Al-Balad 90:3

Al-Balad · from ayah 3

90:3

وَوَالِدٍ وَّمَا وَلَدَ ۟ۙوَوَالِدٍ وَّمَا وَلَدَ

اور باپ (یعنی آدم) اور اس کی اولاد کی قسم

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [by] the father and that which was born [of him],

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Balad

All translations of 90:3

اور قسم کھاتا ہوں باپ کی اور اس اولاد کی جو اس سے پیدا ہوئی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور باپ (یعنی آدم) اور اس کی اولاد کی قسم

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور (قسم ہے) انسانی باپ اور اوﻻد کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (قسم کھاتا ہوں) باپ کی اور اس کی اولاد کی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تمہارے باپ ابراہیم کی قسم اور اس کی اولاد کی کہ تم ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے حبیبِ مکرّم! آپ کے) والد (آدم یا ابراہیم علیہما السلام) کی قَسم اور (ان کی) قَسم جن کی ولادت ہوئی٭، ٭ یعنی آدم علیہ السلام کی ذریّتِ صالحہ یا آپ ہی کی ذات گرامی جن کے باعث یہ شہرِ مکہ بھی لائقِ قَسم ٹھہرا ہے۔

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جننے والے کی قسم ! اور اس کی جو اس نے جنا !

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور والد (آدم) اور اس کی اولاد کی قسم

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور باپ اور اس کی ذریت کی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور میں قسم کھاتا ہوں باپ کی اور اس کی سب اولاد کی

— مولانا اسحاق مدنی

اور قسم ہے باپ کی اور اولاد کی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور قسم ہے والد کی اور اولاد کی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

باپ اور اس کی اولاد کی قسم

— محترمہ رفعت اعجاز

and I swear by the parent and his offspring:

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and by the father and all those he begot,

— Muhammad Taqi Usmani

and by the father and all those he begot,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And by the begetter and that which he begot.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And the begetter and that which he begat,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [by] the father and that which was born [of him],

— Saheeh International

or by the great father and his wonderful son (Abraham and Ishmael)

— Muhammad Sarwar

And the begetter and whom he begot.

— Muhammad Habib Shakir

And by the begetter and that which he begat,

— Abdul Majid Daryabadi

And (the mystic ties of) parent and child;-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 90:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–10

مکہ مکرمہ کی قسم : اللہ تبارک وتعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں لا سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہوگا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہوگا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہکاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَلَد 4 چونکہ مطلقاً باپ اور اس سے پیدا ہونے والی اولاد کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اور آگے انسان کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے باپ سے مراد آدم ؑ ہی ہو سکتے ہیں۔ اور ان سے پیدا ہونے والی اولاد سے مراد وہ تمام انسان ہیں جو دنیا میں پائے گئے ہیں، اب پائے جاتے ہیں اور آئندہ پائے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–3

وانت حل بھذا البلد لفظ حل میں دو احتمال میں ایک یہ کہ حلول سے مشتق ہو جس کے معنے کسی شئی کے اندر سمانے اور رہنے اور اترنے کے آتے ہیں، اس اعتبار سے حل کے معنے اترنے والے اور رہنے والے کے ہوں گے۔ اور مرد آیت کی یہ ہوگی کہ شہر مکہ خود بھی محترم اور مقدس ہے خصوصاً جبکہ آپ بھی اس شہر میں رہتے ہیں تو مکین کی فضیلت سے بھی مکان کی فضیلت بڑھ جاتی ہے اسلئے شہر کی عظمت و حرمت آپ کے اس میں مقیم ہونے سے دوہری ہوگئی۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ لفظ حل مصدر حلت سے مشتق ہو جس کے معنے کسی چیز کے حلال ہونے کے ہیں، اس اعتبار سے لفظ حل کے دو معنے ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ آپ کو کفار مکہ نے حلال سمجھ رکھا ہے کہ آپ کے قتل کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

