Al-Balad 90:2

Al-Balad · from ayah 2

90:2

وَاَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ ۟ۙوَاَنۡتَ حِلٌّ ۢ بِهٰذَا الۡبَلَدِۙ

اور تم اسی شہر میں تو رہتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And you, [O Muhammad], are free of restriction in this city -

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Balad

All translations of 90:2

اور حال یہ ہے کہ (اے نبیؐ) اِس شہر میں تم کو حلال کر لیا گیا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم اسی شہر میں تو رہتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور آپ اس شہر میں مقیم ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جبکہ (اے پیغمبر) تم اس شہر میں مقیم ہو

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہ اے محبوب! تم اس شہر میں تشریف فرما ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے حبیبِ مکرّم!) اس لئے کہ آپ اس شہر میں تشریف فرما ہیں٭، ٭ یہ ترجمہ ”لا زائدہ“ کے اعتبار سے ہے۔ لا ”نفئ صحیح“ کے لئے ہو تو ترجمہ یوں ہوگا: میں (اس وقت) اس شہر کی قَسم نہیں کھاؤں گا (اے حبیب!) جب آپ اس شہر سے رخصت ہو جائیں گے۔

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تو اس شہر میں رہنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آپ اس شہر کو حلال بنانے والے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تم اسی میں مقیم ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

درآنحالیکہ آپ اس میں تشریف فرما ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ کو اس شہر میں لڑائی حلال ہونے والی ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اے نبی ﷺ !) آپ حلال کرلیے گئے ہیں اس شہر میں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور آپ اس شہر کو حلال کرنے والے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

– this city wherein you have been rendered violable–

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

__and (O Prophet,) you are going to be allowed (to fight) in this city__

— Muhammad Taqi Usmani

__and (O Prophet,) you are going to be allowed (to fight) in this city__

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And you are free in this city.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And thou art an indweller of this city -

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And you, [O Muhammad], are free of restriction in this city -

— Saheeh International

in which you are now living

— Muhammad Sarwar

And you shall be made free from obligation in this city--

— Muhammad Habib Shakir

And thou shalt be allowed in yonder city -

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 90:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–10

مکہ مکرمہ کی قسم : اللہ تبارک وتعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں لا سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہوگا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہوگا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہکاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَلَد 3 اصل الفاظ ہیں " أَنْتَ حِلٌّ بِهَـٰذَا الْبَلَدِ " اسکے تین معنی مفسرین نے بیان کیے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ اس شہر میں مقیم ہیں اور آپ کے مقیم ہونے سے اس کی عظمت میں اور اضافہ ہوگیا ہے۔ دوسرے یہ کہ اگرچہ یہ شہر حرم ہے مگر ایک وقت آئے گا جب کچھ دیر کے لیے یہاں جنگ کرنا اور دشمنان دین کو قتل کرنا آپ کے لیے حلال ہوجائے گا۔ تیسرے یہ کہ اس شہر میں جنگل کے جانوروں تک کو مارنا اور درختوں تک کو کاٹنا اہل عرب کے نزدیک حرام ہے اور ہر ایک کو یہاں امن میسر ہے، لیکن حال یہ ہوگیا ہے کہ اے نبی، تمہیں یہاں کوئی امن نصیب نہیں تمہیں ستانا اور تمہارے قتل کی تدبیریں کرنا حلال کرلیا گیا ہے۔ اگرچہ الفاظ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 2–3

وانت حل بھذا البلد لفظ حل میں دو احتمال میں ایک یہ کہ حلول سے مشتق ہو جس کے معنے کسی شئی کے اندر سمانے اور رہنے اور اترنے کے آتے ہیں، اس اعتبار سے حل کے معنے اترنے والے اور رہنے والے کے ہوں گے۔ اور مرد آیت کی یہ ہوگی کہ شہر مکہ خود بھی محترم اور مقدس ہے خصوصاً جبکہ آپ بھی اس شہر میں رہتے ہیں تو مکین کی فضیلت سے بھی مکان کی فضیلت بڑھ جاتی ہے اسلئے شہر کی عظمت و حرمت آپ کے اس میں مقیم ہونے سے دوہری ہوگئی۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ لفظ حل مصدر حلت سے مشتق ہو جس کے معنے کسی چیز کے حلال ہونے کے ہیں، اس اعتبار سے لفظ حل کے دو معنے ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ آپ کو کفار مکہ نے حلال سمجھ رکھا ہے کہ آپ کے قتل کے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ایک برمحل جملہ معترضہ: یہ جملہ قسم کے بیچ میں، بطور جملہ معترضہ، قسم کی تائید و تصویب کے طور پر ہے۔ ضمیر خطاب کے مخاطب آنحضرت ﷺ بھی ہو سکتے ہیں اور قریش بھی۔ دونوں ہی صورتوں میں اصل مدعا کے اعتبار سے کچھ زیادہ فرق نہیں ہو گا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کسی ایسے دوردراز علاقے کی شہادت نہیں پیش کی جا رہی ہے جس کے حالات کا اندازہ کرنے اور جس کی تاریخ کا علم حاصل کرنے کے لیے کوئی زحمت سفر اٹھانی پڑے بلکہ تم یہاں مقیم اور اس کے ماضی و حاضر سے اچھی طرح باخبر ہو۔ یہ تمہارا مامن و مستقر اور تمہارا محبوب وطن ہے۔ اس کی تاریخ تمہاری اپنی ہی تاریخ ہے۔ اس کے گرم و سرد اور خشک و تر دونوں سے تم گزرے ہوئے ہو۔ اچھی طرح…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2۔ 1 یہ اشارہ ہے اس وقت کی طرف جب مکہ فتح ہوا، اس وقت اللہ نے نبی ﷺ کے لئے اس شہر حرام میں قتال کو حلال فرما دیا تھا جب کہ اس میں لڑائی کی اجازت نہیں ہے چناچہ حدیث میں ہے، نبی ﷺ نے فرمایا اس شہر کو اللہ نے اس وقت سے حرمت والا بنایا ہے، جب سے اس نے آسمان و زمین پیدا کئے۔ پس یہ اللہ کی ٹھہرائی ہوئی حرمت سے قیامت تک حرام ہے، نہ اس کا درخت کاٹا جائے نہ اس کے کانٹے اکھیڑے جائیں، میرے لئے اسے صرف دن کی ایک ساعت کے لئے حلال کیا گیا تھا اور آج اس کی حرمت پھر اسی طرح لوٹ آئی ہے جیسے کل تھی۔ اگر کوئی یہاں قتال کے لئے دلیل میری لڑائی کو پیش کرے تو اس سے کہو کہ اللہ کے رسول کو تو اس کی اجازت اللہ نے دی…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–2

