Ayahs 92:1–21اچھی بری نیت اعمال اور بدلہ
تشریح : اس سورت میں اللہ تعالیٰ قسم کھاتے ہیں کہ دن رات کی نرو مادہ کی اور خود اپنی ' اس بات کے لیے کہ ہر انسان کی فطرت انداز اور ماحول فرق ہوتا ہے اور انہی حالات کے مطابق سب کا رویہ بھی فرق ہوتا ہے یہ حقیقت ہے کہ ہر شخص کے کام کا انداز فرق ہوتا ہے اور پھر یہ اعمال کا انداز دوراہوں میں منقسم ہے۔ یعنی کچھ تو نیک فطرت ہوتے ہیں ان کو شیطان کتنا ہی بہلائے مگر وہ اس کا شکار نہیں ہوتے یعنی ان کی سرشت میں نیکی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے ان کو برا راستہ ' برے کام اور برے لوگ بالکل اچھے نہیں لگتے یعنی ان کو کوئی بھی لالچ برائی پر آمادہ نہیں کرسکتا وہ کہتے ہیں کہ کسی کو دیکھ کر اس کے دوست کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ کہ وہ کیسا آدمی ہوسکتا ہے یہی حال بد فطرت انسان کا ہوتا ہے۔ وہ باوجود انتہائی کوشش کے بھی نیکی کی راہ پر نہیں چل سکتا۔ نہ ہی اچھے لوگوں کو وہ پسند کرتا ہے۔ وہ خود شیطان فطرت ہونے کی وجہ سے شیطان کا ہی بھائی بند ہوتا ہے۔ ایسے بندے سے نیکی کی امید کرنا بےکار ہے تو ان دونوں قسم کے لوگوں کے لیے اللہ میاں ان کی فطرت کے مطابق اسباب پیدا کردیتا ہے۔ برے بندے کے لیے برے اسباب اور اچھے کے لیے اچھے اسباب پیدا کردیتا ہے۔ اب نیکی کرنے والے متقی انسان کی صفات یوں بتائی گئی ہے۔
1 ۔ اللہ کی راہ میں خلوص نیت سے مال دینا۔
2 ۔ اچھی اور نیک بات کو قبول کرنا۔
3 ۔ خلق خدا کی مدد کرنا بغیر کسی حرص و ہوس کے۔
4 ۔ خوف الٰہی اور عقیدہ ایمان پختہ ہونا۔
5 ۔ اعمال و کردار کا اللہ و رسول ﷺ کی فرمانبرداری کے مطابق ہونا۔
6 ۔ ہر قسم کی آزمائش میں صبر و سکون سے رہنا۔
بیشک آپ اپنی زندگی میں خود آزمالیں کہ ایسے لوگ برا کام کر ہی نہیں سکتے ان کی فطرت برائی کی طرف مائل نہیں ہوتی اور وہ برے لوگوں کو برے کاموں کو دل سے ناپسند کرتے ہیں۔ لوگ بےاختیار ان کی تعظیم کرتے ہیں ان سے پیار کرتے ہیں۔
بیشک انسان بھی پھولوں کی طرح ہیں۔ بعض سے محبت ' خلوص اور شفقت و مہربانی کی ایسی خوشبو نکلتی ہے کہ پورا ماحول مہک اٹھتا ہے اور بعض کے کردار سے ایسی گھن آتی ہے کہ دور بھاگنے کو دل چاہتا ہے اس سلسلے میں ڈاکٹر الیگزینڈر کا نن لکھتا ہے۔
'' زمین کی طرح انسان کی ہستی بھی مقناطیسی لہریں خارج کرتی ہے جن کا اثر مختلف حالات میں مختلف ہوتا ہے۔ اگر یہ لہریں ایک ایسے آدمی سے نکلیں جس کے اعمال و خیالات میں پاکیزگی ہے تو وہ دوسروں میں محبت پیدا کریں گی یہ مسئلہ کہ لوگ بعض آدمیوں سے محبت یا نفرت کیوں کرتے ہیں ' یہیں سے حل ہوجاتا ہے ''۔
اسی طرح برے، بد کردار لوگوں کی صفات قرآن یوں بیان کرتا ہے۔
1 ۔ بخیل ہونا۔
2 ۔ غفلت میں پڑے رہنا۔
3 ۔ آخرت کو بھول جانا۔
4 ۔ ہر قسم کے فرائض کو بھول جانا۔
5 ۔ نیکی و بھلائی کو جھٹلانا۔
6 ۔ شیطانی اعمال کو پسند کرنا۔
یہی وہ لوگ ہیں کہ جو بری مجلس کی زینت بنتے ہیں اور ان کے جسموں سے ایسی لہریں نکلتی ہیں کہ جو نیک لوگوں میں ان کے لیے نفرت پیدا کرتی ہیں۔ تو ایسے ہی بدنصیب لوگوں کے لیے بھڑکتی آگ کا انتظام کیا گیا ہے۔ اور اللہ کی راہ میں صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے خلوص نیت سے مال خرچ کرنے والے کو بہترین انعامات کی خوشخبری دی گئی ہے کیونکہ یہ عمل جہاد بالمال کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس سے سب سے پہلا فائدہ خود انسان کو یہ ہوتا ہے کہ اس کے دل سے مال کی محبت کو اعتدال پر لایا جائے۔ کیونکہ مال کی محبت بیشمار گناہوں اور برائیوں کی جڑ ہے۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے۔ '' بیشک وہ مال سے شدید محبت کرتا ہے ''۔ (سورۃ العدیت :8) پھر آتا ہے۔