حضرت ابراہیم اور ان کی ذریت کی شہادت: جملہ معترضہ کے بعد یہ ٹکڑا قسم سے متعلق اور اس کی تکمیل ہے۔ سرزمین مکہ کی قسم کے بعد اس میں بسنے والے باپ اور اس کی ذریت کی قسم ہے۔ ’وَالِدٍ‘ سے مراد ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام اور ’وَمَا وَلَدَ‘ سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ذریت ہے جو سرزمین مکہ میں آباد ہوئی اور پھر تمام عرب میں پھیلی۔ لفظ ’وَالِدٍ‘ کی تنکیر تفخیم شان کے لیے بھی ہو سکتی ہے اور اس کا یہ فائدہ بھی ہے کہ اس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی مراد لیے جا سکتے ہیں اور حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی۔ اسی طرح ’وَمَا وَلَدَ‘ میں جو تعمیم ہے وہ تمام بنی اسماعیل پر حاوی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

3۔ 1 بعض نے اس سے مراد حضرت آدم ؑ اور ان کی اولاد لی ہے اور بعض کے نزدیک یہ عام ہے، ہر باپ اور اس کی اولاد اس میں شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

2: وَوَالِدٍ وَّمَا وَلَدَ : والد سے مراد حضرت آدم ہیں اور چونکہ تمام انسان انہیں کی اولاد ہیں، اس لئے اس آیت میں تمام نوع انسانی کی قسم کھائی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–3

لا اقسم .................................... فی کبد شہر سے مراد مکہ ہے ، جہاں بیت الحرام واقع ہے ، یہ پہلا وہ گھر ہے ، جو صرف اللہ کی عبادت کے لئے اس زمین پر بنایا گیا ہے ، تاکہ یہاں لوگ آزادی سے آجاسکیں اور امن سے رہ سکیں۔ جہاں آکر ، یہ اسلحہ پھینک دیں ، اپنے ذاتی جھگڑے ایک طرف رکھ دیں ، عداوتوں کو بھلادیں اور اس میں نہایت امن سے ملیں۔ جہاں کسی کا کسی پر اسلحہ اٹھانا حرام ہو ، انسان میں نہیں بلکہ یہاں کے پرندوں اور درختوں کو چھیڑنا اور نقصان پہنچانا بھی حرام ہو۔ پھر یہ شہر ابراہیم (علیہ السلام) کا گھر ہے ، جو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے والد محترم ہیں اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) عربوں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 3{ وَوَالِدٍ وَّمَا وَلَدَ۔ } ”اور قسم ہے والد کی اور اولاد کی۔“ اس قسم میں اس مشقت اور ذمہ داری کی طرف اشارہ ہے جو ایک والد کو اپنی اولاد کی پرورش اور تربیت وغیرہ کے حوالے سے برداشت کرنی پڑتی ہے۔ اب اگلی آیت میں اس حقیقت یعنی مقسم علیہ کا ذکر ہے جس پر یہ قسمیں کھائی جا رہی ہیں :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 3–4

3 فی کبد کا مفہوم :۔ تیسری قسم آدم اور تمام اولاد آدم یعنی تمام نوع انسان کی زندگی کو شاہد بنا کر اٹھائی گئی ہے۔ اور تینوں قسمیں اس بات پر اٹھائی گئیں کہ انسان کی تخلیق ہی اس انداز پر ہوئی ہے کہ وہ ساری عمر سختیاں جھیلتا رہے۔ دکھ اور رنج سہتا رہے۔ یہ رنج اور مصیبتیں خواہ قدرتی ہوں یا دوسروں نے اسے پہنچائی ہوں یا اپنی ہی وجہ سے اسے پہنچ رہی ہوں۔ کبد کا معنی جگر ہے جو مشہور عضو انسانی ہے۔ اور اس لفظ میں سختی اور قوت کا مفہوم پایا جاتا ہے اور فی کبد محاورۃً استعمال ہوتا ہے اور یہ انسانی فطرت کا اظہار کرتا ہے۔ انسان کے دل میں ایک خواہش پیدا ہوتی ہے۔ جسے پورا کرنے کے لیے کئی طرح کے رنج و الم سہتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ (آیت) ” والد “۔ سے مراد ہر باپ بھی ہوسکتا ہے، اور سب کے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) بھی، اسی طرح (آیت) ” ما ولد “ سے مراد فردا فردا ہر بیٹا بھی ہوسکتا ہے، اور پوری نسل آدم بھی، وقال مجاھد وابو صالح وقتادۃ والضحاک وسفیان الثوری و سعید بن جبیر والسدی والحسن البصری وخصیف وشرجیل بن سعد وغیرھم یعنی بالوالد ادم وما ولد ولدہ وھذا الذی ذھب الیہ مجاھد و اصحابہ (ابن کثیر) واختار ابن جریر انہ عام فی کل والد وولدہ وھو محتمل ایضا (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–3

