عَلَیْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ ۟۠عَلَيۡهِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَةٌ
یہ لوگ آگ میں بند کر دیئے جائیں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Over them will be fire closed in.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juzع
عَلَیْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ ۟۠عَلَيۡهِمۡ نَارٌ مُّؤۡصَدَةٌ
یہ لوگ آگ میں بند کر دیئے جائیں گے
— Fateh Muhammad Jalandhari
Over them will be fire closed in.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juzع
Read the whole surah · Surah Al-Balad
ان پر آگ چھائی ہوئی ہوگی
یہ لوگ آگ میں بند کر دیئے جائیں گے
انہی پر آگ ہوگی جو چاروں طرف سے گھیری ہوئی ہوگی
ان پر ایسی آگ مسلط ہوگی جو ان پر بند کردی جائے گی۔
ان پر آگ ہے کہ اس میں ڈال کر اوپر سے بند کردی گئی
ان پر (ہر طرف سے) بند کی ہوئی آگ (چھائی) ہوگی،
ان پر (ہر طرف سے) آگ بند کی ہوئی ہوگی۔
ان کے لیے آگ ہے جو ہر طرف سے بند کردی گئی ہوگی۔
وہ آگ میں موندے ہوئے ہوں گے۔
ان پر مسلط ہوگی ایک ایسی ہولناک آگ جس کو ان پر موندھ دیا گیا ہوگا (اوپر سے)
ان پر بند کی ہوئی آگ محیط ہوگی۔
ان پر آگ بند کردی جائے گی۔
یہ لوگ آگ میں بند کر دئیے جائیں گے
Upon them shall be a Fire that will hem them in.
Upon them will be the Fire, enveloping them with closed exits.
Upon them will be the Fire, enveloping them with closed exits.
Upon them Fire will Mu'sadah.
Fire will be an awning over them.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
Over them will be fire closed in.
who will be engulfed in the fire.
On them is fire closed over.
Over them shall be Fire closing round.
On them will be Fire vaulted over (all round).
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 11–20
صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں : حضرت ابن عمر فرماتے ہیں عقبہ جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے حضرت کعب احبار فرماتے ہیں اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہوجاؤ پھر اسکا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے ؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا ابن زید فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا ؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا تم کیا جانو عقبہ کیا ہے ؟ آزادگی گردن یا صدقہ طعام فک رقبتہ جو اضافت کے ساتھ ہے اسے فک رقبتہ بھی پڑھا گیا یعنی…
Read the full tafseer →سورة الْبَلَد 16 یعنی آگ اس طرح ان کو ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہوگی کہ اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
ثم کان من الذین امنو وتواصو بالصبر وتواصوا بالمرحمة۔ اس آیت میں ایمان کے بعد مومن کا یہ فرض بتلایا گیا کہ وہ دوسرے مسلمان بھائیوں کو بھی صبر اور رحمت کی تلقین کرتا رہے۔ صبر سے مراد نفس کو برائیوں سے روکنا اور بھلائیوں پر عمل کرنا ہے اور رحمت سے مراد دوسروں کے حال پر رحم کھانا، ان کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھ کر ان کی ایذا اور ان پر ظلم سے بچنا، اس میں تقریباً دین کے سارے ہی احکام آگئے۔ تمت سورة البلد بحمد اللہ 32 شعبان 9131
