Ayahs 90:1–21۔ شہر سے مراد مکہ ہے، جہاں ان آیات کے نزول کے وقت رسول اللہ ﷺ مقیم تھے، (آیت) ” لااقسم “۔ اس ترکیب الفاظ پر حاشیہ پہلے گذر چکا، اقسام قرآنی کے لئے ملاحظہ ہوپ 14 کا ضمیمہ۔ (آیت) ” وانت ...... البلد “۔ یہ پیشگوئی بطور جملہ معترضہ کے ہے، اور آپ ﷺ کے رسول برحق ہونے پر خود ایک مستقل دلیل۔ مکہ کی اس مجبوری، محصوری مظلومی کی زندگی میں کوئی بشر خیال بھی نہیں کرسکتا تھا کہ آپ ﷺ بھی کبھی جہاد و قتال (اور وہ بھی فاتحانہ) کا اعلان کرسکیں گے۔ مسیحی مؤرخ سرولیم میور نے کہا ہے کہ سورت کا اصل موضوع یعنی خیروشر کے (2) دو را ہے کا اعلان، پیغمبر ﷺ کی ایماندارانہ جستجوئے حق کا ثبوت ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔
Ayah 90:32۔ (آیت) ” والد “۔ سے مراد ہر باپ بھی ہوسکتا ہے، اور سب کے باپ حضرت آدم (علیہ السلام) بھی، اسی طرح (آیت) ” ما ولد “ سے مراد فردا فردا ہر بیٹا بھی ہوسکتا ہے، اور پوری نسل آدم بھی، وقال مجاھد وابو صالح وقتادۃ والضحاک وسفیان الثوری و سعید بن جبیر والسدی والحسن البصری وخصیف وشرجیل بن سعد وغیرھم یعنی بالوالد ادم وما ولد ولدہ وھذا الذی ذھب الیہ مجاھد و اصحابہ (ابن کثیر) واختار ابن جریر انہ عام فی کل والد وولدہ وھو محتمل ایضا (ابن کثیر)
Ayah 90:43۔ جس کا مقتضا یہ تھا کہ اس میں احساس عجزودرماندگی اور زیادہ پیدا ہوتا رہتا) ، مراد یہ ہے کہ انسان کی ساخت و ترکیب ہی ایسی رکھ دی گئی ہے، کہ اسے ساری عمر وقتوں کا، اور کسی نہ کسی اعتبار سے مصیبتوں ہی کا سامنا رہے۔ آج دکان ٹوٹ گئی، کل کاروبار بیٹھ گیا، آج فلاں دشمن ستارہا ہے، کل فلاں مرض نے آدبایا، کبھی خود بیمار کبھی بیوی بچہ بیمار، کبھی اس عزیز کی موت کا صدمہ، کبھی اس دوست کی بیوفائی کا رنج، ساری عمر غم وصدمات ہی کے الٹ پھیر میں گزر جاتی ہے، اور انسان کو اپنے عجز وبے بسی کا مشاہدہ قدم قدم پر ہوتا رہتا ہے، اس سے طبیعت میں قدرۃ شکستگی پیدا ہونی چاہئے، اور خودی وخود بینی کو تو پاس بھی نہ پھٹکنا چاہئے۔ لیکن کافر ان سارے واقعات سے مطلق سبق نہیں لیتا، مومن کو تو ہر شے میں حکمت الہی کی جھلک نظر آجاتی ہے، اور وہ ربوبیت مطلقہ پر اعتماد و اطمینان رکھ لیتا ہے، لیکن کافر کو دماغی الجھن اور قبلی ادھیڑ بن سے کسی حال میں مفر نہیں، اور نہ اس کی حرص وہوس کی آگ کبھی بھی بجھتی ہے۔ (آیت) ” فی کبد “۔ فی کا مفہوم اس سیاق میں اردو ” کے لئے “۔ ہی سے ادا ہوسکتا ہے۔ فی یہاں ل کے معنی میں ہے۔ وحرف فی واللام متقاربان بان تقول انما انت للعناء والنصب وانما انت فی العناء والنصب (کبیر) (آیت) ” الانسان “۔ انسان سے یہاں بھی مراد کافر، ناشکرا انسان ہے جسے زندگی کے کسی پہلو میں بھی چین نہیں۔
Ayah 90:54۔ یعنی وہ اتنی غفلت اور بھول میں پڑگیا ہے کہ اپنے گویا اللہ کے حدود قدرت سے بھی خارج سمجھنے لگا ہے۔
Ayahs 90:6–75۔ کیا وہ غافل و سرکش انسان اس بھول میں پڑا ہوا ہے کہ اس کی یہ مسرفانہ نافرمانیاں ایک ایک کرکے دیکھی نہیں جارہی ہیں، اور رتی رتی کا حساب کیا اسے دینا نہ ہوگا ؟ (آیت) ” یقول “۔ یعنی یہ وہ بڑے فخر اور شیخی کے ساتھ کہتا ہے۔ (آیت) ” اھلکت مالا لبدا “۔ ڈھیروں مال کا یہ اڑا ڈالنا یا لٹا ڈالنا ظاہر ہے کہ اللہ و رسول ﷺ کی معصیتوں ہی میں ہوا۔ (آیت) ” لم یرہ “۔ لم یہاں لن کے معنی میں ہے، تحقق وقوع کے اظہار کیلئے۔ ولم بمعنی لن ویعبربھا لتحقق الرفوع (روح)