وانت حل بھذا البلد اس فقرہ کے تین معنی مفسرین نے بیان کئے ہیں، ایک یہ کہ آپ ﷺ اس شہر میں مقیم ہیں، اس وقت یہ حلول سے مشتق ہوگا جس کے معنی حلول کرنے، اترنے اور فروکش ہونے کے ہیں یوں تو شہر مکہ خود بھی محترم اور مکرم ہے مگر آپ ﷺ کے اس میں مقیم ہونے کی وجہ سے اس کی عظمت میں اور اضافہ ہوگیا ہے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ لفظ حل مصدر ہے جو حلت سے مشتق ہے جس کے منی کسی چیز کے حلال ہونے کے ہیں اس اعتبار سے لفل حل کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ کفار مکہ نے آپ ﷺ کو حلال سمجھ رکھا ہے کہ آپ ﷺ کے قتل کے درپے ہیں حالانکہ وہ خود بھی شہر مکہ میں کسی شکار تک کو بھی حلال نہیں سمجھتے مگر ان کا ظلم اور سرکشی اس حد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ووالد . بَلَدٍ پر عطف ہے۔ والد سے مراد ہیں حضرت آدم (علیہ السلام) یا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یا ہر والد ‘ کوئی ہو۔ وما ولد . اس سے مراد ہے کُل بنی آدم یا حضرت ابراہیم کی نسل کے پیغمبر یا رسول اللہ ﷺ ۔ لفظ مَا تنکیر پر دلالت کر رہا ہے اور تنکیر اظہار عظمت کے لیے ہے۔ مَنْ (جس شخص) کی جگہ ما (جس چیز) کا استعمال تعجب کے طور پر ہے جیسے : وَ اللہ ُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ میں (مَنْ کی بجائے) مَا ذکر کیا گیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–4

(لا اقسم بھذا البلد…:) قسم سے پہلے ”لا“ (نہیں) فرما کر ان لوگوں کی بات کی نفی کی گئی ہے جو قسم کے بعد آنے والی بات کا اناکر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چند قسموں کے بعد فرمایا : یقینا ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے، اگر وہ سمجھے کہ میں دنیا میں عیش و آرام کے لئے آیا ہوں تو اس کا خیال غلط ہے۔ اس حقیقت کا یقین دلانے کیلئے پہلی قسم شہر مکہ کی کھائی، جو اس دعوے کی دلیل بھی ہے، کیونکہ اس شہر کی آبادی کی ابتدائ، اسماعیل ؑ اور ان کی والدہ کی زندگی، ان کے بعد کی تاریح، خصوصاً اس شہر میں رہتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی زندگی، آپ کی یتیمی اور بےسروسامانی، نبوت کی ذمہ داری کے بعد اپنی ہی قوم کا جان لینے کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ووالدوماولد۔ مجاہد، قتادہ اور ضحاک، حسن بصری اور ابوصالح نے کہا، ووالد سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور وما ولد سے مراد جوان کی اولاد ہوئی ان کی قسم اٹھائی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر جو کچھ پیدا کیا ہے اس میں سے سب سے عجیب ہے کیونکہ اس انسان میں بولنے، بیان کرنے اور تدبیر کی صلاحیت موجود ہے، ان میں انبیاء اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے ہیں، ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی صالح اولاد کی قسم ہے گویا غیرصالح لوگ چوپائے ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے والد سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ماولد سے مراد آپ کی ذریت ہے یہ ابوعمران جو لانی کا قول ہے پھر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

21۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابو عمران جونی (رح) سے آیت آیت ووالد وما ولد کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے ابراہیم (علیہ السلام) اور اس کی اولاد۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَوَالِدٍ : اور قسم ہے جننے والے کی ][ وَمَا وَلَدَ : اور اس کی جو اس نے جنا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہ نے شہر مکہ مکرمہ کی اور انسان کے والد یعنی آدم (علیہ السلام) کی اور ان کی ذریت کی قسم کھا کر یہ فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے، درمیان میں بطور جملہ معترضہ ﴿ وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ002 ﴾ بھی فرمایا جس وقت یہ سورت نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ مکہ معظمہ میں ہی تھے، وہاں مشرکین سے تکلیفیں پہنچتی رہتی تھیں۔ مکہ معظمہ حرم ہے اس میں قتل و قتال ممنوع ہے مشرکین مکہ بھی اس بات کو جانتے اور مانتے تھے، لیکن اللہ جل شانہ نے اول تو اس کی قسم کھا کر اس کی عزت کو بیان فرما دیا اور ساتھ ہی رسول اللہ ﷺ کو یہ پیشگی خبر دے دی کہ ایک دن آنے والا ہے جب آپ اس میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–20

انقسام عمل درخیر وشر مع بیان عظمت مہبط وحی و سرچشمہ ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بھذا البلد ........ الی .......... نار مؤصدۃ “۔ (ربط) سورة الفجر میں پانچ اہم اور عظیم امور کی قسم کھا کر ہر صاحب عقل اور فہم کو اس امر کی دعوت دی گئی تھی کہ وہ عقل اور فطرت کی روشنی میں خداوند عالم کی عظمت وقدرت کو پہچانے اس کی خالقیت و ربوبیت پر ایمان لائے یہی چیز انسان کو فلاح وسعادت کے مقام تک پہنچانے والی ہے، اور جو قومیں عقل و فطرت کی ان صلاحیتوں کو ضائع کرکے سرکشی اور نافرمانی پر ڈٹی رہیں جیسے قوم عاد وثمود اور فرعون تا ریخ میں ان کا عبرت ناک انجام بھی دنیا کے سامنے آچکا تو اس سورت میں سرزمین…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–3

2:۔ ” لا اقسم “ لا زائدہ ہے برائے تاکید قسم۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ” البلد “ سے مکہ مکرمہ مراد ہے۔ ” انت حل “ کے معنی ہیں کہ تو مکہ میں داخل ہونے والا ہوگا یا مطلب یہ ہے کہ تو صاحب حلت ہوگا یعنی آپ کیلئے مکہ مکرمہ میں قتل و قتال حلال ہوگا۔ وی ومن المکابدۃ ان مثلک عظیم حرمتک یستحل بھذا البلد یعنی مکۃ کما یستحل الصید فی غیر الحرم (مدارک) ۔ یہ مشقت اس پر شاہد ہے کہ مشقت میں ڈالنا ہمارے اختیار میں ہے۔ اس میں آنحضرت ﷺ کو مکہ مکرمہ پر غلبہ دینے کی طرف اشارہ ہے۔ ” ووالد و ما ولد “ ماں جب بچے کو جنم دیتی ہے تو اس کو جو تکلیف اور مشقت اٹھانا پڑتی ہے یہ بھی شاہد ہے کہ مشقت میں ڈالنا ہمارے ہاتھ میں ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–10

شہر مکہ ابتدائے سورة میں دو چیزوں کی قسم کھا کر بات سمجھائی گئی ہے پہلی قسم بلد یعنی شہر مکہ کی ہے اور دوسری والدوما ولد یعنی والد اور مولود کی چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ لا اقسم بھذا البلد یہاں لفظ لاتاکید کے لئے ہے۔ یعنی میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی وانت حل بھذا البلد اور آپ اترے ہوئے ہیں اس شہر میں حل ، حلول سے ہے۔ اور اس کا معنی اترنا ہے۔ مراد شہر مکہ مکرمہ ہے۔ جو کہ بلدہ طیبہ ، بلد الحرام اور عزت والا شہر ہے۔ قرآن پاک میں بلدہ طیبہ کا ذکر کئی مقامات پر آیا ہے۔ اس کی بڑی اہمیت ہے۔ کیونکہ اس میں بیت اللہ شریف واقع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شہر کو مرکز ہدایت اور حرمت والا شہر قرار دیا ہے اور اس کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَوَالِدٍ وَّمَا وَلَدَ۝ 3 ۙ ولد الوَلَدُ : المَوْلُودُ. يقال للواحد والجمع والصّغير والکبير . قال اللہ تعالی: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11] ، ( و ل د ) الولد ۔ جو جنا گیا ہو یہ لفظ واحد جمع مذکر مونث چھوٹے بڑے سب پر بولاجاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11] اور اگر اولاد نہ ہو ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–4