1: اس شہر سے مراد مکہ مکرمہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے خصوصی تقدس عطا فرمایا ہے اور اس میں حضور اقدس ﷺ مقیم ہونے کی بنا پر اس کے تقدس میں اور اضافہ ہوا ہے۔ کیونکہ آپ کی تشریف آوری کے لیے اس شہر کا انتخاب فرما کر اللہ تعالیٰ نے اس کی شان اور بڑھا دی ہے۔ اس جملے کی دو تفسیریں اور بھی ہیں جن کی تفصیل ”معارف القرآن“ میں ملاحظہ فرمائیں

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–3

لا اقسم .................................... فی کبد شہر سے مراد مکہ ہے ، جہاں بیت الحرام واقع ہے ، یہ پہلا وہ گھر ہے ، جو صرف اللہ کی عبادت کے لئے اس زمین پر بنایا گیا ہے ، تاکہ یہاں لوگ آزادی سے آجاسکیں اور امن سے رہ سکیں۔ جہاں آکر ، یہ اسلحہ پھینک دیں ، اپنے ذاتی جھگڑے ایک طرف رکھ دیں ، عداوتوں کو بھلادیں اور اس میں نہایت امن سے ملیں۔ جہاں کسی کا کسی پر اسلحہ اٹھانا حرام ہو ، انسان میں نہیں بلکہ یہاں کے پرندوں اور درختوں کو چھیڑنا اور نقصان پہنچانا بھی حرام ہو۔ پھر یہ شہر ابراہیم (علیہ السلام) کا گھر ہے ، جو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے والد محترم ہیں اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) عربوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 مکہ میں ہر شخص کو لڑائی کی ممانعت ہے مگر آنحضرت ﷺ کے لئے صرف فتح مکہ کے دن یہ ممانعت نہیں رہی تھی جو کوئی آپ ﷺ سے لڑا اس کو مارا۔ اور بعض سنگین مجرموں کو خاص کعبہ کی دیوار کے پاس قتل کیا گیا۔ پھر اس دن کے بعد سے وہی ممانعت قیامت تک کے لئے قائم ہوگئی۔ چونکہ اس آیت میں مکہ کی قسم کھا کر ان شدائد اور سختیوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے جن میں سے انسان کو گزرنا پڑتا ہے اور اس وقت دنیا کا بزرگ ترین انسان اسی شہر مکہ میں دشمنوں کی طرف سے زہرہ گداز سختیاں جھیل رہا تھا۔ اس لئے درمیان میں بطور جملہ، معترضہ " وانت حل بھذا البلد " فرما کر تسلی کردی کہ اگرچہ آج آپ ﷺ کا احترام اس شہر کے جاہلوں میں نہیں ہے۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 2{ وَاَنْتَ حِلٌّم بِہٰذَا الْبَلَدِ۔ } ”اور اے نبی ﷺ ! آپ حلال کرلیے گئے ہیں اس شہر میں۔“ کچھ مترجمین نے اس آیت کا ترجمہ یوں بھی کیا ہے کہ ”آپ کے لیے حلال ہوجائے گا یہ شہر“۔ یعنی اگرچہ یہ بلد الحرام ہے ‘ یہاں خونریزی وغیرہ کی اجازت نہیں ‘ لیکن ایک وقت آئے گا کہ آپ ﷺ کو اس کی اجازت مل جائے گی ‘ جیسے فتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ حضور ﷺ کے لیے حلال کردیا گیا اور اس دن لشکرکشی کے دوران مسلح تصادم کے اکا دکا واقعات بھی ہوئے۔ البتہ میرے نزدیک آیت کا اصل مدعا اور مفہوم وہی ہے جو میں نے ترجمے میں اختیار کیا ہے کہ اے نبی ﷺ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس بلد الحرام میں آپ ﷺ کی عزت پر حملے ہو رہے ہیں ‘ آپ ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 حل کا لغوی مفہوم :۔ حِلَّ : حَلَّ کا بنیادی معنی گرہ کھولنا اور اس کی ضد عَقَدَ یعنی گرہ لگانا ہے۔ ارباب حل و عقد، ارباب بست و کشاد مشہور الفاظ ہیں۔ اور سامان باندھنے اور کھولنے کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ مسافر سامان باندھ کر سفر پر جاتا ہے اور جہاں فروکش ہوتا ہے تو سامان کھول دیتا ہے۔ لہذا حل کا لفظ کسی جگہ اترنے، فروکش ہونے اور قیام پذیر ہونے کے لیے بھی استعمال ہونے لگا۔ علاوہ ازیں حلال کا لفظ حرام کے مقابلہ میں بھی آجاتا ہے۔ حرام ہر اس چیز کو کہتے ہیں جس سے سختی سے منع کیا جائے یعنی اس پر گرہ لگا دی جائے اور حلال اس گرہ کے کھولنے کو کہتے ہیں۔ اور حِلٌّ، حَلَّ سے اسم فاعل ہے۔ اسی وجہ سے حل کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–2

