Ayahs 90:1–4ترکیب ¦ لا قدمر الکلام فیھا فقیل زائدۃ وقیل لالنفی کلام الکفار وقیل لنفی القسم بظھور الامر ای لاحاجۃ الی القسم بھذہ الاشیاء والمراد بالبلد عند جمھور المفسرین مکتہ والبلدیذکر و یؤنث والجمع بلدان والبلدۃ بالفتح جمعھا بلاد بالکسر وانت حل الخ قال الواحدی الحل والحلال والمحل واحد وھو ضدالحرم ای فاحل اللہ لنبیہ ﷺ القتال فی مکۃ وقد انجز اللہ تعالیٰ وعدہ یوم الفتح فالجملۃ معترضۃ بین المقسم بہ وما وعطف علیہ وقیل معناہ حال ای اقسم بھذا البلد وانت مقیم فیہ تشریفاً لک وتعظیما لقدرک اولا اقسم بھذا البلد حال کو نک مقیما فیہ بل اقسم بک فعلی ھذا الجملۃ منصوبۃ محلاً والدوما ولد معطوف علی البلد وما بمعنی من لقد خلقنا الجملۃ جواب القسم فی کبد حال ای مکابد واصل الکبد الشدۃ ومنہ تکبد اللبن اذا اشتد وغلظ ثم استعمل فی کل مشقۃ وشدۃ وقیل الکبد الاستواء والاستقامۃ (ابن کثیر)
تفسیر : یہ سورة بھی جمہور کے نزدیک مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ ابن عباسو وابن الزبیر ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ اس میں بیس آیات ہیں اور اس کا نام سورة بلد اس لیے ہے کہ اس کے اول میں بلد یعنی شہر مکہ کی قسم ہے۔
سورة فجر میں ذکر تھا کہ عاد وثمود و فرعون کو ہم نے ہلاک کردیا ہے۔ دنیاوی اسباب پر غرور کرکے خدا تعالیٰ سے سرکشی کرنا اپنے سر پر قہر الٰہی لینا ہے۔ اس بات پر کفار مکہ آنحضرت ﷺ کو کہتے تھے کہ اس میں آپ کا امتحان ہے تو ہم پر بھی عاد وثمود جیسا عذاب نازل کرا دو ٗ اگر سچے ہو۔ چاہیے کہ مکہ شہر غارت ہوجاوے۔ اس سورة میں ان کے اس واہی شبہ کا مکہ کی قسم کھانے کے پیرایہ میں جواب دیا جاتا ہے کہ یہ شہر مقدس ہے اس میں کعبہ ہے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ کا بنایا ہوا سب دنیا کے معابد سے اول معبد یہی ہے اور نیز ہمارے نبی کریم ﷺ بھی یہیں رہتے ہیں ما کان اللہ لیعذبہم وانت فیہم ہمارے نبی کا مولد اور اسلام و برکات کا سرچشمہ بھی یہی ہے۔ پھر تم بیہودہ لوگوں کے کہنے سے ہم اس کو کیوں غارت کرنے لگے۔ تم خود ہی برباد ہوجاؤ گے جیسا کہ فی کبد میں اشارہ ہے اور نیز یہ بھی مناسبت ہے کہ سورة فجر میں بدوں پر دنیا اور آخرت میں عذاب نازل ہونا اور نیکوں کو راحت ملنا مذکور تھا جس سے یہ بات پائی جاتی تھی کہ انسان دنیا میں محض عیش و کامرانی کے لیے نہیں بنایا گیا ہے جیسا کہ اور حیوانات ہیں جن کا کام صرف پیٹ بھر کر کھانا اور سو رہنا اور خرمستی کرنا ہے نہ ان کو آیندہ کی فکر ہے نہ کوئی تدبیر درپیش ہے بلکہ انسان کو عقل و ادراک دیا گیا ہے۔ اس لیے یہ مکلف ہے۔ اسی مضمون کو اسکے مناسب چند چیزوں کی قسم کھا کر لقد خلقنا الانسان فی کبد میں بیان فرماتا ہے۔ فقال لا اقسم بہذا البلدوانت حل بہذالبلد کہ میں قسم کھاتا ہوں اس شہر مکہ کی اور تم کو اے محمد ﷺ قید نہ رہے گی۔ اس شہر میں بلکہ یہاں کافروں سے لڑنا حلال ہوگا۔ گویا اس نرغہ کے وقت آپ کو بشارت دی جاتی ہے کہ گویا شہر مقدس ہے۔ اس میں شکار کی بھی ممانعت ہے۔ قتل و قصاص کیسا ؟ لیکن ان بدبختوں کی شرارت کے سبب ایک بار آپ کو ان سے انتقام لینا اور ان کو سرکشی کی سزا دینا اس شہر میں حلال ہوجاوے گا۔ چناچہ حدیث متفق علیہ میں آیا ہے کہ یہ شہر محرم ہے۔ اللہ نے اس کی حرمت قائم کی ہے۔ قیامت تک نہ یہاں شکار کھیلا جاوے گا نہ گھاس کاٹی جاوے۔ صرف میرے لیے ایک ساعت کے لیے یہاں کفار سے جنگ کرنا حلال ہوا ہے لیکن پھر اس کی وہی حرمت عود کر آئی ہے ( یہ معنی ہیں ابن عباس و سعید بن جبیر وابی صالح و عطیہ و ضحاک و قتادہ وسدی ابن زید کے نزدیک) اس میں ان کے اس شبہ کا جواب بھی ہے جو کہتے ہیں کہ پھر مکہ کیوں ہلاک نہیں کیا جاتا ؟ یعنی صبر کرو ابھی نبی ﷺ کے لیے مباح ہوا جاتا ہے تمہاری گردنیں ماری جاتی ہیں۔ اس پیشین گوئی کو خدا تعالیٰ نے فتح مکہ کے روز سچا کردیا۔ آپ شوکت و جلال سے یہاں آئے اور دشمنان خدا سے انتقام لیا گیا۔ بعض علماء اس کے یہ معنی بیان کرتے ہیں کہ میں اس شہر مقدس کی قسم کھاتا ہوں کیونکہ یہاں جانوروں پر بھی ظلم ممنوع ہے۔ سب کو امن ہے کوئی اپنے باپ کے قاتل کو بھی یہاں نہیں مارتا۔ یہ سب کچھ ہے مگر وانت حل بہذا البلد تم اے نبی اس شہر میں حلال ہو۔ تمہارے ساتھ یہ کچھ کر رہے ہیں ٗ ظلم و ستم مار دھاڑ سب تم سے روا ہے گویا یہ قریش مکہ پر تعریض ہے کہ اور چیزوں کا مارنا تو ممنوع ہے مگر ہمارے نبی معصوم کا خون مباح اور حلال۔ یہ کیسا انصاف اور کونسی عقل ہے ؟ بعض علماء حل کے معنی کہتے ہیں مقیم کہ ہمیں اس شہر کی قسم جبکہ تم اس میں مقیم ہو۔ اس کی برکت و حرمت زیادہ تمہارے سبب سے ہے اور بعض فرماتے ہیں لانفی کے لیے ہے کہ جس وقت آپ اس شہر میں ہیں ہم کو اس کی قسم کھانے کی حاجت نہیں بلکہ آپ کی کھانی چاہیے کیونکہ تم ہی تو اس شہر کی برکت اور روح رواں ہو اور لطف یہ کہ تمہیں پر یہ ظالم ظلم کر رہے ہیں۔
ووالدوماولد اور قسم ہے والد کی اور اس کی جو اس سے پیدا ہوا۔ یہ عام ہے بعض کہتے ہیں کہ والد سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ابو البشر ہیں۔ ماولد سے ان کی اولاد۔ ان چیزوں کی قسم کھا کر فرماتا ہے۔ لقد خلقنا الانسان فی کبد کہ ہم نے انسان کو مصیبت و مشقت کے لیے بنایا ہے۔ پھر اس پر یہ غرور اور سرکشی جو خدا کے بندوں میں داخل ہونے سے دور بھاگتا ہے۔ یہ مناسبت ہے اس سورة کو سورة فجر ہے۔
اس مضمون سے ان چیزوں کو کہ جن کی پہلے قسم کھائی یہ مناسبت ہے کہ شہر مجمع خلائق ہوتا ہے۔ حاجت ایک دوسرے سے تمدن میں پڑتی ہے ٗ کوئی بیکار نہیں رہتا کوئی کپڑا بنتا ہے تو کوئی بڑھئی کا کام کرتا ہے علی ہذا القیاس۔ ہر ایک ایک نہ ایک دھندے اور مشقت میں ہے اور بالخصوص مکہ شہر جہاں اول تو اس کی پہاڑی اور ریگستانی زمین کی وجہ سے مشقت ہے۔ جہاں نہ کوئی باغ نہ کھیتی نہ کنوئوں میں میٹھا پانی اور نیز گرم جگہ جہاں باد سموم چلا کرتی ہے اور جب سے آنحضرت ﷺ مبعوث ہوئے تو اور بھی دینداروں کو مصیبت و مشقت ہوگئی۔ آئے دن کی مار پیٹ گالی گلوچ شروع ہوگیا تھا اور والد اپنی اولاد سے مشقت اور فکر معیشت اور تدبیر تربیت میں مبتلا ہوتا ہے۔ بچوں کی بیماریاں اور پھر جوان ہو کر مرجانے کے صدمے اور پھر نالائق اٹھنے کے دکھ باپ ہی سے پوچھنے چاہییں اور اس پر ان کے لیے رزق و آسائش کے سامان بہم پہنچانے اور ان کو آرام دینے آپ دکھ اٹھانے کا حال بھی ہر ایک صاحب اولاد پر ہے اور بچہ بھی دنیا میں آکر کیسے کیسے مصائب اٹھاتا ہے ٗ نو مہینے رحم میں خون کھا کر تنگ رستہ سے نکلنا۔ پھر دانتوں کی تکلیف ٗ آنکھوں کی تکلیف اور صدہا تکالیف ہیں کہ جو ضعیف البنیان بچوں کو ان کی جسمانی حالت سے پہنچتی ہیں اور ماں باپ کو روحانی صدمہ ہوتا ہے۔ اس لیے یہ فرمانا کہ انسان کو مشقت و مصیبت کے لیے پیدا کیا ہے بہت ٹھیک ہے۔ کیا خوب کہا ہے کسی نے ؎
جگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہوگا
کہ نہ ہنستے ہی رو دیا ہوگا
دل زمانہ کے ہاتھ سے سالم
کوئی ہوگا جو بچ رہا ہوگا
اس مشقت کی تصویر بعض اکابر نے یوں کھینچی ہے کہ اول تو انسان کی خلقت میں آب ‘ باد ‘ خاک ‘ آتش ایسی چارچیزیں متضاد جمع ہیں کہ ہر ایک کا غلبہ اعتدال سے دور کرکے طرح طرح کی اذیتیں پہنچاتا ہے ؎
گری کے زمین جہارشدہ غالب
جان شیریں برآید از قالب
دوم رحم میں محبوس ہونے اور طرح طرح کے مصائب اٹھانے کی مشقت۔ سوم باہر آنے کی مشقت۔ چہارم لڑکپن میں ضعیف البنیان ہونے کے سبب طرح طرح کے امراض کی مشقت کہ کسی سے کچھ کہہ بھی نہیں سکتا۔ پنجم دانتوں کے نکلنے کی مشقت۔ ششم مکتب و مدارس میں تعلیم کی مصیبت۔ ہفتم جب عقل و بلوغ کی بیڑی پائوں میں پڑی تو قوائے شہوانیہ و سبعیہ و حرص اور ان کے ثمرات کی ایسی مشقت کہ الٰہی توبہ ! ایک ذرا سی دیر کے مزے کے لیے عزت ‘ مال ‘ تندرستی ‘ دین سب کو خیر باد کرتا ہے اور رسوائے خلائق ہوتا ہے۔ پھر غصہ ہے کہ شیر بھیڑیا بنا کر مخلوقِ الٰہی کے درپے آزار کرتا ہے جس سے خلق کی بدگوئی اور دنیا کی نفرینیاں اس کو نصیب ہوتی ہیں۔ پھر کبھی حرص و طمع چند دانوں (یعنی غلہ) کے لیے سخت گرمی اور سردی برسات اور خشکی میں آرام سے نہیں بیٹھنے دیتی۔ بیلوں کے پیچھے دوڑاتی ہے چند روپیوں کے لیے فوج میں نوکر ہو کر کیا کیا مصائب دیکھ کر سر کٹواتا ہے۔ چند پیسوں کے لیے دن بھر دکان یا کارخانہ میں مقید رہتا ہے۔ پھر حرص و حسد کی آگ ہمیشہ دل میں شعلے مارتی رہتی ہے۔ جو کچھ نعمتیں اس کو میسر ہیں ان کا مزہ اور ان سے تمتع بھی نصیب نہیں ہوتا۔ پھر حب جاہ و مال اور نام آوری کی حرص ہوئی تو اس کو ایسے ایسے ہولناک گڑھے جھکواتی ہے۔ ہشتم طبیعت کی عقل و دین سے لڑائی کی مصیبت۔ عقل کہتی ہے۔ یہ کام نہ کر اس میں تیری رسوائی اور سخت نقصان ہے مگر طبیعت نہیں مانتی۔ دین یا الہامِ الٰہی کہتا ہے کچھ آخرت کا توشہ ساتھ لے تجھے یہاں سے بہت جلد جانا ہے اور ایسا جانا کہ پھر کر نہیں آنا ہوگا۔ عبادت کر ‘ خیرات کر ‘ خلق خدا کے ساتھ نیکی کر ‘ صداقت و بردباری اپنا شیوہ بنا۔ مسافرانہ زندگی بسر کر۔ مگر کمبخت طبیعت ادھر نہیں آنے دیتی۔ حرام کاری فسق و فجور سے شرع روک رہی ہے ٗ طبیعت ابھار میں ہے صبح کو بفتوی شرع و خرد توبہ کرتا ہے رات کو بحکم نفس اس کو توڑ کر جو نہیں کرنا وہ کرتا ہے۔ یہ تو وہ مصائب تھے جو خاص اس کی ذات سے متعلق تھے۔ اب جن میں دوسروں کا بھی تعلق ہے وہ سنئے۔ رعیت کو بادشاہ کی اطلاعت بلکہ غلامی اور کار بیکار و خراج و ٹیکس کی مصیبت ‘ بادشاہ کو جہانداری و حفظ سلطنت کی مصیبت ‘ نوکر کو آقا کی اطاعت کی مشقت ‘ آقا کو اپنے ملازمین کی نگہداشت اور تمردو خیانت کی مشقت ‘ بیوی کو میاں کی اطاعت و بچہ کشی کی مشقت ‘ میاں کو بیوی کے اخلاقِ بد اور خیانت مال یا اس کے جا بجا مصارف اور فرمائشات کے برداشت کرنے کی مشقت ‘ ماں باپ کو اولاد کی پرورش اور بیماری میں ان کے درد و غم کھانے کی مشقت ‘ اولاد پر مادر و پدر کی خدمت و اطاعت کی مشقت ‘ پھر احباب وہم وطن و ہمسایوں کے خوش رکھنے کی مشقت۔ یہ تو دنیا کی مشقتیں تھیں اب آگے کی سنئے۔ نزع کی مشقت ‘ تنگی قبر اور مفارقت مال و اولادواحبہ کی مشقت پھر اگر شقی ازلی ہے تو ابدی جہنم کی مشقت اور مصیبت پر مصیبت کبد بفتح ب بمعنی مشقت اور بکسرب بمعنی جگر۔ جگر غذا کے پکانے اور خون بنا کر اعضاء میں تقسیم کرنے کا ذمہ دار ہے۔ ابن مسعود و ابن عباس ؓ و عکرمۃ و مجاہد و ابراہیم نخعی اس کے معنی یہ کہتے ہیں کہ انسان برابر پیدا کیا گیا۔ اس کی آفرنیش میں کوئی قصور نہیں ٗ اندھا نہیں ٗ اپاہج نہیں سمجھ بوجھ سب کچھ دیا گیا ہے پھر کیوں ہلاکت کے گڑھے میں گرتا ہے۔ میرے نیک بندوں میں داخل نہیں ہوتا۔
Ayahs 90:5–7ترکیب ¦ أالہمزۃ للاستفہام الانکاری یحسب فاعلہ الضمیر یرجع الی الانسان ان مخففۃ من الثقیلۃ واسمہا ضمیر الشان مقدر والجملۃ مفعول یحسب یقول جملۃ مستانفۃ اھلکت صرفت لبدا صفت مالا قال ابو عبیدہ لبد فعل من التلبید وھو المال الکثیر بعضہ علی بعض وقال الفراء جمع لبدۃ وقال بعضھم ھو واحد أالاستفہام للانکار ان انہ لم یرہ احد خبران والجملۃ مفعول یحسب۔
تفسیر ¦ یعنی باوجود یکہ انسان مصائب کش پیدا ہوا ہے سدا کا دکھیا ہے پھر اس پر بھی اس کو یہ غرور و پندار ہے ایحسب ان لن یقدر علیہ احد کیا یہ خیال کر رہا ہے کہ مجھ پر کوئی قابو نہیں پاوے گا۔ میرے اعمالِ بد کی سزا مجھے کوئی نہیں دے گا جو چاہوں کروں۔ گویا حشر کا انکار کرتا ہے اور دنیا میں بھی اعمالِ بد کی سزا کا منکر ہے اور اپنی تھوڑی سی کامیابی اور دنیاوی اسباب پر یہ گھمنڈ کرتا ہے۔ بعض مکہ کے کفار تو اپنے مال و اولاد کے گھمنڈ پر خدا تعالیٰ کے زواجر سن کر صاف صاف کہہ دیا کرتے تھے کہ وہ اور ہی لوگ تھے جن کو خدا نے غارت کردیا ہم پر کون قادر ہوسکتا ہے۔ کس کا قابو چل سکتا ہے۔ یقول اھلکت مالا لبداء کہتا ہے کہ میں نے اپنی حفاظت میں بہت سامال صرف کردیا ہے۔ بڑے عمدہ گھوڑے لڑائی کے قابل اور بڑے عمدہ ہتھیار خریدے ہیں۔ بہت لوگوں کو کھلا پلا کر تنخواہیں دے کر تیار کیا ہے۔ پھر وہ بوقت مقابلہ ہمارے ساتھ ہیں اور نیز آنحضرت ﷺ کی عداوت اور دین الٰہی کے برباد کرنے کے لیے بھی وہ بہت کچھ خرچ کرتے تھے۔
