Al-Balad 90:4

Al-Balad · from ayah 4

90:4

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍ ۟ؕلَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِىۡ كَبَدٍؕ

کہ ہم نے انسان کو تکلیف (کی حالت) میں (رہنے والا) بنایا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

We have certainly created man into hardship.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Balad

All translations of 90:4

درحقیقت ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہ ہم نے انسان کو تکلیف (کی حالت) میں (رہنے والا) بنایا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً ہم نے انسان کو (بڑی) مشقت میں پیدا کیا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہ ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک ہم نے آدمی کو مشقت میں رہتا پیدا کیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک ہم نے انسان کو مشقت میں (مبتلا رہنے والا) پیدا کیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بلاشبہ یقینا ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں پیدا کیا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کہ ہم نے انسان کو سختی جھیلتے رہنے والا پیدا کیا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہ ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں پیدا کیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بلاشبہ ہم نے پیدا کیا انسان کو بڑی مشقت میں (گھرا ہوا)

— مولانا اسحاق مدنی

کہ ہم نے انسان کو بڑی مشقت کے لئے پیدا کیا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بیشک ہم نے انسان کو پیدا ہی محنت اور مشقت میں کیا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Verily We have created man into toil and hardship.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

indeed We have created man (to live) in hard struggle.

— Muhammad Taqi Usmani

indeed We have created man (to live) in hard struggle.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, We have created man in Kabad.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We verily have created man in an atmosphere:

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

We have certainly created man into hardship.

— Saheeh International

that We have created the human being to face a great deal of hardship.

— Muhammad Sarwar

Certainly We have created man to be in distress.

— Muhammad Habib Shakir

Assuredly We have created man in trouble.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily We have created man into toil and struggle.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 90:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–10

مکہ مکرمہ کی قسم : اللہ تبارک وتعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں لا سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہوگا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہوگا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہکاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَلَد 5 یہ ہے وہ بات جس پر وہ قسمیں کھائی گئی ہیں جو اوپر مذکور ہوئیں۔ انسان کے مشقت میں پیدا کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں مزے کرنے اور چین کی بنسری بجانے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس کے لیے یہ دنیا محنت اور مشقت اور سختیاں جھیلنے کی جگہ ہے اور کوئی انسان بھی اس حالت سے گزرے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ شہر مکہ گواہ ہے کہ کسی اللہ کے بندے نے اپنی جان کھپائی تھی تب یہ بسا اور عرب کا مرکز بنا۔ اس شہر مکہ میں محمد ﷺ کی حالت گواہ ہے کہ وہ ایک مقصد کے لیے طرح طرح کی مصیبتیں برداشت کر رہے ہیں، حتی کہ یہاں جنگل کے جانوروں کے لیے امان ہے مگر ان کے لیے نہیں ہے۔ اور ہر انسان کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–7

لقد خلقنا الانسان فی کبد، کبد کے لفظی معنے محنت ومشقت کے ہیں۔ معنے یہ ہیں کہ انسان اپنی فطرت سے ایسا پیدا کیا گیا ہے کہ اول عمر سے آخر تک محنتوں اور مشقتوں میں رہتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ابتدائے حمل سے رحم مادر میں محبوس رہا پھر ولادت کے وقت کی محنت ومشقت برداشت کی، پھر ماں کا دودھ پینے پھر اسکے چھوٹنے کی محنت اور پھر اپنے معاش اور ضروریات زندگی فراہم کرنے کی مشقت پھر بڑھاپے کی تکلیفین پھر موت پھر قبر، پھر حشر اور اس میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اعمال کی جوابدہی پھر جزا وسزا، یہ سب دور اس پر محنتوں ہی کے آتے ہیں، اور یہ محنت ومشقت اگرچہ انسان کے ساتھ مخصوص نہیں سب جانور بھی اس میں شریک…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

سرزمین مکہ کی پچھلی تاریخ کی طرف اشارہ: ’کَبَد‘ کے معنی مشقت اور شدت کے ہیں۔ لفظ ’اِنْسَان‘ اگرچہ عام ہے اور اس کے عام ہونے کے کئی فائدے ہیں لیکن یہاں اس عام سے مراد خاص طور پر قرآن کے اولین مخاطب بنی اسماعیل بالخصوص قریش ہیں۔ سرزمین حرم میں ان کے بزرگ اجداد کی آمد اور سکونت اور ان کی ذریت کی ابتدائی تاریخ کا حوالہ دے کر قریش کو متنبہ فرمایا گیا ہے کہ آج اس سرزمین میں تم کو جو فراخئ رزق و رفاہیت حاصل ہے یہ نہ سمجھو کہ یہی حال ہمیشہ سے رہا ہے یا یہ حالت تمہاری ذہانت و قابلیت کی بدولت ہوئی ہے۔ جس زمانے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بسایا ہے اس وقت یہ علاقہ ایک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

