Ayah 90:1لا اقسم بھذا البلد . لا (لفظاً ) زائد ہے (معنیً ) تاکید قسم کے لیے مفید ہے۔ لا کی زیادتی سے اس طرف
اشارہ ہے کہ جس مدعا کو بیان کیا ہے وہ اتنا واضح الثبوت ہے کہ اسکے لیے قسم کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ھٰذا البلد سے مراد مکہ معظمہ ہے۔
Ayah 90:2وانت حل بھذا البلند . یہ جملہ گزشہ ھٰذا البلد سے حال ہے۔ اللہ نے مکہ کی قسم کھائی لیکن اس قید کے ساتھ
کہ مکہ میں رسول اللہ ﷺ مقیم ہیں اس کی وجہ مکہ کی دوہری فضیلت کا اظہار ہے کہ ایک تو مکہ خود ہی فضیلت والا ہے (کہ اللہ نے اس کی قسم کھائی) دوسری فضیلت یہ کہ رسول اللہ ﷺ اس میں فروکش ہیں (اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کا مکہ میں فروکش ہونا مکہ کی ذاتی فضیلت کو بڑھا دیتا ہے) رسول اللہ ﷺ نے مکہ کو خطاب کر کے فرمایا تھا : تو کیسا پاکیزہ شہر ہے اور اللہ کو کس قدر پیارا ہے۔ اگر میری قوم والے مجھے تیرے اندر سے نہ نکالتے تو میں تیرے علاوہ کہیں نہ رہتا۔ (رواہ الترمذی عن ابن عباس ؓ و قال حدیث حسین صحیح غریب اسناداً ) اسی طرح ترمذی اور ابن ماجہ نے حضرت عبداللہ ؓ بن عدی کی روایت سے ان الفاظ کے ساتھ یہ حدیث نقل کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : خدا کی قسم تو سب سے برتر زمین ہے اور اللہ کو زمین کے ہر حصہ سے زیادہ پیاری ہے۔ اگر مجھ کو تیرے اندر سے نکالا نہ جاتا تو میں نہیں نکلتا۔
حِلٌّ کا معنی مُسْتَحِلٌّ بھی کیا گیا ہے یعنی اس شہر سے تمہارا نکال دیا جانا حلال سمجھا جائے گا۔ جس طرح دوسرے مقامات پر شکار کرنا حلال سمجھا جاتا ہے۔ گویا یہ جملہ کفار کی مذمت کو ظاہر کر رہا ہے کہ یہ لوگ تم کو جلا وطن کرنے اور قتل کردینے کو حلال قرار دیں گے۔
حِلٌّ کا مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ مکہ میں تمہارے لیے کسی کو قتل اور قید کرنا حلال ہے۔ تمہارے لیے یہ حرم نہیں ہے۔ اس صورت میں یہ جملہ آئندہ کے متعلق ایک وعدہ ہوگا کہ آئندہ ایک وقت آئے گا کہ اس وقت اس شہر میں لوگوں کو قتل اور قید کرنا تمہارے لیے حلال کردیا جائے گا۔ چناچہ فتح مکہ کے دن ایسا ہوا کہ حضور ﷺ نے مکہ میں مقاتلہ کیا اور عبداللہ بن حنظل کو مار ڈالنے کا حکم دیا۔ ابن حنظل اس وقت کعبہ کے پردوں کو پکڑے ہوئے تھا اور مقیس بن خبابہ وغیرہ کے قتل کا بھی آپ ﷺ نے حکم دیا۔ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا : آسمان و زمین کے آفرنیش کے دن ہی اللہ نے اس شہر کو حرم بنا دیا تھا۔ پس اللہ کے حرم بنانے کی وجہ سے روز قیامت تک یہ حرم ہے۔ مجھ سے پہلے یہاں قتال کسی کے لیے حلال نہیں کیا گیا اور میرے لیے بھی دن کی صرف ایک ساعت میں یہاں قتال حلال ہوا ‘ اب قیامت تک بحکم خدا یہ حرم ہے ‘ یہاں کی خار دار جھاڑیاں نہ کاٹی جائیں۔ یہاں کے شکار کو نہ نکالا جائے ‘ یہاں گری پڑی چیز کوئی نہ اٹھائے سوائے اس شخص کے جو اس کی تشہیر کرنی چاہتا ہو اور یہاں کی گھاس بھی نہ کاٹی جائے ‘ الخ۔