1۔ شہر سے مراد مکہ ہے، جہاں ان آیات کے نزول کے وقت رسول اللہ ﷺ مقیم تھے، (آیت) ” لااقسم “۔ اس ترکیب الفاظ پر حاشیہ پہلے گذر چکا، اقسام قرآنی کے لئے ملاحظہ ہوپ 14 کا ضمیمہ۔ (آیت) ” وانت ...... البلد “۔ یہ پیشگوئی بطور جملہ معترضہ کے ہے، اور آپ ﷺ کے رسول برحق ہونے پر خود ایک مستقل دلیل۔ مکہ کی اس مجبوری، محصوری مظلومی کی زندگی میں کوئی بشر خیال بھی نہیں کرسکتا تھا کہ آپ ﷺ بھی کبھی جہاد و قتال (اور وہ بھی فاتحانہ) کا اعلان کرسکیں گے۔ مسیحی مؤرخ سرولیم میور نے کہا ہے کہ سورت کا اصل موضوع یعنی خیروشر کے (2) دو را ہے کا اعلان، پیغمبر ﷺ کی ایماندارانہ جستجوئے حق کا ثبوت ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 2–3

وانت حل بھذا البلد اس فقرہ کے تین معنی مفسرین نے بیان کئے ہیں، ایک یہ کہ آپ ﷺ اس شہر میں مقیم ہیں، اس وقت یہ حلول سے مشتق ہوگا جس کے معنی حلول کرنے، اترنے اور فروکش ہونے کے ہیں یوں تو شہر مکہ خود بھی محترم اور مکرم ہے مگر آپ ﷺ کے اس میں مقیم ہونے کی وجہ سے اس کی عظمت میں اور اضافہ ہوگیا ہے۔ دوسرے معنی یہ ہیں کہ لفظ حل مصدر ہے جو حلت سے مشتق ہے جس کے منی کسی چیز کے حلال ہونے کے ہیں اس اعتبار سے لفل حل کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ کفار مکہ نے آپ ﷺ کو حلال سمجھ رکھا ہے کہ آپ ﷺ کے قتل کے درپے ہیں حالانکہ وہ خود بھی شہر مکہ میں کسی شکار تک کو بھی حلال نہیں سمجھتے مگر ان کا ظلم اور سرکشی اس حد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانت حل بھذا البلند . یہ جملہ گزشہ ھٰذا البلد سے حال ہے۔ اللہ نے مکہ کی قسم کھائی لیکن اس قید کے ساتھ کہ مکہ میں رسول اللہ ﷺ مقیم ہیں اس کی وجہ مکہ کی دوہری فضیلت کا اظہار ہے کہ ایک تو مکہ خود ہی فضیلت والا ہے (کہ اللہ نے اس کی قسم کھائی) دوسری فضیلت یہ کہ رسول اللہ ﷺ اس میں فروکش ہیں (اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کا مکہ میں فروکش ہونا مکہ کی ذاتی فضیلت کو بڑھا دیتا ہے) رسول اللہ ﷺ نے مکہ کو خطاب کر کے فرمایا تھا : تو کیسا پاکیزہ شہر ہے اور اللہ کو کس قدر پیارا ہے۔ اگر میری قوم والے مجھے تیرے اندر سے نہ نکالتے تو میں تیرے علاوہ کہیں نہ رہتا۔ (رواہ الترمذی عن ابن عباس ؓ و قال حدیث حسین صحیح…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–2