Read the full tafseer →’عَلَیْہِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَۃٌ‘۔ ’اوصد الباب‘ کے معنی ہیں ’دروازہ بند کر دیا‘ مطلب یہ ہوا کہ ان کو آگ میں موند کر اوپر سے دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ اعاذنا اللّٰہ من ذلک۔
Read the full tafseer →20۔ 1 یعنی ان کو آگ میں ڈال کر چاروں طرف بند کردیا جائے گا تاکہ ایک تو آگ کی پوری شدت و حرارت ان کو پہنچے، دوسرے وہ بھاگ کر کہیں نہ جاسکیں گے۔
Read the full tafseer →10: یعنی اس کے دروازے بند کردئیے جائیں گے، تاکہ دوزخیوں کے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہ رہے، والعیاذ باللہ العظیم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
والذین ........................ موصدة ” بائیں بازو والے فریق کے بیان میں دوسری صفات کو ترک کردیا گیا ہے۔ والذین ................ بایتنا (19:90) ” اور جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کردیا “۔ کیونکہ جب کافر ہوگئے تو بات ختم ہوگئی۔ کفر کے ساتھ کوئی نیکی جمع ہی نہیں ہوسکتی اور نہ کسی برائی کا علیحدہ اعتبار ہوتا ہے اس لئے کہ ہر برائی کفر کے اندر ہی ہوتی ہے اور یہ کفر اسے ڈھانپ لیتا ہے ، لہٰذا اب اس بات کی ضرورت ہی نہیں ہے کہ یہ لوگ غلاموں کو آزاد نہیں کرتے ، اور کھانا نہیں کھلاتے ، پھر ان لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کردیا اور کافر ہوگئے تو پھر کوئی نیکی ان کے لئے مفید ہی نہیں ہے۔ یہ…
Read the full tafseer →12 یعنی دوزخ میں ڈال کر سب دروازے نکلنے کے بند کردیے جائیں گے۔ اعاذنا اللہ منھا۔
Read the full tafseer →آیت 20{ عَلَیْہِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَۃٌ۔ } ”ان پر آگ بند کردی جائے گی۔“ تاکہ پریشر ککر کی طرح آگ کی ساری تپش اندر ہی رہے اور انہیں شدید ترین عذاب ملے۔ اللہ کی پناہ ! اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایسے عذاب سے محفوظ رکھے اور اپنی رحمت اور شان غفاری کے طفیل اصحابِ جنت میں شامل فرمائے۔ آمین !
Read the full tafseer →14 اور جو لوگ اللہ کے، آخرت کے اور اللہ کی آیات کے منکر ہیں یہی لوگ اپنی شامت اعمال کے نتیجہ میں ماخوذ ہوں گے۔ انہیں اعمال نامہ بھی پیٹھ کے پیچھے سے بائیں ہاتھ میں تھمایا جائے گا اور انہیں پابند زنجیر و سلاسل جہنم میں پھینک کر جہنم کے سب دروازے بند کردیئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
12۔ داہنے ہاتھ والوں کے مقابلہ میں یہ بائیں ہاتھ والے بدبخت ومنحوس کافر اور اہل جہنم ہوں گے۔ اصحاب الشمال پر حاشیہ پ 29 میں گزر چکا۔ (آیت) ” والذین کفروا بایتنا “۔ یہ لوگ ایمان تک نہ لائے کفر ہی میں مبتلا رہے (آیت) ” نار مؤصدۃ “۔ کافروں کو جہنم سے نکلنا تو نصیب ہوگا نہیں، اس لئے دوزخ کے دروازے بھی ان پر ہر طرف سے بند کردیئے جائیں گے، آیت کے ان الفاظ سے صاف اشارہ خلود عذاب جہنم کی طرف نکل رہا ہے۔ قال مقاتل یعنی ابوابھا مطبقۃ فلا یفتح لھم باب ولا یخرج منھا ولا یدخل فیھا روح ابدالاباد (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–20
لقد خلقنا الانسان فی کبد یعنی انسان کی زندگی محنت و مشقت اور شوائد سے معمور ہے، یہ جواب قسم ہے۔ او اطعام فی یوم ذی مسغبۃ مسغبۃ بھوک اور ذی مسغبۃ بھوک والے دن اور دامتربۃ (مٹی والا) یعنی وہ شخص جو فقر و غربت کی وجہ سے زمین پر پڑا رہتا ہو، اس کا گھر بار کچھ نہ ہو، مطلب یہ ہے کہ کسی غلام کو آزاد کرنا کسی بھوکے کو رشتہ دار یتیم کو کھانا کھلانا یہ دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہونا ہے جس کے ذریعہ انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جا پہنچے گا یتیم کی کفالت ویسے بھی بڑے اجر کا کام ہے اور اگر وہ رشتہ دار بھی ہو تو اس کی کفالت کا اجر بھی دگنا ہے ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا اسی طرح غلام آزاد کرنے کی بھی…
