Al-Balad 90:1

90. Al-Baladالبلد

The City · Meccan · 20 ayahs · 1 ruku

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

90:1

لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ ۟ۙلَاۤ اُقۡسِمُ بِهٰذَا الۡبَلَدِۙ

ہمیں اس شہر (مکہ) کی قسم

— Fateh Muhammad Jalandhari

I swear by this city, Makkah -

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Balad

All translations of 90:1

نہیں، میں قسم کھاتا ہوں اِس شہر کی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ہمیں اس شہر (مکہ) کی قسم

— مولانا فتح محمد جالندہری

میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں

— مولانا محمد جوناگڑہی

میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

میں اس شہر (مکہ) کی قَسم کھاتا ہوں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

نہیں، میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں !

— مولانا عبد السلام بھٹوی

میں اس شہر (مکہ) کی قسم کھاتا ہوں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں اس سر زمین کی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

نہیں میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی

— مولانا اسحاق مدنی

میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی

— محترمہ رفعت اعجاز

I swear by this city,

— Muhammad Taqi Usmani

I swear by this city,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Nay! I swear by this city;

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

I swear by this city, Makkah -

— Saheeh International

I do not (need to) swear by this town (Mecca)

— Muhammad Sarwar

Nay! I swear by this city.

— Muhammad Habib Shakir

I swear by yonder city

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 90:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–10

مکہ مکرمہ کی قسم : اللہ تبارک وتعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں لا سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہوگا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہوگا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہکاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَلَد 1 اس سے پہلے ہم سورة قیامہ میں 1 میں اس بات کی وضاحت کرچکے ہیں کہ کلام کا آغاز " نہیں " سے کرنا اور پھر قسم کھا کر آگے بات شروع کرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ لوگ کوئی غلط بات کہہ رہے تھے جس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ نہیں، بات وہ نہیں ہے جو تم سمجھے بیٹھے ہو، بلکہ میں فلاں فلاں چیزوں کی قسم کھاتا ہوں کہ اصل بات یہ ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ وہ بات کیا تھی جس کی تردید میں یہ کلام نازل ہوا، تو اس پر بعد کا مضمون خود دلالت کر رہا ہے۔ کفار مکہ یہ کہتے تھے کہ ہم جس طرز زندگی پر چل رہے ہیں اس میں کوئی خرابی نہیں ہے، دنیا کی زندگی بس یہی کچھ ہے کہ کھاؤ پیو، مزے اڑاؤ، اور جب وقت آئے تو مر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر میں قسم کھاتا ہوں اس شہر (مکہ) کی اور (جواب قسم سے پہلے آنحضرت ﷺ کے حق میں ایک بشارت دی گئی کہ) آپ کو اس شہر میں لڑائی حلال ہونے والی ہے (چناچہ فتح مکہ کے روز آپ کے لئے قتال جائز کردیا گیا تھا۔ احکام حرم باقی نہیں رہے تھے) اور قسم ہے باپ کی اور اولاد کی (ساری اولاد کے باپ آدم ؑ ہیں پس آدم اور بنی آدم سب کی قسم ہوئی آگے جواب قسم ہے) کہ ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں پیدا کیا ہے (چنانچہ عمر بھر کہیں مرض میں کہیں رنج میں کہیں فکر میں اکثر اوقات مبتلا رہتا ہے اور اس کا مقتضاد یہ تھا کہ اس میں عجز ودرماندگی پیدا ہوتی اور اپنے کو بستہ حکم تقدیر سمجھ کر مطیع امر وتابع رضا ہوتا لیکن انسان…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قسم سے پہلے ’لَا‘ کا محل استعمال: یہاں ’لَا‘ اسی طرح آیا ہے جس طرح ’لَا أُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ‘ (القیامہ ۷۵: ۱) اور بعض دوسرے مقامات میں آیا ہے۔ اس کی وضاحت ہو چکی ہے۔ یہ قسم سے پہلے مخاطب کے اس خیال باطل کی تردید کے لیے ہے جس کا سابق سورہ میں حوالہ ہے۔ سابق سورہ میں یہ بات گزر چکی ہے کہ لوگوں کو جب مال و جاہ کی نعمت ملتی ہے تو اس کو اپنی تدبیر و تدبر کا کرشمہ سمجھ بیٹھتے اور اتراتے ہیں کہ وہ خدا کی نظروں میں بلند مرتبہ ہیں اس وجہ سے اس نے دوسروں کے مقابل میں ان کو یہ سرفرازی بخشی ہے۔ اس خیال باطل کی تردید سابق سورہ میں ایک دوسرے پہلو سے ہوئی ہے۔ اس سورہ میں اس کی تردید ایک اور پہلو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1۔ 1 اس شہر سے مراد مکہ مکرمہ ہے جس میں اس وقت، جب سورت کا نزول ہوا، نبی کریم ﷺ کا قیام تھا، آپ ﷺ کا جائے پیدائش بھی یہی شہر تھا۔ یعنی اللہ نے آپ ﷺ کے مولد و مسکن کی قسم کھائی، جس سے اس کی عظمت کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–2