4۔ 1 یعنی اس کی زندگی محنت و مشقت اور شدائد سے معمور ہے۔ امام طبری نے اس مفہوم کو اختیار کیا ہے، یہ جواب قسم ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

3: یہ ہے وہ بات جو قسم کھاکر فرمائی گئی ہے، مطلب یہ ہے کہ دنیا میں انسان کو اس طرح پیدا کیا گیا ہے کہ وہ کسی نہ کسی مشقت میں لگارہتا ہے، چاہے کتنا بڑا حاکم ہو یا دولت مند شخص ہو اسے زندہ رہنے کے لئے مشقت اٹھانی ہی پڑتی ہے، لہذا اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ اسے دنیا میں کبھی کوئی محنت کرنی نہ پڑے تو یہ اس کی خام خیالی ہے، ایسا کبھی ممکن ہی نہیں ہے، ہاں مکمل راحت کی زندگی جنت کی زندگی ہے جو دنیا میں کی ہوئی محنت کے نتیجے میں ملتی ہے، ہدایت یہ دی گئی ہے کہ انسان کو دنیا میں جب کسی مشقت کا سامنا ہو تو اسے یہ حقیقت یاد کرنی چاہیے، خاص طور پر آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کو مکہ مکرمہ میں جو تکلیفیں پیش آرہی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اور اس قسم کا جواب کیا ہے ، کس حقیقت کے اظہار کے لئے یہ قسم اٹھالی گئی۔ لقد ................ فی کبد (4:90) ” درحقیقت ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے “۔ سخت جدوجہد اور مشقت میں سخت کشمکش اور مصائب کے مقابلے کی حالت میں پیدا کیا ہے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا۔ یایھا ................................ فملقیہ (6:84) ” اے انسان تو سخت مشقت کرتا ہوا اپنے رب کی طرف جارہا ہے اور آخرکار تو اس سے ملنے والا ہے “۔ رحم کے اندر جب ایک خلیہ قرار پکڑتا ہے تو وہ پہلے دن ہی سے جہد ومشقت شروع کردیتا ہے کہ اپنے لئے غذا فراہم کرے اور آنے والی زندگی کے لئے اچھے حالات فراہم کرے ، یہ تمام کام وہ رب تعالیٰ کی ہدایت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی آدمی ابتداء سے انتہا تک مشقت اور رنج میں گرفتار ہے اور طرح طرح کی سختیاں جھیلتا رہتا ہے۔ کبھی مرض میں مبتلا ہے کبھی رنج میں، کبھی فکر میں شاید عمر بھر میں کوئی لمحہ ایسا آتا ہو جب کوئی انسان تمام قسم کے خرخشوں اور محنت و تکلیف سے آزاد ہو کر بالکل بےفکری کی زندگی بسر کرے۔ حقیقت میں انسان کی پیدائشی ساخت ہی ایسی واقع ہوئی ہے کہ وہ ان سختیوں اور بکھیڑوں سے نجات نہیں پاسکتا۔ آدم اور اولاد آدم کے احوال کا مشاہدہ خود اس کی واضح دلیل ہے۔ اور مکہ جیسے سنگلاخ ملک کی زندگی خصوصاً اس وقت جبکہ وہاں افضل الخلائق محمد رسول اللہ ﷺ سخت ترین جورو جفا اور ظلم و ستم کے ہدف بنے ہوئے تھے۔ " لقد خلقنا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4{ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ۔ } ”بیشک ہم نے انسان کو پیدا ہی محنت اور مشقت میں کیا ہے۔“ سورة الانشقاق میں یہی مضمون اس طرح بیان ہوا ہے : { یٰٓــاَیُّہَا الْاِنْسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا فَمُلٰقِیْہِ۔ } ”اے انسان ! تو مشقت پر مشقت برداشت کرتے جا رہا ہے اپنے رب کی طرف ‘ پھر تو اس سے ملنے والا ہے“۔ انسانی زندگی کے بارے میں یہ تلخ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اس دنیا میں کوئی انسان جیسا ہے جہاں ہے ‘ غریب ہے ‘ امیر ہے ‘ صاحب اقتدار ہے ‘ فقیر ہے ‘ کلفت ‘ مشقت ‘ کو فت ‘ پریشانی اس کا مقدر ہے۔ کوئی انسان جسمانی محنت کے ہاتھوں بےحال ہے تو کوئی ذہنی مشقت کی وجہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 3–4

3 فی کبد کا مفہوم :۔ تیسری قسم آدم اور تمام اولاد آدم یعنی تمام نوع انسان کی زندگی کو شاہد بنا کر اٹھائی گئی ہے۔ اور تینوں قسمیں اس بات پر اٹھائی گئیں کہ انسان کی تخلیق ہی اس انداز پر ہوئی ہے کہ وہ ساری عمر سختیاں جھیلتا رہے۔ دکھ اور رنج سہتا رہے۔ یہ رنج اور مصیبتیں خواہ قدرتی ہوں یا دوسروں نے اسے پہنچائی ہوں یا اپنی ہی وجہ سے اسے پہنچ رہی ہوں۔ کبد کا معنی جگر ہے جو مشہور عضو انسانی ہے۔ اور اس لفظ میں سختی اور قوت کا مفہوم پایا جاتا ہے اور فی کبد محاورۃً استعمال ہوتا ہے اور یہ انسانی فطرت کا اظہار کرتا ہے۔ انسان کے دل میں ایک خواہش پیدا ہوتی ہے۔ جسے پورا کرنے کے لیے کئی طرح کے رنج و الم سہتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

