90. Surah Al-Balad

البلدThe City · 20 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف : اللہ تعالیٰ نے ” بلدامین “ یعنی مکہ مکرمہ جیسے محترم شہر کی، فتح مکہ کی خوش خبری کی، حضرت آدم (علیہ السلام) اور اولاد آدم (علیہ السلام) کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ انسان بےمقصد پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کا مقصد زندگی اخلاق کی بلندیوں تک پہنچنے اور دنیا و آخرت میں کامیابیان حاصل کرنے کے لئے بےانتہا ایثار و قربانیوں اور محنت و مشقت سے کام لینا ہے۔ اسے نفسانی خواہشوں اور اخلاقی پستیوں کے لئے پید انہیں کیا گیا۔ اس میں شک نہیں کہ اخلاقی عظمتوں اور بلندیوں کو حاصل کرنا کسی پہاڑ کی وادیوں پر چڑھنے کا اور عزم و ہمت کا دوسرا نام ہے۔ ایک مشکل اور کٹھن راستہ ہے جس میں قدم قدم پر اپنی وقتی نفسانی خواہشات اور تمناؤں کا گلا گھونٹنا پڑتا ہے۔ یتیموں کے ساتھ حسن سلوک ، غلاموں کی دستگیری، ضرورت مندوں کی امداد و اعانت اور ان لوگوں سے ہمدردی کا معاملہ کرنا پڑتا ہے جنہیں حالات نے بری طرح کچل کر مٹی میں ملا دیا ہو۔ حق و صداقت کی سر بلندی کے لئے خود صبر کرتے ہوئے دوسروں کو صبر کی تلقین کرتا ہے۔ اللہ کی مخلوق و رحم و کرم کرتا ہے اور دوسروں کو اس پر آمادہ کرتا ہے۔ فرمایا کہ یہ کانٹوں بھراراستہ ضرور ہے مگر آخرت کی حقیقی کامیابی اور نجات کا دارومدار بھی اسی پر ہے۔ اس کے برخلاف وہ لوگ جو اپنا مقصد زندگی بھلاکر اخلاقی گراوٹ اور کردار کی پستیوں کو زندگی سمجھ بیٹھے ہوں جو اپنی نفسانی لذتوں اور خواہشات کی دلدل میں پھنس گئے ہوں جن کے ہر کام میں دکھائوا، ریارکاری، منافقت، جھوٹ، دھوکہ دہی اور سستی شہرت حاصل کرنے کا جذبہ رچ بس گیا ہو ہر سچائی کو ٹھکرانا جن کا مزاج بن گیا وہ وہ دنیاوی اعتبار سے کتنے ہی بلند کیوں نہ ہوجائیں ان کی دنیا اور آخرت دونون برباد ہو کر رہتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں راستوں کا انجام وضاحت سے ارشاد فرمادیا ہے۔ اب یہ ہر شخص کا اپنا اختیار ہے کہ وہ اخلاق و کردار کی بلندی کو اختیار کرتا ہے یا اخلاق و کردار کی پستی اور گراوٹ کی طرف مائل ہوتا ہے۔ اسی بات کو سورة البلد میں بیان فرمایا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے۔ میں اس شہر (مکہ مکرمہ) کی قسم کھاتا ہوں جو آپ کے لئے (جنگ کے واسطے) حلال ہونے والا ہے۔ باپ اور بیٹے (حضرت آدم اور نسل انسانی) کی قسم کھاتا ہوں کہ ہم نے انسان کو محنت و مشقت کیلئے پیدا کیا ہے۔ کیا اس نے یہ سمجھ رکھا ہیے کہ اس کو دیکھنے والا کوئی نہیں ہے ۔ کہتا ہے میں نے (دنیا دکھاوے کیلئے) ڈھیروں مال خرچ کرڈالا ہے ( مجھ سے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے) ۔ کیا وہ سمجھتا ہے کہ اس کو کسی نے نہیں دیکھا ؟ کیا ہم نے اس کو دو آنکھیں ، ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دئیے ؟ اور اس کو ہدایت و گمراہی کے دونوں راستوں کے متعلق کھول کو بیان نہیں کیا ؟ مگر اس نے دشوار گزار اور کٹھن گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی۔ کیا تمہیں معلوم ہے وہ دشوار ترین مشکل اور کٹھن گھاٹی کون سی ہے ؟ کسی کی گردن (غلامی یا قرض سے) چھڑا دینا، فاقے کے دن کسی قریبی اور رشتہ دار یتیم بچے کو یا اس کو جو حالات میں خاک نشین بن گیا ہو کھانا کھلانا ہے۔ مشکل گھاٹی یہ ہے کہ آدمی ان لوگوں میں شامل ہوجائے جو ایمان لائے۔ جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر دلانے اور اللہ کی مخلوق پر رحم کرنے کی تلقین کی۔ جو ایسا کریں گے وہ آخرت میں داہنے ہاتھ والے یعنی نجات پانے والوں میں سے ہوں گے۔ لیکن جو لوگ ہماری آیتوں کا انکار کریں گے وہ بائیں ہاتھ والے ہیں یعنی جہنم میں ڈالے جانے والے۔ ایسی جہنم کی آگ جو ان پر چاروں طرف سے چھا جانے والی ہوگی۔