Read the full tafseer →علیھم نار موصدۃ . وہی آگ کے طبقات میں بند کیے جائیں گے۔ موصدۃ ‘ او صدت الباب سے بنایا گیا ہے۔ میں نے دروازہ بند اور مقفل کردیا۔ سورۃ البلد ختم ہوئی ‘ بعونہٖ و منہٖ تعالیٰ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
(19۔ 20) اور جنہوں نے حضور ﷺ اور قرآن کو جھٹلایا مثلاً کلدہ وغیرہ وہ لوگ جہنمی ہیں ان کو بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا اور ان پر آگ محیط ہوگی جس کو بند کردیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
(اولئک اصحب المیمنۃ…: دائیں ہاتھ والے سے مراد یہ ہے کہ انہیں ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں ملے گا، اسی طرح بائیں ہاتھ والوں کو ان کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں ملے گا۔ ”اصحب المیمنۃ“ کا دوسرا معنی ہے برکت والے ، خوش نصیب اور ”اصحب المشمۃ“ کا معنی نحوستو الے، بدنصیب بھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
ثم کان من الذین۔۔۔ تا۔۔۔ موصدہ۔ یعنی جس نے غلام کو آزاد کیا یابھوک والے دن کھانا کھلایا تو وہ عقبہ میں داخل نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ ان لوگوں میں سے ہوجائے گا جنہوں نے تصدیق کی، کیونکہ طاعت کے قبول ہونے کی شرط اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ہے، انفاق کے بعد ایمان کچھ نفع نہ دے گا بلکہ ضروری ہے کہ طاعت ایمان کے ساتھ ملی ہوئی ہو اللہ تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں فرمایا، وما منعھم ان تقبل منھم نفقتھم الا انھم کفرو بااللہ وبرسولہ۔ التوبہ 54) اور نہیں منع کیا ہے انہیں کہ قبول کیے جائیں ان سے کے اخراجات سوائے اس کے کہ انہوں نے کفر کیا اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ۔ حضرت عائشہ نے عرض کی یارسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
35۔ ابن ابی حاتم نے ہشام بن حسان (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتواصو بالصبر اور انہوں نے ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی، یعنی وہ اس کام پر ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے فرض کیا ہے۔ 36۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وتواصو بالمرحمۃ۔ اور انہوں نے ایک دوسرے کو رحم کرنے کی وصیت کی، سے مراد ہے کہ وہ ایک دوسرے کو رحمت کی نصیحت کرتے ہیں اس طرح وہ سارے لوگوں کے لیے زحمت بن جاتے ہیں۔ 37۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت مؤصدۃ سے مراد ہے دروازوں کا بند کردینا یعنی ان کو آگ میں ڈال کر دروازے بند کردئیے…
Read the full tafseer →[عَلَيْهِمْ نَارٌ: ان پر ایک ایسی آگ ہے جو ][ مُّؤْصَدَةٌ: اوپر سے بند کی ہوئی ہے ] ء ص د ثلاثی مجرد سے فعل نہیں آتا۔ [اِیْصَادَ : (افعال) دروازہ یا ڈھکن بند کرنا۔][ مُؤصَدٌ اسم المفعول ہے۔ بند کیا ہوا۔ سر بمہر کیا ہوا۔ زیر مطالعہ ]
