Al-Balad 90:7

Al-Balad · from ayah 7

90:7

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَهٗۤ اَحَدٌ ۟ؕاَيَحۡسَبُ اَنۡ لَّمۡ يَرَهٗۤ اَحَدٌ

کیا اسے یہ گمان ہے کہ اس کو کسی نے دیکھا نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Does he think that no one has seen him?

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Balad

All translations of 90:7

کیا وہ سمجھتا ہے کہ کسی نے اُس کو نہیں دیکھا؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا اسے یہ گمان ہے کہ اس کو کسی نے دیکھا نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا (یوں) سمجھتا ہے کہ کسی نے اسے دیکھا (ہی) نہیں؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کو کسی نے دیکھا نہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اسے کسی نے نہ دیکھا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے (یہ فضول خرچیاں کرتے ہوئے) کسی نے نہیں دیکھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اسے کسی نے نہیں دیکھا ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کیا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اسے کسی نے نہیں دیکھا ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا وہ سمجھتا ہے کہ اس کو کسی نے دیکھا نہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

کیا اس نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ کسی نے دیکھا نہیں اس کو (اور اس کے کرتوتوں کو ؟)

— مولانا اسحاق مدنی

کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اسے کسی نے دیکھا نہیں ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا اس کا گمان ہے کہ اسے کسی نے دیکھا نہیں ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کیا وہ یہ سوچتا ہے کہ اس کو کسی نے نہیں دیکھا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Does he believe that none has seen him?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Does he think that no one has seen him?

— Muhammad Taqi Usmani

Does he think that no one has seen him?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Does he think that none sees him

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Does he think that no one has seen him?

— Saheeh International

Does he think that no one has seen him?

— Muhammad Sarwar

Does he think that no one sees him?

— Muhammad Habib Shakir

Deemest he that none beholdeth him?

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 90:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–10

مکہ مکرمہ کی قسم : اللہ تبارک وتعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں لا سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہوگا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہوگا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہکاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 7–8

سورة الْبَلَد 8 یعنی کیا یہ فخر جتانے والا یہ نہیں سمجھتا کہ اوپر کوئی خدا بھی ہے جو دیکھ رہا ہے کہ کن ذرائع سے اس نے یہ دولت حاصل کی، کن کاموں میں اسے کھپایا، اور کس نیت، کن اغراض اور کن مقاصد کے لیے اس نے یہ سارے کام کیے ؟ کیا وہ سمجھتا ہے کہ خدا کے ہاں اس فضول خرچی، اس شہرت طلبی اور اس تفاخر کی کوئی قدر ہوگی ؟ کیا اس کا خیال ہے کہ دنیا کی طرح خدا بھی اس سے دھوکا کھا جائے گا ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–7

لقد خلقنا الانسان فی کبد، کبد کے لفظی معنے محنت ومشقت کے ہیں۔ معنے یہ ہیں کہ انسان اپنی فطرت سے ایسا پیدا کیا گیا ہے کہ اول عمر سے آخر تک محنتوں اور مشقتوں میں رہتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ابتدائے حمل سے رحم مادر میں محبوس رہا پھر ولادت کے وقت کی محنت ومشقت برداشت کی، پھر ماں کا دودھ پینے پھر اسکے چھوٹنے کی محنت اور پھر اپنے معاش اور ضروریات زندگی فراہم کرنے کی مشقت پھر بڑھاپے کی تکلیفین پھر موت پھر قبر، پھر حشر اور اس میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اعمال کی جوابدہی پھر جزا وسزا، یہ سب دور اس پر محنتوں ہی کے آتے ہیں، اور یہ محنت ومشقت اگرچہ انسان کے ساتھ مخصوص نہیں سب جانور بھی اس میں شریک…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’أَیَحْسَبُ أَن لَّمْ یَرَہٗٓ أَحَدٌ‘۔ یہ اس طرح کے شیخی بگھارنے والوں کو جواب ہے کہ یہ لوگ یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ان کی ان فیاضیوں کو کوئی دیکھ نہیں رہا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ دیتے دلاتے کوڑی بھی نہیں لیکن اپنی شاہ خرچیوں کا اشتہار بہت دیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ایک دن ان کا یہ تمام زبانی جمع خرچ ان کے آگے بھی آ جائے گا اور خلق کے سامنے بھی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