Ayahs 90:1–20

لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:1 in the Quran reader

میں اس شہر (مکہ مکرمہ) کی قسم کھاتا ہوں

وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:2 in the Quran reader

اور آپ کو اس شہ ر میں جنگ حلال ہونے والی ہے

وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَۙ Open ayah 90:3 in the Quran reader

میں باپ اور بیٹے ( آدم (علیہ السلام) و اولاد آدم (علیہ السلام) کی قسم کھاتا ہوں

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍؕ Open ayah 90:4 in the Quran reader

کہ بیشک ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں رہنے والا پیدا کیا ہے

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌۘ Open ayah 90:5 in the Quran reader

کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ ہم ہر گز اس پر قابو نہ پاسکیں گے

یَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًاؕ Open ayah 90:6 in the Quran reader

کہتا یہ کہ میں نے ڈھیروں مال خرچ کر ڈالا

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 90:7 in the Quran reader

کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کو کسی نے نہیں دیکھا

اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَیْنَیْنِۙ Open ayah 90:8 in the Quran reader

کیا ہم نے اسے دو آنکھیں نہیں دیں

وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیْنِۙ Open ayah 90:9 in the Quran reader

اور کیا ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دئیے

وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ Open ayah 90:10 in the Quran reader

اور کیا ہم نے اسے دونوں راستے (خیر اور شر کے) نہیں دکھائے

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ٘ۖ Open ayah 90:11 in the Quran reader

پھر وہ (کم ہمت آدمی) اس گھاٹی سے ہو کر نہ نکلا۔

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُؕ Open ayah 90:12 in the Quran reader

اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ گھاٹی کیا ہے ؟

فَكُّ رَقَبَةٍۙ Open ayah 90:13 in the Quran reader

وہ کسی کی گردن کو (قرض سے، غلامی سے) چھڑا دینا ہے

اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍۙ Open ayah 90:14 in the Quran reader

یا کھانا کھلا دینا ہے بھوک کے دن

یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍۙ Open ayah 90:15 in the Quran reader

کسی رشتے دار یتیم کو

اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍؕ Open ayah 90:16 in the Quran reader

یا خاک میں مل جانے والے مسکین کو

ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِؕ Open ayah 90:17 in the Quran reader

پھر وہ ان لوگوں میں سے بھی نہ ہوا جو ایمان لائے اور جو ایک دوسرے کو ثابت قدم رہنے کی تاکید کرتے رہے اور ایک دوسرے کو (اللہ کی مخلوق پر) رحم و کرم کرنے کو کہتے رہے۔

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 90:18 in the Quran reader

یہ لوگ داہنے باز والے ہیں

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 90:19 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا وہ بائیں بازوا لے ہیں

عَلَیْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ۠ Open ayah 90:20 in the Quran reader

