90. Surah Al-Balad
البلدThe City · 20 ayahsبصیرتِ قرآن
تعارف
تعارف
تعارف : اللہ تعالیٰ نے ” بلدامین “ یعنی مکہ مکرمہ جیسے محترم شہر کی، فتح مکہ کی خوش خبری کی، حضرت آدم (علیہ السلام) اور اولاد آدم (علیہ السلام) کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ انسان بےمقصد پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کا مقصد زندگی اخلاق کی بلندیوں تک پہنچنے اور دنیا و آخرت میں کامیابیان حاصل کرنے کے لئے بےانتہا ایثار و قربانیوں اور محنت و مشقت سے کام لینا ہے۔ اسے نفسانی خواہشوں اور اخلاقی پستیوں کے لئے پید انہیں کیا گیا۔ اس میں شک نہیں کہ اخلاقی عظمتوں اور بلندیوں کو حاصل کرنا کسی پہاڑ کی وادیوں پر چڑھنے کا اور عزم و ہمت کا دوسرا نام ہے۔ ایک مشکل اور کٹھن راستہ ہے جس میں قدم قدم پر اپنی وقتی نفسانی خواہشات اور تمناؤں کا گلا گھونٹنا پڑتا ہے۔ یتیموں کے ساتھ حسن سلوک ، غلاموں کی دستگیری، ضرورت مندوں کی امداد و اعانت اور ان لوگوں سے ہمدردی کا معاملہ کرنا پڑتا ہے جنہیں حالات نے بری طرح کچل کر مٹی میں ملا دیا ہو۔ حق و صداقت کی سر بلندی کے لئے خود صبر کرتے ہوئے دوسروں کو صبر کی تلقین کرتا ہے۔ اللہ کی مخلوق و رحم و کرم کرتا ہے اور دوسروں کو اس پر آمادہ کرتا ہے۔ فرمایا کہ یہ کانٹوں بھراراستہ ضرور ہے مگر آخرت کی حقیقی کامیابی اور نجات کا دارومدار بھی اسی پر ہے۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جو اپنا مقصد زندگی بھلاکر اخلاقی گراوٹ اور کردار کی پستیوں کو زندگی سمجھ بیٹھے ہوں جو اپنی نفسانی لذتوں اور خواہشات کی دلدل میں پھنس گئے ہوں جن کے ہر کام میں دکھائوا، ریارکاری، منافقت، جھوٹ، دھوکہ دہی اور سستی شہرت حاصل کرنے کا جذبہ رچ بس گیا ہو ہر سچائی کو ٹھکرانا جن کا مزاج بن گیا وہ وہ دنیاوی اعتبار سے کتنے ہی بلند کیوں نہ ہوجائیں ان کی دنیا اور آخرت دونون برباد ہو کر رہتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں راستوں کا انجام وضاحت سے ارشاد فرمادیا ہے۔ اب یہ ہر شخص کا اپنا اختیار ہے کہ وہ اخلاق و کردار کی بلندی کو اختیار کرتا ہے یا اخلاق و کردار کی پستی اور گراوٹ کی طرف مائل ہوتا ہے۔ اسی بات کو سورة البلد میں بیان فرمایا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے۔ میں اس شہر (مکہ مکرمہ) کی قسم کھاتا ہوں جو آپ کے لئے (جنگ کے واسطے) حلال ہونے والا ہے۔ باپ اور بیٹے (حضرت آدم اور نسل انسانی) کی قسم کھاتا ہوں کہ ہم نے انسان کو محنت و مشقت کیلئے پیدا کیا ہے۔ کیا اس نے یہ سمجھ رکھا ہیے کہ اس کو دیکھنے والا کوئی نہیں ہے ۔ کہتا ہے میں نے (دنیا دکھاوے کیلئے) ڈھیروں مال خرچ کرڈالا ہے ( مجھ سے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے) ۔ کیا وہ سمجھتا ہے کہ اس کو کسی نے نہیں دیکھا ؟ کیا ہم نے اس کو دو آنکھیں ، ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دئیے ؟ اور اس کو ہدایت و گمراہی کے دونوں راستوں کے متعلق کھول کو بیان نہیں کیا ؟ مگر اس نے دشوار گزار اور کٹھن گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی۔ کیا تمہیں معلوم ہے وہ دشوار ترین مشکل اور کٹھن گھاٹی کون سی ہے ؟ کسی کی گردن (غلامی یا قرض سے) چھڑا دینا، فاقے کے دن کسی قریبی اور رشتہ دار یتیم بچے کو یا اس کو جو حالات میں خاک نشین بن گیا ہو کھانا کھلانا ہے۔ مشکل گھاٹی یہ ہے کہ آدمی ان لوگوں میں شامل ہوجائے جو ایمان لائے۔ جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر دلانے اور اللہ کی مخلوق پر رحم کرنے کی تلقین کی۔ جو ایسا کریں گے وہ آخرت میں داہنے ہاتھ والے یعنی نجات پانے والوں میں سے ہوں گے۔ لیکن جو لوگ ہماری آیتوں کا انکار کریں گے وہ بائیں ہاتھ والے ہیں یعنی جہنم میں ڈالے جانے والے۔ ایسی جہنم کی آگ جو ان پر چاروں طرف سے چھا جانے والی ہوگی۔
لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:1 in the Quran reader
میں اس شہر (مکہ مکرمہ) کی قسم کھاتا ہوں
وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:2 in the Quran reader
اور آپ کو اس شہ ر میں جنگ حلال ہونے والی ہے
وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَۙ Open ayah 90:3 in the Quran reader
میں باپ اور بیٹے ( آدم (علیہ السلام) و اولاد آدم (علیہ السلام) کی قسم کھاتا ہوں
لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍؕ Open ayah 90:4 in the Quran reader
کہ بیشک ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں رہنے والا پیدا کیا ہے
اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌۘ Open ayah 90:5 in the Quran reader
کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ ہم ہر گز اس پر قابو نہ پاسکیں گے
یَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًاؕ Open ayah 90:6 in the Quran reader
کہتا یہ کہ میں نے ڈھیروں مال خرچ کر ڈالا
اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 90:7 in the Quran reader
کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کو کسی نے نہیں دیکھا
اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَیْنَیْنِۙ Open ayah 90:8 in the Quran reader
کیا ہم نے اسے دو آنکھیں نہیں دیں
وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیْنِۙ Open ayah 90:9 in the Quran reader
اور کیا ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دئیے
وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ Open ayah 90:10 in the Quran reader
اور کیا ہم نے اسے دونوں راستے (خیر اور شر کے) نہیں دکھائے
فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ٘ۖ Open ayah 90:11 in the Quran reader
پھر وہ (کم ہمت آدمی) اس گھاٹی سے ہو کر نہ نکلا۔
وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُؕ Open ayah 90:12 in the Quran reader
اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ گھاٹی کیا ہے ؟
فَكُّ رَقَبَةٍۙ Open ayah 90:13 in the Quran reader
وہ کسی کی گردن کو (قرض سے، غلامی سے) چھڑا دینا ہے
اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍۙ Open ayah 90:14 in the Quran reader
یا کھانا کھلا دینا ہے بھوک کے دن
یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍۙ Open ayah 90:15 in the Quran reader
کسی رشتے دار یتیم کو
اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍؕ Open ayah 90:16 in the Quran reader
یا خاک میں مل جانے والے مسکین کو
ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِؕ Open ayah 90:17 in the Quran reader
پھر وہ ان لوگوں میں سے بھی نہ ہوا جو ایمان لائے اور جو ایک دوسرے کو ثابت قدم رہنے کی تاکید کرتے رہے اور ایک دوسرے کو (اللہ کی مخلوق پر) رحم و کرم کرنے کو کہتے رہے۔
اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 90:18 in the Quran reader
یہ لوگ داہنے باز والے ہیں
وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 90:19 in the Quran reader
اور جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا وہ بائیں بازوا لے ہیں
عَلَیْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ۠ Open ayah 90:20 in the Quran reader
ان پر چاروں طرف سے آگ مسلط ہوگی۔