Ayah 90:1فتح مکہ دن کے احوال
1۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت لا اقسم بہذا لبلد اس شہر کی قسم ہے۔ سے مراد مکہ مکرمہ ہے۔ آیت وانت حل بہذا البلد۔ حالانکہ آپ شہر میں مقیم ہیں۔ یعنی انت نبی ﷺ مراد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کردیا جس دن آپ مکہ میں فتح مکہ ہونے کے بعد داخل ہوں گے کہ جس کو آپ چاہیں قتل کردیں اور جس کو چاہیں چھوڑدیں۔ تو اس دن ابن خطل کو بند کر کے قتل کردیا گیا۔ اور وہ کعبہ کے پردوں کو پکڑے ہوئے تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے بعد پھر لوگوں میں سے کسی کے لیے حلال نہیں کہ اس میں کسی کو قتل کرے اور یہ حرام ہے اللہ کی حرمت کی وجہ سے مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے اسے حلال قرار دیا جو سلوک آپ نے اہل مکہ کے ساتھ کیا تھا۔
2۔ ابن جریر وا بن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لا اقسم بہذا البلد سے مراد ہے مکہ آیت وانت حل بہذا لبلد یعنی اے محمد ﷺ آپ کے لیے حلال ہے کہ آپ اس شہر میں قتال کریں لیکن آپ کے علاوہ کسی اور کے لیے حلال نہیں۔
3۔ ابن مردویہ نے ابو برزہ اسلمی ؓ سے روایت کیا کہ میری موجودگی میں یہ آیت لا اقسم بہذا البلد وانت حل بہذا البلک نازل ہوئی میں باہر نکلا تو میں نے عبداللہ بن خطل کو اس حال میں پایا کہ وہ کعبہ پر دوں سے لپٹا ہوا تھا تو میں نے رکن یمانی اور مقام ابراہیم کے درمیان اسے قتل کردیا۔
4۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ جب نبی اکرم ﷺ نے کعبہ کو فتح فرمایا تو ابو برزہ اسلمی ؓ یعنی سعید بن حرب ؓ نے عبداللہ بن خطل کو پکڑا اور یہ وہی ہے جس کو قریش دو دلوں والا کہتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ما جعل اللہ لرجل من قلبین فی جو فہ الا حزاب آیت 4 نازل فرمائی یعنی اللہ تعالیٰ نے کسی آدمی کے لیے اس کے پیٹ میں دو دل نہیں بنائے ابو برزہ ؓ آگے بڑھے اور اس کی گردن ماردی اور وہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ لپٹا ہوا تھا اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں نازل فرمایا آیت لا اقسم بہذالبلد وانت حل بہذالبلد۔ بےیہ اس لیے ہوا کہ اس نے قریش سے کہا تھا کہ میں تم کو محمد ﷺ کا علم سکھاؤں گا چناچہ وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا یارسول اللہ میں پسند کرتا ہوں کہ آپ مجھے لکھوائیے آپ نے فرمایا تو لکھ اور جب آپ نے قرآن میں سے اس کو املا کرایا۔ کان اللہ علیما حکیما تو اس نے لکھا حکیما علیما اور اسے املا کرایا آیت وکان اللہ غفورا رحیما تو اس نے لکھا وکان اللہ رحیما غفورا پھر کہنے لگا یا رسول اللہ میں آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں جو میں نے لکھا آپ نے فرمایا ہاں تو جب اس نے پڑھا آیت وکان اللہ علیماحکیما اور رحیما غفورا تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا میں نے اس طرح تجھے املا نہیں کرائی۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اسی طرح فرمایا۔ یعنی انہ لغفور رحیم تو اس نے لکھا وانہ لرحیم غفور۔ پھر وہ قریش کی طرف چلا گیا۔ اور کہنے لگا جو کچھ میں ان سے لیتارہا ہوں کسی چیز میں سے میں نے ان کی پیروی نہیں کی پھر وہ واپس چلا گیا اور آپ نے اسے امان نہیں دی۔
5۔ فریابی وابن ابی حاتم نے مجاہدرحم اللہ سے روایت کیا کہ آیت لا اقسم میں لا ان کے نظریہ کے رد کے لیے ہے اور کلام اس طرح سے ہے آیت لا اقسم بہذا لبلد میں اس شہر مکہ کی قسم کھاتا ہوں
6۔ فریابی وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لا اقسم بہذا البلد سے مراد ہے مکہ اور وانت حل بہذ البلد سے مراد ہے مکہ اور آیت وانت حل بہذالبلد سے مراد ﷺ ہیں یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو کچھ آپ نے اس میں کیا اور آپ کے لیے حلال ہے۔
7۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت وانت حل بہذا البلد کے بارے میں روایت کیا کہ آپ سے اس کا مواخذہ نہیں ہوگا جو کچھ آپ نے اس میں کیا ہے اور آپ پر اس میں کوئی پابندی نہیں جو لوگوں پر ہے۔
8۔ عبد بن حمید نے منصور (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا آیت لا اقسم بہذ البلد وانت حل بہذ البلد تو فرمایا میں نہیں جانتا پھر میرے لیے اس کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ آیت لا اقسم بہذا لبلد سے مراد ہے کہ میں قسم کھاتا ہوں اس بلد حرام کی اور آیت وانت حل بہذا البلد یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے دن میں سے ایک ساعت حلال فرمائی اور آپ سے کہا گیا کہ آپ نے جو کچھ بھی کیا وہی آپ کے لیے حلال ہے۔
9۔ سعید بن منصور ابن المنذر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت لا اقسم بہذ البلد سے مراد ہے مکہ مکرمہ۔
10۔ عبد بن حمید نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت لا اقسم بہذا البلد سے مراد ہے مکہ مکرمہ آیت وانت حل بہذا لبلد سے مراد ہے کہ آپ کے لیے دن میں سے ایک ساعت کو حلال کردیا گیا۔
11۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
12۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید نے وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لا اقسم بہذا لبلد سے مراد ہے مکہ مکرمہ آیت وانت حل بہذ البلد سے مراد ہے کہ آپ کے لیے اس میں کوئی حرج نہیں اور نہ آپ گناہ گار ہیں۔
13۔ عبد بن حمید نے عطیہ (رح) سے آیت لا اقسم بہذالبلد وانت حل بہذ البلد کے بارے میں روایت کیا کہ مکہ میں نبی اکرم ﷺ کے لیے حلال کردیا گیا۔ دن کی ایک ساعت میں پھر قیامت کے دن تک ساے حرام کردیا گیا۔
14۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) آیت وانت حل بہذا البلد کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کے لیے فتح مکہ کے دن یہ شہر ایک ساعت کے لیے حلال کردیا۔
15۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے آیت وانت حل بہذا لبلد کے بارے میں روایت کیا کہ انت سے محمد ﷺ کی ذات اقدس مراد ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ حرم شرف میں اترے ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو دشمن کو قتل کریں یا چھوڑدیں۔
16۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے آیت لا اقسم بہذا لبلد وانت حل بہذالبلد کے بارے میں روایت کیا کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو اس دن سے حرام قراردیا جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا سو وہ حرام ہے قیامت کے قائم ہونے تک۔ کسی آدمی کے لیے حلال نہیں مگر رسول اللہ ﷺ کے لیے حلال کردیا گیا وہ بھی ایک ساعت کے لے اس کی تر گھاس نہ کاٹی جائے۔ اور نہ اس کے کانٹے دار درختوں کو کاٹا جائے۔ اور نہ اس کے شکار کو پکڑا جائے اور وہاں کی گری پڑی چیز کو نہ اٹھایا جائے۔ مگر اعلان اور اطلاع کی غرض سے۔
17۔ ابن جریر نے ابن زیاد (رح) سے آیت وانت حل بہذا البلد کے بارے میں روایت کیا کہ سوائے نبی اکرم ﷺ کے کسی کے لیے یہ شہر حلال نہیں ہوا۔ ہر وہ چیز جو اس میں ہے حرام ہے، ان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اس میں قتال کریں ار اس کے حرام کو حلال نہ سمجھیں۔
Ayah 90:218۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے شرحبیل بن سعد (رح) آیت وانت حل بہذا البلد کے بارے میں روایت کیا کہ وہ حرام قرار دیتے ہیں شکار کو قتل کرنا اور درختوں کو کاٹنا لیکن آپ کا یہاں سے نکالنا اور قتل کرنا حلال قرر دیتے ہیں۔