Read the full tafseer →﴿ عَلَيْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ (رح) 0020﴾ (ان پر آگ ہوگی بند کی ہوئی) یعنی ان کو دوزخ میں دال کر دروازے بند کردیئے جائیں گے۔ قولہ تعالیٰ موصدة قال معالم التنزیل مطبقة علیھم ابوابھا لا یدخل فیھا روح ولا یخرج منھا غم قرأ ابو عمرو و حمزة وحفص بالھمزة ھاھنا وفی الھمزة المطبقة وغیر الھمزة المغلقة۔ وھذا آخر تفسیر سورة البلد والحمد للہ الواحد الاحد الصمد والصلٰوة علی من بعث الی کل والد وما ولد وعلی اصحابہ فی کل یوم وغد۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
انقسام عمل درخیر وشر مع بیان عظمت مہبط وحی و سرچشمہ ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بھذا البلد ........ الی .......... نار مؤصدۃ “۔ (ربط) سورة الفجر میں پانچ اہم اور عظیم امور کی قسم کھا کر ہر صاحب عقل اور فہم کو اس امر کی دعوت دی گئی تھی کہ وہ عقل اور فطرت کی روشنی میں خداوند عالم کی عظمت وقدرت کو پہچانے اس کی خالقیت و ربوبیت پر ایمان لائے یہی چیز انسان کو فلاح وسعادت کے مقام تک پہنچانے والی ہے، اور جو قومیں عقل و فطرت کی ان صلاحیتوں کو ضائع کرکے سرکشی اور نافرمانی پر ڈٹی رہیں جیسے قوم عاد وثمود اور فرعون تا ریخ میں ان کا عبرت ناک انجام بھی دنیا کے سامنے آچکا تو اس سورت میں سرزمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
9:۔ ” اولئک “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ یہ سعداء ہیں جن کو اعمالنامے دائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے۔ اور ان کا مقام جنت ہے۔ ” والذین کفروا “ یہ تخویف اخروی ہے جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا وہ اشقیاء ہیں ان کے اعمالنامے بائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے اور ان پر آگ کو بند کردیا جائیگا۔ لوہے کے ستونوں کے درمیان آگ ہوگی اس میں ان لوگوں کو ڈالا جائیگا اور اوپر سے اس کو بند کردیا جائیگا۔ مطلب یہ ہے کہ دوزخ کے دروازے اور منافذ بند کردئیے جائیں گے تاکہ آگ کی گرمی میں کمی نہ ہو۔ والمراد مغلقۃ ابوابہا وانما اغلقت لتشدید العذاب والعیاذ باللہ تعالیٰ علیہم (روح ج 30 ص 140) ۔ سورة البلد ختم ہوئی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
گزشتہ سے پیوستہ ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں کی قسم اٹھا کر بیان فرمایا ہے کہ انسان مشقت میں پیدا کیا گیا ہے اور انسان کے مکلف ہونے کے لئے مشقت کا ہونا ضروری ہے انسان خیال کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ آزاد رہے گا اور اس پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوگی۔ وہ اپنی مرضی سے فضول باتوں پر مال خرچ کرتا ہے اور پھر توقع یہ رکھتا ہے کہ آرام و چین نصیب ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ بات بالکط غلط ہے۔ اللہ قادر مطلق ہے۔ اس نے انسان کو مشقت کی حالت میں پیدا کیا ہے۔ دنیا میں کوئی شخص اس سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔ انبیاء (علیہم السلام) کی جماعت انسانیت کے درجہ کمال پر ہوتی ہے۔ مگر انہوں نے بھی کس قدر تکالیف…
Read the full tafseer →عَلَيْہِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَۃٌ 20 ۧ نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔ وصد الوَصِيدَةُ : حُجْرَةٌ تجعل للمال في الجبل، يقال : أَوْصَدْتُ البابَ وآصَدْتُهُ. أي : أطبقته وأحكمته، وقال تعالی: عَلَيْهِمْ نارٌ مُؤْصَدَةٌ [ البلد/ 20] وقرئ بالهمز «3» : مطبقة، والوَصِيدُ المتقارب الأصول . ( و ص د ) الوصید ۔ اصل میں اس احاطہ کو کہتے ہیں جو مویشی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–20
