Ayahs 90:1–2اللہ تبارک وتعالی نے قسم کھائی ہے ( بِهٰذَا الْبَلَدِ ) اس امن والے شہر مکہ کی، جو علی الاطلاق تمام شہروں پر فضیلت رکھتا ہے خاص طور پر اس وقت جب رسول اللہ اس شہر میں رہ رہے تھے۔
Ayah 90:3(وَوَالِدٍ وَّمَا وَلَدَ ) یعنی آدم اور ان کی اولاد کی قسم، اور جن چیز پر قسم کھائی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے۔
Ayahs 90:4–5(لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْ كَبَدٍ ) بیشک ہم نے انسان کو تکلیف میں پیدا کیا ہے۔ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس سے مراد وہ سختیاں اور مشقتیں ہیں جو انسان دنیا کے اندر برداشت کرتا ہے اور جو برزخ میں اور قیامت کے دن برداشت کرے گا انسان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ ایسے اعمال کے لیے کوشاں رہے جو اسے اس شدائد سے نجات دلا کر راحت، اس کے لیے دائمی فرحت اور سروکار کا موجب بنیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو ابدا الآباد تک سخت عذاب کی مشقت بردازشت کرتار ہے گا۔
اس میں یہ احتمال بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے یہ معنی ہوں کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور خوب درست تخلیق کے ساتھ پیدا جو سخت اعمال پر تصرف کی قدرت رکھتا ہے۔ بایں ہمہ اس نے اس عظیم نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کیا بلکہ وہ عافیت پر (جو اللہ تعالیٰ نے اس کو عطا کی) اتراتار ہا۔ اپنے خالق کے سامنے تکبر کا اظہار کرتا رہا اور اپنی جہالت اور ظلم کی بنا پر یہ سمجھتا رہا کہ اس کا یہ حال ہمیشہ باقی رہے گا اور اس کے تصرف کی طاقت کبھی ختم نہیں ہوگی اس لیے فرمایا (اَيَحْسَبُ اَنْ لَّنْ يَّقْدِرَ عَلَيْهِ اَحَدٌ) کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہیں پائے گا، وہ سرکشی کرتا ہے اور اس نے شہوات میں جو مال خرچ کیا اس پر فخر کرتا ہے۔
Ayahs 90:6–7(يَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًا) کہتا ہے میں نے بہت سامال برباد کیا ہے۔ یعنی بہت زیادہ مال، ایک دوسرے کے اوپر چڑھا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شہوات اور معاصی میں مال خرچ کرنے کو ہلاک کرنے سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس راستے میں مال خرچ کرنے والا اپنے خرچ کیے ہوئے مال سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اور اس کو اپنے مال خرچ کرنے سے ندامت، خسارے، تکان اور قلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اس شخص کے مانند نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا ہے۔ کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کی اور جو کچھ اس نے خرچ کیا اس سے کئی گنا نفع اٹھایا اللہ تبارک وتعالی نے اس شخص کو جو اپنی شہوات میں مال خرچ کرکے فخر کرتا ہے۔ وعید سناتے ہوتے ہوئے فرمایا (اَيَحْسَبُ اَنْ لَّمْ يَرَهٗٓ اَحَدٌ) یعنی وہ اپنے اس فعل کے بارے میں سمجھتا ہے کہ اللہ اس کو دیکھتا ہے نہ وہ چھوٹے بڑے اعمال کا اس سے حساب ہی لے گا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعمال کو دیکھا ان کو اس کے لیے محفوط کرلیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے ہر اچھے برے عمل پر کراما کاتبین مقرر کردیے۔
Ayahs 90:8–10پھر اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کراتے ہوئے فرمایا (اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَيْنَيْنِ ۔ وَلِسَانًا وَّشَفَتَيْنِ ) کیا ہم نے اسے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے ؟ یعنی یہ چیزیں حسن و جمال، دیکھنے، بولنے اور دیگر ضروری فوائد کے لیے عطا کیں یہ تو دنیا کی نعمتیں پھر دین کی نعمتوں کے بارے میں فرمایا (وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ ) یعنی ہم نے اسے خیر وشر کے راستے دکھائے اور اس کے سامنے ہدایت اور گمراہی کو واضح کردیا پس یہ بےپایاں احسانات ہیں جو بندے سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو قائم کرے اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے اور ان نعمتوں سے اس کی نافرمانیوں میں مدد نہ لے مگر اس انسان نے ان تقاضوں کو پورا نہ کیا۔