3۔ جس کا مقتضا یہ تھا کہ اس میں احساس عجزودرماندگی اور زیادہ پیدا ہوتا رہتا) ، مراد یہ ہے کہ انسان کی ساخت و ترکیب ہی ایسی رکھ دی گئی ہے، کہ اسے ساری عمر وقتوں کا، اور کسی نہ کسی اعتبار سے مصیبتوں ہی کا سامنا رہے۔ آج دکان ٹوٹ گئی، کل کاروبار بیٹھ گیا، آج فلاں دشمن ستارہا ہے، کل فلاں مرض نے آدبایا، کبھی خود بیمار کبھی بیوی بچہ بیمار، کبھی اس عزیز کی موت کا صدمہ، کبھی اس دوست کی بیوفائی کا رنج، ساری عمر غم وصدمات ہی کے الٹ پھیر میں گزر جاتی ہے، اور انسان کو اپنے عجز وبے بسی کا مشاہدہ قدم قدم پر ہوتا رہتا ہے، اس سے طبیعت میں قدرۃ شکستگی پیدا ہونی چاہئے، اور خودی وخود بینی کو تو پاس بھی نہ پھٹکنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 4–20

لقد خلقنا الانسان فی کبد یعنی انسان کی زندگی محنت و مشقت اور شوائد سے معمور ہے، یہ جواب قسم ہے۔ او اطعام فی یوم ذی مسغبۃ مسغبۃ بھوک اور ذی مسغبۃ بھوک والے دن اور دامتربۃ (مٹی والا) یعنی وہ شخص جو فقر و غربت کی وجہ سے زمین پر پڑا رہتا ہو، اس کا گھر بار کچھ نہ ہو، مطلب یہ ہے کہ کسی غلام کو آزاد کرنا کسی بھوکے کو رشتہ دار یتیم کو کھانا کھلانا یہ دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہونا ہے جس کے ذریعہ انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جا پہنچے گا یتیم کی کفالت ویسے بھی بڑے اجر کا کام ہے اور اگر وہ رشتہ دار بھی ہو تو اس کی کفالت کا اجر بھی دگنا ہے ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا اسی طرح غلام آزاد کرنے کی بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لقد خلقنا الانسان . یہ جواب قسم ہے الانسان میں لام جنسی ہے (کوئی بھی انسان ہو) یا عہد کا ہے یہ اس روایت کے بموجب ہوگا کہ یہ آیت ابو الاشد کے متعلق نازل ہوئی۔ ابو الاشد کا نام اسید بن کلدہ بن جمج تھا۔ یہ بڑا طاقتور تھا۔ عکاظی چمڑا اپنے پاؤں کے نیچے دبا کر کہتا تھا جو اس چمڑے سے میرے قدم کو ہٹا دے گا ‘ اس کو اتنا انعام ملے گا لیکن کوئی اس کے قد م کو نہ ہٹا سکتا ‘ یہاں تک کہ چمڑا کھینچنے سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا تھا اور قدم اپنی جگہ جما رہتا تھا۔ فی کبد . اگر الانسان سے جنس انسان مراد ہو تو کبدٍ کا معنی ہوگا دکھ ‘ مشقت۔ یعنی ہر انسان کو ہم نے دکھ میں پیدا کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت قتادہ کا یہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

ان تمام چیزوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہم نے انسان مثلاً کلدہ کو معتد القامت پیدا کیا ہے یا یہ کہ دنیا و آخرت کی بڑی مشقت میں پیدا کیا، یا یہ کہ قوت و سختی میں پیدا کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–4

(لا اقسم بھذا البلد…:) قسم سے پہلے ”لا“ (نہیں) فرما کر ان لوگوں کی بات کی نفی کی گئی ہے جو قسم کے بعد آنے والی بات کا اناکر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چند قسموں کے بعد فرمایا : یقینا ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے، اگر وہ سمجھے کہ میں دنیا میں عیش و آرام کے لئے آیا ہوں تو اس کا خیال غلط ہے۔ اس حقیقت کا یقین دلانے کیلئے پہلی قسم شہر مکہ کی کھائی، جو اس دعوے کی دلیل بھی ہے، کیونکہ اس شہر کی آبادی کی ابتدائ، اسماعیل ؑ اور ان کی والدہ کی زندگی، ان کے بعد کی تاریح، خصوصاً اس شہر میں رہتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی زندگی، آپ کی یتیمی اور بےسروسامانی، نبوت کی ذمہ داری کے بعد اپنی ہی قوم کا جان لینے کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

