90. Surah Al-Balad

البلدThe City · 20 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 90:1

لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:1 in the Quran reader

نہیں ، میں اس شہر (مکہ کے رب ) کی قسم کھاتا ہوں

نہیں میں اس شہر مکہ کے رب کی قسم کھاتا ہوں 1 ؎ مکہ کے مشرکین قیامت کے منکر تھے اور اس کا انکار بھی وہ نہایت سختی کے ساتھ کرتے تھے بلکہ اثبات کرنے والوں کو پاگل اور بیوقوف کہتے تھے ، کیوں ؟ اس لیے کہ وہ خود پر لے درجے کے بیوقوف تھے ۔ وہ اس سلسلہ میں جو ہزلیات بکتے تھے ان کی نفی کرنے کے لیے کلام (لا) لایا گیا ہے کہ ہرگز ایسا نہیں جیسا کہ تمہارا خیال ہے میں اس شہر کے رب کی قسم کھا کر پورے وثوق کے ساتھ یہ بات کہتا ہوں کہ ایسا ہرگز نہیں ہے جیسا کہ تم کہہ رہے ہو بلکہ یہ بات سو فی صد یقینی ہے کہ قیامت آنے والی ہے اور ہر ایک انسان اپنے کیے ہوئے اعمال کے متعلق جوابدہ ہے۔
Ayah 90:2

وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:2 in the Quran reader

(اے پیغمبر اسلام ! ) آپ کو اس (حرمت والے) شہر میں حلال کرلیا گیا ہے

اے پیغمبر اسلام ﷺ ! آپ ﷺ کو اس حرمت والے شہر میں حلال کرلیا گیا ہے 2 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ تیرے خاندان کے لوگوں کی مت کس طرح ماری گئی ہے کہ جو بات یہ خود ہی مانتے اور تسلیم کرتے ہیں اس کی خلاف ورزی کر کے اپنے آپ کو حق بجانب خیال کرتے ہیں پھر ان لوگوں پر تعجب نہ کیا جائے کہ تو کیا کیا جائے کہ ایک طرف تو ان لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ شہر نہایت متبرک شہر ہے اور اس کی فضیلت میں یہ لوگ دلیل پیش کرتے ہیں کہ اس میں ایک علاقہ ہے جس کو حرم کہا جاتا ہے اور یہ ابھی تک امن کی جگہ ہے کہ اگر کوئی شخص قتل کر کے بھی حرم میں داخل ہوجائے تو حرم کے اندر اسے کچھ نہیں کہا جاسکتا اور نہ ہی اس سے انتقام لیا جائے گا لیکن دوسری طرف آپ ﷺ کے لیے انہوں نے حرم کے اندر ہی دکھ اور تکالیف دینا شروع کردیا ہے حالانکہ آپ ﷺ نے کوئی ایسا بھی کام نہیں کیا جس کے باعث وہ آپ ﷺ پر تعدی اور ظلم روا سمجھتے ہیں لیکن ان لوگوں کے متعلق کیا کہا جائے کہ ایک طرف تو قاتل تک سے انتقام لینا گناہ اور حرام سمجھتے ہیں اور دوسری طرف آپ ﷺ کے لیے ہر طرح کا ظلم اور زیادتی روا سمجھتے ہیں ۔ ان کے دونوں نظریوں (Thoughts) میں اس قدر تضاد ہے کہ ان کو بےعقل ، بیوقوف نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے۔ پھر تعجب اس لیے ہے کہ بیوقوفی کا کام خود کرتے ہیں اور دوسروں کو بیوقوف سمجھتے ہیں ۔ لیکن اس وقت اپنے ہاں کے مکاتب ہائے فکر کا گہرائی میں اتر کر مطالعہ کریں تو ان کی عادات و خصائل بھی وہی ہیں کہ ایک طرف ایک چیز کو جائز کہتے ہیں اور دوسری طرف اس کو ناجائز قرار دیتے ہیں اور یہی اس کے عکس میں بھی موجود ہے بس جب ان کی مرضی کے مطابق عمل ہوگا تو حرام بھی حلال اور جب ان کی مرضی نہیں ہوگی تو حلال بھی حرام ہے۔ ایک کنوئیں کو ناپاک قرار دیں گے لیکن اس میں سے جب بیس ڈول گن کر نکال لیں گے تو باقی سب پاک ہوجائے گا ۔
Ayah 90:3

وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَۙ Open ayah 90:3 in the Quran reader

قسم ہے باپ اور بیٹے (دونوں کے رب ) کی

قسم ہے باپ اور بیٹے دونوں کے رب کی 3 ؎ ( والد) سے کیا مراد ہے اور ( ما ولد) سے کیا ؟ کہا گیا ہے کہ اس سے مراد آدم (علیہ السلام) اور آپ کی ساری ذریت کو ( ما ولد) میں داخل کر کے ان کو بطور شہادت قسمیہ انداز میں پیش کیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ( والد) سے مراد ابراہیم (علیہ السلام) ہیں اور ( ما ولد) سے مراد سیدنا اسماعیل (علیہ السلام) اور ان کی اولاد درد اولاد مراد ہے اور ہمارے خیال میں ہر اس شخص کا ذکر ہے جس پر ( والد) اور ( ما ولد) کا اطلاق ہوتا ہے خواہ وہ اس وقت کے ( والد) اور ( ما ولد) لیے جائیں یا اس وقت کے اور خواہ آنے والے زمانہ کے سب کو اس شہادت پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے کہ اس کی تفسیر میں وسعت موجود ہے اور وسعت کے وقت وسعت ہی سے کام لیا جائے تو اس میں زیادہ لطف اور زیادہ مزا ہے اور یہ بھی کہ وسعت کی جگہ مفہوم کا دائرہ تنگ کر کے تکلف پیدا کرنا کوئی خوبی نہیں ہے۔
Ayah 90:4

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍؕ Open ayah 90:4 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے انسان کو بڑی مشقت اٹھانے والا بنایا ہے