اور لوگ بھی گو صاف یہ نہیں کہتے مگر ان کی حالت تکبر اور معاصی پر اصرار یہی کہہ رہا ہے۔ دنیاوی بادشاہ اپنی فوجوں اور اعوان و انصار و اسلحہ و آلات پر نازاں ہوا کرتے ہیں جن پر بیشمار روپیہ صرف کرچکے ہیں۔ کروڑہا روپیوں سے جنگی جہاز اور عمدہ توپ خانے اور کیا کیا سامان بہم پہنچائے اور اس زور میں آکر کفر بکتے ہیں۔ بدکاری کرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ ہمیں کون مغلوب کرسکتا ہے۔ حالانکہ روز مرہ کے حالات بتا رہے ہیں کہ وہ بالکل بس میں ہیں۔ یہ جملہ یقول اھلکت اس کے گمان کرنے کی وجہ ہے یعنی اس لیے گمان کرتا ہے کہ اس کا اعتماد عزت و جاہ پر ہے جو مال صرف کرنے سے پیدا کیا ہے اور بعض تو اپنے الٰہ باطلہ کے نذرو نیاز میں صرف کرنے کو اپنی حفاظت کا ذریعہ سمجھا کرتے ہیں اور کہتے ہیں فلاں دیو اور دیوتا کی نذر و نیاز میں میں نے ڈھیروں خرچ کردیا ہے وہ میرے حامی ہیں ٗہمیں کوئی آسیب نہیں پہنچتا۔
الغرض دنیاوی تحفظ و استحکام میں جو کچھ اس نے خرچ کیا ہے اس کو اپنے قیام و دوام کا سبب جانتا ہے اور قادر حقیقی کی قدرت کاملہ پر غور نہیں کرتا کہ وہ کیا تھا پھر اس کو کیا کردیا۔ کیا اس کی اول حالت کسی نے نہیں دیکھی۔ ایحسب ان لم یرہ احد ضرور دیکھی ہے۔ وہ پہلے ایک قطرہ منی تھا پھر پیدا ہوا تو ایسا بےبس تھا کہ آپ سے منہ سے مکھیاں بھی نہ مار سکتا تھا۔ نہ کچھ ہوش و ادراک تھا نہ اس کے پاس کچھ مال و زر تھا نہ کچھ زور و بل تھا پھر جس نے یہ زور و زر ‘ ہوش و ادراک عطا کیا۔ کیا وہ اس کو پھر لے نہیں سکتا ؟ ضرور لے سکتا ہے وہاں کچھ مال و زر کام نہیں آتا۔ بڑے بادشاہ بڑے مالدار جب بیماری یا اور کسی آسمانی بلا میں مبتلا ہوتے ہیں تو تمام مال و زر دھرا سوکتا ہے پھر اس پر یہ غرور ‘ یہ سرکشی۔ اگلی آیات الم نجعل لہ عینین میں اسی بات کو بیان فرماتا ہے۔
Ayahs 90:8–20ترکیب ¦ الم نجعل الاستفہام للتقریر الجعل بمعنی الفعل فعینین مفعول لہ متعلق بنجعل ولسانا وشفتین معطوفان علی العینین النجدین مفعول ثان لھدینا والضمیر المنصوب مفعول اول۔ قال اھل العربیۃ النجدا لطریق فی الارتفاع فکانہ لما وضحت الدلائل جعلت کالطریق المرتفعۃ العالیۃ بسبب انھا واضحۃ للعقول کو ضوح الطریق العالی للابصار فالمراد بھما عند عامۃ المفسرین سبیلا الخیر والشروعن ابن عباس وعکرمۃ و سعید بن المسیب والضحاک النجدان الثدیان فھدی اللہ سبحانہ فی بدء الولادۃ الطفل الثدین فلا اقتحم لا حرف التخضیض والاقتحام الدخول فی الامر الشدید یقال قحم یقحم قحوما واقتحم اقتحا و تقحم تقحما اذا رکب القحم وھی المھالک والامور العظام۔ العقبۃ مفعولہ۔ وھی طریق فی الجبل والجمع العقب والعقاب وھو مثل ضربہ اللہ سبحانہ المجاھدۃ النفس والھویٰ فی اعمال الخیر وکف النفس عن اللذات والشہوات الغیر المرضیۃ فک رقبۃ الخ تفسیر للعقبۃ وما ادراک جملہ معترضۃ اور دت لبیان شان العقبۃ اواطعام عطف علیٰ فک رقبۃ وھما مصدران والتقدیرھی فک اوا طعام وقیل ھما فعلان ویؤیدہ ما بعد ھما وھو قولہ تعالیٰ ثم کان۔ ذی مسغبۃ صفۃ لیوم والسغب الجوع والساغب الجائع والمسغبۃ مفعلۃ منہ یتیما مفعول اطعام وقری الحسن ذا مسغبۃ بالنصب علی انہ مفعول اطعام ای یطعمون ذا مسغبۃ ویتیما بدل منہ او مسکینا معطوف علیٰ یتیما ذا متربۃ صفۃ لمسکینا یقال ترب الرجل یترب تربا ومتربۃ اذا افتقر حتی لصق بالتراب ثم کان عطف علی المنفی بلاوثم للتراخی فی الذکر لا فی الوجود کقولہ ؎
ان من سادثم ساد ابوہ
ثم قد ساد قبل ذلک جدہ
لم یرو بقولہ ثم سادا بوہ التاخر فی الوجود وانما المعنی ثم اذ کر انہ سادا بوہ کذا المراد فی الآیہ وتواصوا معطوف علی امنوا ای اوصی بعضھم بعضا بالصبر علی طاعۃ اللہ ومن معاصیہ وعلی ما اصابھم من البلایا والشدائد فی دین اللہ مؤصدۃ ای مطبقۃ مغلقۃ یقال اصدت الباب و او صدتہ اذا اعلقۃ قرء الجمہور بالواؤ وقری بالھمزۃ والمعنی واحدو والمراد علیھم نار ابو ابھا مغلقۃ لا تفتح ابداً وقیل المراد احاطۃ النیران بھم من جمیع الجھات۔
