90. Surah Al-Balad

البلدThe City · 20 ayahsسراج البیان

Ayah 90:1

لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:1 in the Quran reader

میں اس شہر (مکہ) کی قسم کھاتا ہوں

Ayah 90:2

وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ Open ayah 90:2 in the Quran reader

اور تو اس شہر میں اترا ہوا ہے

Ayah 90:3

وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَۙ Open ayah 90:3 in the Quran reader

اور میں جننے والے کی اور اس کی جسے جنا (یعنی باپ اور بیٹے کی ) کی قسم کھاتا ہوں

Ayahs 90:4–14

لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍؕ Open ayah 90:4 in the Quran reader

کہ ہم نے انسان کو مشقت میں (ف 2) پیدا کیا ہے

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَّقْدِرَ عَلَیْهِ اَحَدٌۘ Open ayah 90:5 in the Quran reader

کیا وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہ پاسکے گا

یَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًاؕ Open ayah 90:6 in the Quran reader

کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال خرچ کیا

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 90:7 in the Quran reader

کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اسے کسی نے نہیں دیکھا ؟

اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَیْنَیْنِۙ Open ayah 90:8 in the Quran reader

کیا ہم نے اسے دو آنکھیں نہیں دیں ؟

وَ لِسَانًا وَّ شَفَتَیْنِۙ Open ayah 90:9 in the Quran reader

اور ایک زبان اور دوہونٹ

وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ Open ayah 90:10 in the Quran reader

اور ہم نے اسے دونوں راہیں دکھلائیں

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ٘ۖ Open ayah 90:11 in the Quran reader

پھر ابھی وہ گھاٹی پر ہوکر نہ گزرا

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُؕ Open ayah 90:12 in the Quran reader

اور تو کیا سمجھا کہ گھاٹی کیا ہے ؟

فَكُّ رَقَبَةٍۙ Open ayah 90:13 in the Quran reader

وہ گردن چھڑانا ہے

اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَةٍۙ Open ayah 90:14 in the Quran reader

یا بھوک والے دن کھانا کھلانا

حیات انسانی 2: سورة البلد میں تین چیزوں کبو بطور استشہاد کے پیش فرمایا ۔ ہے اور ثابت کیا ہے کہ انسانی زندگی مسلسل مصائب اور سختیوں کا نام ہے ۔ ایک مکہ کی پوری تاریخ کہ کیونکہ اللہ کے ایک بندے نہ پریشانی اور اضطراب کے عالم میں یہاں اپنی اولاد کو بسایا اور اس غیر آباد زمین میں ایک معبد کی بنیاد رکھی ۔ اور پھر وہ جگہ کس درجہ مقبول ہوئی ۔ دوسرے آپ کا اس شہر میں فاتحانہ داخلہ اور تیسرے آدم اور بنی آدم کی ساری زندگی ، ان واقعات کو دیکھئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ حیات انسانی ، تعبیر ہے محنت وجانفشانی سے ، تگ ودو اور سعی سے ، دوڑ دھوپ اور کوشش سے ، اور وہی لوگ دنیا میں کامیابی اور کامرانی سے زندگی بسر کرسکتے ہیں ۔ جو اس راز کو سمجھتے ہیں اور جو آسودہ تن ہیں اور آرام طلب ہیں ۔ وہ ہمیشہ سیاسیات عالم میں غلام اور نکمے رہتے ہیں ۔ واضح رہے کہ یہاں وانت حل بھذا البلد بطور جملہ معترضہ کے ہے اور یہ پیش گوئی ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے معنی مطلقاً مکہ میں سکونت پذیر ہونے کے ہوں ۔ اس صورت میں آپ کی مکی زندگی کے پر مصائب ہونے کی طرف اشارہ ہوگا ۔ حل لغات :۔ وثاقہ ۔ باندھنا ۔ قید کرنا ۔ جکڑنا کبد ۔ مشقت ۔ کوفت اور مصیبت ۔
Ayahs 90:15–20

یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍۙ Open ayah 90:15 in the Quran reader

رشتہ دار (ف 1) یتیم کو

اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍؕ Open ayah 90:16 in the Quran reader

یا محتاج کو جو خاک پر پڑارہتا ہے

ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِؕ Open ayah 90:17 in the Quran reader