19۔ الحاکم وصححہ نے مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے آیت لا اقسم بہذ البلد وانت حل بہذ البلد کے بارے میں روایت کیا کہ آپ کے لیے حلال کردیا گیا کہ آپ جو چاہیں اس میں کریں آیت ووالد ما ولد اور باپ کی اور اس کی اولاد کی قسم یعنی قسم ہے باپ کی یعنی آدم (علیہ السلام) کی آیت وما ولد اور آپ کی اولاد۔
20۔ الفریابی وعبد بن حمید حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ووالد وما ولد یعنی اس والد کی قسم جس کے سبب عورت نے بچہ جنا آیت وما ولد سے مراد ہے وہ بانجھ مرد و عورت ہیں جو بچہ پیدا نہیں کرسکتے۔
Ayah 90:321۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابو عمران جونی (رح) سے آیت آیت ووالد وما ولد کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے ابراہیم (علیہ السلام) اور اس کی اولاد۔
Ayah 90:422۔ ابن جریر والطبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لا اقسم بہذا البلد یعنی میں قسم کھاتا ہوں اس شہر مہ کی آیت وانت حل بہذا البلد حالانکہ آپ اس شہر مکہ میں رہ رہے ہیں آیت ووالد وما ولد۔ میں قسم کھاتا ہوں آدم (علیہ السلام) کی آیت لقد خلقنا الانسان فی کبد، بیشک ہم نے انسان کو مصیبت میں پیدا کیا ہے۔ یعنی ہم نے انسان کو معتدل اور سیدھا پیدا کیا۔
23۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ووالد وما ولد قسم کھاتا ہوں آدم (علیہ السلام) اور اس کی اولاد کی آیت لقد خلقنا الانسان فی کبد یعنی یہاں قسم واقع ہوئی۔ فی کبد، مشقت میں یعنی تکلیف برداشت کرتا ہے دنیا اور آخرت کے کاموں کی آیت یقول اہلکت مالا لبدا کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال برباد کر ڈا لا۔ یعنی میں نے کثیر مال فنا کردیا۔
انسانی مشقت کا ذکر
24۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ووالد وما ولد میں والد سے مراد آدم (علیہ السلام) ہیں ” وما ولد “ یعنی آدم (علیہ السلام) کی اولاد آیت لقد خلقنا الانسان فی کبعد یعنی ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں پیدا کیا آیت ایحسب ان لم یرہ احد کہنا ہے میں نے کثیر مال فنا کردیا۔ آیت یقول اہلکت مالا لبدا کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اسے کسی نے بھی نہیں دیکھا۔ یعنی اس پر کوئی قادر نہیں۔
25۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت ووالد وما ولد میں والد سے مراد آدم (علیہ السلام) ہیں آیت وما ولد سے مراد اولاد آدم۔ آیت لقد خلقنا الانسان فی کبد یعنی ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا۔
26۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لقد خلقنا الانسان یعنی سختی میں پیدا کیا۔
27۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ عطا کے طریق سے ابن عباس رضٰ اللہ عنہما سے آیت لقد خلقنا الانسان فی کبد کے بارے میں روایت کیا کہ ہم نے انسان کو شدت میں پیدا کیا اور یہ شدت اس کی ولادت اور اس کے دانتو کا اگنا اور اس کے جوش میں آنے اس کی روزی اور اس کے ختنہ کے وقت ہوتی ہے۔
28۔ سعید بن منصور وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت لقد خلقنا الانسان فی کبد کے بارے میں روایت کیا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے سیدھا پیدا فرمایا اور باقی ہر چیز کو اس طرح پیدا فرمایا کہ وہ چار پاؤں پر چلتی ہے۔
29۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت لقد خلقنا الانسان فی کبد کے بارے میں روایت کیا کہ بیشک ہم نے انسان کو پیدا کیا اس طرح پر کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ سے سیدھا ہوتا ہے۔