تفسیر ¦ فرماتا ہے الم نجعل لہ عینین کہ کیا ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں نہیں پیدا کردیں ؟ اس میں چند چیزوں کی طرف اشارہ ہے : (1) اندھا نہیں ہے ٗ دیکھ سکتا ہے کہ ایسا ناپاک مال اور پاک بھی ہو تو ایسے نفس کو خوش کرنے والے کاموں میں صرف کرنا کوئی نیکی نہیں۔ ہرچند یہ بات محسوس نہیں مگر بمنزلہ محسوس کے ہے جس کو ہر ایک آنکھوں والا بخوبی دیکھ سکتا ہے۔ (2) مال کے خرچ کرنے کا فخر بےجا ہے۔ مال حاصل کرنے کے آلات جن میں سے اعلیٰ چیزیں آنکھ اور زبان اور لب ہیں وہ تو ہم نے ہی پیدا کردیے ہیں۔ پھر اس نے کیا کمایا۔ اندھا اپاہج ہوتا تو کیا کماتا۔ (3) آنکھیں ہیں تو جا کر دیکھ لے کہ اس سے پہلے لوگ عاد وثمود جو اس سے کہیں زیادہ فخر و نام آوری و تحفظ کے کاموں میں صرف کیا کرتے تھے ہلاک ہوئے۔ (4) یہ سمجھنا کہ مجھے کسی نے نہیں دیکھا ٗ نہ میرے اسرارِ دل پر کوئی واقف ہے۔ یہ بھی غلط ہے کس لیے کہ جب ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں پیدا کردی ہیں جو سیاہ اور سفید میں فرق کرسکتی ہیں تو پھر ہمارے علم و بصیرت کا کیا انتہاء ہے۔ صرف دو آنکھیں ہی نہیں پیدا کردی ہیں بلکہ لسانا زبان بھی پیدا کردی ہے۔ خود عقل نہیں تو پوچھ دیکھے اور نیز یہ بھی سمجھے کہ جس نے مجھے زبان عطا کی ہے جو میرے اندرونی اسرار کو ظاہر کرنے کا آلہ ہے تو کیا وہ اندرونی اسرار نہیں جان سکتا ؟ اور نیز زبان ایک ایسا آلہ ہے کہ میٹھے اور کڑوے میں امتیاز کردیتا ہے۔ تلخی اور شیرینی کے اقسام اور مراتب پہچان سکتا ہے نعمائِ الٰہی کے کھانے پینے کا مزہ اسی سے وابستہ ہے۔ پھر انسان سمجھ لے کہ لسان غیب میرے اندرونی حالات کیونکر نہ بیان کر دے گی اور زبان غیب نیک اور بد کاموں کا فرق کیونکر نہ بیان کر دے گی مگر سننے والے کے لیے کان ہوں تو سن لے کہ ہر دم لسان غیب سے کیا آوازیں آیا کرتی ہیں اور صرف زبان پر ہی بس نہیں کی۔ وشفتین دو ہونٹ بھی بنا دیے جن سے تکلم میں مدد پہنچتی ہے اور جن سے چوسنے اور پھونکنے کا کام چلتا ہے اور یہ دونوں منہ کے دو کواڑ بھی ہیں اور چہرہ کی خوشنمائی بھی۔ خلاصہ یہ کہ انسان کی قوت و اکتساب کے آلات آنکھیں ‘ زبان ‘ لب ہم نے پیدا کئے ہیں پھر اس کو کا ہے پر غرور ہے اور نیز یہ سعادت حاصل کرنے کے بھی آلات ہیں۔ ان کو کیوں کام میں نہیں لاتا۔ کیوں بری جگہ استعمال کرتا ہے۔ علماء نے فرمایا ہے کہ دو آنکھ ایک زبان پیدا کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ اس کا دیکھنا عام ہے۔ خیر کو دیکھتا ہے شر کو بھی مگر کہنا خاص ہی رہنا چاہیے۔ صرف خیر کا کلمہ منہ سے نکالنا چاہیے۔ بری بات منہ سے نہ نکالے اور نیز دو ہونٹ اس کے دو کواڑ ہیں جو ہر وقت اس پر مؤکل ہیں کہ دیکھ جو کچھ کہنا ہو سمجھ کر کہیو۔ نیک بات کہیو کس لیے کہ تو دل کی کنجی شمار ہوتی ہے۔
ترمذی نے عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ یا حضرت نجات کس چیز میں ہے ؟ فرمایا کہ اپنی زبان بند کر اور گھر میں گوشہ نشین بن کر بیٹھ اور اپنے گناہوں پر رویا کر۔ بزرگوں نے فرمایا کہ زبان سانپ ہے اس کا گھر منہ ہے ٗ اس لیے کوئی شاعر کہتا ہے ؎
احفظ لسانک ایہا الانسان
لا یلد غنک انہ ثعبان
کہ اے انسان اپنی زبان کو حفاظت سے رکھ یہ سانپ ہے کہیں تجھے ڈس نہ لے۔ حفظ لسان اور کم گوئی کے فوائد اور زیادہ گوئی کے نقصان علماء و حکماء نے نظم و نثر میں بہت بیان کئے ہیں۔ احادیث صحیحہ میں سب سے زیادہ مذکور ہیں۔
فائدہ 1۔ ان اعضاء کے یہاں ذکر کرنے سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ انسان جب ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے تو اس وقت اس کی غذا صرف ماں کا دودھ ہی ہوتی ہے۔ اس کے پینے میں یہ اعضاء کام آتے ہیں۔ پھر جب وہ اپنی غذا پر قادر نہ تھا تو اور مال اس نے اپنی ہمت اور کوشش سے بغیر ہماری مدد کے کیونکر پیدا کرلیا جس کے خرچ کرنے کا فخر کرتا ہے۔
اور ان اعضاء ہی پر بس نہیں بلکہ وھدیناہ النجدین 1 ؎ اس کو نیکی اور بدی کے دو رستے بھی سوجھا دیے۔ مضر اور مفید کی پہچان عطا کردی۔ دنیاوی امور سے لے کر اخروی تک سب کو انسان (بشرطیکہ تھوڑی دیر کے لیے شیطانی عوارض دور ہوجاویں) بخوبی پہچان سکتا ہے۔ خود اس کا دل فتویٰ دے سکتا ہے کہ یہ نیکی ہے ٗ یہ بدی ہے۔ اس جگہ مال خرچ کرنا حق سبحانہ کی خوشنودی کا باعث ہے کہ نہیں پھر کیوں عذر کرتا ہے کہ مجھے نیکی کا رستہ معلوم نہیں۔ بعض علماء نجدین سے مراد دو پستان لیتے ہیں کہ یہ بھی تتمہ ہے بیان سابق کا کہ ہم نے دودھ پینے کے آلات عطا کئے اور ماں کی چھاتیاں بنائی ہیں خود بخود ملہم غیبی کے کہنے سے بچہ ماں کی چھاتیوں کی طرف قصد کرتا ہے۔