لقد خلقنا الانسان فی کبد۔ یہاں پر قسم ختم ہوگئی تھی یہ آیت جواب قسم ہے اللہ تعالیٰ کو حق حاصل ہے کہ اپنی مخلوقات کی تعظیم کے لیے جس کی چاہے قسم اٹھائے جس طرح پہلے گزرچکا ہے یہاں انسان سے مراد ابن آدم ہے کبد کا معنی شدت اور تھکاوٹ ہے یہ مکابدۃ الدنیا سے مشتق ہے، کبد کا اصل معنی شدت ہے اسی سے ایک جملہ بولا جاتا ہے، تکبداللبن دودھ گاڑھا ہوگیا، سخت ہوگیا اسی سے کبد جگر ہے کیونکہ یہ بھی خون ہوتا ہے جو گاڑھا اور سخت ہوجاتا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، کا بدت ھذا الامر میں نے اس امر کی سختی کو برداشت کیا لبید نے کہا : یاعین ھلا بکیت اربد اذ، قمنا وقام الخصوم فی کبد۔ اے آنکھ تواربد کے مقام پر کیوں نہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

22۔ ابن جریر والطبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لا اقسم بہذا البلد یعنی میں قسم کھاتا ہوں اس شہر مہ کی آیت وانت حل بہذا البلد حالانکہ آپ اس شہر مکہ میں رہ رہے ہیں آیت ووالد وما ولد۔ میں قسم کھاتا ہوں آدم (علیہ السلام) کی آیت لقد خلقنا الانسان فی کبد، بیشک ہم نے انسان کو مصیبت میں پیدا کیا ہے۔ یعنی ہم نے انسان کو معتدل اور سیدھا پیدا کیا۔ 23۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ووالد وما ولد قسم کھاتا ہوں آدم (علیہ السلام) اور اس کی اولاد کی آیت لقد خلقنا الانسان فی کبد یعنی یہاں قسم واقع ہوئی۔ فی کبد، مشقت میں یعنی تکلیف برداشت کرتا ہے دنیا اور آخرت کے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لَقَدْ خَلَقْنَا الْانسَان : بیشک ہم نے پیدا کیا ہے انسان کو ][ فِيْ كَبَدٍ : ایک مشقت میں ] ک ب د [ کَبْدًا : (س) درد جگر میں مبتلا ہونا۔ تکلیف برداشت کرنا۔][ کَبَدٌ اسم ذت ہے۔ سختی، مشقت، زیر مطالعہ آیت۔ 4 ۔] ترکیب : (آیت۔ 5) یَحْسَبُ میں شامل ھُوْ کی ضمیر فاعلی اَلْاِنْسَانَ کے لیے ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْ كَبَدٍؕ004 ﴾ (یہ واقعی بات ہے کہ ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا فرمایا) ۔ انسان اشرف المخلوقات ﴿اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ﴾ میں پیدا فرمایا ہے وہ اپنے احوال میں مشقتوں تکلیفوں میں مبتلا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے شرف بھی بخشا اور مشکلات اور مسائل میں بھی مبتلا فرما دیا، اس کی اپنی دنیاوی حاجات اور ضروریات جان کے ساتھ ایسی لگی ہوئی ہیں جو اس کے لیے مشقتوں کا باعث ہوتی ہیں، انسان کو کھانے پینے کو بھی چاہیے، پہننے کی بھی ضرورت ہے، رہنے کے لیے مکان بھی چاہیے ساتھ ہی بیماریاں بھی لگی ہوئی ہیں وہ خود تو مصیبت ہیں ہی ان کے علاج کے لیے تدبیریں بھی کرنی پڑتی ہیں اور مال بھی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–20

انقسام عمل درخیر وشر مع بیان عظمت مہبط وحی و سرچشمہ ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بھذا البلد ........ الی .......... نار مؤصدۃ “۔ (ربط) سورة الفجر میں پانچ اہم اور عظیم امور کی قسم کھا کر ہر صاحب عقل اور فہم کو اس امر کی دعوت دی گئی تھی کہ وہ عقل اور فطرت کی روشنی میں خداوند عالم کی عظمت وقدرت کو پہچانے اس کی خالقیت و ربوبیت پر ایمان لائے یہی چیز انسان کو فلاح وسعادت کے مقام تک پہنچانے والی ہے، اور جو قومیں عقل و فطرت کی ان صلاحیتوں کو ضائع کرکے سرکشی اور نافرمانی پر ڈٹی رہیں جیسے قوم عاد وثمود اور فرعون تا ریخ میں ان کا عبرت ناک انجام بھی دنیا کے سامنے آچکا تو اس سورت میں سرزمین…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