(21) میں قسم کھاتا ہوں اس شہر مکہ کی آپ کے لیے اس شہر میں لڑائی حلال ہونے والی ہے جو کہ آپ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھی، اور نہ آپ کے بعد ہوگی، یا یہ کہ آپ اس شہر میں نزول فرمانے والے ہیں، یا یہ مطلب ہے کہ آپ اس شہر میں جو کریں وہ آپ کے لیے حلال ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–4

(لا اقسم بھذا البلد…:) قسم سے پہلے ”لا“ (نہیں) فرما کر ان لوگوں کی بات کی نفی کی گئی ہے جو قسم کے بعد آنے والی بات کا اناکر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چند قسموں کے بعد فرمایا : یقینا ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے، اگر وہ سمجھے کہ میں دنیا میں عیش و آرام کے لئے آیا ہوں تو اس کا خیال غلط ہے۔ اس حقیقت کا یقین دلانے کیلئے پہلی قسم شہر مکہ کی کھائی، جو اس دعوے کی دلیل بھی ہے، کیونکہ اس شہر کی آبادی کی ابتدائ، اسماعیل ؑ اور ان کی والدہ کی زندگی، ان کے بعد کی تاریح، خصوصاً اس شہر میں رہتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی زندگی، آپ کی یتیمی اور بےسروسامانی، نبوت کی ذمہ داری کے بعد اپنی ہی قوم کا جان لینے کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وانت حل بھذالبلد۔ یعنی مستقبل میں، یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے، انک میت وانھم میتون۔ الزمر) کلام عرب میں اس کی مثالیں عام ہیں، جس سے تو عزت اور عطیہ کا وعدہ کرتا ہے، اسے تو کہتا ہے، انت مکرم مجلو اللہ تعالیٰ کے کلام میں بھی یہ عام ہے کیونکہ اس کے نزدیک آنے والے احوال موجودہ احوال کی طرح ہیں تیرے لیے دلیل کافی ہے، کہ یہ استقبال کے لیے اور حال کے ساتھ اس کی تفسیر بیان کرنا محال ہے کیونکہ یہ سورت باالاتفاق فتح مکہ سے پہلے مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی، منصور مجاہد سے یہ قول نقل کیا ہے، وانت حل، یعنی تو نے اس میں جو کیا ہے وہ آپ کے لیے حلال ہے، حضرت ابن عباس نے اس طرح کہا، جس روز آپ مکہ مکرمہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

18۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے شرحبیل بن سعد (رح) آیت وانت حل بہذا البلد کے بارے میں روایت کیا کہ وہ حرام قرار دیتے ہیں شکار کو قتل کرنا اور درختوں کو کاٹنا لیکن آپ کا یہاں سے نکالنا اور قتل کرنا حلال قرر دیتے ہیں۔ 19۔ الحاکم وصححہ نے مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے آیت لا اقسم بہذ البلد وانت حل بہذ البلد کے بارے میں روایت کیا کہ آپ کے لیے حلال کردیا گیا کہ آپ جو چاہیں اس میں کریں آیت ووالد ما ولد اور باپ کی اور اس کی اولاد کی قسم یعنی قسم ہے باپ کی یعنی آدم (علیہ السلام) کی آیت وما ولد اور آپ کی اولاد۔ 20۔ الفریابی وعبد بن حمید حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عباس ؓ سے روایت کیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَانتَ حِـۢلٌّ: اور آپ ﷺ کو حلال (سمجھا) ہے (کفارم کہ نے)][ بِهٰذَا الْبَلَدِ : اس شہر میں ] آیت۔ 2 ۔ میں لفظ حِلٌّ میں دو احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ یہ حلول سے مشتق ہو، جس کے معنے کسی شئے کے اندر سمانے اور رہنے اور اترنے کے آتے ہیں۔ اس اعتبار سے حِلٌّ کے معنے اترنے اور رہنے کے ہوں گے اور مراد آیت کی یہ ہوگی کہ شہر مکہ خود بھی محترم ہے اور آپ 1 بھی اس شہر میں رہتے ہیں۔ اس لیے شہر کی عظمت و حرمت دوہری ہوگئی۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ لفظ حِلٌّ مصدر حِلَّت سے مشتق ہو جس کے معنے کسی چیز کے حلال ہونے کے ہیں۔ اس اعتبار سے اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ 1 کو کفار مکہ نے حلال سمجھ رکھا ہے۔ جس مقدس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہ نے شہر مکہ مکرمہ کی اور انسان کے والد یعنی آدم (علیہ السلام) کی اور ان کی ذریت کی قسم کھا کر یہ فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے، درمیان میں بطور جملہ معترضہ ﴿ وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ002 ﴾ بھی فرمایا جس وقت یہ سورت نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ مکہ معظمہ میں ہی تھے، وہاں مشرکین سے تکلیفیں پہنچتی رہتی تھیں۔ مکہ معظمہ حرم ہے اس میں قتل و قتال ممنوع ہے مشرکین مکہ بھی اس بات کو جانتے اور مانتے تھے، لیکن اللہ جل شانہ نے اول تو اس کی قسم کھا کر اس کی عزت کو بیان فرما دیا اور ساتھ ہی رسول اللہ ﷺ کو یہ پیشگی خبر دے دی کہ ایک دن آنے والا ہے جب آپ اس میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–20