بلا شبہ ہم نے انسان کو بڑی مشقت اٹھانے والا پیدا کیا ہے 4 ؎ ( کبد) دشواری ، سختی ، مشقت ، کبد کبد کبد جگر ۔ اکباد و کبود جمع کباد جگر کا درد یا درد ہونا کا بد محنت کش ، مشقت اٹھانے والا ۔ کبد جگر پر مارنا ، جگر ایک عضو ہے جس کا کام اصلاح خون ہے اور خون پر انسانی زندگی کا انحصار ہے اس لیے اس عضو کو مشقت اٹھانے والا سمجھا گیا ہے لیکن مراد اس سے یہی ہے کہ اس پر انسانی زندگی کا دراصل انحصار ہے۔ زیر نظر آیت کا مضمون وہ مضمون ہے جس کے لیے پیچھے چار بات کو مؤکد کیا گیا ہے اور ان چار شہادتوں کے بعد وہ بات بتائی جا رہی ہے کہ انسان کو ہم نے محض اس لیے نہیں پیدا کیا کہ وہ محض آرام و آسائش کی زندگی بسر کرے اور اس دنیا سے رخصت ہوجائے بلکہ اس کی زندگی کا سفینہ کسی ایک طوفان ہی کے لیے نہیں بلکہ طوفانوں سے نبردآزما ہونے کے لیے بنایا ہے۔ خطرات و مصائب اور انسان دونوں کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ ابھی یہ پشت والد اور ترائب والدہ ہی میں ہوتا ہے تو اس کے اردگرد خطرات منڈلانے لگے ہیں اور جب یہ رحم مادر میں قرار پکڑتا ہے تو اس وقت سے جن جن حالات و خطرات میں اس کا گزر ہوتا ہے اس کی داستان سے کون واقف نہیں ہے خصوصاً اس کا ہونے والا باپ اور بننے والی ماں جس قدر متفکر ہوتے ہیں اور جو جوا اندیشے ان کو لا حق ہوتے ہیں ان کو شمار نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی قلم کی نوک پر وہ آسکتے ہیں اور نہ قلم کو زیب دیتا ہے کہ وہ ایسی باتوں کو تحریر میں لائے اور پھر اس کے مخصوص عوارضات کی جو دیکھ بھال اس کی ماں کی ہوتی ہے اور وہ جن جن مصائب سے دو چار ہوتی ہے وہ بھی ماں ہی کی مامتا سمجھ سکتی ہے پھر جب وہ اس دنیا میں قدم رکھنے والا ہوتا ہے تو اس کی آمد کے لیے جو جو تیاریاں کی جاتی ہیں وہ بھی کبھی کسی سے مخیو نہیں اور جن حالات میں وہ دنیا پر قدم رکھتا ہے وہ بھی نازک ترین حالات کہلاتے ہیں اور جوں ہی اس نے قدم زنجہ رکھا تو بیماریاں ، ناکامیاں ، نا مرادیاں ، محرومیاں اور مخالفین کی مخالفتیں ، نفس و شیطان کی ریشہ دوانیاں قدم قدم پر اس کا راستہ روکے کھڑی ہوجاتی ہیں اور اس کی زندگی کے کارواں کو انہی دشوار گزار گھاٹیوں سے گزرنا پڑتا ہے ۔ کیا اس سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح اور عیاں نہیں ہوجاتی کہ انسان کی زندگی کا مقصد مصیبتوں اور تکلیفوں سے نبرد آزما ہونا ہے اور یہی وہ چیزیں ہیں جو اس کو کامل انسانی بناتی ہیں اور اس میں نشو ونما کی صلاحیتیں پیدا ہوتی ہیں اور یہ قطرہ ٔ ناپاک شہسوار بن جاتا ہے اور یہی بات اس آیت میں سمجھائی گئی ہے اگر کوئی سمجھنا چاہتا ہے تو یہی اس کی تفہیم کا طریقہ ہے۔
Ayah 90:5

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌۘ Open ayah 90:5 in the Quran reader

کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کسی کا بس نہ چلے گا

کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کس کا بس نہ چلے گا 5 ؎ پھر اس کا مادہ تخلیق کیا ہی مادہ تخلیق ہے اس کے باوجود کہ یہ خطرات و آلائم میں چاروں طرف سے گھرا ہوا ہے اور اس کے گھمنڈ کا یہ عالم ہے کہ وہ ہر وقت اس خیال میں مگن ہے کہ ہم چوما دیگرے نیست کہ اس سے اوپر کوئی ہستی ہی موجود نہیں ہے جو اس سے کیے کی باز پرس کرسکے یا جس کے حکم کے سامنے وہ جوابدہ ہو اور اس کے سامنے جھکنے اور سجدہ ریز ہونے کے لیے مجبور ہو ۔ غور کرو کہ یہ اس کی کم فہمی اور نا عاقبت اندیشی کا نتیجہ نہیں تو اور کیا ہے ؟ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک ایسی بےبس چیز ہے کہ اس کائنات کی کوئی چیز بھی اس کو پریشان کرنے پر اتر آئے تو اس کو اس طرح پریشان کر کے رکھ دے کہ دیکھتے ہی دیکھتے اس کا کچومر نکل آئے اور پھر یہ ایک نشان زدہ بےنشان ہو کر رہ جائے۔
Ayah 90:6

یَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًاؕ Open ayah 90:6 in the Quran reader

وہ کہتا ہے کہ میں نے تو ڈھیروں ڈھیر مال خرچ کردیا ہے

وہ کہتا ہے کہ میں نے تو ڈھیروں ڈھیرمال خرچ کردیا ہے 6 ؎ (لبدا) ماکثیر لبد لبدۃ کے معنی ہیں نمدہ اور گوند سے یا پانی غیرہ سے چپکایا ہوا اون کہ اس طرح اون کی تہ پر تہ جمائی جاتی ہے اور پھر اس کا اطلاق کثیر مال پر ہونے لگا یعنی وہ مال جس کو ڈھیروں میں جمع کیا جائے۔ کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال خرچ کردیا ہے۔ انسانوں کی تھیوری (Theory) بتاجائی رہی ہے پہلے تو وہ ڈھیروں مال جمع کرتا ہے اور اس میں جائز و ناجائز کی بحث بھی بہت کم ہی کرتا ہے پھر جب حلال و حرام جمع کرلیتا ہے تو پھر اس کو محلات بنا کر ، زمینیں خرید کر ، مکانات خرید کر ، عہدے حال کر کے اس ڈھیروں مال کو خرچ کرتا ہے پھر لوگوں میں بیٹھ کر محفل میں جم کر جب بیٹھتا ہے تو باتوں ہی باتوں میں اس کا اظہار کرنے لگتا ہے کہ میں نے فلاں کو ٹھی اتنے میں خرید اور وہ کار اتنے لاکھ میں آئی ، یہ پچارو اتنے لاکھ میں ، فلاں باغ اتنے لاکھ میں خریدا تھا اس دفعہ بڑا ٹف (Tuff) مقابلہ تھا لاکھوں روپیہ لگایا تھا تب جا کر یہ ایم این اے کی سیٹ حاصل کی ۔ میں نے فلاں کام اس طرح کیا ، فلاں پر میں نے کروڑوں روپے خرچ کیے ، یہ مقدمہ میں نے اس طرح جیتا اور یہ کیس اس طرح جیتا ، فلاں مہم میں نے اس طرح سر کی اور حج پر میں نے اتنی رقم خرچ کردی بس اس طرح اس ڈھیروں مال کو جس طرح اس نے فنا کیا اس کا تذکرہ بڑے ذوق و شوق کے ساتھ کرے گا اور اس میں سکون پائے گا۔
Ayah 90:7