30۔ ابو الشیخ نے العظمہ میں ابن عباس ؓ سے آیت لقد خلقنا الانسان فی کبد کے بارے میں روایت کیا کہ وہ سیدھا ہوتا ہے اپنی ماں کے پیٹ میں اور ایک فرشتہ اس کے ساتھ مقرر کردیا جاتا ہے جب اس کی ماں سوتی ہے اور لیٹ جاتی ہے تو وہ اس کا سر اٹھا کر دیکھتا ہے اگر وہ اس طرح نہ کرے تو وہ البتہ خون میں غرق ہوجائے۔
31۔ الطستی نے اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت لقد خلقنا الانسان فی کبد کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس سے مراد ہے کہ ہم نے انسان کو معتدل اور سیدھا پیدا کیا پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا کیا تو نے لبید بن ربیعہ کا قول نہیں سنا
یا عین ہلا بکت اربد اذا قمنا وقام الخصوم فی کبد
ترجمہ : اے آنکھ تو کیوں نہیں روتی کیا رنگ خاکستر ہوگیا جبکہ ہم کھڑے ہوئے اور دشمن مقابلے اور سیدھ میں آکھڑا۔
32۔ الفریابی و سعید بن منصور ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ میرا گمان ہے کہ حضرت عبداللہ ؓ سے مروی ہے آیت فی کبد سے مراد سیدھا ہے یعنی ہم نے انسان کو سیدھا پیدا کیا۔
33۔ ابن المبارک فی الزہد وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے آیت لقد خلقنا الانسان فی کبد کے بارے میں روایت کیا کہ ہم نے انسان کو پیدا کیا اس حال میں کہ وہ دنیا کی تنگیوں اور آخرت کی سختیوں کو برداشت کرے گا۔
34۔ ابن المبارک نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت پڑھی اور فرمایا آیت لقد خلقنا الانسان فی کبد میں نہیں جانتا کہ ولادت کتنی تکلیف کا باعث ہوتی ہے جس کو یہ انسان برداشت کرتا ہے۔
35۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے آیت لقد خلقنا الانسان فی کبد کے بارے میں روایت کیا کہ وہ تکلیف برداشت کرتا ہے دنیا کے کاموں کی اور آخرت کے کاموں کی۔
36۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فی کبد سے مراد ہے شدت اور طول۔
37۔ ابن جریر وابن ابی حاتم رحمہما اللہ نے بیان کیا کہ آیت فی کبد سے مراد ہے کہ آسمان میں آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا گیا۔
Ayah 90:538۔ ابو یعلی والبغوی وابن مردویہ نے بنو عامر کے ایک آدمی ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھی تو میں نے ان کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا آیت ایحسب ان لن یقدر علیہ احد ایحسب ان لم یرہ احد یعنی یحسب میں سین کے فتح کے ساتھ۔
39۔ ابن المنذر نے سدی (رح) سے آیت ایحسب ان لم یرہ احد کے بارے میں روایت کیا کہ کافر یہ گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہرگز اس پر قادر نہیں ہوں گے اور نہ اس نے اسے دیکھا ہے۔
Ayahs 90:6–940۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت مالا لبدا سے مراد ہے کثیر مال۔
41۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت اہلکت مالا لبدا سے مراد ہے کہ وہ کہے گا میں نے اللہ کے راستے سے روکنے پر بہت مال خرچ کیا آیت ایحسب ان لم یرہ احد میں الاحد سے مراد ہیں اللہ تعالیٰ یعنی کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے نہیں دیکھا۔
42۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے یقول الکت مالا لبدا۔ کے بارے میں روایت کیا کہ اس نے ہم پر احسان فرمایا۔ لیکن ہم نے اس کو زیادہ فضیلت والا قرار نہیں دیا آیت الم نجعل لہ عینین۔ کیا ہم اس کے لیے دو آنکھیں نہیں بنائی۔ اس طرح اور اس طرح۔
43۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت الم نجعل لہ عینین کے بارے میں روایت کیا کہ یہ ظاہر نعمتیں ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہم اس کا اقرار کرتے ہیں تاکہ ہم شکر ادا کریں۔
انسان کے اعضاء وجوارح گناہوں پر گواہ ہوں گے