Ayah 90:3ووالد . بَلَدٍ پر عطف ہے۔ والد سے مراد ہیں حضرت آدم (علیہ السلام) یا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یا ہر والد ‘ کوئی ہو۔
وما ولد . اس سے مراد ہے کُل بنی آدم یا حضرت ابراہیم کی نسل کے پیغمبر یا رسول اللہ ﷺ ۔ لفظ مَا تنکیر پر دلالت کر رہا
ہے اور تنکیر اظہار عظمت کے لیے ہے۔ مَنْ (جس شخص) کی جگہ ما (جس چیز) کا استعمال تعجب کے طور پر ہے جیسے : وَ اللہ ُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ میں (مَنْ کی بجائے) مَا ذکر کیا گیا۔
Ayah 90:4لقد خلقنا الانسان . یہ جواب قسم ہے الانسان میں لام جنسی ہے (کوئی بھی انسان ہو) یا عہد کا ہے یہ اس
روایت کے بموجب ہوگا کہ یہ آیت ابو الاشد کے متعلق نازل ہوئی۔ ابو الاشد کا نام اسید بن کلدہ بن جمج تھا۔ یہ بڑا طاقتور تھا۔ عکاظی چمڑا اپنے پاؤں کے نیچے دبا کر کہتا تھا جو اس چمڑے سے میرے قدم کو ہٹا دے گا ‘ اس کو اتنا انعام ملے گا لیکن کوئی اس کے قد م کو نہ ہٹا سکتا ‘ یہاں تک کہ چمڑا کھینچنے سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا تھا اور قدم اپنی جگہ جما رہتا تھا۔
فی کبد . اگر الانسان سے جنس انسان مراد ہو تو کبدٍ کا معنی ہوگا دکھ ‘ مشقت۔ یعنی ہر انسان کو ہم نے دکھ میں
پیدا کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت قتادہ کا یہی قول مروی ہے۔ عطاء نے حضرت ابن عباس کی طرح مندرجہ ذیل توضیح کی نسبت کی ہے کہ ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا یعنی حالت حمل ‘ پھر ولادت ‘ پھر شیر خوارگی ‘ پھر شیر خوارگی کی انتہا ‘ پھر حصول معاش ‘ پھر (مشاغل) حیات اور آکر میں مرنے کے دکھ میں رکھا۔
عمرو بن دینار نے کہا : منجملہ دکھوں کے دانت نکلنے کا دکھ بھی ہے۔ میں کہتا ہوں یہ دشواریاں تو انسان اور دوسرے جانوروں میں مشترک ہیں صرف انسان کی تخصیص اس لیے کی گئی کہ انسان عقل اور شعور رکھتا ہے۔ کمال احساس کے ساتھ شدائد کو برداشت کرنا ‘ بےشعوری کے ساتھ برداشت کرنے سے زیادہ دشوار ہے۔
میرے نزدیک کَبَدٍ سے مراد اس بار امانت کی برداشت ہے جس کو اٹھانے سے آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں نے انکار کردیا تھا اور انسان نے اس کو اٹھا لیا۔ اب اگر یہ اپنے فرض کو ادا کرے گا تو کامیاب ہوجائے گا۔ اللہ مؤمن مردوں اور عورتوں پر رحم فرمائے گا اگر فرض ادا نہ کرے گا تو تباہ ہوجائے گا اور آخرت کی تکالیف میں مبتلا ہوجائے گا۔ اللہ منافق اور کافر مردوں اور عورتوں کو عذاب دے گا۔ اس مطلب کی بناء پر اس آیت کا مفہوم آیت : وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون کے مفہوم کی مثل ہوجائے گا۔ رسول اللہ ﷺ کو تبلیغ اسلام کے سبب قوم والوں کی طرف سے جو سختیاں جھیلنی پڑتی تھیں ‘ ان کی برداشت کے سلسلہ میں رسول اللہ ﷺ کے لیے اس آیت میں تسکین آفرینی ہے۔ مقاتل نے نزول آیت کو ابو الاشد کے متعلق قرار دیتے ہوئے کہا کہ کبد کا معنی ہے قوت اور طاقت