پھر جب نیکی اور بدی کے دو بلند نشان بتا دیے تو فلا اقتحم العقبۃ 2 ؎ پھر نیکی کی گھاٹی میں کیوں نہیں گھستا۔ اس سخت اور اونچی چڑھائی پر کیوں نہیں چڑھتا جس پر چڑھنا نفس کے خلاف ہے اور بدی کا رستہ خواہش نفسانی کے موافق ہوتا ہے۔ اس لیے اس پر چلنا آسان معلوم ہوتا ہے مگر اس میدان دشوار گزار کو وہی طے کرتے ہیں جو جوانمرد ہیں اور جن کی تقدیر میں سعادت ازلی ہے ؎
گوئے توفیق وسعادت درمیاں افگندہ اند
کس بمیداں در نمی آید سواراں راچہ شد
یہ گھاٹی بڑی دشوار گزار ہے کیونکہ اس میں سے گزرنا نفس کے خلاف ہے۔ اس لیے آپ ہی پوچھتا ہے وما ادراک ما العقبۃ اور اے انسان ! تجھے کیا معلوم کہ وہ گھاٹی ہے کیا ؟ پھر آپ ہی بیان فرماتا ہے فک رقبۃ۔ اب نیکی کے اقسام ارشاد ہوتے ہیں۔ اول فک رقبۃ ہے یعنی گردن کا چھڑانا۔ یہ لفظ عام ہے اس میں کئی معنی ہیں (1) غلام کا آزاد کردینا یا اس کی قیمت مالک کو ادا کرکے آزاد کرا دینا۔ عرب میں غلاموں پر ایام جاہلیت میں بڑی سختی ہوتی تھی۔ ان کو بہائم مرتبہ میں رکھ کر سخت مشقت کے کام لیا کرتے تھے۔ اسلام نے اس رسم میں بھی اصلاح کی اول تو آزادی کی بڑی ترغیب دلائی اور جو کسی کے پاس رہ جاوے تو اس کے ایسے حقوق قائم کئے کہ پھر غلام کو غلامی میں آزادی ہے۔ کوئی تکلیف باقی نہیں رہتی (2) جو کوئی قصاص میں گرفتار ہوا اس کا خون بہا ادا کرکے اس کو آزادی دلانا۔ (3) کسی نادار قرض دار کو قرضہ معاف کرکے خود آزادی دینا یا ادا کرکے اس کی گردن کو اس سخت پھندے سے چھڑا دینا۔ (4) کوئی ظالم زبردستی اور ناحق کسی کو بیگار قید میں پکڑ لے ٗ اس کی خلاصی کرانا خواہ بقوت بازو ‘ خواہ مال دے کر۔ (5) اپنے آپ کو حقوق العباد و حقوق اللہ سے ادا کرکے رہائی دلانا اپنی گردن میں سے یہ پھندا نکالنا ہی حریۃ کبریٰ اور اصل آزادی ہے جس کے بعد سعادت عظمیٰ ہے ورنہ غلامی کی قید میں پڑا ہوا ہے۔ یہ کام ہیں مال صرف کرنے کے۔
1 ؎ نجد بلند جگہ اس کی جمع نجود آتی ہے اور ملک نجد کو اس لیے نجد کہتے ہیں کہ وہ تہامہ سے بلند سطح زمین پر ہے۔ اس لیے پستان کو نجدین سے تعبیر کرنا بھی ٹھیک ہوسکتا ہے اور خیر و شر کے دلائل واضح ہونے کے سبب بھی ان کو دو بلند رستوں سے تشبیہ دینا ٹھیک ہے جو ہر ایک اہل بصارت کو دکھائی دیتے ہیں۔ 12 منہ
2 ؎ عقبہ پہاڑ کا رستہ جس کی جمع عقب و عقاب آتی ہے اس سے مراد نیکی کا دشوار گزار رستہ ہے اس دشواری اور بلندی کی وجہ سے راہ ہدایت کو عقبہ سے بطور تمثیل کے بیان کیا ہے یعنی استعارہ ہے اور نجدین ذکر کرنے کے بعد عقبہ کا ذکر تر شیخ ہے۔ 12 منہ
قسم دوم۔ او اطعام فی یوم ذی مسغبۃ یہ کھانا کھلانا اور احتیاج کے دن جیسا کہ ایام قحط میں یا کسی سبب سے غلہ نہ ملتا ہو ایسے وقت بھوکے کو کھانا کھلانا ہزار روپیہ دینے سے بہتر ہے ع
شلغم پختہ بہ کہ نقرہ خام
اس میں کوئی ہو مگر یتیما یتیم کو کھانا کھلانا اور بھی بہتر ہے۔ کس لیے کہ اس کا کوئی سرپرست نہیں۔ نہ اس کی صغرسنی کی وجہ سے اس سے کوئی توقع ہے نہ اس کی مدح سے دل خوش ہوتا ہے اور یتیموں میں بھی ذامقربۃ اہل قرابت ہو جیسا کہ چچا کا بیٹا یا بھتیجا یا بھانجا یا خالہ زاد یا ماموں زاد بھائی ہو کیونکہ ان پر رحم کھانے اور کھانا کھلانے میں صلہ رحمی بھی ہے۔ کسی نے آنحضرت ﷺ سے اسلام کے عمدہ کام دریافت کئے تو فرمایا کھانا کھلانا۔ سلام کرنا ٗ خواہ کسی کو جانے یا نہ جانے اور رات میں جبکہ لوگ پڑے سوتے ہوں نماز پڑھنا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ قید عمدہ موقع بتلانے کے لیے ہے اور کسی کو اومسکینا ذامتربۃ یا فقیر حاجت مند کو کہ کفر و فاقہ نے اس کو خاک پر بٹھا دیا ہو کیونکہ جب یہ حالت پہنچ جاتی ہے تو اس سے کوئی دنیاوی توقع باقی نہیں رہتی۔ اس وقت جو کچھ کھلایا پلایا جاوے گا خاص اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے ہوگا۔ یوں تو وہ بھی مسکین ہے کہ جس کا خرچ اس کی آمد سے بڑھا ہوا ہے یا بالفعل اس کے پاس کچھ نہیں لیکن امید ہے اس کا کھلانا بھی بہتر ہے مگر پہلا موقع اس سے بھی بہتر ہے۔ یہ ہے مال صرف کرنے کا عمدہ موقع نہ وہ کہ جس کو وہ دولت مند سمجھ رہا تھا۔ نام آوری تن پروری میں صرف کرنا۔