44۔ ابن عساکر نے مکحول (رح) سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے آدم کے بیٹے میں بڑی بڑی نعمتیں تجھ پر کرچکا ہوں جن کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔ اور نہ تو اس کے شکر کی طاقت رکھتا ہے۔ اور ان نعمتوں میں سے جو میں نے تجھ پر کی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ میں نے تیرے لیے آنکھیں بنائی کہ جن کے ذریعہ تو دیکھتا ہے۔ اور میں نے ان کے لیے پردے بنائے۔ سو تم اپنی آنکھوں کے ساتھ ان چیزوں کی طرف دیکھو جو میں نے تیرے لیے حلال کی ہیں اگر تو نے ان کو دیکھا جو میں نے تجھ پر حرام کی ہیں تو میں ان پر ان کا پردہ ڈال دوں گا۔ اور میں نے تیرے لیے ایک زبان بنائی ہے اور اس کے لیے ایک غلاف بنایا ہے سو تو انہیں چیزوں کے بارے میں گفتگو کر جو میں تجھ کو حکم دیا ہے اور میں نے تیرے یلے ایک زبان بنائی ہے اور اس کے لیے ایک غلاف بنایا ہے سو تو انہیں چیزو کے بارے میں گفتگو کر جو میں تجھ کو حکم دیا ہے اور میں تیرے لیے حلال کیا اور اگر ان کے لیے زبان کو استعمال کیا جو میں تجھ پر حرام کیں تو میں تیرے اوپر تیری زبان کو بند کردوں گا۔ اور میں نے تیرے لیے شرم گاہ بنائی اور میں نے اس کے لیے پردہ بھی بنایا سو تو اپنی شرم گاہ کو اسی کے لیے استعمال کر جو میں تیرے لیے حلال کیا اور اگر تجھے وہ کچھ پیش ہو، جو میں تجھ پر حرام کیا تو میں تجھ پر تیرے پردے کو ڈھیلا ردوں گا۔ اے آدم کے بیٹے بیشک تو میرے غصے کو نہیں برداشت کرسکتا۔ اور نہ تو میرا انتقام لینے کی طاقت رکھتا ہے۔
Ayah 90:1045۔ عبدالرزاق والفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت وہدینہ النجدین۔ اور ہم نے اسے دونوں دکھائے۔ یعنی خیر اور شر کا راستہ۔
46۔ فریابی وعبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے رایت کیا کہ آیت وہدینہ النجدین کہ ہم نے اس کو خیر اور شر کے راستے کی پہچان کرادی۔
47۔ ابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وہدینہ النجدین یعنی ہدایت اور گمراہی کا راستہ۔
48۔ سعید بن منصور نے محمد بن کعب ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔
49۔ فریابی وعبد بن حمید نے حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ ان سے کہا گیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ نجدین سے مراد ہیں دو پستان ہیں تو فرمایا اس سے مراد ہے خیر اور شر ہے۔
50۔ عبد بن حمید نے عکرمہ اور ضحاک رحمہا اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔
51۔ ابن ابی حاتم نے منان بن سعید کے طریق سے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نیف رمایا وہ دو راستے ہی پس شرک کے راستے کو تمہاری طرف زیادہ محبوب نہیں بنایا گیا خیر کے راستے سے۔
52۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن مردویہ کئی طرق سے حسن (رح) سے آیت وہدینہ النجدین کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے۔ اے لوگو ! بلاشبہ وہ دو راستے ہیں ایک راستہ خیر کا ہے اور ایک راستہ شر کا ہے۔ پس شر کا راستہ تمہارے نزدیک خیر کے راستے سے زیادہ پسندیدہ نہیں بنایا گیا۔
53۔ الطبرانی نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اے لوگو ! بیشک وہ دوراستے ہیں : ایک راستہ شر کا ہے اور ایک راستہ خیر کا ہے۔ پس شر کا راستہ پسندیدہ نہیں بنایا گیا خیر کے راستے سے۔
54۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو بتایا گیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اور پھر اسی طرح ذکر کیا۔
55۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک یہ دو راستے ہیں ایک راستہ خیر کا ہے اور ایک راستہ شر کا ہے۔ پس تم میں سے کسی کے نزدیک شر کا راستہ زیادہ پسندیدہ نہیں ہونا چاہیے خیر کے راستے سے۔
56۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وہدینہ النجدین سے مراد ہے دو پستان۔