1: اس شہر سے مراد مکہ مکرمہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے خصوصی تقدس عطا فرمایا ہے اور اس میں حضور اقدس ﷺ مقیم ہونے کی بنا پر اس کے تقدس میں اور اضافہ ہوا ہے۔ کیونکہ آپ کی تشریف آوری کے لیے اس شہر کا انتخاب فرما کر اللہ تعالیٰ نے اس کی شان اور بڑھا دی ہے۔ اس جملے کی دو تفسیریں اور بھی ہیں جن کی تفصیل ”معارف القرآن“ میں ملاحظہ فرمائیں

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–3

لا اقسم .................................... فی کبد شہر سے مراد مکہ ہے ، جہاں بیت الحرام واقع ہے ، یہ پہلا وہ گھر ہے ، جو صرف اللہ کی عبادت کے لئے اس زمین پر بنایا گیا ہے ، تاکہ یہاں لوگ آزادی سے آجاسکیں اور امن سے رہ سکیں۔ جہاں آکر ، یہ اسلحہ پھینک دیں ، اپنے ذاتی جھگڑے ایک طرف رکھ دیں ، عداوتوں کو بھلادیں اور اس میں نہایت امن سے ملیں۔ جہاں کسی کا کسی پر اسلحہ اٹھانا حرام ہو ، انسان میں نہیں بلکہ یہاں کے پرندوں اور درختوں کو چھیڑنا اور نقصان پہنچانا بھی حرام ہو۔ پھر یہ شہر ابراہیم (علیہ السلام) کا گھر ہے ، جو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے والد محترم ہیں اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) عربوں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 1{ لَآ اُقْسِمُ بِہٰذَا الْبَلَدِ۔ } ”نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی۔“ اس آیت میں بھی لَآ اُقْسِمُکا مفہوم بالکل وہی ہے جو اس سے پہلے ہم سورة القیامہ کی پہلی اور دوسری آیات یا سورة الانشقاق کی آیت 16 میں پڑھ چکے ہیں۔ یعنی ان آیات میں لَا نافیہ نہیں ہے بلکہ مخاطبین کے خیالاتِ باطلہ کے ابطال کے لیے ہے۔ چناچہ سورة القیامہ کی پہلی آیت { لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ۔ } کا اگر ہم انگریزی ترجمہ کریں تو ہم کہیں گے : Nay , - swear by the Day of Judgement ! دراصل انگریزی میں تو Nay کے بعد کو ما , آجانے سے مفہوم بالکل واضح ہوجاتا ہے ‘ لیکن عربی میں چونکہ ”کو ما“ وغیرہ کا استعمال نہیں ہوتا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

1 مسلمانوں کے علاوہ کفار مکہ کے ہاں بھی مکہ کی اہمیت و عظمت مسلّم تھی۔ بلکہ کفار مکہ تو اس شہر کی برکت کی وجہ سے کئی طرح کے دنیوی، تجارتی اور سیاسی مفادات بھی حاصل کر رہے تھے۔ عرب بھر میں ان کی عزت و وقار اور دولت و شہرت کا سبب یہی شہر اور اس میں کعبہ کی موجودگی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–2