7۔ 1۔ اس طرح اللہ کی نافرمانی میں مال خرچ کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ کوئی اسے دیکھنے والا نہیں ؟ حالانکہ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے جس پر وہ اسے جزا دے گا، آگے اللہ تعالیٰ اپنے بعض انعامات کا تذکرہ فرما رہا ہے تاکہ ایسے لوگ عبرت پکڑیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

5: یعنی جو کچھ خرچ کیا، دکھاوے کے لیے کیا، پھر اس پر ناز کرنا کیسا ؟ کیا اللہ تعالیٰ دیکھ نہیں رہے تھے کہ وہ کس کام میں اور کس مقصد سے خرچ کر رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 5–7

ایحسب ان ................................ احد یہ انسان مشقت میں پیدا کیا گیا اور جو اپنی اس دنیا کی پوری زندگی میں اس مشقت سے چھوٹ نہیں سکتا ، یہ اپنی حقیقت کو بھول جاتا ہے اور اس کا پیدا کرنے والا اسے جو قوت ، طاقت اور وجدان اور سازو سامان دیتا ہے ، تو وہ ان قوتوں میں ایسے تصرفات کرتا ہے جیسا کہ وہ کسی کے سامنے جوابدہ نہیں ہے اور اسے اس جوابدہی کی توقع نہیں ہے اور یہ خوف نہیں ہے کہ ایک بڑی قوت اور قدروالاا سے پکڑ سکتا ہے اور حساب لے سکتا ہے۔ اس لئے یہ انسان دیتا ہے ، پکڑتا ہے ، چھینتا ہے ، لوٹتا ہے ، جمع کرتا ہے ، اضافہ کرتا ہے ، فسق وفجور کرتا ہے ، نہایت بےخوفی اور نہایت بےباکی کے ساتھ ، یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی اللہ سب دیکھ رہا ہے۔ جتنا مال جس جگہ جس نیت سے خرچ کیا ہے۔ جھوٹی شیخی بگھارنے سے کچھ فائدہ نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 7–9

آیت 7{ اَیَحْسَبُ اَنْ لَّـمْ یَرَہٗٓ اَحَدٌ۔ } ”کیا اس کا گمان ہے کہ اسے کسی نے دیکھا نہیں ؟“ کیا وہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو ہر شخص کے ایک ایک عمل سے واقف ہے اس کی اس نیکی سے وہ بیخبر ہے۔ یعنی اگر تو اس نے وہ نیکی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کی تھی تو پھر وہ اس کا ڈھنڈھورا کیوں پیٹ رہا ہے ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 7–8

6 یعنی اس نے یہ مال کن ذرائع سے کما یا تھا اور کیسے ناجائز ذرائع میں خرچ کر رہا ہے اور کیسی فاسدنیت سے خرچ کر رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 6–7

5۔ کیا وہ غافل و سرکش انسان اس بھول میں پڑا ہوا ہے کہ اس کی یہ مسرفانہ نافرمانیاں ایک ایک کرکے دیکھی نہیں جارہی ہیں، اور رتی رتی کا حساب کیا اسے دینا نہ ہوگا ؟ (آیت) ” یقول “۔ یعنی یہ وہ بڑے فخر اور شیخی کے ساتھ کہتا ہے۔ (آیت) ” اھلکت مالا لبدا “۔ ڈھیروں مال کا یہ اڑا ڈالنا یا لٹا ڈالنا ظاہر ہے کہ اللہ و رسول ﷺ کی معصیتوں ہی میں ہوا۔ (آیت) ” لم یرہ “۔ لم یہاں لن کے معنی میں ہے، تحقق وقوع کے اظہار کیلئے۔ ولم بمعنی لن ویعبربھا لتحقق الرفوع (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 4–20