یہاں تک جو کچھ ذکر ہوا وہ صرف مالی عبادت کے بعض عمدہ مواقع بتلائے گئے جن میں کسی مذہب و ملت کو بھی اختلاف نہیں مگر یہ اعمال جب ہی مقبول ہوتے ہیں کہ جب ایمان بھی ہو۔ کس لیے کہ قوت عملیہ کی تکمیل قوت نظریہ کی تکمیل پر موقوف ہے۔ اس لیے اس کے بعد یہ بھی ارشاد فرمایا۔ ثم کان من الذین امنوا یعنی با ایں ہمہ پھر وہ ایمانداروں میں سے بھی ہو کیونکہ بغیر ایمان کے کوئی نیکی خدا کے ہاں مقبول نہیں ہوتی۔ ایمان جڑ ہے۔ ایمان ہی بنیاد ہے۔ اعمال صالحہ اس پر عمارت ہے کوئی عمارت بغیر بنیاد کے قائم نہیں رہ سکتی۔
فائدہ۔ لفظ ثم اس مقام پر تراخی ذکر کے لیے ہے یعنی ان سب باتوں کے ذکر کرنے کے بعد میں یہ بھی کہتا ہوں کہ ایماندار بھی ہونا چاہیے۔
فائدہ : بعض علماء فرماتے ہیں کہ ثم اس جگہ تاخیر وقوع کے لیے ہے یعنی اعمال خیر کفار کے توقف میں رہتے ہیں۔ اگر اخیر میں ایمان لے آیا تو یہ اعمال قبول ہوجاتے ہیں ورنہ مردود چناچہ حکیم بن حزام ؓ نے اسلام لانے کے بعد آنحضرت سے سوال کیا کہ میں نے حالت کفر میں بھی بہت کچھ نیک کام کئے ہیں۔ آپ نے فرمایا تیرے ایمان نے ان سب کو نیک اور مقبول کردیا۔
الحاصل عقبہ سعادت کی گھاٹی میں سے گزرنا نہ صرف بردہ آزاد کرنا یتیموں و مسکینوں کو مصیبت کے دن کھانا کھلانا ہے بلکہ اس کے ساتھ ان لوگوں کے زمرے میں بھی داخل ہونا ہے جو ایمان لائے اور ایمان ہی پر بس کرکے نہ بیٹھ رہے بلکہ ہر ایک قسم کی نیکی خود بھی کی اور لوگوں کو بھی تاکید کی خصوصاً دنیا سے چلتے وقت۔
تواصوابالصبر صبر کرنے کی وصیت اور تاکید کر چلے اور صبر ہی پر موقوف نہیں بلکہ وتوا صوابالمرحمۃ ایک دوسرے سے باہم مہربانی اور نرمی اور رحمدلی کرنے کی بھی تاکید کر چلے۔
صبر نفس کو بےجا خواہشوں سے روکنا۔ راہ راست پر ثابت قدم رہنا۔ صبر کے محامد قرآن مجید میں بکثرت وارد ہیں۔ ازانجملہ یہ ہے فاصبر کما صبر اولی العزم من الرسل ازانجملہ یہ ہے یا ایہا الدین امنوا استعینوا بالصبروالصلٰوۃ ارانجملہ یہ ہے ان اللہ مع الصابرین ازانجملہ یہ ہے انما یو فی الصابرون اجرھم بغیرحساب ازانجملہ یہ ہے وجعلنا منہ ائمۃ یہدون بامرلنا لما صبروا وغیرہا من الآیات۔ اور احادیث صحیحہ میں بھی اس کے بہت کچھ محامد مذکور ہیں۔
صبر کے اقسام ¦ واضح ہو انسان کے اندر تین قوتیں ایسی ہیں کہ جب وہ تیز ہوجاتی ہیں تو اس کو راہ راست سے ادھر ادھر گھسیٹ لے جاتی ہیں۔ ان سے نفس کو روکنا صبر ہے۔
اول قوت شہوانیہ : کھانے پینے جماع کے متعلق۔ اس سرکش گھوڑے کی لگام تھامنا بھی ایک قسم کا صبر ہے جس کو عفت اور اس کے خلاف کو فجور کہتے ہیں۔ پس جو چیزیں نہ کھانی پینی چاہییں انہیں نہ کھائے پئے۔ جیسا کہ شراب و سور ‘ رشوت اور جملہ ناجائز کمائی کا مال یا بیگانہ حق یا یتیم کا مال اور جن جگہوں پر اس کو ازار کھولنا نہ چاہیے وہاں نہ کھولے جس سے زنا اور اغلام اور ہر قسم کی بدکاری ممنوع ہوگئی بلکہ جو ان چیزوں کی طرف رغبت دلانے والی چیزیں ہیں جیسا کہ ناچ اور نامحرم کے ساتھ اختلاط اور فواحش قصے اور ناہنجاروں کی صحبت۔ ان سے بھی دور اور نفور رہے۔
دوسری قوت غضبیہ ہے جس سے ظلم و ستم برپا ہوتے ہیں۔ اس کی لگام بھی بڑے زور سے روکنی چاہیے۔ دوسری قسم کا صبر ہے۔ غصہ کا تھامنا اور انتقام سے درگزر کرنا بھی بڑے جوانمردوں کا کام ہے۔ کسی نے گالی دی یا برا کہا اس کو سن کر جو نفس کو ہیجان ہوتا ہے اس کا تھامنا یہی صبر ہے۔ اسی بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے ولمن صبرو غفر الخ اور اس کو حکم کہتے ہیں۔ عالی حوصلہ انتقام لینے سے درگزر کرنے میں زیادہ لذت پاتے ہیں۔