ترکیب ¦ الم نجعل الاستفہام للتقریر الجعل بمعنی الفعل فعینین مفعول لہ متعلق بنجعل ولسانا وشفتین معطوفان علی العینین النجدین مفعول ثان لھدینا والضمیر المنصوب مفعول اول۔ قال اھل العربیۃ النجدا لطریق فی الارتفاع فکانہ لما وضحت الدلائل جعلت کالطریق المرتفعۃ العالیۃ بسبب انھا واضحۃ للعقول کو ضوح الطریق العالی للابصار فالمراد بھما عند عامۃ المفسرین سبیلا الخیر والشروعن ابن عباس وعکرمۃ و سعید بن المسیب والضحاک النجدان الثدیان فھدی اللہ سبحانہ فی بدء الولادۃ الطفل الثدین فلا اقتحم لا حرف التخضیض والاقتحام الدخول فی الامر الشدید یقال قحم یقحم قحوما واقتحم اقتحا و تقحم تقحما اذا رکب القحم وھی المھالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
اُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ ۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰ یٰـتِنَا ھُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ ۔ عَلَیْھِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَۃٌ۔ (البلد : 18 تا 20) (یہی خوش بخت لوگ ہیں۔ اور جنھوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا وہ کم بختی والے ہیں۔ ان پر آگ چھائی ہوئی ہوگی۔ ) اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ اور اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ میں فرق گزشتہ آیت میں بیان فرمایا گیا ہے کہ جن لوگوں نے نفس کی ترغیبات، شیطان کے بہلاو وں اور خواہشات کی پیروی سے منہ موڑ کر عَقَبَۃُ پر چڑھنے کا فیصلہ کرلیا یعنی خیر اور نیکی کے اس راستے پر چل پڑے جو ایثار اور قربانی کا راستہ ہے اور انھوں نے اپنے د لوں کو ایمان کے نور سے منور بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
فہم القرآن ربط کلام : مشکل ترین کاموں میں مزید مشکل ترین کام۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسکین کو کھانا کھلانا، رشتہ دار یتیم کی پرورش کرنا، اخلاقی لحاظ اور مالی اعتبار سے مشکل ترین کام ہیں لیکن ان کاموں سے مشکل ترین کام یہ ہے کہ انسان اپنے باطل نظریات بالخصوص کفر و شرک کو چھوڑ کر توحید و رسالت کا عقیدہ اپنائے اور اس راستے میں جو بھی مشکلات آئیں ان کا پورے حوصلے کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کے حوصلوں کو بھی بلند رکھنے کی کوشش کرے اور ایک دوسرے کے ساتھ نرمی اور مہربانی کا رویہ اختیار کرے۔ دین اختیار کرنے پر مشکلات کا آنا یقینی امر ہے مشکلات پر قابو پانے کے لیے یہی دو طریقے ہیں جن پر چل کر…
Read the full tafseer →20 : عَلَیْہِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَۃٌ (ان پر آگ محیط ہوگی جس کو بند کردیا جائے گا ) قراءت : مُّؤْصَدَۃٌ ہمزہ کے ساتھ ابو عمرو، حمزہ، حفص نے پڑھا ہے۔ اور موصدۃ، نافع، ابن کثیر، ابن عامر کی قراءت ہے۔ مُّؤْصَدَۃٌ یہ اوصدت الباب سے لیا گیا۔ اسی طرح آصدت الباب ای اطبقتہٗ واغلقتہٗ میں نے دروازہ بند کیا۔
Read the full tafseer →20 ۔” علیھم نار موصدۃ “ ان پر اس کے دروازے بندہوں گے اس میں نہ خوشی داخل ہوگی اور نہ اس سے غم نکلے گا۔ ابوعمر و، حمزہ اور حفص نے یہاں اور ” الھمزۃ “ میں ہمزہ کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے بغیر ہمزہ کے پڑھا ہے اور یہ دونوں لغتیں ہیں۔ کہا جاتا ہے ” آصدت الباب واصدتہ “ جب تونے اس کو بند کردیا اور کہا گیا ہے ” الھمزۃ “ کا معنی بند اور ” غیرالھمزۃ “ کا معنی تالے لگے ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