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 90:7 in the Quran reader

کیا وہ سمجھتا ہے کہ اسے کوئی دیکھنے والا نہیں ہے

کیا وہ سمجھتا ہے کہ اسے کوئی دیکھنے والا نہیں ہے 7 ؎ اس نے یہ تو ڈھیروں دولت جمع کرتے وقت یہ خیال کیا اور نہ ہی ان ڈھیروں کو خرچ کرتے وقت اس نے اس طرف توجہ دی کہ آیا یہ مال اس طرح جمع کرنے کا حق مجھے ہے یا نہیں اور نہ ہی اس کو خرچ کرتے وقت اس کے ذہن میں کبھی بھول کر بھی یہ بات یاد آئی کہ میں اس طرح مال خرچ کرنے کا مجاز ہوں یا نہیں ہوں کیا کوئی ذات ہے جو یہ سارے کام کرتے مجھے دیکھ رہی ہے اور اس کو میری ہر حرکت معلوم ہے اور مجھ سے اس طرح مال جمع کرنے اور خرچ کرنے میں وہ پوچھ سکتی ہے اور مجھ کو باور کرا سکتی ہے کہ یہ مال تو تجھے تیرے فلاں ہمسائے اور پڑوسی کے لیے دیا تھا کہ اس کی ضرورت ہے اور تیرے پڑوس میں ہے اس کو دے کر اپنی آخرت کے لیے اس کو محفوظ کرلے تاکہ اس وقت تیرا یہ مال یعنی تیرے اس مال کا پورا پورا عوض تجھے چکا دیا جائے گویا یہ مال تو محض تیری آزمائش کے لیے دیا گیا تھا اور تو نے اس کو فقط اپنی ہی مرضی اور رضا سے حاصل کردہ مال سمجھ لیا اور اس کے جمع کرنے کے لیے بھی جو ضابطے اس نے بنائے ہیں ان کے مطابق ہی جمع کیا جاسکتا ہے اور ان کے مطابق ہی خرچ کیا جاسکتا ہے گویا مال کمایا تو محض اپنی مرضی سے اور پھر اس مال کو خرچ کیا تو محض اپنی مرضی سے تیرے قریب ، تیرے جاننے والے لوگوں میں ایسے بھی تھے جو غربت کے ہاتھوں تنگ تھے لیکن تو ان کو جانتے ہوئے اور سمجھتے ہوئے محض اس لے ان کو دینے کے لیے تیار نہ ہوا کہ تجھے انہوں نے اٹھ کر سلام نہیں کیا اور تیرے محلے میں رہتے ہوئے وہ تیرے پائوں دبانے کے لیے تیرے ہاں حاضر نہیں ہوئے۔ تیرے سامنے انہوں نے دست سوال نہیں پھیلایا تاکہ تو ان کو چار سخت سست سنا کر ان کی انا کو مجروح کر کے اپنا نشہ پورا کرنے کے بعد ایک سو کا نوٹ ان کو پکڑا دیتا تو اس طرح تیرے لیے دینا آسان ہوجاتا حالانکہ یہ ساری بیماریاں ہیں جن کو بیمار لوگ ، اپنے دل کی آواز سمجھتے ہیں اور جو لوگ صحت مند ہوتے ہیں ان کو اس طرح کی کبھی یاد بھی نہیں آئی بلکہ وہ جو کرتے ہیں محض اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جن کا اجر بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں محفوظ ہے اور اس دنیا میں ان کی زندگی خوب طریقہ سے گزر رہی ہے۔
Ayah 90:8

اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَیْنَیْنِۙ Open ayah 90:8 in the Quran reader

کیا ہم نے اس کو دو آنکھیں نہیں دیں ؟

کیا ہم نے اس کو دو آنکھیں نہیں دیں ؟ 8 ؎ اوپر اس انسان کا ذکر کیا گیا جو صرف اپنی انا کی تسکین کے لیے خرچ کرنا چاہتا ہے اور جو اس کے دروازہ پردس بار آئیں اور سوال کریں اور وہ اپنی مرضی سے جب چاہے ان کو دے دے اور جب چاہے ان کو دھتکاردے اس کے دینے اور لینے میں اس کی تسکین اور اس کی انا کا اتنا زیادہ خل ہے اس کو باور کرایا جا رہا ہے کہ کیا اس کو کبھی اس بات کا خیال نہیں آیا کہ اللہ تعالیٰ نے جو اس کو یہ دیدے عطا کیے ہیں جن سے یہ دیکھ رہا ہے کیا اس نے یہ اللہ تعالیٰ سے مانگے تھے اور مانگے تو کتنی بار اس نے اپیل کی تھی تب جا کر اس کو یہ دیئے گئے تھے اگر وہ مانتا ہے اور تسلیم کرتا ہے کہ اس نے ان کو نہیں مانگا تھا اس لیے کہ وہ تو یہاں قدم رکھنے سے پہلے کوئی ذکر کیا گیا انسان ہی نہ تھا بلکہ اس کا تو نام و نشان بھی نہ تھا اور اللہ نے اس کو یہ آنکھوں جیسی چیز عطا فرمائی تو بالکل مفت عطا کی اور جو کچھ اس کو دعا تھا بالکل اپنی مرضی سے عطا کردیا تھا پھر یہ بھی کہ جو اس نے دیا وہ خوب دیا اور بغیر مانگے دیا اور یہی مال دیتے وقت اس نے اصول اپنایا کہ جو کچھ اس کو دیا گیا وہ تو اس کی طلب پر نہیں دیا گیا پھر اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ میں تب ہی کسی کو عطا کروں اور تب ہی دوں جب وہ مجھ سے مانگے اور جب تک وہ مانگے نہیں مجھے اس کو دینے کا کچھ مطلب نہیں ہے اگر یہی حالت اس کے ساتھ روارکھی جاتی تو کیا اس کا وجود اس دنیا میں باقی رہ سکتا تھا اور وہ اس دنیا میں کبھی قدم رکھ سکتا تھا پھر اس نے جو مطالبہ دینے کے لیے کیا وہ آخرت کس بیس (Base) پر کیا اور کس ورطہ سے اس نے یہ سوال اٹھایا۔
Ayah 90:9

وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیْنِۙ Open ayah 90:9 in the Quran reader

اور زبان اور دو ہونٹ (بھی)

کیا اس کو زبان اور دو ہونٹ نہیں دیئے 9 ؎ فرمایا فقط آنکھوں ہی پر اکتفا نہیں بلکہ اس کو دو ہونٹ اور ایک زبان بھی عطا کی تاکہ وہ اپنی بات دوسروں تک پہنچا سکتے اگر اس کو یہ ہونٹ اور زبان عطا نہ کیے جاتے تو وہ غور کرلے کہ وہ کیا ہوتا اور اس کی زندگی کا کیا لطف ہوتا ؟ لیکن ذرا یہ تو بتا دے کہ یہ جو اس کو زبان دی گئی اور دو ہونٹ عطا کیے گئے کیا اس نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے ان کی طلب کی تھی کہ اے اللہ مجھے ایک زبان اور دو ہونٹ عطا فرما دے تاکہ میں اپنی بات دوسروں تک پہنچا سکوں پھر اگر اس کو بغیر مانگے اور بغیر طلب کے یہ سب کچھ دیا گیا ہے تو وہ کتنا غبی اور کتنا ناسمجھ ہے اور بیوقوف ہے کہ یہ خواہش رکھتا ہے کہ غریب و مساکین میرے دروازے پر آئیں ، مجھ سے مانگیں پھر اگر میں چاہوں تو ان کو دوں اور چاہوں تو نہ دوں ۔ اگر اس میں عقل و فکر ہوتی تو اس طرح کا سوال اٹھانے سے پہلے اپنا تجزیہ کرتا اور اس بات کو سمجھ لیتا کہ بن مانگے دینے سے کیا فائدہ ہوتا ہے اور مانگنے کے بعد دینے میں کتنا نقصان ہوتا ہے ؟ اس کا فیصلہ تو اس کے اپنے وجود اور جسم میں موجود ہے اگر وہ غور کرتا تو اپنے دل ہی میں جھانک کر دیکھ سکتا تھا۔
Ayah 90:10

وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ Open ayah 90:10 in the Quran reader

اور ہم نے اسے دونوں راستے بھی بتا دیئے

اور ہم نے اس کو دونوں راستے بتا دیئے 10 ؎ اس سے مراد دو مفہوم لیے گئے ہیں اور دونوں کی وضاحت اس طرح کی کہ ہم نے انسان کو صرف انسان کو حواس خمسہ یعنی حواس ظاہری ہی نہیں عطا کیے اپنے پیغمبروں اور رسولوں کے ذریعے اس کے سامنے نیکی اور برائی کے راستوں کو واضح کردیا ہے۔ اسے ارادہ اور اختیار کی آزادی دی ہے اور اس کو نیکی اور برائی کی تفہیم کرا دی گئی ہے اور اب اس کی مرضی کی بات ہے کہ چاہے وہ نیکی اور بھلائی کا راستہ اختیار کرے اور چاہے برائی اور شر کا راستہ اختیار کرے لیکن اتنی بات تو وہ بتا دے کہ کیا اس نے سیدھی راہ کی طلب کی تھی تب ہم نے اس کو راہ دکھائی یا بن مانگے اس کے لیے سارے انتظامات کیے اور اس وقت کیے جب اس کے وجود کا نام و نشان بھی نہیں تھا اور پھر جب اس کا وجود قائم کیا تو یہ سارے انتظامات اس کی آنکھیں کھولنے سے پہلے اس کے سامنے موجود تھے لیکن پھر اس کو بن مانگے دینے کی تفہیم نہیں ہوئی کہ اس میں کیا نشہ اور کیا فائدہ ہے ؟ اور دوسرا مفہوم ( نجدین) کا یہ لیا گیا ہے کہ انسان کو پیدا کیا اور کتنے مراحل سے نکال کر ایک انسانی شکل و صورت میں لوگوں کے سامنے اس کو رکھ دیا تو اس کے اس دنیا میں قدم رکھنے کے ساتھ ہی اس کی خوراک کی دو نہریں چلا دیں اور ایسا قوام تیار کر کے اس کے لیے ان میں رکھ دیا اس کی نشو ونما کے لیے اس سے زیادہ مفید کوئی چیز بھی نہیں نہیں ہو سکتی تھی اور یہ انتظام بھی اس کے بغیر مانگے اس کو عطا کیا گیا ۔ اس لیے کہ جس نے طلب اس کے اندر رکھی اس نے اس کی طلب کا سامان بھی پیدا کردیا ۔ پھر تعجب نہ ہو کہ ایسے انسان کو جس کو سینکڑوں نہیں ہزاروں چیزوں اور نعمتوں سے نوازا گیا ہے اس کے بعد یہ جستجو کہ میں جب تک کوئی مانگے نہیں کیسے اس کو دے دوں اور پھر اس پر دلیلیں پیش کرنا شروع کردیں کہ روئے بغیر تو ماں بھی بچے کو دودھ نہیں دیتی پھر بن مانگے کسی کو کوئی دے سکتا ہے ؟ اس کو یہ خیال کیوں نہ آیا کہ وہ جس کا شاہکار ہے اس نے تو سب کچھ اس کو بن مانگے دیا اور پھر جو دیا اس نے خوب دیا اس کو یہ سب کچھ کیسے بھول گیا اور بچے کا رونا اس کو کیسے یاد رہا حالانکہ اس نے بچے میں جو رونا رکھا تھا وہ اس لیے نہیں رکھا تھا کہ وہ رو رو کر روٹی کی طلب کرے بلکہ اس لیے رکھا تھا کہ اس کے رونے سے روٹی تیار ہوجائے اور بچہ کی طلب کی بجائے روٹی میں طلب پیدا ہوجائے کہ بچہ مجھے کھائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کو یہ فلسفہ کسی ملاں نے پڑھا یا کہ بچہ اس لیے روتا ہے کہ ماں اس کو دودھ پلائے حاشاء کلا بالکل نہیں کسی صاحب عقل و دانش سے پوچھو کہ اس کی حقیقت کیا ہے بلکہ اس ماں سے پوچھو جس کی چھاتی پر دو ( نجدین) کھڑے ہو کردیئے گئے ہیں کہ بچہ کے رونے سے کیا ہوتا ہے کہ بچہ کی روٹی خود بحود حرکت میں آجاتی ہے کہ مجھے کھانے والا جلدی مجھ تک پہنچے اور پھر ماں اس کو چھاتی سے لگانے پر مجبور محض ہے۔ کیا نظام قدرت ہے سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ۔
Ayah 90:11

