90. Surah Al-Balad

البلدThe City · 20 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 90:1–2

لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:1 in the Quran reader

ہمیں اس شہر کی قسم

وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:2 in the Quran reader

اور تم اسی شہر میں تو رہتے ہو

(21) میں قسم کھاتا ہوں اس شہر مکہ کی آپ کے لیے اس شہر میں لڑائی حلال ہونے والی ہے جو کہ آپ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھی، اور نہ آپ کے بعد ہوگی، یا یہ کہ آپ اس شہر میں نزول فرمانے والے ہیں، یا یہ مطلب ہے کہ آپ اس شہر میں جو کریں وہ آپ کے لیے حلال ہے۔
Ayah 90:3

وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَۙ Open ayah 90:3 in the Quran reader

اور باپ (یعنی آدم) اور اس کی اولاد کی قسم

اور قسم ہے حضرت آدم کی اور ان کی اولاد کی یا یہ کہ باپ کی خواہ کوئی ہو۔
Ayah 90:4

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍؕ Open ayah 90:4 in the Quran reader

کہ ہم نے انسان کو تکلیف (کی حالت) میں (رہنے والا) بنایا ہے

ان تمام چیزوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہم نے انسان مثلاً کلدہ کو معتد القامت پیدا کیا ہے یا یہ کہ دنیا و آخرت کی بڑی مشقت میں پیدا کیا، یا یہ کہ قوت و سختی میں پیدا کیا ہے۔
Ayahs 90:5–7

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌۘ Open ayah 90:5 in the Quran reader

کیا وہ خیال رکھتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہ پائے گا ؟

یَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًاؕ Open ayah 90:6 in the Quran reader

کہتا ہے کہ میں نے بہت سا مال برباد کیا

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 90:7 in the Quran reader

کیا اسے یہ گمان ہے کہ اسے کسی نے دیکھا نہیں

(75) کیا کافر اپنی قوت پر یہ سمجھتا ہے کہ اس کو سزا دینے اور اس کی گرفت پر اللہ تعالیٰ کا بس نہیں چلے گا۔ کلدہ اور ولید ابن مغیرہ کہتا ہے کہ میں نے تو حضور کی دشمنی میں اس قدر مال خرچ کردیا ہے مگر پھر بھی مجھے کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ کیا وہ کافر یہ سمجھ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی ان بری حرکتوں کو دیکھا نہیں کہ اس نے خرچ کیا ہے یا نہیں۔
Ayahs 90:8–10

اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَیْنَیْنِۙ Open ayah 90:8 in the Quran reader

بھلا ہم نے اس کو دو آنکھیں نہیں دیں ؟

وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیْنِۙ Open ayah 90:9 in the Quran reader

اور زبان اور دو ہونٹ (نہیں دئیے)

وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ Open ayah 90:10 in the Quran reader

(یہ چیزیں بھی دیں) اور اس کو (خیر اور شر کے) دو نور بھی دکھا دئیے

(108) کیا ہم نے اس کو دیکھنے کے لیے آنکھیں اور بولنے کے لیے زبان نہیں دی اور پھر ہم نے اس کو خیر و شر کے دونوں راستے بتلا دیے۔
Ayahs 90:11–16

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ٘ۖ Open ayah 90:11 in the Quran reader

مگر وہ گھاٹی پر سے ہو کر نہ گزرا

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُؕ Open ayah 90:12 in the Quran reader

اور تم کیا سمجھے کہ گھاٹی کیا ہے

فَكُّ رَقَبَةٍۙ Open ayah 90:13 in the Quran reader

کسی کی گردن کا چھڑانا

اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍۙ Open ayah 90:14 in the Quran reader

یا بھوک کے دن کھانا کھلانا

یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍۙ Open ayah 90:15 in the Quran reader

یتیم رشتہ دار کو

اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍؕ Open ayah 90:16 in the Quran reader

یا فقیر خاکسار کو

(11۔ 16) کیا اس قوت کے دعویدار نے پل صراط کی گھاٹی کو عبور کیا ہے اور یہ گھاٹی جنت و دوزخ کے درمیان ہے اور اس گھاٹی کو کوئی عبور نہیں کرسکتا مگر وہ شخص جو کہ گردن کو غلامی سے چھڑا دے، یا فاقہ کے دن میں کسی رشتہ دار یتیم کو کھانا کھلا دے، یا کسی خاک نشین محتاج کو جس کے پاس کچھ نہ ہو کھانا کھلا دے۔
Ayahs 90:17–18

ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِؕ Open ayah 90:17 in the Quran reader

پھر ان لوگوں میں بھی (داخل) ہوا جو ایمان لائے اور صبر کی نصحیت اور (لوگوں پر) شفقت کرنے کی وصیت کرتے رہے

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 90:18 in the Quran reader

یہی لوگ صاحب سعادت ہیں

اور پھر بھی ان لوگوں میں سے نہیں جو کہ ایمان لائے اور ایک دوسرے کو فرض ادا کرنے کی رغبت دلائی اور ایک نے دوسرے کو فقراء و مساکین پر رحم کی فہمایش کی۔ ان ہی خوبیوں کے مالک جنتی ہیں جن کو ان کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔
Ayahs 90:19–20

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 90:19 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو نہ مانا وہ بدبخت ہیں

عَلَیْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ۠ Open ayah 90:20 in the Quran reader

یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے

(19۔ 20) اور جنہوں نے حضور ﷺ اور قرآن کو جھٹلایا مثلاً کلدہ وغیرہ وہ لوگ جہنمی ہیں ان کو بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا اور ان پر آگ محیط ہوگی جس کو بند کردیا جائے گا۔