11۔ 20۔ عقبہ پہاڑ کی اس گھاٹی کو کہتے ہیں جس سے گزر مشکل ہو اوراقتحام کسی کام میں جان بوجھ کر پڑنے کو کہتے ہیں حاصل مطلب یہ ہے کہ نیک کام کرنا ایسا مشکل ہے جس طرح کسی دشوار گزار گھاٹی سے گزر مشکل سے ہوتا ہے ‘ اس کے بعد نیک کاموں کے غلام کے آزاد کرنے اور بھوکے کو کھانا کھلانے کو مثال کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ صحیح 1 ؎ حدیثوں کے مطابق مطلب ہے کہ غلام کے آزاد کرنے میں غلام کے ہاتھ پائوں اسی طرح ہر ایک عضو کی آزادی کا یہ اجر ہے کہ آزاد کرنے والے شخص کے سب اعضا دوزخ کی آگ سے آزاد ہوجاتے ہیں اسی طرح بھوکے کو کھلانے کا اجر ہے۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں کے کہ اطعموا الطعام تدخلوا الجنۃ بسلام۔ جس کا مطلب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
(وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا) جنہوں نے ان مذکورہ امور کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر ہماری آیتوں سے کفر کیا، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی تصدیق کی نہ وہ اس پر ایمان لائے، نہ نیک عمل کیے اور نہ اللہ کے بندوں پر رحم ہی کیا۔ ( هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْــَٔــمَةِ ۔ عَلَيْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ) وہ بدبخت ہیں۔ یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے یعنی وہ آگ بڑے بڑے ستونوں میں بند کی گئی ہوگی اور جو اس آگ کے پیچھے کھڑے کیے گئے ہوں گے تاکہ جہنم کے دروازے کھل نہ سکیں۔ اور (یہ مجرمین) تنگی اور سختی میں مبتلا رہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
قول باری ہے (ثم کان من الذین امنوا۔ پھر (اس کے ساتھ یہ کہ) آدمی ان لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے) مفہوم یہ ہے وہ شخص ان لوگوں میں سے ہو جو ایمان لائے ۔ اس طرح حرف ثم یہاں حرف وائو کے معنی میں ہے۔
Read the full tafseer →(18) اصحاب شمال کے انتہائی ہولناک انجام کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور " اصحاب شمال " کے ہولناک عذاب کی تصریح کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ان پر مسلط ہوگی ایک بڑی ہی ہولناک آگ۔ ایسی ہولناک کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال ممکن نہیں، جو دلوں تک جھانکے گی، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، الھمزہ 7 پ 30) یعنی دوزخ کی وہ ہولناک عذاب جھانکتی ہوگی دلوں پر اور وہ دوزخیوں کو پکار پکار کر اپنی طرف بلا رہی ہوگی، جیسا کہ ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، معارج 17, 18 پ 30) یعنی دوزخ کی وہ آگ بلاتی پکاری ہوگی ہر اس شخص کو جس نے منہ موڑا ہوگا ( راہ حق و ہدایت سے) اور اس نے پیٹھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
مکہ شہر اور آدم (علیہ السلام) کی قسم انسان کے بڑے فرائض ہیں تشریح : شروع میں نہیں کا لفظ اس لیے آیا کہ کفار مکہ جو آخرت سے انکار کر رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو جھٹلا رہے ہیں تو ان کو خوب اچھی طرح علم ہونا چاہیے کہ انسان کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کو بہت سی ذمہ داریاں دیکر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے یعنی یہ زندگی پوری کی پوری امتحانی دور پر مبنی ہے اور اس بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ حرمت والے شہر اور اشرف المخلوقات آدم (علیہ السلام) و اولاد آدم یعنی انسان جو کہ نائب اللہ بھی ہے۔ کی قسم کھا کر یہ بات بتا رہے ہیں۔ قسم ایسی ہی چیز کی کھائی جاتی ہے جو عام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