1۔ شہر سے مراد مکہ ہے، جہاں ان آیات کے نزول کے وقت رسول اللہ ﷺ مقیم تھے، (آیت) ” لااقسم “۔ اس ترکیب الفاظ پر حاشیہ پہلے گذر چکا، اقسام قرآنی کے لئے ملاحظہ ہوپ 14 کا ضمیمہ۔ (آیت) ” وانت ...... البلد “۔ یہ پیشگوئی بطور جملہ معترضہ کے ہے، اور آپ ﷺ کے رسول برحق ہونے پر خود ایک مستقل دلیل۔ مکہ کی اس مجبوری، محصوری مظلومی کی زندگی میں کوئی بشر خیال بھی نہیں کرسکتا تھا کہ آپ ﷺ بھی کبھی جہاد و قتال (اور وہ بھی فاتحانہ) کا اعلان کرسکیں گے۔ مسیحی مؤرخ سرولیم میور نے کہا ہے کہ سورت کا اصل موضوع یعنی خیروشر کے (2) دو را ہے کا اعلان، پیغمبر ﷺ کی ایماندارانہ جستجوئے حق کا ثبوت ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، میں قسم کھاتا ہوں اس شہر مکہ کی (لا اقسم) میں، لازائدہ ہے اور اے محمد ﷺ ! آپ ﷺ کے لئے اس شہر میں قتال حلال ہونے والا ہے، بایں طور کہ آپ ﷺ کے لئے قتال حلال کردیا جائے گا، سو آپ ﷺ اس میں قتال کریں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس وعدہ کو فتح مکہ کے دن پورا فرما دیا (انت حل الخ) مقسم بہ اور اس کے درمیان جس کا مقسم بہ پر عطف کیا گیا ہے، جملہ معترضہ ہے، اور قسم ہے والد آدم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اور ان کی اولاد کی یعنی ان کی ذریت کی اور مابمعنی من ہے، یقیناہم نے انسان کو یعنی جنس انسان کو مشقت اور شدت میں پیدا کیا ہے کہ وہ دنیا کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا اقسم بھذا البلد . لا (لفظاً ) زائد ہے (معنیً ) تاکید قسم کے لیے مفید ہے۔ لا کی زیادتی سے اس طرف اشارہ ہے کہ جس مدعا کو بیان کیا ہے وہ اتنا واضح الثبوت ہے کہ اسکے لیے قسم کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ھٰذا البلد سے مراد مکہ معظمہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–2

(21) میں قسم کھاتا ہوں اس شہر مکہ کی آپ کے لیے اس شہر میں لڑائی حلال ہونے والی ہے جو کہ آپ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھی، اور نہ آپ کے بعد ہوگی، یا یہ کہ آپ اس شہر میں نزول فرمانے والے ہیں، یا یہ مطلب ہے کہ آپ اس شہر میں جو کریں وہ آپ کے لیے حلال ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 1–4

(لا اقسم بھذا البلد…:) قسم سے پہلے ”لا“ (نہیں) فرما کر ان لوگوں کی بات کی نفی کی گئی ہے جو قسم کے بعد آنے والی بات کا اناکر کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے چند قسموں کے بعد فرمایا : یقینا ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے، اگر وہ سمجھے کہ میں دنیا میں عیش و آرام کے لئے آیا ہوں تو اس کا خیال غلط ہے۔ اس حقیقت کا یقین دلانے کیلئے پہلی قسم شہر مکہ کی کھائی، جو اس دعوے کی دلیل بھی ہے، کیونکہ اس شہر کی آبادی کی ابتدائ، اسماعیل ؑ اور ان کی والدہ کی زندگی، ان کے بعد کی تاریح، خصوصاً اس شہر میں رہتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی زندگی، آپ کی یتیمی اور بےسروسامانی، نبوت کی ذمہ داری کے بعد اپنی ہی قوم کا جان لینے کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