لقد خلقنا الانسان فی کبد یعنی انسان کی زندگی محنت و مشقت اور شوائد سے معمور ہے، یہ جواب قسم ہے۔ او اطعام فی یوم ذی مسغبۃ مسغبۃ بھوک اور ذی مسغبۃ بھوک والے دن اور دامتربۃ (مٹی والا) یعنی وہ شخص جو فقر و غربت کی وجہ سے زمین پر پڑا رہتا ہو، اس کا گھر بار کچھ نہ ہو، مطلب یہ ہے کہ کسی غلام کو آزاد کرنا کسی بھوکے کو رشتہ دار یتیم کو کھانا کھلانا یہ دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہونا ہے جس کے ذریعہ انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جا پہنچے گا یتیم کی کفالت ویسے بھی بڑے اجر کا کام ہے اور اگر وہ رشتہ دار بھی ہو تو اس کی کفالت کا اجر بھی دگنا ہے ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا اسی طرح غلام آزاد کرنے کی بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ایحسب ان لم یرہ احد . کیا اس کا یہ خیال ہے کہ اس کو کسی نے نہیں دیکھا۔ یقیناً اللہ اس کو اس وقت دیکھ رہا تھا جب وہ ریاکاری کے طور پر یا رسول اللہ ﷺ کی دشمنی میں مال خرچ کر رہا تھا۔ اللہ اس سے ضرور باز پرس کرے گا کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔ لامحالہ اس کو اس کی سزا بھی دے گا۔ آیت کی یہ تشریح سعید بن جبیر اور قتادہ کے قول کے موافق کی گئی ہے۔ کلبی کا قول ہے کہ ابو الاشد جھوٹا ‘ شیخی باز تھا جو کثیر مال خرچ کرنے کا دعویٰ کرتا تھا۔ اس نے اپنے بیان کے مطابق مال نہیں خرچ کیا تھا۔ اس جملہ سے پہلے اَیَحْسَبُ اَنْ لَّنْ یَقْدِرَ عَلَیْہِ اَحَدٌ تھا۔ اس جملہ سے زجر و انکار کی مزید تاکید کردی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 5–7

(75) کیا کافر اپنی قوت پر یہ سمجھتا ہے کہ اس کو سزا دینے اور اس کی گرفت پر اللہ تعالیٰ کا بس نہیں چلے گا۔ کلدہ اور ولید ابن مغیرہ کہتا ہے کہ میں نے تو حضور کی دشمنی میں اس قدر مال خرچ کردیا ہے مگر پھر بھی مجھے کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ کیا وہ کافر یہ سمجھ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی ان بری حرکتوں کو دیکھا نہیں کہ اس نے خرچ کیا ہے یا نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ایحسب ان لم یرہ احد : کیا وہ خیال کرتا ہے کہ جب وہ فخر دریا کے لئے مال لٹا رہا تھا تو کسی نے اسے نہیں دیکھا ؟ یقینا ہم سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 5–9

ایحسب الن یقدر۔۔۔ تا۔۔۔ شفتین۔ کیا انسان گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے سزا نہیں دے گا وہ کہتا ہے میں نے کثیر مال خرچ کردیا، کیا وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اسے کوئی نہیں دیکھ رہا بلکہ اللہ تعالیٰ اس کے سب اعمال کو جانتا ہے وہ اس بات میں جھوٹا ہے کہ وہ کہتا ہے میں نے مال خرچ کیا ہے جب کہ اس نے مال خرچ نہیں کیا جاتا، حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ بندے کو کھڑا کیا جائے گا اسے کہا جائے گا، میں تجھے جو رزق دیا تھا اس کا تونے کیا کیا، وہ کہے گا میں نے اس کو خرچ کیا اور اس کی زکوۃ ادا کی، اسے کہا جائے گا، گویا تو نے یہ کیا تاکہ کہا جائے کہ وہ بڑا سخی ہے تو وہ تو کہا جاچکا ہے پھر اسے آگ میں ڈالنے کا حکم دے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 6–9

40۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت مالا لبدا سے مراد ہے کثیر مال۔ 41۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت اہلکت مالا لبدا سے مراد ہے کہ وہ کہے گا میں نے اللہ کے راستے سے روکنے پر بہت مال خرچ کیا آیت ایحسب ان لم یرہ احد میں الاحد سے مراد ہیں اللہ تعالیٰ یعنی کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے نہیں دیکھا۔ 42۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے یقول الکت مالا لبدا۔ کے بارے میں روایت کیا کہ اس نے ہم پر احسان فرمایا۔ لیکن ہم نے اس کو زیادہ فضیلت والا قرار نہیں دیا آیت الم نجعل لہ عینین۔ کیا ہم اس کے لیے دو آنکھیں نہیں بنائی۔ اس طرح اور اس طرح۔ 43۔ عبد بن حمید…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَيَحْسَبُ ان لَمْ يَرَهٗٓ: کیا وہ سمجھتا ہے کہ دیکھا ہی نہیں اس کو (کماتے خرچ کرتے)][ اَحَد : کسی ایک نے بھی ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 5–7