انقسام عمل درخیر وشر مع بیان عظمت مہبط وحی و سرچشمہ ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بھذا البلد ........ الی .......... نار مؤصدۃ “۔ (ربط) سورة الفجر میں پانچ اہم اور عظیم امور کی قسم کھا کر ہر صاحب عقل اور فہم کو اس امر کی دعوت دی گئی تھی کہ وہ عقل اور فطرت کی روشنی میں خداوند عالم کی عظمت وقدرت کو پہچانے اس کی خالقیت و ربوبیت پر ایمان لائے یہی چیز انسان کو فلاح وسعادت کے مقام تک پہنچانے والی ہے، اور جو قومیں عقل و فطرت کی ان صلاحیتوں کو ضائع کرکے سرکشی اور نافرمانی پر ڈٹی رہیں جیسے قوم عاد وثمود اور فرعون تا ریخ میں ان کا عبرت ناک انجام بھی دنیا کے سامنے آچکا تو اس سورت میں سرزمین…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–3

2:۔ ” لا اقسم “ لا زائدہ ہے برائے تاکید قسم۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ” البلد “ سے مکہ مکرمہ مراد ہے۔ ” انت حل “ کے معنی ہیں کہ تو مکہ میں داخل ہونے والا ہوگا یا مطلب یہ ہے کہ تو صاحب حلت ہوگا یعنی آپ کیلئے مکہ مکرمہ میں قتل و قتال حلال ہوگا۔ وی ومن المکابدۃ ان مثلک عظیم حرمتک یستحل بھذا البلد یعنی مکۃ کما یستحل الصید فی غیر الحرم (مدارک) ۔ یہ مشقت اس پر شاہد ہے کہ مشقت میں ڈالنا ہمارے اختیار میں ہے۔ اس میں آنحضرت ﷺ کو مکہ مکرمہ پر غلبہ دینے کی طرف اشارہ ہے۔ ” ووالد و ما ولد “ ماں جب بچے کو جنم دیتی ہے تو اس کو جو تکلیف اور مشقت اٹھانا پڑتی ہے یہ بھی شاہد ہے کہ مشقت میں ڈالنا ہمارے ہاتھ میں ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–10

شہر مکہ ابتدائے سورة میں دو چیزوں کی قسم کھا کر بات سمجھائی گئی ہے پہلی قسم بلد یعنی شہر مکہ کی ہے اور دوسری والدوما ولد یعنی والد اور مولود کی چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ لا اقسم بھذا البلد یہاں لفظ لاتاکید کے لئے ہے۔ یعنی میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی وانت حل بھذا البلد اور آپ اترے ہوئے ہیں اس شہر میں حل ، حلول سے ہے۔ اور اس کا معنی اترنا ہے۔ مراد شہر مکہ مکرمہ ہے۔ جو کہ بلدہ طیبہ ، بلد الحرام اور عزت والا شہر ہے۔ قرآن پاک میں بلدہ طیبہ کا ذکر کئی مقامات پر آیا ہے۔ اس کی بڑی اہمیت ہے۔ کیونکہ اس میں بیت اللہ شریف واقع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شہر کو مرکز ہدایت اور حرمت والا شہر قرار دیا ہے اور اس کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَنْتَ حِـلٌّۢ بِہٰذَا الْبَلَدِ۝ 2 ۙ حلَ أصل الحَلّ : حلّ العقدة، ومنه قوله عزّ وجلّ : وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسانِي[ طه/ 27] ، وحَللْتُ : نزلت، أصله من حلّ الأحمال عند النزول، ثم جرّد استعماله للنزول، فقیل : حَلَّ حُلُولًا، وأَحَلَّهُ غيره، قال عزّ وجلّ : أَوْ تَحُلُّ قَرِيباً مِنْ دارِهِمْ [ الرعد/ 31] ، ( ح ل ل ) الحل اصل میں حل کے معنی گرہ کشائی کے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسانِي[ طه/ 27] اور میری زبان کی گرہ کھول دے ۔ میں یہی معنی مراد ہیں اور حللت کے معنی کسی جگہ پر اترنا اور فردکش ہونا بھی آتے ہیں ۔ اصل میں یہ سے ہے جس کے معنی کسی جگہ اترنے کے لئے سامان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–4