Ayah 90:11(فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ ) یعنی وہ گھاٹی میں داخل ہوا نہ اس کو عبور کیا۔ کیونکہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا ہے اور یہ گھاٹی اس کے لیے بہت سخت ہے۔
Ayahs 90:12–13پھر گھاتی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا ( وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُ ۔ فَكُّ رَقَبَةٍ 13ۙ ) اور آپ کو کیا معلوم، گھاٹی کیا ہے ؟ کسی گردن کا چھڑانا۔ یعنی کسی غلام کو غلامی سے آزاد کرنا، یا مکاتبت کی رقم ادائیگی میں مکاتب کی مدد کرنا۔ اور افضل یہ ہے کہ اس مسلمان قیدی کو چھڑایا جائے جو کفار کی قید میں ہے۔
Ayahs 90:14–15(اَوْ اِطْعٰمٌ فِيْ يَوْمٍ ذِيْ مَسْغَبَةٍ ) یا سخت بھوک کے دن، سخت حاجت کے وقت ان لوگوں کو کھانا کھلانا جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں۔ (يَّـتِيْمًـا ذَا مَقْرَبَةٍ ) یتیم رشتے دارکو۔ اس کا یتیم ہونا، محتاج اور رشتے دار ہونا۔ یہ سب امور اس میں یکجا ہیں۔
Ayah 90:16(اَوْ مِسْكِيْنًا ذَا مَتْرَبَةٍ ) یا مسکین خاکسار کو۔ یعنی جو سخت حاجت اور ضرورت کی بنا پر مٹی سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔
Ayah 90:17(ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا) پھر ان لوگوں کو (داخل) ہوا جو ایمان لائے۔ یعنی وہ ان چیزوں پر اپنے دل سے ایمان لائے جن پر ایمان لانا واجب ہے اور نیک عمل کیے اس میں ہر واجب یا مستحب قول وفعل داخل ہے۔ (وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ) اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے، اس کی نافرمانی سے رک جانے اور تکلیف دہ تقدیر پر صبر کرنے کی ایک دوسرے کو تلقین کرتے رہے یعنی وہ ایک دوسرے کو ترغیب دیتے تھے کہ ان احکامات کی اطاعت کی جائے اور ان پر کامل طور پر انشراح صدر اور اطمینان نفس کے ساتھ عمل کیا جائے۔ (وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ ) اور ایک دوسرے کو مخلوق پر رحم کرنے کی وصیت کرتے رہے۔ یعنی محتاجوں کو عطا کرنے اپنے جاہلوں کو تعلیم دینے ان کے ان معاملات کا ہر لحاظ سے انتظام کرنے جن کے وہ ضرورت مند ہیں ان کے دینی اور دنیاوی مصالح میں ان کی مدد کرنے کے لیے ایک دوسرے کو وصیت کرتے رہے کہ وہ ان کے لیے وہی چیز پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں اور جو چیز اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں ان کے لیے بھی ناپسند کریں، یہی لوگ ہیں جو ان اوصاف پر قائم رہے اور یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے گھاٹی سے گزرنے کی توفیق عطا کی۔
Ayah 90:18(اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ ) یہی لوگ صاحب سعادت ہیں۔ کیونکہ انہوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کردیا اور جن کو ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور ان امور کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا تھا اور یہ سعادت کا عنوان اور اس کی علامت ہے۔
Ayahs 90:19–20(وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا) جنہوں نے ان مذکورہ امور کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر ہماری آیتوں سے کفر کیا، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی تصدیق کی نہ وہ اس پر ایمان لائے، نہ نیک عمل کیے اور نہ اللہ کے بندوں پر رحم ہی کیا۔ ( هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْــَٔــمَةِ ۔ عَلَيْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ) وہ بدبخت ہیں۔ یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے یعنی وہ آگ بڑے بڑے ستونوں میں بند کی گئی ہوگی اور جو اس آگ کے پیچھے کھڑے کیے گئے ہوں گے تاکہ جہنم کے دروازے کھل نہ سکیں۔ اور (یہ مجرمین) تنگی اور سختی میں مبتلا رہیں۔