ترکیب ¦ لا قدمر الکلام فیھا فقیل زائدۃ وقیل لالنفی کلام الکفار وقیل لنفی القسم بظھور الامر ای لاحاجۃ الی القسم بھذہ الاشیاء والمراد بالبلد عند جمھور المفسرین مکتہ والبلدیذکر و یؤنث والجمع بلدان والبلدۃ بالفتح جمعھا بلاد بالکسر وانت حل الخ قال الواحدی الحل والحلال والمحل واحد وھو ضدالحرم ای فاحل اللہ لنبیہ ﷺ القتال فی مکۃ وقد انجز اللہ تعالیٰ وعدہ یوم الفتح فالجملۃ معترضۃ بین المقسم بہ وما وعطف علیہ وقیل معناہ حال ای اقسم بھذا البلد وانت مقیم فیہ تشریفاً لک وتعظیما لقدرک اولا اقسم بھذا البلد حال کو نک مقیما فیہ بل اقسم بک فعلی ھذا الجملۃ منصوبۃ محلاً والدوما ولد معطوف علی البلد وما بمعنی من…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَوَالِدٍ وَّمَا وَلَدَ ۔ (البلد : 3) (اور قسم ہے باپ کی اور اس کی ذُرِّیت کی۔ ) جوابِ قسم میں چونکہ انسان کا لفظ استعمال ہوا ہے اس لحاظ سے یہ قرینہ ہے اس بات پر کہ یہاں والد سے مراد آدم (علیہ السلام) ہیں۔ اور مَاوَلَدَ سے مراد وہ تمام انسان ہیں جو نسل آدم سے پیدا ہوئے۔ جو اس سے پہلے دنیا میں موجود تھے، آج موجود ہیں اور قیامت تک پائے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–7

فہم القرآن ربط کلام : مکہ شہر کی قسم اٹھانے کے بعد باپ اور اس کی اولاد کی قسم اٹھا کر ہر انسان کو ایک حقیقت بتلائی گئی ہے۔ مکہ کی قسم اٹھا کر بین السطور آپ ﷺ کو آپ کی دعوت کی کامیابی کی خبر دی گئی ہے، اس کے بعد فرمایا کہ مجھے باپ اور اس کی اولاد کی قسم ! ہم نے انسان کو مشقت جھیلنے کے لیے پیدا کیا ہے لیکن انسان سمجھتا ہے کہ کوئی اس پر قابو نہیں پاسکے گا۔ باپ اور اولاد سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی پوری اولاد ہے۔ کچھ اہل علم نے باپ سے مراد ابراہیم (علیہ السلام) اور اولاد سے مراد بنی اسماعیل (علیہ السلام) لیے ہیں۔ لیکن مناسب یہ ہے کہ باپ سے مراد آدم (علیہ السلام) لیے جائیں اور اولاد…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

3 : وَوَالِدٍ وَّمَا وَلَدَ (اور قسم ہے باپ کی اور اولاد کی) اس سے مراد آدم (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے۔ نمبر 2۔ ہر والد و مولود نمبر 3۔ ابراہیم اور ان کے بیٹے۔ نحو : مامَنؔ یا الذی کے معنی میں ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ شروع سورة میں جس بات پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے وہ یہی بات ہے جو ان آیتوں میں آگے فرمائی۔ تجھ کو قید نہ رہے گی کا مطلب یہ ہے کہ مکہ میں جو قید ہے کہ وہاں لڑائی منع ہے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اے نبی اللہ کے تم کو تھوڑی دیر کے لئے وہاں لڑائی حلال ہوجائے گی ہجرت سے پہلے اس مکی سورة میں اللہ کا یہ ایک وعدہ تھا جس کو فتح مکہ کے وقت اللہ تعالیٰ نے پورا کیا۔ چناچہ صحیح 3 ؎ بخاری و مسلم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تھوڑی دیر کے لئے کو مجھ کو مکہ میں لڑنا حلال کردیا تھا اس کے بعد مکہ میں بدستور لڑائی کی ممانعت ہے اب جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَوَالِدٍ وَّمَا وَلَدَ ) یعنی آدم اور ان کی اولاد کی قسم، اور جن چیز پر قسم کھائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 2–3