تیسری قسم کی قوت طمعیہ ہے وہ بھی بہت دور دراز کھینچ کرلے جاتی ہے۔ اس سرکش گھوڑے کی لگام تھامنا بھی صبر ہے۔ نیک کام میں خرچ نہ کرنا اس قوت کی بےصبری ہے جس کو بخل کہتے ہیں اور نیک راہ میں صرف کرنا سخاوت اور جود ہے اور اسی طرح یہ قوت خیانت اور دوسروں کے حقوق تلف کرنے کی طرف ابھارا کرتی ہے۔ اس کے مقابلہ میں نفس کو روکنا امانت و صیانت ہے اور کبھی تجملات دنیا کے حاصل کرنے کی طرف بلاتی ہے جس کو حرص کہتے ہیں۔ اس کے مقابلہ میں نفس سرکش کی مہار تھامنا زہد و قناعت کہلاتا ہے جو ایک قسم کا صبر ہے۔
اس کے سوا مصائب اور تکالیف کی برداشت کرنا اور جزع و فزع نہ کرنا اور دین پر ثابت قدم رہنا چوتھی قسم کا صبر ہے جیسا کہ اللہ کی راہ میں دور دراز کا سفر اختیار کرنا اور سفر اور دھوپ اور بھوک اور پیاس کے صدمے اٹھانا یا اعدائِ دین کے مقابلہ میں ثابت قدم رہنا ‘ ان سے خوف نہ کرنا۔ پانچویں قسم یہ ہے کہ نفس خبیث کو ریاضات شاقہ و عبادات پر لانا اور اس کی خواہشوں سے روکنا بھی صبر ہے۔ روزہ میں بھوک پیاس کی برداشت کرنا نیند کا غلبہ ہے مگر نماز کی طرف آنا نہانے اور وضو کرنے سے دل ڈرتا ہے مگر اس کے مقابلے میں نہانا وضو کرنا صبر ہے۔ چھٹی قسم کا صبر رضا بقضا ہے۔
رحمت کے فضائل ¦ اسی طرح مرحمت بھی صدہا خصائلِ حمیدہ کا رکن اعظم ہے۔ یتیموں پر شفقت ‘ چھوٹوں پر مہربانی ‘ بیکسوں بیوائوں بےزبانوں کی چارہ سازی ‘ قوم اور ملک کے ساتھ بھلائی کرنا ٗ بھوکوں کو کھانا کھلانا ‘ بیماروں کی دوا کرنا ‘ ننگوں کو کپڑا پہنانا ٗ بھولوں کو رستہ بتانا ‘ درماندوں کی ان کے کاموں میں مدد کردینا وغیرہ سب مرحمت کی شاخیں ہیں۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے الراحمون یرحمہم الرحمن ‘ ارحموا من فی الارض یرحمکم من فی السماء (رواہ ابو دائود والترمذی) کہ رحم کرنے والوں پر رحمن رحمت کرتا ہے۔ زمین والوں پر رحم کرو تم پر آسمان والے رحم کریں گے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا مجھے اس کی قسم کہ جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ تم میں سے جب تک کوئی بھی مومن (کامل) نہیں ہوتا جب تک کہ جو اپنے لیے چاہے وہی اپنے بھائی کے لیے نہ چاہے (متفق علیہ) آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہم سے نہیں جو ہمارے چھوٹے پر رحم اور بڑے کی توقیر نہ کرے (رواہ الترمذی) آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ایمانداروں کو تو باہمی رحمدلی اور محبت و نرمی میں ایسا پاوے گا کہ جیسا ایک جسم جس کا ایک عضو بیمار ہوجاوے تو دوسرے اعضاء میں بھی درد و بخار پیدا ہوجاتا ہے۔ (متفق علیہ)
بنی آدم اعضائے یکدیگراند
کہ در آفرنیش زیک جوہر اند
جو عضوے بدرد آورد روزگار
دگر عضوہا را نماند قرار
تمام نیکوں کی یہی دو چیز اصل ہیں۔ تعظیم لامر اللہ جو صبر سے متعلق ہے اس لیے اس کو مقدم کیا۔ دوم شفقت برخلق اللہ جس کو مرحمت سے تعبیر کیا۔
جو لوگ ان اوصاف حمیدہ سے موصوف ہیں۔ اولئک اصحاب المیمنۃ وہی لوگ یمن اور برکت والے ہیں۔ ان کی تاکید صبر و تاکید مرحمت کا نفع ان کی حیات میں اور ان کے بعد ان کو بھی اور بندگان خدا کو بھی پہنچتا رہے گا اور پہنچتا ہے۔ بعض علماء میمنہ کو یمین یعنی جانب راست سے لیتے ہیں یعنی وہ دائیں والے ہیں۔ تخت رب العالمین کے دائیں طرف کھڑے ہوں گے اور یہ جگہ اہل سعادت کی ہے اور عرب دائیں جانب کو متبرک اور بائیں کو زبوں سمجھا کرتے ہیں۔
ان اہل کمال کے بعد ازلی بدبختوں کا حال بیان فرماتا ہے والذین کفروا بایاتنا کہ جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور ہماری آیات میں مکارم اخلاق اور حسنات کی تاکید اور قبائح کی مذمت ہے۔ پھر وہ ان پر عمل سے بھی محروم رہے۔ اخلاق ذمیمہ اور طرح طرح کی سیئات کے امراض رونی میں مبتلا رہے ھم اصحاب المشئمۃ وہی شامت اور بدبختی والے ہیں۔ ان کے بداخلاق کی نحوست نے ان کو ہر طرف سے احاطہ کرلیا۔ اگر مشئمۃ کو بمعنی چپ یعنی بائیں کے لیے جاویں تو بھی ممکن ہے کیونکہ بائیں جانب والے بدبخت اور مشہور اور نامبارک لوگ ہیں۔ ان کے یہ اخلاق ذمیمہ اور ناپاک عقائد اور یہ کفر و بت پرستی جو یہاں ان پر محیط ہے وہاں آگ بن جائے گی۔ علیہم نار موصدۃ اور سرپوش بنا کر ڈھانک دی جائے گی جس طرح دنیا میں ان آتشیں ملکات و افعال و عقائد سے نہ نکلتے تھے وہاں بھی کبھی نہ نکلیں گے۔
اعوذ باللہ من النار