Ayah 90:5ایحسب . اس کا فاعل الانسان ہے۔ اگر الانسان سے مراد ابو الاشد ہو تو اس کو فریب خوردگی اور غرور سے بازداشت
ہوگی اور اگر جنس انسان مراد ہو تو اس وقت عام انسان کی طرف یحسب کی ضمیر راجع ہوگی مگر (خارج میں کلی کا تحقق افراد اور اشخاص کے بغیر نہیں ہوسکتا ‘ اسلئے ضمیر راجع کرنے کے وقت) بعض اشخاص کا خصوصی لحاظ ہوگا اور کوئی ایسا انسان مراد ہوگا جس سے رسول اللہ ﷺ کو بہت زیادہ دکھ پہنچتا تھا یعنی وہی ابو الاشد اور بعض کے نزدیک ولید بن مغیرہ۔ بہرحال استفہام ‘ انکار اور زجر کے لیے ہے۔
ان لن یقدر علیہ احد . کیا اس کا یہ خیال ہے کہ کوئی بھی اس پر قدرت نہیں رکھے گا۔ ایسا اس کو خیال نہ
رکھنا چاہیے۔ نفی کے بعد اَحَدٌ کو نکرہ لانا مفید عموم ہے (کوئی ایک بھی) ابو الاشد کا گمان تھا کہ عذاب کے فرشتے اس پر قابو نہیں پائیں گے۔ یا اَحَدٌ سے مراد اللہ ہے جس نے ابو الاشد کو اتنی عظیم الشان پیدائشی قوت عطا فرمائی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ خدا کو بھی اس سے انتقام لینے کی طاقت نہیں۔
Ayah 90:6یقول اھلکت مالا لبدا . یہ جملہ یحسب کے فاعل کی حالت کا بیان ہے وہ کہتا ہے میں نے تو خود مال
کثیر خرچ کر ڈالا۔ لبدٌ۔ لبدۃٌ کی جمع ہے لبدۃٌ بہت۔ جمع شدہ۔ کثیر۔ ابو الاشد کا یہ قول یا تو اظہار فخر اور دکھاوٹ کے لیے تھا یا یہ مراد ہے کہ میں رسول ﷺ کی مخالفت میں کثیر مال خرچ کرچکا اسوقت اس جملہ کی غرضیہ ہوگی کہ میں دوسرے قریشی غیر مسلموں کے مقابلہ میں اونچا درجہ رکھتا ہوں (کیونکہ میں نے رسول ﷺ کی عداوت میں کثیر مال خرچ کیا ہے) اسلیے تمام کفار قریش کو میری برتری کا اعتراف کرنا ضروری ہے۔
Ayah 90:7ایحسب ان لم یرہ احد . کیا اس کا یہ خیال ہے کہ اس کو کسی نے نہیں دیکھا۔ یقیناً اللہ اس کو اس وقت
دیکھ رہا تھا جب وہ ریاکاری کے طور پر یا رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں مال خرچ کر رہا تھا۔ اللہ اس سے ضرور باز پرس کرے گا کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔ لامحالہ اس کو اس کی سزا بھی دے گا۔ آیت کی یہ تشریح سعید بن جبیر اور قتادہ کے قول کے موافق کی گئی ہے۔ کلبی کا قول ہے کہ ابو الاشد جھوٹا ‘ شیخی باز تھا جو کثیر مال خرچ کرنے کا دعویٰ کرتا تھا۔ اس نے اپنے بیان کے مطابق مال نہیں خرچ کیا تھا۔ اس جملہ سے پہلے اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَقْدِرَ عَلَیْہِ اَحَدٌ تھا۔ اس جملہ سے زجر و انکار کی مزید تاکید کردی گئی۔
اللہ کو انتقام کی قدرت ہے ‘ اس کے ثبوت کے لیے مندرجہ ذیل دلیل میں اللہ نے اپنی (چند عمومی) نعمتیں ذکر فرمائیں تاکہ منکر بھی اقرار پر مجبور ہوجائے ‘ فرمایا۔