(3) وانت حل بھذا البلد کا معنی و مطلب ؟ سو قسم کے بیچ میں جملہ معترضہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا وانت حل بھذا البلد، یعنی " درآنحالیکہ آپ اس میں تشریف فرما ہیں "، کہ مکین کی عظمت و فضیلت سے مکان کی عظمت و فضیلت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ پھر ایسے مکین بےمثل کے تو کہنے ہی کیا جس کی کوئی نظیر اور مثال چشم فلک نے پوری بنی نوع انسان میں نہ اس سے پہلے کبھی دیکھی اور نہ آئندہ کبھی دیکھ سکے گا۔ اور یہ معنی و مطلب اس لفظ کا اس صورت میں ہوگا جب کہ اس کو حلول سے مشتق و ماخوذ مانا جائے جس کے معنی کسی جگہ میں اترنے رہنے اور سمانے وغیرہ کے آتے ہیں۔ اور لفظ " حل " اسی سے ماخوذ ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ بعض حضرات نے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–20

مکہ شہر اور آدم (علیہ السلام) کی قسم انسان کے بڑے فرائض ہیں تشریح : شروع میں نہیں کا لفظ اس لیے آیا کہ کفار مکہ جو آخرت سے انکار کر رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو جھٹلا رہے ہیں تو ان کو خوب اچھی طرح علم ہونا چاہیے کہ انسان کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کو بہت سی ذمہ داریاں دیکر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے یعنی یہ زندگی پوری کی پوری امتحانی دور پر مبنی ہے اور اس بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ حرمت والے شہر اور اشرف المخلوقات آدم (علیہ السلام) و اولاد آدم یعنی انسان جو کہ نائب اللہ بھی ہے۔ کی قسم کھا کر یہ بات بتا رہے ہیں۔ قسم ایسی ہی چیز کی کھائی جاتی ہے جو عام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–20

سورة البلد۔ آیات 1 تا 20۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے اس شہر عظیم کی یعنی اس شہر کا تقدس جو بنائے کعبہ کے باعث تھا اور کفار ومشرکین بھی اس کی عظمت کے قائل تھے جو آپ کے یہاں تشریف فرما ہونے سے دو بالا ہوگیا اس کی ساری عظمت بھی تو اللہ کی عظمت پہ گواہ ہے مفسرین نے اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ حرمت والاشہر عنقریب آپ کے لیے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کو حلال کردیاجائے گا گویا فتح مکہ کی خوش خبری بھی ہے اور خود آدم (علیہ السلام) اور ان کی ساری اولاد ، تمام انسانوں کی پیدائش سے موت تک کی زندگی ، اس بات پر گواہ ہے کہ انسان تخلیقی طور پر محنت ومشقت کرنے پر مجبور ہے اس کی زندگی کا کوئی لمحہ مشقت سے خالی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 12 اللہ تعالیٰ نے پہلے مکہ معظمہ کی قسم کھائی اور آگے بھی ” والد وما ولد “ کی قسم آرہی ہے۔ آرہی ہے۔ درمیان میں بطور جملہ معترضہ نبی ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک دن آپ اس شہر میں آزاد ہوں گے یعنی آپ کے لئے اس میں لڑنا اور کافروں کو قتل کرنا جائز ہوگا حالانکہ یہ حرم ہے اور کسی کے لئے اس میں لڑنا جائز نہیں ہے۔ یہ فتح مکہ کی پیشین گوئی ہے جو 8 میں پوری ہوئی۔ “ مکہ معظمہ کے متعلق نبی ﷺ کا ارشاد ہے :” اس میں لڑنا مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں ہوا اور نہ میرے بعد کسی کے لئے حلال ہوگا۔ اور میرے لئے بھی صرف ایک گھڑی یعنی عصر سے مغرب تک کے لئے حلال کیا گیا ہے (پھر اپنی حرمت کی طرف پلٹ آیا) “…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(90:3) ووالد وما ولد : واؤ عاطفہ ہے۔ والد کا عطف بلد پر ہے والد سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں یا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ۔ یا ہر والد (کوئی ہو) ۔ والد ولادۃ سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ۔ باپ۔ وما ولد : واؤ عاطفہ ہے اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے ما کا لفظ تنکیر پر دلالت کر رہا ہے اور تنکیر اظہار عظمت کے لئے ہے من کی جگہ ما استعمال تعجب کے لئے ہے جیسے واللہ اعلم بما وضعت (3:36) میں من کی بجائے ما کا ذکر کیا گیا ہے۔ ولد ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ ولادۃ (باب ضرب) مصدر سے (جس کا) وہ باپ ہوا۔ ماولد بمعنی اولاد مراد اس سے کل اولاد آدم ۔ یا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل کے پیغمبر یا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–20