لا اقسم بھذالبلد۔ یہ جائز ہے کہ لا زائدہ ہوں جس طرح لا اقسم بیوم القیامہ، میں روز قیامت کی قسم اٹھاتا ہوں یہ اخفش کا قول ہے، یعنی میں قسم اٹھاتا ہوں کیونکہ ارشاد فرمایا ہے بھذالبلد جبکہ پہلے شہر کی قسم اٹھائی وھذالبلدالامین، یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ اس کی قسم کا انکار کرے جب کہ اس کی قسم اٹھائی، شاعر نے کہا : تذکرت لیلی فاعترتنی صبابۃ۔ وکا صمیم القلب لایتقطع۔ میں نے لیلی کو یاد کیا تو مجھے عشق نے آلیا قریب تھا کہ صمیم قلب ٹکڑے ٹکرے ہوجاتا۔ شعر میں حرف لاصلہ (زائدہ) ہے اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، مامنعک الاتسجد اذا امرتک۔ الاعراف 12) کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے روکا جب کہ میں نے تجھے حکم…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

فتح مکہ دن کے احوال 1۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت لا اقسم بہذا لبلد اس شہر کی قسم ہے۔ سے مراد مکہ مکرمہ ہے۔ آیت وانت حل بہذا البلد۔ حالانکہ آپ شہر میں مقیم ہیں۔ یعنی انت نبی ﷺ مراد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کردیا جس دن آپ مکہ میں فتح مکہ ہونے کے بعد داخل ہوں گے کہ جس کو آپ چاہیں قتل کردیں اور جس کو چاہیں چھوڑدیں۔ تو اس دن ابن خطل کو بند کر کے قتل کردیا گیا۔ اور وہ کعبہ کے پردوں کو پکڑے ہوئے تھا۔ رسول اللہ ﷺ کے بعد پھر لوگوں میں سے کسی کے لیے حلال نہیں کہ اس میں کسی کو قتل کرے اور یہ حرام ہے اللہ کی حرمت کی وجہ سے مگر اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[لَآ اُقْسِمُ : نہیں میں قسم کھاتا ہوں ][ بِهٰذَا الْبَلَدِ : اس شہر کی ] نوٹ۔ 1: اس سورة میں ایک بہت بڑے مضمون کی چند مختصر جملوں میں سمیٹ دیا گیا ہے۔ اور یہ قرآن کا کمال اعجاز ہے کہ ایک پورا نظریۂ حیات، جسے مشکل سے ایک ضخیم کتاب میں بیان کیا جاسکتا تھا، اسے اس چھوٹی سی سورة کے چھوٹے چھوٹے فقروں میں نہایت مؤثر طریقہ سے بیان کردیا گیا ہے۔ اس کا موضوع دنیا میں انسان کی، اور انسان کے لیے دنیا کی صحیح حیثیت سمجھانا اور یہ بتانا ہے کہ خدا نے انسان کے لیے سعادت اور شقاوت (نیک بختی اور بدبختی) کے دونوں راستے کھول کر رکھ دئیے ہیں، ان کے دیکھنے اور ان پر چلنے کے وسائل بھی اسے فراہم کر دئیے ہیں۔ اب…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہ نے شہر مکہ مکرمہ کی اور انسان کے والد یعنی آدم (علیہ السلام) کی اور ان کی ذریت کی قسم کھا کر یہ فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے، درمیان میں بطور جملہ معترضہ ﴿ وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ002 ﴾ بھی فرمایا جس وقت یہ سورت نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ مکہ معظمہ میں ہی تھے، وہاں مشرکین سے تکلیفیں پہنچتی رہتی تھیں۔ مکہ معظمہ حرم ہے اس میں قتل و قتال ممنوع ہے مشرکین مکہ بھی اس بات کو جانتے اور مانتے تھے، لیکن اللہ جل شانہ نے اول تو اس کی قسم کھا کر اس کی عزت کو بیان فرما دیا اور ساتھ ہی رسول اللہ ﷺ کو یہ پیشگی خبر دے دی کہ ایک دن آنے والا ہے جب آپ اس میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–20