3:۔ ” لقد خلقنا “ یہ جواب قسم ہے مذکورہ قسمیں شاہد ہیں کہ انسان کو ہم نے مشقت میں پیدا کیا ہے اور انسان کو مشقت اور شدت میں ڈالنا ہمارے اختیار میں ہے۔ ” کبد “ مشقت۔ فالمراد من کبد النصب والمشقۃ (مظہری) فی کبد مشقۃ یکابد مصائب الدنیا وشدائد الاخرۃ (مدارک) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–10

شہر مکہ ابتدائے سورة میں دو چیزوں کی قسم کھا کر بات سمجھائی گئی ہے پہلی قسم بلد یعنی شہر مکہ کی ہے اور دوسری والدوما ولد یعنی والد اور مولود کی چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ لا اقسم بھذا البلد یہاں لفظ لاتاکید کے لئے ہے۔ یعنی میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی وانت حل بھذا البلد اور آپ اترے ہوئے ہیں اس شہر میں حل ، حلول سے ہے۔ اور اس کا معنی اترنا ہے۔ مراد شہر مکہ مکرمہ ہے۔ جو کہ بلدہ طیبہ ، بلد الحرام اور عزت والا شہر ہے۔ قرآن پاک میں بلدہ طیبہ کا ذکر کئی مقامات پر آیا ہے۔ اس کی بڑی اہمیت ہے۔ کیونکہ اس میں بیت اللہ شریف واقع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شہر کو مرکز ہدایت اور حرمت والا شہر قرار دیا ہے اور اس کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْ كَبَدٍ۝ 4 ۭ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–4

ترکیب ¦ لا قدمر الکلام فیھا فقیل زائدۃ وقیل لالنفی کلام الکفار وقیل لنفی القسم بظھور الامر ای لاحاجۃ الی القسم بھذہ الاشیاء والمراد بالبلد عند جمھور المفسرین مکتہ والبلدیذکر و یؤنث والجمع بلدان والبلدۃ بالفتح جمعھا بلاد بالکسر وانت حل الخ قال الواحدی الحل والحلال والمحل واحد وھو ضدالحرم ای فاحل اللہ لنبیہ ﷺ القتال فی مکۃ وقد انجز اللہ تعالیٰ وعدہ یوم الفتح فالجملۃ معترضۃ بین المقسم بہ وما وعطف علیہ وقیل معناہ حال ای اقسم بھذا البلد وانت مقیم فیہ تشریفاً لک وتعظیما لقدرک اولا اقسم بھذا البلد حال کو نک مقیما فیہ بل اقسم بک فعلی ھذا الجملۃ منصوبۃ محلاً والدوما ولد معطوف علی البلد وما بمعنی من…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کَبَدٍ ۔ (البلد : 4) (ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔ ) یہ جوابِ قسم ہے اس کی وضاحت یہ جوابِ قسم ہے۔ کَبَدٍکا معنی مشقت اور شدت کے ہیں۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ہم نے اس دنیا میں انسان کو آرام و آسائش کی زندگی بسر کرنے اور چین کی بنسری بجانے کے لیے نہیں بھیجا بلکہ ہم نے اسے مشقت میں پیدا کیا ہے۔ یعنی اس کی زندگی کا سفینہ طوفانوں سے نبردآزما ہونے کے لیے بنایا گیا ہے۔ خطرات و مصائب اور اس کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ذرا غور کرو کہ جس شہر میں تم رہ رہے ہو اس شہر کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے ایک بندے نے اپنی بیوی اور اکلوتے بچے کو وادی غیر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–7

فہم القرآن ربط کلام : مکہ شہر کی قسم اٹھانے کے بعد باپ اور اس کی اولاد کی قسم اٹھا کر ہر انسان کو ایک حقیقت بتلائی گئی ہے۔ مکہ کی قسم اٹھا کر بین السطور آپ ﷺ کو آپ کی دعوت کی کامیابی کی خبر دی گئی ہے، اس کے بعد فرمایا کہ مجھے باپ اور اس کی اولاد کی قسم ! ہم نے انسان کو مشقت جھیلنے کے لیے پیدا کیا ہے لیکن انسان سمجھتا ہے کہ کوئی اس پر قابو نہیں پاسکے گا۔ باپ اور اولاد سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی پوری اولاد ہے۔ کچھ اہل علم نے باپ سے مراد ابراہیم (علیہ السلام) اور اولاد سے مراد بنی اسماعیل (علیہ السلام) لیے ہیں۔ لیکن مناسب یہ ہے کہ باپ سے مراد آدم (علیہ السلام) لیے جائیں اور اولاد…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

4 : لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ کََبَدٍ (ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں پیدا کیا ہے) یہ جواب قسم ہے۔ کبدؔ مشقت، انسان مصائب دنیا سے دو چار ہوتا ہے۔ اور آخرت کی تکالیف۔ قول ذوالنون (رح) : قضاء کی رسی سے انسان بندھا جڑا رہے گا۔ اور امر ونہی کی دعوت دی جاتی رہے گی۔ یہی مشقت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