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ٘ۖ Open ayah 90:11 in the Quran reader

پھر (بھی) اس نے دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی

پھر ابھی اس نے دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی 11 ؎ ( افتحم) وہ آ چڑھا ۔ وہ گھس پڑا افتحام سے جس کے معنی بےدیکھے بھالے اپنے آپ کو کسی شے میں جھونکنے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ ( العقبۃ) عقبۃ گھاٹی ، پہاڑ پر چڑھائی کا جو دشوار گزار راستہ ہوتا ہے اس کو عقبہ کہتے ہیں ۔ اس کی جمع عقب اور عقاب ہے ۔ پیچھے انسان کو باورا کرایا گیا ہے کہ اے انسان ! اللہ نے تجھ پر کتنے احسان کیے ہیں کہ تجھ کو بغیر مانگے بہت کچھ عطا کیا ہے اور جو کچھ عطا کیا ہے وہ ایک دوسرے سے بڑھ کر تیرے لیے مفید ہے اور جو کچھ اس نے تجھے دیا ہے اس میں تجھے برائی اور بھلائی میں تمیز بھی دی ہے اور پھر انبیاء کرام (علیہ السلام) کو بھیج کر تیری روحانی رہنمائی کا بندوبست بھی کیا ہے تاکہ تیری آخرت کے سنورنے کے جو طریقے انہوں نے تجھے بتائے ہیں ان پر چل کر تو اپنی آخرت کو بھی درست کرے لیکن تف ہے تجھ پر کہ تو محض جھوٹی ناموری حاصل کرنے کے لیے اپنی دولت کو اس طرح لٹاتا ہے کہ دولت خرچ کرے تو ڈھیروں ہی خرچ کردیتا ہے اور پھر ان طریقوں اور ان کاموں پر خرچ کرتا ہے جہاں تجھے دنیا میں ناموی حاصل ہو اور آخرت کی تو قطعاً پروا ہی نہیں کرتا حالانکہ جب تیرے سامنے ساری راہیں کھول دی گئی تھیں تو تجھے ان راستوں پر چلنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی جو تجھے منزل مقصود تک پہنچا دیتے جو منزل اصلی اور حقیقی منزل ہے اس کی طرف چلنے میں تجھے جتنی دشواریاں پیش آتیں تجھے ان کو بخوشی قبول کرنا تھا اور ان دشوار گزار گھاٹیوں سے گزرنا اور مشکلات کا مقابلہ کرنا ، مصائب و تکالیف کو برداشت کرنا اور منزل مقصود کی طرف رواں دواں رہنا ہی تو اصل مہم کو سر کرنا ہے۔
Ayah 90:12

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُؕ Open ayah 90:12 in the Quran reader

اور آپ کیا سمجھے کہ وہ دشوار گزار گھاٹی کیا ہے ؟

آپ کیا سمجھے کہ وہ دشوار گزار گھاٹی کیا ہے ؟ 12 ؎ ( وما ادراک) کا لفظ جس جگہ بھی آیا ہے ہم واضح کرتے چلے آ رہے ہیں کہ یہ انداز مذکورہ چیز کی عظمت و شان یا اس کی ہولناکی کے اظہار کے لیے اختیار کیا گیا ہے اور ہر جگہ مخاطبین و مخالفین کو یہ باور کرانے کے لیے لایا گیا ہے کہ تم لہو لگا کر جس طرح شہیدوں میں داخل ہونا چاہتے ہو اس طرح کبھی بھی کوئی شہیدوں میں داخل نہیں ہوا ۔ یہ محض ایک دھوکا ہے جو انسان اپنے آپ کو دے دیتا ہے حالانکہ حقیقت یہ نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ راستہ کی مشکلات سے نہیں گھبراتے بلکہ ان کے راستے میں جو رکاوٹیں بھی آتی ہیں ان کو حل کرنے کے لیے جن گھاٹیوں سے بھی ان کو گزرتا پڑے وہ قطعاً دریغ نہیں کرتے بلکہ بےخطر بازی لگا دیں تو اس چیز کا نام ناموری اور بہادری ہے اور ان مشکلات زندگی میں آدمی کو ڈوب کر پھر ان سے سرخروک ہو کر نکلنے کا نام کامیابی و کامرانی ہے پھر اس کامیابی و کامرانی کو جو شخص پورا کرنا چہتا ہے اس کے لیے کیا لازم و ضروری ہے اس کا ذکر آگے کی آیات کریمات میں تفصیل سے آ رہا ہے۔
Ayah 90:13