Ayahs 90:8–96۔ (اور ان ساری نعمتوں کا مقتضا کیا یہ نہ تھا کہ وہ طاعت وشکرگزاری میں لگ جاتا ؟ ) آنکھیں انسان کیلئے خارج کے محسوسات ومدرکات کے باب میں سب سے بڑی نعمت ہیں، اور زبان اور ہونٹ مافی الضمیر کے اظہار کا ذریعہ ہیں، شاید اسی لئے یہی تین نعمتیں نام کی صراحت کے ساتھ یہاں بیان ہوئیں۔
Ayah 90:107۔ (کہ خیر وہدایت کا راستہ چلنے کے لئے ہے، اور شروخلاف کا بچنے کیلئے)
Ayah 90:118۔ (باوجود اس سارے مقتضیات کے) (آیت) ” العقبۃ “۔ لفظی معنی پہاڑ کی گھاٹی کے ہیں۔ العقبۃ طریق وعرفی الجبل (راغب) یہاں مراد دین کی گھاٹی ہے اور دین کے کاموں کو گھاٹی اس لئے کہا گیا کہ وہ بھی نفس پر شاق گزرتے ہیں۔ ضمیر فاعلی برابر کافر انسان کی طرف چل رہی ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ دین کو گھاٹی سے تشبیہ دینے سے ترغیب مجاہدہ کی نکلتی ہے۔
Ayahs 90:12–169۔ قرآن مجید نے اپنے لائے ہوئے لفظ (آیت) ” العقبۃ “۔ کی یہ خود تفسیر کردی یعنی دین کے کاموں سے مراد اس قسم کے کام ہیں، :۔ غلاموں کو آزاد کرنا، قحط وگرانی کے زمانہ میں بھوکوں کو کھانا کھلانا، یتیموں کی خدمت کرنا، محتاجوں کی خبر لینا، مکی سورتیں اس قسم کے اخلاق احکام کی تاکید و تفصیل سے بھری پڑی ہے۔ (آیت) ” مسغبۃ “۔ سغب کے معنی میں، اور مقربۃ قرابت کے معنی میں اور (آیت) ” متربۃ “۔ فقر کے معنی میں، تینوں، مصدر میمی ہیں۔
Ayah 90:1710۔ ثم یہاں تفخیم مرتبہ کے لئے ہے (تھانوی (رح)) یعنی وہ پہلی فضلتیں تو یہ بدبخت کافر کیا حاصل کرتا، اس سے اتنا بھی نہ ہوا کہ یہ ایمان تو لے آتا اوراقل مرتبہ صبر و رحمت ہی کی تلقین وتبلیغ کرتا، فقہاء مفسرین نے کہا ہے کہ آیت سے فضیلت تین چیزوں کی نکلی، ایک ایمان لانے کی دوسرے اس پر ثابت رہنے کی، تیسرے ترک ظلم کی۔ پوری آیت کا عطف فقرۂ منفی یعنی فلا اقتحم العقبۃ پر ہے۔ عطف علی المنفی اعنی اقتحم فکانہ قیل فلا اقتحم ولاامن (روح) (آیت) ” وتواصوبالصبر “۔ تمام حقوق اللہ کی ادائی کا جامع ہے، جس طرح تو اصوابالمرحمۃ “۔ تمام حقوق العباد کی ادائی کا جامع۔ وذکر امرا تو اصوابالصبر اشارۃ الی تعظیم امر اللہ وتواصوابالمرحمۃ اشارۃ الی شفقۃ علی خلق اللہ وھما اصلان علیھما مدار الطاعۃ (روح) و مدار امر الطاعات الیس الاعلی ھذین الاصلین وھو الذی قال بعض المحققین ان الاصل فی التصوف امران صدق مع الحق وخلق مع الخلق (کبیر)
Ayah 90:1811۔ یعنی نیک بخت، خوش نصیب، اہل ایمان اور نجات پاجانے والے، یہ وہی لوگ ہیں جن کا ذکر ابھی متصل آیت میں آچکا۔ (آیت) ” اصحب الیمین “۔ پر حاشیے پ 29 میں گزر چکے۔
Ayahs 90:19–2012۔ داہنے ہاتھ والوں کے مقابلہ میں یہ بائیں ہاتھ والے بدبخت ومنحوس کافر اور اہل جہنم ہوں گے۔ اصحاب الشمال پر حاشیہ پ 29 میں گزر چکا۔ (آیت) ” والذین کفروا بایتنا “۔ یہ لوگ ایمان تک نہ لائے کفر ہی میں مبتلا رہے (آیت) ” نار مؤصدۃ “۔ کافروں کو جہنم سے نکلنا تو نصیب ہوگا نہیں، اس لئے دوزخ کے دروازے بھی ان پر ہر طرف سے بند کردیئے جائیں گے، آیت کے ان الفاظ سے صاف اشارہ خلود عذاب جہنم کی طرف نکل رہا ہے۔ قال مقاتل یعنی ابوابھا مطبقۃ فلا یفتح لھم باب ولا یخرج منھا ولا یدخل فیھا روح ابدالاباد (کبیر)