انقسام عمل درخیر وشر مع بیان عظمت مہبط وحی و سرچشمہ ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بھذا البلد ........ الی .......... نار مؤصدۃ “۔ (ربط) سورة الفجر میں پانچ اہم اور عظیم امور کی قسم کھا کر ہر صاحب عقل اور فہم کو اس امر کی دعوت دی گئی تھی کہ وہ عقل اور فطرت کی روشنی میں خداوند عالم کی عظمت وقدرت کو پہچانے اس کی خالقیت و ربوبیت پر ایمان لائے یہی چیز انسان کو فلاح وسعادت کے مقام تک پہنچانے والی ہے، اور جو قومیں عقل و فطرت کی ان صلاحیتوں کو ضائع کرکے سرکشی اور نافرمانی پر ڈٹی رہیں جیسے قوم عاد وثمود اور فرعون تا ریخ میں ان کا عبرت ناک انجام بھی دنیا کے سامنے آچکا تو اس سورت میں سرزمین…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–3

2:۔ ” لا اقسم “ لا زائدہ ہے برائے تاکید قسم۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ” البلد “ سے مکہ مکرمہ مراد ہے۔ ” انت حل “ کے معنی ہیں کہ تو مکہ میں داخل ہونے والا ہوگا یا مطلب یہ ہے کہ تو صاحب حلت ہوگا یعنی آپ کیلئے مکہ مکرمہ میں قتل و قتال حلال ہوگا۔ وی ومن المکابدۃ ان مثلک عظیم حرمتک یستحل بھذا البلد یعنی مکۃ کما یستحل الصید فی غیر الحرم (مدارک) ۔ یہ مشقت اس پر شاہد ہے کہ مشقت میں ڈالنا ہمارے اختیار میں ہے۔ اس میں آنحضرت ﷺ کو مکہ مکرمہ پر غلبہ دینے کی طرف اشارہ ہے۔ ” ووالد و ما ولد “ ماں جب بچے کو جنم دیتی ہے تو اس کو جو تکلیف اور مشقت اٹھانا پڑتی ہے یہ بھی شاہد ہے کہ مشقت میں ڈالنا ہمارے ہاتھ میں ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–10

شہر مکہ ابتدائے سورة میں دو چیزوں کی قسم کھا کر بات سمجھائی گئی ہے پہلی قسم بلد یعنی شہر مکہ کی ہے اور دوسری والدوما ولد یعنی والد اور مولود کی چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ لا اقسم بھذا البلد یہاں لفظ لاتاکید کے لئے ہے۔ یعنی میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی وانت حل بھذا البلد اور آپ اترے ہوئے ہیں اس شہر میں حل ، حلول سے ہے۔ اور اس کا معنی اترنا ہے۔ مراد شہر مکہ مکرمہ ہے۔ جو کہ بلدہ طیبہ ، بلد الحرام اور عزت والا شہر ہے۔ قرآن پاک میں بلدہ طیبہ کا ذکر کئی مقامات پر آیا ہے۔ اس کی بڑی اہمیت ہے۔ کیونکہ اس میں بیت اللہ شریف واقع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شہر کو مرکز ہدایت اور حرمت والا شہر قرار دیا ہے اور اس کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَآ اُقْسِمُ بِہٰذَا الْبَلَدِ۝ 1 ۙ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–4

