Ayahs 90:1–20مکہ شہر اور آدم (علیہ السلام) کی قسم انسان کے بڑے فرائض ہیں
تشریح : شروع میں نہیں کا لفظ اس لیے آیا کہ کفار مکہ جو آخرت سے انکار کر رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو جھٹلا رہے ہیں تو ان کو خوب اچھی طرح علم ہونا چاہیے کہ انسان کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کو بہت سی ذمہ داریاں دیکر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے یعنی یہ زندگی پوری کی پوری امتحانی دور پر مبنی ہے اور اس بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ حرمت والے شہر اور اشرف المخلوقات آدم (علیہ السلام) و اولاد آدم یعنی انسان جو کہ نائب اللہ بھی ہے۔ کی قسم کھا کر یہ بات بتا رہے ہیں۔
قسم ایسی ہی چیز کی کھائی جاتی ہے جو عام انسان کے علم میں ہو اور جو بڑی محترم بھی ہو۔ شہر مکہ کی حرمت سے کون واقف نہیں یہ تمام دنیا میں محترم و مکرم شہر ہے۔ کیونکہ پہلے تو اس کی بنیاد بڑی شاندار ' بر گزیدہ اور محترم ہستیوں کی بہت بڑی قربانیوں کی وجہ سے رکھی گئی۔ یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) و حضرت حاجرہ (علیہا السلام) کی بےمثال قربانیاں اور پھر ان کے انعام کی صورت میں اس شہر میں خانہ کعبہ کا وجود جو تمام دنیا کے مسلمانوں کا مرکز ہے اور جو اس حد تک محترم ہے کہ وہاں کسی غیر مسلم کو داخل ہونے کی ہرگز اجازت نہیں اور وہاں اس حد تک امن کا حکم دیا گیا ہے کہ کسی انسان ' حیوان کا قتل اور جھگڑا فساد بالکل منع ہے حتی کہ وہاں گھاس ' پودے اور درخت تک کاٹنے کی اجازت نہیں اس کے باوجود آپ ﷺ کو اس شہر میں حلال کرلیا گیا ہے سے مراد یہ ہے کہ ان تمام باتوں کے باوجود کہ اس شہر کو امن کا شہر قرار دیا گیا ہے آپ ﷺ کو امن اور چین نصیب نہیں آپ ﷺ کو تنگ کیے جانے اور آپ ﷺ کے قتل کی تدبیریں کرنے والوں کو حلال کرلیا گیا ہے۔ اور ابن آدم کو بتا ہی دیا گیا ہے کہ ان کا بڑا درجہ ہے۔
تمام مخلوقات میں یہ سب سے محترم مخلوق ہے۔ اب اس مشقت کا ذکر کیا جا رہا ہے اور پھر کفار کی لاپرواہی ' ہٹ دھرمی اور کفروشرک کو اس طرح بیان کیا جا رہا ہے کہ وہ خود پسند اور خودمختار اس حد تک ہو رہا ہے کہ گویا اس کی بدعملی ' بد نیتی اور بد کرداری کسی بھی گنتی میں نہیں آرہی بلکہ وہ جو کرتا ہے بس ہوتا چلا جا رہا ہے۔ نہ کوئیـ دیکھ رہا ہے اور نہ ہی پوچھ گچھ ہوگی۔ یہی تو ان لوگوں کی بھول ہے۔ اللہ نے جو انسان کو اعضاء دئیے ہیں ساتھ میں دو راستے بھی بتا دئیے ہیں تاکہ وہ ان دونوں راستوں ' نیکی اور بدی کو آنکھوں سے دیکھ کر کانوں سے سن کر اچھی باتوں پر عمل کرے اور پھر زبان سے اچھی باتیں ادا کرے۔ اور یہی وہ گھاٹی ہے جس کا ذکر اس سورت میں کیا گیا ہے۔ اور اس گھاٹی کی تعریف یوں کی گئی ہے۔ یعنی یہ سربلندی حاصل کرنے کا ایک خاص معیار یا راستہ یا بلندی ہے جو خاص اعمال کے ذریعہ سے ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اور وہ اعمال یہ ہیں۔
1 ۔ غلام کو آزاد کرنا۔
2 ۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا۔
3 ۔ یتیم رشتہ دار کی کفالت کرنا۔
4 ۔ فقیر خاکسار کی پوری طرح مدد کرنا۔
5 ۔ صبر اور رحم کرنا۔
