Ayahs 91:1–15کامیابی اور ناکامی اختیاری ہے
تشریح : اب زمانہ بہت ترقی کرچکا ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں لوگ علم و عرفان سے بہت پیچھے تھے۔ اسی لیے وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کا مطلب نہ سمجھتے تھے اور نہ ہی سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کی عقل و علم کے مطابق ان کو برائی اور اچھائی سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے کی چیزوں کی قسم کھا کر اور انہی کی مثال دیکر نیکی و بدی کا فرق بتانے کی کوشش کی ہے۔ وہ لوگ روز دیکھتے تھے کہ سورج نکلتا ہے دن روشن ہوجاتا ہے۔ چاند اس کے بالکل مخالف ہے کیونکہ رات کو اندھیرا ہوتا ہے تو پھر چاند کی روشنی ظاہر ہوتی ہے۔ دن رات ' آسمان و زمین سب علیحدہ علیحدہ اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ اور ہر ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے تو انہی چیزوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ بتا رہے ہیں کہ جس طرح یہ سب ایک دوسرے کی ضد ہیں اسی طرح نیکی و بدی ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور اس کی فطرت میں نیکی سے پیار کرنا رکھ دیا اور برائی سے نفرت اور ساتھ ہی دونوں راستوں کی وضاحت بھی کردی تاکہ انسان اپنی عقل علم اور ارادے سے اپنا رستہ اختیار کرسکے۔ نیکی کے راستہ کو اختیار کرنے کے لیے تقویٰ اور پرہیزگاری چاہیے۔ جب کہ بدی کا راستہ ہر قسم کی برائی سے بھرپور ہے۔ نیک فطرت انسان تقویٰ اختیار کرتا ہے جب کہ بد فطرت شیطان کا دوست بن کر ہر برائی میں خوشی محسوس کرتا ہے۔ یہاں انسان کے اندر جو تین طاقتیں اللہ نے رکھ دی ہیں
یعنی نفس امارہ۔ یہ شیطان کی حکومت میں ہوتا ہے یعنی ہر شیطانی کام انسان خوشی سے کرنا چاہتا ہے۔
دوسرا نفس لوامہ۔ یہ خواہشات سے خالی نہیں مگر کسی حد تک وہ خواہشات پر قابو رکھ سکتا ہے۔ یعنی درمیانی حالت۔
تیسرا نفس مطمٔنہ۔ یہ خواہشات اور شیطان سے آزادی پا کر اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ قناعت اور توکل کی دولت سے مالا مال انتہائی مطمئن، شاکر، صابر اور پر سکون انسان ہوتا ہے۔ انہی کے لیے دنیا میں سکون اور آخرت میں کامیابی کا اعلان کیا گیا ہے۔ جو شخص نفس سے ہار گیا تو گویا وہ دنیا میں ذلیل و خوار ہوا اور آخرت میں تو بہت ہی ذلیل و خوار ہوگا۔ اور بس یہی دو طریقے ہیں چاہے تو بندہ خود کو بگاڑ لے یا سنوار لے۔ اللہ تو بڑا ہی رحیم و کریم ہے لوگوں کو سمجھانے کے لیے تاریخی واقعہ قوم ثمود کا بتا رہے ہیں کہ لوگوں کو سمجھ آجائے اور فلاح پائیں۔
واقعہ یوں ہے کہ حضرت صالح کی قوم نے معجزے کا مطالبہ کیا تو پہاڑوں کے بیچ سے اللہ نے اپنی قدرت سے اونٹنی نکالی اور لوگوں کو آزمانے کے لیے حکم دیا کہ اس کو تکلیف نہ دیں اور پانی کی باری پر اس کو ہرگز نہ روکیں۔ مگر قوم ثمود بڑی سرکش اور نافرمانی میں پڑچکی تھی۔ انہوں نے نافرمانی کی اور ایک شخص جس کا نام ” قدار بن سالف “ تھا اونٹنی کے پاؤں کاٹ دئیے ' تو اس صریح نافرمانی پر پوری قوم عذاب کا شکار ہوگئی اور یہ نہ تو قدرتی آفات کی وجہ سے ہوا اور نہ ہی قوموں کے عروج وزوال کی وجہ سے ہوا۔ بلکہ یہ زوال اس قوم کا صرف نافرمانی پر عذاب کی وجہ سے ہوا۔ زوال ہی نہیں بلکہ بالکل تہس نہس کردی گئی ان کی تباہ شدہ بستی اور کہانی دنیا کے لیے عبرت کا نشان بنا دی گئی۔ تو یہ سب کچھ اللہ کی قدرت ' عظمت ' برتری اور حاکم اعلیٰ ہونے کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔ تو اس سورت میں جو اتنے بڑے حاکم اعلیٰ نے نیکی و بدی کی تعریف قسم کھا کر کی ہے تو کیا یہ کوئی معمولی بات ہے ؟ یا کیا اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش ہوسکتی ہے ؟ ہرگز نہیں سچ تو یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو پیدا ہی اس لیے کیا ہے کہ کائنات کے حسن کو اپنے نیک اطوار نیک اعمال سے مزید خوبصورت بنائے اور اس کے حسن و خوبی سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہو کر جنت کمائے۔ اللہ کا خوف ہر دم اپنے دل میں بسائے رکھے تاکہ دنیا کے ہر خوف سے آزاد اللہ کا مقبول اور بندوں کا پیارا انسان بن سکے اور جب رخصت ہو تو دنیا میں اچھی یادیں چھوڑ جائے اور آخرت میں جنت کا وارث بنے۔ ورنہ تو پھر غلط ' برے ' نافرمان ' کفار و مشرکین سے بدلہ لینے کا اللہ کو کوئی ڈر بھی نہیں۔ وہ بدلہ لینے پر قادر ہے۔
اصل میں انسان کی بربادی خود اس کے اپنے ہاتھوں سے ہی ہوتی ہے۔ اسی طرح قومیں اور ملک بھی خود اپنے ہاتھوں ہی تباہ و برباد ہوتے ہیں۔ اس کی مثالیں دنیا کے ہر دور میں ملتی رہی ہیں اور ملتی رہیں گی۔ ماضی قریب میں بہت بڑی طاقت روس کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے جو خود اپنے بنائے ہوئے سسٹم ' معاشرے اور تمدن کے ذریعہ ہی تتر بتر ہوگیا۔ اس پر نہ تو بیرونی حملہ ہوا اور نہ کوئی قدرتی آفت اس پر پڑی بلکہ اس کو خود اس کے اپنے ہی سسٹم نے دیمک کی طرح چاٹ کر تنکہ تنکہ کردیا اور دنیا کی اتنی بڑی طاقت گھڑیوں میں منتشر ہوگئی۔ اصل میں ہمارے لیے ہمار اپنا محاسبہ ہر وقت بہت اہم بات ہے۔ کیونکہ بعض اوقات ہم کوئی چھوٹی سی غلطی یہ سوچ کر کر جاتے ہیں کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا جب کہ یہ چھوٹی سی غلطی آکاس بیل کی طرح ہمارے ایمان کو اپنے شکنجے میں یوں لینا شروع کرتی ہے کہ ہمیں اس کی خبر ہی نہیں ہوتی اور ایمان کا کباڑہ ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں اس حدیث کو ضرور نظر میں رکھنا چاہیے۔
سیدنا شہر بن حوشب ؓ بیان کرتے ہیں۔ کہ ' ایک دن میں نے ام سلمہ ؓ سے پوچھا۔ ام المومنین ! جب رسول اللہ ﷺ آپ کے پاس ہوتے ہیں تو وہ اکثر کون سی دعا مانگتے رہتے ہیں۔ ؟
ام المومنین نے فرمایا '' آپ ﷺ اکثر یہ دعا مانگتے رہتے ہیں ''۔ اے دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر مضبوط جما دے '' یَا مُقَلِّبُ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ مطلب کہنے کا یہ ہے کہ کبھی بھی خود کو لاپرواہی ' غرور اور تکبر کے جال میں پھنسنے نہ دیں بلکہ ہر وقت شیطان کی چالوں سے خود کو بچا کر رکھیں۔ استغفار اور دعا کو ورد زبان رکھیں، کہ زندگی صاف ' انجام بخیر اور آخرت میں سرخروہوسکیں۔ اسی میں انسان کی برتری اور خوبی ہے۔ زندگی بڑا کڑا امتحان ہے اس میں ہر دم چوکس رہنا ضروری ہے۔
کڑکتی دھوپ میں رک رک کے چلنا
کہیں رستے میں کوئی سائبان نہ مل جائے
الحمد للہ سورة الشمس مکمل ہوئی۔