Ayahs 90:11–131۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلاقتحم العقبۃ۔ پس وہ دین کی گھاٹی میں سے نہ ہو کر نکلا سے جہنم میں ایک پہاڑ مراد ہے۔
2۔ ابن جریر نے حسن ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔
3۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عقبہ سے آگ مراد ہے۔
4۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لوگوں کے لیے جنت کے قریب ایک گھاٹی ہے اور اس میں داخل ہونا غلامی سے گردن کو چھڑانا ہے۔
5۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابو رجاء رحمۃ اللہ سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ وہ گھاٹی جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا کہ اس کی چڑھائی سات ہزار سال کی ہے اور اس کا اترنا بھی سات ہزار سال کا ہے۔
6۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلا اقتحم العقبۃ سے جنت اور دوزخ کے درمیان ایک گھاٹی مراد ہے۔
7۔ ابن المنذر نے ابو صالح (رح) سے آیت فلا اقتحم العقبہ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ ایک گھاٹی ہے جنت اور دوزخ کے درمیان۔
8۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے کعب احبار ؓ سے روایت کیا کہ عقبہ سے مراد ستر درجے (یعنی سیڑھیاں) ہیں جہنم میں۔
9۔ ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلا اقتحم العقبۃ سے مراد ہے خبردار ایسے راستے پر چل جس میں نجات اور خیر ہے۔
10۔ عبد بن حمید وابن جریر نے حسن (رح) سے آیت فلا اقتحم العقبۃ کے بارے میں روایت کیا کہ العقبہ سے مراد جہنم ہے اور تجھے کیا معلوم ہے کہ عقبہ کیا ہے ؟ پھر فرمایا کہ ہم کو یہ ذکر کیا گیا کہ جو مسلمان کسی مسلمان کی گردن غلامی سے آزاد کرائے گا تو وہ فدیہ بن جائے گا دوزخ سے بچنے کے لیے۔
11۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ تجھے کیا معلوم ہے کہ عقبہ کیا ہے ؟ پھر اس میں داخل ہونے کی خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ غلامی سے گردن کو چھڑانا ہے پھر ہم کو ذکر کیا گیا کہ نبی ﷺ سے پوچھا گیا غلاموں کے بارے میں کہ کونسا غلام آزاد کرنے میں زیادہ اجر والا ہے ؟ تو فرمایا کہ جو قیمت کے لحاظ سے زیادہ ہو۔
12۔ ابن مردویہ ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تمہارے سامنے ایک سخت دشوار گھاٹی ہے کہ بھاری لوگ اس سے پار نہیں ہوں گے۔ اور میں ارادہ کرتا ہوں کہ میں اس گھاٹی کو آسان بنادوں۔
13۔ الحاکم وصححہ وابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی سنن عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت فلا اقتحم العقبۃ نازل ہوئی تو پوچھا گیا یا رسول اللہ ! کہ ہم میں سے کسی کے پاس کوئی غلام نہیں ہوتا جس کو وہ آزاد کرے اور ہم میں سے کسی کے پاس ایک سیاہ لونڈی ہوتی ہے جو اس کی خدمت کرتی ہے اور اس پر طرح طرح کی مشقت اٹھاتی ہے اگر ہم ان کو زنا کا حکم کریں تو وہ زنا کریں پھر وہ اولاد لے کر آئیں اور ہم ان کو آزاد کردیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بیشک میرے نزدیک اللہ کے راستے میں درے کی شدت اور سختی لے جانا زنا کا حکم دینے اور پھر بچے کو آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔
14۔ ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ان کو ابوہریرہ ؓ سے یہ قول پہنچا کہ اللہ کے راستے میں ایک درہ لگانا اجر کے اعتبار سے زانیہ کے بچے کی آزادی سے زیادہ عظیم اور ارفع ہے۔ عائشہ ؓ نے فرمایا اللہ تعلایٰ ابوہریرہ ضی اللہ عنہ پر رحم فرمائے یہ اس طرح ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جب آیت فلا اقتحم العقبۃ وما ادرٰک مالعقبۃ فک رقبہ۔ پس وہ دین کی گھاٹی میں ہو کر نہ نکلا اور آپ کو کیا معلوم وہ گھاٹی کیا ہے گردن کا چھڑانا ہے۔ نازل فرمائی۔ تو بعض مسلمانوں نے کہا یارسول اللہ ! ہمارے پاس کوئی غلام نہیں جس کو ہم آزاد کریں۔ بلاشبہ ہمارے بعض لوگوں کے پاس خدمت کرنے والیاں ہوتی ہیں جن کے بغیر کوئی چارہ نہیں پس ہم ان کو زنا کا حکم دیتے ہیں اور جب انہوں نے زنا کیا تو وہ بچے بھی جنتی ہیں۔ تو ہم ان کی اولاد کو آزاد کردیتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان کو زنا کا حکم نہ کرو کیونکہ اللہ کے رستے میں شدت اور سختی برداشت کرنا اس سے زیادہ اجر والا ہے۔
مسلمان غلام آزاد کرنے کی فضیلت
15۔ ابن مردویہ نے ابو نجیع سلمی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا تو اس کی ہڈیوں میں سے ہر ہڈی کے بدلے آزاد کرنے والے کی ہڈیوں میں سے ایک ہڈی کو جہنم سے نکلنے کی جزا دی جائے گی۔
16۔ ابن سعد وابن ابی شیبہ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کسی مسلمان یا مومن آدمی کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کے عضو کو دوزخ سے بچالیں گے۔
17۔ احمد نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! کون سی گردنیں آزاد کرنا افضل ہیں آپ نے فرمایا کہ جو ثمن کے لحاظ سے مہنگی ہوں اور اپنے گھروالوں کے نزدیک نفیس ہوں۔
18۔ 18۔ ابن ابی شیبہ واحمد والبخاری ومسلم وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے کسی مومن غلام کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے میں اس کے ہر عضو کو دوزخ سے آزاد فرمادیں گے یہاں تک کہ اس کی شرم گاہ کو شرم گاہ کے بدلے میں۔
19۔ احمد وابن حبان وابن مردویہ والبیہقی نے براء ؓ سے روایت کیا کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ ﷺ سے کہا مجھے ایسا عمل بتادیجیے جو مجھ کو جنت میں داخل کردے تو فرمایا ایک غلام کو آزاد کر اور ایک گردن کو غلامی سے چھڑا دے۔ اس نے کہا : کیا یہ دونوں ایک نہیں ہیں۔ فرمایا نہیں بلاشبہ عتق رقبہ یہ ہے کہ تو اسے آزاد کرنے میں منفرد ہو۔ اور فک رقبہ یہ ہے۔ کہ تو مدد کرے اس کی آزادی اور تو ذی رحم کو دودھ دینے والا جانور دے۔ اور اس پر احسان کر اور اگر تو اس کی طاقت نہ رکھے تو پھر بھوکے کو کھانا کھلا اور پیاسے کو پانی پلا۔ اور نیکی کا حکم کر اور برائی سے روک اگر تو اسکی طاقت نہیں رکھت تو اپنی زبان کو بند رکھ نیکی اور خیر کے سوا۔
Ayah 90:1420۔ فریابی وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یوم ذی مسغبۃ سے مراد ہے بھوک کا دن یعنی قحط سالی کی کیفیت۔
21۔ فریابی وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یوم ذی مسغبہ سے مراد ہے بھوک کا دن (یعنی قحط سالی کی کیفیت)
21۔ فریابی وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یوم ذی مسغبۃ سے مراد ہے بھوک کا دن۔
22۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم ذی مسغبہ سے مراد ہے بھوک۔
23۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابراہیم (رح) سے روایت کیا کہ آیت یوم ذی مسغبہ سے مرادوہ دن ہے جس میں کھانا کم ہو۔
24۔ عبد بن حمید نے حسن اور ابورجا العطاردی رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ دونوں نے اس طرح پڑھا آیت او اطعم فی یوم ذی مسغبہ۔
25۔ الحاکم وصححہ والبیہقی نے جابر ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ موجبات مغفرت میں سے کسی بھوکے مسلمان کو کھانا کھلانا بھی ہے۔
Ayah 90:1526۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا آیت ذا مقربۃ یعنی رشتہ دار اور آیت ذا متربۃ سے
مراد ہے بعید التربۃ یعنی دوری جو اپنے وطن سے دور ہو۔