پھر ان لوگوں میں داخل ہوا جو ایمان لائے اور ایک دوسرے کو سہارنے کی وصیت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو رحم کھانے کی وصیت کرتے ہیں

اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 90:18 in the Quran reader

وہی دہنی طرف والے ہیں

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 90:19 in the Quran reader

اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی بائیں طرف والے ہیں

عَلَیْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ۠ Open ayah 90:20 in the Quran reader

ان کے اوپر منہ بند آگ ہے

ف 1: غرض یہ ہے کہ انسان تو اس لئے پیدا کیا گیا تھا کہ یہ حق وصداقت کی راہ میں جس قدر مشکلات پیش آئیں ، ان کو صبر و استقلال کے ساتھ برداشت کرے ۔ مگر اس کی سرکشی اور بغاوت کا یہ عالم ہے کہ خدا سے بھی نہیں ڈرتا اور سمجھتا ہے ۔ کہ اس پر کسی کا بس نہیں چل سکے گا ۔ عیش و عشرت میں ، شادی غمی کی رسموں میں اور نام ونمود کے موقع پر بےدریغ خرچ کرتا ہے ، دعوتوں میں اور حکام وقت کی خوشنودی اور ان کی استرضا میں ہزاروں روپے پانی کی طرح بہادیتا ہے اور جب قومی اور ملی کاموں کے لئے خدا کے نام پر اس سے کچھ مانگا جاتا ہے تو کہتا ہے کہ صاحب ! میں نے بڑی دولت لٹائی ہے اور بڑا سرمایہ خرچ کیا ہے ۔ اب میں کچھ بھی نہیں دے سکتا ۔ وہ یہ گمان کرتا ہے کہ شاید اس کی فضول خرچیوں کو کسی نے نہیں دیکھا اور اس کی ریاکارانہ مساعی کو بہ نظر احتساب نہیں جانتا ۔ اللہ نے اس کو دو آنکھیں بخشی ہیں ۔ تاکہ حقائق کا مشاہدہ کرے ۔ ایک زبان اور دو ہونٹ عطا کئے ہیں کہ دنیا کی نعمتوں سے لطف اندوز ہو اور کلمہ حق کے اظہار سے دریغ نہ کرے ۔ اور نیکی وبدی کی دو راہیں اس کو دکھادی ہیں ، تاکہ گمراہ نہ ہو ۔ مگر یہ ہے کہ ان بیش قیمت نعمتوں کو قدر وتشکر کی نظروں سے نہیں دیکھتا ۔ سو یوں ایسا نہیں ہوتا کہ یہ دشوار گزار اخلاق وروح کی گھاٹی کو عبور کرلے اور وہ دشوار گزار گھاٹی یہ ہے کہ غلامی کے خلاف جہاد کرے اور اللہ کے غلاموں کو بندوں کی غلامی سے چھڑائے یا قحط اور بھوک کے زمانے میں اپنے رشتہ دار یتیموں کی مدد کرے ۔ یا فقیر خاک نشین کی طرف دست شفقت بھائے اور ان پاکبازوں میں سے ہو جو مومن ہیں اور صبروہمدردی کے جذبات کی تلقین کرتے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اعزازو تکریم کے مستحق ہیں اور اصحاب یمین ہیں اور وہ منکرین جو خدا کی نعمتوں سے استفادہ نہیں کرتے جن کے دلوں میں خلق اللہ کے لئے کوئی شفقت کا جذبہ موجزن نہیں ، وہ بدبختی اور محرومی کے مالک ہیں ، جہنم میں جائیں گے ۔ اور اس کی آگ ان کو چاروں طرف سے گھیرلے گی ۔ فک رقبۃ سے مصطلح غلامی مراد ہے ۔ جس کے صاف اور واضح معنی یہ ہیں کہ قرآن کا مشورہ یہ نہیں ہے کہ وہ بندگی کے نظام کی ققویت کرے ۔ بلکہ یہ چاہتا ہے کہ اخلاقاً لوگوں میں یہ روح پیدا کردی جائے کہ وہ غلامی کو دور کرنا اپنے لئے بڑی سعادت سمجھنے لگے ۔ حل لغات :۔ لبدا ۔ بہت زیادہ النجدین ۔ نیکی اور بدی کی دو راہیں العقبۃ ۔ گھاٹی رقبۃ ۔ گردن مسغبۃ ۔ بھوک ۔ فاقہ ذامتربۃ ۔ خاک نشینی ۔