ترکیب ¦ لا قدمر الکلام فیھا فقیل زائدۃ وقیل لالنفی کلام الکفار وقیل لنفی القسم بظھور الامر ای لاحاجۃ الی القسم بھذہ الاشیاء والمراد بالبلد عند جمھور المفسرین مکتہ والبلدیذکر و یؤنث والجمع بلدان والبلدۃ بالفتح جمعھا بلاد بالکسر وانت حل الخ قال الواحدی الحل والحلال والمحل واحد وھو ضدالحرم ای فاحل اللہ لنبیہ ﷺ القتال فی مکۃ وقد انجز اللہ تعالیٰ وعدہ یوم الفتح فالجملۃ معترضۃ بین المقسم بہ وما وعطف علیہ وقیل معناہ حال ای اقسم بھذا البلد وانت مقیم فیہ تشریفاً لک وتعظیما لقدرک اولا اقسم بھذا البلد حال کو نک مقیما فیہ بل اقسم بک فعلی ھذا الجملۃ منصوبۃ محلاً والدوما ولد معطوف علی البلد وما بمعنی من…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَآ اُقْسِمُ بِھٰذَا الْبَلَدِ ۔ (البلد : 1) (نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی۔ ) قسم سے پہلے ” لا “ کا مفہوم اور قسم کی وضاحت آیت کے آغاز میں ” لا “ قسم کا حصہ نہیں، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کے مخاطب لوگ آنحضرت ﷺ کی دعوت کے جواب میں جس طرح اپنے آپ کو برسرحق قرار دیتے تھے اور اپنے طرزعمل کے صحیح ہونے کی جو توجیہ کرتے تھے اور اپنی مادہ پرستی کی روش کو جس طرح حق بجانب ٹھہراتے تھے اور دولت و رفاہیت کو جس طرح انھوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کی سند اور کامیابی کی علامت قرار دے رکھا تھا اور اس کے مقابلے میں آنحضرت ﷺ کی باتوں کا جس طرح مذاق اڑاتے تھے، ان تمام باتوں کی تردید کرتے ہوئے ارشاد…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–2

فہم القرآن ربط سورت : سورة الفجر کے آخر میں ارشاد فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ “ ظالموں کو ایسی سزا دے گا کہ اس طرح کی سزا کوئی اور نہیں دے سکتا۔ ان کے مقابلے میں نیک لوگوں کو اپنی رضا سے سرفراز فرمائے گا اور انہیں جنت میں داخل کرے گا۔ سورة البلد کے آغاز میں دو قسمیں اٹھانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ باغی انسان سمجھتا ہے کہ اسے کوئی دیکھنے والا اور اس پر کوئی قابو پانے والا نہیں حالانکہ ” اللہ تعالیٰ “ ہر وقت انسان کی نگرانی کر رہا ہے اور اسی نے اس کو دیکھنے کے لیے آنکھیں دیں، بولنے کے لیے زبان اور کھانے پینے کے لیے دو ہونٹ دئیے ہیں۔ یہ سورت بھی سورة القیامہ کی طرح ” لَآ اُقْسِمُ “ کے الفاظ سے شروع…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1 : لَآ اُقْسِمُ بِھٰذَا الْبَلَدِ ۔ (میں قسم کھاتا ہوں۔ اس شہر کی) اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کی قسم کھائی ہے۔ اور اس بات پر قسم کھائی کہ خلقت انسانی تکالیف اور مشقتوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔ اور قسم اور مقسم علیہ کے درمیان وانت حل بھذا البلد کو بطور جملہ معترضہ لایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ شروع سورة میں جس بات پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے وہ یہی بات ہے جو ان آیتوں میں آگے فرمائی۔ تجھ کو قید نہ رہے گی کا مطلب یہ ہے کہ مکہ میں جو قید ہے کہ وہاں لڑائی منع ہے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اے نبی اللہ کے تم کو تھوڑی دیر کے لئے وہاں لڑائی حلال ہوجائے گی ہجرت سے پہلے اس مکی سورة میں اللہ کا یہ ایک وعدہ تھا جس کو فتح مکہ کے وقت اللہ تعالیٰ نے پورا کیا۔ چناچہ صحیح 3 ؎ بخاری و مسلم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تھوڑی دیر کے لئے کو مجھ کو مکہ میں لڑنا حلال کردیا تھا اس کے بعد مکہ میں بدستور لڑائی کی ممانعت ہے اب جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–2