﴿اَيَحْسَبُ اَنْ لَّنْ يَّقْدِرَ عَلَيْهِ اَحَدٌۘ005﴾ (کیا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ اس پر کوئی قادر نہ ہوگا) یعنی انسان کا رویہ یہ بتاتا ہے کہ وہ اپنی ذات کو آزاد سمجھتا ہے اور جو چاہتا ہے کرتا ہے دنیا و آخرت میں مواخذہ ہوگا اس کی بالکل پرواہ نہیں کرتا اس کا ڈھنگ یہ بتاتا ہے کہ وہ یہ سمجھ کر اپنے دنیاوی مشاغل میں لگتا ہے کہ میں آزاد ہوں اور جو چاہوں کروں، مجھے کوئی پکڑنے والا نہیں اور مجھ پر کسی کو کوئی قدرت نہیں حالانکہ جس ذات پاک نے اس کو پیدا فرمایا ہے قوت اور طاقت بخشی ہے وہ اس پر پوری طرح قادر ہے انسان کے اعمال میں اموال کا خرچ کرنا بھی ہے۔ وہ بےفکری کے ساتھ مال خرچ کرتا ہے اور گناہوں میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–20

انقسام عمل درخیر وشر مع بیان عظمت مہبط وحی و سرچشمہ ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بھذا البلد ........ الی .......... نار مؤصدۃ “۔ (ربط) سورة الفجر میں پانچ اہم اور عظیم امور کی قسم کھا کر ہر صاحب عقل اور فہم کو اس امر کی دعوت دی گئی تھی کہ وہ عقل اور فطرت کی روشنی میں خداوند عالم کی عظمت وقدرت کو پہچانے اس کی خالقیت و ربوبیت پر ایمان لائے یہی چیز انسان کو فلاح وسعادت کے مقام تک پہنچانے والی ہے، اور جو قومیں عقل و فطرت کی ان صلاحیتوں کو ضائع کرکے سرکشی اور نافرمانی پر ڈٹی رہیں جیسے قوم عاد وثمود اور فرعون تا ریخ میں ان کا عبرت ناک انجام بھی دنیا کے سامنے آچکا تو اس سورت میں سرزمین…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 5–7

4:۔ ” ایحسب “ یہ زجر ہے کیا کافر انسان گمان کرتا ہے کہ اس پر کوئی قادر اور غالب نہ ہوگا اور کوئی اس کو اس کے برے عملوں کی سزا نہیں دے گا۔ اس کا یہ خیال غلط ہے۔ اسے اس کے گناہوں کی اللہ تعالیٰ ضرور سزا دے گا۔ ” یقول اھلکت مالا لبدا “ لبدا، بہت زیادہ۔ وہ بڑے فخر سے کہتا ہے کہ اس نے اپنے مشرک اور شرک پھیلانے والے اور اسلام سے روکنے والے دوستوں پر اور رسول اللہ ﷺ کی عداوت میں بےدریغ دولت خرچ کی ہے کیا اس کا خیال ہے کہ باطل میں خرچ کرتے ہوئے اس کو کوئی نہیں دیکھتا اور اس سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی بلکہ ہم اس کو دیکھ رہے ہیں اور اس کا پورا محاسبہ کریں گے (ایحسب ان لم یرہ احد) حین کان ینفق او بعد ذلک…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–10