4 ۔” لقد خلقنا الانسان فی کبد “ والبی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ” فی نصب “ (مشقت میں) لقد خلقنا الانسان فی کبد کی تفسیر حسن (رح) فرماتے ہیں دنیا کے مصائب اور آخرت کے شدائد برداشت کرتا ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں مشقت میں۔ پس اس کو نہیں حاصل کرتا مگر دنیا کے امر کی مشقتیں برداشت کرتا ہے اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں سختی میں اور عطاء نے ابن عباس ؓ سے فرمایا ہے سختی میں اس کے حمل اور ولادت اور دودھ پلانے اور دودھ چھڑانے اور معاش اور زندگی وموت کو پیدا کیا اور عمرو بن دینا (رح) فرماتے ہیں اس کے دانتوں کے اگنے کے وقت، یمان (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے کوئی مخلوق ایسی پیدا نہیں کی جو ابن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ شروع سورة میں جس بات پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے وہ یہی بات ہے جو ان آیتوں میں آگے فرمائی۔ تجھ کو قید نہ رہے گی کا مطلب یہ ہے کہ مکہ میں جو قید ہے کہ وہاں لڑائی منع ہے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اے نبی اللہ کے تم کو تھوڑی دیر کے لئے وہاں لڑائی حلال ہوجائے گی ہجرت سے پہلے اس مکی سورة میں اللہ کا یہ ایک وعدہ تھا جس کو فتح مکہ کے وقت اللہ تعالیٰ نے پورا کیا۔ چناچہ صحیح 3 ؎ بخاری و مسلم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تھوڑی دیر کے لئے کو مجھ کو مکہ میں لڑنا حلال کردیا تھا اس کے بعد مکہ میں بدستور لڑائی کی ممانعت ہے اب جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 4–5

(لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْ كَبَدٍ ) بیشک ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ سختیاں اور مشقتیں ہیں جو انسان دنیا کے اندر برداشت کرتا ہے اور جو برزخ میں اور قیامت کے دن برداشت کرے گا انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے اعمال کے لیے کوشاں رہے جو اسے اس شدائد سے نجات دلا کر راحت، اس کے لیے دائمی فرحت اور سروکار کا موجب بنیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ابدا الآباد تک سخت عذاب کی مشقت بردازشت کرتار ہے گا۔ اس میں یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور خوب درست تخلیق کے ساتھ پیدا جو سخت اعمال پر تصرف کی قدرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(5) انسان کی تخلیق مشقتوں میں : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں پیدا کیا، یہ ہے مقسم عالیہ یعنی جس پر یہ مذکورہ بالا قسمیں کھائی گئیں ہیں۔ یعنی یہ کہ انسان کو شروع سے آخر تک طرح طرح کی مشکلات اور مشقتوں میں گھرا ہوا پیدا کیا گیا ہے، حمل کے دوران پھر ولادت اور پھر رضاعت و فطام کی مدت میں، اس کے بعد جوانی بڑھاپے اور دنیا سے رخصت ہونے تک یہ طرح طرح کی مشقتوں اور مشکلات و مصائب میں گھرا رہتا ہے، اور یہ شہر مکہ جس کی بنیاد اللہ تعالیٰ کے ایک بندے نے طرح طرح کی مشکلات کو برداشت کر کے رکھی تھی، اور یہ طرح طرح کے مراحل سے گزر کر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–20

مکہ شہر اور آدم (علیہ السلام) کی قسم انسان کے بڑے فرائض ہیں تشریح : شروع میں نہیں کا لفظ اس لیے آیا کہ کفار مکہ جو آخرت سے انکار کر رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو جھٹلا رہے ہیں تو ان کو خوب اچھی طرح علم ہونا چاہیے کہ انسان کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کو بہت سی ذمہ داریاں دیکر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے یعنی یہ زندگی پوری کی پوری امتحانی دور پر مبنی ہے اور اس بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ حرمت والے شہر اور اشرف المخلوقات آدم (علیہ السلام) و اولاد آدم یعنی انسان جو کہ نائب اللہ بھی ہے۔ کی قسم کھا کر یہ بات بتا رہے ہیں۔ قسم ایسی ہی چیز کی کھائی جاتی ہے جو عام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–20

سورة البلد۔ آیات 1 تا 20۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے اس شہر عظیم کی یعنی اس شہر کا تقدس جو بنائے کعبہ کے باعث تھا اور کفار ومشرکین بھی اس کی عظمت کے قائل تھے جو آپ کے یہاں تشریف فرما ہونے سے دو بالا ہوگیا اس کی ساری عظمت بھی تو اللہ کی عظمت پہ گواہ ہے مفسرین نے اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ حرمت والاشہر عنقریب آپ کے لیے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کو حلال کردیاجائے گا گویا فتح مکہ کی خوش خبری بھی ہے اور خود آدم (علیہ السلام) اور ان کی ساری اولاد ، تمام انسانوں کی پیدائش سے موت تک کی زندگی ، اس بات پر گواہ ہے کہ انسان تخلیقی طور پر محنت ومشقت کرنے پر مجبور ہے اس کی زندگی کا کوئی لمحہ مشقت سے خالی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 14 یعنی ابتداء سے انتہا تک سختیاں اور مصیبتیں ہی جھیلتا رہتا ہے کبھی بیماری میں گرفتار ہے کبھی رنج میں کبھی فقر و فاقہ میں اور کبھی کسی اور فکر میں۔ عمر بھر میں مشکل ہی سے کوئی لمحہ آتا ہے جب وہ ہر لحاظ سے بےفکر اور مطمئن ہو

