Ayahs 90:1–3ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہ نے شہر مکہ مکرمہ کی اور انسان کے والد یعنی آدم (علیہ السلام) کی اور ان کی ذریت کی قسم کھا کر یہ فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے، درمیان میں بطور جملہ معترضہ ﴿ وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ002 ﴾ بھی فرمایا جس وقت یہ سورت نازل ہوئی رسول اللہ ﷺ مکہ معظمہ میں ہی تھے، وہاں مشرکین سے تکلیفیں پہنچتی رہتی تھیں۔
مکہ معظمہ حرم ہے اس میں قتل و قتال ممنوع ہے مشرکین مکہ بھی اس بات کو جانتے اور مانتے تھے، لیکن اللہ جل شانہ نے اول تو اس کی قسم کھا کر اس کی عزت کو بیان فرما دیا اور ساتھ ہی رسول اللہ ﷺ کو یہ پیشگی خبر دے دی کہ ایک دن آنے والا ہے جب آپ اس میں فاتحانہ داخل ہوں گے اور اس دن آپ کے لیے اس شہر میں قتال حلال کردیا جائے گا چناچہ ہجرت کے بعد 8 ہجری میں آپ اپنے صحابہ ؓ کے ساتھ مدینہ منورہ سے تشریف لائے اور مکہ میں اخل ہوئے اور بہت سے لوگوں کے بارے میں امان کا اعلان کردیا جو اسلام کے اور مسلمانوں کے دشمن تھے اور بعض لوگوں کے قتل کا حکم دے دیا، اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ بلاشبہ اللہ پاک نے جس دن آسمان اور زمین کو پیدا فرمایا مکہ معظمہ (میں قتل و قتال) کو حرام قرار دے دیا تھا اور مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں کیا گیا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہوگا۔ (مشکوٰۃ المصابیح ص 22، از مسلم)
اور میرے لیے صرف دن کے تھوڑے سے حصے میں حلال کیا گیا ہے، لہٰذا وہ قیامت کے دن تک اللہ کے حرام قرار دینے سے حرام ہے یعنی اب قیامت تک اس میں قتل و قتال حلال نہیں ہوگا۔ ﴿ وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَۙ003 ﴾والد سے حضرت آدم (علیہ السلام) اور وَمَا وَلَدَ سے ان کی ذریت مراد ہے اس طرح حضرت آدم (علیہ السلام) کی اور تمام بنی آدم کی قسم ہوگئی۔
Ayah 90:4﴿لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْ كَبَدٍؕ004 ﴾ (یہ واقعی بات ہے کہ ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا فرمایا) ۔
انسان اشرف المخلوقات ﴿اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ﴾ میں پیدا فرمایا ہے وہ اپنے احوال میں مشقتوں تکلیفوں میں مبتلا رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے شرف بھی بخشا اور مشکلات اور مسائل میں بھی مبتلا فرما دیا، اس کی اپنی دنیاوی حاجات اور ضروریات جان کے ساتھ ایسی لگی ہوئی ہیں جو اس کے لیے مشقتوں کا باعث ہوتی ہیں، انسان کو کھانے پینے کو بھی چاہیے، پہننے کی بھی ضرورت ہے، رہنے کے لیے مکان بھی چاہیے ساتھ ہی بیماریاں بھی لگی ہوئی ہیں وہ خود تو مصیبت ہیں ہی ان کے علاج کے لیے تدبیریں بھی کرنی پڑتی ہیں اور مال بھی خرچ کرنا پڑتا ہے، مال آسانی سے حاصل نہیں ہوتا اس کے لیے محنت کرنا پڑتی ہے۔ پہاڑ توڑنے پڑتے ہیں بوجھ ڈھونا پڑتا ہے نیند چھوڑ کر ڈیوٹی پر جانا پڑتا ہے، حالت مرض میں بہت سے کام کرنے پڑتے ہیں جی نہیں چاہتا مگر ضرورتیں پوری کرنے کے لیے نفس کو دبا کر کام پر جانا ہوتا ہے، غذا کو زمین سے حاصل کرنا پڑتا ہے، زمین میں ٹریکٹر چلاؤ یا ہل کو ہلاؤ بیج ڈالو، پودے نکلیں تو پانی دیتے رہو کھیتی پک جائے تو اسے کاٹو، کاٹنے کے بعد بھوسے سے دانے کو نکالو پھر اسے پیسو پھر گوندھو، پھر روٹی پكاؤ چاول ہوں تو دیگچہ چڑھاؤ۔ اور اسی پر بس نہیں بلکہ کھاؤ بھی اور نکالو بھی۔ قبض ہوگیا تو دوا تلاش کرو، دست ہوگئے تو بار بار جاؤ، نکاح نہ ہو تو مشکل، نکاح ہوگیا تو بچوں کی پیدائش اور ان کی پرورش اور ان کے دکھ درد کا سامنا، یہ سب دنیاوی مسائل اور مشکلات کی چند مثالیں ہیں۔ غور کریں گے تو اور بہت سی چیزیں سامنے آئیں گی۔ یہ تو دنیاوی مشکلات کی طرف کچھ اشارہ ہوا دین پر عمل میں بھی نفس کو تکلیف ہوتی ہے۔ نیند چھوڑ کر نماز پڑھنی پڑتی ہے روزے رکھ کر بھوک پیاس برداشت کرنی پڑتی ہے نفس نہیں چاہتا پھر بھی زکوٰۃدینی پڑتی ہے۔ حج میں پیسہ بھی خرچ کرنا پڑتا ہے اور تکلیف بھی اٹھانی پڑتی ہے، وغیرہ وغیرہ یہ مشکلات انسان کی جان کے ساتھ ہیں، دوسری مخلوق ان چیزوں سے آزاد ہے۔
جو شخص کوئی بھی تکلیف اللہ کی رضا کے لیے برداشت کرے گا آخرت میں اس کا ثواب پائے گا اور جو شخص محض دنیا کے لیے عمل کرے گا اس کو آخرت میں کچھ نہ ملے گا۔ اور اگر گناہ کرے گا (جن میں اپنے اعضاء کو اور مال کو استعمال کرے گا) تو اس کی سزا پائے گا۔
جب انسان مشقت اور دکھ تکلیف میں مبتلا ہوتا رہتا ہے اور وہ یہ جانتا ہے کہ یہ سب کچھ جو میرے پاس ہے میرے خالق ومالک کا دیا ہوا ہے تو اسے اللہ جل شانہ کا مطیع اور فرمانبردار ہونا اور ہر حال میں اسی کی طرف متوجہ رہنا لازم تھا، اللہ تعالیٰ سے دعائیں بھی کرنا اور اس کی عبادتیں بھی کرنا اور اس کے احکام پر عمل کرنا۔ لیکن انسان کا یہ طریقہ ہے کہ باغی بن کر رہتا ہے اپنے خالق اور مالک کے مواخذہ سے نہیں ڈرتا۔
Ayahs 90:5–7﴿اَيَحْسَبُ اَنْ لَّنْ يَّقْدِرَ عَلَيْهِ اَحَدٌۘ005﴾ (کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قادر نہ ہوگا) یعنی انسان کا رویہ یہ بتاتا ہے کہ وہ اپنی ذات کو آزاد سمجھتا ہے اور جو چاہتا ہے کرتا ہے دنیا و آخرت میں مواخذہ ہوگا اس کی بالکل پرواہ نہیں کرتا اس کا ڈھنگ یہ بتاتا ہے کہ وہ یہ سمجھ کر اپنے دنیاوی مشاغل میں لگتا ہے کہ میں آزاد ہوں اور جو چاہوں کروں، مجھے کوئی پکڑنے والا نہیں اور مجھ پر کسی کو کوئی قدرت نہیں حالانکہ جس ذات پاک نے اس کو پیدا فرمایا ہے قوت اور طاقت بخشی ہے وہ اس پر پوری طرح قادر ہے انسان کے اعمال میں اموال کا خرچ کرنا بھی ہے۔ وہ بےفکری کے ساتھ مال خرچ کرتا ہے اور گناہوں میں خرچ کرتا چلا جاتا ہے۔ اسراف بھی کرتا ہے۔ حرام مواقع میں خرچ کرتا چلا جاتا ہے اور شیخی بگھارتے ہوئے شیخی کے ساتھ کہتا ہے کہ میں نے خوب زیادہ مال خرچ کر ڈالا، ان معصیت والے اخراجات میں خرچ کرنے پر جرات بھی کی اور شیخی بھی بگھاری اور یہ بالکل نہ سوچا کہ ان مواقع میں خرچ کرنا میرے خالق اور مالک کی رضامندی کے خلاف ہے۔ وہ مجھے دیکھ رہا ہے اسی کو فرمایا ﴿ اَيَحْسَبُ اَنْ لَّمْ يَرَهٗۤ اَحَدٌؕ007 ﴾ (کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس کو کسی نے نہیں دیکھا) یعنی اس کا ایسا سمجھنا غلط ہے کہ اگر کسی کو پتہ نہیں تو اس کے خالق کو تو پتہ ہے اسی نے مال دیا اور وہی معصیت میں خرچ کرنے پر مواخذہ کرے گا۔ تفسیر جلالین سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض کافروں نے رسول اللہ ﷺ کی مخالفت میں خوب زیادہ مال خرچ کیا تھا اور بطور فخر یوں کہا تھا کہ میں نے بہت زیادہ مال خرچ کردیا اس پر مذکورہ وعید نازل ہوئی۔ مطلب یہ ہے کہ اس کا یہ خیال کرنا غلط ہے کہ مجھے کسی نے نہیں دیکھا اللہ تعالیٰ نے اسے خرچ کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے اور کتنا خرچ کیا ہے وہ بھی دیکھا ہے وہ اپنے علم کے مطابق مواخذہ فرمائے گا۔
Ayahs 90:8–12اس کے بعد فرمایا ﴿ اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَيْنَيْنِۙ008﴾ (الآیتین) (کیا ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں نہیں بنائیں اور زبان اور ہونٹ نہیں بنائے) یہ استفہام تقریری ہے مطلب یہ ہے کہ ہم نے انسان کو آنکھیں بھی دیں، زبان بھی دی، ہونٹ بھی دیئے، انسان کے یہ اعضاء اس کے لیے بہت بڑے مددگار ہیں، آنکھوں سے دیکھتا ہے، زبان سے بولتا ہے، ہونٹوں سے حروف بھی ادا ہوتے ہیں اور بہت بڑی خوبصورتی کا مظاہرہ بھی ہوتا ہے۔ ان اعضاء کے ذریعے انسان اپنی دنیاوی زندگی بھی اچھی گزار سکتا ہے اور ان کو اپنے خالق ومالک کی رضا مندی میں استعمال کر کے آخرت کی کامیابی حاصل کرسکتا ہے اسی لیے آخر میں ﴿وَ هَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِۚ0010﴾ بھی فرما دیا یعنی ہم نے انسان کو دونوں راستے بتا دیئے خیر و فلاح کا راستہ بھی بتادیا اور شر اور ہلاکت کا راستہ بھی دکھا دیا، اب یہ انسان کی سمجھداری ہے کہ وہ اپنے اعضاء اپنی بصیرت و بصارت کو اپنے فکر و فہم کو اپنی کامیابی کے راہ پر خرچ کرے اپنے خالق ومالک کی شان خالقیت اور شان مالکیت اور شان ربوبیت کو تسلیم کرے اور اس کے مطابق زندگی کو بھی گزارے اپنا بھی بھلا کرے اور اللہ کی دوسری مخلوق سے بھی اچھا سلوک کرے۔ اس آخری بات کو آئندہ آیت میں بیان فرمایا ہے۔
Ayahs 90:13–16ایمان قبول کرنے کے بعد بہت سے تقاضے پورے کرنا لازم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے پر بھی نفس کو آمادہ کرنا پڑتا ہے اور مخلوق کے بھی حقوق ادا کرنے ہوتے ہیں ان میں حقوق واجبہ بھی ہوتے ہیں اور مستحب چیزیں بھی ہوتی ہیں۔ اس بارے میں فرمایا کہ انسان اس گھاٹی سے کیوں نہ گزرا جس میں نفس پر قابو پایا جاتا ہے پھر تفخیم شان کے لیے فرمایا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ کیا گھاٹی ہے ؟ پھر بطور مثال تین چیزیں ذکر فرمائیں :
1 ﴿ فَكُّ رَقَبَةٍۙ0013﴾ (گردن کا چھڑانا) یعنی اللہ کی رضا کے لیے غلام اور باندی کا آزاد کرنا یہ آزاد کرنا کفارات واجبہ میں بھی ہوتا ہے اور مستحب بھی ہوتا ہے جس میں ایک صورت مکاتب بنانے کی ہے اور دوسری صورت مدبر کرنے کی بھی ہے۔ ان مسائل کو کتب فقہ میں کتاب العتاق کا مطالعہ کرنے سے یا کسی عالم سے معلوم کرنے سے سمجھا جاسکتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی نے مسلمان شخص کو آزاد کردیا اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے عوض آزاد کرنے والے کو دوزخ کی آگ سے آزاد فرما دے گا یہاں تک کہ اس کی شرمگاہ کو بھی دوزخ سے بچا دے گا۔
حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی (دیہات کا رہنے والا) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کیا کہ آپ مجھے ایسا عمل بتادیں جو مجھے جنت میں داخل کر دے، آپ نے فرمایا : ( اعتق النسمة وفک الرقبة) سائل نے کہا : کیا دونوں کا ایک ہی مطلب نہیں ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں عتق نسمة یہ ہے کہ قیمت میں مدد کرے (مثلاً کسی مکاتب غلام کی قسطوں کی ادائیگی میں مدد کر دے) اور اعمال جنت میں سے یہ بھی ہے کہ تو کسی کو خوب دودھ دینے والے جانور ہبہ کر دے اور یہ کہ تو کسی ظالم رشتہ دار پر بھلائی کے ساتھ توجہ کرے اگر یہ نہ کرسکتا ہو تو بھوکے کو کھانا کھلا اور پیاسے کو پانی پلا اور اچھے کاموں کا حکم کر اور برے کاموں سے روک دے، اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان کو اچھی باتوں کے علاوہ دوسری باتوں سے روکے ركھ۔ (رواہ البیہقی فی شعب الایمان کما فی المشکوٰۃ صفحہ 294)
2 بھوک کے دن میں کسی یتیم رشتہ دار کو کھانا کھلائے۔ 3 مسکین کو کھانا کھلانا جو مٹی والا ہے یعنی ایسا مسکین ہے کہ اس کے پاس اپنی جان کے سوا کچھ نہیں ہے زمین میں اپنی جان کو لگائے ہوئے ہے ایسے مسکین کو کھانا کھلانا بھی ایمان کے تقاضوں میں سے ہے اور بڑے ثواب کا کام ہے۔
Ayah 90:17اس کے بعد فرمایا : ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بالْمَرْحَمَةِؕ0017 کہ مذکورہ افعال خیر ایمان کے ساتھ ہونے چاہئیں کیونکہ ایمان کے بغیر آخرت میں کوئی عمل نافع نہیں ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ صفت ایمان اور دوسری صفات کے ساتھ آپس میں ایک دوسرے کو صبر کی تلقین بھی کرتے رہنا چاہیے نیکیوں پر جما رہنا اور گناہوں سے رکا رہنا اور مشکلات و مصائب پر جزع و شکوہ و شکایت نہ کرنا یہ سب کچھ صبر میں آجاتا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ آپس میں ایک دوسرے کو مرحمت یعنی مخلوق پر رحمت کرنے کی وصیت بھی کرتے رہنا چاہیے۔
Ayah 90:18﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِؕ0018﴾ جن مومن بندوں کا ذکر ہوا یہ اصحاب المیمنہ یعنی داہنے ہاتھ والے ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامے دیئے جائیں گے اور جن سے جنت میں داخل ہونے کا وعدہ ہے۔
Ayah 90:19﴿وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْـَٔمَةِؕ0019﴾ (اور جن لوگوں نے ہماری آیات کا انکار کیا یہ بائیں ہاتھ والے ہیں) ان کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامے دیئے جائیں گے اور انہیں دوزخ میں جانا ہوگا جس میں ہمیشہ رہیں گے۔
Ayah 90:20﴿ عَلَيْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ (رح) 0020﴾ (ان پر آگ ہوگی بند کی ہوئی) یعنی ان کو دوزخ میں دال کر دروازے بند کردیئے جائیں گے۔
قولہ تعالیٰ موصدة قال معالم التنزیل مطبقة علیھم ابوابھا لا یدخل فیھا روح ولا یخرج منھا غم قرأ ابو عمرو و حمزة وحفص بالھمزة ھاھنا وفی الھمزة المطبقة وغیر الھمزة المغلقة۔ وھذا آخر تفسیر سورة البلد والحمد للہ الواحد الاحد الصمد والصلٰوة علی من بعث الی کل والد وما ولد وعلی اصحابہ فی کل یوم وغد۔