شہر مکہ ابتدائے سورة میں دو چیزوں کی قسم کھا کر بات سمجھائی گئی ہے پہلی قسم بلد یعنی شہر مکہ کی ہے اور دوسری والدوما ولد یعنی والد اور مولود کی چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ لا اقسم بھذا البلد یہاں لفظ لاتاکید کے لئے ہے۔ یعنی میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی وانت حل بھذا البلد اور آپ اترے ہوئے ہیں اس شہر میں حل ، حلول سے ہے۔ اور اس کا معنی اترنا ہے۔ مراد شہر مکہ مکرمہ ہے۔ جو کہ بلدہ طیبہ ، بلد الحرام اور عزت والا شہر ہے۔ قرآن پاک میں بلدہ طیبہ کا ذکر کئی مقامات پر آیا ہے۔ اس کی بڑی اہمیت ہے۔ کیونکہ اس میں بیت اللہ شریف واقع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شہر کو مرکز ہدایت اور حرمت والا شہر قرار دیا ہے اور اس کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَيَحْسَبُ اَنْ لَّمْ يَرَہٗٓ اَحَدٌ۝ 7 ۭ «لَمْ» وَ «لَمْ» نفي للماضي وإن کان يدخل علی الفعل المستقبل، ويدخل عليه ألف الاستفهام للتّقریر . نحو : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] ، أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوی [ الضحی/ 6] ( لم ( حرف ) لم ۔ کے بعد اگرچہ فعل مستقبل آتا ہے لیکن معنوی اعتبار سے وہ اسے ماضی منفی بنادیتا ہے ۔ اور اس پر ہمزہ استفہام تقریر کے لئے آنا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : أَلَمْ نُرَبِّكَ فِينا وَلِيداً [ الشعراء/ 18] کیا ہم نے لڑکپن میں تمہاری پرورش نہیں کی تھی ۔ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 5–7

ترکیب ¦ أالہمزۃ للاستفہام الانکاری یحسب فاعلہ الضمیر یرجع الی الانسان ان مخففۃ من الثقیلۃ واسمہا ضمیر الشان مقدر والجملۃ مفعول یحسب یقول جملۃ مستانفۃ اھلکت صرفت لبدا صفت مالا قال ابو عبیدہ لبد فعل من التلبید وھو المال الکثیر بعضہ علی بعض وقال الفراء جمع لبدۃ وقال بعضھم ھو واحد أالاستفہام للانکار ان انہ لم یرہ احد خبران والجملۃ مفعول یحسب۔ تفسیر ¦ یعنی باوجود یکہ انسان مصائب کش پیدا ہوا ہے سدا کا دکھیا ہے پھر اس پر بھی اس کو یہ غرور و پندار ہے ایحسب ان لن یقدر علیہ احد کیا یہ خیال کر رہا ہے کہ مجھ پر کوئی قابو نہیں پاوے گا۔ میرے اعمالِ بد کی سزا مجھے کوئی نہیں دے گا جو چاہوں کروں۔ گویا حشر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَہٗٓ اَحَدٌ۔ (البلد : 7) (کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اسے کسی نے نہیں دیکھا۔ ) شیخی بگھارنے والوں کا محاسبہ ایسے شیخی بگھارنے والوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ کیا یہ شخص گمان کرتا ہے کہ اسے اس طرح مال اڑاتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا۔ یعنی اس کا خیال یہ ہے کہ اوپر کوئی خدا نہیں۔ حالانکہ وہ جانتا ہے اور اس کی زندگی کا ہر مرحلہ گواہی دیتا ہے کہ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کے حصار میں ہے۔ جابجا اس کی قدرتوں کی نشانیاں بکھری ہوئی ہیں۔ وہ دیکھ رہا ہے کہ اس کی دی ہوئی امانت میں کس طرح خیانت کی جارہی ہے اور اس کے عطا کردہ اعضاء وجوارح اور ذہنی رعنائیوں کو کس طرح غلط کاموں میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–7

فہم القرآن ربط کلام : مکہ شہر کی قسم اٹھانے کے بعد باپ اور اس کی اولاد کی قسم اٹھا کر ہر انسان کو ایک حقیقت بتلائی گئی ہے۔ مکہ کی قسم اٹھا کر بین السطور آپ ﷺ کو آپ کی دعوت کی کامیابی کی خبر دی گئی ہے، اس کے بعد فرمایا کہ مجھے باپ اور اس کی اولاد کی قسم ! ہم نے انسان کو مشقت جھیلنے کے لیے پیدا کیا ہے لیکن انسان سمجھتا ہے کہ کوئی اس پر قابو نہیں پاسکے گا۔ باپ اور اولاد سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی پوری اولاد ہے۔ کچھ اہل علم نے باپ سے مراد ابراہیم (علیہ السلام) اور اولاد سے مراد بنی اسماعیل (علیہ السلام) لیے ہیں۔ لیکن مناسب یہ ہے کہ باپ سے مراد آدم (علیہ السلام) لیے جائیں اور اولاد…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