ان پر چاروں طرف سے آگ مسلط ہوگی۔

لغات القرآن۔ ھذا البلد۔ یہ شہر۔ (مکہ مکرمہ) ۔ حل۔ حلال ہے۔ کبد۔ مشقت۔ مصیبت۔ اھلکت۔ میں نے خرچ کیا ہے۔ مالا لبدا۔ ڈھیروں مال۔ عینین۔ دو آنکھیں۔ شفتین۔ دو ہونت۔ النجدین۔ دو راستے۔ اقتحم۔ وہ داخل ہوگیا۔ العقبۃ۔ گھاٹی۔ فک رقبۃ۔ گردن چھڑانا۔ (غلاموں کو آزاد کرنا) ۔ ذی مسغبۃ۔ بھوکا۔ بھوک والا۔ ذا مقربۃ۔ رشتہ دار۔ ذامتربۃ۔ جو خاک میں مل جانے والا ہے۔ نارموصدۃ۔ آگ جو اوپر سے بند کی گئی ہے۔ تشریح : سورت بلند کا مفہوم اور خلاصہ یہ ہے۔ اس سورت میں اللہ نے ” بلد “ یعنی مکہ مکرمہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو اس شہر میں قتال کرنا حلال ہونیوالا ہے۔ باپ اور اولاد یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی تماما اولاد کی قسم ہم نے انسان کو عیش و عشرت کے لئے نہیں بلکہ نہایت مشقت و محنت کے لئے پیدا کیا ہے۔ اسے اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ اس پر کسی کو اختیار نہیں ہے اور کوئی اس کی نگرانی نہیں کر رہا ہے۔ لوگوں پر رعب جمانے کے لئے کہتا ہے کہ میں نے بہت مال خرچ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا ہم نے اسے دیکھنے کیلئے دو آنکھیں، اطہار بیان کے لئے زبان اور کنٹرول میں رکھنے کے لئے دو ہونٹ عطا نہیں کئے۔ اور کیا ہم نے اس کو خیر وشر کے دونوں راستے نہیں دکھائے ؟ ان نعمتوں کا تقاجا تو یہ تھا کہ وہ اس دشوار گزار گھاٹی کے پار اتر کر کسی کے گردن چھڑا دیتا، جو فقر و فاقہ سے بےحال ہے اس کو کھانا کھلا دیتا، کسی رشتہ دار یتیم ( بےباپ کے) بچے کو یا کسی ایسے مسکین و محتاج آدمی کو کھانا کھلا دیتا جس آدمی کو حالات نے مٹی میں ملا دیا ہے۔ وہ ان میں سے ہوجاتا جو ایک دوسرے کو ایمان پر پابندی اور اللہ کی مخلوق پر رحم و کرم کرنے کی ہدایت و رہنمائی کی تلقین کرتے ہیں۔ اور وہ ان لوگوں میں سے ہوجاتا جن کے داہنے ہاتھ میں ان کا اعمال نامہ دیا جائے گا لیکن یہ تو ان لوگوں میں سے ہوگیا جنہوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا اور ان لوگوں میں سے ہوگیا جن کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا اور اس جہنم میں ڈالا جائے گا جس کو اوپر سے بند کردیا جائے گا۔ اس سورت کے چند الفاظ کی وضاحت یہ ہے۔ { ھذا البلد۔ یہ شہر } اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے۔ اسی کو سورة التین میں ھذا البلد الامین فرمایا ہے۔ یعنی وہ شہرجو امن و سلامتی کا گہوارہ ہے۔ عرب کی تاریخ گواہ ہے کہ مکہ مکرمہ کی سرزمین صرف انسانوں ہی کے لئے نہیں بلکہ جانوروں، درخت اور پودوں تک کے لئے امن وسلامتی کی ضمانت رہی ہے۔ عرب میں دین اسلام کی روشنی پھیلنے سے پہلے جب سارا عرب جہالت کے اندھیروں میں بھٹک رہا تھا کفروشرک اور بت پرستی عام تھی اس وقت بھی مسجد الحرام میں کسی جانور کو ستانا، اس کے قریب حرم میں شکار کھیلنا اور بلا ضرورت درختوں کا کاٹنا حرام اور برا سمجھا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ بنو قریش جو حرم کے رکھوالے کہلاتے تھے اس زمانہ میں جب ہر طرف لوٹ مار ، قتل و غارت گری اور بد امنی عام تھی ان کو کوئی قبیلہ اس لئے ہیں ستاتا تھا کہ وہ ” حرم والے ہیں “ لیکن یہ بھی تاریخی ستم ظریفی ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے اعلان نبوت فرمایا اور آہستہ آہستہ بہت سے سعادت مندوں نے آپ کا دامن تھام لیا اور ایمان کی دولت سے مالا مال ہوگئے تو وہی لوگ جو سزمین حرم کو امن و سلامتی کا گھر کہتے تھے انہوں نے نبی کریم ﷺ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام ؓ پر وہ ظلم کئے کہ ان کے ذکر سے روح کانپ اٹھتی ہے۔ خود نبی کریم ﷺ کو اتنی اذیتیں اور تکلیفیں پہنچائی گئیں اور آپ کو قتل کرنے کی نہ صرف سازش کی گئی بلکہ اس کے لئے عملی قدم بھی اٹھا لیا گیا تب اللہ کے حکم سے صحابہ کرام ؓ اور نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ کی مقدس و محترم سرزمین کو چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس محترم شہر کی قسم کھا کر فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! سرزمین کعبہ نہایت محترم ہے اور امن و سلامتی کی سزمین ہے اس میں قتال کرنا جائز نہیں ہے لیکن وہ وقت دور نہیں ہے جب ایک دن کے لئے آپ کو قتال کرنے کی اجازت ہوگی تاکہ دین کی سچائیوں کو قائم کرنے اور ظالموں کو ان کے کیفرکردار تک پہنچانے کی جدوجہد کی جاسکے۔ فتح مکہ کے موقع پر یہ پیش گوئی پوری ہوئی۔ اسی لئے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! بیشک اللہ نے جس دن سے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اسی دن سے مکہ مکرمہ کو محترم بنایا ہے۔ قیامت تک وہ حرام اور محترم رہے گا۔ لہٰذا ہر وہ شخص جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ مکہ میں خون بہائے، نہ کسی کے لئے درخت کاٹنا جائز ہے۔ مکہ نہ تو مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال ہو اور نہ میرے بعد کسی کے لئے حلال ہوگا۔ اور میرے لئے صرف اس ایک ساعت کے لئے حلال کیا گیا تھا تاکہ مکہ والوں کی نافرمانی پر انکی سزا دینی جاسکے۔ خوب غور سے سن لو کہ اس کی حرمت پھر وہی ہوگئی ہے جیسی کہ پہلے تھی۔ تم میں سے جو موجود ہے وہ میرا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دے جو یہاں موجود نہیں ہیں۔ لہٰذا تم میں سے جو شخص یہ کہتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں قتال کیا تو تم اس سے کہہ دینا کہ بیشک اللہ نے صرف اپنے رسول کے لئے مکہ کو کچھ وقت کے لئے حلال کردیا تھا لیکن تمہارے لئے حلال نہیں ہے “۔ نبی کریم ﷺ کو بھی یہ شہر بہت محبوب تھا چناچہ آپ نے فتح مکہ کے دن مکہ شہر کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ” اللہ کی قسم تو ساری زمین میں اللہ کے نزدیک سب سے بہتر اور محبوب ہے۔ اگر مجھے یہاں سے نکلنے پر مجبور نہ کردیا گیا ہوتا تو میں اس سرزمین سے کبھی نہ نکلتا “ ۔ (ترمذی) ۔ { والد وما ولد۔ باپ اور بیٹا } علماء مفسرین نے فرمایا ہے کہ والد سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں جو ہم سب کے باپ ہیں اور ولد سے ان کی ساری اولاد مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور ابتدائے کائنات سے قیامت تک جتنے لوگ آچکے ہیں یا آئیں گے تمام بنی نوع انسان کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ انسان مشکلات اور پریشانیوں میں گھر اہو اور محنت و مشقت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ { لقد خلقنا الانسان فی کبدی۔ یقینا ہم نے انسان کو ” کبد “ میں پیدا کیا ہے } کبد کے معنی محنت، مشقت، مشکلات اور پریشانیوں کی آتے ہیں یعنی انسان کو اللہ نے صرف عیش و آرام اور مزے اڑانے کے لئے نہیں بھیجا بلکہ محنت، مشقت اور بہتر کام کرنے کیلئے بھیجا ہے۔ ” کبد “ کے معنی ” الجھنوں میں پھنسا ہوا “ کے بھی آتے ہیں یعنی انسان ساری زندگی کسی نہ کسی الجھن اور مشکل میں گھر ارہتا ہے جیسا کہ کسی شاعر نے کہا ہے : قید حیات بند غم اصل میں دونوں ایک ہیں موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں جب تک قید حیات ہے یعنی زندگی کی ڈور بندھی ہوئی ہے اس وقت تک ” بند غم “ یعنی غموں کا سلسلہ بھی جاری ہے ؟ انسان پوری زندگی جس سکون کی تلاش میں رہتا ہے اس کا حال یہ ہے کہ ایک وقت میں خوشی ملتی ہے تو دوسرے لمحے کوئی نہ کوئی فکر الجھن یا غم اس کو آگھیرلیتا ہے۔ کیونکہ اس دنیا کی خوشی اور غم دونوں کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ اصل خوشی تو آخرت میں ہی نصیب ہوگی۔ وہ لوگ کتنے بدنصیب ہیں جو اس دنیا میں بھی پوری زندگی بےچین و بےقرار ہے اور آخرت میں بھی انہیں سکون نصیب نہ ہوگا۔ درحقیقت ایمان اور عمل صالح ہی سکون حاصل کرنے کا ذریعہ ہے جو انسان کو ابدی زندگی کا سکون دلائے گا۔ { ایحسب ان لن یقدر علیہ احد “۔ کیا وہ (انسان) یہ سمجھتا ہے کہ اس پر کسی کا بھی اختیار نہیں ہے } انسان کی سب سے بڑ غلط فہمی یہ ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ میں جو کچھ بھی عیاریاں اور مکاریاں کر رہا ہوں اس پر گرفت کرنے کا کسی کو بھی کوئی اختیار نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اللہ وہ ذات ہے جو جب چاہے آدمی کی ساری بازی کو الٹ کر پھینک دے اور اس کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔ { یقول اھلکت مالا لبدا۔ وہ کہتا ہے کہ میں نے بہت مال لٹایا ہے } یعنی دنیا میں سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے ہر شخص یہ کہنے پر مجبور ہوجائے کہ یہ کتنا بڑا آدمی ہے جو اس طرح مال و دولت لٹا رہا ہے۔ اسی طرح وہ سستی شہرت حاصل کرنے اور اپنے نفس کو دھوکا دینے کے لئے مال خرچ کرتا ہے جس کا مقصد محض دکھاوا اور ریاکاری ہے جس کا دنیا اور آخرت میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اصل مال تو وہ ہے جو انسان اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے خرچ کرتا ہے۔ { الم نجعل لہ ، عینین ولسانا وشفقین۔ کیا ہم نے اس کے لئے دو آنکھیں، ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں بنائے } اللہ نے فرمایا کہ ہم نے انسان کو جو بیشمار نعمتیں دی ہیں ان میں دیکھنے بھالنے کے لئے دو آنکھیں، اظہار بیان کے لئے زبان اور زبان کو قابو میں رکھنے کیلئے دو ہونٹ بنائے ہیں تاکہ انسان سچائی کو دیکھ کر اس پر ایمان لائے۔ زبان سے سچائی کا اقرار کرے اور ہونٹوں سے بھی ادا کرے۔ { ھدینہ، النجدین۔ ہم نے اس کو (خیر اور شر) دونوں راستوں کی رہنمائی عطا کی } یعنی ہم نے ہر انسان کو اس قرآن کریم اور رسول کریم ﷺ کے ذریعہ ہر خیر و فلاح اور شر و فساد کے درمیان فرق پیدا کرنے کی اعلیٰ ترین صلاحتیں عطا کی ہیں تا کہ سوچ سمجھ کر اپنے لئے وہ بہتر راستہ منتخب کرسکے جو اس کو دنیا اور آخرت میں کامیاب کرنے والا اور اس کو اخلاق کی بلندیوں تک پہنچانے والا ہے۔ لیکن اخلاق کی عظمتوں اور بلندیوں پر پہنچنے کا ہر راستہ ایک گھاٹی یعنی دشوار گزار راستے سے نصیب ہوتا ہے۔ چونکہ انسان سہل پسند ہے اس لئے وہ مشکل راستہ کی طرف نہیں جاتا۔ { فلا اقتحم العقبۃ۔ پھر وہ دشوار گزار راستے کی طرف بڑھنے کی ہمت کیوں نہیں کرتا } فرمایا کہ انسان کی یہ کم ہمتی کی دلیل ہے کہ وہ دشوار راستے کو پسند نہیں کرتا حالانکہ وہی راستہ تو ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت میں اعلیٰ ترین مقام دلواتا ہے۔ ایک آدمی سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے خوب اپنا مال لٹاتا ہے تاکہ ہر شخص پر اس کا رعب بیٹھ جائے اور اس کا ہر طرف ڈنکا بجنے لگے لیکن اس کے برخلاف دوسرا وہ شخص ہے جو خاموشی سے دوسروں کی مدد کرتا ہے اس کا مقصد اللہ کی رضا و خوشنودی ہوتا ہے۔ پہلا راستہ آسان ہے لیکن دوسرا راستہ کسی پہاڑ پر چڑھنے سے کم نہیں ہوتا بلکہ ایسا لگتا ہے کہ وہ کسی گھاٹی کو پار کر رہا ہے۔ اس راستے میں نفس اور شہرت پسندی کے جذبے کی قربانی دینی پڑتی ہے کیونکہ یہاں نفس کی مخالفت اور شیطان کے وسوسوں کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ جس نے اللہ کی رضا کے لئے اس گھاٹی کو پارکر لیا وہ آخرت کی تمام گھاٹیوں کو نہایت آسانی سے طے کرلے گا۔ وہ چند چیزیں یہ ہیں۔ 1۔ کسی غلام کو آزاد کردیا جائے، کسی قیدی کو رہائی دلوا دی جائے، کوئی قرض کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اس سے اس کی گردن چھڑا دی جائے۔ 2۔ جب لوگ بھوک سے بےتاب ہوں تو ان بھوکوں کیلئے کھانے پینے کا معقول بندوبست کردیا جائے۔ 3۔ بےباپ کے یتیم بچے کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھ کر اس کی ضروریات کو پورا کیا جائے اگر وہ رشتہ دار بھی ہو تو دوگنا اجر حاصل کیا جائے۔ 4۔ کسی ایسے غریب، مسکین، ضرورت مند، پریشان حال آدمی کی پریشانی دور کی جائے جس کو حالات نے پچھاڑ کر بےبس کردیا ہو اور اس کی عزت خاک میں مل گئی ہو۔ 5۔ اسی طرح جب حق و صداقت کے راستے پر چلنے والے انتہائی پریشان ہوجائیں تو اس وقت ایک دوسرے کی ڈھارس بندھانے کے لئے صبر کی تلقین کی جائے اور صبر دلایاجائے۔ 6۔ اور آپس میں ایک دوسرے پر مہربانی اور رحم و کرم کی تقلین کی جائے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو ایک مومن کا دوسرے مومن پر حق ہے۔ یہ وہ گھاتی ہے جس کو پارکرجانے والے ہی اخلاق کی بلندیوں تک پہنچتے ہیں۔ دین اسلام وہ ہے جس نے غلاموں کو آزادی کی نعمت دلا کر ان کو انسانی حقوق دلائے ہیں اور غلام آزاد کرنے کی عبادت کا درجہ دیا ہے۔ اسی لئے یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اگر نبی کریم ﷺ نہ ہوتے تو دنیا سے غلامی کبھی ختم نہ ہوتی اور دنیا میں ہزاروں سال گززنے کے باوجود غلامی اسی طرح رائج رہتی۔ آپ نے غلاموں کو آزاد کرنے کے بہت سے فضیلتیں ارشاد فرمائی ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے ایک مومن غلام کو آزاد کیا۔ اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے میں آزاد کرنے والے شخص کے ہر عضو کو جہنم کی آگ سے نجات دلائیں گے۔ ہاتھ کے بدلے ہاتھ، پاؤں کے بدلے پاؤں، اور شرم گاہ کے بدلے شرم گاہ۔ (بخاری مسلم۔ ترمذی۔ نسائی) اسی طرح فرمایا مسکینوں ، محتاجوں، ضرورت مندوں، یتیموں اور بیواؤں کی مدد کے لئے جدوجہد کرنے والا ایسا ہے جیسے جہاد فی سبیل اللہ میں بھاگ دوڑ کرنے والا۔ راوی کہتا ہے کہ مجھے خیال ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ وہ شخص ایسا ہے جیسے وہ شخص جو نماز میں کھڑا رہتا ہے اور آرام نہیں کرتا اور جو مسلسل روزے رکھتا ہے اور کبھی روزہ نہیں چھوڑتا۔ (بخاری و مسلم) اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے فرمایا کہ قیامت کے دن ان کے داہنے ہاتھ میں ان کے اعمال نامے دئیے جائیں گے یعنی جنت میں داخل کئے جائیں گے لیکن جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا وہ ایسے بدنصیب ہوں گے جن کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامے دئیے جائیں گے اور ان کو ایسی جہنم میں داخل کیا جائے گا جس کو اوپر سے بند کردیا جائے گا۔