ترکیب ¦ لا قدمر الکلام فیھا فقیل زائدۃ وقیل لالنفی کلام الکفار وقیل لنفی القسم بظھور الامر ای لاحاجۃ الی القسم بھذہ الاشیاء والمراد بالبلد عند جمھور المفسرین مکتہ والبلدیذکر و یؤنث والجمع بلدان والبلدۃ بالفتح جمعھا بلاد بالکسر وانت حل الخ قال الواحدی الحل والحلال والمحل واحد وھو ضدالحرم ای فاحل اللہ لنبیہ ﷺ القتال فی مکۃ وقد انجز اللہ تعالیٰ وعدہ یوم الفتح فالجملۃ معترضۃ بین المقسم بہ وما وعطف علیہ وقیل معناہ حال ای اقسم بھذا البلد وانت مقیم فیہ تشریفاً لک وتعظیما لقدرک اولا اقسم بھذا البلد حال کو نک مقیما فیہ بل اقسم بک فعلی ھذا الجملۃ منصوبۃ محلاً والدوما ولد معطوف علی البلد وما بمعنی من…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاَنْتَ حِلٌّ م بِھٰذَا الْبَلَدِ ۔ (البلد : 2) (اس حال میں کہ آپ کو اس شہر میں حلال کرلیا گیا ہے۔ ) آیت کے مختلف مفاہیم اور جوابِ قسم کے مناسب مفہوم مفسرین نے اس کے تین مفہوم بیان کیے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ اس شہر میں مقیم ہیں۔ یعنی اس شہر کی تاریخ جاننے کے لیے کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔ آپ اور دیگر قریش جو یہاں کے رہنے والے ہیں سب جانتے ہیں کہ اس شہر کی تاریخ کیا ہے۔ اس شہر کی تاریخ سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ اس شہر کی معاشرتی، معاشی اور روحانی حالت کن مراحل سے گزری ہے۔ اور یہاں کے رہنے والے کیسے کیسے حالات سے عہدہ برآ ہوچکے ہیں۔ اس سے یہ بات کھل جاتی ہے کہ مقسم علیہ میں جو بات کہی گئی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–2

فہم القرآن ربط سورت : سورة الفجر کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ “ ظالموں کو ایسی سزا دے گا کہ اس طرح کی سزا کوئی اور نہیں دے سکتا۔ ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کو اپنی رضا سے سرفراز فرمائے گا اور انہیں جنت میں داخل کرے گا۔ سورة البلد کے آغاز میں دو قسمیں اٹھانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ باغی انسان سمجھتا ہے کہ اسے کوئی دیکھنے والا اور اس پر کوئی قابو پانے والا نہیں حالانکہ ” اللہ تعالیٰ “ ہر وقت انسان کی نگرانی کر رہا ہے اور اسی نے اس کو دیکھنے کے لیے آنکھیں دیں، بولنے کے لیے زبان اور کھانے پینے کے لیے دو ہونٹ دئیے ہیں۔ یہ سورت بھی سورة القیامہ کی طرح ” لَآ اُقْسِمُ “ کے الفاظ سے شروع…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2 : وَاَنْتَ حِلٌّم بِھٰذَا الْبَلَدِ (آپ کو اس شہر میں لڑائی حلال ہونے والی ہے) مطلب یہ ہے کہ مشقتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ جیسا عظمت و شان والا اس شہر مکہ کو لڑائی کیلئے حلال قرار دیگا۔ جیسے غیر حرم میں شکارکو حلال قرار دیا جاتا ہے۔ بقول شرحبیل : مشرکین مکہ اس سرزمین میں شکار کرنا تو ناجائز قرار دیتے مگر آپ کے نکالنے اور قتل کرنے کو حلال سمجھتے ہیں۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کو ثابت قدمی پر آمادہ کر کے ان تکالیف کو سہنے کا حکم دیا گیا ہے جو کفار مکہ کی طرف سے آرہی تھیں نیز کفار مکہ کی حالت جو آپ کی عداوت کے سلسلہ میں چل رہی تھی اس پر تعجب ظاہر کیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو آپ کے شہر کی قسم اٹھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2 ۔” وانت حل “ حلال ہے۔ ” بھذا البلد “ آپ اس میں جو چاہیں کریں قتل اور قید میں سے۔ آپ پر کوئی گناہ نہیں اس میں جو لوگوں پر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کے لئے مکہ کو فتح کے دن حلال کردیا تھا حتیٰ کہ آپ (علیہ السلام) نے لڑائی کی اور قتل کیا اور ابن اخطل کے قتل کا حکم دیا حالانکہ وہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا تھا اور مقیس بن صبابہ اور ان دونوں کے علاوہ کا۔ پس ایک قوم کے خون کو حلال قرار دیا اور ایک قوم کے خون کو حرام قرار دیا۔ پس فرمایا جو شخص ابوسفیان کے گھرداخل ہوگیا وہ امن میں ہے، پھر فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرام قرار دیا، جس آسمانوں وزمینوں کو پیدا کیا اور یہ مجھ سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ شروع سورة میں جس بات پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے وہ یہی بات ہے جو ان آیتوں میں آگے فرمائی۔ تجھ کو قید نہ رہے گی کا مطلب یہ ہے کہ مکہ میں جو قید ہے کہ وہاں لڑائی منع ہے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اے نبی اللہ کے تم کو تھوڑی دیر کے لئے وہاں لڑائی حلال ہوجائے گی ہجرت سے پہلے اس مکی سورة میں اللہ کا یہ ایک وعدہ تھا جس کو فتح مکہ کے وقت اللہ تعالیٰ نے پورا کیا۔ چناچہ صحیح 3 ؎ بخاری و مسلم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تھوڑی دیر کے لئے کو مجھ کو مکہ میں لڑنا حلال کردیا تھا اس کے بعد مکہ میں بدستور لڑائی کی ممانعت ہے اب جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–2