Ayah 90:8الم نجمل لہ عینین . کیا ہم نے اس کی دو آنکھیں نہیں بنائیں ‘ جن سے وہ دیکھتا ہے۔
Ayah 90:9ولسانا . اور کیا اس کی زبان نہیں بنائی جس سے وہ بات کرتا ہے۔
و شفتین . اور دو لب نہیں بنائے جن سے منہ پر پردہ پڑا ہوا ہے اور بولنے ‘ کھانے پینے اور پھونکنے
میں ان سے (بڑی) مدد ملتی ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حدیث میں آیا ہے ‘ اللہ فرماتا ہے کہ اے ابن آدم ! اگر تیری زبان ناجائز چیزوں کے لیے تجھ سے کشاکش کرے تو میں نے اس کے خلاف تیری مدد کے لیے دو ڈھکن تجھے دیئے ہیں تو اس کو ڈھکن میں بند کر دے (اور ناجائز بات زبان سے نہ نکال) اور اگر تیری نگاہ ناجائز چیزوں کے لیے تجھ سے کشاکش کرے تو تیری مدد کے لیے میں نے دوغلاف دے دیئے ہیں ‘ تو ان غلافوں میں اس کو بند رکھا اور اگر تیری شرمگاہ ناجائز امور کی طرف تجھے کھینچے تو میں نے تیری مدد کے لیے دو پردے دے دیئے ہیں ‘ ان پردوں میں اس کو بند رکھ۔
Ayah 90:10و ھدینہ النجدین . اور ہم نے اس کو دو راستے بتا دیئے یعنی دودھ پینے کے لیے (ماں کی) چھاتیاں۔ بروایت
محمد بن کب ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے یہی فرمایا۔ سعید بن مسیب اور ضحاک کا بھی یہی قول ہے لیکن اکثر اہل تفسیر کا قول ہے کہ النجدین سے مراد ہیں خیر و شر۔ حق و باطل اور ہدایت و گمراہی کے راستے۔ مطلب یہ ہے کہ عقل دے کر اور پیغمبروں کو بھیج کر ہم نے اچھائی ‘ برائی واضح کردی۔ اب جو شر کا راستہ اختیار کرے گا اور گمراہ ہوگا اس کا کوئی عذر (قیامت کے دن) قبول نہ ہوگا۔
Ayah 90:11فلا اقتتحم العقبۃ . فَلا میں بعض کے نزدیک لا اپنے اصل معنی (نفی) میں نہیں بلکہ ھلاّ کے معنی میں ہے
کیونکہ جب تک تکرار نہ ہو لا ماضی پر نہیں آتا اس وقت مطلب اس طرح ہوگا کہ اللہ کی طاعت میں مال اس نے کیوں خرچ نہیں کیا کہ اس کے ذریعہ سے گھاٹی کو عبور کرلیتا (زندگی کی یا جنت کی یا طاعت کی گھاٹی) اور رسول اللہ ﷺ کی عداوت میں صرف کرنے سے طاعت رسول میں صرف کرنا اس کے لیے بہتر ہوجاتا۔
بعض علماء نے کہا اس جگہ لا اپنے معنی پر ہے لا کا مدخول اگرچہ لفظاً مکرر نہیں ہے مگر معنوی تعدد ضرور ہے کیونکہ عقبہ کے (مرادی) معنی میں متعدد ہے (عقبہ سے مراد ہے : 1) فک رقبۃ اور 2) اطعام مسکین ‘ 3) اور مؤمن ہونا) ۔ اصل کلام اس طرح تھا : فلافک رقبۃ ولا اطعم مسکینا ولا کان من الذین امنوا۔ نہ اس نے کسی بردہ کی گلو خلاصی کی ‘ نہ مسکین کو کھانا دیا ‘ نہ مؤمنوں میں سے ہوا۔