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(90:4) لقد خلقنا الانسان فی کبد۔ یہ جواب قسم ہے لام تاکید کا ہے۔ قد فعل ماضی ساتھ تحقیق کے معنی دیتا ہے اور اس جملہ فعلیہ میں جو کہ قسم کے جواب میں آیا ہو تاکید کا فائدہ دیتا ہے۔ تحقیق ہم نے پیدا کیا۔ الانسان ۔ خلقنا کا مفعول ہے۔ اس میں الف لام جنس کا ہے (کوئی انسان ہو) یا یہ ال عہد کا ہے۔ لیکن یہ اس روایت کے بموجب ہوگا۔ کہ یہ آیت ابو الاشد کے متعلق نازل ہوئی۔ اس کا نام اسید بن کلدہ بن الجمحی تھا۔ بڑا طاقتور تھا ۔ عکاظی چمڑا اپنے پاؤں کے نیچے دبا کر کہتا تھا کہ جو اس چمڑے سے میرے قدم ہٹا دے گا اس کو اتنا انعام ملے گا۔ لیکن کوئی اس کے قدم کو ہٹا نہ سکتا یہاں تک کہ چمڑا کھینچنے سے ٹکڑے ٹکڑے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–20

لغات القرآن۔ ھذا البلد۔ یہ شہر۔ (مکہ مکرمہ) ۔ حل۔ حلال ہے۔ کبد۔ مشقت۔ مصیبت۔ اھلکت۔ میں نے خرچ کیا ہے۔ مالا لبدا۔ ڈھیروں مال۔ عینین۔ دو آنکھیں۔ شفتین۔ دو ہونت۔ النجدین۔ دو راستے۔ اقتحم۔ وہ داخل ہوگیا۔ العقبۃ۔ گھاٹی۔ فک رقبۃ۔ گردن چھڑانا۔ (غلاموں کو آزاد کرنا) ۔ ذی مسغبۃ۔ بھوکا۔ بھوک والا۔ ذا مقربۃ۔ رشتہ دار۔ ذامتربۃ۔ جو خاک میں مل جانے والا ہے۔ نارموصدۃ۔ آگ جو اوپر سے بند کی گئی ہے۔ تشریح : سورت بلند کا مفہوم اور خلاصہ یہ ہے۔ اس سورت میں اللہ نے ” بلد “ یعنی مکہ مکرمہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو اس شہر میں قتال کرنا حلال ہونیوالا ہے۔ باپ اور اولاد یعنی حضرت آدم (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 3) اب جس بات کو قسم کا کھاکر اللہ نے فرمایا وہ یہ ہے کہ انسان ایک محنت اور مشقت کی حالت میں ہمیشہ ہے ، علماء نے لکھا ہے کہ اگر غور سے دیکھا جائے تو ماں کے پیٹ سے لے کر مرتے دم تک کوئی وقت انسان کا محنت اور سختی سے خالی نہیں ہے بچہ جب ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو ماں کے سونے اور لیٹنے کے وقت ایک فرشتہ اس بچہ کا سراونچا کردیتا ہے تاکہ ماں کے لیٹنے کے وقت ماں کے سارے جسم میں خون جو دوڑتا ہے وہ خود بچہ کی ناک اور منہ میں بھر کر بچہ مر نہ جائے۔ پھر پیدا ہونے کے وقت جو سختی ماں اور بچہ پر گذرتی ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے اسی طرح پیدا ہونے کے بعد بچپنے میں جوانی میں بڑھاپے میں دکھ درد طرح طرح کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[4] یہ ہے وہ بات جس پر شہر مکہ، آدم اور اولاد آدم کی قسمیں کھائی گئی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ انسان اول عمر سے آخر تک محنتوں اور مشقتوں میں مشغول رہتا ہے۔ کبھی مرض میں مبتلا ہے، کبھی رنج میں، کبھی فکر میں۔ شاید عمر بھر میں کوئی لمحہ ایسا آتا ہو جب کوئی شخص فکر، محنت اور تکلیف سے آزاد ہو کر بالکل بےفکری کی زندگی بسر کرے۔ آدم اور اولاد آدم کے احوال کا مشاہدہ اس کی واضح دلیل ہے۔ یہ شہر مکہ گواہ ہے کہ کسی اللہ کے بندے نے جان کھپائی تھی تب یہ بسا اور عرب کا مرکز بنا۔ اسی شہر مکہ میں محمد ﷺ کی حالت گواہ ہے کہ دین حق کے لئے طرح طرح کی مصیبتیں برداشت کر رہے ہیں حتیٰ کہ جنگل کے جانوروں کے لئے یہاں امان ہے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–14