اللہ تبارک وتعالی نے قسم کھائی ہے ( بِهٰذَا الْبَلَدِ ) اس امن والے شہر مکہ کی، جو علی الاطلاق تمام شہروں پر فضیلت رکھتا ہے خاص طور پر اس وقت جب رسول اللہ اس شہر میں رہ رہے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(1) قسم سے پہلے حرف " لا " کا مفہوم و مطلب ؟ سو ارشاد فرمایا گیا " نہیں، میں قسم کھاتا ہوں " یعنی " لا " کا تعلق " اقسم " سے نہیں بلکہ اس محذوف و مقدر سلسلہ سے ہے جو اس طرح کے مواقع پر پایا جاتا ہے، اور جس پر آگے کا مضمون دلالت کرر رہا ہے۔ یعنی غافل و لاپروا انسان کا یہ سمجھنا کہ دنیا کی یہ زندگی عیش و عشرت کے لیے ہے اور بس۔ ہم سے کسی نے پوچھنا نہیں اور ہم نے کسی کے آگے اپنے کیے کرائے کا کوئی جواب نہیں دینا، اور بھگتان نہیں بھگتنا، اور حق و ہدایت کے نور سے محروم مادہ پرست انسان کا یہی حال ہمیشہ رہا ہے۔ کل بھی اس کا یہی کہنا تھا اور آج بھی یہی کہنا ہے کہ چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات، اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–20

مکہ شہر اور آدم (علیہ السلام) کی قسم انسان کے بڑے فرائض ہیں تشریح : شروع میں نہیں کا لفظ اس لیے آیا کہ کفار مکہ جو آخرت سے انکار کر رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو جھٹلا رہے ہیں تو ان کو خوب اچھی طرح علم ہونا چاہیے کہ انسان کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کو بہت سی ذمہ داریاں دیکر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے یعنی یہ زندگی پوری کی پوری امتحانی دور پر مبنی ہے اور اس بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ حرمت والے شہر اور اشرف المخلوقات آدم (علیہ السلام) و اولاد آدم یعنی انسان جو کہ نائب اللہ بھی ہے۔ کی قسم کھا کر یہ بات بتا رہے ہیں۔ قسم ایسی ہی چیز کی کھائی جاتی ہے جو عام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–20

سورة البلد۔ آیات 1 تا 20۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے اس شہر عظیم کی یعنی اس شہر کا تقدس جو بنائے کعبہ کے باعث تھا اور کفار ومشرکین بھی اس کی عظمت کے قائل تھے جو آپ کے یہاں تشریف فرما ہونے سے دو بالا ہوگیا اس کی ساری عظمت بھی تو اللہ کی عظمت پہ گواہ ہے مفسرین نے اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ حرمت والاشہر عنقریب آپ کے لیے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کو حلال کردیاجائے گا گویا فتح مکہ کی خوش خبری بھی ہے اور خود آدم (علیہ السلام) اور ان کی ساری اولاد ، تمام انسانوں کی پیدائش سے موت تک کی زندگی ، اس بات پر گواہ ہے کہ انسان تخلیقی طور پر محنت ومشقت کرنے پر مجبور ہے اس کی زندگی کا کوئی لمحہ مشقت سے خالی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–2

ف 11 یہ ترجمہ ” لا اقسم “ میں ” لا “ کو زائد مانتے ہوئے ہیں۔ اس کی متعدد مثالیں پہلے گزر چکی ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(90:1) لا اقسم بھذ البلد : لا زائدہ؛ اقسم ، مضارع واحد متکلم میں قسم کھاتا ہوں۔ ھذا اسم اشارہ واحد مذکر، البلد : مشار الیہ مراد شہر مکہ ہے۔ میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–20