سورة البلد۔ آیات 1 تا 20۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے اس شہر عظیم کی یعنی اس شہر کا تقدس جو بنائے کعبہ کے باعث تھا اور کفار ومشرکین بھی اس کی عظمت کے قائل تھے جو آپ کے یہاں تشریف فرما ہونے سے دو بالا ہوگیا اس کی ساری عظمت بھی تو اللہ کی عظمت پہ گواہ ہے مفسرین نے اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ حرمت والاشہر عنقریب آپ کے لیے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کو حلال کردیاجائے گا گویا فتح مکہ کی خوش خبری بھی ہے اور خود آدم (علیہ السلام) اور ان کی ساری اولاد ، تمام انسانوں کی پیدائش سے موت تک کی زندگی ، اس بات پر گواہ ہے کہ انسان تخلیقی طور پر محنت ومشقت کرنے پر مجبور ہے اس کی زندگی کا کوئی لمحہ مشقت سے خالی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ف 8 یہ دو ترجمے بھی اس لحاظ سے ہیں کہ مشمہ کے معنی بائیں جانب کے بھی ہیں اور نحوست و بدنصیبی کے بھی بائیں جانب والوں سے مراد وہ ہیں جو عرش کی بائیں جانب کھڑے کئے جائیں گے یا جنہیں ان کا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔9 یعنی انہیں دوزخ میں پھینک کر اس کے تمام دروازے بند کردیئے جائیں گے تاکہ انہیں کسی طرف سے ہوا نہ لگنے پائے اور نہ وہ بھاگ کر کہیں جاسکیں۔
Read the full tafseer →(90:20) علیہم نار موصدۃ۔ یہ صفت ہے نار کی۔ اسم مفعول واحد مؤنث۔ ایصاد (افعال) مصدر سے۔ بند کی ہوئی۔ صاحب تفسیر حقانی لکھتے ہیں :۔ موصدۃ۔ قرأ الجمھود بالواو وقری بالھمزۃ والمعنی واحد والمراد علیہم نار ابوابھا مغلقۃ۔ لا تفتح ابدا۔ (جمہور نے اسے واؤ کے ساتھ پڑھا ہے ہمزہ کے ساتھ بھی اسے پڑھا گیا ہے معنی ہر دو صورت میں ایک ہی ہیں۔ مراد یہ ہے کہ وہ آگ کے اندر ہوں گے جس کے دروازے بند ہوں گے اور ابد تک نہیں کھولے جائیں گے۔ صاحب ضیاء القرآن تحریر فرماتے ہیں :۔ جب دروازے کو بالکل بند کردیا جائے تو اہل عرب کہتے ہیں اوصدت الباب ای اغلقتہ۔ یعنی ان کو آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ اور دروازے بند کر دئیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
لغات القرآن۔ ھذا البلد۔ یہ شہر۔ (مکہ مکرمہ) ۔ حل۔ حلال ہے۔ کبد۔ مشقت۔ مصیبت۔ اھلکت۔ میں نے خرچ کیا ہے۔ مالا لبدا۔ ڈھیروں مال۔ عینین۔ دو آنکھیں۔ شفتین۔ دو ہونت۔ النجدین۔ دو راستے۔ اقتحم۔ وہ داخل ہوگیا۔ العقبۃ۔ گھاٹی۔ فک رقبۃ۔ گردن چھڑانا۔ (غلاموں کو آزاد کرنا) ۔ ذی مسغبۃ۔ بھوکا۔ بھوک والا۔ ذا مقربۃ۔ رشتہ دار۔ ذامتربۃ۔ جو خاک میں مل جانے والا ہے۔ نارموصدۃ۔ آگ جو اوپر سے بند کی گئی ہے۔ تشریح : سورت بلند کا مفہوم اور خلاصہ یہ ہے۔ اس سورت میں اللہ نے ” بلد “ یعنی مکہ مکرمہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو اس شہر میں قتال کرنا حلال ہونیوالا ہے۔ باپ اور اولاد یعنی حضرت آدم (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–20