لغات القرآن۔ ھذا البلد۔ یہ شہر۔ (مکہ مکرمہ) ۔ حل۔ حلال ہے۔ کبد۔ مشقت۔ مصیبت۔ اھلکت۔ میں نے خرچ کیا ہے۔ مالا لبدا۔ ڈھیروں مال۔ عینین۔ دو آنکھیں۔ شفتین۔ دو ہونت۔ النجدین۔ دو راستے۔ اقتحم۔ وہ داخل ہوگیا۔ العقبۃ۔ گھاٹی۔ فک رقبۃ۔ گردن چھڑانا۔ (غلاموں کو آزاد کرنا) ۔ ذی مسغبۃ۔ بھوکا۔ بھوک والا۔ ذا مقربۃ۔ رشتہ دار۔ ذامتربۃ۔ جو خاک میں مل جانے والا ہے۔ نارموصدۃ۔ آگ جو اوپر سے بند کی گئی ہے۔ تشریح : سورت بلند کا مفہوم اور خلاصہ یہ ہے۔ اس سورت میں اللہ نے ” بلد “ یعنی مکہ مکرمہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو اس شہر میں قتال کرنا حلال ہونیوالا ہے۔ باپ اور اولاد یعنی حضرت آدم (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 2) اور قسم ہے آدم (علیہ السلام) اور ان کی ذریت کی چونکہ آپ اولاد آدم (علیہ السلام) ہوئے اس لیے اولاد آدم اور خود آدم (علیہ السلام) کی عظمت ہوئی محبوب کے تمام جنس محبوب ہوتے ہیں (تفسیر حقانی) ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(3) اور قسم کھاتا ہوں باپ کی اور اس کی جو باپ سے پیدا ہوا - یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) اور اولاد آدم (علیہ السلام) کی قسم کھاتا ہوں، بعض نے والد سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مراد لئے ہیں۔ اور ماولد سے مراد ذریت آدم (علیہ السلام) یا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مراد ہیں، بعض کا قول ہے والد سے مراد حضرت محمد ﷺ اور ماولد سے آپ کی امت مراد ہے۔ واللہ اعلم۔ قول راجح پہلا قول ہے آگے قسم کا جواب ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ ساری اولاد کے باپ آدم (علیہ السلام) ہیں، پس آدم (علیہ السلام) اور نبی آدم سب کی قسم ہوئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قسم ہے باپ اور بیٹے دونوں کے رب کی 3 ؎ ( والد) سے کیا مراد ہے اور ( ما ولد) سے کیا ؟ کہا گیا ہے کہ اس سے مراد آدم (علیہ السلام) اور آپ کی ساری ذریت کو ( ما ولد) میں داخل کر کے ان کو بطور شہادت قسمیہ انداز میں پیش کیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ( والد) سے مراد ابراہیم (علیہ السلام) ہیں اور ( ما ولد) سے مراد سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی اولاد درد اولاد مراد ہے اور ہمارے خیال میں ہر اس شخص کا ذکر ہے جس پر ( والد) اور ( ما ولد) کا اطلاق ہوتا ہے خواہ وہ اس وقت کے ( والد) اور ( ما ولد) لیے جائیں یا اس وقت کے اور خواہ آنے والے زمانہ کے سب کو اس شہادت پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے کہ اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَوَالِدٍ وَمَا وَلَدَ (and by the father and that which he begot,...90:3) The word walid refers to Holy Prophet 'Adam (علیہ السلام) the father of mankind, and the phrase مَا وَلَدَ 'that which he begot' refers to his children from the inception of the world to the end of the world. Thus this phrase swears an oath by Holy Prophet 'Adam (علیہ السلام) and all his children. The subject of the oath follows next, thus:

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

4 As the words "father and children he begot" have been used indefinitely, and this is followed by the mention of man, father could only imply Adam (peace be on him) and children the human beings who existed in the world, exist today and will exist in the future.

Read the full tafseer →