پر اس کو یہ غرور کہ ان لن یقدر علیہ احد : (کہ اس پر کوئی قابو نہ پائے گا) ۔ (تفسیرحقانی، تفسیر مظہری، ضیاء القرآن)
(2) اگر الف لام عہد کا ہے تو ضمیر کا مرجع وہ کافر ہے جو اپنی قوت و طاقت پر گھمنڈ کر رہا ہے۔ یعنی ابو الاشد اسید بن کلدۃ (الخازن، بیضاوی، ایسر التفاسیر)
(3) بعض کے نزدیک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
لغات القرآن۔
ھذا البلد۔ یہ شہر۔ (مکہ مکرمہ) ۔ حل۔ حلال ہے۔ کبد۔ مشقت۔ مصیبت۔ اھلکت۔ میں نے خرچ کیا ہے۔ مالا لبدا۔ ڈھیروں مال۔ عینین۔ دو آنکھیں۔ شفتین۔ دو ہونت۔ النجدین۔ دو راستے۔ اقتحم۔ وہ داخل ہوگیا۔ العقبۃ۔ گھاٹی۔ فک رقبۃ۔ گردن چھڑانا۔ (غلاموں کو آزاد کرنا) ۔ ذی مسغبۃ۔ بھوکا۔ بھوک والا۔ ذا مقربۃ۔ رشتہ دار۔ ذامتربۃ۔ جو خاک میں مل جانے والا ہے۔ نارموصدۃ۔ آگ جو اوپر سے بند کی گئی ہے۔
تشریح : سورت بلند کا مفہوم اور خلاصہ یہ ہے۔
اس سورت میں اللہ نے ” بلد “ یعنی مکہ مکرمہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو اس شہر میں قتال کرنا حلال ہونیوالا ہے۔ باپ اور اولاد یعنی حضرت آدم (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–20
غریبوں کے ساتھ سلوک کرنا۔
(ف 4) شان نزول۔ تفسیر کلبی میں لکھا ہیی کہ مشرکین مکہ میں ایک شخص ابوالاشد بڑا شہ زور تھا اور اس کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ اونٹ کی کھال پاؤں کے نیچے بالیتا تھا دس دس آدمی اس کھال کو کھینچنے تھے کھال پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے اڑ جاتی تھی مگر جتنا اس کے پاؤں کے نیچے ہوتا ہرگز نہ نکل سکتا تھا، یہ شخص نبی ﷺ سے بڑی عداوت رکھتا تھا اور حضور کی عداوت میں لوگوں کو رشوتیں دے دے کر حضور کو آزار پہنچائیں ، اسی شخص کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اور فرمایا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس پر قابو پاسکے اور اس سرکشی کی سزا دے سکے، حضور کی عداوت میں یو ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
[5] یعنی انسان جن سختیوں اور مشقت کی راہوں سے گزرتا ہے اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس میں عجز و درماندگی پیدا ہوتی اور اپنے کو بستہ حکم و قضا سمجھ کر مطیع امر و تابع رضائے الٰہی ہوتا۔ لیکن اس کی حالت یہ ہے کہ اتنی بھول میں پڑگیا ہے کہ خود کو گویا اللہ تعالیٰ کے حدود وقدرت سے بھی خارج سمجھنے لگا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–14
حیات انسانی
2: سورة البلد میں تین چیزوں کبو بطور استشہاد کے پیش فرمایا ۔ ہے اور ثابت کیا ہے کہ انسانی زندگی مسلسل مصائب اور سختیوں کا نام ہے ۔ ایک مکہ کی پوری تاریخ کہ کیونکہ اللہ کے ایک بندے نہ پریشانی اور اضطراب کے عالم میں یہاں اپنی اولاد کو بسایا اور اس غیر آباد زمین میں ایک معبد کی بنیاد رکھی ۔ اور پھر وہ جگہ کس درجہ مقبول ہوئی ۔ دوسرے آپ کا اس شہر میں فاتحانہ داخلہ اور تیسرے آدم اور بنی آدم کی ساری زندگی ، ان واقعات کو دیکھئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ حیات انسانی ، تعبیر ہے محنت وجانفشانی سے ، تگ ودو اور سعی سے ، دوڑ دھوپ اور کوشش سے ، اور وہی لوگ دنیا میں کامیابی اور کامرانی سے زندگی بسر…
Read the full tafseer →(5) کیا وہ انسان یہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابونہ پاسکے گا۔ یعنی شاید یہ سمجھتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر ہوگیا ہوں کہتے ہیں اس سے مراد ولیدبن مغیرہ ہے بعض نے کہا اس سے مراد ابی الاشدا سید بن کلدہ ہے جو بہت قد اور پہلوان تھا۔
بہرحال حضرت حق تعالیٰ نے تنبیہہ فرمائی کہ اپنی قوت اور دولت کے زعم میں پیغمبر کو ستاتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ میں قدرت خداوندی سے خارج ہوں اور پیغمبر کی اذیت اور ناجائز مشرکانہ رسوم پر خرچ کرکے۔
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی کیا اللہ کی قدرت سے اپنے کو خارج سمجھتا ہے جو اس قدر بھول میں پڑا ہے۔
Read the full tafseer →کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کس کا بس نہ چلے گا
5 ؎ پھر اس کا مادہ تخلیق کیا ہی مادہ تخلیق ہے اس کے باوجود کہ یہ خطرات و آلائم میں چاروں طرف سے گھرا ہوا ہے اور اس کے گھمنڈ کا یہ عالم ہے کہ وہ ہر وقت اس خیال میں مگن ہے کہ ہم چوما دیگرے نیست کہ اس سے اوپر کوئی ہستی ہی موجود نہیں ہے جو اس سے کیے کی باز پرس کرسکے یا جس کے حکم کے سامنے وہ جوابدہ ہو اور اس کے سامنے جھکنے اور سجدہ ریز ہونے کے لیے مجبور ہو ۔ غور کرو کہ یہ اس کی کم فہمی اور نا عاقبت اندیشی کا نتیجہ نہیں تو اور کیا ہے ؟ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک ایسی بےبس چیز ہے کہ اس کائنات کی کوئی چیز بھی اس کو پریشان کرنے پر اتر آئے تو اس کو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي كَبَدٍ (Indeed We have created man [ to live ] in hard struggle…90:4) The word kabad means 'labour, 'toil' or 'difficulty'. The verse purports to say that man's life is a series of hard and toilsome works.
Ibn ` Abbas ؓ says: 'Man was conceived and held in his mother's womb. The mother bore the pangs of birth. The hardship of sucking the mother's milk and the difficulty of weaning. This is followed by seeking livelihood and other necessities of life with hardship. Then he endures hardships and long-suffering of old age, death, grave, resurrection,…
Read the full tafseer →6 That is: Is man, who is ever exposed to such hazards, involved in the delusion that he can do what he likes, and there is no superior power to seize and suppress him? The fact, however, is that even before the occurrence of the Hereafter in this world itself, he sees that his destiny every moment is being ruled by some other Being against Whose decrees all his plans and designs prove ineffective. A single jolt of the earthquake, a blast of wind, a flood in the river and a sea-storm are enough to show how weak and feeble tnan is against the Divine forces. A sudden accident can reduce a…
Read the full tafseer →