غریبوں کے ساتھ سلوک کرنا۔ (ف 4) شان نزول۔ تفسیر کلبی میں لکھا ہیی کہ مشرکین مکہ میں ایک شخص ابوالاشد بڑا شہ زور تھا اور اس کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ اونٹ کی کھال پاؤں کے نیچے بالیتا تھا دس دس آدمی اس کھال کو کھینچنے تھے کھال پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے اڑ جاتی تھی مگر جتنا اس کے پاؤں کے نیچے ہوتا ہرگز نہ نکل سکتا تھا، یہ شخص نبی ﷺ سے بڑی عداوت رکھتا تھا اور حضور کی عداوت میں لوگوں کو رشوتیں دے دے کر حضور کو آزار پہنچائیں ، اسی شخص کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اور فرمایا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس پر قابو پاسکے اور اس سرکشی کی سزا دے سکے، حضور کی عداوت میں یو ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
[11] دائیں اور بائیں بازو والوں کا بیان سورة واقعہ میں گزر چکا ہے۔ (ملاحظہ ہو آیت نمبر 72 تا 84 صفحہ 1310، 1312)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
ف 1: غرض یہ ہے کہ انسان تو اس لئے پیدا کیا گیا تھا کہ یہ حق وصداقت کی راہ میں جس قدر مشکلات پیش آئیں ، ان کو صبر و استقلال کے ساتھ برداشت کرے ۔ مگر اس کی سرکشی اور بغاوت کا یہ عالم ہے کہ خدا سے بھی نہیں ڈرتا اور سمجھتا ہے ۔ کہ اس پر کسی کا بس نہیں چل سکے گا ۔ عیش و عشرت میں ، شادی غمی کی رسموں میں اور نام ونمود کے موقع پر بےدریغ خرچ کرتا ہے ، دعوتوں میں اور حکام وقت کی خوشنودی اور ان کی استرضا میں ہزاروں روپے پانی کی طرح بہادیتا ہے اور جب قومی اور ملی کاموں کے لئے خدا کے نام پر اس سے کچھ مانگا جاتا ہے تو کہتا ہے کہ صاحب ! میں نے بڑی دولت لٹائی ہے اور بڑا سرمایہ خرچ کیا ہے ۔ اب میں کچھ بھی…
Read the full tafseer →(20) ان پر چاروں طرف سے بند کی ہوئی آگ مسلط ہوگی - یعنی ایسی آگ جو چاروں طرف سے بند ہوگی۔ مطلب یہ ہے کہ دوزخ کے دروازے سب طرف سے بند ہوں گے دوزخ میں داخل کرکے دروازے بند کردیئے جائیں گے نہ اندر ہوا جاسکے اور نہ اہل نار باہر نکل سکیں۔ تم تفسیر سورة البلد
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ف 8۔ یعنی دوزخیوں کو دوزخ میں بھر کر آگے سے دروازہ بند کردیں گے کیونکہ خلود کی وجہ سے نکلنا تو ملے گا ہی نہیں۔
Read the full tafseer →یہی لوگ ہیں جو لوگ میں بند کردیئے جائیں گے 20 ؎ ( موصدۃ) اسم مفعول واحد مؤنث ایصاد مصدر ( افعال) بند کی ہوئی ۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ ایسے بد نصیب ہوں گے کہ ان کو دوزخ میں ڈال کر دوزخ کے دروازے بھی بند کردیئے جائیں گے اور دوزخ کو اوپر سے بھی ڈھانک دیا جائے گا ۔ اس کا تفصیلی ذکر پیچھے عروۃ الوثقیٰ ، جلد سوم میں سورة الاعراف کی آیت 41 میں آپ پڑھ چکے ہیں ۔ وہاں سے ملاحظہ فرمائیں۔ اسی مضمون پر ہم سورة ( البلد) کی تفسیر ختم کر رہے ہیں اور ایسے بد بختوں اور ان کی سزائوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں اللھم اھدنا فیمن ھدیت و عافنا فیمن عافیت۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
Obligations of a Believer ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ (then he did not join those who believe and advise each other to be patient and advise each other to be merciful...90:17). The verse points out that the doing only of good actions mentioned in the foregoing verse is not enough for raising the all round stature of the Muslim community. Good ideals and right principles, combined with continuous and sustained adherence to the path of moral rectitude and teaching of virtues to others, are equally essential for the attainment of…
Read the full tafseer →16 That is, fire will be so covering them from every side that they will find no way of escape from it.
Read the full tafseer →