اللہ تبارک وتعالی نے قسم کھائی ہے ( بِهٰذَا الْبَلَدِ ) اس امن والے شہر مکہ کی، جو علی الاطلاق تمام شہروں پر فضیلت رکھتا ہے خاص طور پر اس وقت جب رسول اللہ اس شہر میں رہ رہے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 2–3

(3) وانت حل بھذا البلد کا معنی و مطلب ؟ سو قسم کے بیچ میں جملہ معترضہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا وانت حل بھذا البلد، یعنی " درآنحالیکہ آپ اس میں تشریف فرما ہیں "، کہ مکین کی عظمت و فضیلت سے مکان کی عظمت و فضیلت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ پھر ایسے مکین بےمثل کے تو کہنے ہی کیا جس کی کوئی نظیر اور مثال چشم فلک نے پوری بنی نوع انسان میں نہ اس سے پہلے کبھی دیکھی اور نہ آئندہ کبھی دیکھ سکے گا۔ اور یہ معنی و مطلب اس لفظ کا اس صورت میں ہوگا جب کہ اس کو حلول سے مشتق و ماخوذ مانا جائے جس کے معنی کسی جگہ میں اترنے رہنے اور سمانے وغیرہ کے آتے ہیں۔ اور لفظ " حل " اسی سے ماخوذ ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ بعض حضرات نے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–20

مکہ شہر اور آدم (علیہ السلام) کی قسم انسان کے بڑے فرائض ہیں تشریح : شروع میں نہیں کا لفظ اس لیے آیا کہ کفار مکہ جو آخرت سے انکار کر رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو جھٹلا رہے ہیں تو ان کو خوب اچھی طرح علم ہونا چاہیے کہ انسان کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کو بہت سی ذمہ داریاں دیکر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے یعنی یہ زندگی پوری کی پوری امتحانی دور پر مبنی ہے اور اس بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ حرمت والے شہر اور اشرف المخلوقات آدم (علیہ السلام) و اولاد آدم یعنی انسان جو کہ نائب اللہ بھی ہے۔ کی قسم کھا کر یہ بات بتا رہے ہیں۔ قسم ایسی ہی چیز کی کھائی جاتی ہے جو عام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–20

سورة البلد۔ آیات 1 تا 20۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے اس شہر عظیم کی یعنی اس شہر کا تقدس جو بنائے کعبہ کے باعث تھا اور کفار ومشرکین بھی اس کی عظمت کے قائل تھے جو آپ کے یہاں تشریف فرما ہونے سے دو بالا ہوگیا اس کی ساری عظمت بھی تو اللہ کی عظمت پہ گواہ ہے مفسرین نے اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ حرمت والاشہر عنقریب آپ کے لیے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کو حلال کردیاجائے گا گویا فتح مکہ کی خوش خبری بھی ہے اور خود آدم (علیہ السلام) اور ان کی ساری اولاد ، تمام انسانوں کی پیدائش سے موت تک کی زندگی ، اس بات پر گواہ ہے کہ انسان تخلیقی طور پر محنت ومشقت کرنے پر مجبور ہے اس کی زندگی کا کوئی لمحہ مشقت سے خالی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–2

ف 11 یہ ترجمہ ” لا اقسم “ میں ” لا “ کو زائد مانتے ہوئے ہیں۔ اس کی متعدد مثالیں پہلے گزر چکی ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(90:2) وانت حل بھذا البلد : واؤ حالیہ ہے اور جملہ ھذا البلد سے حال ہے۔ حل حل یحل (باب ضرب) کا مصدر ہے۔ بمعنی حلال۔ حلال ہونا۔ اترنا۔ نازل ہونا ۔ فائز ہونا۔ بمعنی کسی جگہ اترنے والا بھی ہے ۔ چناچہ کہتے ہیں۔ ما زلت حلا بھذا البلد۔ میں اس شہر میں ہمیشہ اترنے والا ہوں۔ (المنجد) یعنی میں اس شہر میں ہمیشہ رہنے والا ہوں۔ اس سے محلہ ہے۔ رہنے کی جگہ۔ اترنے کی جگہ۔ فروکش ہونے کی جگہ۔ شہر کا ایک حصہ جہاں رہائش رکھی جاتی ہو۔ یہاں حل بمعنی حال بمعنی اسم فاعل آیا ہے۔ رہنے والا۔ الحل کے اصل معنی گرہ کشائی کے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ ہے :۔ واحلل عقدۃ من لسانی (20:27) اور میری زبان کی گرہ کھول دے۔ اور حللت کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–20