Ayah 90:1627۔ فریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت او مسکینا ذا متربۃ یا کسی خاک نشین مسکین کو ایسا حقیر اور چھوڑا ہو انسان جس کا کوئی گھر نہ ہو اور حاکم کے الفاظ میں ہے کہ ایسا خاک نشین جسے مٹی سے کوئی چیز نہ بچا سکتی ہو اور ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ جو شدت فقر کے سبب مٹی سے چپک جائے۔
28۔ فریابی وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔
29۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت او مسکینا ذا متربۃ سے مراد ہے شدید حاجت مند آدمی۔
30۔ ابن جریر نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے آیت او مسکینا ذا متربۃ کے بارے میں روایت کیا کہ یہاں مراد ایسا مس کی ہے جو اہل و عیال والا ہو اور تیرے اور اس کے درمیان کوئی رشتہ داری نہ ہو۔
31۔ الطستی نے اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ذا متربۃ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا مشقت اٹھانے والا اور حاجت پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے شاعر کا قول نہیں سنا
تربت یداک ثم قل نوالہا وترفعت عنک السماء سحابہا
ترجمہ : تیرے ہاتھ مٹی میں ملے پھر ان کی بخشش اور عطا کم ہوئی اور اسی کے ساتھ تجھ سے آسمان نے اپنے بادل بلند کرلیے۔
32۔ ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت او مسکینا ذا متربہ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے وہ آدمی مراد ہے جس کا ٹھکانہ اور پناہ گاہ کوڑے کی ڈھیر ہوں۔
33۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت ذا متربہ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم بات کرے ہیں کہ المترب سے وہ عیال والا آدمی مراد ہے جس کے پاس کوئی چیز نہ ہو۔
34۔ ابن ابی شیبہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ فرائض کے بعد لوگوں کا کوئی عمل اللہ کے نزدیک مسکین کو کھانا کھلانے سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے۔
دینِ حق پر قائم رہنے کی تلقین کرنا
Ayahs 90:17–2035۔ ابن ابی حاتم نے ہشام بن حسان (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتواصو بالصبر اور انہوں نے ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی، یعنی وہ اس کام پر ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے فرض کیا ہے۔
36۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وتواصو بالمرحمۃ۔ اور انہوں نے ایک دوسرے کو رحم کرنے کی وصیت کی، سے مراد ہے کہ وہ ایک دوسرے کو رحمت کی نصیحت کرتے ہیں اس طرح وہ سارے لوگوں کے لیے زحمت بن جاتے ہیں۔
37۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت مؤصدۃ سے مراد ہے دروازوں کا بند کردینا یعنی ان کو آگ میں ڈال کر دروازے بند کردئیے جائیں گے۔
38۔ فریابی وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت موصدہ سے مراد ہے مطبقہ۔ یعنی اس پر آگ چھائی ہوئی ہوگی۔
39۔ سعید منصور وعبد بن حمید وابن جریر نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے اسی طرح روایت کیا کہ
40۔ عبد بن حمید نے مجاہد، عکرمہ، عطیہ ضحاک، سعید بن جبیر حسن اور قتادہ رحمہم اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔
41۔ الطستی نے اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول مؤصدۃ کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس سے مراد ہے چھایا ہوا ہونا پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کی اتونے شاعر کا قول نہیں سنا۔
نحن الی اجبال مکۃ ناقتنی ومن دوننا ابواب صنعا مؤصدۃ
ترجمہ : میری اونٹنی مکہ کے پہاڑ کی مشتاق رہتی ہے اور ہمارے آگے صنعا کے بند دروازے ہیں۔
42۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ موصدۃ قریش کی لغت کے مطابق ہے کہا جاتا ہے اوصد الباب یعنی اس نے دروازہ بند کردیا۔