فَكُّ رَقَبَةٍۙ Open ayah 90:13 in the Quran reader

(وہ) کسی کی گردن (مشکلات سے) چھڑانا ہے

وہ تو غلامی سے گردن چھڑاتا ہے 13 ؎ اللہ تعالیٰ اگر مال و دولت عطا کرے تو اس کے بنائے ہوئے طریقوں کے مطابق اس کو خرچ کرنا ایک عظیم کامیابی ہے لیکن اکثر و بیشتر اس کا خلاف تو ممکن ہے لیکن اس کی مطابقت بہت ہی دشوار لگتی ہے ۔ بہر حال جو کام طبیعت پر شاق گزرتا ہے اگر وہ صحیح اور درست ہے تو اس کو کرنے میں مزا ہے اگرچہ وہ دشوار نظر آئے۔ مال جب اللہ تعالیٰ دے تو اس کو نفسانی خواہشات کے مطابق صرف کرنا بہت سہل نظر آتا ہے لیکن اس طرح کا خرچ کیا ہوا مال ضائع کرنے کے مترادف ہے صحیح اور حقیقی بات تو وہ ہے کہ دین کی بتائی ہوئی راہوں میں خوشی سے مال خرچ کیا جائے لیکن اس کے ساتھ جب نفس کو لگائو نہیں ہے تو وہ اس پر شاق گزرتا ہے اور یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ انسان نفس کی پیروی کی طرف زیادہ رغبت کرجاتا ہے جو اس کے لیے سراسر نقصان دہ ہوتا ہے بہر حال ان کرنے کے کاموں میں پہلا کام جو بتایا گیا ہے تو وہ کسی غلام کو آزاد کرانا ہے۔ گویا اسلام کے نزدیک جو انسان کے کرنے کے کام ہیں ان میں پہلا کام ہی یہ ہے کہ اپنا مال غلاموں کو آزاد کرانے کے لیے خرچ کیا جائے۔ نفس کی خواہشات کیا ہیں یہ بات قابل وضاحت نہیں ہے کیونکہ نفس ہر انسان کے پاس ہے وہ اس سے پوچھ لے کہ اس کے تقاضے کیا ہیں ۔ وہ تو چاہتا ہے کہ دنیا کی ان رسومات کے مطابق مال خرچ کیا جائے جن رسومات کی ادائیگی میں اس کو لوگ خرچ کرتے ہیں ۔ جس میں مکان ہے ، دکان ہے ، کارخانہ ہے ، کاروبار ہے ، اس سے بڑھے تو پلاٹ ہیں ۔ تجارت کے نظریات میں سے کسی نظریہ کے مطابق کام چلانا ہے پھر بچوں کی تعلیمات ہیں وہ بھی جو جدید طریقوں کے مطابق ہوں پھر ان کی شادیاں ہیں اور پھر شادیوں کے بعد ایک نئے گھرانے کی ابتداء ہے۔ یہ وہ سارے کام ہیں جن کے متعلق انسان سوچتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ بس یہ کام ہی میرے کرنے کے ہیں لیکن قرآن کریم نے ہم کو بتایا ہے کہ کرنے کے کاموں میں اول کام یہ ہے کہ غلاموں کو آزاد کرایا جائے۔ اسلام نے یہ سلسلہ اس وقت شروع کرایا جب کوئی گھر بھی ایسا نہیں تھا جس گھر میں کوئی نہ کوئی غلام موجود نہ ہو اور ایسے گھر بھی تھے جن میں کثرت سے غلام پائے جاتے تھے لیکن آہستہ آہستہ وہ وقت آیا کہ اب غلاموں کی نہیں بلکہ غلامی کی جڑ ہی کاٹ کر رکھ دی اور تلاش کرنے میں بھی کوئی غلام نہیں ملتا اگرچہ غلامی کی نئی نئی شکلیں بہت نکل آئی ہیں۔
Ayah 90:14

اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍۙ Open ayah 90:14 in the Quran reader

یا بھوک کے دن (قحط کے زمانہ میں) کھانا کھلانا ہے

یا بھوک کے دن کھانا کھلانا ہے 14 ؎ ( مستغبۃ) اسم مصدر مجرور ۔ بھوک ۔ بھوکا ہونا ۔ سغب بھوکا ( قاموس) سغب بھوک یا پیاس جس میں تکان بھی محسوس ہو۔ ( راغب) اس کا مادہ س غ ب ہے۔ اس مادہ کا صرف یہ ایک ہی لفظ قرآن کریم میں آیا ہے اور دوسرا کوئی لفظ قرآن کریم میں استعمال نہیں ہوا اور یہ لفظ بھی صرف ایک ہی بار اس جگہ آیا ہے۔ جس کے معنی نہایت سخت بھوک کے ہیں ایسی بھوک جو قحط سالی کے زمانہ میں ہوتی ہے جب کہ کھانے کے لیے کوئی چیز انسان کو مہیا نہیں ہوتی ۔ مطلب یہ ہے کہ جب انسانوں کا حصہ روٹی کو ترس رہا ہو تو دوسرا حصہ جو خوش حال ہے اس پر ذمہ داری کیا عائد ہوتی ہے اور وہ لوگ جو خوش حال ہوتے ہیں وہ کیا کرتے ہیں ، ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ فرمایا اس لیے کہ یہ لوگ صرف اپنی مرضی کے مطابق خرچ کرنا جانتے ہیں جیسے ان کا اپنا جی مانے اور تسلیم کرے اور جہاں ان کا ذہن قبول کرے ان لوگوں کو جائز و ناجائز اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور ناراضگی کی کوئی پرواہ نہیں یہ ان چیزوں سے بےنیاز ہوچکے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے مال و دولت سے مالا مال کیا ہے ان کا فرض تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور مرضی کے مطابق خرچ کریں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے راستے بھی بتا دیئے کہ وہ کون سے ہیں ؟ فرمایا : غلامی کی ساری صورتیں ختم کرانے میں اور بھوکوں کو کھلانا کھلانے میں خصوصاً ان دنوں میں جب قحط سالی یا کسی دوسرے سبب کے باعث کسی علاقہ میں اشیائے خوردنی کی ضرورت ہو وہاں اشیائے خوردنی کا پہنچانانہایت ضروری ہے اور اس میں حصہ لینا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور اس میں روپیہ خرچ کرنا اور مال و دولت کو بےدریغ خرچ کرنے کا قرآن کریم حکم دے رہا اور خوش بخت ہیں وہ لوگ جو ان کاموں میں بےدریغ روپیہ خرچ کرتے ہیں اور دوسروں کو ان راستوں میں خرچ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
Ayah 90:15

یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍۙ Open ayah 90:15 in the Quran reader

(خصوصاً ) یتیم کو جو قرابت دار بھی ہو

خصوصاً یتیموں کو جو قرابت دار بھی ہوں 15 ؎ ( مقربۃ) مصدر میمی قرابت و رشتہ داری ۔ مطلب یہ ہے کہ یتیم بھی ہو اور صاحب مال و دولت کا رشتہ دار بھی ہو تو اس کی ضروریات زندگی کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھنا ایک اہم کام ہے۔ تف ہے ایسے مالدار پر جس کے اپنے خاندان میں یتیم اور مسکین روٹی کے ٹکڑوں کے محتاج ہوں اور وہ ڈراموں ڈانگریوں پر اور ناچنے گانے والوں پر ، خانقاہوں اور درباروں پر ، میلاد کے جشنوں پر بےدریغ دولت خرچ کر رہا ہو اور سمجھے کہ میں بہت سخاوت کر رہا ہوں اور نیکیوں کے کمانے میں لگا ہوا ہوں گویا جہاں جہاں مال و دولت کے خرچ کرنے سے منع کیا گیا ہے وہاں تو تجوریوں کا منہ کھول دے اور جہاں خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہاں بخل سے کام لے اور تیوری چڑھا دے اس لیے کہ وہاں خرچ کرنے کی اس کی مرضی نہیں ہے حالانکہ مال کو خرچ کرنے کے لیے ضروری تھا کہ مال دینے والے کی مرضی کے مطابق خرچ کیا جائے نہ کہ جس کو مال دیا گیا ہے اس کی مرضی کا معاملہ ہے۔
Ayah 90:16

اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍؕ Open ayah 90:16 in the Quran reader