لغات القرآن۔ ھذا البلد۔ یہ شہر۔ (مکہ مکرمہ) ۔ حل۔ حلال ہے۔ کبد۔ مشقت۔ مصیبت۔ اھلکت۔ میں نے خرچ کیا ہے۔ مالا لبدا۔ ڈھیروں مال۔ عینین۔ دو آنکھیں۔ شفتین۔ دو ہونت۔ النجدین۔ دو راستے۔ اقتحم۔ وہ داخل ہوگیا۔ العقبۃ۔ گھاٹی۔ فک رقبۃ۔ گردن چھڑانا۔ (غلاموں کو آزاد کرنا) ۔ ذی مسغبۃ۔ بھوکا۔ بھوک والا۔ ذا مقربۃ۔ رشتہ دار۔ ذامتربۃ۔ جو خاک میں مل جانے والا ہے۔ نارموصدۃ۔ آگ جو اوپر سے بند کی گئی ہے۔ تشریح : سورت بلند کا مفہوم اور خلاصہ یہ ہے۔ اس سورت میں اللہ نے ” بلد “ یعنی مکہ مکرمہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو اس شہر میں قتال کرنا حلال ہونیوالا ہے۔ باپ اور اولاد یعنی حضرت آدم (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–2

محبوب کریم کے شہر مکہ کی قسم۔ (ف 1) فرمایا اے محبوب ﷺ یہ شہر قسم کھانے کے قابل ہوا جب سے آپ اس شہر مکہ مکرمہ میں تشریف فرما ہوئے کیونکہ آپ کی عظمت کی وجہ سے یہ شہر معظم ہوا ، شرف المکان بالمکین، مشہور فقرہ ہے یعنی مکان کو شرافت رہنے والے کی وجہ سے ہوتی ہے چونکہ ہمارے حضور خداوند جل وعلا احکم الحاکمین کے محبوب خاص ہوئے اس لیے آپ کا شہر کا بھی اللہ کو محبوب ہوا اور اس کے قابل ہوا کہ اس کی قسم کھائی جائے۔ (تفسیر حقانی)

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[2] یعنی جس شہر مکہ میں درختوں تک کو کاٹنا اور جانوروں تک کو مارنا حرام ہے اور جو امن کی جگہ ہے وہاں تم پر ظلم کرنا اور تمہارے قتل کی تدبیریں کرنا حلال کرلیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) اور آپ کو قید نہ رہے گی اس شہر میں - یہ جملہ معترضہ کے طور پر فرمایا اور پیشین گوئی فرمائی کہ آپ کو کسی کے قتل کرنے اور لڑائی کرنے کی ممانعت اس شہر میں نہ رہے گی بلکہ اس شہر میں آپ کو جنگ حلال ہونے والی ہے جیسا کہ فتح مکہ کے روز ہوا۔ اور آپ کے لئے حرم کے احکام باقی نہ رہے۔ اور بعض ایسے کافروں کو آپ کے حکم سے قتل کیا گیا جو کعبہ کے پردے میں چھپے ہوئے تھے۔ بعض حضرات نے وانت حل کا ترجمہ نازل ہونے یا داخل ہونے والے کیا ہے یعنی میں اس شہر مکہ کی قسم کھاتا ہوں جس میں آپ فاتحانہ داخل ہونے والے ہیں یا میں اس شہر مکہ کی قسم کھاتا ہوں حالانکہ آپ اس میں پیدا ہوئے اور آپ اس شہر میں مقیم ہیں۔ اس میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

ف 1۔ چناچہ فتح مکہ کے روز آپ کے لئے احکام حرم باقی نہیں رہے تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ﷺ ! آپ ﷺ کو اس حرمت والے شہر میں حلال کرلیا گیا ہے 2 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ تیرے خاندان کے لوگوں کی مت کس طرح ماری گئی ہے کہ جو بات یہ خود ہی مانتے اور تسلیم کرتے ہیں اس کی خلاف ورزی کر کے اپنے آپ کو حق بجانب خیال کرتے ہیں پھر ان لوگوں پر تعجب نہ کیا جائے کہ تو کیا کیا جائے کہ ایک طرف تو ان لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ شہر نہایت متبرک شہر ہے اور اس کی فضیلت میں یہ لوگ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اس میں ایک علاقہ ہے جس کو حرم کہا جاتا ہے اور یہ ابھی تک امن کی جگہ ہے کہ اگر کوئی شخص قتل کر کے بھی حرم میں داخل ہوجائے تو حرم کے اندر اسے کچھ نہیں کہا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَأَنتَ حِلٌّ بِهَـٰذَا الْبَلَدِ (and [ 0 Holy Prophet,] you are going to be allowed to fight in this city....90:2). The word hillun bears two possibilities: [ 1] It could be derived from hulul which signifies to reside in or to descend on some place. In this sense, hillun signifies 'a dweller or resident' and the verse purports to say that the city of Makkah itself is sacred, and since Holy Prophet Muhammad ﷺ is the inhabitant of this city, it adds to the sanctity, honour and glory of the place. Thus, on account of the Holy Prophet's ﷺ residing in that city its honour and sanctity has been…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

3 Three meanings of the words in the Text have been given by the commentators: (1) "That you are a resident of this city and your residence here has further enhanced the glory of this city"; (2) "that although this city is a sanctuary; a time will come when for some time it will become lawful for you to fight and kill the enemies of the true Faith here; and, (3) "that in this city where even killing of animals and cutting of trees is forbidden for the people of Arabia, and where everyone is living in perfect peace, you, O Prophet, have no peace, and persecuting you and devising plans to kill…

Read the full tafseer →