اوّل الذکر تقدیر پر اس جملہ کا عطف اَھْلَکْتُ مَالاً لُّبَدًا پر ہوگا اور مؤخر الذکر تفسیر پر جواب قسم پر عطف ہوگا۔ مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے انسان کو اوامرو نواہی کے دکھ میں پیدا کیا مگر وہ تعمیل احکام کی گھاٹی میں داخل ہی نہیں ہوا اور نہ اس نے اپنی تخلیق کے مقصد کو پورا کیا یا الم نجعل لہ عینین و لسانًا ..... کے مضمون پر عطف ہوگا۔ مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے اس کی آنکھیں ‘ زبان اور دونوں لب بنائے اور دو راستے بھی اس کو بتا دیئے مگر وہ طاعت کی راہ میں داخل ہی نہیں ہوا کہ ان نعمتوں کا صرف ان کے مصرف میں ہوجاتا اور منعم کے انعام کا شکر (کچھ) پورا ہوجاتا۔
عقبۃ اصل لغت میں پہاڑی راستہ کو کہتے ہیں۔ اقتحام : گھسنا۔ یہاں مراد ہے اوامرو نواہی کی پابندی کی مشقت برداشت کرنا۔ (قتادہ) بعض علمانے کہا کہ اقتحام سے مراد ہے۔ گھاٹی کو پار کرلینا اور اداء واجب سے عہدہ برآ ہوجانا۔ کیونکہ گناہ گار پر گناہ کرنے کا بار اور اداء واجبات کی ذمہ داری پہاڑی گھاٹی کے مشابہ ہے اور فرائض مذکورہ کو ادا کردینا گھاٹی کو عبور کرلینے سے مشابہت رکھتا ہے۔
حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا : یہ عقبہ جہنم کا ایک پہاڑ ہے۔ حسن (بصری) اور قتادہ نے کہا : عقبہ جہنم میں پل سے ورے ایک گھاٹی ہے جس کا عبور اللہ کی اطاعت سے ہوگا۔
مجاہد ‘ ضحاک اور کلبی نے کہا : عقبہ پر ایک پل ہے تلوار کی دھار کی طرح (باریک اور تیز) جس کی چڑھائی اور اتار اور میدانی رفتار کی مسافت تین ہزار برس کی راہ کے برابر ہے۔ اس کے دونوں طرف سعدان کے کانٹوں کی طرح کانٹے اور آنکڑے لگے ہیں ‘ کوئی اس پر سے صحیح سالم نکل جائے گا۔ کوئی خراش اور کھرونچ پا کر اور کوئی سرنگوں جہنم میں چلا جائے گا۔ پھر کوئی بجلی کی طرف گزر جائے گا۔ کوئی تیز آندھی کی طرح ‘ کوئی گھوڑے کے سوار کی طرح ‘ کوئی پیادہ کی طرح ‘ کوئی سرینوں کے بل سرکے گا۔
ابن زید نے کہا : اللہ فرماتا ہے ‘ پھر کیوں راہ نجات پر نہیں چلتا۔ راہ نجات کونسی ہے آئندہ خود ہی اس کو بیان فرما دیا۔
Ayah 90:12وما ادراک ما العقبۃ . اور تم کو کیا معلوم کہ عقبہ کیا ہے ؟ تم کو نہ اس کی صعوبت کا علم ہے ‘ نہ اس کی کثرت ثواب کا۔
ابن عیینہ کا قول ہے کہ جس چیز کے متعلق اللہ نے مَا اَدْرَاک فرمایا اس کی اطلاع (بعد کو) دے دی اور جس چیز کے متعلق مَا یُدْرِیْکَ فرمایا ‘ اس کی اطلاع (کسی کو) نہیں دی۔
اگر عقبہ سے مراد طاعت ہو تو عبارت میں کسی لفظ کو محذوف ماننے کی ضرورت نہیں اور اگر گناہ کا بار مراد ہو تو مضاف محذوف ہوگا۔ کلام اس طرح ہوگا : تم کیا جانو کہ گناہ کے راستہ میں داخلہ اور اس سے خروج کیا ہے۔
Ayah 90:13فک رقبۃ . فَکُّ رَقَبَۃٍ : گلو خلاصی۔ عام ہے۔ پورا غلام آزاد کرنا ‘ یا قیمت دے کر آزاد کروانا ‘ یا مکاتب کی مدد کرنا
یا کسی غلام کی اگر کچھ آزادی باقی ہو تو بقدر آزادی روپیہ سے اس کی مدد کرنا ‘ سب کو یہ لفظ شامل ہے۔ حضرت براء بن عازب کی روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں لے جائے۔