'' بیشک تمہارے مال اور تمہاری اولاد فتنہ ہیں ''۔ (سورۃ التغابن :15)
اسی طرح کئی جگہ قرآن و حدیث سے اور عام زندگی کے واقعات سے یہ بات بڑی اچھی طرح واضح ہو رہی ہے کہ مال و اولاد کی محبت ہی انسان میں فتنہ پیدا کرتی ہے اور اللہ سے دور بھی کرتی ہے۔ اسی کو کنٹرول کرنے کے لیے جہاد بالمال کا حکم دیا گیا ہے۔ اس طرح ایک پنتھ دو کاج والی بات ہوجاتی ہے۔ ایک تو فرض پورا ہوتا ہے اور دوسرا اصلاح کردار ہوجاتی ہے۔ اب اس کی تھوڑی وضاحت ہوجائے کہ جہاد بالمال کس کو کہتے ہیں۔ یہ اس خرچ کو کہتے ہیں جو اللہ کی خوشنودی کے لیے انسانوں کی اصلاح اور دین کی سر بلندی کے لیے خرچ کیا جائے۔ اب آپ خود سوچ سکتے ہیں کہ اس راہ میں یعنی اس نیک مقصد کے لیے کس قدر زیادہ مواقع اور راستے زندگی میں موجود ہیں۔ بس جہاں بھی ضرورت دیکھو دل کھول کر خوشی سے اللہ کے دئیے ہوئے مال میں سے خرچ کرو اور ثواب دارین حاصل کرو۔ ہے نا مزے کی بات ! جمع کرو گے تو تمہارے بعد یہ تمہارا مال عزیز و اقارب کے کام آئے گا اور تمہیں اس چھوڑے ہوئے مال جائیداد پر کچھ ثواب نہ ملے گا۔ ثواب تو صرف اس پر ملے گا جو تم دنیا کی زندگی میں خود اپنے ہاتھ سے راہ خدا میں خرچ کروگے۔ اور اصل میں تمہارا مال تو یہی ہے جو تم نے نیک اعمال کے ذریعے اپنے نامہ اعمال کے ذریعہ آگے بھیج دیا باقی تو سب ورثاء کا مال ہے ' جو تمہارے کام ہرگز نہ آئے گا۔ اب خود فیصلہ کریں یہ دنیا کا بینک بیلنس اچھا ہے یا کہ آخرت میں ملنے والے رجسٹر یا بہی کھاتے میں درج کیا گیا مال ؟ دعا ہے :۔
'' اے اللہ ! تیرے ہی نام پر مجھے مرنا اور تیرے ہی نام پر مجھے جینا ہے ''۔ (بخاری و مسلم)
سچ ہے کہ بدی کے اندھیرے صرف علم کی روشنی سے ہی چھٹ سکتے ہیں۔ ہماری کتاب اور اسوہ رسول ﷺ ہمارے لیے بہترین مشعل راہ ہیں۔ ہمیں اور کیا چاہیے۔
خلاصہ سورة اللیل
آخر میں ایک پیارے بھائی صداقت کا بھیجا ہوا '' مجھے اچھے لگتے ہیں ''۔ یہ خوبصورت تحریر مجھے روزنامہ جنگ میں ملی آپ بھی محظوظ ہوں لکھتے ہیں۔ '' مجھے اچھے لگتے ہیں ''۔
'' وہ طلبہ جو دل لگا کر محنت کرتے ہیں۔
وہ لوگ جو دکھی انسانیت کی خدمت کرتے ہیں۔
وہ لوگ جو وقت کی پابندی کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو اخلاق سے پیش آتے ہیں۔
وہ تاجر جو عالم انسانیت کی خیر خواہی میں دعا گو رہتے ہیں۔
وہ دوست جو مشکل وقت میں کام آتے ہیں۔
وہ لوگ جو سچی اور حق بات کی طرفداری کرتے ہیں۔
وہ مسلمان جو موت کی تیاری میں رہتے ہیں۔ موت کو نہیں بھولتے۔
وہ والدین جو حلال روزی سے بچے پالتے ہیں۔
وہ لوگ جو اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں۔ شب و روز عبادت کرتے ہیں۔
وہ لوگ جو دشمن کو معاف کردیتے ہیں۔ اور شیطان سے ہارتے نہیں۔ ''
القرآن۔ '' اور جو پرہیزگار ہے اسے بچا لیا جائے گا ''۔ (سورۃ الیل : 17)
سبق یہی ملتا ہے کہ زندگی کے ہر لمحہ میں اللہ کا خوف اور اس کے سامنے پیش ہونے کو یاد رکھنا ضروری ہے۔ یہی علاج ہے ہماری زندگی کی ہر بیماری کا۔ کیونکہ وقت اجل تو مقرر ہوچکا ہے اور یو مِ حساب بھی مقرر ہوچکا ہے۔ اور جنت و دوزخ بھی تیار ہوچکے ہیں۔ بس اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ لا الہ الا اللہ کا مطلب سمجھ کر زندگی گزاریں۔ کیونکہ صرف زبان سے کہہ دینا ہی کافی نہیں۔
زبان نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں۔
بفضل اللہ سورة الیل مکمل ہوگئی۔ الحمد للہ۔