لغات القرآن۔ ھذا البلد۔ یہ شہر۔ (مکہ مکرمہ) ۔ حل۔ حلال ہے۔ کبد۔ مشقت۔ مصیبت۔ اھلکت۔ میں نے خرچ کیا ہے۔ مالا لبدا۔ ڈھیروں مال۔ عینین۔ دو آنکھیں۔ شفتین۔ دو ہونت۔ النجدین۔ دو راستے۔ اقتحم۔ وہ داخل ہوگیا۔ العقبۃ۔ گھاٹی۔ فک رقبۃ۔ گردن چھڑانا۔ (غلاموں کو آزاد کرنا) ۔ ذی مسغبۃ۔ بھوکا۔ بھوک والا۔ ذا مقربۃ۔ رشتہ دار۔ ذامتربۃ۔ جو خاک میں مل جانے والا ہے۔ نارموصدۃ۔ آگ جو اوپر سے بند کی گئی ہے۔ تشریح : سورت بلند کا مفہوم اور خلاصہ یہ ہے۔ اس سورت میں اللہ نے ” بلد “ یعنی مکہ مکرمہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو اس شہر میں قتال کرنا حلال ہونیوالا ہے۔ باپ اور اولاد یعنی حضرت آدم (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–2

محبوب کریم کے شہر مکہ کی قسم۔ (ف 1) فرمایا اے محبوب ﷺ یہ شہر قسم کھانے کے قابل ہوا جب سے آپ اس شہر مکہ مکرمہ میں تشریف فرما ہوئے کیونکہ آپ کی عظمت کی وجہ سے یہ شہر معظم ہوا ، شرف المکان بالمکین، مشہور فقرہ ہے یعنی مکان کو شرافت رہنے والے کی وجہ سے ہوتی ہے چونکہ ہمارے حضور خداوند جل وعلا احکم الحاکمین کے محبوب خاص ہوئے اس لیے آپ کا شہر کا بھی اللہ کو محبوب ہوا اور اس کے قابل ہوا کہ اس کی قسم کھائی جائے۔ (تفسیر حقانی)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

ف 1۔ چناچہ فتح مکہ کے روز آپ کے لئے احکام حرم باقی نہیں رہے تھے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نہیں میں اس شہر مکہ کے رب کی قسم کھاتا ہوں 1 ؎ مکہ کے مشرکین قیامت کے منکر تھے اور اس کا انکار بھی وہ نہایت سختی کے ساتھ کرتے تھے بلکہ اثبات کرنے والوں کو پاگل اور بیوقوف کہتے تھے ، کیوں ؟ اس لیے کہ وہ خود پر لے درجے کے بیوقوف تھے ۔ وہ اس سلسلہ میں جو ہزلیات بکتے تھے ان کی نفی کرنے کے لیے کلام (لا) لایا گیا ہے کہ ہرگز ایسا نہیں جیسا کہ تمہارا خیال ہے میں اس شہر کے رب کی قسم کھا کر پورے وثوق کے ساتھ یہ بات کہتا ہوں کہ ایسا ہرگز نہیں ہے جیسا کہ تم کہہ رہے ہو بلکہ یہ بات سو فی صد یقینی ہے کہ قیامت آنے والی ہے اور ہر ایک انسان اپنے کیے ہوئے اعمال کے متعلق جوابدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary لَا أُقْسِمُ بِهَـٰذَا الْبَلَدِ (I swear by this city...90:1). The particle la ('no' ) in the beginning of this sentence has no meaning here. Such particles in Arabic language are commonplace. However, the more appropriate view is that when a Surah begins with a la (no) followed by an oath, it was revealed in refutation to a false assumption of the opponents. In other words, Allah is saying, 'No, what you [ the unbelievers ] are saying or thinking is not correct, but the truth is what We are swearing about...'. The word al-balad 'the City' refers to the Holy City of Makkah, as in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

1 As we have explained in E.N.1 of Surah AI-Qiyamah above, to begin a discourse with a "Nay" and resume it with an oath means that the people were asserting a wrong thing to refute which it was said: "Nay, the truth is not that which you seem to assert, but 1 swear by such and such a thing that the truth is this and this" As for the question what it was to refute which this discourse was sent down, it is indicated by the theme that follows. The disbelievers of Makkah said that there was nothing wrong with the way of life that they were following, as if to say: "Eat, drink and be merry for…

Read the full tafseer →