7 : اَیَحْسَبُ اَنْ لَّمْ یَرَہٗ اَحَدٌ (کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اس کو کسی نے دیکھا نہیں) جب کہ وہ خرچ کر رہا تھا اور جتنا اور جس غرض ریاء و افتخار کیلئے خرچ کر رہا تھا یعنی اللہ تعالیٰ اس کو دیکھ رہے اور اس کی نگرانی فرمانے والے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

7 ۔” ایحسب ان لم یرہ احد “ سعید بن جبیر اور قتادہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کیا وہ گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو نہیں دیکھ رہا اور اس سے اس کے مال کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا کو اس نے کہاں سے کمایا ؟ اور کہاں خرچ کیا ؟ اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ وہ اپنے اس قول میں جھوٹا ہے کہ میں نے اتنا اور اتنا خرچ کیا حالانکہ اس نے وہ تمام مال خرچ نہیں کیا جو اس نے کہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اس کا گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے یہ نہیں دیکھا کہ وہ اس کے خرچ کی مقدار کو جانے۔ پھر اپنی نعمتیں اس کو یاد دلائیں تاکہ وہ عبرت حاصل کرے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ شروع سورة میں جس بات پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے وہ یہی بات ہے جو ان آیتوں میں آگے فرمائی۔ تجھ کو قید نہ رہے گی کا مطلب یہ ہے کہ مکہ میں جو قید ہے کہ وہاں لڑائی منع ہے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اے نبی اللہ کے تم کو تھوڑی دیر کے لئے وہاں لڑائی حلال ہوجائے گی ہجرت سے پہلے اس مکی سورة میں اللہ کا یہ ایک وعدہ تھا جس کو فتح مکہ کے وقت اللہ تعالیٰ نے پورا کیا۔ چناچہ صحیح 3 ؎ بخاری و مسلم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تھوڑی دیر کے لئے کو مجھ کو مکہ میں لڑنا حلال کردیا تھا اس کے بعد مکہ میں بدستور لڑائی کی ممانعت ہے اب جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 6–7

(يَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًا) کہتا ہے میں نے بہت سامال برباد کیا ہے۔ یعنی بہت زیادہ مال، ایک دوسرے کے اوپر چڑھا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شہوات اور معاصی میں مال خرچ کرنے کو ہلاک کرنے سے موسوم کیا ہے کیونکہ اس راستے میں مال خرچ کرنے والا اپنے خرچ کیے ہوئے مال سے فائدہ نہیں اٹھائے گا اور اس کو اپنے مال خرچ کرنے سے ندامت، خسارے، تکان اور قلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اس شخص کے مانند نہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے بھلائی کے راستے میں خرچ کرتا ہے۔ کیونکہ اس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت کی اور جو کچھ اس نے خرچ کیا اس سے کئی گنا نفع اٹھایا اللہ تبارک وتعالی نے اس شخص کو جو اپنی شہوات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 7–8

(8) غافل انسان کو تنبیہ و تذکیر : سو غافل انسان کو تنبیہ و تذکیر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا اس نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ کسی نے اس کو دیکھا نہیں ؟ اور اس سے کوئی پوچھ نہیں ہوگی، اس کے کیے کرائے کی ؟ سو ایسا سمجھنا بہت غلط اور یہ زاویہ نگاہ بہت ٹیڑھا ہے، انسان کے کیے کرائے کا پورا ریکارڈ تیار ہورہا ہے، اور اس کو اس کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا، اور یہ جو کچھ سمجھتا ہے سمجھتا رہے، لیکن اس کا خالق ومالک سب کچھ دیکھتا اور جانتا ہے، اور اس کو پوری طرح معلوم ہے کہ یہ کن کن شاہ خرچیوں سے کام لیتا ہے، کہاں کہاں اڑاتا ہے اور کن کن جگہوں اور کن کن نیتوں اور ارادوں سے خرچ کرتا ہے، ان سب کے بارے میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–20