ارشاد فرمایا : تو نے اگرچہ لفظ چھوٹا بولا مگر درخواست لمبی چوڑی کی۔ بردہ آزاد کر اور گلو خلاصی کر۔ اعرابی نے عرض کیا ‘ کیا یہ دونوں چیزیں ایک ہی نہیں ہیں ؟ فرمایا : نہیں ‘ بردہ آزاد کرنا یہ ہے کہ تم تنہا پورا بردہ آزاد کرو اور گلو خلاصی کا یہ مطلب ہے کہ غلام (یاباندی) کی قیمت ادا کرنے میں تم مدد کرو اور منحہ ( بخشش) یہ ہے کہ مہربانی کے ساتھ اپنے ظالم رشتہ دار کی طرف تم خود رجوع کرلو۔ اگر اس کی (یعنی غلام آزاد کرنے کی) تم میں طاقت نہ ہو تو بھوکے کو کھانا کھلاؤ اور پیاسے کو پانی پلاؤ ‘ اچھا کام کرنے کا حکم دو اور بری بات سے بازداشت کرو اگر اس کی طاقت بھی نہ ہو تو کلمۂ خیر کے علاوہ زبان روکے رکھو۔ (بیہقی فی شعب الایمان)
حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے مسلمان بردہ آزاد کیا۔ اللہ اس کے ہر عضو کے مقابل آزاد کرنے والے کے اسی عضو کو دوزخ سے آزادی دے گا۔ یہاں تک کہ اس کی شرمگاہ کے مقابل اس کی شرمگاہ کو۔ (متفق علیہ) عکرمہ نے کہا : فلا رقبۃ سے مراد ہے ‘ گناہوں سے توبہ کر کے اپنے نفس کو آزاد کرنا۔
Ayahs 90:14–16مسغبۃ مقربۃ اور متربۃ تینوں بروزن مَفْعَلَۃٌ ہیں۔ سَغَبَ : بھوکا ہوا۔ قَرُبَ فِی النَّسَبِ : نسب میں قریب ہوا۔ تَرِبَ : فقیر ہوگیا۔ انتہائی محتاجی کی وجہ سے خاک پر پڑگیا۔ بھوکے ہونے کی نسبت یوم کی طرف حقیقی نہیں (دن بھوکا نہیں ہوتا) مجازی ہے۔
Ayah 90:17ثم کان من الذین امنوا . اقتحم پر یا فک پر عطف ہے (بہرحال نفی کے ماتحت ہے) ثُمَّ (تراخی زمانی کے
لیے آتا ہے یعنی ثم کے مابعد کا زمانہ ماقبل کے زمانہ سے مؤخر ہوتا ہے لیکن یہاں ایسا ہونا ناممکن ہے کیونکہ ہر عمل صالح کی بناء ایمان پر ہے اگر عمل صالح مع ایمان نہ ہو تو ایسا عمل آخرت میں مفید اجر نہیں۔ اس لیے اس جگہ ثم کا استعمال مجازی ہے یعنی مرتبہ کا بلند اور بعید ہونا) عتق اور اطعام سے ایمان کے بعید المرتبہ ہونے کو ظاہر کر رہا ہے۔ ایمان بجائے خود مستقل (افادی حیثیت رکھتا) ہے اور تمام طاعتیں ایمان کے ساتھ مشروط ہیں۔
و تو اصوا بالصبر وتلوا صوا بالمرحمۃ . پھر سب سے بڑی بات یہ کہ وہ شخص ان لوگوں میں سے
نہ تھا (یا نہ ہوا) جو ایمان لائے اور ایک نے دوسرے کو نصیحت کی گناہوں سے بچنے کی ‘ طاعت پر پابندی کی اور راہ حق میں پیش آنے والے مصائب پر ثابت قدم رہنے کی اور اللہ کے بندوں پر رحم کرنے یا ایسے اعمال اختیار کرنے کی جو اللہ کی رحمت کے جاذب ہیں۔
Ayah 90:18اولئک اصحب المیمنۃ . مندرجہ بالا صفات کے حامل بابرکت ہیں اور دائیں جانب والے ہیں۔
Ayah 90:19والذین کفروا بایتنا . اور جن لوگوں نے ہماری آیت یعنی قرآن کو یا ہمارے قائم کردہ دلائل صداقت
یعنی کتاب اللہ اور حجت عقلیہ کو نہ مانا۔
ھم اصحاب المشئمۃ . وہی لوگ منحوس یا بائیں طرف والے ہیں۔
Ayah 90:20علیھم نار موصدۃ . وہی آگ کے طبقات میں بند کیے جائیں گے۔
موصدۃ ‘ او صدت الباب سے بنایا گیا ہے۔ میں نے دروازہ بند اور مقفل کردیا۔
سورۃ البلد ختم ہوئی ‘ بعونہٖ و منہٖ تعالیٰ