حیات انسانی 2: سورة البلد میں تین چیزوں کبو بطور استشہاد کے پیش فرمایا ۔ ہے اور ثابت کیا ہے کہ انسانی زندگی مسلسل مصائب اور سختیوں کا نام ہے ۔ ایک مکہ کی پوری تاریخ کہ کیونکہ اللہ کے ایک بندے نہ پریشانی اور اضطراب کے عالم میں یہاں اپنی اولاد کو بسایا اور اس غیر آباد زمین میں ایک معبد کی بنیاد رکھی ۔ اور پھر وہ جگہ کس درجہ مقبول ہوئی ۔ دوسرے آپ کا اس شہر میں فاتحانہ داخلہ اور تیسرے آدم اور بنی آدم کی ساری زندگی ، ان واقعات کو دیکھئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ حیات انسانی ، تعبیر ہے محنت وجانفشانی سے ، تگ ودو اور سعی سے ، دوڑ دھوپ اور کوشش سے ، اور وہی لوگ دنیا میں کامیابی اور کامرانی سے زندگی بسر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(4) کہ انسان کو ہم نے بڑی محنت اور مشقت میں رہنے والا بنایا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ساری عمر محنت میں رہے خالی کبھی نہیں۔ خلاصہ : یہ ہے کہ حرارت ، بردوت، رطوبت، یبوست کا مجموعہ ہر وقت کسی نہ کسی تکلیف میں مبتلا رہتا ہے اخلاط کی کشمکش میں گھرا رہتا ہے ، کبھی سر میں درد کبھی دانتوں میں تکلیف کبھی پیٹ میں درد ، پھر اپنے اور پرایوں کا دکھ اور تکلیف ، پھر بیماری اور مرض الموت ، پھر مرنا اور قبر کی وحشت پھر میدان حشر کی صعوبات ۔ غرض انسان کی بناوٹ اور زندگی کیا ہے ایک مجموعہ رنج والم ہے اور مشقت و محنت اور گوناگوں تکالیف کا گہوارہ ہے۔ اس کو فرمایا لقد خلقنا الانسان فی کبد بعض حضرات نے کبد…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ چناچہ عمر میں کہیں مرض میں کہیں رنج میں کہیں فکر میں اکثر اوقات مبتلا رہتا ہے اور اس کا مقتضا یہ تھا کہ اس میں عجز و درماندگی پیدا ہوتی اور اپنے کو بستہ حکم قضا سمجھ کر مطیع امرو تابع رضا ہوتا لیکن انسان کافر کی یہ حالت ہے کہ بالکل بھول میں پڑا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بلا شبہ ہم نے انسان کو بڑی مشقت اٹھانے والا پیدا کیا ہے 4 ؎ ( کبد) دشواری ، سختی ، مشقت ، کبد کبد کبد جگر ۔ اکباد و کبود جمع کباد جگر کا درد یا درد ہونا کا بد محنت کش ، مشقت اٹھانے والا ۔ کبد جگر پر مارنا ، جگر ایک عضو ہے جس کا کام اصلاح خون ہے اور خون پر انسانی زندگی کا انحصار ہے اس لیے اس عضو کو مشقت اٹھانے والا سمجھا گیا ہے لیکن مراد اس سے یہی ہے کہ اس پر انسانی زندگی کا دراصل انحصار ہے۔ زیر نظر آیت کا مضمون وہ مضمون ہے جس کے لیے پیچھے چار بات کو مؤکد کیا گیا ہے اور ان چار شہادتوں کے بعد وہ بات بتائی جا رہی ہے کہ انسان کو ہم نے محض اس لیے نہیں پیدا کیا کہ وہ محض آرام و آسائش کی زندگی بسر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–7

لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي كَبَدٍ (Indeed We have created man [ to live ] in hard struggle…90:4) The word kabad means 'labour, 'toil' or 'difficulty'. The verse purports to say that man's life is a series of hard and toilsome works. Ibn ` Abbas ؓ says: 'Man was conceived and held in his mother's womb. The mother bore the pangs of birth. The hardship of sucking the mother's milk and the difficulty of weaning. This is followed by seeking livelihood and other necessities of life with hardship. Then he endures hardships and long-suffering of old age, death, grave, resurrection,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

5 This is that for which the oaths as mentioned above have been sworn. Man's being created in toil means that tnan in this world has not been created to enjoy himself and live a life of ease and comfort, but the world for him is a place of enduring and undergoing toil, labour and hardship, and no man can be immune from this. The city of Makkah is a witness that a servant of Allah toiled and struggled hard, then only did it become a city and the centre of Arabia. In this city of Makkah the condition of Muhammad (upon whom be Allah's peace) is a witness that he is enduring every kind of…

Read the full tafseer →