یا مسکین کو جو (بالکل) خاک نشین ہے

یا مسکین کو جو بالکل خاک نشین ہے 16 ؎ ایسے مسکینوں کی طرف دست تعاون دراز کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے جن کو فقر و فاقہ اور تنگ دستی نے خاک نشین بنا دیا ہے ۔ بلا شبہ ان امور میں مال خرچ کرنے سے ان کی شہرت کا ڈنکا نہ بجتا ہو اور اس طرح اگرچہ ان کی دولت کی نمائش لوگوں کی آنکھیں خیر نہ کرتی ہوں لیکن ضرورت مندوں کی امداد کر کے ایک انسان کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کر کے وہ ایسا کام کرتے جس کی کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی قدر و قیمت ہے ، چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ : ( قال قال رسول اللہ ﷺ من اوی یتیما الی طعامہ و شرابہ واجب اللہ لہ الجنۃ البتۃ الا ان یعمل ذنبا لا یغفر ومن عال ثلث او مثلھن من الاخوات فادبھن ورحمھن حتی یغنیھن اللہ تعالیٰ او جب اللہ لہ الجنۃ فقال رجل یا رسول اللہ ﷺ او اثنین قال او اثنین حتی لو قالوا او واحدۃ فقال او واحدۃ ومن اذھب اللہ کریمتہ وحبت اللہ الجنۃ قیل رسول اللہ ما کریمتاہ قال عیناہ) (شرح السنہ عن ابن عباس ؓ ” نبی اعظم و آخر ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص یتیم کو اپنے کھانے پینے میں شریک کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت واجب کر دے گا بشرطیکہ کسی ایسے گناہ کا مرتکب نہ ہوا ہو جس کی اللہ تعالیٰ کے ہاں بخشش نہیں ہوتی مراد اس سے شرک ہے۔ جو شخص تین بیٹیوں یا تین بہنوں کی کفالت و سر پرستی کرتا ہے اور ساتھ ہی انہیں یہاں تک ادب سکھاتا ہے کہ ان کے ساتھ مہربانی کے ساتھ پیش آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں بےپروا کر دے تو ایسے لوگوں کے لیے بھی جنت واجب کرتا ہے۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! کیا دو بیٹیوں یا دو بہنوں کی پرورش سے بھی اجر ملتا ہے ؟ فرمایا : ہاں اگرچہ وہ دو کی پرورش کرے اگر کوئی شخص اس وقت ایک کے متعلق دریافت کرتا تو آپ ﷺ ایک کے متعلق بھی ایسا ہی ارشاد فرماتے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا جس کی اللہ تعالیٰ دو عزیز چیزیں چھین لیتا ہے اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔ کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ دونوں عزیز چیزیں کیا ہیں ؟ فرمایا دونوں آنکھیں “۔
Ayah 90:17

ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِؕ Open ayah 90:17 in the Quran reader

پھر وہ ایمان والوں سے (بھی) ہو جو ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کرتے ہیں اور رحم کی نصیحت کرتے ہیں

پھر وہ اہل ایمان سے ہوں اور ایک دوسرے کی صبر کی نصیحت کرتے ہوں 17 ؎ گزشتہ آیات میں تین چیزوں کی طرف خصوصاً توجہ دلائی : (1) غذائی اجناس کی نایاب کے وقت کھانا کھلانا۔ (2) اپنے قریبی رشتہ داروں کو جب کہ وہ یتیم بھی ہوں کھاناکھلانا۔ (3) ایسے مسکینوں کو کھانا کھلانا جو خاک نشین ہوں ۔ اس فعل کو قرآن کریم نے ( عقبہ) کہا ہے اس لیے کہ اپنی ضروریات کو پیچھے ڈال کر دوسروں کی ضروریات کو اہمیت دینا ایک بہت بڑی مشکل بات ہے جس سے مشکل شاید کوئی دوسرا کام نہ ہو ۔ اس میں جو بار بار کھانا کھلانے کا ذکر آیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کی دوسری حوائج و ضروریات کا خیال رکھنا ضروری نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جتنی ضرورتیں انسان کو لا حق ہوتی ہیں اور بار بار ان کی ضرورت ہوتی ہے وہ کفار ہے جس کی ضرورت کم از کم ایک دن رات میں دو بار ضرور پیش آتی ہے اور دوسری ضروریات اس ضرورت سے کم درجہ رکھتی ہیں اس لیے اولیت اس کو دی ہے اور باقی ضرورتیں اس کے ضمن میں آجاتی ہیں اور ان آیات میں دراصل اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اسلامی حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس مملکت میں کوئی شخص اہل ضرورت کی بنیادی چیزوں سے محروم نہ رہے اور اس کی بنیادی ضرورتیں اس کو ہر حال میں پہنچیں جس سے کسی مکتب فکر اور مسلم یا غیر مسلم کی بحث بھی نہ اٹھائی جائے۔ ہاں ! اتنی بات مزید یاد رکھنے کے قابل ہے کہ گزشتہ آیات میں جن جگہوں پر خرچ کرنے کا ذکر کیا گیا ہے ان جگہوں پر خرچ کرنے والوں کی حالت بیان کی جا رہی ہے کہ ان کے لیے ضروری ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں جو ایمان لانے والے ہوں اس لیے کہ کوئی نیک عمل اس وقت تک مقبول نہیں جب تک اس کے ساتھ ایمان کی شرط لازم نہ ہو اور ایمان کا مطلب یہ ہے کہ وہ آخرت پر ایمان رکھے کہ میرے ان اعمال کا اجر مجھے آخرت میں ملنا چاہیے صرف اور صرف دنیا اس کا مطع نظر نہ ہو کیونکہ اگر دنیا ہی اس کا مطمع نظر ہوا تو جو صلہ اس کو اس دنیا میں دیا جائے گا اس میں اس کا حساب بیباک کردیا جائے گا کیونکہ آخرت میں اس کا اجر لینے کا کوئی تصور اس کے ہاں موجود ہی نہیں ہے۔ دوسری خصلت ان لوگوں کی اس جگہ یہ ارشاد فرمائی جا رہی ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو معاشرہ میں اس طرح گھل مل کر رہ رہے ہیں کہ ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے ہیں اور راہ حق میں پیش آنے والی مشکلات اور مصائب کو بطیب خاطر گوارا کرنے کی ایک دوسرے کو نصیحت کرتے ہیں اور جس طرح خود وہ صبر کا دامن پکڑے ہوئے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی اس طرح صبر کے دامن کو تھام لیں اور ہم سب برابری کے معیار پر ایک دوسرے کے ساتھ مل جائیں اور ہماری انسانیت کا تقاضا ایک ہی طرح سے پورا کیا جاتا رہے اور زندگوں میں اونچ اور نیچ نہ آئے۔ ہمارے معاشرے کے بارے میں لوگوں کے دل ایک ساتھ دھڑکیں اور ان کے اندر ایک جیسی خواہشات موجود ہوں تاکہ جب ان کے منہ سے کوئی بات نکلے تو وہ ایک ہی جیسی ہوتا کہ وہ جتنے منہ اتنی باتوں کے مصداق نہ ٹھہریں۔ معاشرہ اسلامی کے افراد ایک دوسرے کی تکلیفوں سے بےنیاز نہیں ہیں بلکہ اگر ایک مشرق وسطیٰ کے بھائی کے پائوں میں کانٹا چبھتا ہے تو پاکستان کا بھائی بےچین ہوجاتا ہے۔ ان کا باہم رشتہ رحمت و شفقت کا ہے ۔ غور کیجئے کہ جو قوم ان خصوصیات سے متصف ہوگی وہ حق کا بول بالا کرنے کے لیے کتنا زبردست کردار ادا کرسکتی ہے۔ لا ریب انفرادی نیکیاں بھی نیکیاں ہیں اور انفرادی خوبیاں بھی خوبیاں ہیں لیکن جب تک ان میں اجتماعی رنگ پیدا نہیں ہوتا وہ قوم کی تقدیر کو نہیں بدل سکتیں لیکن افسوس کہ اس وقت جتنی خوبیاں اور بھلائیاں اسلامی معاشرہ کی تھیں وہ سب کی سب غیر مسلم لے گئے اور جو غیر اسلامی معاشرہ کی بدیاں اور برائیاں تھیں وہ سب کی سب اسلامی معاشرہ میں سرایت کر گئیں اور بلا شبہ اس میں ہمارے دو طبقوں کا زیادہ ہاتھ ہے ایک مذہب رہنمائوں کا اور دوسروں سیاسی لیڈروں کا اور ان دونوں کی ملی بھگت کا یہ نتیجہ ہے کہ آج ہم اس چورا ہے میں کھڑے ہیں کہ کبھی یہود و نصاریٰ کھڑے تھے اور آج اس بات پر جتنا ماتم کیا جائے اتنا ہی کم ہے لیکن یہ ماتم کس کا ہوگا ؟ ظاہر ہے کہ ان مذہبی رہنمائوں اور سیاسی لیڈروں کا جن کی خباثتوں کا یہ نتیجہ ہے۔
Ayah 90:18