مکہ شہر اور آدم (علیہ السلام) کی قسم انسان کے بڑے فرائض ہیں تشریح : شروع میں نہیں کا لفظ اس لیے آیا کہ کفار مکہ جو آخرت سے انکار کر رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو جھٹلا رہے ہیں تو ان کو خوب اچھی طرح علم ہونا چاہیے کہ انسان کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کو بہت سی ذمہ داریاں دیکر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے یعنی یہ زندگی پوری کی پوری امتحانی دور پر مبنی ہے اور اس بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ حرمت والے شہر اور اشرف المخلوقات آدم (علیہ السلام) و اولاد آدم یعنی انسان جو کہ نائب اللہ بھی ہے۔ کی قسم کھا کر یہ بات بتا رہے ہیں۔ قسم ایسی ہی چیز کی کھائی جاتی ہے جو عام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–20

سورة البلد۔ آیات 1 تا 20۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے اس شہر عظیم کی یعنی اس شہر کا تقدس جو بنائے کعبہ کے باعث تھا اور کفار ومشرکین بھی اس کی عظمت کے قائل تھے جو آپ کے یہاں تشریف فرما ہونے سے دو بالا ہوگیا اس کی ساری عظمت بھی تو اللہ کی عظمت پہ گواہ ہے مفسرین نے اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ حرمت والاشہر عنقریب آپ کے لیے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کو حلال کردیاجائے گا گویا فتح مکہ کی خوش خبری بھی ہے اور خود آدم (علیہ السلام) اور ان کی ساری اولاد ، تمام انسانوں کی پیدائش سے موت تک کی زندگی ، اس بات پر گواہ ہے کہ انسان تخلیقی طور پر محنت ومشقت کرنے پر مجبور ہے اس کی زندگی کا کوئی لمحہ مشقت سے خالی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 7–9

ف 17 مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے تمام کرتوت دیکھ رہا ہے۔ اس کی سزا سے بچ کر وہ کہیں نہیں جاسکتا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(90:7) ایحسب ان لم یرہ احد : (کیا وہ گمان کرتا ہے کہ اس کو کسی نے دیکھا ہی نہیں) ۔ جملہ استفہامیہ انکاری ہے (یعنی اللہ تعالیٰ یقینا اسے مال خرچ کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا اور اللہ تعالیٰ ضرور اس سے بازپرس کرے گا کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا) ۔ لم یرہ احد یہ جملہ مفعول ہے یحسب کا۔ لم یر مضارع نفی جحد بلم۔ واحد مذکر غائب۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب یا کافر ابو الاشد کے لئے ہے یا عام انسان کے لئے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–20

لغات القرآن۔ ھذا البلد۔ یہ شہر۔ (مکہ مکرمہ) ۔ حل۔ حلال ہے۔ کبد۔ مشقت۔ مصیبت۔ اھلکت۔ میں نے خرچ کیا ہے۔ مالا لبدا۔ ڈھیروں مال۔ عینین۔ دو آنکھیں۔ شفتین۔ دو ہونت۔ النجدین۔ دو راستے۔ اقتحم۔ وہ داخل ہوگیا۔ العقبۃ۔ گھاٹی۔ فک رقبۃ۔ گردن چھڑانا۔ (غلاموں کو آزاد کرنا) ۔ ذی مسغبۃ۔ بھوکا۔ بھوک والا۔ ذا مقربۃ۔ رشتہ دار۔ ذامتربۃ۔ جو خاک میں مل جانے والا ہے۔ نارموصدۃ۔ آگ جو اوپر سے بند کی گئی ہے۔ تشریح : سورت بلند کا مفہوم اور خلاصہ یہ ہے۔ اس سورت میں اللہ نے ” بلد “ یعنی مکہ مکرمہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو اس شہر میں قتال کرنا حلال ہونیوالا ہے۔ باپ اور اولاد یعنی حضرت آدم (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–20

غریبوں کے ساتھ سلوک کرنا۔ (ف 4) شان نزول۔ تفسیر کلبی میں لکھا ہیی کہ مشرکین مکہ میں ایک شخص ابوالاشد بڑا شہ زور تھا اور اس کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ اونٹ کی کھال پاؤں کے نیچے بالیتا تھا دس دس آدمی اس کھال کو کھینچنے تھے کھال پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے اڑ جاتی تھی مگر جتنا اس کے پاؤں کے نیچے ہوتا ہرگز نہ نکل سکتا تھا، یہ شخص نبی ﷺ سے بڑی عداوت رکھتا تھا اور حضور کی عداوت میں لوگوں کو رشوتیں دے دے کر حضور کو آزار پہنچائیں ، اسی شخص کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اور فرمایا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس پر قابو پاسکے اور اس سرکشی کی سزا دے سکے، حضور کی عداوت میں یو ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–8