6 ۔ اور ان تمام باتوں کی دوسروں کو تلقین کرنا۔
7 ۔ اور خود پکا مسلم ہونا۔
آخر میں فرمایا کہ ایسے ہی لوگ خوش نصیب ہیں۔ اور حساب کے دن ایسے ہی لوگوں کو اصحاب المیمنہ کہا گیا ہے یعنی داہنے ہاتھ والے لوگ یعنی مقبول الہی جنتی لوگ اور جو لوگ اوپر بیان کی گئی تمام باتوں سے انکار کرتے ہیں اللہ کے نافرمان لوگ ہیں تو ان کو اصحاب المشئمہ کہا گیا ہے یعنی بائیں طرف والے لوگ تو ایسے لوگوں کے لیے بڑی سخت سزا کا حکم دیا گیا ہے۔ یعنی ایسی آگ کہ جو چاروں طرف سے بالکل بند ہوگی کوئی راستہ فرار کا نہ ہوگا اور نہ ہی آگ کی تپش میں کمی آئے گی۔ استغفر اللہ۔
خلاصہ سورة البلد
اس سورة مبارکہ میں اللہ پر ایمان لانا اور اس کے فرمان کے مطابق حقوق العباد کا احترام کرنا اس قدر قابل قدر ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے جنت الفردوس کے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔ حقوق العباد بہت زیادہ ہیں یہاں تو صرف چند کا ذکر کیا گیا ہے۔ جو کہ انسانی معاشرے کی اصلاح و کامیابی اور سکون کے ضامن ہیں۔ ان کی فضیلت اور انعام کا ذکر بہت دفعہ قرآن پاک میں کیا گیا ہے۔ اور اسی طرح احادیث میں بھی ان کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ مثلاً اتحاد اور مل کر نیکی کرنے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ مومن دوسرے مومن کے لیے اس دیوار کی طرح ہے جس کا ہر حصہ دوسرے حصہ کو مضبوط کرتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
رحم کے بارے میں رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ اس شخص پر رحم نہیں کرتا جو انسانوں پر رحم نہیں کرتا۔ (بخاری و مسلم) صبر و شکر مسلمان اور مسلم معاشرے کی شان ہے اور مضبوط بنیا دبھی ہے۔ حدیث ہے۔ ' مصیبت پر صبر کرنا عبادت ہے۔ (نسائی) یتیم کے بارے میں ہے۔ سیدنا ابوہریرہ (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ ' میرا دل سخت ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا۔ ' یتیم کے سر پر ہاتھ پھیر اور مسکین کو کھانا کھلا۔ (مسند احمد)
مساکین کی مدد میں حدیث ہے ''۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ '' بیوہ اور مسکین کی مدد کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والا ایسا ہے جیسا جہاد فی سبیل اللہ میں دوڑ دھوپ کرنے والا ''۔ اسی طرح غلام آزاد کرنا بہت بڑی فضیلت ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ '' جس شخص نے ایک مومن غلام کو آزاد کیا اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے شخص کے ہر عضو کو دوزخ کی آگ سے بچا لے گا۔ (مسنداحمد ' بخاری ' مسلم ' ترمذی ' نسائی)
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس معاشرے کے لوگ ان تمام صفات کے حامل ہوں۔ وہ معاشرہ کیسا پر سکون ' اور بہترین معاشرہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے ہی معاشرے کے بنانے والے پکے سچے اور بہترین مسلمانوں کو اصحاب المیمنہ یعنی داہنے ہاتھ والے جنت کے وارث کہا ہے۔ اللہ ہمیں بھی ان میں شامل ہونے کی توفیق دے آمین۔ الحمد للہ سورة البلد ختم ہوئی۔