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 90:18 in the Quran reader

یہی لوگ اصحاب یمین ہیں

یتیموں ، مسکینوں اور غریبوں کا خیال رکھنے والے ہی ( اصحب الیمین) ہیں 18 ؎ ایمان و اسلام کی دولت کو قبول کرنے کے بعد جو لوگ ان خوبیوں کے متحمل ہوتے ہیں یعنی غلاموں کو آزاد کرتے ہیں ، غریبوں ، مسکینوں ، یتیموں اور بیوائوں کا خیال رکھتے ہیں اور ان کی تربیت اور ان کی ضروریات کے کفیل بنتے ہیں اور آپس میں شفقت و رحمت سے کام لیتے ہوئے اسلامی معاشرہ کو چار چاند لگا دیتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق قرآن کریم نے ( اصحب الیمین) ہونے کا فتویٰ جاری کیا ہے اور جن کے متعلق اعلان کیا ہے کہ ان کو قیامت کے روز دائیں ہاتھ میں اعمال نامے دیئے جائیں گے اور یہ دائیں ہاتھ میں اعمال نامے دیئے جانے کے باعث بہت خوش و خرم نظر آئیں گے اور لوگوں کو آوازیں دیں گے کہ آئو ہمارا اعمالنامہ پڑھو اور اللہ تعالیٰ کے فرشتے ان کو مبارکبادیاں پیش کریں گے۔ ان کا تفصیلی بیان عروۃ الوثقیٰ ، جلد ہشتم میں سورة الواقعہ کی آیت 27 تا 40 میں گزر چکا ہے۔
Ayah 90:19

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 90:19 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا کفر کیا وہ بائیں ہاتھ والے (نحوست والے) ہوں گے

جن لوگوں نے کفر کیا وہ بائیں ہاتھ والے ہوں گے 19 ؎ رہے وہ لوگ جن کے اعمالنامے قیامت کے روز بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ لوگ وہ ہیں جو دنیا کی زندگی میں اپنی غفلتوں کے باعث اللہ والوں کی مخالفت میں لگے رہے اور اللہ کے رسولوں اور خصوصاً محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے لائے ہوئے قرآن کریم اور آپ ﷺ کے نظریہ ٔ قیامت کے منکر تھے اور ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کو عام انسان قرار دے کر آپ ﷺ کی رسالت کا انکار کردیا اور قرآن کریم کو ایک من گھڑت نظریات کی کتاب قرار دے دیا اور قیامت کو ایک ڈھکوسلا قرار دے دیا اور ان تینوں کا مذا اڑاتے رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قیامت کے روز ان کے بائیں ہاتھ میں اعمالنامے دے کر ان کو فیل قرار دے دیا گیا اور ان کو قرآن کریم نے ( اصحب المشئمۃ) قرار دیا ہے اور یہی لوگ اہل دوزخ ہیں جو سیدھے دوزخ کے اندر دھکیل دیئے جائیں گے ۔ ان لوگوں کا تفصیل ذکر عروۃ الوثقیٰ ، جلد ہشتم کی سورة واقعہ کی آیت 41 تا 56 میں گزر چکا ہے وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 90:20

عَلَیْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ۠ Open ayah 90:20 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جو آگ میں بند کردیئے جائیں گے

یہی لوگ ہیں جو لوگ میں بند کردیئے جائیں گے 20 ؎ ( موصدۃ) اسم مفعول واحد مؤنث ایصاد مصدر ( افعال) بند کی ہوئی ۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ ایسے بد نصیب ہوں گے کہ ان کو دوزخ میں ڈال کر دوزخ کے دروازے بھی بند کردیئے جائیں گے اور دوزخ کو اوپر سے بھی ڈھانک دیا جائے گا ۔ اس کا تفصیلی ذکر پیچھے عروۃ الوثقیٰ ، جلد سوم میں سورة الاعراف کی آیت 41 میں آپ پڑھ چکے ہیں ۔ وہاں سے ملاحظہ فرمائیں۔ اسی مضمون پر ہم سورة ( البلد) کی تفسیر ختم کر رہے ہیں اور ایسے بد بختوں اور ان کی سزائوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں اللھم اھدنا فیمن ھدیت و عافنا فیمن عافیت۔