[6] یہ اس طرح کی شیخی بگھارنے والوں کو جواب ہے۔ یہ لوگ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ان کی حرکتوں کو کوئی نہیں دیکھ رہا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ سب کچھ دیکھ رہا ہے کہ کن ذرائع سے انہوں نے یہ دولت حاصل کی اور کن کاموں میں خرچ کی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–14

حیات انسانی 2: سورة البلد میں تین چیزوں کبو بطور استشہاد کے پیش فرمایا ۔ ہے اور ثابت کیا ہے کہ انسانی زندگی مسلسل مصائب اور سختیوں کا نام ہے ۔ ایک مکہ کی پوری تاریخ کہ کیونکہ اللہ کے ایک بندے نہ پریشانی اور اضطراب کے عالم میں یہاں اپنی اولاد کو بسایا اور اس غیر آباد زمین میں ایک معبد کی بنیاد رکھی ۔ اور پھر وہ جگہ کس درجہ مقبول ہوئی ۔ دوسرے آپ کا اس شہر میں فاتحانہ داخلہ اور تیسرے آدم اور بنی آدم کی ساری زندگی ، ان واقعات کو دیکھئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ حیات انسانی ، تعبیر ہے محنت وجانفشانی سے ، تگ ودو اور سعی سے ، دوڑ دھوپ اور کوشش سے ، اور وہی لوگ دنیا میں کامیابی اور کامرانی سے زندگی بسر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(7) کیا وہ یہ سمجھتا ہے اس کو کسی نے دیکھا نہیں - یعنی اللہ تعالیٰ دیکھتا اور جانتا ہے کہ اس نے کس کام میں خرچ کیا پھر جس قدر یہ بتاتا ہے اس قدرخرچ بھی نہیں کیا تو یہ جھوٹا اور شیخی خوروہ اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی قدرت سے بےنیاز ہوکر یہ باتیں کرتا ہے آگے اپنے احسانات اور منن پر توجہ دلاتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا وہ سمجھتا ہے کہ اسے کوئی دیکھنے والا نہیں ہے 7 ؎ اس نے یہ تو ڈھیروں دولت جمع کرتے وقت یہ خیال کیا اور نہ ہی ان ڈھیروں کو خرچ کرتے وقت اس نے اس طرف توجہ دی کہ آیا یہ مال اس طرح جمع کرنے کا حق مجھے ہے یا نہیں اور نہ ہی اس کو خرچ کرتے وقت اس کے ذہن میں کبھی بھول کر بھی یہ بات یاد آئی کہ میں اس طرح مال خرچ کرنے کا مجاز ہوں یا نہیں ہوں کیا کوئی ذات ہے جو یہ سارے کام کرتے مجھے دیکھ رہی ہے اور اس کو میری ہر حرکت معلوم ہے اور مجھ سے اس طرح مال جمع کرنے اور خرچ کرنے میں وہ پوچھ سکتی ہے اور مجھ کو باور کرا سکتی ہے کہ یہ مال تو تجھے تیرے فلاں ہمسائے اور پڑوسی کے لیے دیا تھا کہ اس کی ضرورت ہے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–7

لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي كَبَدٍ (Indeed We have created man [ to live ] in hard struggle…90:4) The word kabad means 'labour, 'toil' or 'difficulty'. The verse purports to say that man's life is a series of hard and toilsome works. Ibn ` Abbas ؓ says: 'Man was conceived and held in his mother's womb. The mother bore the pangs of birth. The hardship of sucking the mother's milk and the difficulty of weaning. This is followed by seeking livelihood and other necessities of life with hardship. Then he endures hardships and long-suffering of old age, death, grave, resurrection,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–8

8 That is, "Doesn't this boaster understand that there is also a God above him, Who sees by what means he obtained this wealth, in what ways he spent it, and with what intention, motive, and purpose he did all this ? Does he think that God will put any value on his extravagance, his fame-mongering and his boasting Does he think that like the world, God too will be deluded by it ?"

Read the full tafseer →